Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 08)Part 1,2
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 08)Part 1,2
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
ماہا اپنے کمرے میں بیٹھی ابتہاج کی شرٹ پریس کر رہی تھی جب اسے خود پر کسی کی چبھتی ہوئی نظریں محسوس ہوئیں ماہا نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں کوئی لڑکا آنکھوں میں عجیب سا تاثر لیے لبوں پر مسکراہٹ سجائے اسے دیکھنے میں مصروف تھا دیکھنے میں وہ کوئی بیس سال کا تھا لیکن اس کی سر خ و سفید رنگت چوڑا سینا اسے اپنی عمر سے زیادہ ہی بتا رہے تھے وہ خوبرو نوجوان پوری مہویت سے ماہا کوتکنے میں مصروف تھا دوسری طرف ماہا تو خوفزدہ نظروں سے اپنے کمرے میں کھڑے اس انجان لڑکے کو دیکھ رہی تھی ماہا بے دھیانی میں پیچھے مڑی اور استری اس کے ہاتھ پر جاگری ۔۔۔ ماہا کی چیخیں پورے پیلس میں گونج اٹھیں سمیر جو اسے دیکھنے میں مصروف تھا ماہا کی چیخوں پر ہوش میں آیا ماہا کو درد سے تڑپتے دیکھ سمیر آگے بڑھا اور اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔ ماہا نے سمیر کو قریب آتے دیکھ اپنی تھمتی سانسوں پر قابو پایا اور جھٹکے سے پیچھے ہوتی واش روم میں بند ہو گئی اس کی جان نکلتی جارہی تھی ۔۔۔۔ ناجانے کون تھا جع اس طرح منہ اٹھائے اس کے کمرے میں چلا آیا تھا کچھ ۔۔۔ عجیب تھا اس کی آنکھوں کی گہرائی ۔۔۔ کوئی بھی اسے دیکھتا لمحے کو ٹھٹھک جاتا ۔۔۔۔ ماہا واش روم میں بند تھی اس کی دبی دبی سسکیاں گونج رہی تھیں اسے اندازہ نہیں تھا کہ کہاں سے جلا ہے بس اپنے کردار کی پرواہ تھی کیونکہ اس وقت گھر میں سوائے ماہا کے کوئی موجود نہیں تھا ابتہاج اور کاشان صاحب میٹنگ کے لیے گئے ہوئے تھے ۔۔۔ اور صباء بیگم اپنی دوست کی عیادت کو ہسپتال گئی ہوئی تھیں ۔۔۔۔ ماہا کو بس یہی پریشانی کھائے جارہی تھی کہ ناجانے کون ہے وہ۔۔۔۔
سمیر باہر کھڑا حیرت سے واش روم کے دروازے کو دیکھ رہا تھا وہ بہت شوق سے امریکہ سے یہاں اپنے کزن سے ملنے آیا تھا اسے نوکر نے بتایا تھا کہ یہ ابتہاج کا کمرہ ہے وہ سیدھا وہیں چلا آیا لیکن یہاں کسی لڑکی کی موجودگی اس کے لیے حیرانی کا باعث تھی وہ ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ کون ہوسکتا ہے ۔۔۔ جب اس لڑکی نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور اپنا ہاتھ جلا بیٹھی ۔۔۔۔۔ اس کی پر کشش صورت نظروں سمیر کو بہت بھائی تھی اس کا ڈرنا سہمنا چھپنا اندر تک ہلچلل مچا گیا تھا ۔۔۔۔ پر کون تھی وہ ۔۔۔ اور اس طرح ابتہاج کے کمرے میں کیا کر رہی تھی سمیر سوچتا ہوا باہر آرہا تھ کہ ابتہاج سے ٹکرا گیا ۔۔۔۔ ابتہاج نے جیسے ہی نظر اٹھا کر سامنے دیکھا سمیر کو اپنے سامنے اپنے روم سے نکلتے دیکھ اس کے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا . . سمیر صباء بیگم کا اکلوتا بھانجا تھا ۔۔۔ جو آج کافی برسوں بعد صرف اب سے ملنے ہی یہاں آیا تھا ۔۔۔ ابتہاج نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا تو اک پل کو وہ گڑ بڑا گیا اور بولا ۔۔۔۔
“برو کیہاں تھی تھم ہم تمھارا ویٹ کھر ری تھی ۔۔۔ پر تمھارے روم میں کھوئی گرل ہے ۔۔۔ بوت کیوٹ ہے برو۔۔۔۔۔ “
سمیر اپنے انگریزی طرز میں کچھ اور بھی بول رہا تھا پر ابتہاج کی سوئیں تو صرف لڑکی پر اٹک گئی تھی یعنی وہ ماہا سے مل کر آرہا تھا یہ سوچ آتے ہی ابتہاج کے دماغ کی رگیں پھولنے لگیں ۔۔اس کی اہم میٹنگ تھی جس کی فائل وہ اپنے کمرے میں ہی چھوڑ آیا تھا وہ لینے آیا تو سمیر سے سامنا ہوگیا ۔۔۔ابتہاج ایک ہی جست میں اسے دھکا دیتا تیزی سے قدم اپنےکمرے کی طرف بڑھانے لگا
کمرے میں آتے ہی ابتہاج نے ہی ماہاکو آوازیں لگانا شروع کر دیں ناجانے کیوں. اس طرح سمیر کی زبان سے ماہا کے بارے میں سن کر اس کی سانسیں سلگنے لگیں تھیں ایک بھونچال سا دماغ میں آیا تھا جسے فلحال وہ سمجھنے سے قاصر تھا ۔۔
ماہا جو کب سے روتے ادھ موئی ہو گئی تھی ابتہاج کی آواز سن کر جیسے اس کے مردہ جسم میں کسی نے جان پھونک دی ہو ماہا لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے خود کو سنبھالتی باہر آئی ۔۔۔ اور ابتہاج کو اپنے سامنے پاکر اس کی آنکھیں بہنے لگیں ۔۔۔۔ ماہا اک لمحے کی بھی دیر کیے اس کی باہوں میں آسمائی ۔۔۔ ماہا کی حرکت پر جہاں ابتہاج کو حیرت کا شدید جھٙٹکا لگا وہیں اس کی ہچکیاں لیتے وجود نے اسے پریشان کر دیا ۔۔۔ ماہا دونوں ہاتھوں کو ابتہاج کی گردن کے گرد باندھے سسکیاں بھر رہی تھی ۔۔۔۔ اور بار بار یہی بول رہی تھی
“کہاں تھے آپ ۔۔۔ کہاں تھے ۔۔۔۔ ممممممیں ڈرررر گئییی تھیییی وہہہہہہ کوئی آیا تھا ہاں ۔۔۔ وہ ۔۔۔.
ماہا کا ہچکولے کھاتا نرم گداز وجود ابتہاج گردیزی کادل الگ لے پہ دھڑکایا تھا اک سرور سا اس کے جسم و جاں میں سما گیا تھا
ابتہاج اس نے اس کی کمر سہلائی گویا اپنے ہونے کا دلاسا دیا ہو . . اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے ماہا کو خاموش کرائے ماہا کا رونا اسے تکلیف میں مبتلا کر رہا تھا پر اس کا دماغ سب سوچنے سمجھنے کی کیفیت سے قاصر تھا ۔۔۔۔ ابتہاج نرمی سے ماہا کے بالوں کی جڑے سہلاتا اسے پر سکون کر گیا تھا ۔۔۔ اس کی نظر ماہا کے خوبصورت بالوں پر جمی ہوئی تھی ۔۔۔ ابتہاج کا دل چاہا ان گھٹاوں پر خود کو بکھرائے ان کی خوشبو وں میں بہک جائے ابتہاج نے نا محسوس انداز میں ماہا کے سر پر لب رکھے ۔۔ ۔ ایک بھر پور مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا تھا ناجانے کونسے جذبے کے تحت ابتہاج اسے باہوں میں لیے بیڈ پر لٹایا ماہا بنا پلکے جھپکائے ۔۔۔ ابتہاج کی جانب دیکھ رہی تھی جس کی سرخ آنکھیں ایک انکہی داستان بیان کر رہیں تھیں مغرور اناپرست ۔۔۔۔ خودغرض لیکن نفرت میں بے حساب شخص ماہا ابتہاج کی آنکھوں میں دیکھتی سوچ رہی تھی جب ابتہاج نے اس کی سرخ سوجی آنکھوں پر لب رکھ کر انہیں بوجھل کر گیا ۔۔۔۔۔۔۔ ماہا نے سختی سے ا س کی شرٹ کو مٹھیوں میں دبوچا وہ کہاں عادی تھی ان نرمیوں کی ان عنایتوں کی ۔۔۔۔ روح تک جیسے اک سکون کی لہر دوڑ گئی تھی دونوں دھڑکنیں پورے روم میں گونج رہی تھیں ۔۔۔ابتہاج بہک رہا تھا ماہا کے بھیگے سراپے نے ابتہاج کو مبہوت کر دیا تھا ابتہاج نے ماہا کی تھوڑی کے خم پر اپنے سلگتے لب رکھے ۔۔۔۔ سرور ہی سرور تھا اک دوسرے کی قربت تھی وہ بھی توپیاسی تھی شوہر کے قرب کی اس کی محبت و عزت کی ۔۔۔۔۔۔ اس نے تو ناجانے کتنی دعائیں مانگی تھیں اپنے رب سے ۔۔۔ محبت کا اصول ہے جب کسی بے مہر بے رحم سے ہوجائے تو فائدہ یا نقصان دکھائی نہیں دیتا صرف چاہتا اور چاہتے جانا یہ آرزو ۔۔۔ زور پکڑتی جاتی ہے ابتہاج کے لبوں نے ماہا کے گالوں پر پھول کھلائے محبت کے طلسم میں جکڑا ابتہاج بہکتے ماہا کے لبوں پر اپنی گرفت جما چکا تھا وہ کسی صحرا کی مانند تھا ۔۔۔ جس کی پیاس کا ادراک ماہا کر ہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔ ابتہاج کا دہکتا جھلساتا لمس ماہا کی سانسیں روک گیا تھا ماہا نے مزاحمت کرتے اپنے دونوں ہاتھ ابتہاج کے سینے پر رکھے پر ابتہاج مکمل مدہوش سا اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنی قید میں لے گیا ۔۔۔ ماہا اپنے ہاتھوں پر ابتہاج کی سخت گرفت پاکر سسک اٹھی اپنے چہرے پر ماہا کے آنسو محسوس کرکے ابتہاج ہوش میں آیا اور اس کی سیدھی نظر ماہا کے جلے ہاتھ پر پڑی ہاتھ کافی زیادہ جلا تھا ۔۔۔۔ابتہاج نے جلدی سے ڈرار سے آئنمنٹ نکالی اور بے حد نرمی سے ماہا کے زخموں پر لگانے لگا عجب انداز تھا مسیحائی کا ۔۔۔۔ درد اتنا دیتا کی روح تڑپ جاتی اور اب لمس میں جو نرمی تھی وہ کسی پگلی کے خواب کی مانند محسوس ہورہی تھی
کبھی جو بادل برسے میں
دیکھوں تجھے آنکھیں بھر کے
تو لگے مجھے پہلی بارش کی دعا
تیرے پہلو میں رہ لوں میں خود
کوپاگل کہہ لوں ۔۔ تو غم دے میں
خوشیاں سہہ ۔۔ لوں ساتھیا۔۔۔
ماہا کا دل بدل رہا تھا وہ ستمگر کی قید کی عادی ہو رہی تھی مگر کیا معلوم قمست کا کھیل ۔۔۔۔ کہاں لے جائے
پہلے کبھی نہ تونے مجھے غم دیا
پھر مجھے کیوں ۔ تنہا کر دیا
Part 2
ماہا تو بس اس کی نرمی میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔ ہر درد کا احساس مٹ سا گیا تھا پہلی بار دل کسی الگ لے پر دھڑکا تھا ایسا نہیں تھا کہ ابتہاج پہلے کبھی اسکے قریب نہیں آیا تھا لیکن آج تو ابتہاج کا ایک الگ ہی روپ سامنے آیا تھا ۔۔۔ یہ تو کوِئی اور ہی کئیرنگ سا ابتہاج تھا جس کے لیے اس کی بیوی کا ہر زخم معنی رکھتا تھا ماہا کی آنکھوں سے ٹوٹ کر دو آنسو بے مول ہوئے
جنہیں ابتہاج لغاری نظر انداز کر گی
“محبت کو اپنی جاگیر سمجھنے والے خالی ہاتھ ہی رہ جاتے ہیں ان کی قسمت میں فراق کے سوا کچھ نہیں آتا صرف وہ تنہائی کے ساتھی بن کر رہ جاتے ہیں ان کی روحیں پچھتاوں کی آگ میں ساری زندگی گزر جاتی ہے”
اور وہی ماہا نہیں چاہتی تھی وہ محبت چاہتی تھی اپنے شوہر کی اس کا ساتھ چاہتی تھی
ابتہاج کافی دیر سے خود پر ماہا کی نظریں محسوس کر رہا تھا پر کیا کہتا کہنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا۔ ۔۔۔ عجب بے قراری کا عالم تھا جس قدر پر شدت جذباتوں کا بہاو تھا اس سے زیادہ اابتہاج کا ذہن منتشر ہو چکا تھا وہ بنا کچھ بولے ماہا کو کمفرٹر اوڑھاتے باہر جانے لگا۔ ۔۔ ۔ پر ماہا نے سختی سے اس کا ہاتھ جکڑ لیا ابتہاج نے ماہامنت کرتی نگاہوں میں دیکھا جہاں اک خوف سا ہلکورے لے رہا تھا ابتہاج نے گہری سانس کھینچی اور خود سے بڑ بڑانے لگا
“یہ لڑکی میری جان لے کر رہے گی بیوقوف ۔۔
ابتہاج ماہا کے پاس بیٹھا اور اسے سمیر کے بارے میں بتانے لگا۔۔۔۔ماہا کے دل میں اطمینان ہوا لیکن وہ شرارتی سا لڑکا اس کی آنکھوں کی رنگت اسے ۔۔۔ ماہا کو لگا جیسے اس نے سمیر کو کہیں دیکھا ہو۔۔۔۔ پر وہ حیران اس بات پر تھی کہ ابتہاج نے اسے بتایا سمیر تو باہر ملک سے آیا ہے ماہا نے اپنا سر جھٹک کر ابتہاج کا تھاما ہاتھ ۔۔۔ اپنے قریب کیا اور دونوں ہاتھوں میں تھامے آنکھیں موند گئی
ابتہاج کو تو آج اس کی جرات پر جھٹکے لگ رہے تھے ۔۔۔۔ کیسے بے دھڑک وہ اپنا حق جتا رہی تھی ۔۔۔ لیکن ابتہاج کسی کمزور لمحے میں بہک کر اپنا نقصان نہیں کرنا چاہتا تھا جانتا تھا وہ نازک سی جان ابھی خوف کے زیر اثر ہے ورنہ کبھی اس کے اس قدر قریب نا آنے دیتی ۔۔۔۔ ماہا کی پیش قدمی نے پتھر میں دراڑ ڈالی تھی ۔۔۔ ابتہاج ماہا کی بھاری سانسیں محسوس کرتا گھڑی پر نظر ڈالنے لگا ۔۔۔۔ اور گھڑی پر نگاہ پڑتے ہی وہ بھونچکارہ گیا گھڑی دو کا ہندسہ عبور کر چکی تھی یعنی اسے آِئے تین گھنٹے ہو چکے تھے اسے آئے اور اسے احساس تک نہ ہوا ۔۔۔۔ ابتہاج ہولے سے ماہا کی پیشانی پر اپنا لمس چھوڑتا اٹھ گیا ۔۔۔۔ اور اپنے بابا کو کال ملانے لگا کاشان صاحب نے کال پک کرتے ہی اس سے میٹنگ پر نا آنے کی وجہ دریافت کی ان کا لہجہ کچھ شریر ساتھا جسے ابتہاج بخوبی محسوس کر رہا تھا۔۔۔
“بیٹا جی کونسی مصروفیات تھیں جو زندگی میں پہلی بار ابتہاج گردیزی کو وقت کا احساس تک نہ ہوا “
اک پل۔کو ابتہاج بھی ان کے سوال پر گڑبڑا گیا اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا جواب دے۔۔۔۔اس نے جھینپتے باپ کو سمیر کی آمد کا بتایا ۔۔۔ اور وضاحت دینے لگا۔۔۔
“ڈیڈ ۔۔۔ میں گھر آیا تو ۔۔ مجھے سمیر اپنے کمرے میں ہی ملا ماہا اس کی وجہ سے کافی ڈر گئی تھی تو میں نے سمیر کو ۔۔۔۔
ابتہاج اور بھی کچھ بول رہا تھا جب فون پرکاشان صاحب ۔۔۔ قہقہہ لگااٹھے ابتہاج کے صفائی دینے پر کاشان صاحب قہقہے لگا رہے تھے ان کے لیے یہ ابتہاج لو جھینپتے دیکھنا پہلا تجربہ تھا۔۔۔۔ ورنہ وہ کہاں کسی کے ہاتھ آنے والا تھا ابتہاج کو زیادہ تنگ نا کرتے انہوں نے میٹنگ کے ڈیلے ہونے کا بتایا اور کال کٹ کر دی ۔۔۔۔
ابتہاج نے باپ سے بات کرتے اپنا پسینہ پونچھا بڑی عجیب حالت تھی اس نے ایک نظر بیڈ پر بے سدھ ماہا پر ڈالی اور دل میں خود سے مخاطب ہوا
“یہ لڑکی مروا کر رہے گی ۔۔۔ ڈیڈ کے سامنے خوامخواہ شرمندہ کر دیا ناجانے ڈیڈ کیا سوچ رہے ہونگے میرے بارے میں “
ابتہاج نے کچھ میلز چیک کیے اور پھر فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔ ابتہاج فریش ہو کر آیا تو اسے نیچے سے اپنی مام کی آوازیں سنائی دی جو یقینا اپنے بھانجے سے گفتگو میں بیزی تھیں ۔۔۔ ابتہاج نے نفی میں سر ہلایا اور ڈریسنگ مرر کے سامنے آکھڑا ہوا۔۔۔ وائٹ کرتا شلوار ہاتھوں میں پہنی برینڈڈ گھڑی ،پیشانی ہر بکھرے بال ،عنابی لب ،خوشبووں میں مہکا وہ نیچے چلا آیا ۔۔۔ ابتہاج کی نظر سیدھا اپنی ماں کی گود میں سر رکھے سمیر پر پڑی جو اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو میں بولتا ۔۔۔ انہیں اپنی تعریفوں کے قصے سنا رہا تھا ۔۔
ابتہاج نے اونچی آواز میں سمیر کو مخاطب کیا اور بولا
“جی تو سمیر انگریزی بندر ،خوبصورت بد نیتے گدھے اپنے جنگل کو چھوڑ کر یہاں میرے گھر کیسے تشریف آوری کی ۔۔۔ کیسے ہیں تمہارے جنگل کے واسی ارے کہیں تمہاری “
ابتہاج چہرے پر دل جلانے والی مسکراہٹ سجائے اس سے مخاطب تھا
سمیر ہونقوں کی طرح ابتہاج کی شکل دیکھ رہا تھا اسے اردو کچھ خاک پلے تو نہ پڑتی تھی پر پھر بھی بیچارہ کوشش کرتا ۔۔۔ پر ابتہاج کے ۔۔۔۔ جملوں کا مطلب وہ بخوبی سمجھ گیاتھا
“بگ برو تھم پھسرے وہ ہو”
سمیر نے منہ پھلاتے ہوئے اس پر بم پھوڑا ابتہاج آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔ جب ماہا کے قہقہے پر ہوش میں آتا اسے سخت نظروں سے گھورنے لگا جیسے سارا قصور اس کا ہے
ماہا کی من موہنی صورت دلکش ہنسی ابتہاج کے روم روم میں سرور بھر گئی تھی پر وہیں سمیر کے دھماکے نے اس کے چودہ تبک روشن کر دیے تھے
سمیر رررررر جنگلی آدمی ۔۔۔ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔۔۔سب کی دبی دبی ہنسی محسوس کرکے ابتہاج اپنے ازلی انداز میں دہاڑا۔۔۔
سمیر منہ پھلائے اسے دیکھ کر بولا برو کیا ہوئی ہے ۔۔۔ تھم اینگری کیوں ہو ۔۔۔ میں نی کہا کہ تم پھسرے یار۔۔۔ وہ کہیا کیتے ہیں ہاں کمپلیٹ کواردو میں ۔۔۔۔ وہ دماغ پر زور ڈالتے ہوئے سوچنے لگا
اک بار پھر پورا لاونج قہقوں سے گونج اٹھا اب کی بار ابتہاج نے بھی ساتھ دیا۔۔۔۔
انگریزی بندر وہ پورے ہوتا ہے اللہ معاف کرے میرا جینڈر ہی تبدیل کر دیا ۔۔۔ ابتہاج اپنی ہنسی پر قابو پاتے ہوئے بولا صباء بیگم نماز پڑھنے جا چکی تھیں ۔۔۔
ماہا نے خود پر نظروں کی تپش محسوس کی ۔۔۔ پر وہ سر اٹھا کر دیکھنے کی ہمت خود میں مفقود پاتی کچن کی طرف بڑھ گئی اس کی آنکھ بھوک کے احساس سے کچھ دیر پہلے ہی کھلی تھی ۔۔۔۔ ماہا کچھ کھانے کا سوچتی کچن میں چلی آئی اس کا خیال تھا کہ اب تک تو ابتہاج جا چکا ہو گا۔۔۔۔ ابتہاج کی موجودگی اس کے لیے الگ ہی امتحان تھی . .
ماہا نے سب کچھ پس پشت ڈال کر کچن کا رخ کیا اور کچھ کھانے کو بنانے لگی ۔
