Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 23)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

ماہا بیٹا کھانا لاؤں ۔۔۔۔۔ ” روم میں آتی صباء بیگم نے بیڈ پہ خاموش بیٹھی ماہا کے قریب جاتے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے اسے پکارا تو ماہا جو خالی خالی نظروں سے دیوار کو گھور رہی تھی وہ مڑتے صباء بیگم کو دیکھنے لگی مگر اسکی آنکھوں میں چھائی خاموشی ویرانہ پن صباء بیگم کو کانپنے پہ مجبور کر گیا تھا۔۔۔۔ وہ چار دنوں سے یونہی بت بنی ہوئی تھی ابتہاج اسکے رویے سے ڈرتے اسے گھر تو لے آیا تھا مگر یہاں آنے کے بعد ماہا کا رویہ مزید برا ہوتا جا رہا تھا۔

اسکے وجود پہ موجود بظاہر دکھنے والے زخم مندمل ہونے لگے تھے مگر اسکی روح میں لگا زخم آج بھی ویسے ہی تازہ تھا ، وہ ٹوٹ کے بکھری تھی جس کے سہارے وہ جینا چاہتی تھی آج اسی ستم گر کی وجہ سے اسکا ریزہ ریزہ بکھر سا گیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا کر رہی ہے مگر وہ اتنا ضرور جانتی تھی کہ اب اسے ابتہاج گردیزی کے ساتھ نہیں رہنا ۔۔

” بھوک مر گئی ہے میری ، کیسے کھا لوں جب نوالہ حلق سے نیچے نہیں جا پاتا ۔۔۔۔۔۔ اسکے معصوم چہرے پہ پھیلی زردی آنکھوں کے گرد پڑے سیاہ ہلکے اسکی اندرونی حالت کا آشکار کو آشکار کر رہے تھے ۔۔۔ صباء بیگم لب بھینجتے اس معصوم کی تکلیف پہ خاموش سی رہ گئی کہتی بھی تو کیا کہتی آخر جو کچھ ہو چکا تھا اس سب میں اس معصوم کی ایک ہی تو غلطی تھی کہ وہ اپنی اولاد کے لئے اس گھر اس چار دیواری کی حدود کو پھلانگتے باہر نکلی تھی ۔ صباء بیگم ابتہاج سے سخت خفا ہوئی تھی

اگر انکا بیٹا ماہا کا ساتھ دیتا وہ اپنے ہی شوہر سے اپنی اولاد کے کھو جانے کے خوف سے یوں پاگلوں کی طرح ناں بھاگتی ۔۔۔ میری جان خود کو سنبھالو ، وہ اللہ کی امانت تھا اس نے واپس لے لیا مگر یوں خود اپنی جان پہ ظلم کر کے تم اللہ کی گناہ گار بن رہی ہو کیا تم نہیں جانتی کہ ہم سب سے ہماری جانوں کے متعلق بھی سوال کیا جائے گا۔۔۔

اسکے معصوم چہرے کو ہاتھوں میں بھرتے صباء بیگم نے اس کو محبت سے سمجھایا ۔۔۔آپ کو پتہ ہے ماما۔۔۔۔۔ یہاں پہ یہاں درد ہوتا ہے بہت زیادہ۔۔۔۔!” میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے جب بھی مجھے کوئی خوشی ملتی ہے اللہ جی اسے چھین لیتے ہیں کیا میرا حق نہیں کسی خوشی پہ ، کیا میں کوئی خوشی نہیں جی سکتی ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں ڈھیروں شکوے تھے شکایات ۔۔۔۔ صباء بیگم تو اسکے لفظوں میں چھپی اذیتوں کو محسوس کرتے ہیں جیسے خاموش سی ہوگئی تھی وہ کیا جواب دیتی اس کی باتوں کا ۔۔۔

ایک بات یاد رکھو میری جان ۔۔۔ بے شک اللہ پاک اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے ، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہم سے ناراض ہے بلکہ وہ ہمیشہ اپنے عزیز بندوں کو ہی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔۔۔۔۔!” وہ جانتی تھی کہ اس وقت ماہا تکلیف میں ہے اسی وجہ سے وہ خود سے بھی بدگمان ہو گئی تھی جبھی وہ اسے محبت سے سمجھانا چاہ رہی تھی اس کے ٹوٹے وجود کو وہ آہستہ سے سنبھال کر اس کی روح کو سکون دینا چاہتی تھی۔

چلو میری جان اٹھو میرے ساتھ چلو نیچے آج تم ہم سب کے ساتھ بیٹھ کے کھانا کھاؤ گی۔ ” ماہا کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے وہ محبت سے بولی تھی، نہیں ماما میرا دل نہیں چاہ رہا آپ پلیز مجھے میرے حال پہ چھوڑ دیں میں خود نہیں جانتی کہ میں کیا چاہتی ہوں مگر اس وقت پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔ ” ماہا کی منت کرتی آنکھوں کو خود پہ پاتے صباء بیگم خاموشی سے روم سے نکلی تھی۔

ماما ماہا کہاں ہے آئی نہیں آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔؟” ابتہاج جو کہ بے صبری سے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا ماہا کے آنے کا انتظار کر رہا تھا صباء بیگم کو اکیلا نیچے آتا دیکھ وہ حیرانگی سے کھڑے ہوتے پوچھنے لگا ،کاشان صاحب نے کاٹ دار نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔ ابتہاج نے خاموش نظروں سے صباء بیگم کو دیکھا ۔ جن کی آنکھوں میں ابتہاج کے لئے شکوے اور نہ جانے کیا کچھ تھا ۔

اب کہاں جا رہے ہو برخوردار کھانا کھاتے جاؤ کاشان صاحب نے کاٹ دار نظروں سے سے ابتہاج کی پشت کو دیکھتے کہا تھا بھوک نہیں مجھے آپ لوگ کھا لیجیے وہ غصے سے خود پڑ ضبط کرتا بھیجنے جبڑوں کے ساتھ ساتھ وہاں سے نکلا تھا۔ جب غصہ انسان پر حاوی ہو جائے تو اس کا انجام یہ نکلتا ہے ۔۔۔۔۔

ابتہاج کی نظروں سے اوجھل ہوتی پشت کو دیکھتے وہ غصے سے صباء بیگم کو دیکھ بڑبڑائے۔

____________

کہاں جا رہی ہو میڈم ۔۔۔ صنم کو باہر کی جانب تیزی سے جاتا دیکھ فرحان نے آگے بڑھتے اس کا راستہ روکا تھا تھا اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں گی تین چار دنوں سے وہ مسلسل اسے اپنی باتوں اور حرکتوں سے ہراساں کر رہا تھا مگر صنم خود ضبط کیے اسے اگنور کر رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی تھی ایک بار پھر سے اس کی وجہ سے کوئی نیا ہنگامہ برپا ہو مگر آج فرحان اور اس کے ساتھ کھڑے اس کے لوفر دوستوں کو دیکھتے صنم نے سہمی نظروں سے اپنے اردگرد دیکھا وہ اس وقت یونی کے پارکنگ ایریا میں تھی جہاں پے چند ایک ہی سٹوڈنٹس موجود تھے ۔۔۔۔

راستہ چھوڑو میرا فرحان۔۔۔۔۔۔۔ صنم نے خود میں ہمت پیدا کرتے غصے سے اونچی آواز میں میں کہا تھا۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں تم سے ڈر جاؤں گا اسکی بونگی سی دھمکی سنتے وہ قہقہ لگاتے اسکی جانب قدم بڑھاتے بولا تو صنم نے اپنی نم آنکھوں سے آگے پیچھے دیکھا ۔

اتنے دنوں سے تمہارے آگے پیچھے گھوم رہا ہوں اور تم ہو کہ زیادہ نخرے دکھا رہی ہو تمہیں کیا لگتا ہے تم کوئی زیادہ حور پری ہو جو فرحان تمہارے پیچھے یوں پاگلوں کی طرح پھرے گا صنم کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ وہ غصے سے غراتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ ہاتھ چھوڑو میرا فرحان مجھے درد ہو رہا ہے” صنم کی آنکھوں میں ایک دم سے ہی جانے کتنے آنسو بھر آئے تھے وہ اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرتے بے ساختہ ہی رونے لگی ۔۔۔

فرحان کیا کر رہا ہے توں ۔۔ صنم کے زرد پڑتے چہرے کو دیکھتے عاشر نے فرحان کے بازو کو کھینچتے اسے پیچھے کیا تھا عاشر نہیں چاہتا تھا کہ اس وقت یونی میں کوئی نیا ہنگامہ کھڑا ہو جائے۔۔ جبھی وہ فرحان کو بھی پیچھے کرنے لگا، کیا ہے یار ابھی تو مزہ آ رہا تھا _____ فرحان نے جھنجھلاتے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا ایک دم سے صنم کا وجود بے جان ہوتے گرا تھا ۔۔۔۔

دھڑام کی آواز کے ساتھ صنم کو یوں گرتا دیکھ وہ سب ہی چونکتے مڑے تو سامنے ہی زمین پر بے ہوش پڑی صنم کو دیکھ فرحان کا رنگ فق پڑا تھا وہ خوف سے آنکھیں حیرت سے پھیلائے زمین پہ ساکن پڑے صنم۔کو وجود کو دیکھنے لگا۔ میں نے کہا تھا تجھے کہ یہ ہماری ٹائپ کی لڑکی نہیں فرحان اب دیکھ یہ بے ہوش ہو گئی ہے اس سے پہلے کہ کوئی اور آئے ہمیں جلد از جلد یہاں سے نکلنا ہو گا۔۔

ایک نظر صنم کو دیکھ وہ سب ہی جلدی سے وہاں سے بھاگے۔

_________

میں ہر ایک زخم کو چن لوں گا میری جان ۔۔۔ ماہا کے چہرے کو بےہودی سے اپنے دہکتے ہونٹوں سے چھوتے وہ بھاری سرگوشیاں کرتا جانے خود کو یقین دلا رہا تھا۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ پوری رات سنسان سڑک پہ پھرتا بوجھل دل سے گھر آیا تھا مگر کمرے میں قدم رکھتے ہی اسکی رت جگوں سے سرخ پڑتی نظریں لیمپ کی مدہم سی روشنی میں بھی اسکے زرد پڑے چہرے پہ تھیں ماہا کو دیکھ ابتہاج اسکے قریب آیا تھا۔۔۔۔

اسکے قریب بیڈ کے پاس نیچے بیٹھتے ابتہاج نے بغور اسکے معصوم چہرے کو دیکھا جہاں سوتے ہوئے بھی بےسکونی اور خوف کے تاثرات واضع محسوس کیے جا سکتے تھے۔ ابتہاج نے بےہودی سے اسکے چہرے کو چھوا تھا۔۔ جانتا ہوں بہت برا ہوں میں، اپنے ہاتھوں سے ہی اپنی اولاد کو مار دیا مگر اب جب یہ نعمت اس رب نے چھین لی ہے تو اپنا آپ حالی حالی سا محسوس ہونے لگا ہے مجھے ۔۔۔۔ ” اپنے چہرے پہ گرتے ایک بے مول سے آنسو کو رگڑتے وہ ہلکا سا ہنسا اپنی ہی کیفیت پہ۔۔۔۔۔

میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں ماہا تمہاری ناراضگی تمہاری نفرت مگر ______ میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دے سکتا ماہا۔۔۔۔۔ تم ابتہاج گردیزی کے روم روم میں بس چکی ہو تمہیں کیسے کھو دوں۔۔۔۔؟ ابتہاج کے دہکتے ہونٹ ماہا کی آنکھوں پہ تھے ، ابتہاج اسکے نازک وجود کو اپنے قریب تر محسوس کرتے جیسے پھر سے بےخود ہونے لگا تھا اپنے چہرے پہ کسی کے لمس کو محسوس کرتے ماہا نیند میں ہی کسمسائی تھی حالانکہ وجود پہ آئے زخموں کی وجہ سے وہ ٹھیک سے کروٹ نہیں بدل پاتی تھی مگر اسے نیند میں ہی اپنے چہرے پہ کسی کے دہکتے ہونٹوں کا لمس محسوس ہو رہا تھا جیسے ۔۔۔۔

ابتہاج مدہوش سا اسکے معصوم چہرے کے اپنے ہونٹوں سے چھوتے آہستگی سے جھکتا اسکے نازک ہونٹوں کو قید کرتے اسکی سانسوں کی مہکتی خوشبو کو خود میں انڈیلنے لگا ، اپنے ہونٹوں پہ کسی کے شدت بھرے لمس کو محسوس کرتے وہ جو اپنا خواب تصور کیے ہوئے تھی ایک دم سے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو کھولے وہ اپنے ہونٹوں پہ جھکے ابتہاج کو دیکھنے لگی ، جس کے لمس میں شدت تھی۔۔۔ ماہا کا دماغ پل بھر میں گھوما تھا وہ غصے ، نفرت سے مقابل کے سینے پہ اپنے دونوں ہاتھوں کا دباؤ دیے ابتہاج کو خود سے دور کرنے لگی ۔

ابتہاج جو مدہوش سا اپنی سانسوں میں اترتی اسکی خؤشبو کو پاتے ہی بےخود سا ہوا تھا کہ ایک جھٹکے سے ماہا کے اٹھنے اور اسے دھکیلنے پر وہ حیرانگی سے آنکھیں پھیلائے بیڈ کی دوسری جانب بکھرے حلیے میں کھڑی ماہا کو دیکھنے لگا ۔ جس کے بھیگے ہونٹوں پہ ابھی تک ابتہاج کا لمس موجود تھا ۔ وہ تیز تیز سانس لیتے غصے سے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو بھینجتے پھولی رگوں سے تن فن کرتی کمرے سے نکلنے لگی کہ ابتہاج نے آگے بڑھتے اسکے نازک ہاتھ کو تھامتے اپنی جانب کھینچا ۔۔۔

چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔ ” اپنے ارد گرد ابتہاج کے تنگ پڑتے حصار کو محسوس کرتے وہ غصے نفرت سے پھنکاری تو ابتہاج نے لب بھینجتے اسے آزاد کیا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ماہا کی طبیعت خراب ہو مگر وہ کیا کرتا جب وہ اسے گھر لایا تھا ماہا نے اس سے بات کرنا چھوڑ دیا تھا بالکل اوپر سے کمرہ بھی لاک کیے رکھتی ، جبھی وہ بےبس سا اس سے دور چار دنوں سے لاونج میں سویا تھا مگر آج اسے دیکھنے کی اسے چھونے کی خواہش نے جیسے اسے جکڑ لیا تھا ، جبھی وہ کسی ٹرانس میں چلتا اپنے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔

” تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے چھونے کی ہاں ، بولو ۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے جبڑے بھینجتے اپنی سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا جس کی آنکھوں میں جھلکتی نفرت اسے بےبسی کی موت مارنے لگی ۔ میں چلا جاتا ہوں تم آرام کرو ۔۔۔۔ اسے پھر سے باہر جاتا دیکھ ابتہاج تیزی سے اس سے آگے نکلتا کمرے سے نکلنے لگا ۔ رکو ابتہاج ۔۔۔۔۔” ابتہاج کا دروازے پہ دھرا ہاتھ ویسے کا ویسا ہی ساکن سا رہ گیا تھا۔۔۔

اسنے کرب سے آنکھیں میچتے پیچھے مڑتے اسے دیکھا، طلاق چاہیے مجھے آپ سے ۔۔۔۔۔ مجھے نفرت ہے تم سے تمہارے اس وجود سے ۔۔۔ اپنے بچے کے قاتل کے ساتھ میں اب نہیں رہ سکتی ۔۔۔ اس لئے مجھے تم سے صبح ہی طلاق چاہیے ۔۔۔۔ ” اپنے گالوں پہ بہتے آنسوں کو بے دردی سے رگڑتے وہ نفرت بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔۔

” تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہیں طلاق دوں گا ہاں ۔۔۔۔۔” ایک ہی جست میں اسکے قریب جاتے ابتہاج نے بپھرتے اسکے بازو کو کھینچتے اپنی جانب کیا تو ماہا نے نفرت سے اسے دیکھا ۔۔ بہت پہلے ہی سوچ لیا تھا میں نے یہ سب ابتہاج اب تو صرف اپنا مطالبہ تمہارے سامنے رکھ رہی ہوں ، وہ آپ سے تم پر آتے سارے لخاظ بالائے طاق رکھتے اسکی آنکھوں میں دیکھتے عجیب سے لہجے میں بولی ۔ ماہا میری جان _____! تم جو کہو گی مجھے منظور ہے تمہاری دی ہر سزا میں خاموشی سے قبول کر لوں گا مگر ___ مگر تمہیں خود سے الگ نہیں کر سکتا میں ۔۔۔۔۔ تم ابتہاج گردیزی کی ہر آتی جاتی سانس میں بس چکی ہو ماہا اب تمہارے بغیر میرا وجود بےمول ہے۔۔۔ کوئی وقعت نہیں میرا تمہارے بنا۔۔۔۔۔۔ “

ماہا کی آنکھوں میں اپنی سرخ ہوتی آنکھوں کو گھاڑتے وہ سچے دل سے ایک ایک لفظ پہ زور دیتا اپنے دل کا حال اس پہ عیاں کرنے لگا، پلیز ماہا ایک بار صرف ایک بار مجھے معاف کر دو پلیز ، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہارے ہر غم ہر دکھ کو خود میں سمیٹ لوں گا ۔۔۔۔ ماہا کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ابتہاج نے اپنے دہکتے ہونٹ اسکی پیشانی پہ رکھے تو ماہا کی سسکی سی نمودار ہوئی ، مجھے اکیلا چھوڑ دیں ابتہاج ۔۔۔۔” اپنے چہرے سے اسکے ہاتھوں کو ہٹائے ماہا نے جبڑے بھینجتے اسے خود سے دور کیا ۔ تو ابتہاج نے کرب بھری دردناک نظروں سے اسے دیکھا اور پھر بنا کچھ کہے وہ تیز تیز ڈھگ بھرتا روم سے نکلا تھا۔

___________

صنم کو ہوش آیا تو خود کو اپنے کمرے میں دیکھ وہ حیران سی رہ گئی ۔ صنم نے حیرت سے بیڈ سے اٹھتے اپنے اردگرد دیکھا ۔ میں تو یونی میں تھی پھر یہاں کیسے ، اور وہ لڑکے اسکا دماغ ابھی تک دن کو ہوئے اس واقعے میں اٹکا تھا کتنا ڈر گئی تھی وہ فرحان اور ان سب لڑکوں سے ، مگر اب خود کو اپنے گھر میں پاتے اسکا دل پرسکون سا ہوا ، صالح کو یاد کرتے ہی اسکی خوبصورت ہونٹوں پہ ایک دلکش سی مسکراہٹ پھیل گئی وہ بال سمیٹتے پاس پڑا اپنا دوپٹہ اٹھائے خود پہ اوڑھتے صالح کو ناں پاتے روم سے نکلی ۔

صص صالح ۔۔۔۔۔۔ سیڑھیاں اترتے وہ حیرانگی سے سنسان پڑے درو دیوار کو دیکھتے اسے پکارنے لگی ، مگر وہ کہیں بھی نہیں تھا صنم کی آنکھیں متفکر سی پھیلی ۔ وہ آہستگی سے سیڑھیاں اترتے نیچے ہال میں گئی ، صالح کہاں ہیں آپ ۔۔۔۔؟ ” اسکی آواز میںں واضح فکر تھی صالح کی غیر موجودگی ہی اسے ڈرا رہی تھی ۔۔

صصص صالح ۔۔۔۔ ” ایک دم سے ہال میں پھیلتے اندھیرے پہ صنم کا سانس ڈر و خوف سے رکنے لگا ۔

وہ سہمی نظروں سے اپنے اردگرد دیکھ صالح کو اونچی آواز میں پکارنے لگی ، وہ آگے ہی ڈری ہوئی تھی اوپر سے اس اچانک سے پھیلے اندھیرے اوپر سے اپنے پیچھے سے آتی بھاری قدموں کی چاپ پہ صنم کا سانس رکنے لگا ۔ وہ ہراساں سی خوف سے آنکھیں پھیلائے تیزی سے دھڑکتے دل سے صالح کو پکارتے وہاں سے بھاگنے لگی مگر ایک دم سے کسی نے پیچھے سے آتے اسکی نازک کمر کے گرد اپنے بھاری ہاتھ لپیٹتے اسے جھٹکے سے کھینچتے اپنے قریب تر کیا۔۔ صنم کا سانس سینے میں اٹک سا گیا وہ کپکپاتی لرزتے ہاتھوں سے مقابل کے حصار کو توڑتے اسے خود سے دور کرنے لگی کہ معا صالح نے جھکتے اسکے کان میں گھبیر سرگوشی کی ۔ صنم کا پورا وجود سن سا ہو گیا ۔

اسنے آنکھیں بند کیے اس خؤشبو کو محسوس کیا ، جو اسے جانی پہچانی لگی ایک دم سے سارا خوف سارا ڈر کہیں دور جا سویا تھا وہ اپنے دونوں ہاتھ مقابل کی گردن کے گرد حائل کیے اسے خود سے قریب تر کرنے لگی کہ اس کی معصوم سی کوشش پر صالح کے ہونٹوں پہ ایک دلکش سی مسکراہٹ بکھری ۔۔۔ اسے خود میں بھینجتے صالح نے اسکے سر پہ لپٹا دوپٹہ اپنے بائیں ہاتھ سے اتارتے پیچھے کینجانب اچھالا تھا صنم کا سانس سینے میں الجھا اسکے بھاری ہاتھ کا لمس اپنی گردن پہ محسوس کرتے وہ بری طرح سے کپکپا اٹھی ۔ جبکہ صالح کے ہاتھ اسکے بالوں میں الجھے تھے

صالح نے نرمی سے اسے بالوں کو پیچھے کرتے جھکتے اسکے ہونٹوں کو قید کیا اور قطرہ قطرہ اپنی سانسوں کو صنم کی سانسوں میں انڈیلتے وہ ایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کیے اسے سہارے سے کھڑے کیے ہوئے تھا۔ صص صالح۔۔۔ صالح نثے ہونٹوں کا بے باک لمس صنم کی تھوڑی سے ہوتے شہہ رگ پہ آیا تو صنم کی جان ہوا ہوی تھی ۔ وہ اندھیرے میں کھڑی خود پہ جھکے صالح خان کی شدتوں سے سہمی ہوئی سی تھی ،

صالح کے بے باک انگلیوں کا لمس اپنے پچھلے گلے پہ محسوس کرتے صنم نے ڈرتے اسکے کالر کو دبوچا مگر مقابل نے دلکشی سے مسکراتے اسکے گلے میں اپنا لایا پینڈنٹ پہنائے جھکتے اپنے ہونٹ اس کی گردن پر رکھے۔

صالح ۔۔۔۔صنم نے ایک دم سے لرزتے اسے پکارا تھا جب صالح جھکتے اسے اپنے بازوں میں اٹھائے باہر کی جانب بڑھا ۔

یہ سب ۔۔۔۔۔ صنم نے ایک دم سے آنکھیں پھیلائے حیرانگی سے صالح کو۔دیکھتے پوچھا تھا جو اطمینان سے ہاتھ اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے مسکراتی نگاہوں سے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا تھا صنم نے نظریں پورے لان پہ ڈالیں جسے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔ لان کے ایک جانب خوبصورتی سے سجایا ایک ٹیبل جس کے اوپر ایک بڑا سا کیک رکھا گیا تھا ، ٹیبل تک پہنچنے کے لئے پھولوں سے خوبصورت راستہ بنایا گیا تھا۔

صنم کی پھیلی آنکھوں میں دیکھتے صالح اسے لئے مسکراتا پھولوں سے گزرتا ٹیبل کے قریب پہنچا اور بے حد نرمی سے نیچے اتارتے ہی صالح نے اس کے گرد اپنا مضبوط حصار بنائے خود میں بھینجا۔ صنم نے ایک نظر سامنے موجود مزید خوبصورتی سے کیک کو دیکھا جسے خوبصورتی سے میز پہ سجاوٹ کے درمیان رکھا گیا تھا اسکی آنکھوں میں حیرانگی موجود تھی جسے دیکھ مقابل ہلکا سا مسکرایا۔ صالح نے اپنا دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا اور ایک دم سے اس کی چٹکی بجانے سے سارا لان سفید اور سنہری روشنی سے جگمگا اٹھا۔

صالح یہ سب کیا ہے ؟ صنم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے پوچھا تھا . وہ سچ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ صالح نے اتنی تیاری کیوں کر کی تھی ایسا بھی کون سا خاص دن تھا آج ۔۔۔ جس کی بابت ؤہ خود نہیں جانتی تھی ۔ تم نے میری بہت بڑی خواہش پوری کی ہے آج صنم۔۔۔۔ میں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش ہوں آج۔۔۔۔۔۔!”

صنم۔کے معصوم چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے وہ مسکراتے عقیدت سے اسکی آنکھوں کو چومتے محبت سے لبریز لہجے میں بولا تھا مگر صنم حیران۔سی تھی بھلا ایسی کونسی خواہش تھی صالح کی جسے وہ پورا کر چکی تھی مگر وہ خود اس بات سے انجان تھی ۔ مگر صالح میں نے کیا کیا۔۔۔۔۔؟ اپنی بڑی بڑی آنکھیں پھیلائے وہ انجان سی اس سے پوچھنے لگی۔۔ تو صالح نے لب کا کونہ دانتوں تلے دبایا۔

” کیونکہ تم ماں بننے والی ہو صنم اور میں بابا بننے والا ہوں”

صالح نے اپنے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کرتے اسے اپنے قریب تر کرتے اپنا ماتھا اسکے ماتھے کے ساتھ ٹکائے ایک جذب کے عالم میں اسے بتایا تھا جیسے وہ جی رہا ہو ان لمحوں کو کتنی خوشی تھی اس کے چہرے پہ ایک انجانا سا سکون ، صنم کا وجود جیسے سرد سا پڑ گیا تھا وہ آنکھیں پھیلائے مقابل کی سرخ آنکھوں میں دیکھتی حیران سی تھی ۔ اس اچانک ملتی نیوز پہ یقین کر پانا نا ممکن سا تھا ۔۔۔۔

میں سچ کہہ رہا ہوں جانم ۔۔۔ بہت جلد میری ایک پیاری سی پرنسز اس دنیا میں آئے گی۔ بالکل میری صنم جیسی۔۔۔ میں بہت خوش ہوں آج میرا بس چلے تو میں اس دنیا کی ہر خوشی تمہارےقدموں میں بچھا دوں۔۔جانتی ہو جب مجھے خبر ملی کہ تم بے ہوش ہو گئی ہو دل کتنا ڈر گیا تھا میں جس حال میں یونی پہنچا صرف میں ہی جانتا ہوں مگر پھر جب ہاسپٹل جانے پہ ڈاکٹر نے مجھے یہ گڈ نیوز سنائی تو کتنے ہی لمحے میں یقین نہیں کر پایا تھا کہ میرا رب مجھ پر سچ میں اتنا مہربان ہوا تھا۔ مگر پھر جب اس کی قدرت کا سوچا تو یقین ہو گیا کہ ہاں اب صالح اور صنم اکیلے نہیں ہماری بھی اپنی فیملی ہو گی ہمارا ایک چھوٹا سا بے بی۔۔۔۔ جس کے گرد ہم دونوں کی ساری خوشیاں ساری دنیا گھومے گی۔۔

اسکے لفظوں کا سحر تھا یا پھر اسکے لہجے کی شدت کہ صنم کی آنکھیں بے اختیار بہہ پڑی وہ نم آنکھوں سے اپنے مسیحا اپنے دلدار کو دیکھ رہی تھی۔ جس نے ایک ایک کرتے اس کی زندگی کو حسین بنا دیا تھا۔۔۔ یہ آنسوں ناں دکھیں مجھے آج کے دن ۔۔۔ چلو پہلے کیک کٹ کرتے ہیں۔ اپنے ہونٹوں سے صنم کے آنسوں کو چنتے صالح اسے لیے میز تک پہنچا۔

کیک پر ہارٹ شیپ پہ لکھے ورڈز( Mom,DaD and Me)کو پڑھتے صنم کے ہونٹوں پہ ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھری۔ صالح نے اسکے ہاتھ کو تھامتے ایک ساتھ کیک کٹ کیا اور جلدی سے کیک اسکے سامنے کیا صنم نے تھوڑا سا بائٹ لیتے اسکے ہاتھ سے کیک کا ٹکڑا پکڑے صالح کے سامنے کیا ۔ تو صالح نے مسکراتے گردن نفی میں ہلائی۔صنم کو حیرت ہوئی صالح۔۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ کچھ کہتی کہ مقابل نے ہاتھ اسکی گردن کے گرد لپیٹتے اسکے ہونٹوں کو اپنی شدت بھری گرفت میں لیا۔

صنم اسکے لمس پہ آنکھیں موندے کھڑی تھی جبکہ صالح اسکی مہکتی سانسوں کو خود میں انڈیلتا بے خود سا ہو گیا۔ صنم کی اکھڑتی سانسوں کو محسوس کرتے صالح نے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشی تو وہ اسکے سینے سے لگے سانس بھرنے لگی۔ صالح نے جھکتے اسے بانہوں میں بھرا تو صنم کی نظریں ایک دم سے جھک گئی وہ جانتی تھی اسے روک پانا نا ممکن تھا اور آج کے دن تو صالح اسکی ایک بھی نہیں سننے والا تھا جبھی صنم نے سر اسکے سینے پہ رکھتے آنکھیں موند لیں۔

___________

کیا تھی اسکی زندگی مگر ان چند دنوں میں سب کچھ بدل گیا تھا ۔ وہ بدل گئی تھی بالکل اسکا وجود حالی سا ہو گیا تھا ۔ اس سے اچھا تو یہ تھا کہ اللہ اسے اس جذبے اس احساس سے روشناس ہی ناں کرواتے ، کیونکہ اس وقت جو دکھ اسکے دل میں پنجے گاڑھے بیٹھ چکا تھا اس کا نکلنا اب نا ممکن سا ہو گیا تھا رات کے بعد ابتہاج اسکے سامنے نہیں آیا تھا ناں ہی وہ کمرے سے نکلی تھی دن کو بھی منیبہ بیگم کے اصرار انکے رونے پہ نا چاہتے ہوئے بھی ماہا نے کچھ نوالے کھائے تھے مگر اب وہ اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی ۔

وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بات بار اپنے پیٹ کو چھو رہی تھی اس احساس کو محسوس کر رہ تھی جو اب کہی نہیں تھا اسکے پاس ۔۔۔۔۔ ایک بار پھر سے اسکی آنکھوں میں آنسوں تھے وہ ضبط نہیں کر پا رہی تھی خود پہ کیونکہ وہ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔۔۔ اس کا دل گھبرانے لگا جیسے اندھیرا سا چھا گیا تھا اسکے چاروں اطراف اور وہ بیچ میں اکیلی کھڑی سب کو چلا چلا کے بلا رہی تھی مگر کوئی بھی نہیں تھا اسکی سننے والا۔

جبھی وہ گھبراتے ننگے پاؤں ہی باہر نکلی تھی۔ منیبہ بیگم جو رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھی سیڑھیوں سے اترتی ماہا کو دیکھ ان کے دل کو کچھ سکون ہوا کم از کم وہ باہر تو نکلی تھی۔ ورنہ تو اس نے کسی سے بھی ملنے سے انکار کر دیا تھا ان چار پانچ دنوں میں صبا بیگم دلاور صاحب دو بار آئے تھے اس سے ملنے مگر وہ اپنے غم اپنے دکھ میں ایسی مبتلا ہوئی تھی کہ کسی سے بھی ملنے سے انکار کر دیا۔

اسے باہر لان کی جانب جاتا دیکھ منیبہ بیگم نے دل سے اپنے رب سے اس معصوم کے سکون کی دعا کی تھی۔

آسمان پہ پھیلتی شام۔کی گہری سرخی میں وہ یونہی نظریں آسمان پہ مرکوز کیے اسے گھور رہی تھی۔ اسکا دماغ سن تھا اور سوچیں مفقود۔۔۔۔۔۔۔ جبھی ایک دم سے اسکے پاؤں کے قریب گرتے فٹ بال نے اسے چونکایا ۔ ماہا جو اپنے ہی خیالوں میں کھڑی تھی اچانک سے بال پاؤں پہ لگنے پہ وہ بدک کے دو قدم پیچھے ہوئی اور آنکھیں پھیلائے سامنے دیکھنے لگی۔۔۔

سامنے ہی ایک چھوٹا سا تین چار سالہ بچہ کھڑا کبھی ماہا تو کبھی اپنی بال کو دیکھتا۔ اسنے سر پہ بلیک ٹوپی پہنی ہوئی تھی اور معصومیت سے گال پھیلائے وہ آنکھیں مٹکاتے ماہا کی جانب د یکھتا ہاتھ پشت پہ باندھ گیا۔

ماہا نے ایک دو بار دور سے دیکھا تھا اس بچے کو وہ ان کے ہمسائیوں کا بچہ تھا ۔ ماہا کے قدم اسکے قریب بڑھے تو بچہ ڈر سے پیچھے ہونے لگا اسے لگا کہ وہ شاید غصہ کرے گی اس پہ۔۔ ادھر آؤ بے بی۔۔۔۔۔۔ ” اسکے ڈر کو بھانپتے ماہا چند قدموں کے فاصلے پہ بیٹھتے محبت سے اسکے بلانے لگی۔۔مگر وہ بچہ بنا اپنی بال لیے الٹے قدموں سے وہاں سے بھاگا تھا ماہا نے آوازیں دیے اسے روکا مگر وہ تیزی سے ڈرتے وہاں سے نکلا تھا۔

ابتہاج جو کسی کام کے سلسلے میں گیا تھا اب گھر میں داخل ہوتے ہی ماہا کی آواز پہ وہ چونکا اسکا رونا وہ محسوس کر چکا تھا جبھی وہ دوڑتے لان کی جانب آیا ۔ ماہا ۔۔۔۔۔ ” وہ بھاگتے اسکے قریب پہنچا اور اسکے روتے وجود کو خود میں بھینجا۔۔۔۔ “اشششش ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے ماہا پلیز چپ کر جاو۔۔۔۔” ابتہاج نے اسکے سر کو تھپکا وہ بھپر پڑی۔۔

چھوڑو مجھے وہ دیکھو میرا بچہ جا رہا ہے ابتہاج چھوڑو مجھے میں کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔ وہ ہذیانی سی ہوتے چلائی تو ابتہاج نے لب بھنجتے اسے خود سے مزید قریب تر کیا جیسے ڈر تھا کہیں وہ چھوڑ ناں جائے۔۔۔۔ چھوڑو مجھے۔۔۔۔ اپنا آپ اسکی گرفت سے آزاد کروانے کی کوشش کرتے ماہا نے اسے بری سے خود سے دور کرنا چاہا تھا ۔ ابتہاج نے جبڑے بھینجتے اسے دوبارہ سے اپنے قریب کیا تھا اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ سے چیختی ابتہاج نے جھکتے اسکے کپکپاتے خشک ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیا۔۔ ماہا کا وجود اسکے لمس پہ سن سا پڑنے لگا وہ بری طرح سے اپنے ناخن اسکی گردن پہ گھاڑ گئی۔

مگر ابتہاج کی بڑھتی گرفت پہ وہ غصے سے اسے جھنجھوڑنے لگی۔۔ ابتہاج اسکی مزاخمت پہ بے بسی سے اس سے دور ہوا تھا۔ ” کتنی بار کہوں دور رہا کرو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔ خبردار جو اب میرے نزدیک آنے کی کوشش کی۔۔” وہ غصے سے اپنے ہونٹوں کو بری طرح سے رگڑتے ابتہاج کو نفرت سے دیکھتے وہاں سے بھاگی تھی ۔ابتہاج۔نے کرب سے اپنی آنکھیں میچتے ماہا کی پشت کو دیکھا۔

ماہا میں قصور وار ہوں تمہاری اس حالت کا ۔۔۔۔ میں ہی قاتل ہوں اپنے بچے کا ۔۔۔۔۔۔۔ میں کبھی خود کو معاف نہیں کروں گا ۔ ابتہاج نے اذیت سے اپنے گال پہ گرتے آنسو کو رگڑا تھا اور پھر سے لمبے لمبے ڈھگ بھرتا وہ گاڑی تیزی سے اسٹارٹ کیے وہاں سے نکلا۔

__________

کاشان پلیز پتہ کریں کہاں ہے آخر وہ۔۔۔ صبح سے رات ہو گئی ہے اور ابھی تک وہ گھر نہیں آیا کال پک نہیں کر رہا وہ۔۔۔۔۔۔” منیبہ بیگم جو کب سے ابتہاج کی پریشانی پہ گھلے جا رہی تھی اب بے بسی سے کاشان صاحب کو دیکھتے کہا تھا جنہوں نے ایک خاموش نظر اٹھائے ان کو دیکھا ۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتے ملازم نے انہیں دلاور صاحب کی آمد کا بتایا ۔۔۔ وہ دونوں ہی خاموش ہو گئے۔۔ اس حادثے کے بعد دلاور صاحب کا رویہ بہت روکھا سا تھا ان سب سے۔۔۔۔ جسے وہ محسوس کرنے کے باجود کچھ نہیں کہہ پاتے تھے۔ مجھے ماہا سے ملنا ہے کاشان۔۔۔۔ کاشان صاحب جو دلاور شاہ کو دیکھتے اب جگہ سے کھڑے ہوئے تھے دلاور شاہ کی آواز پہ آہستگی سے بولے

وہ اندر کمرے میں دلاور شاہ مگر وہ کسی سے نہیں ملنا چاہتی ۔۔۔ آپ بیٹھیں پلیز کاشان صاحب نے آگے بڑھتے انہیں ماہا کے متعلق بتایا اور ساتھ ہی بیٹھنے کا بھی کہا۔۔۔۔

نہیں میں۔ بیٹھنے نہیں آیا یہاں ۔۔۔۔ مجھے اپنی بیٹی سے ملنا ہے اور آج میں مل کے ہی جاؤں گا ۔۔۔۔ سرد لہجے میں انہیں جواب دیے وہ سیڑھیاں عبور کرتے اوپر ماہا کے کمرے کی جانب بڑھے تھے۔

ماہا۔۔۔۔۔۔۔ ماہا کی سسکیوں کو سنتے دلاور شاہ جو دروازہ کھولے اندر داخل ہوئے تھے اسکو یوں روتا دیکھ وہ تڑپتے اسے پکار اٹھے۔۔۔ماہا نے سر تکیے سے اٹھائے اپنے بابا کو دیکھا۔۔ بب بابا ۔۔۔۔ وہ ایک دم سے روتے انکی جانب لپکی تھی دلاور شاہ نے اسے سینے سے لگائے اسکے سر پہ ہونٹ رکھے اپنے ہونے کا تخفظ احساس دلایا تو ماہا اتنے دنوں بعد کسی مہربان سائے کو پاتے پھر سے بکھر گئی تھی جیسے۔۔ ۔

میری جان میری بیٹی چپ ہو جاؤ ۔۔۔۔۔ ” اسکے رونے سے لرزتے وجود کو تھامتے دلاور شاہ اسے بیڈ پہ بیٹھائے اسکے قریب بیٹھے تھے اور ہونٹ اسکی پیشانی پہ رکھتے وہ پھر سے اسے خود میں بھنج گئے۔۔۔ ماہا کا پورا وجود ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔۔دل میں رقم اذیتیں وہ سارے زخم پھر سے ہرے ہو گئے تھے ۔

بابا آپ کو پتہ ہے میرا بچہ۔۔۔۔۔۔ مار دیا اس کو سب نے چھین لیا مجھ سے۔۔۔۔۔ ” انکے سینے سے لگے وہ اپنے اندر کا سارا غم سارا دکھ ساری تکلیف سے انکو عیاں کرنے لگی جو لب بھینجتے اسکے سر کو تھپکتے اپنی معصوم بیٹی کی تکلیف کو محسوس کرتے خود تکلیف میں تھے ۔ بابا بہت مارا ان سب نے مجھے ۔۔۔۔ ٹارچر کیا ذہنی طور پر ۔۔ میرے وجود کو سگریٹ سے جلا دیا جانے کیا کرتے تھے میرے ساتھ میرا دماغ بھاری ہو جاتا تھا میں کچھ بول نہیں پاتی تھی مگر ہر زخم مجھے محسوس ہوتا تھا تکلیف سے میری آنکھوں میں آنسوں آ جاتے تھے مگر ان سب کو ترس نہیں آیا مجھ پہ۔۔۔۔ میں نے کیا بگاڑا تھا کسی کا۔۔۔۔ جو مجھے اجاڑ دیا ان سب نے مل کے ۔۔۔۔ میں کسی کو معاف نہیں کروں گی ابتہاج کو معاف نہیں کروں گی میںں۔۔۔ وہ قاتل ہے میرے بچے کا۔۔۔۔ اسنے مار دیا اسے۔۔۔۔۔۔

ماہا کا دکھ اسکے کہے الفاظ دلاور شاہ اسکے دکھ میں نڈھال سے ہوگئے تھے۔۔ ابتہاج کا سنتے ہی انکا غصہ بے حد بڑھا تھا ۔۔ یہ تو اچھا ہوا تھا کہ آج وہ زبردستی ہی سہی اپنی بیٹی سے ملنے اسکے کمرے میں خود ہی آئے تھے ورنہ وہ معصوم تو اس غم میں اکیلے ہی مر جاتی۔۔۔۔

چلو بیٹا اب تم یہاں نہیں رہو گی چلو میرے ساتھ میں اپنی بیٹی کو مزید تکلیف نہیں دے سکتا ۔۔۔۔ ماہا کو تھامتے وہ اسے اپنے ساتھ کھڑا کرتے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولے تو ماہا پل بھر کو خاموش سی رہ گئی ۔۔۔۔ ببب بابا ۔۔۔۔۔ ” کچھ نہیں میں ایک لفظ نہیں سنوں گا تم چل رہی ہو بس میرے ساتھ ۔۔ میرے ہوتے میری بچی اذیتیں سہے تو مجھ پر لعنت ہے ۔ چلو اپنے گھر چلو بیٹا ___”

ماہا انکی آنکھوں میں جھلکتے مان کو دیکھتے خود بھی خاموش سی ہو گئی۔۔۔۔ دلاور شاہ اسے ساتھ لگائے باہر نکلے تھے۔ کاشان آپ بتاتے کیوں نہیں کس کا فون تھا کیا ہوا ہے ابتہاج کو۔۔۔۔۔۔ منیبہ بیگم انکے فق چہرے کو دیکھتے گھبرا سی گئی تھی ۔ انہوں نے جھنجھوڑتے کاشان سے ابتہاج کی بابت پوچھا ۔۔۔

ماہا اور دلاور شاہ جو نیچے آ رہے تھے وہ دونوں بھی ابتہاج کے نام پہ چونک سے گئے ۔

ہاسپٹل سے فون تھا ابتہاج کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔۔۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *