Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 19)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

وہ سرخ ہوئی اپنی سرد نظروں سے شیشے کی دوسری جانب مشینوں میں جکڑے اس نیم مردہ وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

جس کے چہرے پہ لگے آکسیجن ماسک کی بدولت وہ سانسیں آرام سے لے پا رہا تھی۔۔۔ ماہا کی شرارتیں اسکا معصوم سا چہرہ اسکے ساتھ گزارا ایک ایک پل ابتہاج کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چل رہا تھا۔۔۔۔۔ اسے اب محسوس ہوا تھا کہ وہ لڑکی کتنی آسانی سے اسکی سانسوں اسکے وجود کے ساتھ ساتھ اسکی روح پر بھی قابض ہو چکی تھی۔۔۔۔

کیا اسکے بغیر ابتہاج گردیزی کا وجود ممکن تھا ۔۔۔۔۔؟” بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے اپنی نم ہوتی آنکھوں کو موندتے نمی اپنے اندر انڈیلی تھی۔۔۔۔۔ وہ مرد تھا ایک مضبوط مرد ۔۔۔۔ اور مرد کبھی روتے نہیں۔۔۔۔۔ آج اسے کسی کی کہی اس بات پہ ہنسی آئی تھی مگر وہ کیسے مسکراتا اسکے چہرے پہ خوشی بکھیرنے والا وہ معصوم سا وجود تو اس سے روٹھ گیا تھا۔۔۔۔

ابتہاج نے روم سے نکلتے ڈاکٹر کو دیکھ اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پشت سے اپنی آنکھوں کو رگڑا۔۔۔۔۔

مسٹر گردیزی۔۔۔۔۔۔ ” ڈاکٹر کسی فائل پہ سائن کرتے ہوئے اسکے سامنے آرکا اور پیشہ ورانہ انداز میں اس سے مخاطب ہوا۔۔۔ ابتہاج کا دل تیزی سے دھڑکا۔۔

یس ڈاکٹر کیسی ہے میری بیوی ۔۔۔۔۔ اسے کچھ ہوا تو نہیں ۔۔۔۔۔۔ پلیز مجھے بتائیں کیا اب وہ سیو ہے۔۔” ابتہاج نے بےبسی سے ڈاکٹر کے ہاتھوں کو تھامتے التجائیہ لہجے میں استفسار کیا ۔۔۔

” آپ کی وائف نے کسی قسم کی ٹینشن کو اپنے سر پہ سوار کر لیا ہے جس کی وجہ سے انہیں پینک اٹیک ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔ ” ابتہاج کے سن پڑتے وجود کو دیکھ ڈاکٹر نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔

” ابھی وہ ٹھیک ہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں مگر ۔۔۔۔۔ اب آپ کو انکی طبیعت کا زیادہ خیال رکھنا پڑے گا ۔۔ ہر قسم کی ٹینشن اور پریشانی کو ان سے دور رکھیں۔۔۔ اور سب س بڑی بات اپنے ہونے کا احساس دلائیں۔۔۔تاکہ وہ اس فیز سے جلد از جلد نکل سکیں۔۔۔۔۔”

ڈاکٹر نے اسکے سرخ پڑتے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتے کافی اچھے سے اسے معاملے کی سنجیدگی سے روشناس کروایا تو وہ سنتا سر ہاں میں ہلا گیا۔۔

کیا میں مل سکتا ہوں اس سے۔۔۔۔۔” نظریں جھکائے ابتہاج نے بےچینی سے پوچھا۔۔۔

یس آپ مل لیں ۔۔۔ مگر ان کی طبیعت کا خیال رکھیں جتنا ہو سکے۔۔۔۔…”

ڈاکٹر نے اسے اجازت دیتے کندھا تھپکا اور واپس اپنے کیبن کی جانب گئے۔۔۔۔

وہ گہرا سانس فضا میں خارج کرتے خود کو پرسکون کرتا دروازے کی جانب گیا۔۔۔۔

دروازے کے ہینڈل کو گھمائے وہ آہستگی سے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔ سامنے ہی وہ بےہوش نڈھال سی پڑی تھی۔۔۔۔۔ چہرے پہ آکسیجن ماسک کے علاؤہ باقی مشینیں ہٹا دی گئی تھیں۔۔۔۔

ابتہاج دھیمے قدموں سے چلتا ہوا اسکے قریب ہوا۔۔۔ اور آہستگی سے اسکے قریب آ بیٹھا ۔۔۔ ماہا کی بند آنکھوں سے ہوتے اسکی نظریں اسکے ہاتھ پہ گئیں۔۔۔۔ ابتہاج نے بےحد نرمی سے اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔۔۔۔

” جانتی ہو بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی یہاں لیٹے ہوئے ۔۔۔۔ مجھے تو تم میرا سر کھاتی ،فضول باتیں کرتی ہی اچھی لگتی ہو۔۔۔۔ ماہا۔۔۔۔” ابتہاج نے شدت سے اسکے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے محبت سے اسے پکارا۔۔۔۔۔

” جانتی ہو کس قدر ضروری ہو گئی ہو تم ۔۔۔ ان سانسوں میں بسنے لگی ہو تم۔۔۔۔۔ تمہارے بنا تو مجھے خود بھی سانس نہیں آتا دم گھٹنے لگتا ہے اس کھلی فضا میں بھی۔۔۔۔۔ میری روح میرے دل و دماغ پر بھی تم قابض ہو گئی ہو بری طرح سے ماہا۔۔۔۔۔ میرا جنون بنتی جا رہی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ کیسے رہ لوں تمہارے بنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

ابتہاج اسکے قریب ہوتے اسکے چہرہ کو دیکھ بے تابی سے اپنے دل کا حال اپنا جنون اسکے سامنے عیاں کر رہا تھا جو اسکے کھو جانے کے خوف سے موت کو گلے لگانے والی تھی۔۔۔۔۔

اس کے دور جانے کی سوچ ہی ابتہاج کو تڑپا رہی تھی۔۔۔ وہ سرخ نظروں سے اسکی بند آنکھوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ ابتہاج نے بےبسی سے اپنے لب کچلتے سر ماہا کے ہاتھ پہ رکھا تھا۔۔۔

سن ہوتے دماغ میں اٹھتی ٹیسوں پر وہ مندی مندی آنکھوں کو کھولتے اسے دیکھ رہی تھی جو سر بےبسی سے اسکے ہاتھوں پہ ٹکائے ہوئے تھا۔۔۔۔۔پل بھر میں اسکا دھوکہ ، اسکی دی اذیت سب ماہا کی نظروں کے سامنے لہرانے لگا ۔۔۔ ماہا نے ایک دم نفرت سے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔۔ ابتہاج نے چونکتے اسکی جانب دیکھا جو آنکھوں میں نفرت کے انگارے لیے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

دور رہیں مجھ سے آپ ۔۔۔۔۔۔ کوئی حق نہیں ہے آپ کا مجھ پہ۔۔۔اپ بھی باقی سب کی طرح ہی نکلے جھوٹے دھوکے باز______” ابتہاج کو دیکھ وہ نفرت سے اپنے اندر بھڑکتی آگ کو اس پہ آشکار کرنے لگی۔۔۔

جبکہ مقابل تو حیرانگی سے اسکی آنکھوں میں اپنے لئے نفرت دیکھ اسکے لفظوں کو سنتا سکتے میں تھا۔۔۔۔۔

ماہا ۔۔۔۔۔ کیا ہوا کیا کہہ رہی ہو تم۔۔۔۔” ابتہاج نے ماتھے پہ بل سجائے اسکے ہاتھ کو اپنی گرفت میں مضبوطی سے تھاما تھا۔۔۔کہ وہ اسکی آہنی گرفت پہ سسک سی گئی ۔۔۔

اہہہ چھوڑیں مجھے ____ کوئی حق نہیں پہنچتا آپ کو مجھے تکلیف دینے کا۔۔۔ جائیں جا کر اس ہوتی سوتی کو چپ کرائیں اسے سنھبالیں جسکے لئے اتنا بڑا جھوٹ بولا مجھ سے ۔۔۔۔۔۔” اپنے اندر دبی اس جلن کو وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسی ستم گر سے بیاں کرتی غصے سے اپنا ہاتھ چھڑواتے رخ پھیر گئی۔۔۔

اسکا یوں نفرت کا اظہار کرنا ۔۔۔۔ پل میں ہی ابتہاج کا دماغ گھوما تھا وہ جھٹکے سے اٹھتا اسکے قریب تر ہوتے کھینچتے آکسیجن ماسک اتار گیا۔۔۔۔

ماہا نے سہمی نظروں سے اسے دیکھا جسکی آنکھوں میں ایک الگ سی سرخی ایک جنون سا آباد تھا۔۔۔۔ ماہا کو ایک دم سے ابتہاج سے خوف آنے لگا۔۔

وہ ہرن کی مانند سہمی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو بنا توقف کے جھکتا ہاتھ تکیے پہ اسکے دائیں بائیں پھیلائے اسکی سانسوں کو قید کرگیا ماہا کو اپنے جنون اپنی عشق کی شدت سے روشناس کرانے لگا اپنی ساری اذیت اک پل میں ماہا پر انڈیلنے لگا ۔

وہ کمزور سی جان جو آگے ہی سن ہوئے دماغ کمزور وجود کے ساتھ بمشکل سے سانسیں لے رہی تھی اوپر سے اس ظالم کے تشدد اسکی ظالمانہ گرفت ماہا کا سانس سینے میں اٹک سا گیا مگر مقابل کو کہاں کسی بات کا ہوش تھا۔۔۔۔ وہ تو بس اسکی سانسوں کو قید کرتا جنون کی انتہا پہ تھا۔۔۔۔۔۔

”ماہا کی مدہم پڑتی سانسوں کو محسوس کرتے ہوئے ابتہاج نرمی سے اپنی دہکتی سانسیں اسکے سینے میں انڈیلنے لگا ۔۔۔۔ کہ ماہا نے دھڑکتے دل سے اسکے کالر کو دبوچتے اپنی آنکھیں سختی سے میچیں۔

اببب ابتہاج۔۔۔۔۔۔۔” اپنی گردن پہ اسکے شدت بھرے لمس کو محسوس کرتے ماہا نے تڑپتے اسے پکارا جو اپنے ہر عمل سے اسکی سانسیں خشک کرنے کو تھا۔۔۔ماہا کا نازک سراپا اسکی جنون خیزیوں کو سہتے ہلکا ہلکا لرزنے لگا تھا۔۔۔۔

مگر ابتہاج تو جیسے اسے اپنے جنون سے واقف کروا کے اپنے اندر ہی قید کر لینا چاہتا تھا۔۔۔۔

” تمہارے یہ الفاظ مجھے ہرٹ کرتے ہیں ماہا ۔۔۔۔۔ تم نے کیسے میری محبت پہ شک کیا۔۔۔ کیا تمہیں کبھی بھی میرے ساتھ میری قربت میں ایسا محسوس ہوا ہے کہ میرا پیار صرف دکھاوا ہے تمہارے لئے۔۔۔۔۔۔ یاد کرو ان سب راتوں کو جو تم نے آج تک میری بانہوں میں گزاری ہیں ۔۔۔ کہاں لگا تمہیں کہ ابتہاج گردیزی کی محبت اسکا ساتھ صرف دکھاوا ہے تمہارے لئے ۔۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں جھانکتا وہ اس سے سوال کرنے لگا ۔۔۔۔ ماہا کی نظریں ایک پل میں جھکی تھیں وہ بھلا کیا کہتی وہ جانتی تھی اسکے ساتھ گزارا ہر ایک پل اسنے شہزادیوں کا سا تصور کرتے اسکی بانہوں میں قید ہوتے گزارا تھا۔۔۔۔۔ مگر جو بھی تھا اسنے خود دیکھا تھا اسے ۔۔۔۔”

وہ سوچتے اپنے ہونٹوں کو کچلنے لگی۔۔۔ ابتہاج بغور اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھتا اسکی کمر کے قریب دونوں ہاتھ ٹکائے اسکے چہرے پہ جھک سا گیا۔۔

”صنم سے ملنے گیا تھا میں اگر تم خود بھی پوچھتی تو میں جھوٹ نہیں بولتا مگر اس وقت صنم نے مجھے اپنی قسم دے کر روک دیا تھا۔۔ وہ چاہتی تھی کہ وہ خود تم سے ملے اپنے رویے کی معافی مانگے ۔۔۔اس کے بعد ہی میں میں تمہیں اس بارے میں بتاؤں۔۔۔۔ میں ملا تھا اس سے کیونکہ میں اپنی ماہا کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔۔ میں اپنے کیے کی معافی نہیں مانگوں گا کیونکہ اس میں غلطی تمہاری ہے ناکہ میری۔۔۔۔۔۔”

ماہا جو آگے ہی یہ س سنتی شرمندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب چکی تھی اب اس ظالم کے یوں کہنے پہ اسنے تڑپ کے اسے دیکھا جس کی نظریں استحقاق سے اسکے شرمندہ سے سرخ چہرے پہ ٹکی تھیں۔۔۔۔۔۔

Dildaar_Masihaye_dil

#Episode_no20

#writer_Faiza_sheikh

کمرے کے خاموش ماحول میں سامنے بائیں جانب دیوار میں نصب کھڑکی جسکے پردے ایک جانب سرکے ہونے کی وجہ سے تیز سورج کی روشنی آنکھوں میں پڑتے ہی اپنا بایاں ہاتھ اٹھائےوہ آنکھوں پہ رکھ گیا ۔۔۔

معا ابتہاج نے سرخ آنکھوں سے گردن جھکائے اپنے سینے کی جانب دیکھا ۔۔ جہاں ماہا اسی کی شرٹ میں اسکی شدتیں سہتی بکھری سی حالت میں پڑی تھی۔۔۔۔ ماہا کا ایک ہاتھ ابتہاج کی گردن جبکہ دوسرا ہاتھ اسکے کشادہ شرٹ لیس سینے پہ تھا۔۔۔۔۔

سرخ چہرے پہ اسکی محبت کے سارے رنگ ابتہاج کو مزید بےخود کرنے لگے تھے ۔۔۔۔ دل ایک بار پھر سے جذبات کی آگ میں دہکنے لگا ۔۔۔ جبھی اسنے نرمی سے اسکے ہاتھ کو ہونٹوں سے لگائے ماہا کے چہرے پہ بکھرتے بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔۔۔ اسکے لمس پہ وہ کسمساتے منہ بنائے اسکے سینے میں گھسنے کی کوشش کرتی وہ ابتہاج کو پاگل کر دینے کے در پہ تھی ۔۔۔۔

جبھی وہ جھکتے اسکی کمر کے گرد ہاتھ لے جاتے اسے تکیے پہ گرائے اسکے چہرے کو دیکھنے لگا جو اس اچانک سے ہوتی افتاد پہ بوکھلائی سی تیز تیز دھڑکتی دھڑکنوں سے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ جس کی آنکھوں میں شریر سی چمک ماہا کو اپنی نظریں جھکانے پہ مجبور کر گئی۔۔۔۔۔

ابتہاج نے اپنی بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اسکے ماتھے کے درمیان سے لیکر کھینچتے اسکے ناک سے ہوتے انگلی اسکے ہونٹوں پہ روکی تو ماہا خشک ہوتی سانسوں سے سہمتے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ جس کی آنکھوں کی چمک اسکے چہرے پہ پھیلا سکون ماہا کے دل کو پرسکون کر گیا ۔۔۔۔ جبکہ ابتہاج اسکی نظروں کو اپنے چہرے پہ پاتے مسکراتا اسکے ہونٹوں پہ جھکا تھا۔۔۔۔۔

ماہا نے آنکھیں موندے اسکی خوشبو کو خود میں اتارا تھا۔۔۔ جو نرمی سے اسکے ہونٹوں کو قید کیے ماہا کی قربت میں اسکے لمس پہ مدہوش ہونے لگا ۔۔۔۔

اسکے اکھڑتی سانسوں کو محسوس کرتے ابتہاج نے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشتے لب اسکی تھوڑی پہ رکھے تو ماہا کا چہرہ شرم و حیا سے لال ہونے لگا ۔۔۔۔۔

اببب ابتہاج ۔۔۔۔۔۔۔” اسکی بڑھتی جسارتوں پہ سہمتی وہ اسے باز رکھنے لگی جو مکمل طور پہ اسکے وجود میں کھوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔

ابتہاج نے اسکی گردن پہ شدت بھرا لمس چھوڑتے ماہا کو دیکھا ۔۔۔۔

گڈ مارننگ جان ابتہاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ماہا کی گردن سے بال سمیٹتے وہ محبت سے بولا تھا جبکہ ماہا نے فورا سے اسکے کندھوں پہ ہاتھ رکھتے اسے جھنجھوڑ ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹائم دیکھیں مجھے چھوڑیں فریش ہونا ہے ۔۔۔۔ ماما کیا سوچیں گی۔۔۔۔۔” وہ ٹائم دیکھتے کافی پریشان سی ہوئی تھی جبھی اسے پیچھے کرتے اٹھنے لگی مگر ابتہاج کا فل وقت اسے یونہی چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔۔

” خود ہی تو رات کو دلہن بنی ہوئی تھی اب اپنی نئی نویلی دلہن کو ایسے کیسے چھوڑ دوں میں وہ بھی اتنی آسانی سے۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے کھینچتے اسے اپنے ساتھ لگائے اسکے کان میں سرگوشی کی تو ماہا کی پلکیں حیا سے لرزنے لگی ۔۔۔۔۔ رات کا ایک ایک پل ابتہاج کی بے خودی اسکی شدتیں یاد کرتے ہی وہ کانوں کی لووں تک سرخ پڑنے لگی جبکہ مقابل آرام سے بیٹھا اسکے چہرے پہ بکھرتی شرم و حیا کو دیکھنے لگا۔۔۔

آپ نے معاف کر دیا مجھے ۔۔۔۔۔۔” اسکے سینے سے سر ٹکائے وہ آنکھیں موندے پوچھنے لگی ۔۔۔۔جہسے یقین تھا کہ وہ معاف کر چکا ہو گا۔۔۔۔

ہممم۔۔تھوڑا معاف کردیا کے تھوڑا سا رہ گیا ہے۔۔۔اگر تم ابھی ایک بار پھر سے رات کی طرح راضی کرو گی تو ہو سکتا ہے مان جاؤں ۔۔۔۔۔۔

اسکے کندھے پہ ہونٹ رکھتے وہ گھیبر لہجے میں فرمائش کرنے لگا کہ ماہا سنتے ایک دم سے اسکے سمجھنے سے پہلے ہی اسے دھکا دیے بیڈ سے اتری تھی۔۔۔ ابتہاج سیدھا ہوتے اسے دیکھنے لگا جو اسکے سمجھنے سے پہلے ہی باتھروم میں بند ہو چکی تھی۔۔۔۔۔

کب تک بچو گی۔۔۔۔۔ آنا تو میرے پاس ہی ہے پھر دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔ بند دروازے کو دیکھ وہ مسکراتا بڑبڑاتے ہوئے اٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥

صالح ۔۔۔۔۔۔” صنم بے چینی سے اسے آوازیں دیتے روم سے نکلی تھی جو اسکی نیند کی وجہ سے فون اٹھائے نیچے آیا تھا ۔۔۔۔ اور اب اسکا ارادہ اپنی بیوی کیلئے اچھا سا کھانا بنانے کا تھا۔۔۔۔۔

صالح کے پیار میں وہ واقعی بدل گئی تھی۔۔۔۔ یا پھر وہ حساس ہوتی جا رہی تھی۔۔ اسکے لئے۔۔۔۔ اسکا نظروں سے اوجھل ہونا ہی صنم کو سہما دیتا تھا جبھی وہ بےچینی سے اسے ڈھونڈنے لگتی تھی۔۔۔۔ اور اب بھی ویسا ہی ہوا تھا۔۔۔۔

صبح نماز ادا کرنے کے بعد وہ اب دن کے گیارہ بجے اٹھی تھی مگر صالح کو اپنے قریب ناں پاتے وہ بےچینی سے تیز تیز سیڑھیاں اترتی اسے اونچی آواز میں پکارنے لگی ۔۔صالح آنچ دھیمی کیے کچن سے نکلا تھا۔۔۔۔۔ کہ اچانک سے صنم کا پاؤں تیزی سے سیڑھیاں اترتے پھسلا تھا۔۔۔۔

صالح کی نظروں کے سامنے ہی تو وہ ایک دم سے اوپری سیڑھیوں سے گری تھی کہ صالح کا سانس الجھ سا گیا وہ ڈر و وحشت سے فریز سا ہو گیا مگر پھر جانے کیسے اس میں ہمت آئی تھی کہ وہ دوڑتا سیڑھیاں چڑھتے اوپر گیا تھا ۔۔۔ بمشکل سے اسے تھامتے صالح نے اسے خود میں بھینجتے صنم کے سر کو دیکھا جہاں سے خون نکل رہا تھا۔۔۔۔

صنم تم ٹھیک ہو زیادہ چوٹ تو نہیں آئی۔۔۔۔۔ اسکے چہرے کو تھپتھپاتے وہ متفکر سا بےچینی سے پوچھنے لگا۔۔ن صنم کی درد سے سسکی سی نمودار ہوئی تھی۔۔۔ جبھی وہ سسکتے اسکے سینے سے جا لگی۔۔۔ صالح فورا سے اسے اپنی بانہوں میں بھرتے باہر کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔۔

صص صالح میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔اسکے سینے سے سر نکالتے وہ سہمی ہوئی رونے سے سرخ ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھتے بولی جبکہ وہ بنا کچھ کہے جھکتے اسے سیٹ پہ بھٹائے فرنٹ سیٹ پہ آیا۔۔۔۔۔۔

اششششش” خاموش ہو جاؤ اس سے پہلے کہ میں اس گھر کو آگ لگا دوں۔۔۔۔۔ اسکے پھر سے ہلتے ہونٹوں پہ اپنی بھاری ہاتھ کی انگلی رکھتے وہ آنکھوں میں غضب کی سرخی لیے بولا تو صنم کو اسکے انداز پر عجیب سی وحشت ہوئی وہ خاموشی سے سر جھکا گئی۔۔۔ سر سے خون ابھی تک بہہہ رہا تھا جبکہ درد سے اسکی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔۔۔۔

صالح نے ٹشو نکالتے اسکے زخم کو انتہائی نرمی سے صاف کیا جبکہ صنم تو اسکے چہرے پہ پھیلی پریشانی کو شمار کر رہی تھی۔۔۔۔

خون کے بہنے کی شدت کم ہوتے ہی وہ اسے کئے ہاسپٹل پہنچا تھا۔۔۔۔۔۔

زیادہ اوور سمارٹ مت بنو ، تمہارے پاؤں میں موج آئی ہے جانتا ہوں ۔۔۔۔ اب خاموشی سے مجھے اٹھانے دو ورنہ تمہارا منہ میں اپنے طریقے سے بند کروں گا۔۔۔۔۔۔ ”

صالح نے آج پھر سے اسے اپنی پرانی ٹون میں سمجھایا تھا کہ وہ جو اسے گاڑی سے نکلتے اپنی جانب آتا دیکھتے ہی خود سے اترنے لگی تھی۔۔ ایک دم سے اسکی بات پہ شرمندہ سی ہوتے نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔۔ صالح نرمی سے اسے بازوؤں میں بھرتا ہاسپٹل میں داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔

💥
💥
💥
💥
💥
💥

ماما اپنی بہو سے کہیں میرے کپڑے نکال دے۔۔۔۔۔۔ وہ ریلنگ سے جھانکتے کچن کی جانب رخ کیے زور سے بولا تھا کہ صباء بیگم جو آگے ہی ماہا کے نکھرے ہوئے روپ اور چہرے پہ پھیلے شرم و حیا اور سکون کو دیکھتی کافی پرسکون تھی ابتہاج کی آواز پہ لب دانتوں تلے دبائے ماہا کو دیکھنے لگی ۔۔

جو کافی خفت زدہ سی ہوئی تھی۔۔۔

وہ ماما انکی عادت ہو گئی ہے ناں اس لیے بلا رہے ہونگے روز میں ہی کپڑے نکال کے دیتی ہوں مگر آج میں پہلے آ گئی تو شاید اس لئے بلا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔

ہاں ہاں بیٹا تم جاؤ ۔۔میں نے کونسا تمہیں منع کیا ہے تم ضرور جاؤ بھلا تمہارا شوہر ہے وہ تم نہیں کرو گی اسکے کام تو اور کون کرے گا۔۔۔۔۔”

چائے کا پانی چڑھاتے وہ محبت سے اسکے گال کو تھپکتے بولی تو ماہا انکی محبت پہ مسکرا دی۔۔۔۔۔۔ وہ سر ہلاتے دھیمی قدموں سے اوپر روم کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔

ماہا نے گہرا سانس بھرتے دروازہ کھولا تھا مگر مقابل اسکے اندر داخل ہوتے ہی کھینچتے۔ اسے دروازے سے پن کرتے اسکے سمجھنے سے پہلے ہی اسکے ہونٹوں کو قید کر گیا کہ اس کے اچانک لمس پہ وہ گھبرا سی گئی۔۔۔۔

” تمہیں کیا لگا تھا کہ تم اتنی آسانی سے بچ جاؤ گی مجھ سے۔۔۔۔” خود کو سیراب کرتا وہ اسکے نچکے ہونٹ کو انگوٹھے سے سہلاتے بےباکی سے بولا تو ماہا کا چہرہ لال پڑنے لگا وہ نظریں جھکا گئی۔۔ جسے دیکھتے مقابل کو اس پہ ٹوٹ کے پیار آیا تھا ۔۔۔۔۔

” کپڑے نکال دو یار آج ایک بے حد ضروری میٹنگ ہے میری ۔۔۔۔۔ ابتہاج نے اپنے بےدھڑک بجتے موبائل کو دیکھتے جھکتے اسکے دونوں گالوں کو چومتے کہا تھا۔۔۔۔

موبائل اٹھائے وہ بالکونی کی جانب گیا جبکہ ماہا مسکراتے اسکے کپڑے نکالنے لگی۔۔۔۔

تھیکنس میری جان ۔۔۔۔۔۔۔” اسے پیچھے سے حصار میں لیتے وہ جھکتے ہونٹ اسکی گال پہ رکھتے شکریہ کرنے لگا ۔۔ماہا کے چہرے پہ ایک پرسکون مسکراہٹ تھی جیسے اب وہ مطمئن ہو گئی تھی اندر سے۔۔۔۔۔

” میرا ناشتہ رہنے دو بس کافی لے جاؤ اوپر روم میں ہی جب تک میں چینج کرتا ہوں۔۔۔۔۔ اسکی پیشانی کو چھوتے وہ جھکتے بیڈ سے کپڑے اٹھائے بولا تو ماہا سر ہلاتے نیچے آئی۔۔۔۔۔۔

” کیا ڈھونڈ رہے ہیں آپ ابتہاج سب ٹھیک تو ہے…..؟!”۔ ابتہاج کے چہرے پہ پھیلی بے چینی اور اضطراب کو دیکھتے وہ کافی ایک جانب رکھتے اسکے قریب آئی تھی جو وارڈروب سے جانے کیا ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔

ماہا کیا تم نے میری بلیو کلر کی فائل دیکھی ہے کہیں ۔۔۔۔۔ماتھا مسلتے ماہا کو دیکھتے وہ بےچینی سے پوچھنے لگا ۔۔۔ ماہا کو وہ کافی پریشان لگا تھا۔۔۔

نہیں مجھے تو نہیں پتہ اس فائل کے بارے میںں کیوں کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے۔۔۔۔۔ ؟” وہ حیرت زدہ سی اسے دیکھتی سوال گو ہونے لگی ۔۔۔۔۔ ابتہاج کی پریشانی دیکھ وہ خود کافی پریشان سی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

یار اس فائل میں میرا سارا کیرئیر ہے۔۔۔ اج کی میٹنگ کی اپ ڈیٹس اور پریزنٹیشن جو میں نے دو ہفتوں سے تیار کی ہے وہ سب کچھ اس فائل میں ہے مگر اب وہ نہیں مل رہی۔۔۔۔۔ ماہا کو دیکھتے وہ اپنی پریشانی سے آگاہ کرنے لگا جو خود بھی کافی پریشان ہو گئی تھی۔۔۔۔۔

تو اب کیا ہو گا ابتہاج۔۔۔۔۔۔۔؟” اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے وہ کافی ڈری ہوئی پوچھنے لگی

میں آفس جا کے چیک کرتا ہوں اگر گھر سے ملی تو پلیز مجھے آگاہ کر دینا ۔۔۔۔وہ کافی بےچینی سے اسے آگاہ کرتا تیزی سے کمرے سے نکلا تھا۔۔۔۔ جبکہ ماہا اسے جاتا دیکھ دل سی دعاگو ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

_________________

آخر بتائیں تو سہی ہوا کیا ہے کیوں اس قدر پریشان ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔؟” رات کے دس بجے کاشان صاحب آفس سے تھکے ہارے قدموں سے گھر واپس لوٹے تھے اور آتے ساتھ ہی وہ غصے سے ٹہلتے منبیہ بیگم کو دیکھتے ہی ابتہاج کے خلاف شروع ہو چکے تھے۔۔۔۔۔

ماہا تو صبح سے ابتہاج کے جانے کے بعد پریشان تھی ۔۔۔ ابتہاج جو کئی بار کال کی مگر وہ فون آف کر چکا تھا۔۔۔۔

مجھ سے پوچھے بغیر ہی میری کمپنی کے ستر پرسنٹ شئیرز کو ایک ڈیل پہ لگا چکا تھا۔۔۔ اور آج جانتی ہو کیا ہوا۔۔۔۔ ساری بورڈ کی میںٹنگ میں جب ابتہاج گردیزی سے وہ پراجیکٹ مانگا گیا تو جناب خالی ہاتھ تھے۔۔۔۔۔

کچھ نہیں دیا اس نے بورڈ کو اور اس کا وہ ارائیول زین یوسف وہ پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ آپ کے نالائق سپوت کی وجہ سے ہماری کمپنی کے ستر پرسنٹ شئیرز کا مالک بن گیا یے

۔نن مطلب کے ہماری کمپنی کا مالک اب سے وہ زین یوسف بن چکا ہے۔۔۔۔۔

کاشان صاحب کی بتائی بات پہ ماہا اور منیبہ بیگم دونوں ہی سکتے میں چلی گئی تھی۔۔ انکا دماغ جیسے ماؤف ہو گیا تھا۔۔۔ماہا خود دیوار کے سہارے سے کھڑی تھی۔۔۔۔

آئیے آئیے لاڈ صاحب ویلکم مسٹر ابتہاج گردیزی۔۔۔۔” کیسا لگ رہا ہے آپ کو کنگال ہو کر۔۔۔۔۔۔۔؟” دروازے سے بکھری سی حالت میں بےجان قدموں سے اندر داخل ہوتے ابتہاج کو دیکھ وہ غصے سے دانت پیستے بولے تھے۔

یقینا آپ کے لیے کونسا بڑی بات ہے۔۔ کونسا اپنی محنت کی کمائی تھی باپ کے خون پسینے کی کمائی تھی ساری جسے تم نے یوں یوں چٹکیوں میں خاک کر دیا۔۔۔۔۔۔” وہ غصے سے گرجتے کافی ہائپر یو رہے تھے جبکہ ابتہاج خاموشی سے کسی ملزم کی طرح سر جھکائے کھڑا تھا۔۔۔

” بس کریں کاشان صاحب طبیعت خراب ہو گی آپکی چلیں میرے ساتھ ۔۔۔۔۔ ” انکے چہرے پڑتے چہرے اور پھولتے تنفس کو دیکھ وہ دوڑتے انکے قریب ہوئی۔۔۔۔۔

میں پوچھتا ہوں کیا ایک بار بھی تم نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ آخرکار اتنا بڑا فیصلہ ہے باپ کو پتہ ہونا چاہیے۔۔۔۔۔”

ابتہاج کے سامنے کھڑے ہوتے سی غراتے لہجے میں بولے۔۔۔ جبکہ ابتہاج خود ہی پریشان سا کھڑا انکی کر بات کو سہہ رہا تھا۔۔۔۔

صباء بیگم انہیں بمشکل سے تھماتے اپنے ساتھ لے گئی ۔۔ ابتہاج غصے سے تیز تیز قدم اٹھاتے اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔۔۔۔ ماہا پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی جو لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اسکے پاس سے گزرتا اوپر چلا گیا۔۔۔۔۔

آخر کون کر سکتا ہے یہ سب۔۔۔۔۔۔ میری بنائی فائل آخر کیسے اس زین یوسف تک پہنچی۔۔۔۔۔ بالکونی میں کھڑا وہ شرٹ لیس سا سگریٹ پہ سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔ مگر اندر لگی آگ کسی طور کم نہیں تھی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔ سب کچھ پل بھر میں تباہ ہوا تھا۔۔۔ ابتہاج نے سگریٹ کا گہرا کش لیا سارا دھواں اپنے اندر انڈیلتے وہ دل میں اٹھتے درد کو تسکین دینے لگا۔۔۔

گہری رات کی تاریکی میں آسمان پہ چھائی کالی گھٹا کی وجہ سے موسم ابر آلود ہوا تھا۔۔۔ جبکہ وہ ہر ایک چیز سے بےگانہ اپنے اندر کے غصے اشتعال کو ختم کرنے کی کوشش میں اب دسواں سگریٹ سلگا چکا تھا۔ معا اپنے کندھے پہ کسی کے نرم و نازک ہاتھ کے لمس پہ وہ اچانک سے اپنی سرخ نظروں سے گردن گھمائے اسے دیکھنے لگا۔۔ جو کافی پریشان سی سردی سے ٹھٹھر تی ابتہاج کے پیچھے کھڑی تھی۔۔۔

” ابتہاج یہاں اتنی سردی میں کیوں کھڑے ہیں پلیز چلیں اندر ۔۔۔ اسکے چہرے پہ رقم تکلیف کو دیکھ ماہا کا سانس الجھنے لگا وہ بےچیی سے اسے بازوؤں کو پکڑتے بولی تو ابتہاج نے اپنے غصے کو کنٹرول کرنا چاہا جو فلحال اسکے بس سے باہر تھا۔۔ کاشان صاحب کی کہی باتیں ابھی تک اسکے دماغ میں گونج رہی تھی ۔۔

” کھانا کھا لیں پلیز ابتہاج ۔۔۔۔۔۔” اسکے غصے سے وہ تھوڑا بہت ڈری ہوئی بھی تھی مگر کیسے اسے اکیلا چھوڑ دیتی ، جب وہ اسکے ہر دکھ درد کی ساتھی تھی ،

ماہا جاؤ فورایہاں سے مجھے بھوک نہیں پلیز تم کھانا کھا کر سو جاؤ مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔۔۔۔۔۔۔”

اسکے ہاتھ کو جھٹکتے وہ جبڑے بھینجتے رخ موڑتے کھڑا ہوا تو ماہا نے گہرا سانس بھرتے آسمان پہ نظر دوڑائی جہان سے بارش ہونے کا امکان واضح تھا۔۔۔

آپ جانتے ہیں ابتہاج جب تک آپ کھانا نہیں کھائیں گے میں بھی نہیں کھاؤں گی ۔۔ پلیز ضد مت کریں ۔۔۔۔ دیکھیں موسم خراب ہو رہا ہے پلیز چلیں اندر چلتے ہیں۔۔۔ ”

اسکے بھاری ہاتھ کو تھامتے وہ عاجز سی آتے بولی تھی ، ابتہاج نے سرخ ہوتی آنکھوں سے ماہا کو دیکھا اور جھٹکے سے کھینچتے اسے قریب تر کرتے ابتہاج اسکے ہونٹوں پہ جھکتا اسکی سانسوں کی خؤشبو میں اپنی دہکتی سانسوں کے ساتھ سگریٹوں کی ملی خؤشبو کو انڈیلتے وہ بےخودی سے اپنے بھاری ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کیے اسے سینے میں بھینج گیا۔

رفتہ رفتہ ابتہاج کی بڑھتی تشنگی ماہا کی جان لبوں پہ لائی تھی، جبھی وہ ابتہاج کی گردن کے گرد بازوؤں لپیٹتے خود کو اس ظالم کے رحم و کرم پہ چھوڑ گئی۔۔۔۔ جو اسکی قربت میں اپنا ہر غم ہر پریشانی بھلا چکا تھا۔۔

آسمان سے برستی بارش ان دونوں کو چونکا گئی جو دنیا سے بےگانہ ایک دوسرے کی قربت میں مدہوش سے تھے۔۔۔

ماہا نے جھٹکے اپنا آپ اسکی گرفت سے آزاد کرایا اپنی بےخودی وہ کی جان سے شرمندہ اندر بھاگنے لگی کہ ابتہاج نے اسکے سنبھلنے سے پہلے ہی ہاتھ اسکے پیٹ کے گرد حائل کیے ماہا کو کھینچتے خود سے لگایا۔۔

آسمان سے برستی اس تیز بارش نے ابتہاج نے جذباتوں کو مزید بھڑکایا تھا۔۔۔ وہ بےخودی میں اسکی گردن سے گیلے بالوں کو سمیٹتے اپنے لب رکھتے اسے خود سے مزید قریب تر کر گیا۔۔

گزرتے پر ایک لمحے میں ابتہاج کی شدتیں اس نڈھال سے کرنے لگی جو بس خود پہ سایہ بنے اس ظالم شخص کی اپنی سانسوں میں گھلتی خوشبو کو محسوس کر رہی تھی۔۔

__________________

” تم سے کہا تھا کہ میرا کام جلد از جلد ہو جانا چاہیے۔۔۔” وہ غصے سے فون کو مٹھی میں دبوچتے غرا اٹھا ۔۔۔۔۔

دوسری جانب سے اس سے معافی مانگی جا رہی تھی کہ کام ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا تھا ۔

اس ابتہاج کی ہار دیکھنی ہے میں نے۔۔۔ تم نے کہا تھا کہ بہت جلد اسے بےآسرا کر دو گے مگر اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اسکے سر پہ چھت موجود ہے ۔۔۔۔ اسکے اپنے اسکے ساتھ ہیں۔۔ن مجھے ابتہاج گردیزی کو جھکا دیکھنا ہے ۔۔۔۔ اگر اس ہفتے کام ناں ہوا تو بھول جاؤ کہ سمیر تمہارے کسی کام آئے گا۔۔۔۔۔۔”

اسنے غصے سے کہتے ساتھ ہی فون کاٹا تھا۔۔۔۔۔۔ اسکا بس نہیں تھا کہ وہ آگ لگا کے راکھ کر دیتا ابتہاج کو ۔۔۔۔۔ سمیر نے غصے سے پاس پڑے ٹیبل کو لات مارتے وہ اپنی اب تک ہوئی ناکامی پہ چیختے اپنے بالوں کو دبوچتا بےبس ہوا تھا۔۔۔۔۔

___________________

ڈاکٹر آپ دھیان سے چیک کریں کہیں کوئی زیادہ چوٹ تو نہیں آئی صنم کو۔۔۔۔۔”

وہ پریشان سا ڈاکٹر کو دیکھتا بولا تھا جو صنم کے پاؤں کا بغور معائنہ کرتے اب صالح کو دیکھ رہی تھی جو کب سے کھڑا ڈاکٹر کو ڈسٹرب کر رہا تھا ۔۔۔

مسٹر خان آپ ریلکس رہیں آپ کی مسزز بالکل ٹھیک ہیں بس انکے پاؤں موچ آئی ہے میں نے سٹیچز لگا دیے ہیں تھوڑی سی احتیاط کیجئے گا اب وہ بہتر ہیں۔۔۔۔۔”

صنم کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ ڈاکٹر مسکراتے بولی تو صالح نے گہرا سانس بھرتے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔

تھینکیو ڈاکٹر ۔۔۔۔۔” ڈاکٹر کی جانب دیکھتے صالح نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جس پہ ڈاکٹر پیشہ ورانہ انداز میں مسکراتی وہاں سے نکلی ۔۔۔۔

” اب کیسا فیل ہو رہا ہے درد تو نہیں کہیں پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔” اسکے قریب بیڈ پہ بیٹھتے صالح نے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرتے پوچھا تھا۔۔۔ صنم نے مسکراتے سر نفی میں ہلایا تو صالح نے جھکتے اسکی پیشانی پہ بوسہ دیا ۔۔۔۔۔۔

” ڈونٹ وری میں اپنی جان کا خود خیال رکھوں گا تو وہ جلدی سے ٹھیک ہو جائے گی ۔۔۔۔”

صالح نے شدت سے اسکے گالوں کو چومتے اسکی آنکھوں پہ بوسہ دیا تو صنم نے آنکھیں موندتے سکون اپنے اندر اتارا۔۔۔

صالح میں ٹھیک ہوں اب۔۔۔۔۔۔” صالح کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے صنم نے تسلی دیتے لہجے میں نرمی سے کہا تھا وہ سنتا سر ہلاتے اسے خود میں بھینج گیا۔۔۔۔۔ اسکے ساتھ پہ پرسکون سی وہ خود بھی آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔۔۔

تم ویٹ کرو میں میڈیسن لے کر آتا ہوں اور پھر ہم چلتے ہیں۔۔۔۔۔ ” صنم کے سر پہ ہونٹ رکھتے وہ کہتے ساتھ ہی باہر نکلا تھا ۔۔۔۔ جبکہ وہ اسکے جانے کے بعد اسی کا سوچتے مسکرا اٹھی۔۔۔۔۔

کتنا اپنا پن کتنی محبت جھلکتی تھی صالح کے ہر انداز سے۔۔۔۔۔۔ اپنے آپ میں پیدا ہوتا خلا آج صنم کو بھرتا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔۔

وہ گہری سوچ سوچتے اسکے ناں آنے پہ خود ہی بےقرار سے کچھ منٹوں کے بعد باہر نکلی تھی۔۔۔۔

صنم نے نظریں گھمائے اسے ڈھونڈا جو اسے کہیں بھی نہیں ملا تھا۔۔۔۔ صنم بےچینی سے منہ بناتے آگے پیچھے دیکھ لب کچلنے لگی ۔۔۔۔

اچانک سے اسکی نظر سامنے موجود دروازے سے نکلتے دلاور شاہ اورمنیبہ بیگم پہ پڑیں ۔۔۔۔ صنم کا چہرہ باپ کو دیکھتے زرد پڑنے لگا ۔ وہ آگے ہی ایک پاؤں پہ بوجھ ڈالے کھڑی تھی مگر اب اسکا وجود بری طرح سے کپکپانے لگا تھا ۔

اپنی جانب بڑھتے انکے قدموں کو دیکھ صنم کو اپنا کیا ہر گناہ یاد آنے لگا وہ بےچینی سے دھڑکتے دل سے گھبراتے رخ موڑے دوڑنے لگی پاؤں میں ہوتی تکلیف کو نظر انداز کیے وہ بس ان کی نظروں سے کہیں دور بھاگ جانا چاہتی تھی وہ انکا سامنا نہیں کر سکتی تھی کرتی بھی کیسے ۔۔۔۔ کیا اتنا آسان تھا ان سے ملنا۔۔۔۔۔۔ انکی آنکھوں میں بسی اس التجا کو یاد کرنا جو وہ کتنے مان سے اس سے کرتے تھے ۔۔۔۔

” پاؤں میں ہوتے درد کی وجہ سے صنم کا چہرہ آنسوں سے تر ہونے لگا وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی کہ اچانک سے وہ بری طرح سے کسی سے ٹکراتے گرنے لگی کہ معا مقابل جو اسے یوں بھاگتا دیکھ اسکے پیچھے لپکا تھا۔۔۔صالح نے اسے کھینچتے خود میں بھینجا ۔۔۔

صنم کیا ہوا ؟ تم ٹھیک ہو ……” اسکے سر کو تھپکتے صالح نے چینی سے پوچھا تھا جبکہ اسکے حصار اسکی آواز کو سنتے صنم کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اسے تیز دھوپ سے نکالتے چھاؤں میں لا کھڑا کیا تھا ۔۔۔۔ جہاں اسکے اوپر انگلی اٹھانے والا کوئی نہیں تھا اسکا مخافظ تھا اسکے ساتھ۔۔۔۔

صص صالح وو وہ بب بابا کک کو کودیکھا میں نے۔۔۔صص صالح وہ مم میرے بابا وہ یہاں ہیں صالح بہت کمزور ہو گئے ہیں وہ صص صالح پلیز مجھے چھپا دو میں میرا دم گھٹ رہا ہے مرنا نہیں چاہتی پلیز مجھے کہہں دور لے جاؤ پپ پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔ ”

اسکے سینے سے لگی وہ ڈرتے اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑتے سہمی ہوئی آواز میں بولی تھی ، اسکے خوف کو محسوس کرتے صالح نے نرمی سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے اسے پرسکون کرنا چاہا ۔۔ صنم کے خوف سے وہ بخوبی واقف تھا۔۔۔

اششششش ۔۔۔۔۔ تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا میرے ہوتے ہوئے ۔۔۔۔۔ تم صالح خان کی عزت ہو میرا مان میرا غرور ۔۔۔۔۔ تم جانِ صالح ہو ۔۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔۔ اور میرے ہوتے ہوئے تمہیں کسی بات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔” اسکی گرفت میں مضبوطی شدت سی تھی کہ اسکے لفظوں میں دھری وحشت پہ صنم خود بھی پریشان سی ہوتے رہ گئی ۔۔۔۔

گھر چلیں جہاں میری صنم کو کوئی بھی جواب نہیں دینا پڑے گا وہ ہر قسم کے سوال و جواب سے آزاد ہو جہاں ۔۔۔ جہاں ہماری محبت کا ایک چھوٹا سا آشیانہ ہے۔۔۔۔۔۔”

اپنے لفظوں میں سکون پروئے وہ اسکی روح کو پرسکون کرتے جھکتے اپنی گود میں بھر گیا جبکہ وہ خاموشی سے اسکی گود میں سکون سے آنکھیں موندے سر اسکے سینے سے ٹکا گئی۔۔۔۔۔

__________________

رات کو ہوئی تیز بارش کے بعد صبح کا موسم کافی خوشگوار سا تھا۔۔۔۔۔ چاروں طرف پھیلا سبزہ گردیزی ہاؤس کو الگ سی رونق بخش رہا تھا۔۔ جبھی لان کے پچھلے ایریا سے وہ منہ پہ ماسک لگائے دیوار پھلانگتے کودتے اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔

چاروں اور نظریں دوڑائے وہ محتاط سا آگے بڑھا اور پائپ کی مدد سے اوپر چڑھتے وہ بالکونی کے راستے سے اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔

ایک نظر بیڈ پہ اطمینان سے سوئے ماہا ابتہاج پہ ڈالتے وہ احتیاط سے بیڈ کے قریب رکھے میز کی نجانب بڑھا تھا۔۔۔ اور احتیاط سے دراز کھولتے وہ مطلوبہ چیز نکالتا ایک طرفہ مسکراتے دھیمے قدموں سے کھڑکی کی جانب بڑھا تھا ۔

ابتہاج ۔۔۔۔۔ ابتہاج اٹھیں ۔۔۔۔۔۔۔” نیچے سے آتی تیز آوازوں پہ ماہا جو اچانک سے ہربڑاتے اٹھی تھی ابتہاج کو سوتا پاتے ماہا نے اسے جھنجھوڑتے اٹھایا ، جو گہری نیند میں تھا ۔۔۔

یار سونے دو مجھے ڈسٹرب مت کرو ۔ ابتہاج دوبارہ سے اسے کھینچتے اپنے حصار میں لیتا آنکھیں موندے بولا ، جبکہ ماہا اسے جھنجھوڑتے پھر سے اٹھانے لگی جو گہری نیند میں تھا ۔۔۔

ابتہاج اٹھیں تو دیکھیں ذرا ہوا کیا ہے نیچے ۔۔۔۔” وہ کافی پریشان سی تھی۔۔۔اسکے حصار کو توڑتے ماہا نے اسکے نیچے آئے اپنے دوپٹے کو کھینچتے نکالا۔۔۔ تو ابتہاج بھی آنکھیں مسلتے اٹھا تھا ۔۔۔

اوکے چلو دیکھتے ہیں کہ آخر ہوا کیا ہے۔۔۔۔۔” ماہا کے چہرے پہ پھیلی پریشانی کو دیکھتا وہ حامی بھرتے اٹھا تھا۔۔۔۔۔

” بول سالے کیا کر رہا تھا توں اوپر ۔۔۔۔۔۔ ” سمیر بری طرح سے اس شخص کو پیٹ رہا تھا جبکہ صباء بیگم اور کاشان صاحب دونوں ہی پریشان سے ایک جانب کھڑے تھے۔۔۔

سمیر کیا ہوا کون ہے یہ ؟ اور کیوں مار رہے ہو اسے ۔۔۔۔۔۔”

ابتہاج نے آگے بڑھتے سمیر کو تھامنا چاہا تھا جو غصے سے اس شخص کو بری طرح سے پیٹ رہا تھا۔۔ ماہا بھی پریشان سے نیچے آئی تھی جہاں سامنے ہی ایک انجان شخص کو یوں سمیر سے مار کھاتا دیکھ وہ کافی پریشان ہوئی تھی ۔۔۔۔

” برو تھم نہیں جانتا یہ اوپر تمہارا کمرے سے اترے تھا ۔۔۔۔اور میں نے اسے دوڑ کے جکڑ لیا ۔۔۔۔۔” اپنے چہرے پہ آتے پسینے کو صاف کرتا وہ پھر سے اسے لاتوں سے پیٹنے لگا۔۔۔۔۔ جو آگے ہی آدھ مرا ہو چکا تھا۔۔۔۔

” کیا کر رہے تھے تم میرے کمرے میں بولو۔۔۔۔۔ ابتہاج غصے و اشتعال سے اسکی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔اسکا بس نہیں تھا کہ وہ اسے ختم کر دے۔۔۔۔ ابتہاج نے جھٹکے سے اسے گریبان سے کھینچتے کھڑا کیا تو مقابل نے جو فائل اپنی شرٹ کے اندر چھپائی تھی وہ ایک دم سے نکلتے باہر گری تھی۔۔۔۔

جسے دیکھ سب ہی حیران کن تاثرات سے اس فائل کو دیکھنے لگے ۔۔۔ ابتہاج کے ماتھے پہ ایک ساتھ جانے کتنے بل نمودار ہوئے تھے جبھی وہ غصے سے اسے کھینچتے مکوں سے مارنے لگا ۔۔۔۔۔

بول کمینے توں نے ہی میری فائل چوری کی تھی ناں ۔۔۔۔۔۔ کون ہو تم اور کیوں کیا ایسا۔۔۔۔۔” وہ غصے سے ہے درپے مکے مارتے اسکی جان لینے کے در پہ تھا ۔۔۔۔

برو چھوڑو اس کو ۔۔۔ میں نے پولیس کو بولا ہے وہ آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ ” اسکے بپھرے روپ کو دیکھتا سمیر جلدی سے آگے ہوتے ابتہاج کو بازوؤں سے پکڑتے پیچھے لے گیا۔۔۔

چلو بیٹا اندر دیکھ لیں گے یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔ ” کاشان صاحب گیٹ سے داخل ہوتے پولیس اہلکاروں کو دیکھ ابتہاج کے قریب جاتے اسے سمجھانا چاہا جانتے جو تھے اگر وہ آپے سے باہر ہوا تو اسکو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔۔۔

ابتہاج اپنا آپ چھڑواتے وہاں سے اندر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔اسکی آنکھوں میں ابھی تک خون دوڑ رہا تھا جبھی خود پہ بمشکل سے قابو پاتے وہ غصے سے وہاں سے نکلا۔۔۔۔۔

لے جائیں اسے اور جتنی جلدی ہو سکے اس سے پتہ لگوائیں کہ اس نے کتنی بار اور کیا کیا چوری کیا ہے ہمارے گھر سے۔۔۔انسپیکٹر کو دیکھتے کاشان صاحب غصے سے بولے تو وہ سر کو حم دیے فرش پہ بےسودھ پڑے اس شخص کو اٹھائے وہاں سے نکلا تھا۔۔۔

تمہارا بہت بہت شکریہ بیٹا۔۔۔۔۔اگر اج تم ناں دیکھتے تو جانے کیا ہو جاتا ۔۔۔۔۔۔”

” سمیر جو ایک جانب سنجیدہ سی شکل لیے کھڑا تھا اسکے قریب جاتے منیبہ بیگم نے ہاتھ اسکے سر پہ رکھتے کہا تو وہ مسکرا دیا ۔۔

شکریہ والی کوئی بات نہیں آنٹی یہ تو میرا چرس تھا۔۔۔۔۔” وہ اپنائیت سے کہتا سب کو ہنسنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔۔

چرس نہیں فرض ہوتا ہے بندر۔۔۔۔..” اسکی تعریف پہ ماہا جو اب اپنے روٹھے شوہر کے جانے کے بعد انکے قریب آئی تھی سمیر کو پھر سے اپنی غلط اردو استعمال کرتے دیکھ وہ منہ بناتے بولی تو سمیر نے منہ کے زاویے بگاڑے۔۔۔۔۔۔۔۔

جو بھی ہو مگر میں نے اسے پکڑ تو لیا۔۔۔۔” وہ اپنی بات پہ ڈٹا اترا کے بولا تو ماہا نے ناک چڑھائی جیسا کہہ رہی ہو کونسا احسان کیا ہے ۔۔۔

بیٹا ابتہاج نے کچھ کھایا ہے کہ نہیں۔۔۔۔ ” کاشان صاحب جو سمیر کا شکریہ ادا کر رہے تھے ایک نظر انہیں مصروف دیکھتے منبیہ بیگم ماہا کے قریب جاتے پوچھنے لگی۔۔۔۔

ماہا کو رات اسکی کی حرکتیں اسکا پاگل پن ایک بھر پھر سے جھرجھری لینے پہ مجبور کر گیا۔۔۔۔۔۔

نہیں ماما میں نے بولا تھا مگر وہ مانے نہیں۔۔۔۔۔ ابھی کچھ بنانے لگی ہوں میں۔۔۔۔” وہ انگلیاں چٹخاتے شرمندہ سی نظریں جھکا گئی ۔ اسکا شوہر بھوکا تھا اور اسکا فرض تھا اسکا خیال رکھنا کتنی شرمندگی ہوئی تھی اسے منیبہ بیگم کے سامنے___کیا سوچ رہی ہونگی وہ اسکے متعلق۔۔۔۔۔۔۔ ”

بیٹا تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں وہ بچپن سے ہی ایسا ہے جس بات کو سر پہ سوار کر لے جب تک اسکا بھوت ناں اترے وہ سکون سے نہیں رہتا اور اب تو اسے اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔۔۔۔۔ اسی وجہ سے وہ خود کو تکلیف پہنچا رہا ہے ۔۔۔ تم ایسا کرو اسکے لئے کچھ ہلکا سا بنا لو۔۔۔۔۔ میں تمہارے باباکو دیکھوں رات سے کافی غصے میں ہیں۔۔۔۔

ماہا کو ہدایت دیتی وہ کاشان صاحب کے پیچھے ہی لان میں گئی جو سمیر کے ساتھ بات کرتے اپنا بی پی کنٹرول کر رہے تھے ۔ورنہ اپنی سالوں کی محنت کے یوں چٹکیوں میں کھو جانے کے صدمے سے انہیں پوری رات نیند نہیں آئی تھی۔۔۔۔۔۔

ماہا فورا سے کچن میں جاتے ابتہاج کے لئے ناشتے کا سوچنے لگی۔۔۔۔۔ چائے کا پانی چڑھاتے ماہا نے جلدی سے فریج سے انڈے نکالے تھے۔۔۔۔۔

اچانک سے آتے چکر پہ وہ ہاتھ اپنے سر پہ رکھتے آنکھیں بند کیے کھولتے دوبارہ سے سر کو زور سے ہلائے کاوئنٹر کی جانب بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ہو رہا ہے مجھے اتنا دل کیوں خراب ہو رہا ہے۔۔۔۔۔” انڈے کو باؤل میں ڈال وہ فورا سے اسکی سمیل پہ عجیب سے منہ بنائے پیچھے ہوتے بڑبڑائ تھی۔۔۔۔۔۔۔ اسکی طبیعت کل شام سے ہی کافی عجیب سی تھی سر بھی کافی بھارا ہو رہا تھا مگر ابتہاج کی پریشانی کے پیچھے وہ سب کچھ بھلا چکی تھی ۔۔۔۔ اور اب یوں اچانک سے آتے چکروں پہ وہ بری طرح سے جھنجھلاتے ہوئے سر جھٹکتے دوبارہ سے اپنے کام میں لگی۔۔۔۔۔۔۔

مگر ایک دم سے اسکی آنکھوں پہ اندھیرا سا چھانے لگا ۔۔۔۔ بمشکل سے پوری کوشش کے باوجود بھی وہ پوری طرح سے آنکھیں نہیں کھول پا رہی تھی جبھی وہ نڈھال سی سر کو ہاتھوں میں تھامے کچن سے باہر نکلے ابتہاج کو پکارنے لگی ۔۔

مگر درد کی شدت سے اسکے ہونٹ بمشکل سے ہل پا رہے تھے۔۔۔۔۔۔

ماہا۔۔۔۔۔۔” منیبہ بیگم جو ماہا کا ہاتھ بٹانے آئی تھی اب یوں اسے زمین بوس ہوتا دیکھ وہ بری طرح سے چیختے اسکے پاس آئی ۔۔۔۔۔۔ انکی آواز پہ سمیر کاشان صاحب بھی دوڑتے کچن کی جانب آئے تھے۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا ہے اسے پیچھے ہوں میں اٹھاتا ہوں اسے ۔۔۔۔۔۔” سمیر آگے بڑھتا منبیہ بیگم کی پریشان ہوائیاں اڑی رنگت کو دیکھ بولا تھا۔۔۔۔۔ ہاں بیٹا اٹھاؤ بچی کو۔۔۔کاشان صاحب نے اسے آگے کرتے کہا تو وہ سر ہلاتے جھکتے ماہا کو اٹھانے لگا۔۔۔۔ مگر اسکے ہاتھ ماہا کی طرف بڑھتے ہی کسی نے درمیان میں سے ہی تھام لیے تھے۔۔۔۔

سمیر نے حیرانگی سے نظریں اٹھائے دیکھا تو آنکھوں میں عجیب سے شعلے لئے اسکے ہاتھ کو بری طرح سے جھکٹتے ابتہاج خود جھکتا ماہا کو گود میں بھرتے اپنے روم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔۔

________________

” کیا کر رہے ہیں آپ صالح ۔۔۔۔پلیز میں ٹھیک ہوں چھوڑیں میرا پاؤں ۔۔۔۔۔” اپنے پاؤں کا معائنہ کرتے صالح کو دیکھ صنم بری طرح سے جھنجھلاتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔۔ مگر مقابل کے ماتھے پہ ڈھیروں بل اور آنکھوں میں عجیب سے چمک تھی۔۔۔۔۔۔۔

” چپ رہو یار۔۔۔۔مجھے پورا یقین ہے اس ڈاکٹر نے کچھ غلط علاج کیا ہے ۔۔بھلا کوئی ایسے پٹی باندھتا یے۔۔۔۔ صنم۔کے پاؤں کو آگے پیچھے سے پکڑتے بغور دیکھتا وہ اپنا شک اسپہ عیاں کر گیا۔۔۔۔۔صنم نے گہری سانس فضا میں خارج کرتے اس عجیب سے پاگل شخص کو دیکھا۔۔۔۔۔۔

صالح ایسی ہی کرتے ہیں پٹی اور ظاہر سی بات سے پاؤں پر لگی ہے سوجھن تو گی ۔۔۔۔۔ صنم نے اسکا ہاتھ تھامتے اسے سمجھایا تو صالح نے آنکھیں چھوٹی کیے صنم کو گھور کے دیکھا اسکی نظروں پہ صنم ہڑبڑا اٹھی ۔۔۔ ۔

تمہیں بڑا پتہ ہے کیوں طرف داری کر رہی ہو اس پاگل ڈاکٹر کی۔۔۔۔۔۔ وہ دانت پیستے ائبرو اچکاتے بولا تو صنم کا دل چاہا کہ ماتھا پیٹ لے ۔۔۔

صالح خدارا بس کر دیں ۔۔۔۔۔میں بھلا کیوں طرف داری کروں گی اس ڈاکٹر کی ۔۔۔۔ ویسے بھی وہ ایک لڑکی ہے اور موچ آنے پہ سوجھن ہونا عام سی بات ہے ۔۔۔۔۔”

صنم نے محبت سے اپنے پاس بیٹھے صالح کے بالوں کو بکھیرا تو صالح کی آنکھیں چمک اٹھی ۔۔۔۔۔۔

تو کیا درد نہیں ہو رہا تمہیں ۔۔۔۔۔” وہ شیو کو انگوٹھے سے مسلتے گہرے لہجے میں پوچھنے لگا ۔۔۔۔

صنم نے اپنے گھٹنوں کے قریب بیٹھے اس خوبصورت مرد کو دیکھا جو اس کی تکیلف پہ گھل رہا تھا۔۔۔۔

نہیں ہو رہا درد سچی ۔۔۔” وہ آنکھیں میچتے اسے یقین دلانے لگی تو مقابل کے چہرے پہ ایک گہری دلچسپ مسکراہٹ بکھری۔۔۔۔

تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔۔ صالح ہاتھ صنم کے پاس رکھتے بھاری لہجے میں کہتا آہستہ آہستہ اٹھتے اسپہ جھکتا سایہ سا کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔ اپنے دوپٹے کے گرد لپٹے صالح کا بھاری ہاتھ اسکی دھڑکنوں کی آواز سنتے وہ سن سی پڑنے لگی ۔۔۔۔۔

صصص صالح مجھے پاؤں میں درد ہے سچی ۔۔۔۔۔” اپنی گردن پہ جھکے صالح کے بےباک لمس کو محسوس کرتے وہ تیز ہوتی سانسوں سے بولی تو صالح نے ہونٹ اسکی تھوڑی پہ رکھے ۔۔۔۔۔

مگر ابھی تو نہیں ہو رہا تھا تمہیں درر۔۔۔۔۔۔” صنم کی بند آنکھوں کو دیکھتا وہ ہونٹ اسکی ناک پہ رکھتے بولا ۔۔۔

ہہ ہاں مم۔مگر ہلانے سے تو ردد ہو گا ناں ۔۔۔۔۔۔” صالح کی قربت اسکے ارادے بھانپتے وہ شدید گھبراہٹ میںں جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی۔۔۔۔مگر جب اپنی بات کا احساس ہوا صنم کا پورا چہرہ خفت و شرم سے سرخ پڑ گیا ۔۔۔۔۔۔

صالح نے مسکراتے اسکے سرخ ہونٹوں کو دیکھا جنہیں چھونے کی طلب اسے بےقرار کر رہی تھی۔۔۔۔۔

تو میری جان تم اسے حرکت ناں دینا باقی کام میں خود کر لوں گا۔۔۔۔۔۔ اسکے سرخ رخسار کو سہلاتے وہ شدت سے اسکے ہونٹوں پہ جھکتا اپنی من مانیاں کرنے لگا ۔۔۔۔۔ صنم اسکے آگے ہارتے اپنا آپ اسی کے سپرد کر گئی۔۔۔۔۔ جس کی شدتیں صنم کی جان پہ بن آتی تھی۔۔۔۔۔

_________________

بہت بہت مبارک ہو آپ کو مسزز گردیزی آپ کی بہو ماں بننے والی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ”

وہ سب پریشان سے دروازے کے باہر ٹہل رہے تھے۔۔۔۔ابتہاج کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔۔ وہ بےقراری سے ڈاکٹر کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا مگر جو خبر ڈاکٹر نے اسے دی تھی ابتہاج کا وجود بالکل سن سا پڑ گیا۔۔۔۔۔۔۔

کیا آپ سچ کہہ رہی ہیں ڈاکٹر ۔۔۔۔۔۔۔ تھینکیو ڈاکٹر آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے اتنی اچھی گڈ نیوز سنائی ۔۔۔۔۔ منیبہ بیگم تو خوشی سے نڈھال سی ہو گئی تھی۔۔۔۔۔کچھ ایسا ہی حال کاشان صاحب کا بھی تھا۔۔۔۔مگر ان سب میں وہ جو باپ بننے والا تھا اس خوشی کی خبر کے بعد اسکا چہرہ مزید سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔

آپ کو اب پہلے سے زیادہ خیال رکھنا ہے ماہا کا۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ سب کے پیار اور کئیر کی ضرورت ہو گی اسے اب سے۔۔۔۔۔ ابھی میں نے دوا دے دی ہے وہ تھوڑی دیر میں ہوش میں آ جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ اسے کل لے آئیے گا میں پراپر چیک اپ کروں گی ایک بار۔۔۔۔۔”

صباء بیگم کی جانب دیکھتے ڈاکٹر نے انہیں تفصیل سے آگاہ کیا تو وہ سر ہاں میں ہلاتے ڈاکٹر کے ساتھ ہی نیچے اسے چھوڑنے آئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔

دن سے رات ہو گئی تھی مگر وہ یونہی آنکھوں پہ ہاتھ رکھے بےچین سے لیٹی تھی۔ کتنی خوش تھی وہ صباء بیگم، کاشان صاحب سب نے اسے مبارک دی تھی ،صباء بیگم نے اس کی پیشانی چومی اور اسے ممتا کے نئے احساس سے روبرو کرایا اسے بتایا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے ۔۔۔۔ ماہا تو جانے کئی لمحوں کے لئے سن سی ہو گئی تھی ۔۔۔۔ یہ احساس یہ رشتہ ۔۔۔۔۔ سب کچھ عجیب سا تھا کچھ الگ مگر بہت خاص دل کے ۔۔۔ روح کے قریب۔۔۔۔۔۔ ”

دو آنسوں اسکی آنکھوں سے گرے تھے اپنے رب کی اس نوازش پہ۔۔۔۔۔ جس نے اسے اس قابل سمجھا تھا کہ وہ آج ایک ماں کے رتبے پہ فائز ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔

صباء بیگم اسکا سر ماتھا چومتی خوشی سے جانے اپنی کتنی ہی پلیننگ سنا گئی تھی جسے وہ ہنستے ہوئے سن رہی تھی ۔۔۔۔۔ مگر اسے جس ظالم کا انتظار تھا وہ آنا ہی بھول گیا تھا ۔۔۔۔ وہ دن سے ابتہاج کا انتظار کر رہی تھی اسکے چہرے کے ایکسپریشن اسکی خوشی دیکھنا چاہتی تھی مگر اب گزرتے وقت کے ساتھ اسکا خوف بڑھنے لگا ۔۔۔ دل جیسے بیٹھ سا گیا تھا۔۔۔۔۔

” کیا اسے سب سے پہلے نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ دل نے سوال کیا تو اسکے اندر درد کی ایک ٹیس سی اٹھی ۔۔۔۔جبھی اپنے آنسوں کو صاف کرتے وہ اٹھتے لائٹ آف کرنے لگی مگر نظریں سامنے سے دروازہ کھولتے بکھرے سے ملگجے حلیے میں اندر داخل ہوتے ابتہاج پہ پڑی۔۔۔۔

وہ شخص تو ہر روپ میں دلوں پہ قابض ہونے کے فن سے واقف تھا۔۔ماہا نے لب بھ?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *