Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 29)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 29)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
صالح آپ مجھے نیچے اتاریں میں ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا مجھے۔۔۔” صالح کے کندھے پر ہاتھ رکھتے صنم نے جھنجھلاتے ہوئے کہا تو صالح نے سر جھکائے اپنی گود میں موجود اپنی معصوم جان کو دیکھا۔۔
نہیں ہو تم ٹھیک ، تمہاری وجہ سے میرا بے بی بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔ میں نے پہلے ہی تمہیں وارن کیا تھا صنم کہ چاہے کچھ بھی ہو مگر تم خود پر کسی بھی چیز کا بوجھ یا پھر سٹریس نہیں لو گی۔
مگر تمہیں میری کوئی بات کہاں سمجھ آتی ہے۔…؟” اسے گھورتے وہ خفا خفا سا بولا۔۔۔ آج کے بعد تمہیں میں اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاؤں گا۔۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے صالح نے پاؤں سے دروازہ بند کرتے ایک اور شوشا چھوڑا ، صنم نے منہ بنائے اسے دیکھا۔
میں ٹھیک سے کھاتی ہوں صالح آپ کو کوئی ضرورت نہیں مجھے کھلانے کی۔۔۔۔۔” وہ منہ بنائے بولی تو صالح نے اسے بیڈ پر لٹاتے گھورا۔۔
اچھا اسی وجہ سے اتنی ویکنیس ہوئی پڑی ہے تمہیں، حالت دیکھو اپنی بالکل کمزور ہو گئی مجھے اپنا بچہ بالکل سہی سلامت چاہیے صنم اور اپنی بیوی بھی ۔۔۔۔۔ صنم کے قریب دائیں بائیں اپنے دونوں ہاتھ رکھتے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے مضبوط لہجے میں بولا ۔۔۔ تو اپنے ہونٹوں پر جھکتے صالح کو دیکھ صنم نے فورا سے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا۔۔
اب کیا پروبلم ہے۔۔۔ صالح نے گھورتے اسکا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے ہٹاتے پوچھا۔۔۔
“ووو وہ مم ماہا کہاں ہے ہم اسے کب لینے جائیں گے۔۔۔” صالح کی جذبات کی آنچ دیتی نظروں سے نگاہیں چرائے وہ منمنائی تو صالح نے لب بھینجتے اسے گھورا۔۔
وہ ابصام کے پاس ہے ہم صبح لے آئیں گے اسے۔۔۔۔ صالح نے جھکتے اسکی گردن پر ہونٹ رکھتے سرگوشی کی ۔۔ ابصام کے پاس کیوں وہ وہاں اسکے پاس کیسے رہے گی ساری رات صالح۔۔۔ ہمیں ابھی جانا ہو گا۔۔۔”
صنم کا دماغ ابھی تک ماہا پر اٹکا ہوا تھا وہ جانتی تھی کہ ماہا کسی دوسرے انسان کے پاس زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا اسے وہ ٹھیک ہے میری بات ہوئی تھی فون پر کچھ دیر پہلے اب تک تو وہ سو گئی ہو گی۔۔۔”
صنم کے بالوں کو جوڑے سے آزاد کرتے وہ گھبیر لہجے میں بولا تو صنم نے سرد سانس فضا کے سپرد کیا۔۔۔
صالح نے جھکتے اپنے ہونٹ صنم کے ماتھے پر رکھے تو صنم اسکے لمس پر خاموشی سے آنکھیں موند گئی ، صالح کی نظریں صنم کے حسین چہرے سے ہوتے اسکے ہونٹوں پر ٹکی تھی۔۔
جبھی وہ بے ہودی سے اسکے ہونٹوں پر جھکتا صنم۔کی سانسوں کو اپنی سانسوں سے الجھا گیا ، اپنے ہونٹوں پر صالح کی دہکتی گرفت کو محسوس کرتے صنم کا سانس سینے میں اٹکنے لگا کہ صالح نے جھکتے اسکے ہونٹوں کو آزادی دیے اسکی گردن اور کندھوں کو اپنے ہونٹوں سے چھوا۔۔ صنم سرخ چہرے سے پڑی لمبے لمبے سانس لیتے خود کو پرسکون کرنے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی صالح اپنی من مانیاں کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا ۔۔
جبھی وہ اسکی پناہوں میں خاموش پڑی تھی۔۔ صالح کی بڑھتی شدتوں پر وہ آنکھیں موندے ہمیشہ کی طرح اپنا آپ اسی کے سپرد کر گئی ۔۔۔
_____________
ابببب ابتہاج پلیز ناں کریں مجھے سونا ہے۔۔۔ ” ماہا منہ بسورتے ابتہاج کو خود سے دور کرنے کی کوشش کرتے نیند سے بھری سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتے بولی تو ابتہاج کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ رقص کرنے لگی ۔
اتنے دنوں سے سوئی ہی رہی ہو میں نے کونسا تمہیں کچھ کہا ہے مگر آج اتنے دنوں کے بعد مجھے خود کو محسوس کرنے سے نہیں روکو تم ۔۔۔۔۔ ” ماہا کی گردن پر اپنے ہونٹوں کا لمس چھوڑتے وہ بوجھل لہجے میں بولا تو ماہا خاموش سی رہ گئی ۔۔
کمرے کے ملگجے اندھیرے کے باوجود بھی وہ جانتی تھی کہ صبح ہو چکی تھی ،پوری رات ابتہاج کی من مانیاں اسکی شدتیں سہتے وہ اب خاصی تھکی ہوئی تھی مگر ابتہاج کا ابھی تک اس سے دور ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔
وہ کسی پاگل جنونی شخص کی طرح اسے بار بار اپنی بانہوں میں سمیٹتے اسے خود سے قریب کر لیتا جیسے ڈر ہو کہ کوئی اسے دور ناں لے جائے۔۔
ابب ابتہاج وہ ڈاکو جی آپ ہی تھے ناں اور سرخ داڑھی والے انکل بھی۔۔۔۔۔ ماہا کے ذہن میں اچانک سے ہی اس ڈاکو کا چہرہ لہرایا۔جس کا لمس بالکل اسکے ابتہاج کی طرح کا تھا۔۔ ابتہاج نے مسکراتے اپنے ہاتھ کی انگلی سے ماہا کے چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کیا اور جھکتے اسکے گال پر اپنے لب رکھے ۔۔
ہاں میں ہی تھا ، تمہارا ڈاکو جی اور سرخ داڑھی والا انکل بھی ۔۔۔۔۔ اسکی تھوڑی کو محبت سے چھوتے وہ بھاری لہجے میں بولا تو ماہا کی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے ۔۔اگر وہ آپ ہی تھے تو پھر کیوں مجھ سے اتنا عرصہ دور رہے کیوں مجھے یہ نہیں بتایا کہ آپ زندہ ہیں اور کیوں سب کو چپ نہیں کروایا جو مجھے بار بار کہتے رہے کہ تمہارا ابتہاج نہیں رہا ۔۔”
اسنے روتے اپنی بھیگی شکوہ کرتی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔ ابتہاج نے گہرا سانس فضا کے سپرد کرتے جھکتے ماہا کے ماتھے پر لب رکھے۔۔۔ تو ماہا نے خفا ہوتے اسے خود سے دور کرتے رخ موڑنا چاہا۔۔ مگر ابتہاج نے ایک دم سے اسکی نازک کمر کے گرد بازوؤں حائل کیے اسکا رخ دوبارہ سے اپنی جانب کرتے اسے مضبوطی سے اپنے بازوؤں میں بھرا۔۔
کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری وجہ سے میری جان اور میرے بچے پر کوئی آنچ آئے۔۔۔ کوئی ہے جو مجھے تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے اور میں اب تک اپنے اس دشمن سے انجان تھا مگر اب میں جانتا ہوں کہ میرا دشمن کون ہے اور اب مجھے کسی کا کوئی ڈر خوف نہیں میں اپنی ماہا کو اب کبھی بھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا ۔۔۔۔ تم نہیں جانتی کہ یہ سارا عرصہ میں نے کیسے کانٹوں پر گزارا ہے ۔۔
تمہیں دیکھنے چھونے اور محسوس تک کرنے سے محروم رہا میں۔۔۔ کیا تم نہیں جانتی کہ میں تمہارے بنا سانس۔تک نہیں لے سکتا اور یہ سارا عرصہ میں نے جس طرح سے گزارا ہے یہ میں یا تو پھر میرا رب جانتا ہے۔۔۔۔
اببب ابتہاج میں خود بھی آپ کے بنا نہیں رہ سکتی آپ کبھی بھی مجھے چھوڑ کے مت جائیے گا۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی آپ کے بنا۔۔۔۔۔”” اپنے نازک ہاتھوں کا حصار ابتہاج کے چوڑے وجود کے گرد بنائے وہ معصوم سی کوشش کرتے اسے اپنے جذبات اپنے خدشات سے آگاہ کرنے لگی مگر اسکی یہ معصوم حرکت ابتہاج کو پھر سے بہکنے پر مجبود کر گئی جبھی اسنے شدت سے جھکتے اسکے نازک ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیا کہ ماہا اسکے لمس پر کپکپاتے اسی کے مضبوط حصار میں مقید تھی۔
ابببب ابتہاج۔۔۔۔ ماہا نے سہمتے اسکی شدتوں سے نڈھال ہوتے اسے پکارا تو ابتہاج نے اپنی سرخ ہوتی نظروں سے اسکی سہمی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔۔
ابھی تو ملی ہو تمہیں محسوس کرنے کا وقت آیا ہے ابھی سے ہی سہم گئی ۔۔۔ ماہا کی آنکھوں سے نمی چنتے وہ ہلکا سا طنز کرتے بولا تو ماہا نے منہ پھولائے اسے گھورا، بہت برے ہیں آپ۔۔۔۔۔” ابتہاج نے محبت سے اسکے گالوں پر لب رکھے تو ماہا نے خفا سا ہوتے کہا۔۔۔
اچھا پھر سے چلا جاؤں۔۔۔” وہ شرارت سے اسکے کان میں سرگوشی کرتے بولا تو ماہا نے فورا سے گردن گھمائے اسے دیکھا ۔۔۔۔
ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔ مذاق کر رہا تھا یار ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہا کی آنکھوں میں جھلکتے خوف اور اور آنسوں کو دیکھ ابتہاج نے فورا سے کہا تھا۔۔۔
بات مت کریں مجھ سے مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔ وہ سوں سوں کرتے غصے سے اسکے سینے پر مکے مارتے اپنی بھڑاس نکالنے لگی کہ ابتہاج نے فورا سے اسکے ہاتھوں کو پکڑتے اپنی گردن کے گرد لپیٹتے اسکے ہونٹوں پر جھکتے اسے خاموش کروا دیا ۔۔
_____________
صالح ہم ماہا کو لینے کب جائیں گے۔۔۔۔ صنم نے منہ پھولائے صالح کا ہاتھ پیچھے کرتے کہا تو صالح نے اسے گھورتے دیکھا ۔ چپ چاپ کھانا کھاؤ آرام سے ماہا کو بھی لے آتا ہوں میں۔۔
آپ کیوں ہم دونوں چلیں گے ماہا کو لینے ۔۔۔۔ صنم نے پھر سے اسے ٹوکا تو صالح نے ایک دم سے اسکی کمر کے گرد ہاتھ لپیٹتے اسے کھینچتے گود میں بھرا۔۔ یییی یہ کیا صص صالح میں گر جاوں گی چھوڑیں تو مجھے۔۔۔۔۔” صنم نے ڈرتے اسکے کندھوں کو مضبوطی سے تھامتے کہا تو صالح نے ائبرو اچکاتے اسے گھورا۔۔۔۔۔ ” تم جانتی ہو میرے پاس تمہیں چپ کروانے کا کافی وافر مقدار میں سٹاک موجود ہے۔۔۔کہو تو زخمت دوں تمہیں کیونکہ یہ کام تو میرا فیورٹ ہے مجھے بہت اچھا لگتا ہے تمہیں چپ کروانا۔۔”
اپنے ہاتھ کے بھاری انگھوٹھے سے صنم کے نچلے ہونٹ کو مسلتے وہ بے باکی سے گویا ہوا تو صنم نے اپنی لرزتی پلکوں کو گرا دیا۔۔۔
صص صالح۔۔۔۔۔۔صالح کے بےہودی سے اپنے ہونٹوں کو چھوتے دیکھ صنم نے اسکے کندھوں پر دباؤ دیتے اسے خود سے دور کیا ۔۔۔ کیا ہے مجھے بھی ناشتہ کرنے دو کیوں ڈسٹرب کر رہی ہو۔۔۔۔وہ جھڑکتے صنم کی کمر کے گرد ہاتھ لپیٹتے اسے قریب تر کر گیا کہ صنم نے آنکھیں پھیلائے اسے گھورا۔۔۔
تت تو کریں میں نے کک کون سا آپ کو روکا ہے۔۔۔۔؟” صنم نے اپنی کمر کے گرد بندھے صالح کے مضبوط ہاتھ کو نکالنے کی کوشش کرتے کہا تو صالح نے ہونٹ دانتوں تلے دبائے۔۔۔۔
اپنی فیورٹ ڈش کو ہی چکھ رہا تھا مگر تمہیں جانے کیوں مسئلہ ہوا رہتا ہے ۔۔۔
وہ گردن ناں میں ہلائے تاسف سے کہتے ساتھ پھر سے صنم کے ہونٹوں پر جھکا تھا۔۔۔ صنم نے اسکے کالر کو دبوچتے اسے دور کرنا چاہا مگر صالح نے سختی سے اسکی کمر کے گرد لپیٹے اپنے ہاتھ کی مدد سے اسکے نازک وجود کو دباؤ دیے خود کے مزید قریب ہے تر کیا کہ صنم بے بس سی اپنے ہونٹوں پر اسکی من مانیاں سہتی نڈھال سی اسی کی گود میں بیٹھی تھی ۔۔۔
یہ لو جوس۔۔۔۔۔ صنم کی رکتی سانسوں کو محسوس کرتے وہ پیچھے ہوا اور ایک دو منٹ سانس لینے کے بعد ہاتھ بڑھاتے میز سے جوس کا گلاس اٹھائے صنم کے ہونٹوں سے لگایا۔۔۔
مجھے نہیں پینا صالح ایسے کون کرواتا ہے ناشتہ خدارا مجھے معاف کر دیں میں آج کے بعد اپنی ڈائیٹنگ کا خاص خیال رکھوں گی کبھی کوئی بھی شکایت نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔
صنم نے التجائیہ لہجے میں کہتے ساتھ ہی معصومیت سے منہ بنائے اسے دیکھا ۔۔۔اسے کیا پتہ تھا کہ اس کی لا پرواہی کی وجہ سے اسے صالح خان کی بے باکیوں کو مزید جھیلنا پڑے گا ۔۔وہ۔شخص تو ویسے ہی اسکی ہر آتی جاتی سانس کا حکمران بنا بیٹھا تھا اور اب بھی تو وہ ایسا ہی کر رہا تھا۔اپنی من مانیاں ۔۔۔۔
ڈونٹ وری ڈارلنگ صالح خان اپنے رولز خود بناتا ہے میں کسی کے بنائے رولز پر نہیں چلتا اب سے تمہیں دونوں ٹائم کا کھانا میری گود میں بیٹھ کر کھانا ہو گا اور وہ بھی صالح اسپیشل طریقے سے۔۔۔۔۔۔ ” صنم کے بالوں کو اسکے کان کے پیچھے اڑستے وہ آنکھ دباتا بے باکی سے بولا۔۔
“جوس۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ۔صنم کچھ کہتی صالح نے فوراً سے اسکے ہونٹوں سے جوس کا گلاس لگایا ۔۔۔ صنم نے منت بھری نظروں سے اسے دیکھا جس کا صالح پر کوئی اثر نہیں ۔ہوا تھا۔۔۔ جبھی نا چاہتے ہوئے بھی صنم کو سارا جوس پینا پڑا۔۔۔۔۔
تم تو ایک ہی دن میں ٹرین ہو گئی ہو ڈارلنگ ویری گڈ۔۔۔۔۔۔۔ صنم کے سرخ تپے چہرے سے ہوتے صالح کی نظریں پھر سے صنم کے ہونٹوں پر گئی جو ابھی تک جوس کی وجہ سے نم تھے۔۔۔
ارے ارے میرے ہوتے ۔۔۔۔۔ تمہیں ان سب کی ضرورت نہیں جان غلام خاضر ہے میں خود صاف کرتا ہوں ۔۔۔۔” اسکے ہاتھ سے ٹشو لیتے وہ نخوت سے واپس میز پر پھینکتے مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔ صص صالح نو ۔۔۔۔۔میں کر لوں گی صاف۔۔۔۔۔اسکی بے باک نظروں کا پیغام پڑھتے صنم نے اسے خبردار کیا تو صالح نے مسکراتے ہوےاسے دیکھا۔۔۔
اس میں شرمانے والی کوئی بات نہیں ، مجھے خوشی ہو گی کہ میں تمہارے کام آ سکا۔۔ صنم کا سرخ تپا تپا چہرہ اسے مزید جسارتوں پر اکسا رہا تھا۔۔ جبھی وہ جھکتے صنم کے منع کرنے کے باوجود بھی اسکے ہونٹوں پر لگے۔جوس کو اپنے ہونٹوں سے صاف کرنے لگا۔۔۔۔
صص صالح باہر کوئی یے۔۔۔۔ اچانک ڈور بیل کی آواز سنتے صنم نے اسے کندھوں سے تھامتے پیچھے کرتے کہا تو صالح نے منہ بنائے دروازے کو گھورا جیسے ابھی اسے کھا جائے گا۔۔
میں دیکھتا ہوں تم تب تک ایک اور گلاس فنش کرو جوس کا۔۔
وہ اسے ہدایت دیتے اٹھتا دروازے کینجانب گیا ۔۔ صالح۔۔۔۔۔ میرا بچہ میرا بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی سامنے سے اندر آتے ارسم خان کو دیکھتا صالح ایک منٹ میں اگ بگولا ہوا تھا۔
رک جائیں خبردار جو اندر آئے تو۔۔۔۔۔ ” صالح نے غصے سے آنکھوں میں نفرت سموئے تیز لہجے میں کہا تو ارسم خان نے حیرانگی سے اپنے بیٹے کو دیکھا جبکہ صنم بھی صالح کے یوں چلانے پر تیزی سے دروازے کی جانب آئی۔۔۔ جہاں پر صالح کے جیسے دکھتے ارسم خان کو کھڑا دیکھ وہ پہچان گئی تھی کہ یہی صالح کے بابا ہیں۔۔
کونسا بیٹا کہاں کا بیٹا آپ کا بیٹا آپکی بیوی کے ساتھ ہی مر گیا تھا تو پلیز اب یہ فضول کا ڈرامہ لگا کر مجھے مزید غصہ مت دلائیں مجھے آپ کی شکل تک نہیں دیکھنی۔۔۔۔۔”
صالح کا بس نہیں تھا کہ وہ ابھی کچھ کر دے اس شخص کو جو بد قسمتی سے اسکا باپ تھا۔۔
میں مانتا ہوں کہ مجھ سے بہت سی غلطیاں ہوئی ہیں ، میںنے اپنی بیوی اور بچے کو چھوڑ دیا مگر بیٹا مجھے اپنے کیے کا پچھتاوا ہے ، میں اتنے سالوں سے اسی شرمندگی میں رہا ہوں کہ میں نے اپنے بیٹے کو اور اپنی بیوی کو بےسہارہ چھوڑ دیا مگر میں شرمندگی کی وجہ سے تم سے معافی مانگنے تک نہیں آیا میرے بچے مجھے ڈر تھا کہ تم مجھے معاف نہیں کرو گے اور پھر میں زیادہ ٹوٹ جاؤں گا تمہاری نفرت میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔”
اپنے آنسوں صاف کرتے وہ مظلومیت طاری کرتے بولے تو صالح نے مٹھیاں بھینجتے انہیں گھورا ۔
تو آپ اب بھی یہی سمجھ لیں کہ میں نے آپ کو۔معاف نہیں کیا اور چلے جائیں واپس۔۔۔ صالح نے انتہائی نفرت سے انہیں دیکھتے وہاں سے جانے کا کہا تو صنم نے ایک نظر ارسم خان کو دیکھا جن کی حالت بالکل کسی لاچار باپ کے جیسی تھی۔۔
مجھے یقین تھا کہ تم۔مجھے معاف نہیں کرو گے اسی لیے میں نے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ تم اگر مجھے معاف نہیں کرو گے تو میں اپنی جان دے دوں گا۔۔۔۔ ارسم خان نے مضبوط لہجے کہتے ساتھ ہی اپنے پاکٹ سے گن نکالی تو صالح کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔۔
ہو سکے تو اپنا دل بڑا کر کے اپنے باپ کو معاف کر دینا۔۔ اپنی کنپٹی پر گن رکھتے ارسم خان نے آنکھیں موندے کہا۔۔۔۔
صصص صالح انہیں روکیں۔۔۔۔” صنم نے ڈرتے صالح کا بازو پکڑا۔۔۔۔۔۔
صالح نے آگے بڑھتے گن اوپر کی تھی کہ ٹھاہ کی آواز کی کے ساتھ گن سے نکلتی گولی چھت پر لگی ، یہ کیا کر رہے تھے اپ۔۔۔۔۔۔” صالح نے غصے سے انکے ہاتھ سے گن چھینتے نیچے پھینکی۔۔
اپنے گناہوں کا مداوا تو نہیں کر سکتا مگر میں اپنی جان تو دے سکتا ہوں۔۔۔۔۔ وہ اونچی آواز میں روتے ہوئے کہہ رہے تھے ۔۔۔
صالح نے جبڑے بھینجتے انہیں گھورا۔۔۔ ٹھیک ہے میں نے آپ کو معاف کیا مگر یہ بات یاد رکھیے گا کہ ابکی بار اگر آپ نے جھوٹ بولا تو اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔” صالح انہیں وارن کرتے تیز لہجے میں کہا جبکہ ارسم خان تو اسکے معاف کر دینے کا سنتے ہی خوشی سے نہال ہوتے اسے سینے سے لگا گئے۔۔۔۔
_______________
ابتہاج آپ بھی تو کھائیں۔۔۔۔۔۔ گلابی رنگ کے خوبصورت سے سوٹ میں ملبوس چہرے پر ابتہاج کی محبت کے سارے رنگ لیے وہ اپنی جانب بڑھتے ابتہاج کے ہاتھ کو تھامتے متفکر سی بولی تھی۔۔ اںتہاج نے مسکراتے اسے دیکھا، جان میں کھا لوں گا مگر اس وقت تمہیں اور ہمارے بے بی زیادہ ضرورت ہے کھانے کی۔۔۔ ماتھے پر بکھرے بالوں میں وہ آنکھوں میں محبت کی چمک لیے ماہا کو دیکھتے بولا ۔۔
آپ کو کیسے پتہ کہ بے بی کو بھوک لگی ہے۔۔۔۔۔ !” ماہا نے آنکھیں حیرانگی سے پھیلائے اںتہاج کو دیکھا تو ابتہاج نے مسکراتے ہوئے ماہا کے چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کیا۔۔ کیونکہ میں اسکا بابا ہوں اور مجھے سب کچھ پتہ ہے۔۔۔” ماہا کے معصومیت سے پوچھنے پر ابتہاج نے نرمی سے جھکتے اپنے ہونٹ اسکی پیشانی پر ثبت کرتے کہا تو ماہا نے سکون کا سانس لیتے ابتہاج کو اپنے قریب تر محسوس کیا۔۔۔ اسکا ابتہاج اسکے قریب تھا اسکے پاس۔۔۔۔۔
ابتہاج ہم اپنے بے بی کی شاپنگ بھی کریں گے ناں تو ہم کب چلیں شاپنگ پر۔۔۔اسکے ہاتھ کو تھامتے وہ چہکتے ہوئے بول رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ماہا کے معصوم سوال اسکی خوشبو کو اپنے اردگرد پھیلتا محسوس کرتے ابتہاج کو اپنی زندگی میں خوشی کی بہار لوٹتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
ہم چلیں گے شاپنگ پر مگر فلحال ہم ڈاکٹر کے پاس جائینگے۔۔۔۔۔ ” ماہا کے ہونٹوں کو صاف کرتے وہ نرمی سے بول رہا تھا ۔اسکے لمس اسکی آواز میں بالکل نرمی تھی جیسے کہ اسے ڈر ہو کہ اسکے اونچے بولنے یا پھر چھونے سے بھی اسکی ماہا کو تکلیف ملے گی۔۔
مگر ہم ڈاکٹر کے پاس کیوں جائیں گے بے بی تو ٹھیک ہے اور ماہا بھی۔۔۔۔۔ ماہا نے منہ بناتے اسے آگاہ کیا اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا کسی بھی ڈاکٹر کے پاس جانا اور میڈیسن تو اسے بالکل بھی نہیں پسند تھیں۔۔۔
نہیں ہم صرف ایک بار دکھانے جائیں گے کہ بے بی ٹھیک ہے اسکے بعد ہم واپسی پر شاپنگ بھی کریں گے اور ڈنر بھی باہر کریں گے۔۔۔۔۔
وہ محبت سے اسے بچوں کی طرح سمجھا رہا تھا ۔۔۔ ابتہاج بس کر دیں میں کونسا بچی ہوں میں خود چلتی ہوں۔۔۔۔۔ اسے ناشتہ کروانے کے بعد ابتہاج نے نرمی سے اسے بانہوں میں بھرا تھا جس پہ وہ منہ بنائے بولی تو ابتہاج نے قہقہ لگاتے اسے دیکھا۔۔۔
جانم بچی تو نہیں رہی تم بلکہ ایک بچے کی ماں بننے والی ہو۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے اسے چھیڑتے اپنے ہونٹ ماہا کی تھوڑی پر رکھے تو ماہا شرماتے اسکے سینے سے جا لگی۔۔۔
تم میں جان بستی ہے ابتہاج گردیزی کی ماہا ۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری ان چھوٹی چھوٹی حرکتوں ان معصوم باتوں کو میں نے کتنا مس کیا ہے تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔۔۔
ابتہاج کے لہجے میں وخشتیں آباد تھی۔۔۔۔ماہا سے دور گزارا ہر ایک لمحہ اسے کسی اذیت ناک سزا کی طرح لگا تھا۔
مگر آج اس کی موجودگی اسکے پاس ہونے پر ابتہاج کی ساری دنیا ہی پررونق ہوئی تھی ۔۔۔۔
ابتہاج میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں کبھی مجھ سے دور مت جائیے گا۔۔۔
ابتہاج نے جھکتے اسے بیڈ پر لٹایا تو ماہا نے اسکی گردن کے گرد اپنے بازو کو لپیٹتے ابتہاج کی آنکھوں میں دیکھتے محبت سے کہا تھا۔۔۔۔ ابتہاج کی آنکھوں میں ایک الگ سی چمک ایک جنون سا آباد ہوا تھا ماہا کا یوں معصومیت سے اپنی محبت کا اظہار کرنا ابتہاج کو بھایا تھا۔۔
کبھی بھی نہیں اب تو تم خود بھی چاہو تو میری قید سے رہائی نا ممکن ہے۔۔۔ “
ابتہاج نے گہری سرگوشی کرتے ماہا کی بند آنکھوں کو دیکھا جس کے ہونٹوں پر خوبصورت سی شرمیلی مسکراہٹ تھی۔۔
ابتہاج نے نرمی جھکتے ماہا کی گلاب کے پنکھڑیوں کی مانند خوبصورت ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیا اسکا لمس شدت بھرا تھا ۔۔۔ وہ مدہوش سا ماہا کے نازک ہونٹوں پر اپنی شدتیں لٹائے ماہا کو اپنی محبت سے روشناس کروانے لگا۔۔۔
ابتہاج نے نرمی سے ماہا کے بھیگے نم بالوں کو اسکی گردن سے ہٹاتے اپنے سلگتے ہونٹ ماہا کی گردن پر رکھے تو ماہا کی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی دوڑی۔۔۔۔۔ ابتہاج نے ہونٹ ماہا کی شہہ رگ پر رکھتے اسکی بند آنکھوں لرزتی پلکوں کو دیکھا۔۔۔۔
جان تم جلدی سے ریڈی ہو جاؤ آج کا یہ سارا دن میں تمہاری قربت میں تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ ” ماہا کی آنکھوں کو چھوتے وہ دیوانگی سے بولا ماہا خاموش پڑی اسکی سرگوشیوں کو سن رہی تھی جس کے ہونے سے وہ تھی۔۔
میں نیچے ویٹ کر رہا ںوں میری جان آپ جلدی سے اچھے سے ریڈی ہو جاؤ اور ریڈ لپ اسٹک لگانا وہ بے باکی سے اسکے کان میں سرگوشی کرتے ماہا کے دھواں دھواں چہرے کو دیکھتے مسکراتا وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔
________________
آئیے آئیے آپ کا ہی انتظار کر رہا تھا میں۔۔۔۔ اپنے مخصوص روبعدار انداز میں وہ اونچی آواز میں شاہانہ چال چلتا سیڑھیوں سے اترتے اپنے سامنے کھڑے صالح اور صنم سے مخاطب ہوا۔۔
صالح اور صنم نے چونکتے ابتہاج کی آواز پر مڑتے سیڑھیوں کینجانب دیکھا جہاں ابتہاج گردیزی اپنے شاہانہ وجاہت انگیز پرسنالٹی کے ساتھ کھڑا ان دونوں کو حیرت میں مبتلا کر گیا۔۔
ابب ابتہاج۔۔۔۔۔” صنم اور صالح بے یقین سے کھڑے تھے یقین کر پانا نا ممکن تھا ان کا ابتہاج زندہ تھا ابتہاج تم ٹھیک ہو تھینک گاڈ یار۔۔۔۔” صالح ہربڑاتے کچھ بھی نا سمجھ آنے پر دوڑتے اسکے قریب جاتے اسکے سینے سے لگا جبکہ ابتہاج بنا کچھ بولی یونہی سپاٹ چہرے سے کھڑا تھا۔۔
ماہا کو پتہ ہے کہ تم زندہ ہو وہ کتنی خوش ہو گی ۔۔۔۔ صنم۔دیکھو ابتہاج زندہ ہے بالکل ٹھیک سہی سلامت۔۔۔۔۔صالح کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا وہ پرجوش لہجے میں صنم کو پکارتے اسے بھی بتانے لگا جس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسوں تھے۔۔۔۔
ہاں اللہ نے بچا لیا مجھے وگرنہ کئی لوگ تو مجھے جان سے مارنے کی پوری پلاننگ کے ساتھ تیار کھڑے تھے۔۔۔اسنے ہاتھ سے پکڑتے ابتہاج کو خود سے دور کیا۔۔۔۔ تو اسکے بدلے بدلے سے اندازپر صالح کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔۔ کیا بات ہے ابتہاج کھل کے کہو کیا ہوا ہے۔۔۔؟”
آپ دونوں بات کریں میں ماہا سے مل لوں۔۔۔صنم کب سے ماہا کو ڈھونڈ رہی تھی اب بھی وہ ان دونوں کو چھوڑے ماہا سے ملنے کا کہتے اوپر کی جانب بڑھی۔۔
نہیں صنم تمہیں کوئی ضرورت نہیں ماہا سے ملنے کی۔۔۔۔ تم نہیں مل سکتی اس سے۔۔۔” ابتہاج نے صنم کو روکتے کہا تو صالح کو اسکے یوں کہنے پر سخت غصہ آیا۔۔
ابتہاج آرام سے بات کرو وہ بہن ہے صنم کی اور یہ مت بھولو تمہارے یوں لاپرواہوں کی طرح چھوڑنے کے بعد صنم نے ہی اسکا خیال رکھا ہے۔’
صالح نے بنا لخاظ کے اسے سنائی تو ابتہاج نے قہقہ لگاتے صالح کو دیکھا۔۔۔
بہت بہت شکریہ صنم صالح خان آپ نے میری بیوی کا اتنے ماہ خیال رکھا ۔۔۔۔اسکے علاؤہ جو بھی خرچا آیا ہو گا میں پیسے ادا کر دوں گا۔۔۔ ڈونٹ وری میں ادھار نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔ وہ اطمینان سے اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کہتے ساتھ ہی کندھے آچکا گیا ۔۔۔
مائنڈ یور لینگوئج ابتہاج۔۔۔ ” صالح نے شہادت کی انگلی اسکے سامنے لہراتے ہوئے کہا تو ابتہاج نے ایک دم سے بے تاثر سرد نظروں سے صالح کو دیکھا۔۔۔
تب کہاں تھے تم جب وہ پاگلوں کی روتی رہی تب کہاں تھے تم جب وہ بنا کھائے پیے صبح شام صرف تمہیں پکارتی رہی اب جب وہ خود کو سنھبال رہی تھی تو پھر سے آ گئے اسکی زندگی کو عذاب بنانے ۔۔۔۔ صنم کا اپنی جانب کھینچتے صالح نے دانت پیستے اسے آئینہ دکھایا۔۔۔۔
جس پر ابتہاج خود پر ضبط کرتا رہ گیا۔۔۔۔ میں کبھی بھی اپنی بیوی اور اپنے بچے سے غافل نہیں ہوا ماہا میری تھی میری ہے اور رہے گی جب تک میں زندہ ہوں اسے کوئی بھی مجھ سے دور نہیں کر سکتا۔۔۔”
اور جہاں تک رہی بات میرے گم ہونے کی تو سن لو صالح خان میں گم نہیں ہوا تھا بلکہ اپنے ماں باپ کے قاتل اور اپنی بیوی کو نقصان پہنچانے نہیں کوشش کرنے والے شخص کا پتہ لگا رہا تھا ۔۔۔۔جو کہ تمہارا باپ ارسم خان ہے۔۔۔۔۔ “
ابتہاج نے صالح کو دیکھ ایک دم سے غصے سے غراتے لہجے میں کہا تھا۔۔۔ ابتہاج۔۔۔۔۔ماہا جو شور کی آواز سنتے باہر نکلی تھی ابتہاج کو یوں صنم۔اور صالح سے لڑتا دیکھ اسنے ڈرتے اسے پکارا۔۔
ماہا میری جان آپ اندر جاؤ میں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔۔ ابتہاج نے مسکراتے ہوئے گردن گھمائے اسے دیکھ کر کہا جبکہ ماہا سہمی نظروں سے صنم کو دیکھنے لگی جو اب ماہا کو دیکھتے رو رہی تھی۔۔۔
ماہا نیچے مت آنا ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔ابھی کے ابھی روم میں جاو۔۔۔۔ ابتہاج نے اسے تیز نظروں سے دیکھتے وارن کیا تو ماہا نے نم آنکھوں سے صنم کو دیکھا جو اسے چلے جانے کا اشارہ کر رہی تھی۔۔۔
مجھے بات نہیں کرنی تم سے اب اوپر کبھی مت آنا۔۔۔۔” وہ روتی ہوئی صنم کے یوں بےبس سا خود سے دور کھڑے ہونے پر ابتہاج پر چلائی جو جبڑے بھینجتے خاموش کھڑا اسکی پشت کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
ہاں تو کہاں تھا میں۔۔۔۔۔ ہاں صالح خان ۔۔۔۔ تمہارا باپ قاتل ہے میرے ماں باپ کا ۔۔۔۔۔ اسنے میرے ماں باپ کو مارا ہے جسے میں اسکے کیے کی سزا دلوا کے رہوں گا۔۔۔۔”
ابتہاج نے کندھے اچکاتے صالح کو آگاہ کیا۔۔۔ تمہارے ماں باپ ایک پلین کریش میں مرے ہیں ابتہاج گردیزی۔۔۔۔۔۔ ان سب میں میرے باپ کا کوئی ہاتھ نہیں۔۔۔۔۔۔” اور اگر تم سزا کی بات کر رہے ہو تو میں بھی دیکھتا ہوں کہ میرے ہوتے کون میرے بابا کو سزا دلواتا ہے۔۔
صالح نے آگے بڑھتے اپنے اور ابتہاج کے درمیان موجود ان دو چار قدموں کے فاصلے کو بھی ختم کیا تھا اور اسکے چہرے کے قریب تر جاتے وہ مضبوط لہجے میں بولا ، ” ابتہاج گردیزی اپنی بات کا بہت پکا ہے صالح خان اگر میں نے بھی تمہارے باپ کو سزا ناں دلوائی تو میرا نام ابتہاج گردیزی نہیں۔۔۔۔۔۔”
دیکھ لیں گے کہ کون کس پر بھاری پڑنے والا ہے کیونکہ تم نے میرے باپ پر نہیں صالح خان پر الزام لگایا ہے اب تم سے صالح خان اپنے طریقے سے پیش آئے گا۔۔۔۔۔۔ ” چلو صنم۔۔۔۔۔ صنم کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے وہ ایک نظر ابتہاج کے چہرے پر ڈالے تیزی سے وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔۔
_____________
تمہیں لگتا ہے کہ صالح تمہارا ساتھ دے گا۔۔” ملک ہاشم نے ارسم خان کی ساری بات سنتے اس سے پوچھا جو سنتے آگے سے قہقہہ لگا اٹھا۔۔۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے کہ ارسم خان نے کچی گولیاں کھیلی ہیں۔۔ تم ابھی جانتے ہی کہاں ہو۔مجھے۔۔۔۔۔۔ میرا شق بالکل ٹھیک نکلا تھا وہ ابتہاج جانے کیسے میرے متعلق سب کچھ جان گیا کہ اس کے ماں باپ کو میں نے ہی مارا ہے اور اسکی کمپنی کو چھیننے کا پلین بھی میرا تھا۔۔۔
مگر اب مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ اب صالح مجھے بچائے گا اس سے۔۔۔۔۔”
وہ ہنستا اپنے ہاتھ میں پکڑے مشروب کا گھونٹ لگاتے بولا ۔۔۔ تو ملک ہاشم نے اسے گھورا ۔۔۔۔۔۔ وہ جوانی سے اسے جانتا تھا اسکی فطرت سے کافی اچھے سے آگاہ تھا ۔۔۔۔۔ ملک ہاشم ،ارسم خان اور کاشان گردیزی تینوں ایک ساتھ ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔۔۔
کاشان گردیزی سے ارسم خان کی نفرت اسکی جلن سے وہ شروع دن سے ہی آگاہ تھا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا کچھ کر جائے گا۔۔۔اپنی اس نفرت میں وہ بہت آگے نکل آیا تھا۔۔
اگر صالح ناں آیا تو اگر اسنے ابتہاج کی باتوں کا یقین کر لیا تو۔۔۔۔ ” ملک ہاشم نے ارسم خان کو دیکھتے پوچھا۔۔۔
ہاہاہاہا یہی تو بات ہے ابتہاج کے پاس اگر کوئی پکا ثبوت ہوتا تو اسوقت وہ مجھے پولیس کے حوالے کر دیتا۔۔۔۔ ” اور بنا ثبوت کے صالح اسکی کسی بات کا یقین نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔۔ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے وہ آرام دہ انداز میں بولا تو ملک ہاشم نے متاثر ہوتے سر ہلایا۔۔۔۔
اب آگے کیا کرو گے تم۔۔۔۔۔اسنے گھونٹ بھرتے اسے دیکھا۔۔۔۔ ” اب آگے میں نہیں صالح خان کرے گا جو کچھ بھی کرنا ہو گا۔۔۔۔” اب دیکھو اس کھیل میں آگے کیا ہوتا ہے۔۔۔؟’
وہ شاطرانہ انداز میں سوچتا آخر میں قہقہ لگا اٹھا۔۔۔۔
