Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 24)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

اپنے حصار سے اسے نکلتا دیکھ صالح نے انہہہ کرتے اسے ایک گھورتے دیکھ دوبارہ سے اپنی جانب کھینچا تھا۔۔۔ صنم بےترتیب سی بکھرے حلیے میں غصے سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ اس ضدی شخص کو دیکھ رہی تھی جس کی رات بھر کی جنون خیزیاں اسکی قربت اسکی بےباکیوں سے صنم کی جان پر بن آئی تھی ۔۔۔ صالح چھوڑیں مجھے ۔۔۔۔۔۔” مقابل کی مغرور کھڑی ناک کو گھورتے وہ غصے سے بےزار لہجے میں اپنی کمر کے گرد لپٹے اسکے بھاری ہاتھ کو ہٹانے لگی ۔

صالح نے ابکی بار اپنی دونوں آنکھیں کھولے صنم کے سرخ چہرے نچلے ہونٹ کو بغور دیکھا تھا جو اسکی شدتوں کی وجہ سے کافی زخمی ہوا پڑا تھا ۔۔۔ صنم کا ناراض چہرہ اسکے جذبات کو مزید دہکانے لگا ۔۔۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ صالح خان تمہارے یا پھر کسی اور کے کہنے پر تمہیں چھوڑے گا۔۔۔۔اسکے چہرے پر ایک جتاتی دلچسپ سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔

جسے دیکھتے نا چاہتے ہوئے بھی صنم ٹھٹک سی گئی ۔۔ وہ اسے کیا سمجھانا چاہ رہا تھا ۔۔صنم نے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھا ۔ جو کھینچتے اسے اپنے تکیے پر گرائے ہاتھ اسکے دائیں جانب رکھتے جھکتے اپنے ہاتھ کی انگلی اسکے ماتھے پر رکھی۔۔۔صنم اسکے بگڑے جزبات کی آنچ دیتی نظروں سے گھبرائی خوف سے اسکے ہاتھ کی انگلی کو دیکھنے لگی جو اسکے ماتھے سے ہوتے اسکی ناک پر ٹہری تھی صنم۔کا سانس سینے میں الجھا جب صالح کی انگلی اسکی ناک سے ہوتے اسکے سرخ ہوتے خوبصورت ہونٹوں پر رکی ۔۔۔۔۔

صنم نے خود سے آنکھیں میچتے گہرے سانس بھرتے خود کو پرسکون کرنا چاہا ۔۔۔۔ صص صالح _____” اسکی بے باک انگلی کو سرکتے اپنی گردن سے نیچے جاتے دیکھ صنم نے ایک دم سے آنکھیں کھولے اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں لو دیتے جذبات جھلک رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ ” کل رات برداشت کر لیا میں نے جانم_____مگر آج کے بعد مجھ سے دور جانے کا سوچنا بھی مت ۔۔۔ کیونکہ ابھی تم صالح خان کو صرف ایک پرسنٹ جان پائی ہو جب ننانوے پرسنٹ تمہارے سامنے کھلا تو سوچو تمہارا کیا بنے گا ۔۔۔۔۔۔

وہ بھاری سرد آواز میں کہتے اسے اپنے بارے میں گہرائی سے بتانے لگا ۔۔۔۔۔ ” صنم نے غصے پہ قابو کرتے بےبسی سے اسے دیکھا تو اسکی چھوٹی سے ناک کے پھولتے نتھنوں کو دیکھ صالح کو بےساختہ اسپہ پیار آیا ۔۔۔ اسنے شدت سے جھکتے اپنے ہونٹ اسکی ناک پہ رکھے تو صنم۔کا سانس پھول سا گیا ۔۔۔۔

” اپنے صالح کی قربت میں یہ بھیگی مدہوش کرتی خوبصورت رات مبارک ہو جانم۔۔۔۔” اسکے چہرے سے بال ہٹاتے اسنے جھکتے اسکے کان میں جان لیوا سرگوشی کی تو صنم کا چہرہ اسکی معنی خیز بےباک سرگوشی پر شرم سے دہکتے انگارہ بن گیا۔۔۔۔

صالح پلیز پیچھے ہٹیں مجھے فریش ہونے دیں ۔۔۔۔ اسکے سینے پر اپنے نازک ہاتھوں سے دباؤ بڑھاتے وہ اسے پیچھے کرتے اٹھنے لگی کہ معا اسکے وجود پر موجود اپنی شرٹ کے کالر کو پیچھے سے کھینچتے صالح نے جھٹکے سے اسے ایک دم سے دوبارہ سے گرا دیا ۔۔۔۔ صنم نے آنکھیں پھیلائے اس کو دیکھا مگر صالح مسکراتے اسکے ہونٹوں کو اپنی نرم گرفت میں لیتے اسکے نرم و نازک ہونٹوں کے لمس کو محسوس کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔

فریش ہو جاؤ جانم ۔۔۔۔۔۔ آج تمہیں کہیں لے کر جانا چاہتا ہوں_____” نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی دیے صالح نے ہونٹ اسکی پیشانی پر رکھتے گہرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔

____________

ماما ماہا یہاں آئیں پلیز سب ، کچھ بتانا ہے آپکو ۔۔۔۔” ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے ابتہاج نے ایک نظر صوفے پر براجمان کاشان صاحب کو دیکھا ، جو ابھی تک اس سے ناراض تھے ، کاشان صاحب اسکے چہرے پر پھیلے سکون اطمینان کو دیکھ ٹھٹکے تھے ،۔

” ابتہاج میری جان کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے ناں۔۔۔۔۔!” ماہا اور منیبہ بیگم جو کچن میں کام کر رہے تھے وہ دونوں ہی اسکی آواز پر حیران سے باہر آئے تھے جہاں وہ ہاتھ میں ایک فائل تھامے چہرے پر ہمشیہ کی طرح غضب کے تاثرات لیے کاشان صاحب کو بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔

” جی ماما آپ پریشان ناں ہوں سب کچھ ٹھیک ہے یہاں آئیں آپ۔۔۔” منیبہ بیگم کے ہاتھ کو تھامے وہ انہیں ساتھ لیے صوفے پر کاشان صاحب کے قریب لے جاتے بٹھا گیا۔۔۔۔ماہا اسے حیرانگی سے دیکھ رہی تھی اسنے حیرت سے اپنے ہاتھ کو دیکھا جسے ابتہاج نے مضبوطی سے تھامے اپنے ہاتھ میں الجھایا تھا ۔۔ ماہا نے منہ کھولے سامنے کاشان صاحب آور منیبہ بیگم کو دیکھا جو انہی کی جانب متوجہ تھے۔۔۔۔

ماہا نے خفت سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا تھا مگر ابتہاج کی گرفت مضبوط تھی۔۔ وہ شرمندہ سی سر جھکائے بے بس سی رہ گئی۔۔۔ ” پولیس اسٹیشن سے کال آئی تھی ڈیڈ سمیر نے اپنا گناہ قبول کر لیا ہے اور ان سب میں۔ اسکا ساتھ ہمارے ارائیول زین یوسف نے دیا تھا۔۔ میری پراجیکٹ فائل بھی اسے سمیر نے ہی چوری کر کے دی تھی ۔ اور ماہا کی کڈنیپنگ بھی دونوں نے مل کر کی تھی۔۔۔

وہ دونوں اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں ۔۔۔۔ ہمارے کمپنی کے سیونٹی پرسنٹ شئیرز جو کہ زین یوسف نے دھوکے سے لیے تھے وہ کرپشن کے کیس کے تحت ہمیں واپس مل چکے ہیں ۔۔ یہ رہی اس کی فائل اب سے ہماری کمپنی صرف اور صرف ہماری ہے ۔۔۔یہ لیں آپ کی امانت۔۔۔ سب کے حیرت بے یقینی سے کھلے منہ دیکھتا وہ چلتے کاشان صاحب کے قریب گیا اور فائل انکے ہاتھ میں رکھی۔۔۔ جن کی آنکھیں اپنے رب کی رحمت پر برس پڑی۔۔۔ بےشک ان کے رب نے انکی برسوں کی محنت کو رائگاں نہیں ہونے دیا تھا۔۔۔۔

اس کمپنی پر صرف اور صرف آپ کا حق ہے میرا بھی نہیں۔۔۔۔ وہ کہتے سر جھکائے مسکرا دیا ، ماہا کا خوشی سے برا حال تھا آخر مصیبتیں ختم ہو رہی تھی اب آہستہ آہستہ۔۔۔” ابتہاج میرے بچے یہ سب کچھ تمہارا ہے میرا نہیں تمہارے لیے ہی تو یہ سب بنایا ہے میں نے۔۔۔ پکڑو اس فائل کو۔۔۔۔ ” کاشان صاحب نے غصے سے اس جھڑکا تو ہنس دیا۔۔۔

نہیں پاپا یہ سب کچھ آپ کا ہے۔۔۔ میرے پاس اب سے میری اپنی کمپنی ہے۔۔۔۔ وہ مسکرا رہا تھا اپنی محنت کا صلہ اسے مل چکا تھا بےشک دیر سے ملا ، مگر مشکلات کے بعد ہی تو آسانیاں ہوتی ہیں۔۔۔ کیا مطلب اپنی کمپنی مگر وہ کیسے…….؟ سب ہی حیران تھے ماہا نے بھی چونکتے اس خوبرو جوان کی پشت کو سراہا جو رب نے اسکے مقدر میں لکھ دیا تھا پھر بھلا دنیا کیسے اسے چھین سکتی تھی ماہا سے ۔۔۔۔۔!”

زین یوسف کی کمپنی اب سے میری ہوگی کیونکہ ہم دونوں نے ہی برابر کے شئیرز لگائے تھے ۔۔۔ اب جب یہ سب کچھ کرپشن سے ہوا تھا تو بورڈ نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ اب سے وہ کمپنی میری ہو گی۔۔۔کیونکہ میرا پروجیکٹ سب سے عمدہ تھا۔۔۔۔ ” وہ بتاتے ہوئے ہولے سے مسکرا رہا تھا اسکے چہرے کی رونق ہی اسکی اندرونی خوشی کو عیاں کر رہی تھی ۔۔۔

اب سے میں اپنا کمپنی سنھبالوں گا۔۔ اور آپ اپنی۔۔۔۔۔۔ ” کچھ اور بھی ہے میرے پاس آپ دونوں کیلیے۔۔۔۔۔۔ انکے خوشی سے روشن ہوتے چہروں کو دیکھ وہ سر جھکائے بولا تو ان دونوں نے ہی نا سمجھیں سے ابتہاج کو دیکھا بھلا اب اور کیا باقی تھا سب کچھ تو خدا نے ڈال دیا تھا ان کی جھولی میں ۔۔۔۔۔۔” ابتہاج چکتے انکے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھا تو منبیہ بیگم اٹھنے لگی مگر ابتہاج نے انکے ہاتھ کو تھماتے اپنے ہونٹوں سے چھوتے انہیں روک لیا۔۔۔۔

” میری پہلی کمائی اپنے پیسوں سے آپ دونوں کو عمرہ کروانا چاہتا تھا میں۔۔۔۔۔اور اب اللہ نے مجھے اس قابل بنا دیا ہے اور یہ رہے آپ دونوں کی عمرہ کی ٹکٹس۔۔۔۔۔۔۔ منیبہ بیگم کے ہاتھوں میں ٹکٹس رکھتے وہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ لیے بولا تھا۔۔۔

کاشان صاحب اور منیبہ بیگم کے چہرے فرحت خوشی سے دمک رہے تھے ۔۔۔۔ آنکھوں۔ میں ایک الگ سی چمک تھی اپنے بیٹے کیلئے محبت اور اپنائیت کے رنگ تھے۔۔۔۔ ” ابتہاج میرے بچے یہ تخفہ تمہارا آج تک کا سب سے خوبصورت تخفہ ہے ہمارے لیے ______” ماشاءاللہ جیتے رہو میرے بچے۔۔۔۔ ابتہاج کی پیشانی پہ بوسے دیتے وہ نم۔لہجے میں بولی تو ابتہاج نے آسودگی سے آنکھیں موندیں کتنا سکون دہ تھا یہ احساس یہ خوشی کتنی الگ سی تھی ۔۔۔

ماہا رشک سے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی جس نے اپنےہل ہر فرض ہر حق کو بخوبی نبھایا تھا ۔۔۔

______________

مجھے نہیں نہیں آپ کے ساتھ ہاتھ چھوڑ دیں میرا_____!” صالح کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکالتے وہ روٹھے ہوئے سے لہجے میں بولی تو صالح نے گردن گھمائے صنم کے پھولے ناراضگی سموئے چہرے کو دیکھا ! پہلے چل کر دیکھ تو لو کہ اس کے بعد ناراضگی جتا لینا_____” صالح نے کھینچتے اسے قریب تر کیا اور ساتھ لگائے اپنے حصار میں لیتے وہ چلتا ایک پرانے سے بوسیدہ گھر کے سامنے رکا ۔۔۔۔

یہ کس کا گھر ہے صالح ہم یہاں کیوں آئے ہیں……؟ ” صنم اس عجیب سے بوسیدہ سے درو دیوار کو دیکھتے صالح کے بازو کو مضبوطی سے تھامے پوچھنے لگی تو صالح نے سر جھکائے اسکی جانب دیکھا۔۔۔۔۔۔ اندر چلو پھر بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔ صالح نے اسکے گرد اپنے بازوؤں کو پھلائے اسے اپنے حصار میں لیا تو صنم نے سہمی نظروں سے اسے دیکھتے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ دونوں اندر آئے تو باہر سے کھنڈر دکھنے والا گھر اندر سے بالکل صاف ستھرہ اور کشادہ تھا۔۔۔ دو کمروں اور کچن پہ موجود وہ گھر کافی آرام دہ اور خوبصورت لگا صنم کو جیسے یہاں کوئی بہت ہی پیاری محبت بھری فیملی بسی ہو کبھی۔۔۔ ادھر آؤ تمہیں کچھ دکھاتا ہوں۔۔۔۔۔صنم کے ہاتھ کو پکڑتے وہ اسے لیے ایک کمرے میں گیا ۔۔

اسے پہچانتی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔ صالح نے اسکا ہاتھ چھوڑتے سامنے دیوار پر لگی ایک تصویر کی جانب اشارہ کیا جہاں ایک عورت اور ایک جوان آدمی کافی خوش کھڑے تھے۔۔۔۔صنم کے ماتھے پر بل اور آنکھوں میں حیرانگی سے دگر آئی وہ بے یقنی سے آنکھیں پھیلائے صالح کو دیکھے گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔

یہ تمہاری ماما ہیں صنم ۔۔۔۔۔ اور یہ جو تصویر میں آدمی ہے وہ میرا باپ ہے ۔۔۔۔۔۔ ” اسکی آنکھوں میں حیرت کے تاثرات کو دیکھے وہ عجیب سے لہجے میں کہتے ہنسا تو صنم۔نے فورا سے سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔۔۔ تمہاری ماما نے پہلی شادی ان سے کی تھی میرے بابا سے۔۔۔۔۔ اور اس وقت میں صرف سات کا تھا ۔۔۔۔ میری ماما اسی صدمے میں مجھے اکیلا چھوڑ کے اس دنیا سے چلی گئی۔۔۔ ان کی موت کی وجہ میرا باپ اور تمہاری ماں تھے صنم۔۔۔۔۔۔ کہتے وقت صالح کی آنکھیں شدت ضبط سے سرخ ہونے لگی وہ بمشکل سے خود پر ضبط کر رہا تھا اسکے چہرے کے تاثرات ایسے تھے کہ صنم نے ڈرتے اس حقیقت کے آشکار پر اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے تھے۔۔۔۔۔

میرے بابا ماما کے جانے کے بعد مجھے اکیلا چھوڑ دیتے تھے۔۔ میں پورا پورا دن اکیلا بھوکا بیٹھا رہتا ۔۔۔۔ محلے کے لوگ مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھتے تھے کئی باتیں سناتے کہ ہمارے سر پر عذاب چھوڑ گیا ہے۔۔۔۔ اس وقت مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ کیوں ایسا کہہ رہے ہیں۔۔۔ مگر پھر جب بابا بھی چلے گئے تو مجھے یتیم خانے میں دے دیا گیا میں نے باپ کے ہوتے ہوئے بھی یتیموں کے جیسی زندگی گزاری ہے یہ ساری تکلیفیں اب کچھ بھی نہیں لگتی مجھے ۔۔۔۔۔ ” یہ ہے تمہارے صالح کا ماضی ۔۔۔۔۔۔ بہت سی خواہشوں کو چھوتی سی عمر میں ہی مار دیا تھا اپنے دل تب جا کر ایک مضبوط انسان بنا ہوں میں۔۔۔۔۔

صنم کی آنکھوں میں اسکی تکلیفوں کا سنتے ہی شرمندگی اور جانے دکھ کے کتنے آنسوں آئے تھے۔۔۔ادھر آؤ یہ دیکھو یہ میں ہوں اور یہ ماما ،میں ہر رات انکو تنگ کرتا تھا اور پھر وہ ہر روز میرے سر کی مالش کرتی تھیں۔۔۔میں سکول سے پیسے بچا کر ان کے لیے اور اپنے کیے چیزیں لاتا تھا وہ ناراض بھی ہوتی تھی مگر پھر خوشی سے کھا بھی لیتی تھی۔۔

میں اپنا ہر دکھ ہر غم ان سے شئیر کرتا تھا۔۔۔۔ اپنی ہر بات انکو بتاتا تھا وہ ماں کم اور دوست زیادہ تھیں میرے لیے۔۔۔مگر ان کے جانے کے بعد کوئی نہیں ملا ایسا جسے میری فکر ہو ۔۔۔۔۔ جس نے میرا انتظار کرتے کھانا ناں کھایا ہو ۔۔۔۔۔۔ مگر اب احساس ہو چکا ہے ماں تو ماں ہوتی ہے اس کے جیسا کوئی نہیں۔۔۔مجھے رب نے زیادہ رشتے نہیں دیے مگر ہر رشتے کی محبت میری مان میں سمیٹ کر میرے دامن میں ڈال دی ۔۔۔۔۔ یہ وہ گھر ہے جہاں وہ بستی ہیں جیسے میرے اندر بستی ہیں۔۔۔۔۔ میں روز آتا ہوں یہاں بیٹھتا ہوں ہر چیز کو سمیٹتا ہوں۔۔۔۔۔ جیسے اپنی ماں کو سمیٹ رہا ہوں اپنے اندر_______!”

اپنے انسوں صاف کرتے وہ مسکراتے مڑا تو صنم نے شرمندگی سے اپنی نم آنسوں سے جھلکی نظریں جھکا لیں۔ ۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔صالح ایم سوری میری ماما کی وجہ سے آپ کی زندگی میں جو کچھ بھی ہوا اس سب کے لیے میں آپ سے معافی مانگتی ہوں پلیز انہیں معاف کر دیں ۔۔۔۔۔ اور ایم رئیلی سوری آج کے بعد میں کبھی بھی آپ کو کچھ برا نہیں کہوں گی ۔۔۔۔

مجھے یقین ہے آپ سب سے اچھے ہیں ۔۔۔۔۔ خود سے چلتے اسکے قریب جاتے وہ ہاتھ پھیلائے ذرا سی اونچی ہوتے اپنے دونوں ہاتھ مقابل کی گردن کے گرد حائل کیے اسکے سینے سے لگی تو صالح کی دھڑکنیں تیز تر ہونے لگی اسنے چہرے پر ایک آسودگی بھری مسکان لیے اسکے گرد اپنے مضبوط ہاتھوں کا حصار بنائے اسے خود سے قریب تر کیا ۔۔۔۔۔۔

_____________

ابتہاج۔۔۔۔۔۔۔ وہ سارا کام نبٹاتی رات کو کافی دیر سے کمرے میں آئی مگر کمرے میں موجود تاریکی اور ابتہاج کو ناں پاتے ماہا حیران ہوتے اسے پکارنے لگی اسے یاد تھا کہ وہ اوپر ہی آیا تھا پھر وہ کہاں گیا۔۔۔۔۔۔

ابب ابتہاج آپ ہو ناں یہاں ۔۔۔۔۔۔” ماہا نے سوئچ کی جانب جاتے ابتہاج کو پکارا تھا۔۔۔کہ اچانک سے کسی نے کھینچتے اسے اپنے قریب تر کیا کہ بے ساختہ کی ماہا کی چیخ نکلی تھی۔۔۔۔

اششششش_____ ابتہاج نے اپنی بھاری انگلی اسکے ہونٹوں پر رکھتے اسے خاموش کروایا تو ماہا کا سانس جو خوف سے پھول۔رہا تھا وہ ایک دم سے پرسکون ہوئی اور گہرے سانس لیتے ابتہاج سے دور ہونے لگی کہ ابتہاج نے اسکی کمر کے گرد دباؤ بڑھاتے اسے دوبارہ سے اپنے قریب تر کیا تھا۔۔۔۔۔

” ابببب ابتہاج کیا ہے چھوڑیں بھی ۔۔۔۔۔۔۔” کمرے کے تاریک معنی خیز ماحول پہ چھائی مہکتی فضا میں ماہا کی دبی دبی سے آواز گونجی تو ابتہاج کے ہونٹ دلکشی سے مسکرائے۔۔۔۔۔۔ ” چھوڑنے کو تھوڑی ہی تھاما ہے ڈارلنگ_____” ماہا کی گردن پر سلگتے ہونٹ رکھتے وہ معنی خیز گھبیر انچ دیتے لہجے میں بولا تو ماہا کا روم روم لرز پڑا۔۔۔۔

” میری زندگی کے ہر موڑ میں تم میرے ساتھ رہی ہو ماہا ۔۔۔۔۔ تمہیں ڈانٹا بھی دھتکارا بھی مگر تم نے ایک صابر بیوی کی طرح ہمیشہ مجھے تھامے رکھا میرا ساتے دیا اپنی محبت سے مجھے جیت لیا اور آج میں جس مقام پر ہوں وہ صرف اور صرف تمہاری ہی وجہ سے ہوں۔۔۔۔۔۔ یہ ایک چھوٹا سا سرپرائز میری جان کیلئے۔۔۔۔۔ ماہا نے چہرے کے نقوش کو بےیودی سے چھوتے ابتہاج نے اپنے لفظوں میں سکون ہورہے اسے تھمایا تھا ۔۔۔۔۔

ابتہاج اسکے ہونٹوں کو ہلکے سے چھوتے پیچھے ہوا تو پورا کمرہ روشنی میں نہا گیا ۔۔۔۔ ماہا کی آنکھیں حیرانگی سے پھیلی تھی۔۔۔۔۔ پورا کمرہ دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔۔۔۔۔ بیڈ کو پھولوں سے بہت ہی زبردست طریقے سے سجایا گیا تھا ۔۔ ۔۔۔۔ ۔ ماہا کیلئے یہ سب غیر متوقع تھا وہ حیرانگی سے ابتہاج کو دیکھنے لگی جس کی آنکھیں ماہا کے وجود پر اٹکی تھی ۔۔۔۔۔

اببب ابتہاج___ یقین کرنا مشکل تھا آخر یہ سب کیسے اور کب کیا ابتہاج نے ۔۔۔۔۔!” ماہا نے آنکھوں میں چمک لیے مڑتے ابتہاج کو دیکھا جو بلیک تھری پیس میں حدردجہ شاندار لگ رہا تھا۔۔ابتہاج نے اسکے قریب جاتے ہونٹ اسکے ہاتھ کی پشت پر رکھے اور است تھامے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھا۔۔۔ماہا تو بس ساکن بت بنی ابتہاج کو دیکھ رہی تھی جسکی سحر انگیز شخصیت ماہا کو مبہوت کر رہی تھی۔۔۔

میں چاہتا ہوں کہ آج اپنی جان کو اپنی دولہن کے روپ میں دیکھوں تم میرے لیے خود کو پور پور سجاؤ اور میں تمہارے اس نازک وجود کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے معتبر کروں تمہیں اس دنیا سے دور اپنی دنیا میں لے جاؤں،۔۔۔۔ ماہا کی تھوڑی کو اونچے کیے ابتہاج نے ہونٹ اسکی تھوڑی پر رکھے تو ماہا کی پلکیں شرم سے لرزنے لگیں۔

ابتہاج نے اسے کندھوں سے تھامے اسکا رخ سامنے کی جانب کیا تو ماہا نے نظریں دھیرے سے اٹھائے سامنے دیکھا جہاں سامنے ہی ایک بے حد خوبصورت سا سرخ رنگ کا لہنگا سامنے ہی خوبصورتی سے ہینگ کیا گیا تھا ماہا کی آنکھوں میں حیرت ستائش کی چمک ابھرنے لگی ۔۔۔۔

پانچ منٹ ہیں تمہارے پاس ۔۔۔۔۔۔ جلدی سے ڈریس پہن کر اچھے سے ریڈی ہو جاؤ اسکے بعد آج کی ساری رات صرف اور صرف میری ہو گی ۔۔۔۔۔۔ ” آج ہماری فرسٹ نائٹ ہو گی ڈارلنگ اور میں ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔۔۔۔ ” ماہا کے کندھے پر تھوڑی ٹکائے وہ معنی خیزی سے بولتے اس پل بھر میں شرم سے انگارہ کر گیا۔۔۔

میں باہر ویٹ کر رہا ہوں ۔۔ ذرا جلدی کرنا جان________” ماہا کے سر پہ ہونٹ رکھے وہ اس کے لرزتے وجود کو چھوڑتے جلدی باہر نکلا ۔۔۔۔ماہا کتنے ہی پل اسکے جاے کے بعد اپنے سینے پر دل کے مقام پر ہاتھ رکھے اپنا سانس بحال کرتی رہی ۔۔۔۔ یہ سب یقین کر پانا نا ممکن تھا کہ وہ آج ایک بار پھر سے اپنی مرضی سے اپنی خوشی سے دلہن بن رہی تھی۔۔۔ ماہا نے مدہم سی شدمیلی مسکراہٹ چہرے پر سجائے دھیمے قدموں سے چلتے اس خوبصورت ریڈ لہنگے کو چھوا۔۔۔۔۔

” ماہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابتہاج بے صبری سے جب سے چکر کاٹتے اسکا انتظار کر رہا تھا جو جانے کیا اندر بند ہوئی کیا کر رہی ابتہاج کا تو سانس ہی پھولا ہوا تھا ۔۔ وہ بے صبری سے ڈریسنگ کے بند دروازے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ماہا۔۔۔” ابتہاج چلتے دوم کے قریب پہنچتے بےچینی سے دروازہ ناک کر رہا تھا۔۔

” ماہ_____” اچانک گ جھکتے دروازے پر وہ جو بے صبری سے اسے پکار رہا تھا ، ابتہاج کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اسکی آنکھوں میں خمار کی سرخی بے یقنی حیرت اور ستائش کے بے شمار جگنو چگمگا اٹھے ____” ریڈ کلر کے خوبصورت سے لہنگا جس کا دوپٹہ فل گولڈن کلر کا تھا دوپٹے کے چاروں جانب کناروں پر خوبصورت سی سرخ رنگ کی لیس لگی ہوئی تھی۔۔۔

بالوں کا اونچا چوڑا بنائے دوپٹے کو سینٹر سے چوڑے کے اوپر سیٹ کیے آنکھوں میں گہرا سیاہ کاجل لگائت یونٹوں پر ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگائے وہ ابتہاج کی دل کی دنیا تہہ و بالا کر گئی۔۔۔۔۔ ماہا اسکی خاموشی محسوس کیے اچانک سے نظریں اٹھائے ابتہاج کو دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک ایک مدہوشی خمار سا تھا جو اسے نظریں جھکانے پر مجبور کر گیا ۔۔۔

ابتہاج کے بھاری قدموں کو اہنینجانب بڑھتا دیکھ ماہا کا دل تیزی سے دھڑکا تھا وہ سرخ دہکتے گالوں سے شرم و ئسے لبریز ابتہاج کو اپنے معصوم حسن میں قید کر گئی ۔۔۔۔ ” مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ میری معصوم سی بیوی اس قدر گھائل کر سکتی ہے۔۔۔۔ ماہا کی کمر کے گرد اپنے دونوں ہاتھ لے جاتے ابتہاج نے جھکتے اسکی گردن کے قریب ناک لے جاتے اسکی خوشبو کو خود میں اتارا، ماہا کا وجود لرز پڑا ۔۔۔۔۔

مس ماہا ابتہاج گردیزی ____ کیا آپکو ابتہاج گردیزی بعوض پوری عمر کا ساتھ کے قبول ہیں۔۔۔۔” ابتہاج اسکے ہاتھ کو پکڑے اسے قریب تر کر گیا کہ ماہا نظریں جھکائے کنفیوز سی ہونے لگی۔۔۔۔ ابتہاج نے اپنی انگلی اسکے بھاری جھمکے ہر پھیرتے معنی خیزی سے پوچھا تو ماہا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دھر آئی وہ نظریں اٹھائے ابتہاج جو وارفتگی سے دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں اسکے کہے لفظوں کی سچائی جھلک رہی تھی ۔۔۔

” قبول ہے قبول ہے قبول ہے____” وہ ایک ہی سانس میں ایک چہرے کو دیکھتے محبت سے بولی تو ابتہاج نے کھینچتے اپنے سینے سے لگایا۔۔۔۔ماہا اسنے تیزی سے دھڑکتی ابتہاج کی دھڑکنوں کو سنا تو اسکا دل بےترتیب ہونے لگا ابتہاج کے ہاتھ اسکے سر پہ رکھے بھاری دوپٹے کو اتارتے ایک جانب پھینکا تو ماہا لرزتے اسکے ساتھ لگی تھی ابتہاج نے ہونٹ اسکے سر پہ رکھتے اسکی پیٹھ تھپکتے اسے حوصلہ دیا۔ ۔۔

بی بریو جان ____ آج کی رات تم ہر واقعی بہت بھاری پڑنے والی ہے__!” ابتہاج نے جھکتے اسکے کان میں سرگوشی کیے اس نازک وجود کو بانہوں میں بھرتے بیڈ پہ لٹایا تو ماہا نے مضبوطی سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں بھینجتے اپنی آنکھیں مضبوطی سے بند کیں۔۔۔ ابتہاج نے کوٹ اتارتے ایک جانب پھینکا تھا اور اور ہاتھ سے شرٹ اتارتے وہ مسکراتے ماہا کو دیکھنے لگا جس کے کپکپاتے ہونٹ اسے مزید بےخود کر رہے تھے ______”

جبھی وہ شرٹ ایک جانب پھینکتے ہاتھ تکیے کے نیچے لے گیا ۔۔۔۔ کمرے کی معنی خیز خاموشی میں یہ سرکتے لمحات مزید پرفسوں ماحول برپا کرنے لگے کہ ابتہاج نے اچانک سے ہاتھ میں پکڑے اس گلاب کی پتیوں کو اتارتے ماہا کے چہرے پر پھینکا تو ماہا نے بیڈ شیٹ کو مضبوطی سے مٹھیوں میں دبوچا۔۔۔۔ ابتہاج ہاتھ تکیے پر ماہا کے دائیں بائیں رکھے اسکے چہرے پر جھکے آنکھ پتیوں کو چنتے اسکے چہرے کو اپنے دہکتے ہونٹوں سے چھوتے مزید بےہود ہونے لگا۔۔۔۔۔

میں وعدہ کرتا ہوں ماہا آج کے بعد تمہیں کوئی تکلیف کوئی غم نہیں دو۔ گا ہر وہ دکھ جسکی انچ بھی تم ہر کرے اسے جڑ سے اکھاڑ کر دور کر دوں گا میں۔۔۔” ابتہاج نے اسکے کانوں میں چمکتے ان بھاری چھمکوں کو اتارتے اپنے ہونٹ اسکے کان پر رکھے ۔۔۔۔۔ ابتہاج نے مدہوشی سے اسکے ہونٹوں کو دیکھا جو اسے جب سے مدہوش کر رہے تھے جبھی اسنے ہاتھ سے ان گلاب کی پتیوں کو اٹھائے اسکے ہونٹوں پر رکھا ماہا کا سانس بھاری ہونے لگا ابتہاج کی شدت اسکا جنون اسے ہل بھر میں ہی لرزا گیا تھا وہ تو اتنی شدتوں کو سہنے کی طاقت ہی نہیں رکھتی تھی خود میں۔۔۔۔۔۔ جبھی اپنے ہونٹوں پر مقابل کی شدت بھری دہکتی گرفت محسوس کرتے ماہا کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی دوڑی تھی۔۔۔۔

ابتہاج اسکی سانسوں کو خود میں اتارتے مزید بے ہودہ ہونے لگا ۔۔ مگر ہر گزرتا لمحہ ماہا کی نازک جان پر بھاری پڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔ میری زندگی کو مکمل کرنے کا بےحد شکریہ میری جان ۔۔۔۔۔ ماہا نے ہاتھوں میں اپنی بھاری انگلیاں الجھائے وہ گھبیر لہجے میں سرگوشی کیے اسکے ہونٹوں کو چھوتے اسے خود سے مزید قریب تر کر گیا کہ ماہا اپنی روح میں اترتی ابتہاج کی خوشبو اسکی شدتوں پر خود کو اسی کے سپرد کیے اسے مزید بہکنے ہر مجبور کر گئی۔۔۔۔

____________

صالح ہم۔کہاں رہیں گے آج ۔۔۔۔” صنم فکر مندی سے اسکے بازو کو تھامے پوچھ رہی تھی صالح کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ تھی اب و خود سے تو بتانے سے رہا کہ گاڑی اسنے جان بوجھ کے خراب کی تھی کیونکہ آج وہ کچھ الگ کرنے کے موڈ میں تھا ۔۔

جانم فجر مت کرو آج کی رات ہم یہی پاس میرے دوست کا اپارٹمنٹ ہے۔ ” تو کیا ہم اس میں رہیں گے چلو شکر ہے کچھ تو رہنے کو ملا۔۔۔۔ صنم پتھروں سے گزرتے اسکی بات کاٹتے مسکراتے بولی تو صالح نے افسوس سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دراصل جانم وہ یہاں نہیں رکتا اور اپارٹمنٹ لاک ہوا ہے تو ہم۔وہان نہیں رہ سکتے۔۔”

صالح نے لب دانتوں تلے دبائے خود کو سراہا تھا۔۔۔جانتا جو تھا اسکی معصوم۔جان اسکی چالاکی نہیں پکڑنے والی۔۔۔۔۔ تو پھر ہم کہاں سوئے گے ۔۔۔۔۔” صنم نے منہ پھلائے اسے دیکھتے پوچھا تھا ۔۔۔ اسکی حالت کے زیر اثر اسکے موڈ سانگز تبدیل ہوتے رہتے تھے جنہیں وہ کافی محبت سے سنبھال رہا تھا۔۔۔۔

ویسے تو میری بانہیں تمہاری سب سے مخفوظ پناہ گاہ ہیں اور میری فکر مت کرو ہم انیکسی میں رہیں گے ۔۔۔ اسکے تھکن ذدہ چہرے کو دیکھتے صالح نے جھکتے اسے نرمی سے بازوؤں میں بھرا تو صنم نے سر اسکے سینے سے ٹکایا۔۔۔۔ نیند سے سکی آنکھیں بھاری ہو رہی تھی وہ کافی دیر صالح کے گھر رہے تھے اب واپسی پر انکی گاڑی خراب ہوئی تھی اوپر سے رات کا وقت ہونے کی وجہ سے صنم کافی پریشان ہوئی تھی ۔۔۔

چلو جانم تم آرام کرو میں ذرا آپ کے بھائی جو کال کر کے بتا آؤں کہ ہم پہنچ آئے ہیں ۔۔۔۔ ” صنم۔کو اندر لے جاتے چارپائی پر لٹاتے وہ اسکی بند ہوئی آنکھوں کو چھوتے محبت سے بولا ۔۔۔۔

ہاں سن یار میں پہنچ آیا ہوں یہاں پر اب کل تک اپنی شکل مت دیکھانا مجھے ۔۔۔۔۔” ہم یہی پر انیکسی میں رات گزار لیں گے ۔۔۔۔۔ ” صالح نے جلدی سے اسے بتاتے ساتھ ہی کال کٹ کی تھی جبکہ حسن جو اسے بتا رہا تھا کہ انیکسی میں تو ڈرنک پڑا تھا۔۔۔اسکی سننے سے پہلے ہی صالح کال کاٹتے اندر جاتا موبائل آف کر گیا۔۔۔”

صنم______” صالح جو سوچ رہا تھا کہ میڈم سوئی ہوں گی اب اسے یوں ناچتا دیکھ وہ حیرت زدہ سا منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو بنا دوپٹے کے کھلے بالوں میں اپنی تمام تر رعنائیوں سمیت عجیب سے سٹیپ لیتے ہنستی ہوئی صالح کو مزید مدہوش کرنے لگی۔۔۔

صنم کیا ہو ہے یار طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔۔اسجےںقریب جاتے صالح نے اسے تھامنا چاہا تھا جو بری طرح سے ہنستی اپنا دونوں ہاتھ صالح کی گردن میں لپٹائے اسکے گال پہ بوسہ دیتی اسے ساکت کر گئی۔ ۔۔۔ صالح کا گال

[3/19, 11:54 AM] Ain Jani: اسکے لمس پر دہکنے لگا تھا ۔۔۔۔وہ تیزی سے دھڑکتے دل سے اس دلربا کو دیکھ رہا تھا جس کی آنکھوں۔ میں خمار کی سرخی تھی ۔۔۔اور لبوں پر مسکراہٹ ____!”

صص صالح آؤ ڈانس کریں____” اپنا ایک ہاتھ صالح کی کمر پر رکھتے وہ اسکے دوسرے ہاتھ کو کندھے پر دھرے عجیب سے فرمائشی لہجے میں بولی کہ صالح نے اسکینکرزتی زبان اسکی آنکھوں بغور دیکھا جو سرخ ہو رہی تھی۔۔۔

صنم۔کیا کھایا تم نے ابھی ۔۔۔وہ مشکوک سا ہوتے پوچھنے لگا اسے شن تھا کہ شاید اسنے ڈرنک کی ہے جبھی وہ اسے ہونٹوں کے قریب جھکنے لگا مگر صنم تیزی سے سر پیچھے لے گئی۔۔۔۔صالح بار بار کوشش کرتے اب چڑتے خود سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔

مم میں نے میں نے تو کچھ نہیں کھایا۔۔۔ بس راستے میں وہ تم نے کس کیا تھا اور تو کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔” وہ معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتی اس انداز میں بولی کہ صالح ساکت سا کئی لمحوں تک اسے دیکھتا رہا اسے یقین ہو گیا تھا کہ ضرور صنم نے کچھ ناں کچھ غلط کھایا تھا ۔۔ اچھا تو پھر کچھ پیا ہے تم نے۔۔۔۔” صنم اسکی کمر کے گرد اپنا نازک ہاتھ لپیٹتے اسے گھماتے سٹیپس لے رہی تھی۔۔۔صالح کو اپنی حالت پر ہنسی تو بہت آئی مگر وہ ضبط کر گیا ۔۔۔۔

ممم میں نے وہ کولڈ ڈرنک پی تھی۔۔۔۔ بہت ٹیسٹی تھی پہلے کڑوی لگی مگر پھر ایسا مزہ آیا کہ آدھی بوتل تھی میں نے اکیلے ہی پی دی ۔۔ سوری تم ناراض ہو چلو کچھ نہیں ہوتا اگلی بار تھوڑی زیادہ لانا ایک گلاس تم کو بھی دے دوں گی ۔۔۔۔” و احسان کرنے والے انداز میں اس کی انگلی پکڑے اسے گھمانے لگی مگر وہ لمبا چوڑا مرد کہاں اسکے ہلانے سے ہلنے والا تھا۔۔۔۔۔

صالح نے گردن گھمائے میز کی جانب دیکھا جہاں ہر حالی بوتل پڑی تھی وہ سمجھتے سر نفی میں ہلا گیا ۔۔۔” چلو صنم سو جاتے ہیں کافی رات ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔ اسکی پیٹھ تھپکتے ہوئے صالح اسے ساتھ کے جانے لگا مگر وہ فورا سے پیچھے ہوتے اسے گھورتے دیکھا ۔۔۔۔۔۔

اب کیا ہے ۔۔۔۔ ” وہ زچ آتے اسے دیکھنے لگا جو فل نشے میں ٹن تھی _____! ” مجھے بچہ مت سمجھو میں جانتی ہوں تم مجھے بہانے سے لے جا رہے ہو ۔۔۔۔” وہ انگلی اٹھائے اسے مشکوک سی گھورتے بولی تو صالح اسکے دبنگ انداز اسکے ہلتے ہونٹوں کو دیکھا اپنی گردن کو جھکا گیا۔۔۔۔

” کیا کرنا چاہتا ہوں میں ۔۔۔۔۔!” وہ قدم قدم چلتے اسکے قریب جانے لگا کہ صنم پیچھے کو ہوتے فاصلہ بنا گئی ۔۔۔۔۔۔ صالح نے اپنی جانب کھینچتے اسے گود میں بھرا______” تت تم بہت زیادہ والے گندے ہو تم کسی کرو گے مجھے یہاں پر وہ مسلسل اپنی سرخ نظروں سے اسے گھورتے بڑبڑا رہی تھی ۔۔۔۔ صالح کی آنکھیں میں اسکے ہونٹوں کو دیکھتے خمار سا چھا گیا وہ بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی ۔۔۔۔

اور پھر تم یہاں ہر بھی کس کرو گے ۔۔۔۔۔۔ صالح نے اسے بیڈ پر لٹایا تو صنم نے ہاتھ اپنی شہہ رگ پر رکھتے اسے جگہ بتائی تو صالح کا دل چاہا کہ اسے خود میں چھپا دے کہیں یہ معصوم۔سی لڑکی جب اسکے دل و دماغ کر حاوی ہوئی تھی وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔۔

اور پھر تم یہ______” اشششش اگر تم ہی بتا دو گی تو مجھے پریکٹیکل کرنے میں مزہ نہیں آئے گا۔۔۔” صالح نے انگوٹھے سے اسے خاموش کرواتے اسکے نچلے ہونٹ کو سہلاتے کہا تو صنم نے اسے گھورتے دیکھا۔۔۔۔

“صالح اسکی نظروں کو خود پر پاتے ایک دم سے جھکتے اسکے ہونٹوں کو قید کر گیا کہ صنم خاموشی سے خود میں اترتی صالح کی خؤشبو کو محسوس کرتی رہی ۔۔۔۔۔ صالح نے اسکی کمر کے گرد اپنے مضبوط ہاتھ لے جاتے اسے خود سے لگایا تو صنم نے اپنے دونوں ہاتھ مقابل کی گردن میں حائل کیے اسے مکمل اجازت دی تھی ۔۔۔۔۔صالح کسی بادل کی طرح اسپہ چھایا اپنی محبت کی بارش میں اسے بھگونے لگا ۔۔۔

____________

ابتہاج اور ماہا آج دلاور شاہ اور صبا بیگم کے گھر آئے تھے ، ابتہاج کی کامیابی پر انہوں نے کافی محبت سے ان کے لئے دعوت کا اہتمام کیا تھا ۔۔۔۔ جبھی ماہا اور ابتہاج آج رات وقت پر شاہ ہاؤس میں پہنچے تھے ۔۔۔

اب آگے کا کیا ارادہ ہے ابتہاج ____!” کھانے کے دوران خوشگوار ماحول میں دلاور شاہ نے ابتہاج کو مخاطب کیا تو ماہا نے سر اٹھائے اپنے ساتھ بیٹھے ابتہاج کو دیکھا ۔۔۔ وائٹ ٹی شرٹ پہنے سلیقے سے نک سک سا تیار وہ کافی جاذب نظر لگا اسے۔۔۔۔۔۔ پاپا اور ماما جا رہے ہیں عمرہ پر اس ہفتے تو جب تک وہ واپس آئیں گے دونوں کمپنیز سنبھالوں گا اور اس کے بعد میرا ارادہ کچھ الگ اور بڑا کرنے کا ہے۔ ۔۔۔”

ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص روعب دار آواز میں وہ سنجیدگی سے بولتا دلاور شاہ کو کافی متاثر کر گیا۔۔ جو تھوڑی بہت خلش تھی اب ماہا کو خوش دیکھ وہ بھی ختم ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بس کیجئے آپ دونوں کھانا تو خاموشی سے کھائیں ۔۔۔۔۔ صبا بیگم مسلسل ان دونوں کی گفتگو سے ذچ آتے ٹوکا تو دلاور صاحب قہقہ لگا اٹھے _____ اب ہم بزنس کے بندے ہیں تو اسی متعلق بات کریں گے ناں ۔۔۔۔۔!”

دلاور صاحب نے مسکراتے خوشگوار لہجے میں کہا تھا۔۔۔ کیا بات ہے فیملی ڈنر چل رہا ہے ۔۔۔۔۔ اور وہ بھی ہمارے بغیر ۔۔۔۔۔” صالح کی اونچی آواز پہ ابتہاج سمیت سبھی مڑتے پیچھے دیکھنے لگے جہاں وہ صنم کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے ایک روعب سے چلتا انکے قریب آیا تو سبھی اپنی جگہوں سے اٹھتے حیرانگی سے ان دونوں کو دیکھنے لگے ۔۔۔

صنم تم۔۔۔۔ دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔۔ اپنے ماں باپ کے منہ پر کالک ملنے کے بعد تم کس منہ سے یہاں واپس آئی ہو نکلو ابھی کے ابھی نکلو میرے گھر سے ۔۔۔۔۔صبا بیگم صنم کو دیکھتے ہی غصے سے بولی تو صنم نے پانی بھری نم آنکھوں سے دلاور شاہ کو اور پھر ماہا کو دیکھا جو دونوں بت کے بنے کھڑے تھے ۔۔۔۔ ساسو ماں ذرا بریک پر پاؤں رکھیں اور میری بیوی کو بھی بولنے کا موقع دیں۔۔۔۔”

صالح صبا بیگم کو یوں غصے میں دیکھ صالح ایک مہر اپنے سسر اور ابتہاج پر ڈالتے بیچ بچاؤ کرنے کو آگے بڑھا تو ابتہاج نے ہاتھ سینے پر لپیٹتے اسے سر تا پاؤں گھورا۔۔۔۔۔۔۔ ” صنم کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے صالح نے اسے بولنے کا کہا تو وہ سہمی نظروں سے سر ہاں میں ہلاتی آگے بڑھی تھی.۔۔۔۔”

میں جانتی ہوں ماما بابا میری خطا کی کوئی معافی نہیں میں نے آپ دونوں کا مان توڑا ، تو میں خود بھی خوش نہیں رہ سکی ۔۔جس لڑکے کے ساتھ بھاگ کر گئی تھی ۔۔۔۔۔ اسنے میرے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا ۔۔۔۔اسکی دی ہر روز کی تکلیفیں اذیتیں مجھے خود میں ہی کئی بار مارتی تھی مجھے احساس ہوا تھا کہ میں نے اپنے ماں باپ کو رسوا کیا تو بدلے میں دنیا جہان کی ساری رسوائی میرے مقدر میں لکھ دی گئی۔۔۔ میں نے کفرانِ نعمت کیا تو خدا نے مجھ سے سب کچھ چھین لیا اپنے والدین کی عزت کو روندھا تو بدلے میں اس زمانے نے مجھے بازاروں عورت کہتے میدی عزتِ نفس کو کچل ڈالا۔۔۔۔۔”۔ اسکی آنکھوں میں بےتخاشہ آنسوں تھی گزرے وقت کی تلخیاں اسکے چہرے اور لفظوں میں صاف عیاں ہو رہی تھی ۔

وہ جس اذیت سے گزری تھی اسکا اندازہ تک نہیں تھا اسکے والدین کو۔۔۔۔۔۔انہوں نے تو سوچا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر بھاگی ہے تو خوش ہو گی بہت مگر وہ کیا جانتے تھے کہ نازوں پلی وہ لاڈلی زمانے کی ٹھوکریں سہہہ چکی تھی کہ اب اسے جس خوبصورتی پر ناز تھا۔۔اسی خوبصورتی پر وہ خدا کی شکر گزار ہوا کرتی تھی کہ اسکے رب نے اسے اس نعمت سے نوازا ۔۔۔ وہ جانتی تھی چہرے کی نہیں بلکہ دل کی خوبصورتی معانی رکھتی ہے۔۔۔۔۔

ماہا میری بہن مجھے معاف کر دو، میں نے اس خوبصورتی کے غرور میں اپنے خون اپنی بہن کو بھی اذیت دی ۔۔۔میں بیت بری ہوں مگر پلیز آپ لوگ ایک بار مجھے معاف کر دیں ۔۔۔اہنی غلطیوں کی ایک بہت طویل سزا جھیل چکی ہوں میں ۔۔۔مگر اب اور نہیں جھیل سکتی۔۔۔۔ جب تک آپ لوگ مجھے معاف نہیں کریں گے تب تک مجھے سکون نہیں ملے گا۔۔۔۔ پلیز ماما بابا مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔وہ اذیت سے روتے انکے قدموں میں گر پڑی کہ اسکی حالت کے زیرِ اثر صالح نے بےچینی سے گھٹنوں کے بل بیٹھتے اسے سہارہ دیا۔۔۔۔

صنم اٹھو میری جان طبیعت ٹھیک نہیں تمہاری اگر اس طرح سے روؤ گی تو بچے پر برا اثر پڑے گا۔۔۔وہ فکر مندی سے ذرا اونچی آواز میں بولا ۔۔ صبا بیگم اور ماہا تو متفکر سی ہوتے صنم کو دیکھنے لگی ۔۔۔ صنم خاموش ہو جاؤ میں نے معاف کیا تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ صبا بیگم نے آگے بڑھتے اسے سینے سے لگاتے دلاسہ دیا تو صنم نے سکون اپنے اندر تک اترتا محسوس کیا۔۔۔ مجھے تم سے کوئی گلا نہیں تم میری بہن ہو مجھے آج بھی اتنی ہی عزیز ہو جتنی پہلے۔۔۔۔۔ ” ماہا نے بھی اسے ساتھ لگائے محبت سے کہا تو ابتہاج نے گہری نظروں سے اپنی معصوم جان کو دیکھا ۔۔۔۔

بابا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب سے ملتی دلاور شاہ کے قریب جاتے انہیں پکارنے لگی مگر دلاور شاہ بنا کچھ کہے خاموشی سے وہاں سے چکے گئے ۔۔صنم انکی ناراضگی پر اداس سی ہو گئی ۔۔۔۔ تو صبا بیگم نے اسے تسلی کرائی کہ وہ جلد ہی اسے معاف کر دیں گے ۔۔۔۔۔ صنم نے مسکراتی نظروں سے اپنے ہمسفر کو دیکھا جسکی آنکھوں میں صنم کیلئے محبت فکر کے ہزاروں رنگ دھرے تھے۔۔۔۔

____________

توں یہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔۔۔؟” صالح جو چوری چھپے بالکونی کے راستے اوپر آیا تھا اب وہاں پہلے سے ہی ابتہاج کو کھڑا دیکھ وہ حیرانگی سے اسکے قریب جاتے پوچھنے لگا تو ابتہاج نے ایبرو اچکاتے صالح کو مڑتے دیکھا ۔

” جو کچھ توں کر رہا ہے وہی سب کر رہا ہوں میں بھی ۔۔۔۔۔ ابتہاج نے کندھے اچکاتے اطمینان سے جواب دیا تو صالح نے گہری سانس فضا میں خارج کرتے بند کھڑکی کو دیکھا۔۔۔۔۔ صنم اور ماہا آج دونوں ہی اتنے عرصے بعد ایک دوسرے کے ہمراہ اپنے پرانے کمرے میں اپنی یادوں کو یاد کرتے اکٹھی سونے والی تھی اور یہاں ان دونوں کا حال برا ہوا پڑا تھا۔۔۔۔۔

ابتہاج کا تو سانس ہی ماہا کی دوری کا سوچتے اٹکا جا رہا تھا بھلا وہ پوری رات کیسے گزارتا اور صالح کا حال تو اس سے بھی زیادہ برا تھا۔۔۔۔۔ ہماری ظالم بیویو کو ایک ذرا بھی اپنے شوہروں کی قدر نہیں یہاں ان سے دور ہماری جان نکلی جا رہی ہے اور وہ دونوں اندر بیٹھی قہقہے لگا رہی ہیں۔۔۔۔۔”

کمرے سے آتی ان دونوں کے قہقہوں کی آواز سنتے صالح نے جلے دل سے بولا تو ابتہاج نے بھی تائید کرتے سر کو زور شور سے ہاں میں ہلایا۔۔۔۔ اگر انہیں ہماری فکر نہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ہمیں خود اپنی فکر کرنی چاہیے ۔۔۔۔ وہ ہمارے پاس نہیں آ رہی تو کیا ہوا ہم تو جا ہی سکتے ہیں انکے پاس ۔۔۔۔۔ ” صالح کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ابتہاج نے معنی خیز لہجے میں کہتے آنکھ دبائی تو صالح نے بشمکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا۔۔

____________

ماہا تمہیں یاد ہے ایک بار جب میں نے سکول کے ایک لڑکے کو پھتر مارا تھا تو وہ کیسے روتا ہوا بھاگ گیا تھا اور پھر جب اسکی ماما شکایت لگانے آئیں تو میں نے صاف انکار کر دی کہ میں نے اسے نہیں مارا بلکہ ماہا نے اسے مارا تھا اور پھر جب بابا کو پتہ چلا تو پہلی بار انہوں نے کہا تھا کہ ماہا نہیں مار سکتی یہ ضرور میری ہی شکایت ہے۔۔ہاہاہاہا___” صنم اسکی گود میں سر رکھے مسکراتے ہوئے بتا رہی تھی ۔۔

جبکہ ماہا بھی کافی خوش تھی اتنے عرصے بعد وہ دونوں بہنوں کی طرح ایک ساتھ وقت گزار رہی تھی ، کتنا پیارا اپنا سا احساس تھا۔۔۔ سب کچھ خوشگوار ہوا جا رہا تھا غم کا سایہ اب دور دور تک ناں نہیں تھا اور سب سے بڑھ کر وہ سب ایک ساتھ تھے ۔۔

معا دروازے پر ہوتی دستک پہ وہ دونوں ہی ٹھٹکی تھی ، میں دیکھتی ہوں۔۔۔۔ ماہا نے صنم کا سر اپنی گود سے اٹھاتے کہا تو صنم نے فورا سے اسکا ہاتھ پکڑا۔۔۔تم یہی رکو مجھے پتہ ہے ضرور ابتہاج ہو گا ان دونوں کو بھی چین نہیں مگر میں نے بھی اج سوچ لیا ہے آج تو ہم ان دونوں کو ذرا لفٹ نہیں کرائیں گے تم خاموشی سے یہی بیٹھ کر میرا انتظار کرو میں ابھی آئی۔۔۔۔

ماہا کا گال تھپتھپاتے وہ دوپٹہ کھینچتی بیڈ س اٹھائے خود پر لیتے وہ دروازے کے پاس جاتے فورا سے دروازہ کھول گئی۔۔۔

تم_____” دروازہ پر کھڑے صالح کو دیکھ صنم نے حیرانگی سے پوچھا اسے تو لگا تھا کہ ابتہاج ہی آیا ہو گا مگر یہاں تو صالح ہی کھڑا تھا۔۔۔

ہاں میں میرے سر میں درد ہے صنم ذرا ایک کپ کافی بنا دو۔۔۔ ” اپنی شیو کو مسلتے وہ سنجیدگی سے بولا تو صنم نے مڑتے ماہا کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔ ” آپ خود بنا لیں آج صالح دراصل میری بھی طبیعت ٹھیک نہیں تو میں بھی بس سونے ہی والی ہوں۔۔۔۔” صنم نے فورا طور پر ماتھے کو چھوتے ایک بہانہ گھڑا تھا ۔۔ جسے صالح خان بخوبی واقف تھا۔

تو پھر ٹھیک ہے ابھی چلو میرے ساتھ اور دو کپ کافی بناؤ دونوں ہی مل کے پیتے ہیں۔۔۔ماہا ذرا دروازہ لاک کر لیں آپ______!” صنم کا ہاتھ زبردستی تھامتے وہ اونچی آواز میں بولتے صنم کو بنا بولنے کا موقع دیے وہاں سے تیزی سے نکلا تھا ۔۔۔

انہیں کیا ہوا۔۔۔۔؟” ماہا منہ کھولے کھلے دروازے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اور پھر سر جھٹکتے وہ اٹھتے دروازہ لاک کرتے مڑی۔۔۔ کہ کھڑکی پر ہوتی دستک پر وہ ٹھٹکی تھی وہ جانتی تھی ضرور ابتہاج ہی ہو گا۔۔۔۔ جبھی وہ ہونٹ دانتوں تلے دبائے کھڑکی کے قریب پہنچی۔

_______________

کہاں لے جا رہے ہیں آپ مجھے صالح ہاتھ تو چھوڑیں ____!” وہ سچ ہوتی اب جھنجھلاتے ہوئے بولی تھی مگر مقابل پر رتی برابر بھی اثر نہیں تھا ہوا۔۔۔۔۔ وہ اسے ساتھ لیے اندر روم میں داخل ہوتے ہی دروازہ اندر سے لاک کر گیا۔۔۔

دیکھیں صالح ابتہاج آتا ہو گا آپ مکھے جانے دیں اچھا نہیں لگتا پلیز ۔۔۔۔۔ ویسے بھی ماہا میرا انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔۔ ‘ اسکی آنکھوں میں جھلکتی شرارت کو دیکھ وہ اسے نرم لہجے میں سمجھانے لگی تو صالح نے سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھا جس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا۔۔۔

فکر مت کرو ابتہاج نہیں آئے گا اور ماہا بھی اب تمہارا ویٹ نہیں کر رہی ہو گی۔۔۔وہ گندے ٹھار لہجے میں بالقں میں ہاتھ چلاتا ایک ادا سے بولا تو صنم کا چہرہ سرخ پڑ گیا ۔۔۔۔ کہاں چلی جانم ۔۔۔ ؟” اسے بیڈ کی جانب جاتا دیکھ صالح نے ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کیے اسے کھینچتے خود سے قریب تر کیا ، تو صنم بوکھلا اٹھی۔۔۔۔

وو وہ مجھے نیند آئی ہے بہت زیادہ تو میں سونے جا رہی ہوں ۔۔۔تھکاوٹ بھی بہت ہو رہی ہے۔ ۔ ” وہ نرم لہجے میں منمناتے ہوئے بولی تو صالح نے اسے بغور دیکھا۔۔۔۔

اچھا میری نیندیں حرام کر کے میڈم خود اتنی آسانی سے سو جاؤ گی۔ صالح خان کے ہوتے ہوئے تو یہ نا ممکن ہے۔۔۔۔ اسکی پیشانی پر ہونٹ ثبت کرتے وہ مسکراتے ہوئے لہجے میں۔ بولا تو صنم نے سر اسکے سینے سے لگایا۔۔۔

صنم کیا ہوا یار تم تو کیوں رہی ہو ۔۔۔اسکے لرزتے وجود کے گرد اپنا مضبوط حصار بنائے صالح نے متفکر سے لہجے میں پوچھا تو صنم نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔” بابا نے مجھے ابھی تک معاف نہیں کیا صالح۔۔۔۔ مجھے سکون نہیں مل پا رہا آپ بتائیں میں کیا کروں ۔۔۔۔!” وہ شام سے کی اداس تھی دلاور شاہ کی جانب سے ملی خاموشی اسکی ہمت کو توڑ رہی تھی۔۔۔

” اگر انہوں نے معاف نہیں کیا تو تمہیں گھر سے نکالا بھی تو نہیں صنم۔۔۔۔ وہ تمہارے بابا ہیں غصہ ناراضگی انکا حق بنتا ہے مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ تم انکی ناراضگی سے بدگمان ہو جاؤ بلکہ اب تمہیں پہلے سے بھی زیادہ محنت سے انہیں راضی کرنا پڑے گا اور مجھے یقین ہے کہ میری صنم انہیں ضرور راضی کر لے گی ۔۔۔۔ اسکی تھوڑی پکڑتے اسکا چہرہ اونچا کیے وہ محبت سے بولا تو صنم پرسکون سی ہوئی۔۔۔

میں بیت خوش نصیب ہوں صالح آپ جیسا ہمسفر ملا مجھے۔۔۔ مجھے دنیا کی دلدل سے بچا کر آپ نے نا صرف میرے کرادر بلکہ میری ذات کی بھی خفاظت کی ہے ۔۔۔۔ میں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ برا کیا اسکا صلہ میرے رب نے مجھے اسی دنیا میں دیا ۔۔۔۔۔۔ مگر میری اس آزمائش ، اس سزا میں آپ کسی فرشتے کی طرح میری زندگی میں آئے مجھے سنبھالا خود میں سمیٹ لیا۔۔۔ مج فخر ہے کہ میں صنم صالح خان ہوں۔۔۔۔ وہ خوبصورتی سے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ایک ایک لفظ سچے دل سے ادا کرتی اپنے قدم اٹھائے اسکے گال پر ہونٹ رکھتے صالح کو آج ہوش میں ہی بےہوش کر گئی۔۔۔۔

تم زندگی کو صالح خان کی جانم ۔۔۔۔۔۔۔ اور صالح خان اپنی زندگی کی خفاظت خود سے بھی زیادہ اچھے سے کرے گا۔۔۔۔” اسے گود میں بھرتے صالح نے اسکے گالوں کو چھوتے محبت سے سرگوشی کی تو صنم شرماتے اسکے سینے میں سر دے گئی۔۔۔

_______________

آپ یہاں کیا کررہے ہیں ابتہاج______؟ کھڑکی کھولے وہ ہاتھ کمر پر رکھتے اسے سر تا ہوں گھورتے استفسار کرنے لگی۔۔۔۔ ” لگتا ہے آپ کے سر میں بھی درد ہو گیا ہے۔۔۔ ” اسے صالح کا لگایا بہانہ یاد آیا تو وہ آنکھیں چھوٹی کیےاس گھورتے پوچھنے لگی تو ابتہاج کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھری۔۔۔

نہیں مجھے چائے کی نہیں اپنی بیوی کی قربت کی طلب ہو رہی تھی اسی وجہ سے مجھے یہاں اس کھڑکی تک آنا پڑا ۔۔۔ اندر آتے وہ کھڑکی بند کیے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے شرارت سے بولا تو ماہا کی نظریں اسکی بےباکی سے کہی بات پر جھک سی گئی۔۔۔

” وہ کیاہے ناں مجھے عادت ہو گئی اسکی خوشبو کو خود میں اتارنے کی۔۔۔ اسکی زلفوں میں چہرہ چھپائے مدہوش ہونے کی۔۔۔۔ اپنے مضبوط حصار میں اسے سینے سے لگائے سونے کی۔۔۔اسکی نرم گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرنے کی تو میں یہاں کسی دوسری بیکار چیز کی طلب سے نہیں ایا میری طلب تو میرے سامنے کھڑی ہے ۔ ۔

صنم جو اسکی بے باک گفتگو سنتے شرم سے انگارہ بنے کھڑی تھی اچانک ابتہاج کےکھینچنے پر وہ ایک دم سے اسکے سینےسے لگی سانس روک گئی۔۔۔

ابب ابتہاج چھوڑیں کوئی آ جائے گا۔۔۔ اپنی کمر کے گرد لپیٹے اسکے مضبوط ہاتھوں کو کھولنے کی سعی کرتے وہ دھیمے لہجے میں بولی تو ابتہاج نے اسکے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا ۔۔ ” کوئی نہیں آئے گا کیونکہ صالح اب صنم کوانے نہیں دے فا مان بھی کو کہ صنم واپس آ جائے تو اب ابتہاج گردیزی تمہیں جانے نہیں دے گا ۔ اسکی آنکھوں پر بوسہ دیے وہ گھبیر لہجے میں کہتے ماہا کو لرزنے ہے مجبور کر گیا۔۔

ابتہاج اسے گود میں بھرتے بیڈ کی جانب بڑھا تو ماہا نے دونوں ہاتھ اسکی گردن میں حائل کیے۔۔۔ ” ایک خوشیوں بھری رنگین دنیا اسکی منتظر تھی۔۔۔۔ اس نے صبر کیا اپنے ماں باپ کے ہر فیصلے کو قبولا۔۔۔۔ ان کی ناراضگی نفرت سب کچھ سہن کر لیا۔ مگر کبھی ان کی نافرمانی نہیں کی اور آج اسکی گود میں رب نے خوشیوں کا ڈھیر لگا دیا تھا۔۔

اسکا شوہر اسکی محبت میں گرفتار تھا اسکی دسترس میں تھا۔۔۔۔۔ دنیا بھر کی ہر خوشی اسکے قدموں میں۔ تھی اسکے صبر کا پھل اسکے ماں باپ کی شوہر کی محبت کے عوض رب نے بخوبی اسے نوازا تھا کہ وہ جتنا اپنے رب کا شکر ادا کرتی اتنا ہی کم تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *