Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 27)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 27)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
ماہا بہت ماروں گی اب ۔۔۔۔۔۔خاموشی سے کھانا کھاؤ…. صنم ماہا کے ہاتھ پکڑتے اسے ڈانٹنے کے سے انداز میں بولی تو ماہا نے ہاتھ میں پکڑے گلاس کو مضبوطی سے تھامے اپنے سامنے بیٹھے صالح اور صنم کو دیکھا ۔۔۔۔۔ ۔
مجھے نہیں کھانا نہیں کھانا نہیں کھانا۔۔۔تم سب کے سب گندے ہو برے ہو تم لوگ ۔۔۔۔ میں ابتہاج کو بتاوں گی مجھے سب مارتے ہیں ۔۔ ڈانٹتے بھی ہیں۔۔ ہاتھ میں پکڑے شیشے کے گلاس کو زور سے فرش پہ پھینکتے وہ زور زور سے رونے لگی تو صنم نے ڈرتے اپنے چہرے پر بےبسی سے ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔
وہ چاہے جتنی بھی کوشش کر لیتی ماہا کی سوئی ابتہاج پر ہی اٹک جاتی تھی وہ خود کو اسکی یادوں سے نکالنا ہی نہیں چاہ رہی تھی جبھی تو اتنا سب کچھ ہو رہا تھا اسکے ساتھ مگر اسے ناں تو اپنی پرواہ تھی اپنے اندر سانس لیتے اس ننھے وجود کی۔۔۔۔۔
مممم ماہا ۔۔۔۔۔ واپس آؤ میری جان ماہا۔۔۔۔۔” اسے روتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب جاتا دیکھ صنم نے بے بسی سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینجتے میز پر پڑے اس کھانے کو دیکھا ۔ صنم یار تم تو کھاو پہلے پھر اسے بھی کھلا لیں گے۔۔۔۔” صالح اسے کندھوں سے تھامتے محبت سے بولا تھا مگر صنم کا دل ماہا کو ڈانٹنے اور اپنی وجہ سے اسے روتا دیکھ اب اچاٹ سا ہو گیا تھا ۔۔
مجھے نہیں کھانا کچھ بھی زہر لا دیں وہی کھا لوں ۔۔ تاکہ سکون سے مر تو سکوں گی۔۔۔ ” وہ غصے سے اپنا آپ چھڑواتی روتے ہوئے تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی صالح نے جبڑے بھینجتے اپنے غصے اور خود پر کنٹرول کیا تھا ۔۔۔۔ اس کا بس نہیں تھا کہ وہ ابھی جا کر صنم کا دماغ ٹھکانے لگاتا۔۔۔۔۔
مگر اسکی کنڈیشن اوپر سے ماہا کی ذہنی حالت کی وجہ سے وہ مزید چڑچری سی ہو گئی تھی ۔۔۔۔ میڈم کے نخرے ہیں سب ہمیشہ کی طرح اب بھی مجھے ہی کھلانا پڑے گا ۔ وہ سر نفی میں ہلائے پلیٹ میں کھانا ڈالتے اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔ ۔ واشروم کے ب بند ڈور کو دیکھ اسنے کھانا میز پر رکھا ۔۔
صنم ٹاول سے چہرہ صاف کرتے باہر نکلی تو سامنے ہی صالح متفکر سا چکر کاٹتے گھوم رہا تھا ۔۔ صنم نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں جو بھی تھا اسے صالح سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی وہ تو خود سے بھی زیادہ خیال رکھتا تھا صنم کا ۔۔۔ صص صالح ۔۔۔۔ اپنی جانب بڑھتے صالح کو دیکھتے صنم نے جلدی سے اسے پکارا جسکے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ۔۔۔۔
صالح ان سنا کیے اسے بازو سے پکڑتے ساتھ لیے بیڈ کی جانب بڑھا تھا اور نرمی سے اسے بٹھائے وہ ٹرے اٹھائے اپنے ہاتھوں سے اسے کھانا کھلانے لگا ۔۔۔۔۔اسکے چہرے پر پھیلی سرد مہری صنم کو اپنے آگے پیچھے خطرے کی گھنٹیاں بجتی محسوس ہوئی تھی ۔ وہ بشمکل سے اسکے قہر سے بچنے کو خاموشی سے کھانا کھا رہی تھی۔
صصص صالح بس۔۔۔۔۔” دوچار نوالوں کے بعد صنم نے ڈرتے اسکے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے کہا تھا۔۔۔ صالح نے سرخ نظروں سے اسے دیکھا اور پھر گہرا سانس فضا میں خارج کرتے وہ اٹھتے ٹرے لیے باہر کچن کی جانب بڑھا تھا ۔۔ باہر شدید برفباری ہو رہی تھی۔۔ صنم نے کھڑکی سے پردہ کھسکاتے باہر کے موسم کا جائزہ لیا اور پھر جلدی سے پردہ برابر کیے وہ ہیٹر آن کیے بستر پر جاتے لیٹتے ہاتھ آنکھوں پر رکھے سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
آہ صص صالح ۔ ۔۔۔۔۔” ایک دم سے صالح نے اسکے وجود سے بلینکٹ کھینچتے بیڈ سے نیچے پھینکا تو صنم کی خوف سے چیخ نکلی تھی وہ ڈرتی ہراساں نظروں سے صالح کو دیکھنے لگی جس کی آنکھوں سے غصے سے شعلے لپک رہے تھے ۔۔۔۔ زہر کھانا ہے تمہیں ۔۔ ۔۔ ” صنم۔کی ٹانگ کو پکڑتے اسسنے سختی سے اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ کھینچتے اسکے گھٹنے سے جا لگی ۔۔۔۔ صالح کا ایک پاؤں جو بیڈ کے اوپر تھا صالح نے اپنے ہاتھ میں صنم کا چہرہ دبوچتے آج پھر کافی عرصے بعد بےتاثر لہجے میں پوچھا تو صنم ڈر سے لرز کے رہ گئی۔۔۔
آج پھر سے صالح کا وہی سرد روہٹ اسکے سامنے اتنے مہینوں بعد آیا تھا جس سے وہ بری طرح سے ڈرتی تھی ۔۔ ” بہت شوق ہے ناں تمہیں مرنے کا۔۔۔۔۔ صالح نے سختی سے اسکے قریب چہرہ لے جاتے سفاکی سے کہا تو صنم نے تھوک نگلتے اپنے خشک خلق کو تر کیا۔۔۔۔۔۔ صص صالح پپپ پلیز سوری آئی نو مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا آپ کو ہرٹ کیا میں نے پلیز سوری ۔۔ وہ روتے ہوئے منت کرتے اس سے معافی مانگنے لگی۔۔۔صالح کی سرد نظریں اسکے رونے سے سرخ پڑتے چہرے پر تھیں وہ بغور اسکا قاتل روپ دیکھ رہا تھا ۔۔
صالح نے بےیودی سے اسکے کانپتے سرخ ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کیا تو صنم نے اسکے لمس پر آنکھیں بند کرتے اسکے گھٹنے پر مضبوطی سے اپنے دونوں ہاتھ رکھے ۔۔۔۔ صالح کے لمس میں وخشت تھی جنون ایک شدت ۔۔۔۔۔ صنم کو لگا کہ اج وہ اگلا سانس بھی نہیں لے پائے گی ۔۔۔۔۔ جب سے وہ ماں بننے والی تھی صالح کی شدتوں میں نرمی آئی تھی وہ اسے چھوتے ہوئے بھی اسکا خیال رکھتا تھا ۔۔۔
مگر آج صنم کو اسکی شدت پر اپنا آپ ختم ہوتا محسوس ہو رہا تھا جو کسی بادل کی مانند اس پہ سایہ کیے اسکی خوشبو کو خود میں انڈیل رہا تھا ۔۔۔ صنم نے سانس اٹکنے پر اپنے ہاتھ اسکے گھٹنوں پر مضبوطی سے مارے تو صالح نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی دیے صنم کو دیکھتا اپنی شرٹ اتارنے لگا۔۔۔
صنم کے خوف میں اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔وہ ڈرتی سر کو نفی میں ہلانے لگی ۔۔ نن۔ نہیں صالح پلیز نہیں۔۔۔۔۔وہ روتے ہوئے اسے خود سے دور کرنے لگی کہ صالح نے اسے کھینچتے بیڈ پر لٹایا ۔۔۔۔۔ ” شٹ اپ۔۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ میں تمیں اتنی آسانی سے مرنے دوں گا۔۔۔ تمہارے لفظوں نے جو خوف میرے اندر پھیلایا ہے اسے تم ہی ختم کرو گی اب۔۔۔۔ صالح نے جھکتے اسکی گردن کو شدت سے چھوتے اسکے کان میں۔ سرگوشی کی تو صنم نے لب بھینجتے خود پر جھکے صالح کی پشت کو دیکھا ۔۔۔۔
صنم جانتی تھی وہ اسے کبھی بھی تکلیف نہیں دے سکتا ۔۔۔۔ ہاں مگر وہ اپنی وخشتیں ضرور اسکے وجود سے ختم کر رہا تھا ۔۔۔۔۔ رفتہ رفتہ اسکے لمس میں وہی پہلے والی نرمی دھر آئی تھی صنم اسکی قربت میںں اپنا آپ اسے سونپتے آسودگی سے آنکھیں بند کر گئی۔۔۔
____________
اشششششش______ آواز نہیں۔۔۔۔ اسکی خوف سے پھیلی آنکھوں میں دیکھتے مقابل نے اپنی شہادت کی انگلی اسکے سامنے لہراتے سرخ نظروں سے بوجھل بھاری لہجے میں کہا تو ماہا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی ۔ اسے ایسا لگا جیسے یہ شخص اسے ابھی مار دے گا۔۔۔ ماہا نے اسکی بڑھی ہوئی داڑھی کو دیکھتے تھوک نگلتے فوراً سے گردن ہاں میں ہلائی تو مقابل اسکے قریب تر بیٹھے شخص نے ماہا کے چہرے کو دیکھتے جھکتے اسکی شہہ رگ پر ہونٹ رکھے تو ماہا نے سسکتے خوف سے ابتہاج کو پکارا۔۔۔
اسکی گردن پر اپنا دہکتا لمس چھوڑتے مقابل نے بغور یہ الفاظ سنے تھے ۔۔۔۔ کس کس کو بتایا میرے بارے میں۔۔۔۔۔۔ وہ اب انہماک سے ماہا کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ ریا تھا۔۔۔۔ماہا نے جھٹ سے سر نا میں ہلا دیا کہ میں نے کسی جو کچھ نہیں بتایا۔۔۔۔۔۔ میں نے کسی کو نہیں بتایا مگر اب تم نے پھر سے مجھے تنگ کیا ناں تو میں ، میں ابتہاج کو بتاوں گی وہ مارے گا تمہیں۔۔۔۔” اپنے چہرے پر بکھرتے بالوں کو پیچھے کرتے وہ اسے ڈرانے کے سے انداز میں بولی تھی ۔
مقابل نے بغور اسے گھورا ۔۔۔جو اسے ڈرا رہی تھی۔۔۔ ” ماہا فورا سے بھاگتے باہر جانے لگی تاکہ۔صالح اور صنم۔کو بلا کر لائے انہیں بتائے کہ ماہا نے جھوٹ نہیں بولا تھا سچ میں کوئی تھا جو اسکے کمرے میں روز آتا تھا۔۔۔۔ اسے باہر کی جانب جاتا دیکھ مقابل نے اٹھتے اسکے قریب ہوتے اسکے بازو کو تھماتے جھٹکے سے اپنی جانب کھینچا تو ماہا ایک دم سے چیختے اسے خور سے دور کرنے لگی۔۔۔۔
ماہا کو پھر سے چیختا دیکھ مقابل نے کھینچتے اسے سینے سے لگائے اسکے ہونٹوں کو قید کیا تو وہ خوف سے تیز تیز دھڑکتے دل سے آنکھیں پھیلائے اس عجیب سے شخص کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ جو روز اپنی من مانیاں کرتے اس معصوم کو تکلیف دیتا تھا۔۔۔۔۔۔ ماہا کی آنکھوں میںں آنسوں کی جھلکتی نمی کو دیکھتے مقابل نے دھیرے سے اپنا لمس اسکے ہونٹوں پر چھوڑا اور اسے نرمی سے گود میں اٹھائے وہ چلتا بیڈ کے قریب جاتے اسے بیڈ پر ڈالے بلینکٹ کھینچتے اس پر دیے اسکے قریب ںیٹھا۔۔۔
” کل رات تم گھر سے باہر کیوں نکلی تھی۔۔۔ اسے آنکھیں بند کیے تیزی سے سانس لیتا دیکھ مقابل نے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو سہلاتے پوچھا تو وہ پٹ سے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی وہ تو ابتہاج کو ڈھونڈنے گئی تھی مگر پھر اس شخص کو کیسے پتہ چلا۔۔۔ اسنے فورا سے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے اس شخص کو دیکھا۔ ۔
مممم مجھے ابتہاج نے بلایا تھا ۔۔۔ وہ معصومیت سے اپنی آنکھوں کو صاف کرتے بولی تو مقابل کے ماتھے پر ڈھیروں بل نمودار ہوئے۔۔۔۔۔ ” آج کے بعد اگر تم رات کو گھر سے نکلی تو اچھا نہیں ہو گا ۔۔۔۔۔۔” اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھتے وہ چہرہ اسکے قریب لے جاتے دھیمی مگر سرد آواز میں بولا تو یخ بستہ ٹھنڈ میں بھی ماہا کا وجود پسینہ سے شرابور ہونے لگا ۔۔۔
” نن نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔۔ ماہا نے فورا سے سہمتے گردن ناں میں ہلاتے کہا تو مقابل نے سرد سانس فضا میں خارج کرتے اسکی سہمی ہرن جیسی نظروں میں دیکھا۔۔۔ اگر کسی کے سامنے میرا زکر کیا تو ۔۔۔۔ننن نہیں کروں گی پکا نہیں کروں گی۔۔۔۔”
اسکی بات کاٹتے وہ اسے پکا یقین دلاتے بولی تو مقابل نے نرمی سے اسکے رخسار کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلایا ۔۔۔ ماہا اسکے عجیب سے سخت کھردرے ہاتھ کے لمس پر سانس روکے پڑی تھی۔۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر تک وہی عمل دہراتے وہ اسکی نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں میں دیکھتا کھڑکی کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔
________________
صنم تم نے رات کو مجھے کھانا نہیں کھلایا تھا ۔۔۔ صالح کو بریک فاسٹ سرو کرتی صنم جو کہ ڈارک بلیو کلر کے خوبصورت سوٹ میں ملبوس تھی ۔۔ ماہا کی آواز پر اس نے حیرت سے مڑتے سیڑھیوں سے بےترتیب سے الجھے حلیے میں اترتی ماہا کو دیکھ گہرا سانس نفی میں خارج کرتے تاسف سے صالح کو دیکھا جو ماہا کے جھوٹ پر ہنسنے لگا۔۔۔۔۔
میڈم میں آئی تھی آپ کے پاس مگر آپ گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی اور آپ کے رائٹ سائڈ کے ٹیبل پر ایک پلیٹ پڑی تھی جو کہ حالی تھی ۔۔ اس میں جو کھانا تھا وہ کدھر گیا۔۔۔۔وہ اب اسکے پاس جاتی کرسی کی پشت پر لٹکائے اپنے سویٹر کو اٹھائے ماہا کے دائیں ہاتھ پکڑے اسے پہناتے ساتھ ہی پوچھ رہی تھی۔۔۔۔
ماہا نے آنکھیں اوپر کیے گہری سوچ میں جاتے سوچا تو اسے یاد آیا تھا ۔۔۔ہاں تو مگر وہ میں نے نہیں کھایا تھا۔۔۔۔ وہ یاد کرتے ساتھ ہی بولی تو جوس کا سپ لگاتے صالح نے بغور ان دونوں بہنوں کو دیکھا۔۔۔۔ اچھا تو پھر کس نے کھایا تھا۔۔۔۔” ماہا کے سویٹر کے بٹن لگاتے صنم نے ایبرو آجاتے پوچھا ۔۔۔
وہ تو بے بی کو بھوک لگی تھی اس نے کہا کہ مجھے کھانا کھانا ہے اس لیے میں نے کھایا مگر اب دیکھو میں نے کچھ نہیں کھایا آں آں۔۔۔۔وہ منہ کھولتے ساتھ ہی اسے صفائی دینے لگی کہ اس نے نہیں بلکہ بے بی نے کھانا کھایا تھا ۔۔ ماہا کے یوں اچانک سے کہنے پر صالح جو سکون سے جوس پی رہا تھا ایک دم سے اسے اچھوکا لگا تھا ۔۔۔وہ بری طرح سے کھانستا سرخ چہرے سے صنم کو گھور رہا تھا ۔۔ جس نے بار بار ماہا کے سامنے بے بی کا ذکر کرتے اس کے دماغ میں یہ بات فٹ کر دی تھی۔۔۔
اچھا چلو ٹھیک ہے تم چلو میرے ساتھ آؤ میں اپنے ہاتھوں سے اپنی شہزادی کو کھانا کھلاؤں گی۔۔۔۔۔ صنم نے بات بدلتے اپنا کیچر اتارتے ماہا کے بال سمیٹے اور کرسی پر رکھا سٹالر اٹھائے اچھے سے ماہا کو پہنایا۔۔۔۔ یہ صنم کا روز کا معمول تھا وہ ایسے ہی اسکا کسی چھوٹے بچے کی طرح خیال رکھتی تھی۔۔۔۔ صنم نے آگے بڑھتے اسکی پیشانی پر لب رکھتے اسکا ہاتھ تھاما تھا ۔۔۔
صنم مجھے شہزادی مت کہا کرو ۔۔۔۔” چئیر پر بیٹھتے ماہا نے پھر سے شوشہ چھوڑا تو صالح نے ان دونوں بہنوں کو نظر انداز کرتے اپنے کب سے بجتے موبائل کو نکالتے میسجز چیک کیے۔۔۔ کیوں نہیں کہہ سکتی میں شہزادی اپنی شہزادی بہن کو شہزادی ہی تو کہوں گی۔۔۔ اسکے ساتھ والی چئیر گھیسٹتے صنم اسکے قریب بیٹھتے بولی۔۔۔
کیونکہ میں صرف ابتہاج کی شہزادی ہوں اور میرے شہزادے کے علاؤہ مجھے کوئی بھی شہزادی نہیں کہہ سکتا۔ ” ماہا نے خود سے گلاس میں جوس انڈیلتے صنم کو آگاہ کیا تو صنم اسکی پھر سے وہی رٹ سنتے بشمکل سے خود پر ضبط کر سکی ۔۔ صالح نے افسوس سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھا ۔۔اسے رشک ہو رہا تھا آج ابتہاج کی قسمت پر۔۔۔۔ بے شک وہ نہیں رہا تھا اس دنیا میں مگر اسکی چاہت میں پاگل یہ دیوانی لڑکی اسکی تو دنیا آج بھی اسی کے ارد گرد گھومتی تھی۔۔ صالح سمجھ ناں سکا کہ ماہا کی محبت کس حد تک گہری تھی ابتہاج کیلئے۔۔۔۔۔ مگر اسکی آنکھوں میں رشک کے تاثرات ضرور تھے۔۔۔۔
اچانک سے دروازے پر ہوتی بیل نے صالح کا دھیان بھٹکایا تھا۔۔۔۔ میں دیکھتا ہوں تم آرام سے ناشتہ کرو۔۔۔۔ صنم جو ماہا کو کھانا کھلانے بیٹھی تھی بدلے میں ماہا خود ہی اسے کھلا رہی تھی۔۔۔اسکا کہنا تھا کہ آج وہ اسے کھلائے گی کیونکہ ماہا کو پتہ تھا کہ صنم کھانا نہیں کھاتی تھی اور اس کا بے بی تو زیادہ بڑا تھا ماہا کے بے بی سے۔۔۔۔اسی وجہ سے آج صنم اپنی ہی بتائی باتوں میں بری طرح سے پھنسی اسکے پاس بیٹھی تھی جو اسے زبردستی کھلا رہی تھی۔۔ صنم کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا کیونکہ وہ اتنا ہیوی ناشتہ نہیں کرتی تھی مگر صالح اسکی حالت سے کافی پرسکون تھا۔۔۔اخر کار اسکی سالی نے آج اسکی نکمی بیوی کو قابو جو کر لیا تھا ۔۔۔
صالح آپ بیٹھیں ناں مجھے دیکھنے دیں۔۔۔۔ ماہا کے ہاتھ کو پیچھے کرتے وہ منت بھرے لہجے میں بولی اسکا اشارہ یہاں سے بھاگنے کا تھا کیونکہ ایسے تو ماہا اسے چھوڑنے سے رہی۔۔۔۔۔ نہیں میری جان تم نے سنا نہیں ہمارا بےبی زیادہ بڑا ہے اور اسکو زیادہ کھانے کی ضرورت بھی ہے تو پھر ماہا اپنی بہن کو کافی اچھے سے کھلاو اسے کافی زیادہ صحت بنانے کی ضرورت ہے۔۔
وہ اسے رات کے واقعے کی جانب سے چھیڑتے ہوئے بولا تو صنم نے اسکی بے باکی پر اپنا ایک دم سے لال پڑتا چہرہ جھکایا۔۔۔۔
ماہا صنم۔دیکھو کون آیا ہے۔۔۔۔۔؟ صالح کی پرجوش آواز پر ماہا اور صنم دونوں نے ہی مڑتے دروازے کی جانب دیکھا جہاں بلیک اوور کوٹ میںں ملبوس چہرے پر تھکاوٹ کے واضح تاثرات لیے وہ کوئی اور نہیں دلاور صاحب تھے۔۔۔ ماہا کے چہرے کے تاثرات بدل سے گئے تھے۔۔جبکہ صنم خوشی سے دوڑتے انکے قریب جاتے انکے سینے سے لگی۔۔۔
پاپا کیسے ہیں آپ۔۔۔۔ !” صنم نے محبت سے پوچھا تھا۔۔۔ٹھیک ہوں ۔۔۔ ” انتہائی روکھے لہجے میں اسے جواب دیتے دلاور صاحب جو ماہا کو دیکھ رہے تھے فورا سے پیشتر صنم کو خود سے دور کیے ماہا کی جانب بڑھے تھے۔۔ ماہا عجیب سے تاثرات سے انہیں دیکھتی جھٹکے سے اٹھتے اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔۔۔
میں آتا ہوں۔۔۔۔۔” صالح اور صنم کینجانب دیکھتے وہ اداسی سے بولتے اوپر ماہا کے کمرے کی جانب بڑھے تھے۔۔ ماہا۔۔۔۔ میری بچی۔۔۔۔۔۔ ” دلاور صاحب تڑپتے ہوئے اسکے قریب پہنچے تھے جو بیڈ کے پاس نیچے بے ترتیب حلیے میں بیٹھی تھی اسکا سر گھٹنوں کے اوپر ٹکا تھا وہ یقینا کسی گہری سوچ میں مبتلا تھی ۔۔۔۔
اسکی حالت دلاور شاہ کو مزید بے چین کر گئی تھی وہ آگے ہی شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں تھے دن رات صرف ایک ہی خیال ایک ہی سوچ انہیں بے چین رکھتی تھی کہ ماہا کی یہ حالت صرف اور صرف ان کی وجہ سے تھی۔۔۔۔۔ وہ چلتے اسکے قریب جاتے گھٹنوں کے بل بیٹھے اور اپنے کپکپاتے ہاتھ اسکے سر پر رکھے۔۔۔۔۔۔ ماہا نے ویران نظروں سے انکی نم آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔
اپنے پاپا سے بات نہیں کرو گی۔۔۔ آج انہیں محسوس ہوا تھا کہ جب والدین اپنے بچوں سے نفرت کریں تو ان بچوں کے دل پر کیا بیتتا ہے کیونکہ آج اپنی معصوم بچی کے پاس بیٹھے ہوئے بھی وہ اسکی خاموشی سے جانے کتنی بار مرے تھے ۔۔ یہ گہری خاموشی انہیں مزید تنگ کرنے لگی جبھی وہ تیزی سے اٹھتے وہاں سے بھاگے تھے۔۔۔۔
صالح اور صنم نے روکنا چاہا تھا مگر وہ ہمیشہ کی طرح ہی اپنے آنسوں چھپاتے وہاں سے چلے گئے۔۔
________________
رات کے تاریک اندھیرے میں وہ آنکھیں پھیلائے بغور اپنے اردگرد دیکھتے دھیرے دھیرے سے قدم اٹھائے آگے بڑھ رہی تھی ۔۔۔۔ ماہا کے گھنے سیاہ بال اسکی گردن کے دونوں اطراف پر ڈھلکے پڑے تھے ۔۔۔ وہ مڑتے ایک نظر گھر کو دیکھ تیزی سے باہر نکلی تھی۔۔۔ شام کے وقت ہوئی ہلکی برفباری کی وجہ سے موسم کافی خوشگوار اور سرد بھی تھا۔۔۔
وہ تیز تیز قدم لیتے کافی آگے بڑھ آئی تھی۔۔۔ ارے یار سامنے دیکھ۔۔۔۔۔۔” ماہا جو کہ ایک جانب گلی میں داخل ہوتے ابتہاج کو آوازیں لگا رہی تھی اس کی آوازوں پر وہاں بیٹھے کچھ لوفر لڑکے جو ڈرنک کر رہے تھے ان میں سے ایک۔نے مڑتے اسکے نازک سراپے کھلے بالوں کو دیکھتے سب کو پیچھے گلی کی جانب متوجہ کیا تھا وہ سب سڑک کی بائیں جانے بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ماہا دائی جانب سے مڑتے گلی میں داخل ہوئی تھی۔۔
ابتہاج۔۔۔۔۔ لگتا ہے کہ چھپ گئے ہیں مگر کوئی بات نہیں میں ڈھونڈ لوں گی۔۔۔ وہ خود سے ہی اسکا تصور کرتے کہتے ساتھ آگے بڑھی۔۔۔
چلو یار اتنا اچھا موقع ہے چلو انجوائے کریں ان میں سے ایک نے قہقہ لگاتے سب کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی وہ سب بھی قہقہ لگاتے اس کے ساتھ چل پڑے ، کسے ڈھونڈ رہی ہیں آپ میڈم ۔ ہمیں بتائیں ہو سکتا کے ہم آپ کی کوئی مدد کر سکیں ۔ کیا آپ لوگ میری مدد کر سکتے ہیں مجھے نہ اپنے ابتہاج کے پاس جانا ہے کوئی مجھے لے کر نہیں جا رہا۔۔۔؟
کیا آپ لوگ لے جائیں گے اسکے پاس۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے کہ وہ بھی مجھے ڈھونڈ رہا ہو گا ۔ وہ بھی نہیں رہ سکتا میرے بغیر۔۔۔۔۔ اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو میں لائے وہ معصومیت سے بولی تو سب ہی خباثت سے ہنستے اسکے آگے پیچھے چکر کاٹنے لگے۔۔۔۔
ضرور پیاری ہم ضرور لے چکیں گے تم کو تمہارے ابتہاج کے پاس۔۔۔۔۔ان میں سے ایک نے ماہا کے بالوں کو چھوتے محبت سے کہا تو باقیوں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی ۔اچھا تو چلو پھر چلتے ہیں ان میں سے ایک نے ماہا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے دبوچتے شیطانیت سے اسکے معصوم چہرے کو دیکھتے کہا تھا۔۔۔ ماہا کو اسکی گرفت پر اپنے ہاتھ میںں درد سا ہونے لگا مگر وہ سرد تاثرات سے اسے ساتھ کٹے جاتے قہقہے لگا رہے تھے ۔۔۔
اوئے کون ہے توں سالے۔۔۔۔۔” اپنے راستے میں اس عجیب سے حلیے میں کھڑے شخص کو گھورے وہ سب ہی غصے سے بولے ۔۔۔۔ مگر مقابل پر کوئ اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ یونہی آنکھوں میں وخشت کے تاثرات لیے انہیں گھورتا اب ان میں سے ایک کے ہاتھ میں موجود ماہا کے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ پیچھے ہٹو ہمیں لڑکی کو ابتہاج کے پاس لے کر جانا ہے اسکے تاثرات کو دیکھتا ایک آگے بڑھتے نرمی سے بولا۔۔
ہاں ہاں ہم ابہتاج سے ملنے جا رہے ہیں۔ تم سائڈ ہو جاؤ۔۔۔ ماہا نے بیچ میں بولتے اس شخص کو غصے سے گھورا جو روز رات کو اسکے کمرے میں آتا تھا۔۔۔۔ دیکھ بھائی اب تو لڑکی نے بھی کہہ دیا چل۔اب پیچھے ہٹ ۔۔۔۔۔۔ماہا کا ہاتھ تھامے کھڑا وہ لڑکا اس سارے ڈرامے سے بےزار ہوتے چلتا ابتہاج کے قریب آیا تھا۔۔۔ اور اسکے سینے پر دباؤ دیتے وہ اسے دور کرنے لگا۔۔۔ مقابل نے ماہا کو آنکھوں میں سموئے ایک دم سے اپنے بھاری ہاتھ سے اسکے چہرے پر مکہ رسید کیا کہ وہ درد سے کراہتا نیچے کو گرا تھا ۔۔۔
اس کے منہ سے ابلتے خون کو دیکھ وہ سبھی ڈرتے واپس بھاگے تھے۔۔۔۔ ماہا خوف سے سہمی نظروں سے اپنی جاب بڑھتے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔
داڑھی والے ڈاکو جی مجھے چھوڑ دیں پلیز۔۔۔۔۔ دیکھیں میں نے تو کچھ برا بھی نہیں کیا مجھے تو بس اپنے ابتہاج کے پاس جانا ہے۔۔۔۔ اسکے بڑھتے قدموں سے وہ معصوم۔ خوف زدہ سی ہوتے ہولنے لگی۔۔۔ کس کے پاس جانا ہے۔ وہ اسکے قریب ہوتے اسے بازوؤں سے پکڑتے غصے سے دانت پیستے تقریبا اسکے چہرے پر جھکا تھا ۔ماہا نے بنا ڈرے اسے دیکھا۔
ڈاکو جی مجھے اپنے شوہر کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی مضبوط لہجے میں بولی تو مقابل کے چہرے کے تاثرات ڈھیلے پڑے وہ اسے جھکتے اٹھائے تیزی سے واپسی کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ماہا اسکی گردن میں ہاتھ حائل کیے اسکی عجیب سی شکل دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ ” کیا گھور رہی ہو۔۔۔۔؟ ماہا کو یوں ٹکٹکی باندھے خود کو دیکھنے پر وہ زچ ہوے بولا۔۔۔
” وہ دیکھ رہی تھی آپ اتنے برے بھی نہیں بس یہ داڑھی ہٹا دیں تو بہت اچھے ہو جائیں گے۔ …میں نے مشورہ مانگا ۔۔۔اسکی بات کاٹتے وہ غصے سے دانت پر دانت جماتے بولا۔۔۔۔۔ اب ڈانٹا تو ابتہاج کو بتاوں گی۔۔۔وہ خوب ماریں گے تمھیں۔۔۔۔ وہ اسکی گود میں موجود اسے اپنے نا ہونے والے ابتہاج سے ڈرا رہی تھی۔۔۔مقابل کے ہونٹوں پر ایک گہری مسکراہٹ رقص کرنے لگی ۔۔
یہ ابتہاج کون ہے ۔۔۔۔۔؟” اسکے ہونٹوں کو دیکھ وہ چلتا دور کھڑی اپنی گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔ میرے شوہر ہیں بتایا تو تھا۔۔۔ماہا نے ماتھے پر ہاتھ مارتے اسکی عقل پر افسوس کیا۔۔۔۔۔ تو وہ سر ہاں میں ہلا گیا ۔۔۔۔۔ ویسے کیا بہت زیادہ محبت کرتی ہو اس سے ، ہر وقت اس کا نام لیتی رہتی ہو ۔۔۔۔۔”
مقابل نے اسے نرمی سے گاڑی کی بونٹ پر بٹھائے اپنے چوڑے ہاتھ اسکے دائیں بائیں رکھے اور نرمی سے اسکے حسین بالوں کو چہرے سے ہٹائے وہ اپنا کوٹ اتارتے اسکے نازک کپکپاتے وجود کو ڈھانپنے لگا۔۔۔۔
ہاں ناں بہت زیادہ مگر وہ پتہ نہیں کیوں دور چلے گئے ہیں اتنا بلایا پھر بھی نہیں آتے ۔۔۔۔۔ اسکی آنکھیں آنسوں سے بھرنے لگیں ۔۔۔۔۔ وہ ہونٹ پھیلائے رونے لگی کہ مقابل اسکی کوشش کو بھانپتے ایک دم سے اپنا ہاتھ اسکی گردن میں حائل کیے اسے نازک ہونٹوں پر جھکا ۔۔۔ ماہا اسکی بڑھی ہوئی داڑھی کی چبھن اپنے ہونٹوں پر اسکے تیز لمس پر بری طرح سے سہمتے اسکے کالر کو دبوچ گئی۔۔۔۔
جب منع کیا تھا کہ گھر سے باہر ناں آنا پھر کیوں آئی تم۔۔۔اسکے ہونٹوں کو آزادی دیے وہ اسکے چہرے پر اپنی گرم سانسیں چھوڑتے استفسار کرتا اسے خوفزدہ کر گیا۔۔۔ مجھے ابتہاج کے پاس جانا ہے۔۔۔۔۔۔ اسکے غصے سے وہ روتی اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپا گئ۔۔۔۔
وہ خود پر ضبط کرتے رخ موڑے گہرے سانس بھرنے لگا ۔۔۔۔۔ ڈاکو جی ۔۔۔۔!” چند پل کی خاموشی کے بعد ماہا کی آواز پر وہ گردن گھمائے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
میرے بے بی کو بھوک لگی ہے وہ کھانا مانگ رہا ہے ۔۔۔ معصومیت سے اسے دیکھ وہ اس انداز میں بولی کہ مقابل نے حیرت سے مڑتے اسے گھورا۔۔۔۔۔ کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔۔ ؟’ وہ چونکتے اس سے اسی بابت پوچھنے لگا ۔۔۔۔۔
میرا مطلب کہ بے بی رو رہا ہے اور مجھے کہ رہا ہے کہ میرے کو بھوک لگی ہے کچھ کھا لو ۔۔۔۔۔ کیونکہ اسکے بابا نہیں ناں پاس تو مجھے خود ہی اسکا خیال رکھنا پڑتا ہے ۔۔۔ رات کے تین بجے اسکی بات سنتے اسے لگا تھا کہ وہ بس بے ہوش ہونے کو تھا۔۔۔۔ ڈاکو جی۔۔۔۔۔اسے گاڑی کی جانب بڑھتا دیکھ وہ پیٹ پر ہاتھ رکھتے بولی تو مقابل نے رخ موڑتے اسے دیکھا اور پھر بنا کچھ کہے وہ کچھ نکالتے اسکے قریب آیا ۔۔۔۔۔
برگر واہہہ۔۔۔۔۔ ڈاکو بھی کھاتے ہیں برگر ۔۔۔۔۔۔ !” اسے برگر کا ریپ اتارتا دیکھ وہ اشتیاق سے آنکھوں میں چمک لائے بولی تو اسکی تیز تیز چلتی قینچی کی جیسی زبان پر مقابل نے اسے آنکھیں دکھائی جس کا اسے ذرا بھی اثر نہیں ہوا تھا۔۔۔
اسنے ریپ اتارتے اپنے ہاتھ میں پکڑا برگر اسکے سامنے کیا۔۔۔ اگر تمہیں یہ کھلاؤں گا تو مجھے بدلے میں کیا ملے گا۔۔۔۔۔ اپنے محسوس لہجے میں اسکی آنکھوں میں جھانکتے اسنے گہرے لہجے میں کہا ۔۔۔۔ ایک تو آپ بنا کسی غرض کے مان جائیں ایسا نہیں ہو سکتا ابتہاج ۔۔۔۔۔۔۔ وہ منہ بسورتے اپنی ہی روانی میں بولی تو مقابل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ۔۔۔۔
تمہارا یہ ڈاکو بنا کسی غرض کے کچھ نہیں کرتا جان۔۔۔۔۔۔ اسکے خوبصورت ہونٹوں کو چھوتے اسنے لب ماہا کی گردن پر رکھتے گہرے لہجے میں کہا تو ماہا نے اسے پیچھے کرنا چاہا ۔۔۔۔ آپ دور رہ کے بات کیا کریں بار بار میرے لپس پر کس نہیں کریں ورنہ اگر ابتہاج کو بتایا ناں تو جان سے مار دے گا ۔۔۔۔۔۔ماہا نے اسکی حرکت پر نفرت سے اسے خود سے دور کیا تھا۔۔۔۔اسے بالکل اچھا نہیں لگا تھا اسکا یوں خود کو بار بار چھونا۔۔۔۔۔ پہلے یہ کھاؤ پھر بات کرتے ہیں کہ تمہیں اچھا لگتا ہے یا نہیں۔۔۔۔وہ۔معنی خیز لہجے میں برگر اسکے سامنے کرتے بولا مگر وہ معصوم بنا اسکے لہجے میں چھپی وارننگ کو سمجھے برگر سے انصاف کرنے لگی۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ سینے پر باندھے اسے کھاتا دیکھ رہا تھا۔۔۔جو بالکل بچوں کی طرح دکھ رہی تھی۔۔۔۔ ٹشو بھی دے دیں جہاں اتنا احسان کیا ہے۔۔۔وہ اپنے گندے ہوئے ہاتھوں اور ہونٹوں کو دیکھ الجھن زدہ سی ہوتے بولی تھی۔۔۔۔ وہ سنتے مسکرایا۔۔۔۔ اور جھٹکے سے اسے بانہوں میں بھرتے وہ بیک ڈور اوپن کیے اسے نرمی سے بٹھائے خود بھی اسکے قریب بیٹھا۔۔۔۔۔۔
کیا ہے دور رہیں اور ٹشو بھی دیں۔۔۔۔۔ اسکی تیز نظروں کو اپنے ہونٹوں پر ٹکا پاتے وہ غصے سے بولی۔۔۔۔ مگر مقابل نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ حائل کرتے اسے جھٹکے سے کھینچتے اپنی گود میں بھرا۔۔۔۔۔ اور اپنے ہونٹوں سے اسکے چہرے کو صاف کرتے وہ اسے لرزنے پر مجبور کر گیا۔۔۔۔
یہ بہت پسند ہے مجھے۔۔۔اسکی تھوڑی میں موجود گھڑے کو جنونی انداز میں اپنے ہونٹوں سے چھوتے وہ اسے ابتہاج کی یاد دلا گیا۔ اببب ابتہاج۔۔۔۔۔۔!” ماہا کے ہونٹوں سے ابتہاج کا نام ادا ہوا تھا ۔۔۔۔وہ اپنے چہرے پر شدتیں لٹاتے اس شخص کے لمس کو آنکھیں موندے محسوس کرنے لگی جسکی سانسوں میں اترتی خوشبو بالکل اسے اپنے ابتہاج کے جیسے لگی تھی ۔۔۔
مقابل نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھتے اسے خاموش کیا تو وہ خاموشی سے اسکے کندھوں کو تھامے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔ آواز نہیں ۔۔۔۔۔! اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے اسکے نچلے ہونٹ کو سہلاتے وہ بھاری لہجے میں کہتا اسکے ہونٹوں پر جھکا اپنی شدتیں لٹانے لگا ۔۔۔اسکے شدت بھرے لمس پر وہ نازک سی جان بالکل لزر کے رہ گئی تھی ، جبکہ مقابل نے اپنا بھاری ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کیے اسے خود میں بھینجا اور اسکے چہرے کو اپنے سلگتے ہونٹوں سے چھوتے وہ اسے اپنے جنون سے روشناس کروانے لگا ۔۔۔۔
ماہا اسکے لمس پر اپنے سینے میں الجھتے سانس سے خوف سے آنکھیں موند گئی جبکہ اسکی رکتی سانسوں کو محسوس کرتے اسنے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی دی تو اسکے سینے سے لگتے گہرے سانس بھرنے لگی ۔۔۔۔ مقابل کے بھاری ہاتھ اسکی پشت کو سہلاتے اسے پرسکون کر رہے تھے ۔۔۔ جبکہ وہ پرسکون ہونے کی بجائے مزید سہم سی گئی تھی ۔۔۔
تم ایک نمبر کے بدتمیز ڈاکو ہو میرا ہونٹ بھی زخمی کر دیا ۔۔۔۔ میں ابھی جاؤں گی صنم کو بھی بتاؤں گی اور پھر ابتہاج کو بھی فون کر کے بتاؤں گی ۔۔وہ چھوڑے گا نہیں تمہیں ۔۔۔۔۔ اپنے ہونٹ سے بہتے خون کو صاف کرتے وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی تو مقابل نے سنجیدگی سے اسے دیکھا ۔۔۔ جس کا سانس ابھی تک بھاری تھا ۔۔ ۔۔۔
کیا کہو گی تم ابتہاج سے۔۔۔ اسکے بالوں میں اپنے ہاتھ چلاتے وہ اپنے اپ کو سکون دینے لگا ۔۔۔۔۔ ماہا نے اسے گھورا ۔۔۔ اسے بتاؤں گی کہ ایک داڑھی والا ڈاکو ہے جو مجھے بری بری کسی کرتا ہے اور رات کو روز تنگ بھی کرتا ہے اور اگر اب تم نے مجھے نہیں جانے دیا تو یاد رکھنا میرا جیجا فوجی ہے ۔۔۔۔۔ وہ انگلی اٹھائے اسے صالح سے ڈرانے لگی ۔۔ اسکی بات اور لہجے میں چھپے غرور پر مقابل نے اسکی نازک سی انگلی اور پھر اسکے چہرے کو دیکھا ۔۔۔۔۔
اچھا ایک بات بتاو کیا تمہارے ابتہاج نے کبھی تمہیں اچھی والی کس بھی کی ہے ۔۔۔۔!” وہ صاف اسکی بات کا مذاق اڑا رہا تھا جس پر ماہا نے اسے نتھنے پھیلائے غصے سے گھورا ۔۔۔۔۔ شٹ اپ۔۔۔ بدتمیز ڈاکو وہ مجھے چکس پر بھی کس کرتا ہے اور فور ہیڈ پر بھی۔۔۔۔۔۔۔ وہ پہلے گالوں اور پھر اپنے ماتھے پر انگلی رکھتے اسے جتانے کے سے انداز میں دیکھ بولی ۔۔۔
وہ تو میں بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔وہ کندھے اچکائے اسکے گالوں اور پھر اسکے ماتھے پر ہونٹ رکھتے بولا تو ماہا کا سانس الجھ سا گیا ۔۔۔وہی دہکتا لمس وہ تڑپ اٹھی۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں ایک دم جانے کتنے ہی آنسوں آئے تھے ۔۔۔۔ اگر ایک آنسوں بھی گرا ناں تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔ ” اسکی نم آنکھوں کو دیکھتے وہ وخشت بھرے لہجے میں بولا تو ماہا نے ہونٹ پھیلائے اسے گھورا۔۔۔۔
شرم کرو کچھ تو میرا بے بی بھی دیکھ رہا ہے۔۔۔۔ اسے خود سے دور کرتے وہ سوں سوں کرتے لہجے میں خفگی سے بولی تو مقابل نے تاسف سے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔ کیا کہہ رہا ہے تمہارا بے بی ۔۔۔۔۔ اسنے داڑھی کو برابر کرتے پوچھا ۔۔۔۔ اور ساتھ ہی اسکے کندھوں سے اپنا کوٹ بھی برابر کیا۔۔۔۔۔
” کہہ رہا ہے کہ ماما اس ڈاکو کی داڑھی کو پکڑ کے کھینچ کے اتار دو۔۔۔۔وہ غصے سے کہتے ساتھ ہی اسکی داڑھی کی جانب ہاتھ پھیلائے اسے کھینچنے لگی کہ مقابل نے اسے تیزی سے اپنی جانب جھپٹتے ہاتھوں کو جلدی سے پکڑا ۔۔۔۔۔ یہ کیا کر رہی ہو پاگل لڑکی۔۔۔۔اپنے بازو پر اسے کاٹتا دیکھ وہ غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا ۔۔۔۔ ہاتھ چھوڑو ڈاکو مجھے یہ داڑھی نکالنی ہے۔۔۔۔۔ وہ پھولتے سانس سے اسے دیکھتے اسکی داڑھی کو نوچنے لگی ۔۔۔۔ مقابل کے اس چھوٹی سے پٹاخہ کو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔ وہ بشمکل سے اسکے تیز ہاتھوں کو تھام رہا تھا ۔۔جو اس پہ غصے سے وار کرتے اسکی داڑھی کو فوت کروانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔
تم جھوٹ بول رہی ہو بے بی تو کہہ رہا ہے کہ داڑھی اچھی ہے۔۔۔۔وہ اسکے ہاتھوں کو پکڑتے اسکی پشت کو خود سے لگائے بولا ۔۔۔۔۔ ” میرا بے بی صرف مجھ سے بات کرتا ہے داڑھی والے جھوٹے ڈاکو ۔۔۔۔۔۔” وہ تیزی سے کہتی اسکے پیٹ میں مارتے اپنا ہاتھ چھڑا گئی۔۔۔۔کہ مقابل نے جلدی سے اسکی گردن پر ہونٹ رکھتے اسے ایک دم سے خاموش کر دیا ۔۔۔۔ اگر اب تم نے میری داڑھی پر حملہ کیا تو سوچ لو میں کیاکر سکتا ہوں ۔۔۔۔؟”
مقابل نے اسکے کندھے سے بال ہٹائے اپنے دہکتے ہونٹوں کا شدت بھرے لمس کو اسکے کندھوں پر چھوڑا تو وہ لرز سی گئی ۔۔۔۔ نن نہیں کرتی کک کچھ چچ چھوڑو ۔۔۔۔۔۔” وہ لرزتے بمشکل سے بولی تو مقابل نے گیتا مسکراتے اسکے کندھے کو ہلکا سا دانتوں سے کاٹا۔۔۔۔۔ گڈ گرل۔۔۔۔۔۔ اسکے کان کی لو کو چھوتے وہ اسے شاباشی دینے لگا۔۔۔
اب آنکھیں بند کرو اور خاموشی سے سو جاؤ ۔۔۔۔۔!” اسکے بالوں کو سہلاتے وہ ہونٹ اسکے سر پر رکھتے کہا تو ماہا نے آہستگی سے اپنا رکا ہوا سانس بحال کیا۔۔۔۔۔۔ وہ مسلسل اپنی گود میں۔ بھرے اس نازک وجود کو خود میں بھینجا۔۔۔۔۔ ماہا کی بھاری ہوتی سانسوں کو محسوس کرتےہوہ گہرا سانس بھرتے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائی ۔۔۔
