Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 05)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 05)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
صنم نے اپنے پورے کمرے کی حالت بگاڑ رکھی تھی دلاور صاحب کا فیصلہ تھا کہ ایک ہفتے میں صنم کا نکاح ہر حال میں ہو کر رہے گا ۔۔۔۔ صنم کو جب باپ کے فیصلے کی خبر ملی تو وہ ہتے سے اکھڑ گئی ۔۔۔ کہ میں کسی کی زرخرید غلام نہیں جو اپنا سر جھکا دونگی ۔۔میں یہ نکاح بلکل نہیں کرونگی چاہے کچھ بھی ہو جائے صنم کی ہٹ دھرمی پر منیبہ بیگم اور ماہا بہت پریشان تھے منیبہ بیگم کو انجانے خدشات ستا رہے تھے صنم ناجانے اب کیا کرنے والی تھی ۔۔۔ آج دلاور صاحب کے ایک دوست نے کھانے پر آنا تھا وہ پہلے ہی کہہ گئے تھے منیبہ بیگم سے کہ سارے انتظامات کر کے رکھیں ۔۔۔۔گردیزی فیملی سے دلاور صاحب کے پرانے تعلقات تھے اور آج تو وہ کسی خاص مقصد سے آرہے تھے جس سے صرف دلاور صاحب ہی جانتے تھے یہ بھی دلاور صاحب کا ہی آرڈر تھا کہ صنم کو تیار کیا جائے منیبہ بیگم نے بڑی جدو جہد کے بعد اس کی منتیں کر کے تیار کیا صنم بلیو کرتا شلوار بلیک دوپٹے میں کافی خوبصورت لگ رہی رہی تھی ماہا اپنے کمرے میں بیٹھی کوئی کتاب پڑھ رہی تھی جب اسے دلاور صاحب کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا ماہا کے فورا کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو دلاور صاحب کے پیچھے ملازم بہت سارے لوازمات لا رہے تھے
ماہا نے جلدی سے لائٹ پیچ کلر کی خوبصورت سی فراک نکالی اور جلدی سے چینج کرنے چلی گئی اگلے پانچ منٹ میں وہ تیار تھی میک اپ کا اسے ویسے ہی شوق نہ تھا میک اپ کے نام پر صرف پنک لپسٹک لگائی لمبے بالوں کی چوٹی بنا کر کندھے پر ڈالی اور سلیقے سے دوپٹہ اوڑھ کر ماں کی مدد کے لیے کچن میں آگئی تب تک دلاور صاحب کے مہمان بھی آچکے تھے لاونج سے ہنسی اور قہقہوں کی آوازیں آرہی تھیں ماہا نے ملازموں کے ساتھ سارا سامان ٹیبل پر لگوایا اور مہمانوں کو سلام کیا جن میں ایک خوبصورت سی عورت اور دلاور صاحب کی عمر کے ہی آدمی تھے دونوں ہی بہت رکھ رکھاو والے لگ رہے تھے ماہا نے ان کو سلام کیا تو مسز گردیزی ی نے اس کا ماتھا چوما ان کو یہ سانولی سی رنگت میں پر کشش لڑکی بہت بھائی تھی سب سے زیادہ جس چیز نے ان کو متاثر کیا تھا وہ ماہا کی حیاء تھی جو اس کے چہرے پر کشش کع مزید بڑھا رہی تھی بڑی بڑی آنکھیں کسی کے دل میں بھی گھر کر سکتی تھیں ماہا ان کی نظروں سے کنفیوز ہوتی بہانا بنا کر وہاں سے اٹھ گئی اور کچن میں آکر ہی دم لیا تبھی کاشان لغاری نے صنم کو بلانے کا کہا صنم کو جب منیبہ بیگم نیچے لائیں تو مسز گردیزی کے منہ سے بے ساختہ ماشاءاللہ نکلا واقعی وہ بہت خوبصورت تھی صنم کس ضبط سے وہاں کھڑی تھی یہ صرف وہی جانتی تھی ۔۔۔۔وہ اپنے باپ کا سارا مقصد سمجھ چکی تھی کہ یہ مہمان کس لیے بلائے گئے ہیں مسز گردیزی نے صنم کو بھی خوب پیار کیاکاشان گردیزی نے صنم کے ہاتھ پر نوٹوں کی گڈی رکھی اور اس کے سر پر شفقت سے بوسہ دیا ۔۔۔۔صنم اس درمیان بلکل خاموش تھی اسے اس سب سے شدید کوفت ہو رہی تھی ۔۔۔ وہ بس جلدی سے جلدی یہاں سے جانا چاہ رہی تھی ورنہ کوئی بیر نہ تھا اپنے غصے میں کیا کر جاتی ۔۔۔کاشان گردیزی اور دلاور شاہ دونوں بزنس پارٹنر تھے دونوں کے درمیان کافی گہری دوستی تھی کاشان گردیزی کا صرف ایک بیٹا تھا ابتہاج گردیزی جو اس وقت میٹنگ کے سلسلے میں لندن گیا ہوا تھا مسز گردیزی کب سے اس کی شادی کے پیچھے پڑی ہوئی تھیں پر وہ کوئی نہ کوئی بہانا بنا کر ٹال دیتا وہ بھی ان کی ماں تھیں اس بار سوچ چکی تھیں کہ کچھ بھی ہو جائے وہ ابتہاج کی شادی کرا کر رہیں گی ۔۔۔۔ کاشان صاحب کو جب پتا چلا کہ دلاور شاہ کو بھی بیٹی کے لیے رشتوں کی تلاش ہے تو وہ اپنا دامن پھیلائے چلے آئے ان کو کسی چیز کی ضرورت نہ تھی دولت شہرت سب تھا بس کمی تھی تو اپنے آنگن میں اترتی خوشیوں کی ۔۔۔ ہر وقت کے سناٹوں سے وہ تنگ آچکے تھے ابتہاج بھی ماں کی دھمکی پر سر جھکاگیا ورنہ اس کے کوئی بعید نہ تھی وہ کیا کر جاتیں ۔۔۔۔ ابتہاج کو وہ آنے سے پہلے بتا چکی تھیں کہ آج وہ لڑکی والوں کے گھر جارہی ہیں وہ بس ہنستے ہوئے اپنی ماں کے چہرے پر چھائی خوشی دیکھتا نفی میں سر ہلاگیا
صنم طبیعت خرابی کا بہانا بنا کر وہاں سے اپنے کمرے میں چلی آئی اور شدید تیش کے عالم میں روکی کو فون ملایا جو دوسری بیل پر ہی اٹھا لیا گیا
روکی جو اس وقت کسی لڑکی کے ساتھ نازیبا حالت میں موجود ۔۔۔ کسی کو میسج کر رہا تھا اسکرین پر چمکتے صنم کے نمبر دیکھتے ہی الرٹ ہوا اور فوراً سے پہلے اپنی باہوں میں لیٹی لڑکی کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور کال پک کی
صنم جو پہلے ہی بھری بیٹھی تھی روکی کے کال اٹھانے پر پھٹ پڑی ۔۔۔۔کہاں مر گئے تھے تمہیں پتا بھی ہے میں کس عذاب سے گزر رہی ہوں ۔۔۔ ڈیڈ نے میرا رشتہ طے کر دیا ہے اپنے دوست کے بیٹے سے تمہیں کوئی ہوش بھی ہے ۔۔۔۔۔ صنم پھولے تنفس سے اسے اپنے ساتھ ہوئی ساری رام کہانی سنا رہی تھی
روکی نے اس کے چیخنے پر ایک نظر غصے سے موبائل کو گھورا۔۔۔۔۔ اور دل میں سو صلواتیں اسے سنا کر ۔۔۔۔ انتہائی شیریں لہجے میں بولا
ڈارلنگ ٹینشن کیوں لیتی ہو ۔۔ میں ہوں نہ میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تمہاری شادی صرف مجھ سے ہوگی میری جان ۔۔۔۔ تمہیں مجھ سے کوئی الگ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ روکی اسے اپنے جال میں پوری طرح قید کر چکا تھا ۔۔۔ اب اسےآگے کا پلین اگزیکیوٹ کرنا تھا ۔۔۔۔ صنم نے روکی کو نکاح کے بارے میں ساری بات بتائی اس کی پوری بات تحمل سے سننے کے بعد روکی نے اسے جو کہا اسے سن کر صنم بے تہاشا خوش ہوئی ۔۔۔۔ روکی نے اس سے کہا کہ جس دن تمہارا نکاح ہوگا ٹھیک اسی دن ہم یہ ملک چھوڑ کر چلیں جائیں گے تم اپنی اس بیوقوف بہن سے مدد لینا اور آرام کا بہانا کرکے روم میں ہی رہنا میں تمہیں وہاں سے لیجاوں گا اور پھر ہم شادی کر لینگے ۔۔۔
روکی کی بات پر صنم متفق ہو گئی وہ بہت خوش تھی کہ آخر کار جسے چاہا وہ مل جائے گا اس نے ایک بار بھی دلاور صاحب یا اپنے گھر والوں کے بارے میں نہیں سوچا تھا
اوہ روکی ۔۔تم نے تو میری ساری پریشانی دور کر دی میں بہت خوش ہوں اب میں اس قید سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاوں گی اور ہم یہاں سے کہیں دور چلے جائیں گے جہاں صرف میں اور ہماری محبت ۔۔۔ ۔
روکی شاطرانہ انداز میں مسکرانے لگا اب صنم ہر طرح سے اس کے جال میں پھنس چکی تھی ۔۔ صنم نے کال کٹ کرنی چاہی جب روکی مطلب کی بات پر آیا اور صنم کو دلاور صاحب سے نکاح کے بدلے اپنی پراپرٹی نام کرنے کا بولا ۔۔۔ روکی نے صنم کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیا تھا کہ ان کی نئی زندگی کی شروعات ہوگی تو انہِیں بہت زیادہ انکم کی ضرورت پڑے گی صنم بھی روکی کی بات پر سوچ میں پڑ گئی ۔۔۔اور کال کاٹ دی ۔۔۔
صنم اب یہ سوچ رہی تھی کہ کس طرح دلاور شاہ سے پراپرٹی کا مطالبہ کرے ۔۔۔۔
________
_کاشان گردیزی کو اور مسزگردیزی کو صنم بہت پسند آئی تھی وہ رشتے کے لیے ہاں کر گئے تھے دلاور صاحب نے دل سے رب کا شکر ادا کیا انہیں یقین تھا کہ اب صنم سدھر جائے گی ۔۔۔۔ مسز گردیزی نے منیبہ بیگم سے صنم کی ایک تصویر لی اور جلد ہی نکاح پر ملنے کا بول کر چلی گئیں
دلاور صاحب مطمئن سے صنم کے کمرے میں چلے آئے جہاں وہ ویسی ہی بیٹھی موبائل استعمال کر رہی تھی دلاور صاحب اس کے پاس بیٹھے اور سر پر ہاتھ رکھ کر سمجھانے لگے
زندگی ہر کسی کو یہ موقع نہیں دیتی کہ وہ سنبھل جائے لیکن تم خوش نصیب ہو آج یقینا تمہیں میرے فیصلے سے تکلیف ہوگی لیکن ساری زندگی اپنے باپ کو دعائیں دوگی ۔۔۔۔ جانتی ہو بیٹیاں صرف وہی معاشرے میں عزت پاتی ہیں جو باپ کے سائے میں گھر سے رخصت ہوتی ہیں ۔۔۔۔ ورنہ دنیا ٹھوکروں میں رول دیتی ہے ۔۔۔۔ تم میری پیاری بیٹی ہو امید کرتا ہوں میری باتوں کو سمجھو گی ابتہاج بہت اچھا لڑکا ہے وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا۔ ۔۔۔
دلاور صاحب اپنی طرف سے اس کا دل صاف کرنے آئے تھے یہ جانے بغیر کہ رسوائی ان کے نصیب میں لکھ دی گئی ہے جس بیٹی پر جان نچھاور کر رہے ہیں وہی بیٹی زندگی کا سب سے بڑا روگ دے گی ۔۔۔۔۔
ان کی باتوں پر صنم کے ضمیر نے اسے ملامت کی کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ نہیں کر سکتی لیکن دوسری طرف اس کے سامنے روکی کی محبت آکھڑی ہوئی اور دل جیت گیا ۔۔۔۔ صنم اہنے ضمیر کو تھپکی دیکر سلا چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
__________
صباء گردیزی نے گھر آتے ہی ابتہاج کو ویڈیو کال کی ان کو بے حد خوشی تھی ابتہاج نے کال پک کی اور اپنی مام کا مسکراتا چہرہ دیکھ کر اس کی ساری تھکن کہیں دور جا سوئی تھی وہ میٹنگ سے فری ہو کر ابھی اپنے فارم ہاوس آیا تھا تبھی صباء گردیزی کی کال آگئی
صباء گردیزی نے جیسے ہی ایک نظر اس کی طرف دیکھا تو آنکھیں بھر آئیں وہ تھا ہی ایسا لمبا چوڑا قد سر خ وسفید رنگت ماتھے پر ہمہ وقت بکھرے بھورے بال گہری شہد رنگ آنکھیں جن میں ہمیشہ ایک ٹھٹھرا دینے والا تاثر ہوتا ۔۔۔ گلابی لب جو سختی سے آپس میں بھینچے ہوئے تھے
صباء بیگم نے دل سے اس کی نظر اتاری ابتہاج گردیزی وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا باہر ملک پڑھائی کرنے کے باوجود اس نے کبھی اپنی حدود پار نہیں کیں تھیں اسے بس ایک چیز نے نفرت تھی وہ تھا جھوٹ اور دھوکا ۔۔۔ معاف کرنا اسے پسند نہ تھا وہ بس اپنی اصولوں پر جینے والا شخص تھا جس کی دنیا بس ۔ اس کی ماں تھی باپ کو تو وہ بس ۔۔۔۔ نام کا ہی سمجھتا تھا
دیکھو اے ۔بی میں آج تمہاری دلہن دیکھنے گئی تھی ماشاءاللہ بہت پیاری ہے بلکل میرے بیٹے کی طرح ۔۔۔ صباء بیگم اس کے سامنے صنم کی تصویر لہراتی ہوئی بولیں جس میں صنم ریڈ شارٹ فراک بلیک جینس اور بلیک سٹالر ڈالے بہت پیاری لگ رہی تھی ایک پل کو ابتہاج اس کے حسن سے نظریں نہ ہٹا پایا پر وہ اپنی جانتا تھا کہ مام کی نظریں اس کے تاثرات جاننے کے لیے بے چین ہیں ۔۔۔ ابتہاج نے ماں کی طرف دیکھا جو شرارت سے اسکی طرف دیکھ رہیں تھی ۔۔ ابتہاج ان کے مسلسل دیکھنے پر جھنجھلا گیا ۔۔۔ مامممممم
ابتہاج کے چڑنے پر صباء گردیزی قہقہہ لگا اٹھی اور بولیں پسند آئی میرے بیٹے کو اپنی بیٹر ہاف۔ ۔۔ ابتہاج نے ایک نظر ماں کو دیکھا اور گہرا سانس بھر کر بولا
“مام آپ جانتی ہیں کہ میری نیچر کیسی ہے مجھے خوبصورتی متاثر نہیں کر تی صرف کردار متاثر کرتا ہے میں چاہتا ہوں جیسے میں نے آج تک کبھی کسی کو اپنے دل میں نہیں آنے دیا تو میری بیوی کا کردار اتنا تو پختہ ہو کہ میں اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد ہوں ۔۔۔ بس یہی میری ڈیمانڈ ہیں
بیٹے کی بات سن کر صباء بیگم بہت خوش ہوئیں آج انہیں فخر ہوا تھا اپنی پرورش پر ان کا بیٹا واقعی بڑا ہو گیا تھا ۔۔۔۔
ابتہاج نے ماں کو خیالوں میں گم دیکھ کر چٹکی بجائی اور کہا
ماما کل میں آرہا ہوں تو پھر فرصت سے بات کرتے ہیں ابتہاج نے صباء بیگم کو اپنا خوب خیال رکھنے کا کہا اور کال کٹ کی ۔۔۔۔ ابتہاج اپنے بستر پر لیٹا صنم کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔۔۔اس کی نظروں میں بار بار اس کی من موہنی صورت گھوم رہی تھی ۔۔۔۔ابتہاج ساری سوچوں کو جھٹکتا اپنے بستر پر دراز موبائل یوز کرنے لگا ۔۔۔تاکہ کل کی ٹکٹ کنفرم کرا سکے ۔۔۔۔
______
ابتہاج پاکستان آچکا تھا اسے ریسیو کرنے صباء گردیزی آنا چاہتی تھیں لیکن ابتہاج نے سختی سے منع کر دیا کہ وہ خود آجائے گا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ماما کو ذرا بھی تکلیف ہو ۔۔۔ آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد ابتہاج اپنے پیلس پہنچ چکا تھا جیسے ہی ابتہاج نے پہلا قدم رکھا صباء گردیزی کو اپنے انتظار میں پایا یہ ان کی ہمیشہ کی عادت تھی جب بھی ابتہاج واپس آتا وہ اس کا انتظار کرتی پائی جاتیں ۔۔۔۔ ابتہاج ماں کی محبت پر جتنا ناز کرتا کم تھا ۔۔۔ صباء بیگم نے ابتہاج کو سینے سے لگایا اس کی پیشانی چومی ابتہاج ان کو آبدیدہ ہوتا دیکھ جلدی سے ان کو لیے کاوچ پر بیٹھا اور اپنی فلائیٹ کے بارے میں بتاتے ان کا موڈ فریش کر گیا صباء بیگم نے اسے فریش ہونے کا کہا اور خود کھانا لگانے چلی گئیں ۔۔۔ ابتہاج نے جیسے ہی روم کا درواز ہ کھولا ۔۔۔ دی ہیون کی خوشبو اسے پورے کمرے میں پھیلی محسوس ہوئی ابتہاج کا کمرہ بلیک اینڈ گرے کامبینیشن میں ڈیکور کیا گیا تھا جہازی سائز بیڈ ۔۔۔ ساتھ بنی خوبصورت دیوار گیر الماری دیواروں پر گرے ہی پینٹ ۔۔۔ گلاس وال پر ڈلے خوبصورت بلیک کرٹنز ابتہاج کا روم پورے پیلس میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا ۔۔۔۔۔
ابتہاج فریش ہو کر نیچے آیا تو صباء بیگم کھانا لگا چکی تھیں انہوں نے ابتہاج کے پسند کی ساری ڈشز بنائی ۔ تھیں ابتہاج کو فش بریانی بے حد پسند تھی اس نے صباء بیگم کا شکریہ ادا کیا اور اپنے ساتھ ان کو بھی کھانا کھلانے لگا جانتا تھا کہ انہوں نے بھی کچھ نہیں کھایا ہو گا۔ ۔۔۔۔
_________
آج جمعے کا مبارک دن تھا دلاور صاحب نے آج کا نکاح مقرر کیا تھا ساری تیاریاں مکمل تھیں ابتہاج بھی بے حد خوش تھا اسے اپنی ماں کی پسند پسند تھی منیبہ بیگم مہمانوں کو دیکھ رہی تھیں ان کو برے برے خیالات ستا رہے تھے ان کا دل کہہ رہا تھا کچھ تو غلط ہونے والا ہے ۔۔۔۔ منیبہ بیگم نے اپنی گھبراہٹ کم کرنے کو ماہا کو ایک نظر صنم کو دیکھنے بھیجا ۔۔۔۔ ماہا جو آج گرے فراک پر ہوئی ہلکی سی کڑھائی اور بلیک ٹراوززیب تن کیے کافی خوبصورت لگ رہی تھی بلیک ہی کلر کا اسکارف اس کے چہرے کو الگ ہی خوشنما بنا رہا تھا ۔۔۔۔ ماہا کمرے میں آئی تو صنم کے ساتھ دلاور صاحب بیٹھے کچھ پیپرز پر سائن کر رہے تھے صنم بہت خوش دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔ دلاور صاحب نے دروازے پر کھڑی ماہا کو ایک نظر دیکھا اور صنم کا خیال رکھنے کا کہتے چلے گئے ۔۔۔۔۔ ماہا نے صنم سے پوچھا کہ یہ بابا کس چیز کے پیپرز سائن کر رہے تھے صنم بات کو گول کر گئی ۔۔۔ ابھی ماہا کچھ اور کہتی کہ بیوٹیشن کمرے میں آئی اور صنم کو چینج کرنے کا کہا ۔۔۔ ابتہاج نے اپنی پسند سے صنم کے لیے بلڈ ریڈ کلر لہنگا اور گولڈن دوپٹا جس کے کناروں پر خوبصورت کڑھائی کی گئی تھی وہ لیا ۔۔۔۔ وہ صنم کو اپنی پسند میں ڈھلتے دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔ صنم چینج کر کے آئی تو بیوٹیشن اور ماہا کے منہ سے اپنے لیے تعریفی کلمات سن کر تمسخرانہ ہنسی ہنسنے لگی یہ تو اس کا معمول تھا ہر کسی سے تعریف سننا بیوٹیشن کے ماہرانہ ہاتھوں نے اس کے نقوش کو مزید نکھار دیا تھا صنم بلڈ ریڈ لہنگے میں گولڈن آئی میک اپ ریڈ لپسٹک سے سجے یاقوتی لب نیز وہ کسی بھی مرد کا ایمان ڈگمگا سکتی تھی ۔۔۔۔ ماہا نے منیبہ بیگم کو بتایا کہ صنم ٹھیک ہے اور بہت پیاری لگ رہی ہے منیبہ بیگم نے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ابتہاج کی فیملی بھی آچکی تھی ابتہاج بلیک ڈنر سوٹ میں بہت وجیہہ لگ رہا تھا لڑکیوں کی نظریں اس پر سے ہٹ نہیں رہی تھیں ۔۔۔ کاشان گردیزی دلاور صاحب کے بغلگیر ہوئے اور ان کو نکاح شروع کرانے کا کہا ۔ دلاور صاحب نے منیبہ بیگم کو صنم۔ کو لانے کا کہا اور خود مولوی صاحب سے بات کرنے لگے ۔۔۔۔ دلاور صاحب بات کر ہی رہے تھے جب ماہا بھاگی ہوئی ان کے پاس آائی اور روتے ہوئے ان کو اندر چلنے کا کہا ۔۔۔۔۔ دلاور صاحب کو کسی بڑی انہونی کا احساس ہوا ۔۔۔۔۔ وہ بھاگنے کے انداز میں اندر آئے جہاں منیبہ بیگم سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔ دلاور صاحب نے ان کو ایک نظر دیکھا اور بولے کیا ہوا ہے صنم کہاں ہے ۔۔۔۔ منیبہ بیگم نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔ دلاور صاحب دھاڑے ۔۔۔۔ میِں پوچھتا ہوں کہاں ہے صنم ۔۔۔۔ منیبہ بیگم نے ان کی طرف پرچہ بڑھایا اور بولیں دیکھ لیں
دلاور صاحب نے کپکپاتے ہاتھوں سے پر چہ تھاما اور جیسے جیسے پڑھتے جا رہے تھےا ن کی رنگت زرد پڑتی جارہی تھی ۔۔۔۔۔
“ڈیڈ میں جانتی ہوں کہ میرے اس قدم سے آپ کو تکیلف ہو گی لیکن میں روکی کے بغیر نہیں رہ سکتی میں اس سےبہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔ اسی لیے آپ سے کہا تھا ۔۔۔۔۔ کہ میری شادی نہ کرائیں لیکن آپ نہ مانے مجبورا مجھے یہ قدم اٹھانا پڑے مجھے یقین ہے آپ مجھے سمجھے گے میں روکی کے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات کرنے جارہی ہوں امید ہے آپ مجھ سے بد گمان نہِیں یونگے آپ کی بیٹی ۔۔۔۔۔ صنم دلاور شاہ ۔۔۔۔۔
دلاور صاحب کی آنکھیں اس وقت خون برسا رہی تھیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں مفلوج ہو کر رہ گئی تھیں ۔۔۔۔ دلاور صاحب کی آنکھوں سے ضبط کے باوجود ایک آنسو ٹوٹ کر گرا ۔۔۔۔ احمد لغاری جو ان کے پیچھے ہی آئے تھے دوست کو اس حالت میں دیکھ کر تڑپ کر سہارا دیا اور کاغذ ان کے ہاتھ سے لیکر خود پڑھنے لگے ان کو دلی رنج ہوا صنم کے اس شدید عمل پر ۔۔۔۔ دلاور شاہ کی حالت اس وقت ہارے ہوئے جواری کی طرح تھی جس سے اس کا سب چھین لیا گیا ہو کاشان گردیزی نے ان کو حوصلہ دیا اور سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے بولے ۔ ۔دلاور یار میرے لیے تیری دونوں بیٹیاں برابر ہیں اگر صنم نہ سہی تو ۔۔ ماہا سہی میں اپنے ابتہاج کے لیے تیری ماہا کا ہاتھ مانگتا ہوں ۔۔۔۔ دلاور کے ساتھ ساتھ پیچھے آتے ۔۔۔۔۔ ابتہاج اور صباء بیگم نے بھی ششدر نظروں سے کاشان گردیزی کی طرف دیکھا ۔۔۔ ۔۔
دلاور صاحب نے آنکھیں میچ کر خود پر ضبط کیا ۔۔۔ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ بولتا ۔۔۔ ابتہاج کی بھاری آواز کمرے میں گونجی ڈیڈ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔ ۔
پر کاشان صاحب نے ابتہاج کی بات پر توجہ نہ دی اور بیوی اور بیٹے کو لیکر باہر آگئے اب فیصلے کا اختیار وہ دلاور کو سونپ آئے تھے ۔۔۔۔ دلاور شاہ نے ایک نظر پتھر بنی بیوی اور بیٹی پر ڈالی اور بولے کہ جلدی سے ماہا کو تیار کر کے لاو منیبہ ورنہ میرا مرا منہ دیکھو گی ۔۔۔۔ان۔ کی بات پر ماہا ساکت سی باپ کو دیکھے گئی کہ واقعی یہ میرا باپ ہے ۔۔۔ دلاور صاحب فیصلہ سنا کر کمرے سے جاچکے تھے
ماہا نے ماں۔ کی بہت منتیں کیں کہ وہ نہیں کرنا چاہتی یہ نکاح لیکن منیبہ بیگم مجبور تھیں ہمیشہ کی طرح شوہر کے آگے ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں صنم کی جگہ ماہا کو دلہن کی جگہ بٹھایا گیا ۔۔۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ ہوا کیا ہے ابتہاج بنا احتجاج کیے سختی سے لب بھینچے بیٹھا تھا
__________
ماہا دلاور ولد دلاور شاہ آپ کا نکاح ابتہاج گردیزی ولد کاشان گردیزی کے ساتھ ایک کڑوڑ حق مہر سکا رائج الوقت طے پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے “
ماہا کی سماعتیں مولوی صاحب کی بات سن کر ساکت ہو گئیں تھیں وہ ہر بات سے بے بہرہ ہو کہ جھٹکے سے سر اٹھا کر اپنے ماں باپ کو دیکھنے لگی
اکثر پگڑیوں کے فیصلے دوپٹوں کو بھگتنے پڑتے ہیں
کیا اس لیے اس سے عہد وپیمان لیے گئے تھے جسے وہ باپ کی محبت سمجھ رہی تھی وہ تو صرف اپنی بیٹی کے کیے کا بھگتان کرنے کے لیے ایک فریب تھا ماہا نے اپنی دکھتی آنکھیں باپ کے چہرے سے ہٹا کر ماں کی طرف دیکھا جن کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح ہارے ہوئے جواری کی جیسے تعصرات تھے ۔۔۔۔۔ ماہا نے تلخی سے مسکرا کر ماں باپ کو دیکھا ۔۔۔۔ پر دلاور صاحب تو جیسے ساری دنیا سے بے خبر ہوئے چہرے پر سختی لیے کھڑے تھے
دلاور صاحب نے ماہا کے جواب نہ دینے پر منیبہ بیگم کے کان میں کچھ کہا جسے سن کر ان کا رنگ لمحوں میں زرد پڑا آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہنے لگے
منیبہ بیگم تھکے قدموں سے ماہا کی طرف بڑھیں اور اس کے ہاتھ پر دباو بڑھا کر نکاح قبول کرنے کا کہا
مہر نے ایک نظر محض ایک نظر ۔۔۔ ماں کو دیکھا جن کی نظروں میں ایک التجا تھی مان تھا
مہر کو پتا ہی نہ چلا کیسے کب وہ اپنی زندگی ایک لمحے میں پردے کے اس پار موجود شخص کے نام کر بیٹھی
نکاح پر پوچھا گیا جب اس کی مرضی کا
تو کہنے لگی بابابہت خوش ہیں میرے
اب ابتہاج سے پوچھا گیا مولوی صاحب کے کلمات پر ابتہاج نے سختی سے مٹھیاں بھینچی اور سرد لہجے میں نکاح کے بول ادا کیے وہ بھی تو آج ٹوٹا تھا اس کا احساس کسی کو نہیں تھا
آج دو موتیں ہوئی تھیں دلاور صاحب کے یقین کی موت اور مہر دلاور کی محبت کی موت وہ چھوٹی سی لڑکی اپنی بہن کے قرض چکانے میں قربان کر دی گئی تھی یہ جانے بغیر کہ قسمت نے اس کے لیے کتنی ازیتیں لکھ رکھی ہیں ۔۔۔
