Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 13)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

ماہااپنے رب کے سامنے درخواست کر کے اٹھی اور چلتی ہوئی بیڈ کے پاس آ گئی وہ آرام سے ابتہاج کے سرہانے بیٹھی اور اس کے پیشانی پر بکھرے بالوں میں نرمی سے اپنی انگلیاں چلانے لگی اس کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہہ رہے تھے پر آج اس نے اپنے آنسووں کو روکنے کی بلکل کوشش نہیں کی تھی جانے کیسی کشش تھی جو اسے ابتہاج کی جانب کھینچ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی اس کا دل ابتہاج کے لئے اس قدر نرم کیسے ہو سکتا ہے زندگی نے بھی اسے عجیب دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا جہاں ماں باپ بھی ساتھ چھوڑ چکے تھے اور شوہر سے اس نے کسی بھی طرح کی امید لگانا چھوڑ دی تھی خود ہی اس کے دل میں اپنی محبت جگہ کر اسے غلط قرار دے گیا ۔۔۔۔ مہا انتہائی نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی نہ جانے اس کے دل میں کیا سمائی ۔۔۔وہ ہلکے سے ابتہاج کی جانب جھکی اور اس کی پیشانی پر اپنے دہکتے لب رکھ دئیے

صحیح کہتے ہیں لوگ جب محبت اپنا اسیر کرتی ہے تو انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے اسے اپنے محبوب کی ہر غلطی قبول ہوتی ہے بشرط محبت کا ساتھ ہو ماہا نے اپنے آنسو صاف کیے اور پھر سوچ نظروں سے ابتہاج کی جانب دیکھنے لگی

“پہلے مجھے لگتا تھا کہ تم ایک پتھر دل انسان ہو پر جب سے تم نے مجھے اپنے رنگ میں ڈھالا ۔۔۔مجھے اپنا آپ خوبصورت لگنے لگا میرے سارے دکھ درد صرف تمہاری ذات میں ہی سمٹ آئے تھے مجھے امید تھی کہ تم کبھی بھی مجھے تکلیف نہیں پہنچاؤگے پر کل کی تمہاری بات تو نے تمہارے لفظوں نے مجھے وہ زخم دیے ہیں جنہیں شاید ہی کبھی بھلا پاؤ ں ۔۔۔۔تم میری زندگی میں آنے والے پہلے مرد تھے جب سے تم ہی سمجھا تمہیں جانا تم سے محبت ہوئی ۔۔تمہاری ہر غلطی تمہاری ہر زیادتی پر آمین کہا کبھی سوال نہیں کیا تمہارے درد کو اپنا سمجھا اپنے کردار پر بھی کبھی تمہیں لفظ نہ کہا ۔۔۔ پر ابتہاج گردیزی اب میری بس ہو گئی تمہاری قربت کی طلبگار نہیں تھی ۔۔۔۔ تمہاری نظروں میں محبت و عزت دیکھنے کی خواہاں تھی وہی عزت جو ایک شوہر اپنی بیوی کو دیتا ہے ۔۔۔ پر تم نے ہر بار میرا مان توڑا میں پھر تمہارے در پر جھک گئی محبت بھی تو نبھانی تھی ۔۔۔۔ تم کبھی نہیں سمجھ سکتے ٹھکرائے جانے کی ازیت ۔۔۔ میرا دکھ بڑا ہے پر تمہیں یہ بھی معاف ۔۔۔۔ “

اس سے زیادہ ماہا سے بولا نہ گیا اور وہاں سے اٹھتی نیچے چلی آئی جہاں صباء بیگم کچن میں ملازمہ کو کچھ ہدایات دے رہی تھیں ۔۔۔ وہ دونوں کل ہی واپس آگئے تھے شام کی فلائیٹ سے ۔۔۔

ماہا نے صباء بیگم کو سلام کیا ۔۔۔۔ جس کا جواب انہوں نے خوشدلی سے دیا ان کی نظر ماہا کے پر مثردہ چہرے پر پڑی جو کسی بھی تعصر سے عاری تھا ان کو تشویش ہوئی ۔۔۔۔ ابتہاج کا موڈ بھی ان کو ٹھیک نہ لگا تھا ۔۔۔۔

انہوں نے ماہا سے پوچھا

کیا بات ہے ماہا بیٹا پریشان لگ رہی ہو؟ابتہاج نے کچھ کہا ہے کیا ؟۔۔۔۔

ان کے سوالوں پر ماہا گڑ بڑا گئی اور جلدی سے بولی ۔۔

“نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس سفر سے تھک گئی ہوں

صباء بیگم نے گہرا سانس بھرا جانتی تھیں وہ نہیں بتا پائے گی ۔۔۔۔ اور بات بھی یہی تھی ماہا اس وقت اکیلے رہنا چاہتی تھی

ماہا بے دلی سے کچن میں اپنے لئے ناشتہ بنانے لگی اس کا دل نہیں کر رہا تھا کچھ بھی کھانے کا لیکن کیا کرتی ۔۔۔۔ کچھ کرنا بھی تو تھا۔۔ ماہا اپنی سوچوں میں گم تھی کہ اسے سمیر کے آنے کا پتہ ہی نہ چل سکا سمیر نے ایک دم سے پیچھے آکر اسے ڈرایا ۔۔۔۔ماہا کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی

سمیر اسے ڈرا کر ہنسنے لگا

ماہا اپنے دھک دھک کرتے دل پر ہاتھ رکھتی غصے سمیر کو گھورنے لگی

سمیر اب بھی ڈھیٹوں کی طرح مسکراہٹ سجائے اسے دیکھ رہا تھا

“تھم در گئی ویسے تم بوت در پوت ہے ۔۔۔۔ برو سے نی درتی تم ۔۔۔۔وہ تو ایسے ایلیپہینٹ ہیں یار۔ ۔۔ مج سے درتی یو ناٹ فئیر ۔۔۔۔”

سمیر شرارتی نظروں سے دیکھتا اسے زچ کر رہا تھا ۔۔۔ ماہا نے گھور کر اسے دیکھا اور بولی

“تم ۔۔۔ تم بندر مجھے ڈراتے ہو ۔۔ رکو زرا میں تمہارے بھائی کو بلاتی ہوں ۔۔ انگریزی جھینگے میں ۔۔۔ کسی سے نہیں ڈرتی تمہارے۔ ۔۔۔ اس جنگلی بلے بھائی سے بھی نہیں ۔۔۔۔ جب دیکھو چیختا ہی رہتا ہے اور۔۔۔ تم ۔۔۔ ان سے بھی آگے اتنے کوئی فالتو آدمی ہو جب دیکھو ۔۔۔۔ سستی ہی پھیلاتے ہو مانا کہ باہر ۔۔۔ ملک سے سست لوگ ہی آتے ہیں پر اب تم ہماری کنٹری یو نو ملک میں ہو ۔۔۔ انسان بنو ۔۔۔۔ اب نکلو کہاں سے۔۔۔۔ “

ماہا اپنے دل۔کی بھڑاس سمیر پر نکالتی جیسے ہی پیچھے مڑی دل دھک سے رہ گیا جہاں ابتہاج کڑے تیوروں سے گھور رہا تھا ۔۔۔۔

ماہا آنکھِیں پھیلائے اسے اپنے سامنے دیکھتی پلکیں جھپکتی اس کے ہونے کا یقین دلانے لگی ۔۔۔۔

سمیر تو ابتہاج کو دیکھتے ہی وہاں سے کھسک گیا تھا ۔۔۔ اب بس ماہا اور ابتہاج ہی تھے ماہا نے اپنے چہرے پر کوئی تعصر دیے بنا اپنے لیے جو بنانے لگی ۔۔۔۔

ابتہاج جو اس کی چیخ سن کر نیچے آیا تھا اپنے بارے میں اس کے نادر خیالات جان کر جی جان سے جل اٹھا پرا س کی بے نیاز ی دیکھ اسے جی بھر کے تاو آیا

پر فلحال اس کا موڈ خراب کرنے کا ارادہ بلکل نہی تھا

ماہا اپنی پشت پر اس کی نظروں کی تپش بخوبی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

ابتہاج کا دل کیا ایک بار اسے دیکھے ۔۔۔۔ سمجھ رہا تھا بہت ڈسٹرب ہے اس کی ساری باتیں وہ کمرے میں ہی سن چکی تھی ۔۔۔ ابتہاج کو افسوس سا ہوا تھا اپنا کیا یاد کرکے کتنی ذلت و رسوائی دے چکا تھا وہ اسے ۔۔۔ وہ واقعی اس لڑکی کی محبت کے قابل نہیں تھا

ابتہاج نا محسوس انداز میں اس کے پیچھے آکھڑا ہوا ۔۔۔ اس کا دل پر سو سے اس کے قرب کا طلبگار ہو رہاتھا پر وہ ماہا کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا

ماہا جیسے ہی گلاس اٹھانے کے لئے پیچھے کی طرف مڑی تو اپنے پیچھے کھڑے ابتہاج سے ٹکرا گئی ۔۔۔اس ابتہاج نے بے ساختہ ہی اپنا بازو اس کی کمر میں اپنا بازو حمائل کیا ۔۔۔ ابتہاج اس کی گردن پر جھکا اس کے جسم سے اٹھتی مسحورکن خوشبو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا ۔۔۔

ماہا کی سانسیں اکھڑنے لگیں اسے کہاں توقع تھی ۔۔ابتہاج کی اس رات کے بعد پہلی پیش قدمی تھی وہ سٹپٹا کر اس سے الگ ہونے لگی پرا بتہاج نےا س کی کوشش کو ناکام کرتے اسے کمر سے پکڑ کر شیلف پر بٹھایا ۔۔۔۔

ماہا سرخ چہرہ لیے اپنی سانسیں ہموارکرنے لگی ۔۔۔۔ اس کا دل دو سو کی سپیڈ سے بھاگ رہا تھا ۔۔۔ جیسے سینے سے باہر نکل آئے گا

ابتہاج اس کے ارد گرد اپنے بازو ٹکائے ۔۔۔ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

“مجٙھے لگتا ہے تم مجھے بیوقوف سمجھتی ہو۔ ۔۔۔ کیا سمجھتی ہو میں تمہاری ان باتوں سے بہل جاوں گا ۔۔۔ مجھے پتا ہے جو کچھ تم نے سمیر سے کہا وہ سب تمہارے دل کی بات تھی جو لبوں پر آگئی ۔۔۔۔ “

ابتہاج بہکے لہجے میں اس کے لبوں پر اپنا انگوٹھا پھیرتے ہوئے بولا ۔۔۔

ماہا نے تڑپ کر خود کو اس کے حصار سے آزاد کرانا چاہا پر ابتہاج کی فولادی گرفت سے خود کو آزاد نہ کراپائی آخر جھنجھلا کر بولی

کیا چاہتے ہیں آپ ۔۔۔ ہاں کل تو آپ کے لیے ایک غلطی تھی اور آج مجھے اپنے چند لمحوں کی قربت بخش کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہِیں ۔۔۔ بہت مہربان ہیں آپ ۔۔۔ چند لمحوں کی کرم نوازیاں اورا س کے بعد ۔۔۔۔ بتائیں اس کے بعد کیا کریں گے پھر سے مجھے اپنی غلطی کے کٹہرے میں لاکھڑا کریں گے ۔۔۔۔

ماہا جو کب سے خود پر ضبط کیے ہوئے تھی ابتہاج کے اس طرح حق جتانے پر اسے غصہ آگیا

ابتہاج نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورا اور پھر کچھ سوچتے بنا کسی کی پرواہ کیے اسے کندھے پر ڈالتا کمرے کی طرف بڑھ گیا

ماہا اچانک افتاد پر گڑ بڑا گئی اور مزاحمت کر تی خود کو اس کی باہوں سے چھڑانے لگی ابتہاج نے اس کی ان سنی کرتے سیدھا کمرے میں لاکر اسے چھوڑا

ماہا تو اس کے تیور دیکھ حیران تھی ۔۔۔ ابتہاج اس کی ذہنی کیفیت کا اندازہ تھا تبھی وہ بنا کچھ کیے اسے اپنے سینے میں بھینچ گیا ماہا اس کا لمس محفوظ حصار اپنے گرد محسوس کرتی نئے سرے سے بکھرنے لگی ۔۔۔۔ ماہا پھوٹ پھوٹ کر روتی اس کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑ گئی ۔۔۔

ابتہاج کا ایک ہاتھ نرمی سے اس کے بالوں کی جڑیں سہلا رہا تھا تو دوسرا ۔۔۔ کمر کے گرد تھا ماہا اب سسکیوں سے روتی اس کی غلطیاں بتا رہی تھی ۔۔۔

ماہا بہت زیزروڈ نیچر کی مالک تھی پر ابتہاج کی چند دن کی محبت اور قربت نےا سے ایک الگ ہی جذبے سے روشنا س کرایا تھا جسے سمجھنے سے وہ خود بھی قاصر تھی ۔۔۔ ا سکا دل چیخ چیخ کر گواہی دے ریا تھا کہ اسے محبت جیسے مرض نے جکڑ لیا ہے جس سے چھٹکارا نہ ممکن ہے ۔۔۔۔ محبت کا مرض دنیا کے ہر مرض سے جان لیوا ہوتا ہے ۔۔۔ اور ابھی ماہا کو یہ بات سمجھنے میں وقت تھا ۔۔۔۔

ابتہاج نے ماہا کو خود سے الگ کیا اور اس کی سرخ سوجی آنکھوں پر بوسہ دیا ۔۔۔۔ ماہا کو اپنا آپ اس کی سانسوں سے جھلستا ہوا محسوس ہوا ابتہاج نے دھیرے سے اس کی سرخ تیکھی ناک پر لب رکھے

۔۔۔ ماہا سرخ چہرہ لیےا سے دور کرنے کی تگ ودد میں تھی پر جتنا وہ دور جاتی ابتہاج کی گرفت اس کے بازوں پر سخت ہو جاتی ۔۔۔۔

ماہا نے تھک ہار کر اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا جو کسی بادل کی طرح اس کے وجود پر چھایا ہوا تھا ۔۔۔ ابتہاج اپنی تین دنوں کی وحشتیں ماہا کی سانسوں کو خود میں الجھا کر نکال رہا تھا ۔۔۔

ابتہاج محبت سے اس کے لفظ چن رہا تھا اس کی سانسیں سینے میں اترتی محسوس کرکے ابتہاج کے دل و دماغ میں ایک سکون سا اترتا محسوس ہوا تھا

ماہا نے سانسیں بند ہونے پرا بتہاج کے کا لر کو دبوچ کر اسے خود سے دور کرنا چاہاپر ۔۔۔ اس کی بڑھتی جنون خیزی کے آگے ہار گئی اپنی مرضی سے خود کو سیراب کرتے ابتہاج پیچھے ہوا ۔۔۔۔ دونوں کا سانس بری طرح ہھول چکا تھا ۔۔۔ محبت اپنا آپ منوا رہی تھی ماہا بھول گئی تھی کہ اسے ابتہاج سے کوئی شکایت تھی ۔۔۔۔ وہ ناراض تھی اس کی زرا سی قربت نے ماہا کو دنیا بھلا دی تھی ماہا کو اپنے تن بدن میں رنگیں تتلیاں اڑتی محسوس ہو رہیں تھیں ۔۔۔وہیں ابتہاج بڑے دلفریب انداز میں ماہا کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ رہا تھا

ابتہاج کو شرارت سوجھی

اس نے ماہا کے کان میں جھک کر جان لیوا سر گوشی کی

ماہا سر تا پیر سرخ انگارہ ہوتی اپنا تپتا چہرہ اس کے سینے میں چھپا گئی ۔۔۔۔

ابتہاج نےا س کی حرکت پر قہقہہ لگایا۔۔۔

ماہا اس کے سینے میں سر چھپائے آنکھِیں موند گئی ۔۔۔ دنیا جہان کا سکون صرف اس ایک شخص کی باہوں میں آسمایا تھا جس کی محبت اس کی رگ و پے میں خون کی روانی بن کر دوڑ رہی تھی محبت ۔۔۔۔ دل کی دنیا ایسے بدلتی ہے اسے یقین نہیں آرہا تھا وہ تو روتی تھی اپنی بد قمستی پر ۔۔۔۔ لیکن اپنے شوہر کی محبت پر وہ خود کو دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی تصور کر رہی تھی جس کا کل جہان اس کا شوہر تھا ۔۔۔۔

ماہا نے مسکراتے اس کے سینے پر اپنے لب رکھے اور اسکے گرد حصار بناتی اپنے آپ میں سمٹ گئی ۔۔۔۔

ابتہاج ابھی اور کچھ کرتا جب سیل فون کی آواز پر چونک کر ماہا کو خود سے الگ کیا

ماہا جھپاک سے وہاں سے نکل کر ڈریسنگ روم میں چلی گئی ۔۔۔۔ ابتہاج کی حرکت کے بعد اس کا سامنا کرنا اسے مشکل ترین کام لگا تھا۔۔۔ وہ کہاں اس کی لو دیتی نظروں کا سامنا کر پاتی تھی ۔۔۔۔ وہ کچھ ہی سیکنڈ میں اس کی حالت غیر گیا تھا ۔۔۔۔

___________

صنم کی آنکھ کھلی تو خود کو اکیلا پایا اس کا دل چاہا اپنی بے بسی پر پھوٹ پھوٹ کر روئے ۔۔۔۔ اور کتنے زخم تھے جو جھیلنے باقی تھے ۔۔۔ رات صالح کا اس قدر جنونی روپ دیکھ کر وہ اندر ہی اندر سہم چکی تھی ۔۔۔ اسے اب سچ میں خوف محسوس ہو رہا تھا صنم جلدی سے بیڈ سے اٹھی اور الماری سے اپنے لیے خوبصورت فراک نکالی اور واش روم۔چلی گئی وہ صالح کے آنے سے پہلے نماز ادا کرنا چاہتی تھی اسے نہیں پتا تھا کہ کوئی ہے جو اس کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھے ہوا ہے ۔۔۔صنم فریش ہو کر باہر آئی اور مرر کے سامنے کھڑی اپنا سراپا بغور دیکھنے لگی بلیک فراک گرے چوڑی دار پاجا مے میں اس کی رنگت خوب دمک رہی تھی ۔۔۔۔ صنم نے اپنی پشت پر بکھرے بالوں کوہیئر ڈرائیر کی مدد سے سکھایا اور کمرے سے باہر چلی آئی جب سے وہ آئی تھی ایک ہی کمرے میں قید تھی صالح نے تو کبھی اسے منع نہیں کیا تھا بس اس کا خود کا دل ہی ہر چیز سے بے زار ہو گیا تھا

صنم جیسے ہی نیچے آئی ۔۔۔ سامنے ہی کچن میں کھڑے صالح کومصروف انداز میں سبزیاں کاٹتے دیکھ آنکھیں پھیل گئی جس آدم خور ٙسے بچنے کی کوشش کر رہی تھی وہ تو یہیں تھا ۔۔۔۔ صالح کو دیکھ صنم واپس جانے لگی جب اس کی سرد آواز کانوں میں پڑی ۔۔۔

“اپنے قدم واپس لو اس سے پہلے میں کچھ کروں ۔۔۔ ناشتے کے لیے پلیٹس لگاو ۔۔۔ اتنا تو پتا ہی ہے کہ اول درجے کی پھوہڑ ہو ۔۔۔۔ ناشتہ میں برباد کرنا نہیں چاہتا اب ۔۔۔۔ جلدی کرو”

اس کا دوپٹہ جو سنبھالنے میں وہ ہلکان ہو رہی تھی ۔۔۔ صالح نے چوٹ کی ۔۔۔ صنم کی آنکھیں بے ساختہ آنسووں سے بھر گئیں

صنم نے مرے قدموں سے پلیٹیں ٹیبل پر رکھیں اور جیسے ہی واپسی کے لیے مڑی دوپٹے میں مڑ کر پلیٹ چھناک سے ٹوٹ گئی

صنم کی ایک دم چیخ نکلی کیونکہ پلیٹ کا کونا بری طرح اس کے پاوں کی اوپری سطح زخمی کر چکا تھا

صالح دوڑ کے اس تک پہنچا اور اس کے پاوں کا معائنہ کرنے لگا

ساتھ ساتھ سنابھی رہا تھا

“اندھی ہو دیکھ کر نہیں چل سکتیں جاہل لڑکی ۔۔۔۔ تم سے تو کوئی کام کہنا ہی فضول ہے ۔۔”

صنم جو پہلے ہی درد برداشت کرتے سسکیوں کو دبا رہی تھی اس کی سرد مہری پر دھاڑے مار کر رونے لگی

صالح تو ۔۔۔ ہونق بنا منہ کھولے اس مہا رانی کو دیکھ رہا تھا جو زرا سے زخم پر گلا پھاڑ کر رو رہی تھی ۔۔۔۔

جب وہ کافی دیر چپ نہ ہوئی تو صالح گہرا سانس بھرتا اسے باہوں میں بھر گیا

صنم اس کے سینے پرمکے نرساتی اس سے خود کو دور کرنے لگی صنم کو اس نے لاونج کے صوفے پر لاکر بٹھایا اور پاوں کی پٹی کرنے لگا

دواِئی لگاتے ہی صنم۔کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کا جلن سے برا حال تھا

صالح نے ایک نظر اس کے چہرے پر دیکھا

لال ناک ،سرخ ہونٹ جو اس کے دانتوں کی پر تشدد گرفت میں تھے ،بھیگے رخسار پر چھلکتی سر خیاں صالح ضبط کھوتا اس کے چہرے پر جھکتا اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لیتا اس کی نرم گرم سانسوں کو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا ۔۔۔

اس کی گرفت اچانک صنم کو تکلیف دینے لگی ۔۔۔ صالح بنا اس کی پرواہ کیے بڑی چاہت سے اس کی سانسوں میں بسی خوشبو خود میں اتار رہا تھا ۔۔۔۔ اسے نشہ ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ صالح خان کی زندگی میں آنے والی وہ پہلی لڑکی تھی جو صالح خان کی سرد مہری کو اپنے نین کٹوروں سے مات دے جاتی تھی وہ جتنا بچنے کی کوشش کرتا اتنا ہی دل اس کی جانب راغب ہوتا ۔۔۔۔ صنم اس کی شرٹ کو دبوچتی خود سے دور کرنے لگی پر صالح کو یہ بھی کہاں منظور تھا وہ تو پاگل سا اسے خود میں الجھا رہا تھا ۔۔۔۔ صنم اپنا درد بھولتی اس کی شدت بھری گرفت میں تڑپ کر رہ گئی ۔۔۔ عجب انداز تھا دلداری کا ۔۔۔۔۔ صنم کی سانسیں رکنے پر صالح نے اپنی مرضی سے اسے آزاد کیا اور اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکائے اپنی گرم سانسوں سے اس کی بچی کچی سانسین خود میں انہیل کرنے لگا۔۔۔

صنم کا پورا چہرہ سرخ تھا صالح سمجھنے سے قاصر تھا کہ یہ غصے سے تھا یا اس کی قربت سے صالح نے اس کی پیشانی چومی اور پاوں کی ڈریسنگ کرنے لگا

صنم محتاط انداز میں اسے اگنور کرتی ادھر ادھر نظریں دوڑانے لگی جیسے اس کے سوا وہاں کوئی ہو ہی۔نا ۔۔۔۔

صنم۔کی حرکت پر صالح اپنی مسکراہٹ چھپانے لگا۔۔۔۔ پر وہ دیکھ چکی تھی وہ اس بندے کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتی تھی

“مممجھے کمرے میں جججانا ہے ۔۔۔ میرے سر میں درد ہے “

صنم اپنی بکھری حالت پر قابو پاتی لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں صالح سے مخاطب ہوئی جو پہلے ہی پوری طرح اس کی جانب متوجہ تھا

صنم اسے خود کو دیکھتا پاکر سٹپٹا گئی

صالح دھیما سا مسکراتا ہوا پھر اسے اپنی باہوں میں بھر گیا ۔۔۔ اس بار صنم نے کوئی مزاحمت نہیں کی تھی اس کے احساسات عجیب ہو رہے تھے ۔۔۔۔ صنم نے اس کی گردن میں اپنے دونوں بازو ہائل کیے اور سینے سے سرٹکاتی آنکھین موند گئی ۔۔۔

اس کے ذہن میں روکی کے ساتھ گزرے لمحے گزر رہے تھے کیسے وہ روز زخم دیتا اور دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا تھا ۔۔۔ اور اس کے برعکس صالح اس کی زرا سی چوٹ پر تڑپ اٹھا تھا

اس کی زندگی بہت الگ رنگوں سے روشناس کرا رہی تھی جن رنگوں سے اب وہ ملنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ وہ ان جزبوں سے بھاگنا چاہتی تھی ۔۔۔ خود کو چھپانا. چاہتی تھی ۔۔۔۔ ایک بار ہھر لٹنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔۔ بچا ہی کیا تھا کھونے کو ۔۔۔سب کچھ تو لٹ گیا تھا ۔۔۔

ہر عورت سمجھتی ہے کہ وہ اپنے لیے فیصلہ لیتی ہے تو وہ سو فیصد درست ہوتا ہے اسے کسی کی دخل اندازی اپنے معاملوں میں برداشت نہیں ہوتی پر ۔۔۔ ہر بار صحیح ہو یہ بھی ضروری نہیں کیونکہ زندگی بڑے بڑے سور ماوں کو خاک چھاننے پر مجبور کر دیتی ہے ہم تو پھر بنے ہی خاک سے ہیں

_____

یہ ماہاکی رخصتی کے اگلے دن کی بات ہے جب منیبہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تو دلاورشاہ کو نیچے زمین پر پڑے پایا وہ۔ لپک کر ان کی جانب گئیں اور انہیں جھنجھوڑنے لگیں ۔۔۔۔ پر بے سود ان کا وجود ٹھنڈا پڑ چکا تھا منیبہ بیگم نے جلدی سے ملازموں۔ کی مدد سے انہیں ہسپتال لیکر گئیں

وہاں کے لوگ دلاور شاہ کی شخصیت سے بخوبی واقف تھے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے منیبہ بیگم کو جو خبر دی انہیں لگا آسمان سر پر آگرا ہو دلاور شاہ کو ہارٹ اٹیک آیا تھا ۔۔۔ ذہنی دباو کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوا منیبہ بیگم ان کی حالت پر آہ و زاری کرنے لگیں ان کا تو سارا گھر ہی برباد ہو گیا تھا بچا ہی کیا تھا دونوں بیٹیوں کو دلاور شاہ خود اپنے ہاتھوں سے دفنا چکے تھے ۔۔۔۔ منیبہ بیگم کے کانو ں میں اب بھی ماہا کی سسکیاں اس کی آنکھوں میں چھپی التجا تڑپا رہی تھی ۔۔۔۔ کیسے انہوں نےصبر کیا یہ صرف وہ یا ان کا رب ہی جانتا تھا سب ختم ہو گیا تھا انہوں نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا ان کے گھر کا شیرازہ اس طرح بکھر کے رہ جائے گا ۔۔۔۔۔ منیبہ بیگم نے کچھ نا سوجھتے صباء بیگم کو فون کیا جو دوسری ہی بیل پر اٹھا لیا گیا

منیبہ بیگم میں صباء بیگم کو دلاور شاہ کی ساری حالت کے بارے میں بتایا اور ان سے درخواست کی وہ کسی بھی طرح ماہا کو منا کر ہسپتال لے آئیں صباء بیگم خود بھی اچانک صورت حال پر پریشان ہو گئی تھی اب وہ ماہا کو کیسے بتاتیں ۔۔۔وہ تو کب کا اپنے ماں باپ سے رشتہ توڑ چکی تھی کس طرح سے کہتیں کہ ان کے ساتھ چلے ۔۔۔۔۔صبا بیگم نے ہمت کر کے ابتہاج کے کمرے کا رخ کیا ۔۔۔اور دروازے پر دستک دی ابتہاج کچھ دیر پہلے ہی آفس جا چکا تھا ماہا نے دروازہ کھولا تو صباء بیگم کی پریشان صورت دیکھ کر متوتش ہو گئی ۔۔۔۔صبا بیگم نے اسے اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھایا اور اس کے ہاتھ تھام کر بولنے لگی

“ماہی میرا بچہ میں جو بات تم سے کرنے جا رہی ہوں تمہیں انتہائی تحمل سے میری ساری بات سننی ہے اور پریشان نہیں ہونا ۔۔۔۔تمہارے بابا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ماہایہ سنتے ہی منہ پر ہاتھ رکھتی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔

صباء بیگم نے اسے اپنے ساتھ لگایا اور بتایا کہ اب وہ بہتر ہیں بس تم سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔۔ ماہا فورا سے بیشتر اپنی شال نکالتی جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی صباء بیگم نے نہایت محبت سے اسے دیکھا واقعی بیٹیاں محبتوں سے گندھی ہوتی ہیں ماں باپ بہن بھائی کے دکھوں پر اپنا آپ وار دیتی ہیں ۔۔۔۔ صباء بیگم کے ساتھ ماہا سب بھول کر ہسپتال چلی آئی تھی ۔۔۔اپنے باپ کو مشینوں میں جکڑا ہوا دیکھ دل سکڑ کہ پھولا تھا ازیت کیا ہوتی ہے درد کیا ہوتا ہے کوئی اس وقت ماہا سے پوچھتا اس نے تو کبھی اپنے باپ کے بارے میں برا نہیں سوچا تھا۔۔۔۔ وہ بس ناراض تھی ۔۔۔۔۔ ماہا دوڑ کر دلاور شاہ کے بیڈ کے پاس آئی ۔۔۔ آنسو آبشار کی طرح آنکھوں سے بہہ رہے تھے کیسی سزائیں ملیں تھیں اسے نا ختم ہونے والی ۔۔۔۔ماہا نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما اور انہیں دیکھنے لگی دل میں ایک ہوک سی اٹھی تھی باپ کو اس حالت میں دیکھ کر ۔۔۔۔ وہ تو سوچ رہی تھی کہ اس کا باپ بہت خوش ہو گا اسے بدا کر کے پر یہاں تو وہ خود کو روگ لگائے دنیا سے بے نیاز بستر پر پڑے تھے ۔۔۔۔ ان کا غرور تنتنا سب چھپ گیا تھا یہ دلاور شاہ تو بہت ٹوٹا بکھرا سا وجود لگ رہا تھا جسے بیٹیوں کے روگ نے اجاڑ ڈالا تھا۔۔۔۔

_________،

ابتہاج کو بھی صباء بیگم ہاسپیٹل بلوا چکی تھیں دلاور شاہ کو ہوش آیا تو وہ تب بھی صنم کو ہی پکار رہے تھے ماہا کا دل پھٹنے کے قریب تھا انہیں اب بھی صنم یاد تھی ۔۔۔۔ ماہا نہیں وہ روتے ہوئے باہر نکلتی ابتہاج سے ٹکرائی ۔۔۔۔ابتہاج اس کی سرخ آنکھیں دیکھتا نرمی سے اسے خود میں سمو گیا۔۔۔۔

ماہا تو جیسے کسی سہارے کے انتظار میں تھی ابتہاج کا شانہ ملتے ہی اپنی قسمت پر آہ و بقا کرنے لگی ۔۔۔۔اس کے نصیب میں کبھی باپ کی محبت نہیں آئی تھی ۔۔۔۔ اسے تو اب یہ بھی بھول گیا تھا کہ آخری بار کب باپ کا محبت بھرا لمس محسوس کیا تھا

دل کا درد آنکھوں سے بہتا دل میں اتر رہا تھا وہ سوچ رہی تھی کہ آخر کب تک وہ ایسے ہی ترستی رہے گی کیا اس کے نصیب میں باپ کی محبت تھی ہی نہیں ۔۔۔۔وہ اکیلی دکھ سہنے کے لیے ہی بنی تھی ۔۔۔

ابتہا ج ماہا کا سر سہلاتا اسے چپ کرانے لگا۔۔۔۔ پر اسے کیا معلوم تھا سالوں کی تکلیف ہے ۔۔۔ نہ ختم ہونے والی ۔۔۔۔ ماہا کی نازک سی جان اپنوں کی محبتوں کو ترس ترس کے خود ہی احساس کمتری کا شکار ہرہونے لگی تھی اس کی کمزوری بن گئے تھے اس کے رشتے اس کی محبت اسے اپنے رشتوں میں مان اور عزت نہیں دلا پائی تھی یہی بات اسے کھائے جارہی تھی ۔۔۔وہ تو انا زادی نہیں تھی وہ تو باپ کی نظروں میں تقدس دیکھنے کی خواہاں تھی ویسی ہی بلکل جیسی صنم کے لیے تھی وہ اتنا سب کرکے بھی باپ کے حواسوں پر سوار تھی ۔۔۔۔۔

وقت ۔۔۔ بڑی بری چیز ہے بکھرے لوگوں کو بکھیرنے کا ہنر پاس رکھتا ہے ۔۔۔۔ محبتیں دامن میں سمنٹنے سے پہلے دامن خالی کر دیتا ہے ۔۔۔۔جب کسی کی محبت کا طلبگار کوئی اور نکلے اور آپ کا وہ کل سر مایہ ہو تو روح تک کانپ جاتی ہے ۔۔۔۔ والدین کی محبت تو ازل سے ابد تک ہوتی ہے اپنی اولاد کے لیے وہ تو اولاد کو بکھرنے سے پہلے سنبھال لیتے ہیں

ہر ماہا ہار گِئی تھی خود کو مضبوط کرنے کے چکر میں خود سے لاپتا ہو گئی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *