Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 02)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

صنم گھر آچکی تھی پر اس کے رویے میں کوئی تبدیلی نہ آئی منیبہ اور ماہا کو تو وہ جیسے اپنا دشمن سمجھ بیٹھی تھی اس کی نظر میں اس کی ماں پاکباز تھی کن کے ساتھ منیبہ اور دلاور صاحب نے ظلم کیا تھا صنم اپنے کمرے میں جہازی سائز بیڈ پر آنکھیں موندے پڑی تھی جب دلاور صاحب روم میں آئے آہٹ پاکر صنم نے اپنی سرخ آنکھوں سے دروازے کی طرف دیکھا جہاں دلاور صاحب بکھرے حلیے میں ہاتھ میں کھانے کی ٹرے لیے اس کے پاس چلے آرہے تھے وہ سمجھ رہے تھے اس کی نفسیات کو وہ ذہنی طور پر بے حد ڈسٹرب ہو کر رہ گئی تھی ایسے میں کسی اپنے کی توجہ اسے پر سکون کر سکتی تھی دلاور صاحب نے اس کے ساتھ جگہ بنائی اور ٹرے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی صنم بے تاثر چہرہ لیے لیٹی رہی یہی بات دلاور صاحب کے دل کو چاک کر گئی

دلاور صاحب نے ہولے سے صنم کا ہاتھ تھاما اور اسے ساری آپ بیتی بتانے لگے آخر میں بولے تو ان کی آواز انتہائی سرد تھی

“جس عورت نے تمہیں اپنی اولاد مانا ہی نہ ہو اس کے لیے یہ آنسو یہ لغزشیں اگر تم ہم سب سے ناراض ہو تو ٹھیک ہے لیکن ایک بات یاد رکھنا محبت نہ بہت ظالم ہوتی ہے آپ سے کچھ بھ کرا لیتی ہے میں بھی تمہاری ماں کی فریبی محبت میں بہک گیا تھا جس کا خمیازہ اب تک تمہاری بے رخی کی صورت بھگت رہا ہوں ۔ میرا روم روم گواہ ہے کہ کبھی تمہاری ماں کے ساتھ زیادتی نہی کی بلکہ اس بیوفا عورت کی وجہ سے ہمیشہ منیبہ اور ماہا کی حق تلفی کی یہی خداکا انصاف تھا میرے لیے تمہارا ہر فیصلہ مجھے قبول ہے پر دھیان رہے نہ ہی میں پہلے والا دلاور شاہ ہوں اور نہ ہی اب معاف کرنے کا قائل ہوں تمہارا ہر نخرہ سر آنکھوں پر پر اگر بغاوت پر اتر آئی تو بھول جانا کوئی دلاور شاہ تمہارا باپ تھا “

صنم دم سادھے ان کی ساری روداد سن رہی تھی جب وہ بنا کچھ بولے روم سے باہر نکل گئے

صنم کو اپنے باپ کا یہ سرد انداز ایک آنکھ نہی بھایا تھااسے لگا یہ سب بھی منیبہ بیگم نے ہی ان کو سکھایا ہو گا ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کرتے

صنم کا غصے سے برا حال تھا کیا سوچ کر وہ ماں بیٹی یہ سب کر رہی ہیں اگر میں نے بھی ان کا سکون بر باد نہ کیا تو میرا نام بھی صنم نہی “

صنم اپنے دل میں حسد اور جلن کے پلتے جذبوں کے تحت مصم ارادے بناتے ہوئے بولی اور زہر مار کر سائیڈ رکھی ٹرے اٹھا کر کھانا کھانے لگی

اسے آج بھی یاد تھا کہ کیسے اس نے ماہا سے اس کا کمرہ چھینا تھا ماہا شروع سے ہی بے حد خاموش طبیعت کی مالک تھی ماہا نے اپنی ماں کی منتیں کر کے اپنا روم ڈیکوریٹ کروایا وہ روم ہر آسائش سے پر تو نہی پر دکھنے میں بے حد شاندار تھا یہ بھی منیبہ بیگم کی سلیقہ شعاری تھی روم میں ایک سنگل بیڈ جس پر گلابی خوبصورت سی چادر ہلکے گلابی کرٹنز اور پنک ہی وال پینٹس کی گئی تھیں ماہا اپنا روم بے حد صاف رکھتی تھی پر ماہا کی خوشی بھی اس سے کہاں برداشت تھی صنم نے دو جھوٹے آنسو بہائے اور دلاور صاحب نے اس کا سامان بغیر ماہا کی مرضی کے اس کے روم میں شفٹ کروا دیا اسی طرح صنم کو دن با دن صنم کا رعب ماہا پر بڑھتا رہا وہ ہر وہ چیز جو ماہا کو حاصل ہوتی چھین لیتی چاہے اس کے لیے اسے کسی بھی حد تک ہی کیوں نہ گزرنا پڑے صنم کی خودغرضی اب نہ جانے کیا قیامت ڈھانے والی تھی

_____________

کرتے کیا ہو۔۔۔۔۔۔۔؟

دلاور شاہ نے اپنے سامنے بیٹھے خوبصورت نوجوان سے پوچھا

سر بزنس مینجمنٹ کورس کیا ہے اور ۵منتھ کا اکسپیرینس ہے مجھے اس جاب کی بے حد ضرورت ہے سر یہ رہی میری سی _وی

نوجوان انتہائی مودبانہ انداز میں وہ اپنی فائل دلاور صاحب کے سامنے کرتے ہوئے بولا

دلاور صاحب نے اس کی سی وی دیکھی تو امپریس ہوئے بنا نہ رہ سکے وہ واقعی اس جاب کے قابل تھا دلاور صاحب نے اس کے ہر انداز کو نوٹ کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولے

میری ریکوائرمنٹ تو تم پڑھ ہی چکے ہو گے اور ایگریمنٹ سے بھی بخوبی واقف ہو گے مجھے تم جیسے ہی پر اعتماد لوگوں کی ضرورت ہے لیکن خیال رہے مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے

دلاور صاحب سنجیدگی سے بولے تو نوجوان نے خوش ہوکر ان سے ہاتھ ملایا اور فوراً کانٹریکٹ سائن کیا دلاور صاحب نے اسے مبارکباد دی اور اپنے لیپ ٹاپ پر جھک گئے

_________

“بتاو کہاں ہے تمہاری بہن ۔۔۔۔۔؟ بتاو ورنہ آج تمہاری یہ نازک سی جان مجھے برداشت نہی کر پائے گی روز اتنی تکلیف برداشت کرتی ہو اور پھر بھی ڈھیٹوں کی طرح منہ بند رکھتی ہو ۔۔۔۔ ہاہہااہا اب سمجھ آرہا ہے یقیناً تمہارا بھی تمہاری بہن کی طرح کوئی عاشق ہو گا جس سے کئی وعدے کیے ہونگے پر ۔۔۔۔۔ چچچچچچ تمہاری قسمت میں درمیاں آگیا ہے نہ ویسے کیا نام تھا اس عاشق نامدار کا ۔۔۔۔۔ ویسے ایک بات کی تو داد دینی پڑے گی بہت ہڈ دھرم واقعی ہوئی ہو ۔ تمہاری نس نس میں زہر بھرا ہے اور منہ پر اففففف نہی پر ڈونٹ وری ڈارلنگ تمہارے منہ کھلوانے کے اور بھی راستے ہِیں”

وہ ایک قدم مہر کی طرف بڑھاتا ہوا بولا

مہر کانپتی ٹانگوں سے پیچھے ہونے لگی پر ابھی اور پیچھے ہوتی کہ دھڑام سے بیڈ پر جاگری ۔۔۔۔۔ اس کے گرنے پر جہاں سامنے کھڑے شخص کو تمسخر بھری مسکراہٹ سجانے پر مجبور کیا وہیں اس کے لفظوں کے نشتر مہر کا کلیجہ چاک کرنے لگے

“اتنا تو گر چکی ہو اور کتنا گرو گی ویسے آپس کی بات ہے بتاوں۔۔۔ ہاہاہہا قہہقہ لگاتے ہوئے اس شخص کی آنکھوں میں ہلکی سی. نمی چمکی جسے وہ نا محسوس انداز میں صاف کرتا دوبارہ مہر کی طرف متوجہ ہوا جو خوفزدہ نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی

“محبت کی شدت تو ہر کوئی دیکھتا ہے پر نفرت جانتی ہو کیا ہوتی ہے جب آپ کسی کی موجودگی میں گھٹن محسوس کرنے لگیں آپ کے سامنے بار بار ایک ناپسندیدہ منظر کسی فلم کی طرح چلنے لگے اور آپ کو لگے کسی نے کھینچ کر تھپڑ مارا ہو اندازہ کر سکتی ہو اس ازیت کا جب ایک ان چاہا شخص آپ کی مرضی کے خلاف آپ کی زندگی میں شامل کر دیا جائے “

مہر سسکنے لگی تھی اس کے سخت لفظوں پر کتنا عجیب شخص تھا جسے صرف اپنی تکالیف کا احساس تھا اس کے سوا کسی چیز کا نہی نہ کسی معصوم جان کا جو اس کی وجہ سے ہر لمحہ ایک ازیت میں گزار رہی تھی پر لب پر ایسی گہری چپ تھی کہ دیکھنے والے کو بھی پتھر کا گمان ہوتا وہ خو اکثر سوچتی تھی کہ کیا وہ واقعی اس قابل تھی جس سے زندگی نے نوازہ تھا

” ہے سِیاہ بخت کوئی مُجھ سا!؟ جو مُناسب نہ ہو کِسی کے لِیے! ۔ “

لمحوں کی قید کب مہر کے لیے صدیوں کی قید بن جائے کون جانے جس شخص سے رہائی پر وہ اپنی جان کی بازی لگا نے کو تیار تھی اسی کی دسترس میں کسی بے جان مورت کی طرح پڑی خود کو ڈھونڈ رہی تھی کہاں تھااس کا وجود۔۔۔۔۔۔

” ہے سِیاہ بخت کوئی مُجھ سا!؟ جو مُناسب نہ ہو کِسی کے لِیے! ۔ “

تمہاری جیت لکھوں گی اور اپنی ہار لکھوں گی

میں جب بھی ناول لکھوں گی تمہیں کردار لکھوں گی

میں اپنی زیست میں جاکر تمہیں بیحد سنواروں گی

تمہیں اچھا بنا کر خود کو میں بیکار لکھوں گی

مجھے معلوم ہے یہ کہ یہ سب جھوٹ ہے لیکن

میں ہر اک موڑ پر خود کو تمہیں درکار لکھوں گی

میں لکھوں گی کہ مجھ پہ آپ کی سب مہربانی تھی

میں خود کو عام سی اور تمہیں سرکار لکھوں گہ

میں لکھوں گی کہ مجھ سے تم نے اب تک نبھائی ہے

میں خود کو بے وفا اور آپ سے بیزار لکھوں گی

حقیقت عین اس کے الٹ ہی ہے جانتی ہوں پر

میں اپنے آپ کو لیکن تمہارا پیار لکھوں گی

یہ ایک ہی کردار میں سب بھول نہ جائیں

تبھی تو سوچتی ہوں میں تمہیں ہر بار لکھوں گی

میں لکھوں گی کہ مجھ کو آپ سے سب کچھ ملا تھا پر

میں خود اپنی ہی جانب سے تمہیں انکار لکھوں گی

اگر میں ایک ہی کردار میں کچھ لکھ نہ پائی یا تو

میں اس کو بعد میں لکھ کر اور پھر سو بار لکھوں گی

سبھی کردار کا جب فیصلہ ہوگا کہانی میں

میں تم کو زندگی دیکر خودی کو دار لکھوں گی

اور پھر عنوان کو لیکر سبھی سے بحث بھی ہوگی

“تمہاری ذات” ہی عنواں میں آخرکار لکھوں گی

کبھی کبھی آپ کا ہارنا ضروری نہی ہوتا لیکن کسی کی نظروں میں خود کے لیے نفرت دیکھنا دنیا کی ہر ہار سے پر ازیت ہوتا ہے انسان ایک بار میں سو بار مرتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *