Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 11)Part 1,2

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

اس لڑکی کو تیار کر کہ باہر لاؤ آج اس کا شاندار قیمت پر سودا کرنا ہے

چندہ بائی نے منہ میں پان ڈالتے ہوئے گہری نظروں سے صنم کا جائزہ لیتے ہوئے کہا

تو صنم نے تڑپ کر انہیں دیکھا

نن—نہیں میں کہی نہیں جاؤ گی – میرے ساتھ یہ ظلم نہیں کر سکتے تم لوگ—صنم نے چلا کر کہا تو چندہ بائی اس کی جانب آئی

“تیرے نخرے نہیں چلے گے یہاں—جانتی ہوں تم جیسے پاک باز لڑکیوں کو—جب عاشقوں کے ساتھ آدھی رات کو ماں باپ کے منہ پر کالک مل کر گھر سے بھاگتی ہو—تب عزت یاد نہیں آتی – اور اب دیکھو ڈرامے ذرا—صنم کے چہرے پر بے دریغ نا جانے کتنے ہی تھپڑ مارتے ہوئے چلا کر کہا

اور صنم کو نیچے زمین پر دھکا دے کر اس پر ٹھوکروں کی بارش کر دی

جبکہ صنم اپنے بے جان ہوتے وجود کے ساتھ خود کو بچانے کی سہی کرتی رہی

اب اگر ڈرامہ کیا نا تو بیچنے کی بجائے—ویسے ہی ان درندوں کے آگے پھینک دوں گی—جو عزت کے ساتھ تیری بوٹی بھی نوچ نوچ کھا جائے گے

صنم کے پیٹ میں ٹھوکر مارتے ہوئے چلا کر کہا

اور ساتھ کھڑی لڑکی کو اسے تیار کرنے کا اشارہ کر کہ باہر چلی گئی

جبکہ وہ لڑکی چندہ بائی کے باہر جانے کے فوراً بعد صنم کی طرف بڑھی

اور اپنے دوپٹے سے صنم کے منہ سے بہتے خون کو صاف کرنے لگی

اب اس دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے—تو چپ چاپ وہ ہونے دو جو ہو رہا ہے – واپسی تو ممکن نہیں مگر دعا کر لو شاید قبول ہو ہی جائے”—صنم کو سہارا دے کر بٹھاتے ہوئے کہا تو صنم نے سسکتے ہوئے اپنے پھٹے ہوئے ہونٹ کو ہاتھ سے چھوا

آنسو لڑیوں کی صورت میں چہرے پر بہنے لگے

کبھی اس کی ماں نے اسے ڈانٹا تک نہیں تھا اور آج اپنے گناہوں کی وجہ سے وہ لوگوں کی ٹھوکروں پر آگئی تھی

جس عزت کو اپنے پاؤں تلے روند کر بھاگی تھی

اب اسی عزت کی حفاظت کے لیے گرگرا رہی تھی

جبکہ اس لڑکی نے بنا صنم کی درد کہ پرواہ کیے اسے واشروم میں دھکیلا

اور جلدی باہر آنے کا کہا

ابتہاج اور ماہا اپنے ہنی مون کے لیے ناران آئے ہوئے تھے

کیونکہ یہ جگہ ماہا کو بہت پسند تھی

ابتہاج کا ارادہ تو آؤٹ آف کنٹری جانے کا تھا

مگر جب اسے پتہ چلا کہ یہ جگہ ماہا کو پسند ہے تو اس نے بنا کسی اعتراض کے یہاں آنے کی حامی بھر لی

اپنا سامان روم میں رکھ کر ابتہاج نے ماہا کی تلاش میں نگاہیں دوڑائی تو ماہا ابتہاج کو

ٹیرس پر کھڑی نظر آئی

ماہا کی خوشی کا اندازہ اس کی آنکھوں کی چمک سے لگایا جا سکتا تھا

ابتہاج نے فریش ہونے کا ارادہ ترک کر کہ قدم ماہا کی جانب بڑھائے

جو اپنے بازو کھولے تازہ ہوا میں سانسیں لے رہی تھی

دبے قدموں سے چلتا وہ ماہا کے قریب آیا

ماہا کو اس قدر مگن دیکھ ابتہاج کے شرفنگی لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

اور نرمی سے ماہا کو اپنے حصار میں لے کر اپنی تھوڑی ماہا کے کندھے پر ٹکا دی

جبکہ ماہا اس اچانک افتاد پر بھونچکا رہ گئی

“ابت—ہاج—کک—کیا کک-کر رہے ہیں”—ماہا نے سٹںپٹا کر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کہا تو

ابتہاج نے اپنے دانتوں تلے ماہا کے کان کی لو کو زور سے دبا یا

جس پر ماہا نے سسک کر اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں

جبکہ ابتہاج کی جان لیوا قربت پر ماہا کو اپنے رگ و پے میں سرد لہریں سرائیت کرتی محسوس ہوئی

“اپنے ہنی مون کا آغاز”—بوجھل گھمبیر لہجے میں سرگوشی کر کہ بنا ماہا کو سمجھنے کا موقع دیے اس کی کمر پر اپنی گرفت سخت کر کہ ماہا کا رخ اپنی جانب کیا

اور پوری شدت سے ماہا کے ہونٹوں پر جھک آیا

ایک ہاتھ ماہا کے بالوں میں الجھا کر جبکہ دوسرا ہاتھ ماہا کی کمر پر لپیٹ کر اسے خود میں بھینچ لیا

قطرہ قطرہ ماہا کی سانسوں کو شدت سے خود میں انڈیلتے ابتہاج گردیزی بہکنے لگا

اپنی بانہوں میں نرم و نازک خوشبوؤں میں بسے وجود کو محسوس کر کہ ابتہاج گردیزی اردگرد کو فراموش کر بیٹھا تھا

جبکہ ابتہاج کی شدت پر ماہا کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی

کپکپاتے ہاتھوں سے ابتہاج کی جیکٹ کو اپنی مٹھیوں میں دبوچا

جبکہ اپنے ہونٹوں پر ابتہاج کے آگ کی مانند دہکتے لمس کو محسوس کر کہ

ماہا کو اپنے پورے وجود میں کپکپی طاری ہوتی محسوس ہوئی

جبکہ ابتہاج مدہوش سا ماہا کی سانسوں کی خوشبو کو اپنے سینے میں اتار رہا تھا

ماہا کی اکھڑتی سانسوں کو محسوس کر کہ ابتہاج نے نرمی سے اپنے ہونٹ ماہا کے ہونٹوں سے جدا کیے

اور اپنا سر ماہا کے سر سے ٹکا دیا

ماحول میں چھائی معنی خیز خاموشی میں دونوں کی دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں کا شور برپا تھا

ابتہاج نے اپنی خمار آلود نظروں سے ماہا کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھا

نظریں بھٹکتی ہوئی ماہا کے نم ہونٹوں پر آن ٹھہری ابھی ابتہاج پھر سے جھکتا کہ ماہا کسمکسا کر ابتہاج کے حصار سے نکلی

اپنی اتھل پتھل ہوئی سانسوں پر با مشکل قابو پایا

جبکہ نظریں ابھی بھی شرم سے جھکی ہوئی تھیں

“مم—میں چینج کر لو – پھر ہم نے باہر بھی جانا ہے نا” نظریں جھکائے کپکپاتے لہجے میں کہا اور پھر ابتہاج کا جواب سنے بغیر کمرے کی طرف دوڑ لگائی

جبکہ ماہا کی سپیڈ پر ابتہاج کا دلکش قہقہہ گونجا

مال کہا ہے ابھی تک آیا نہیں – تم جانتی ہو نا چندہ بائی کہ مجھے انتظار کرنے کا شوق نہیں – صالح خان نے سرد لہجے میں کہا تو چندہ بائی گڑبڑا گئی

نن—نہیں مال بس تیار ہے—اور اس قدر شاندار ہے کہ

آپ دیکھتے رہ جائے گے – اور آپ ہی اس کے پہلے گاہک ہے”—چندہ بائی نے خباثت سے آنکھیں دبا کر کہا

تو صالح خان نے ہنکارہ بھرا

کہ تبھی وہی لڑکی—پور پور سجی صنم کو زبردستی کھینچتے ہوئے باہر لائی

تو اس قدر حسن دیکھ کر تو ایک پل کو صالح خان بھی ساکت رہ گیا

گلابی رنگ کے لہنگہ چولی میں زیوارات سے پور پور سجی

وہ کوئی حور ہی لگ رہی تھی

جبکہ لمبے گھنے بالوں کو ہلکا سا کرل کر کہ کمر پر کھلا چھوڑ دیا گیا تھا

صالح خان نے اپنی خشک پڑتے حلق کو تر کر کہ نظریں پھریں جو بار بار صنم کے دلکش سراپے پر جا کر اٹک رہی تھیں

روئی روئی سرخ آنکھیں جبکہ ناک بھی رونے کی وجہ سے لال ہو رہی تھی

یہ لے صاحب آپ کا مال—چندہ بائی نے صنم کی کلائی پکڑ کر اسے صالح کی طرف دھکا دیتے ہوئے کہا

تو صنم لڑکھڑا کر صالح خان کے سینے پر گری

جبکہ اس افتاد پر صالح خان بھی حق دھک سا رہ گیا

اپنے سینے پر نرم روئی جیسے لمس کو محسوس کر کہ دل میں ہلچل سی محسوس ہوئی

نظریں سیدھا بھیگی آنکھوں سے ٹکرائی جو آنکھوں میں التجا لیے بے بسی سے صالح خان کو دیکھ رہی تھی

“ہم پہلے کچھ وقت اس لڑکی کے ساتھ گزارنا چاہے گے پھر فیصلہ کرے گے—صنم کی کمر میں اپنا بازو لپیٹتے ہوئے کہا

تو چندہ بائی نے قہقہہ لگایا

“بالکل نیا مال ہے—ان چھوئی کلی—آپ کو ض—ابھی چندہ بائی کچھ اور کہتی کہ صالح خان نے گھور کر اسے دیکھا

اور بنا صنم کے احتجاج کی پرواہ کیے اسے لیے کمرے کی جانب بڑھا

کمرے میں لا کر صنم کو بیڈ پر دھکا دیا اور دروازا بند کیا

یہ کمرہ چندہ بائی کا تھا

اور یہاں پھل کی ٹوکری میں چھڑی دیکھ صنم کی آنکھیں چمکی

اور وہ ایک دم سے بیڈ سے اتر کر ٹوکری کی جانب بڑھی

صالح خان جو اپنی پیشانی مسلتے کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا

صنم کی حرکت پر چونکا—صنم کو اپنی کلائی پر چھری رکھے دیکھ ایک ہی جست میں اس تک پہنچا

اور صنم کے ہاتھ سے چھری پکڑ کر دور پھینکی اور ایک تھپڑ صنم کے چہرے پر رسید کیا

“یہ کیا حرکت تھی”—دھاڑتے ہوئے کہا تو صنم نے صالح خان کی گرفت میں تڑپتے ہوئے خود کو چھڑوانا چاہا

“مرنے دو ہمیں – کیونکہ یہ غلیظ کام ہم نہیں کرے گے”—صنم کے چلا کر کہنے پر صالح خان نے جبڑے بھنچ کر اسے دیکھا

اور ایک سوچ پر پہنچ کر قدم باہر کی جانب بڑھائے

“مجھے بھوک لگ رہی ہے ابتہاج”—ماہا اور ابتہاج باہر گھومنے ائے ہوئے تھے

ماہا نے شارٹ ریڈ فراک جس کے ساتھ بلیک نیٹ کا دوپٹہ گلے میں لیے اور سر پر بلیک ہی کلر کا حجاب کیے—ہونٹوں پر لائٹ سا پنک گلوز لگائے—اور سردی سے بچنے کے لیے بلیک ہی جیکٹ پہنے وہ بے حد دلکش لگ رہی تھی

جبکہ ابتہاج بلیک پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے اور بلیک ہی جیکٹ پہنے اپنی چھا جانے والی شخصیت کے ساتھ بہت وجیہہ لگ رہا تھا

اور اب رات کے نو بج رہے تھے تو ماہا نے بھوک سے بے حال ہوتے منہ بسور کر ابتہاج سے کہا تو ابتہاج کو ٹوٹ کر ماہا ہر پیار آیا

ماہا کو اپنے حصار میں لے کر نرمی سے اپنے لب ماہا کے ماتھے کر رکھے

تو سر عام اس حرکت پر ماہا نے سٹپٹا کر ابتہاج کا حصار توڑ کر اردگرد نگاہ دوڑائی کسی کو اپنی جانب متوجہ نا پا کر سکون کی سانس خارج کی اور خفگی بھری نظروں سے ابتہاج کو دیکھا

جو مسکراتی نظروں سے ماہا کو ہی دیکھ رہا تھا

“آج تم اتنی خوبصورت لگ رہی ہو کہ میرا دل کر رہا ہے کہ تمہیں تفصیل سے بتاؤں کہ پریاں بچے کیسے دینے آتی ہیں”—ماہا جو ابتہاج کی بات کو بہت غور سے سن رہی تھی

ابتہاج کے زومعنی لہجے میں کی گئی بات پر بری طرح سے سٹپٹاگئی

جس پر ابتہاج نے اپنے دانتوں تلے لب دبا کر مسکراہٹ روکی

“مجھے تنگ مت کریں”—ماہا نے نظریں جھکا کر منمناتے ہوئے مدھم لہجے میں کہا تو ابتہاج نے استحقاق بھری نظروں سے ماہا کو دیکھا

“میں نے کب تنگ کیا” ابتہاج نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے کہا تو ماہا نے خفگی بھری نظروں سے ابتہاج کو دیکھا

ماہا کے دیکھنے پر ماہا کا ہاتھ تھام کر قدم کسی ریسٹورنٹ کی جانب بڑھائے

وہ دونوں ایک دوسرے کی سنگت میں خوبصورت پل گزار رہے تھے

کھانا کھاتے ہوئے ابتہاج کی بے باک نگاہوں اور معنی خیز باتوں سے ماہا کا چہرہ سرخ پڑتا جا رہا تھا

کبھی وہ ہمت کر کہ اسے گھورنے کی کوشش کرتی مگر ابتہاج کی بے باک نظروں میں دیکھ پانا ماہا کے بس سے باہر تھا

اسی لیے نظریں اپنی پلیٹ پر جھکائے کھانا کھانے لگی

کہ

تبھی ٹیبل کے نیچے سے اپنے ہاتھ پر ابتہاج کے ہاتھ کا لمس محسوس کر کہ ماہا کو پھندا لگ گیا

“ہے—آرام سے کھاؤ یار”—ماہا کہ پیٹھ سہلاتے ہوئے ابتہاج نے فکرمندی سے کہا

مگر ابتہاج کے مضبوط ہاتھوں کا لمس اپنی کمر پر محسوس کر کہ ماہا کے چہرے پر پل میں گلال بکھرا

ابتہاج نے جیسے ہی گلاس رکھتے بے ساختہ سامنے نظر اٹھائی تو چند پل کے لیے ساکت ہوگیا

ماضی کے کچھ حسیں اور دردناک لمحے آنکھوں کے پردے پر لہرا گئے

ابتہاج کی محویت اپنے چہرے پر محسوس کر کہ سامنے والے نے بھی اس طرف دیکھا تو حیرت کا جھٹکا تو اسے بھی لگا

مگر اپنے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ سجا کر اپنے ساتھ موجود کی شخص کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر وہ ابتہاج کی جانب آنے لگے

ابتہاج کا ارادہ وہاں سے اٹھنے کا تھا مگر اس سے پہلے ہی وہ ٹیبل تک آگئی تھی

اور بنا اجازت لیے کرسی گھسیٹ کر اس پر بیٹھ گئی

جبکہ اس کے دیکھا دیکھی

ساتھ موجود شخص بھی بیٹھ گیا

جبکہ ماہا حیرت سے منہ کھولے سامنے بیٹھی حسین لڑکی اور لڑکے کو دیکھ رہی تھی

جبکہ ابتہاج اپنی مٹھیاں بھینچے سخت نظروں سے سامنے موجود ہستیوں کو دیکھ رہا تھا

“ہائے کیسے ہو ابتہاج – کافی ٹائم بعد دکھے ہو”لڑکی نے بے باکی سے اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر رکھ کر ایک ادا سے پوچھا تو ماہا کو انجانی سی جلن محسوس ہوئی

“میں بالکل ٹھیک ہوں—منافقوں اور دھوکے بازوں سے دور بہت خوش”—ابتہاج نے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا

اور ماہا کا ہاتھ تھام کر اسے کرسی سے اٹھا کر اپنے حصار میں لیا

والٹ کھول کر پیسے نکال کر رکھے اور قدم باہر کی جانب بڑھائے

“تو تمہیں مل ہی گئی اپنے سوکالڈ سوچ سے ملتی لڑکی”اپنی پشت سے طنزیہ آواز سن کر ابتہاج نے جبڑے بھنچے

جبکہ آنکھیں ضبط کرنے کے چکر میں پل میں سرخ انگارا ہوئی

“اس سوکالڈ کا مطلب میری ڈکشنری میں—معصوم شریف اور عزت دار—اور سب سے بڑھ کر وفادار ہے” بنا پلٹے سپاٹ لہجے میں کہہ کر پیچھے موجود وجود کو انگاروں پر لوٹتا چھوڑ

تیز تیز قدم لیتا ماہا کو تھامیں گاڑی تک آیا

ماہا کو ہوٹل کے باہر چھوڑ کر خود نا جانے کہا چلا گیا

جبکہ ماہا ابھی بھی اس صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی

تھکے تھکے قدموں سے ہوٹل میں داخل ہو کر اردگرد نگاہ دوڑائی

کچھ دیر پہلے سب کتنا اچھا لگ رہا تھا

اور اب—گہری سانس فضا کے سپر د کر کہ قدم روم کی جانب بڑھائے

صالح روتی دھوتی صنم کو اپنے فلیٹ میں لے آیا تھا

چندہ بائی کو پچاس لاکھ دے کر وہ صنم کو لے تو آیا تھا

مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے

یہ سب غیر ارادی طور پر ہوا تھا

وہ خود بھی اپنی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا

صنم کو اپنے روم میں بند کر کہ باہر لاؤنج میں صوفے پر سر گرا کر بیٹھ گیا

وقت گزرنے کا احساس ہوا تو صالح خان نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی

جو رات کے ایک بجنے کا بتا رہی تھی

بیٹھ بیٹھ کر کمر بھی اکڑ چکی تھی

اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر بند دروازے کو دیکھا

جس سے ابھی بھی دبی دبی سسکیوں کی آواز آرہی تھی

سر جھٹک کر کچن کا رخ کیا اور وہاں کھانا ٹرے میں نکال کر کمرے کا رخ کیا

چابی لگا کر دروازا ان لاک کیا

اند موجود صنم جو اب رو رو کر تھک چکی تھی

زمین پر بیٹھی پشت بیڈ سے ٹکائے غیر مری نقطے پر نظریں جمائے بیٹھی تھی

لاک کھلنے کی آواز پر چونکی

اور ایک دم سے اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر اردگرد نگاہ دوڑائی

تو نظروں کے سامنے واس آیا

جلدی سے واس کو تھام کر دروازے کی آڑ میں ہوگئی

صالح خان جیسے ہی اندر داخل ہوا تو

تو سامنے موجود ڈریسنگ ٹیبل پر دروازے کے پیچھے کی صورتحال دیکھ ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ رینگ گئی جسے اپنے دانتوں تلے لب دبا کر روکا

ٹرے تو وہ باہر ٹیبل پر رکھ آیا تھا

کیونکہ اسے اس صورتحال کی توقع تھی

وہ جیسے ہی چند قدم آگے آیا تو صنم نے اس پر وار کرنا چاہا

جس پر صالح نے جھک کر اسے ناکام بنایا

اور اپنا بازو صنم کی کمر میں لپیٹ کر اس اپنے حصار میں قید کیا

جبکہ واس صنم کے ہاتھوں سے ٹوٹ کر زمین بوس ہو چکا تھا

اور صنم پھٹی پھٹی نگاہوں سے صالح خان کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ رہی تھی

جس کے چہرے کے تو تاثرات سنجیدہ تھے مگر آنکھیں شرارت سے مسکرا رہی تھیں

“چھوڑو ہمیں—میں قتل کر دوں گی تمہارا گھٹیاں انسان”—بن پانی کی مچھلی کی طرح صنم نے تڑپتے ہوئے صالح خان کا حصار توڑ نے کی کوشش کرتے ہوئے چلا کر کہا تو صالح خان نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا

“بکواس بند کرو اپنی –ورنی گدی سے زبان کھینچ لوں گا—اور میرے سامنے یہ ناٹک کرنے کی ضرورت نہیں – جس کام کے لیے لایا ہوں وہ انجام دے لو—پھر چھوڑ دوں گا—مگر اس سے پہلے تمہیں صالح خان کی پکڑ سے کوئی نہیں نکال سکتا”اپنی بانہوں میں مچلتی ہوئی صنم کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر اس کے چہرے کر اپنے گرم سانسوں کو چھوڑتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا

تو صنم کے مزاحمت کرتے ہاتھ ایک سے ساکت ہوئے

آنسو لڑیوں کی صورت میں بہتے ہوئے سفید روئی جیسے گال کو بھگوتے چلے گئے

جبکہ صالح خان نے اپنی آہنی گرفت میں صنم کا بازو دبوچ کر بیڈ کا رخ کیا

اور صنم کو بیڈ پر دھکا دیا جس کے باعث صنم اوندھے میں بیڈ پر گری

جبکہ صالح خان سپاٹ تاثرات چہرے پر سجائے اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا

“پل—پلیز مم—میں ہاتھ جوڑتی ہوں – میرے ساتھ یہ ظلم مت کرو”روتے ہوئے بے بسی سے گھٹی گھٹی آواز میں التجا کی تو صالح خان نے طنزیہ نظروں سے سر تا پیر صنم کے دلکش وجود کو اپنی بے باک نگاہوں سے دیکھا

جس پر صنم کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سماں جائے

“ظلم تو تم کر رہی ہو—یوں دور رہنے کی باتیں کر کہ”اپنی ہاتھ کی پشت کو صنم کے پاؤں پر پھیرتے ہوئے

گھمبیر لہجے میں کہا تو صنم کو اس لمس سے کراہیت محسوس ہوئی

ایک جھٹکے میں اپنے پاؤں سمیٹ کر خود کو پیچھے کو گھسیٹنے لگی

کہ صالح خان نے ایک ہی جست میں صنم کے پاؤں کو کھینچ کر دوبارا اپنی طرف کھینچا

اور اپنے ہاتھ صنم کے اطراف میں رکھ دیے

جبکہ صنم ہرنی کی مانند ڈری آنکھوں سے صالح خان کو دیکھ رہی تھی

“آپ کو خدا کا واسطہ میرے ساتھ ایسا نا کریں—مجھے ناپاک مت کریں”—پھوٹ پھوٹ کر روتی وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی

جبکہ صالح خان سنجیدہ نظروں سے صنم کے ہچکولے بھرتے وجود کو دیکھ رہا تھا

اپنی ہاتھ کو صنم کے کندھے پر رکھ کر اس سہلانا شروع کیا تو صنم نے بدک کر پیچھے ہونا چاہا جسے صالح خان نے ناکام بنا دیا

“اگر اب تم نے مزاحمت کی تو تمہارا جو حشر کرو گا ساری عمر نہیں بھولو گی”صالح خان کی دھاڑ پر صنم کو اپنی سانس روکتی محسوس ہوئی

جبکہ صالح خان کو خود پر جھکتے دیکھ صنم نے زور سے آنکھیں میچ لیں

“مم—را- –نن—نکاح—ہوا—ہے—مجھے—چچ—چھوڑ دیجیئے—ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں اپنی بات کہہ کر وہ سسک پڑی جبکہ صنم کی بات پر صالح خان نے بغور اس کا چہرہ دیکھا

ابھی وہ کچھ کہتا کہ صنم اپنے ہوش و حواس کھو کر بیڈ پر گر پڑی

تو صالح خان نے گہری سانس بھر کر اس کیمے رعنائیاں عیاں کرتے وجود کو دیکھا

صنم کو بانہوں میں بھر کر بیڈ پر لٹا کر اس پر کمفرٹر اوڑھ آیا

اور اس کے قریب بیٹھ کر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا

جھیل سی آنکھیں اس وقت بند تھی—چہرے پر آنسو ابھی بھی بہہ رہے تھے جسے صالح خان نے اپنے پوروں سے صاف کیا

بھرے بھرے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک کو ہاتھ سے رگڑ کر صاف کیا گیا تھا

صالح خان بے خود سے ناجانے کتنی دیر سے اسے دیکھنے میں محو تھا

موبائل پر ہوتی تیز رینگ پر وہ ہوش میں آیا اور صنم کے قریب سے اٹھ کر قدم باہر کی جانب بڑھائے

دروازے پر رک کر ایک نظر صنم کے وجود کو دیکھا

اور لائٹ بند کر کہ باہر لاؤنج میں آیا

دماغ میں ابھی بھی صنم کی باتیں گونج رہی تھیں

سر جھٹک۔کر کال اٹینڈ کیا

رات کے دو بجے ابتہاج نے کمرے میں قدم رکھے تو نظریں بیڈ پر بے ترتیبی سے سو رہی ماہا پر گئی

ابتہاج نے قدم واشروم کی جانب بڑھائے اور بیڈ پر آکر لیٹ گیا

وہ ڈرنک کر کہ آیا تھا اور چاہتا تھا کہ ماہا سے اس وقت کوئی بات نا ہو

اسی لیے ماہا کو تنگ کیے بغیر کمفرٹر کے کر آنکھیں موند لیں

ماہا جو گہری نیند میں تھی

اپنے خواب میں اس لڑکی کو ابتہاج کے ساتھ ڈانس کرتے دیکھ

سر تا پیر الگ اٹھی اور اپنے قریب لیٹے ابتہاج کو گل سمجھ کر بالوں سے پکڑ لیا

جبکہ ابتہاج اس اچانک افتاد پر بھونچکا رہ گیا

نظریں گھما کر اپنے دائیں جانب دیکھا جہاں ماہا نیند میں چہرے پر خونخوار تاثرات لیے

کچھ بڑبڑانے میں مصروف تھی

“میں چھوڑوں گی نہیں تمہیں—بتمیز چڑیل گندی لڑکی – سائن کہی کی”ماہا کے چلا کر کہنے پر ابتہاج نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا

اور ایک جھٹکے میں ماہا کو اٹھا کر بٹھایا

جبکہ ماہا حق دق سی اپنے سامنے سرد تاثرات لیے ابتہاج کو دیکھ کر حیران رہ گئی

“پاگل ہو کیا—جو نیند میں جنگلی پن دکھا رہی ہو” ابتہاج سرد لہجے میں غرایا تو ماہا نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں

“اور گالیاں بھی دینی آتی ہیں—میں تو بہت معصوم سمجھ رہا تھا تمہیں”ماہا کے بازؤں کو اپنی آہنی گرفت میں لے کر خود کے قریب کرتے کہا تو

ماہا نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے ابتہاج کو دیکھا

“وہ مجھے لگا کہ—وہ لڑکی آپ کے ساتھ ہے”ماہا نے معصومیت سے مجرم کہ طرح سر جھکائے کہا تو کچھ دیر تو ابتہاج اس کا جھکا سر دیکھتا رہا

اور پھر ماہا کو سب کچھ بتانے کا فیصلہ کیا

ابتہاج کی خاموشی پر ماہا نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا

جو خاموش نظروں سے ماہا کو ہی دیکھ رہا تھا

جس سے ماہا کو عجیب بے چینی سی ہوئی—ابتہاج کی نظروں سے بچنے کے لیے

نظریں گھما کر گھڑی کو دیکھا

تو رات کے دو بج رہے تھے

وہ ناجانے کتنی دیر سے ابتہاج کا انتظار کرتی کرتی نیند کی وادیوں میں گم ہوگئی تھی

اور اب ابتہاج کو خود کے اتنے قریب دیکھ

اتنی سردی کے باوجود بھی ماہا کا جسم پسینے میں نہا گیا

ابھی وہ اٹھتی کہ ابتہاج کی بات پر اس کا وجود ساکت ہوگیا

“تمہیں پتہ ہے بہت محبت کرتا تھا میں گل سے—اسے کسی کے ساتھ دیکھ نہیں سکتا تھا—مگر اس نے—اس نے مجھے چھوڑ دیا—اسے میری سوچ ٹیپیکل لگتی تھی –میرے ہی دوست سے افئیر چلا کر –میری پیٹھ پر وار کیا—دونوں نے مجھے دھوکا دیا”—نم لہجے میں کہتا آخر میں ابتہاج دھاڑا تو ماہا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے ابتہاج کو دیکھا

جو خون چھلکاتی آنکھوں سے ماہا کو دیکھ رہا تھا

“پھر تم ائی—اور مجھے تم سے محبت ہوگئی—اب تم کہی نا جانا—گل کی طرح مجھے مت چھوڑنا”—ابتہاج کی باتیں ماہا کے دل کو چیرتی جا رہی تھی

اسے لگ رہا تھا کہ کسی نے پگھلتا ہوا سیسہ اس کے کانوں میں انڈیل دیا ہو

ایک ہی جھٹکے میں ابتہاج کو خود سے پڑے دھکیل کر بیڈ سے اتر کھڑی ہوئی

نم آنکھوں سے سامنے دیوار کو دیکھتی وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی کوشش کر رہی تھی

کہ تبھی اپنی کمر سے رینگتی ہوئی ابتہاج کی انگلیاں اپنے پیٹ پر محسوس کر کہ ایک دم سے ساکت ہوئی

“آئی نیڈ یو ماہا—پلیز مجھے سمیٹ لو –میں نہیں سہہ پا رہا—بہت تھک چکا ہوں—یہ تھکن اتارنے دو”—ماہا کی گردن سے بال ہٹا کر وہاں اپنا دہکتا ہوا لمس چھوڑتے بوجھل گھمبیر لہجے میں سرگوشی کی تو ماہا نے کرب سے آنکھیں میچ لیں

وہ خود کو کتنا خوش قسمت محسوس کر رہی تھی

کہ اس کے شوہر کے دل میں صرف وہی ہے—مگر کتنی جلدی یہ خواب ٹوٹ چکا تھا—اس کا شوہر نشے مں میں چور اپنی پہلی محبت کا غم ہلکا کر رہا تھا – اسے بھلانے کے لیے ماہا کی قربت مانگ رہا تھا “—ابھی وہ انہیں خیالوں میں گم تھی کہ اپنی شرٹ کی زپ کر ابتہاج کی انگلیوں کا لمس محسوس کر کہ کانپ گئی

“نن—نہیں ابتہاج پلیز نہیں “—رخ موڑ کر ابتہاج کو روکنا چاہا

تو ابتہاج نے اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے ماہا کو دیکھا

ابتہاج کی آنکھوں میں آگ سی تپش دیکھ ماہا کا رواں رواں کانپ گیا

“بیوی ہو میری—جب چاہے—جیسے چاہے تمہاری مرضی کے بغیر اپنا حق وصول کر سکتا ہوں “—ماہا کے بالوں کو مٹھی میں دبوچتے ہوئے غرا کر کہا

تو اپنے چہرے پر ابتہاج کی آگ کی مانند دہکتی سانسوں کی تپش محسوس کر کہ ماہا کے قدم لڑکھڑا گئے

اپنے ہاتھوں میں ابتہاج کی شرٹ دبوچ کر خود کو گرنے سے بچایا

جب کہ ابتہاج اپنی سرد آنکھوں سے کچھ پل تو ماہا کو گھورتا رہا

اور پھر شدت سے اس کے ہونٹوں پر جھک آیا

شدت سے اپنی سانسیں ماہا کی سانسوں سے الجھا کر اسے پل میں بے بس کر گیا

جبکہ ماہا اپنے ہونٹوں پر لمحہ بہ لمحہ بڑھتی شدت پر کپکپا گئی

جبکہ ابتہاج آج سب کچھ بھلائے ماہا کی روح میں اتر جانا چاہتا تھا

اپنے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس کر کہ ابتہاج نے اپنے ہونٹ ماہا کے ہونٹوں سے جدا کیے

اور بنا ماہا کو سنبھلنے کا موقع دیا اسے بیڈ پر دھکا دے کر اپنی شرٹ اتارنی شروع کی

جبکہ ماہا سرد چہرہ لیے اپنی اتھل پتھل ہوئی سانسوں کو سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی

مگر جب نظریں ابتہاج کے شرٹ لیس سینے پر پڑی تو ماہا کی سانسیں سینے میں تک گئی

جبکہ ابتہاج خمار آلود نظروں سے ماہا کے سراپے کو دیکھتے اس پر جھکنے لگا

“آج میں چاہتا ہوں کہ میں تمہارے وجود کی گہرائیوں میں اتر کر ساری دنیا کو بھول جاؤ –یہ بھی بھول جاؤ کہ میں کون ہوں –میں صرف اور صرف تمہیں محسوس کرنا چاہتا ہوں—اپنی سانسوں سے بھی زیادہ قریب تمہیں خود میں بسانا چاہتا ہوں”بوجھل گھمبیر لہجے میں سرگوشی کرتے اپنا چہرہ ماہا کی گردن میں چھپا کر

ماہا کی دونوں کلائیوں کو اپنی آہنی گرفت میں لے کر بیڈ سے ٹکا دیا

جبکہ ابتہاج کی جان لیوا قربت میں ماہا تڑپ کر رہ گئی

نم آنکھوں سے خود پر جھکے ابتہاج کو دیکھا

جو بے خود سا ہوا ماہا کی بیوٹی بون پر اپنا دہکتا لمس چھوڑ رہا تھا

اپنی گردن پر جابجا ابتہاج کے ہونٹوں کا لمس محسوس کر کہ

ماہا نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی

کہ تبھی ابتہاج نے ماہا کی کمر میں ہاتھ لپیٹ کر کروٹ بدلی تو ماہا ابتہاج ہر جھک آئی

ماہا کے بال بکھر کر ابتہاج کے چہرے پر گرے تو

ابتہاج نے گہری سانس بھر کر ان کی خوشبو کو اپنی روح میں اتارا

کمرے کی معنی خیز خاموشی میں دونوں کی دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں کا شور رقص کرنے لگا

ماہا کے چہرے سے بال ہٹا کر ابتہاج نے جزبات سے سرخ ہوتی آنکھوں سے ماہا کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھا

“ادھر میری طرف دیکھو ماہا—محبت سے چور لہجے میں کہا تو ماہا نے قربت کی لالی لیے سرخ ڈورو والی آنکھوں سے ابتہاج کو دیکھا

وہ جانتی تھی کہ وہ اس کی قربت سے رہائی نہیں حاصل کر سکتی تو اس سے بہتر ہے وہ خود سپردگی دے دے – وہ ابتہاج کی محبت میں رنگ جانا چاہتی تھی – وہ چاہتی تھی کہ جتنی محبت اسے ابتہاج سے ہے اسے بھی ماہا سے ہوجائے—وہ جس بھی وجہ سے ماہا کے قریب آیا – اب وہ اسے خود سے دور نہیں جانے دے سکتی تھی “—

ماہا کے یک ٹک دیکھنے کر ابتہاج کے شنگرفی لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی

“زیادہ پیارا لگ رہا ہوں کیا “ابتہاج نے مسکراتے لہجے میں کہا

تو ماہا کا سر ایک ٹرانس کی کیفیت میں اثبات میں ہلا

جس پر ابتہاج نے اس کے بولوں میں ہاتھ ڈال کر اسے خود پر جھکا لیا

ماہا کے نرم لبوں کو اپنی شدت بھری گرفت میں لے کر اس کی سانسوں کو قطرہ قطرہ خود میں انڈیلنے لگا

جبکہ کمر پر لگی زپ کو ایک ہی جھٹکے میں کھول کر شرٹ کندھوں سے کھسکائی

ماہا کو بیڈ پر لٹا کر اس پر جھک آیا

ہونٹوں سے کندھوں تک کا سفر ابتہاج نے اتنی جلدی طے کیا

کہ ماہا ابتہاج کی شدت پر سسک پڑی

“اب—ت-ابتہاج مجھے ڈر لگ رہا ہے “ابتہاج کو گہرایوں میں اترتے محسوس کر کہ ماہا نے کپکپاتی آواز میں کہا

تو ابتہاج نے اپنا سر اٹھا کر ماہا کے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھا

شدت سے ماہا کے دل کے مقام پر اپنا لمس چھوڑ کر

اس کے چہرے کے قریب ہوا

“مجھ سے محبت ہے نا—خمار آلود لہجے میں سرگوشی کی تو ماہا نے آنکھیں کھول کر خود ہر جھکے ابتہاج گردیزی کو دیکھا

جو آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا

ماہا نے اپنے خشک پڑتے ہونٹوں کو تر کر کہ اثبات میں سر ہلایا تو ابتہاج نے جھک کر اپنے تشنہ لب اس کے ماتھے کر رکھے

ہاتھ بڑھا کر سائیڈ لیمپ آف کیا

اور ماہا پر کسی گھٹا کی طرح چھا گیا

اپنے وجود پر رینگتے ابتہاج کے بے باک ہاتھوں کے لمس پر ماہا نے تڑپ کر ابتہاج کو خود سے دور کرنا چاہا

جس پر ابتہاج نے ماہا کے ہاتھ کی انگلیوں میں زبردستی اپنی انگلیاں الجھا کر بیڈ پر سر کہ اوپر پن کر دی

اور پوری شدت سے اس کے ہونٹوں پر جھک آیا

جبکہ کھڑکی سے نظر آتا چاند ان کے ملن پر شرما کر بادلوں کی اوٹ ہو گیا

جبکہ ساری رات ماہا نے اپنے نازک وجود پر ابتہاج گردیزی کی جان لیوا بڑھتی قربتوں کو سہا

جبکہ ابتہاج مدہوش سا سب کچھ فراموش کیے ماہا کے وجود کی گہرائیوں سے روح تک اترتا چلا گیا

part_2

ابتہاج ماہا کو کمرے میں چھوڑتا بالوں میں ہاتھ پھیرتا خود روم سے باہر نکل آیا تھا جو کچھ بھی رات میں ہوا وہ اس کی وجہ سے کافی پریشان تھا وہ چاہ کر بھی خود پر کنڑول نہیں کر پایا تھا تبھی اس کے وجود کو خود میں شامل کر گیا تھا جبکہ۔ ماہا کمرے میں آئینے کے سامنے خاموش سی کھڑی تھی وہ تو بس اس کے لفظوں میں اٹک گئی تھی

“کیا کہا آپ نے ایسا ابتہاج ۔۔۔ آخر کیوں”

وہ روتے ہوئے اٹکتے لہجے میں بولی رات تک جو اس کے پیار کا نشہ تھا آج صبح وہ اپنے لفظوں سے ماہا کے سر سے اتار چکا تھا ماہا کو لگا وہ تپتے صحرا میں پیاسی کھڑی ہو چکی ہے ۔

آئینے کے سامنے اپنے بے مول ہوتے وجود کو دیکھتے وہ شدت سے آنکھیں میچ گئی تھی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح ٹوٹ کر زمین پر گرے تھے

وہ اس کے لفظوں سے نکل ہی نہیں پا رہی تھی اگر اس نے رات کو طلسم پھونکا تھا تو آج وہ سب ختم کر چکا تھا اسے اپنی ہی زندگی بے مول لگنے لگی تھی وہ ابتہاج کی زندگی میں اس کے دل میں اور خاص کر اس کے لیے ایک غلطی تھی فقط ایک غلطی اس سے زیادہ کچھ نہیں آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی لیکن آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔

ماہا نے صوفے گے آگے رکھے میز کی جانب دیکھا جہاں پھلوں کے درمیان چھری پڑی ہوئی تھی وہ نا سمجھی اور ٹرانس سی کیفیت میں چلتی ہوئی اس تک پہنچی تھی چھری اٹھائی اور واپس اپنی جگہ پر آگئی ایک نظر اپنے وجود کو دیکھا وہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی اس کے لیے اس کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر تھا پھر کیا فائدہ تھا اس کی زندگی کا آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے

چھری اپنی نس پر رکھتی وہ خاموشی سے لرزتے وجود کے ساتھ آنکھیں بند کر گئی تھی شدت سے اس کے کانوں میں ابتہاج کے کہے الفاظ گونجے تھے اس کے ذہن میں منفی سوچیں پیدا ہوئی تھی مطلب وہ غلطی تھی یعنی وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا کتنی تکلیف دے رہی تھی کہ بات اسے !۔

وہ چھری ہاتھ پر رکھے چھری کر دباؤ ڈالنے لگی تھی جب دروازہ کھولتے سامنے کا منظر دیکھ ابتہاج کی آنکھوں میں حیرت اور پریشانی بیک وقت آئی تھی جبکہ وہ ہر چیز سے پیگانہ بس دنیا سے اپنے وجود کو ختم کرنے کے در پر تھی ۔

“ماہا “۔

وہ خوف کی شدت سے دھاڑتا ہوا ایک جست میں سیکنڈوں میں اس تک پہنچا تھا ساتھ ہی اس کی بھری پکڑے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے جھٹکے سے دور کیا تھا ۔۔۔۔۔

“یہ کیا کر رہی تھی تم پاگل ہو گئی ہو “۔

ابتہاج کو خوف اور غصے نے ستایا تھا یعنی وہ جو زبردستی حق اس پر جتا چکا تھا اس وجہ سے ماہا یہ سب کر رہی تھی اسے شدت سے خود پر غصہ آیا تھا جبکہ حالات کچھ اور ہی تھے ۔

“ہاں ہو گئی ہوں پاگل دور ہٹے مجھ سے”

وہ غصے سے آنکھوں میں آنسو لیے بولی ساتھ ہی ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا جبکہ اس کی دونوں حرکتوں پر ابتہاج کی ماتھے کی رگیں پھولی تھی غصے سے سختی سے ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست کیے تھے۔۔۔۔۔

“بکواس بند کرو اپنی ماہا یہ سب کر کیا رہی تھی تم ہاں بہت شوق ہے تمھیں مرنے کا “۔

ابھی اگر منٹ بھی دیر ہو جاتی تو وہ خود کو کیسے معاف کرتا پہلے ہی وہ اس سے شرمندہ تھا اس کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا اس کی وجہ سے وہ اس مقام پر پہنچی تھی کہ سیدھا خود کو مارنے نکلی تھی اوپر سے اس کی بات پر وہ مزید پریشان ہو گیا تھا ۔

“اب۔تہاج “۔

وہ آنکھوں میں حیرت لیے بولی وہ انچ بھر کے فاصلے سے کھڑا تھا نظریں اسی پر ٹکائی ہوئی تھی ماہا کا لہجہ لڑکھڑا گیا تھا وہ تھوڑی دیر پہلے اسے غلطی بول رہا تھا اور اب وہ اس بچا رہا تھا اس کی زندگی کے لیے اسے ڈانٹ رہا تھا آخر وہ انسان کیا چاہتا تھا اس سے ماہا نے شکوہ کناہ نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔

“ماہا میں شرمندہ ہوں اس سب پر “۔

اسے بغور دیکھتے وہ ایک انچ کا فاصلہ بھی مٹا چکا تھا اس کا بکھرا حلیہ ،سرخ چہرہ اور چہرے پر مٹے ہوئے آنسو ابتہاج کو نجانے کیوں برا لگا تھا وہ اس کے آنسوؤں کی وجہ خود کو ہی مان رہا تھا ۔

“ماہا پلیز کچھ بولو دیکھو رونا بند کرو “۔

اسے روتا دیکھ وہ جھکتا ہوا اپنے لبوں سے اس کے آنسو بن گیا تھا ماہا نے زور سے آنکھیں بند کی دھڑکنیں پھر سے تیز ہوئی کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی وہ جو پھر سے اس میں الجھ رہا تھا نجانے وہ کیوں اس لڑکی سے اتنا اٹریکٹ ہوتا تھا وہ کشش ہی عجیب تر تھی ۔

“اب۔تہاج پلیز نہیں چاہیے آپ کی ہمدردی مجھے”

وہ لڑکھڑاتی آواز میں بولتی کمرے کا سکتہ توڑ گئی تھی ابتہاج کی گرفت اس کے گالوں پر سخت ہوئی تھی وہ شدت سے اپنے ہونٹ وہاں رکھ کر پھر سے اس کے وجود کو بے جان کر گیا تھا وہ ابھی اس سے اپنی غلطی کے لیے معافی مانگ رہا تھا اور اب پھر اسی غلطی کو کر رہا تھا۔۔۔۔۔

“ماہا میں سب ٹھیک کر دو گا “۔

ابتہاج کے لب اور اس کا جلتا سلگتا لمس ماہا کو اپنی گردن پر محسوس ہوا تھا وہ سختی سے اس کے کندھے کو مظبوطی سے تھام گئی تھی اسے خود سے دور کرنا چاہا تھا ۔

“آئی پرامس پلیز بلیو می “۔

اس کے ہونٹ ماہا کی گردن پر تھے جبکہ اب ابتہاج نے خمار آلود نظریں اٹھا کر اسے آس سے دیکھا تھا آنکھوں میں واضع سرخی چھائی ہوئی تھی

“آئی نو کہ یہ سب اچانک ہوا میں ایسا نہیں کرنا چاہتا دکھ ہو رہا ہے تمھیں “۔

اس کی کمر پر ہاتھ رکھتے وہ اسے خود سے قریب تر کرتا بولا تو ماہا کا سانس سینے میں الجھا اس کی قربت پر وہ گھبرا گئی تھی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھی ۔

وہ شدت سے اس کی سانسوں کو خود میں جکڑ چکا تھا اس کی وجود کی خوشبو کو خود میں انڈیلتے وہ پھر سے وہی غلطی کر رہا تھا ایک احساس نے اسے ماہا سے دور کیا کہ ماہا کا سانس اب بند ہونے کو تھا ۔

وہ اس سے دور ہوا تھا چہرہ جھکا گیا جبکہ وہ گہرے سانس بھر کر رہ گئی تھی وہ کتنا بے حس تھا ۔

“مانتا ہوں کہ کل رات غلطی ہو گئی مجھ سے “

اس کے منہ سے نکلنے والے لفظوں پر ماہا کا وجود جو اس کی پناہ میں کچھ سکون میں تھا بے چینی سے دو چار ہوا یعنی وہ صبح والے روایے پر اس سے معافی نہیں مانگ رہا تھا وہ تو کل والی بات کو ابھی بھی غلطی۔ غلطی گردان رہا تھا ماہا نے قہر زدہ آنکھوں سے اسے دیکھا ایک جھٹکے سے اپنی پوری طاقت سے اسے خود سے دور کیا تھا ۔

“سٹے آوے فرام می غلطی ہوں نہ آپ کے لیے یہاں کیا کر رہے ہے پھر “۔

وہ غصے سے چینخ کر بولی آنسو پھر بہہ نکلے وہ کس غلط فہمی میں چلی گئی تھی بھاگنے کے سے انداز میں سیدھا جا کر واشروم میں بند ہوئی تھی اس کی خوشبو ابھی بھی اپنی سانسوں میں محسوس ہوئی تھی جبکہ وہ بے بسی سے دروازے کو دیکھا ہوٹل روم سے باہر نکل گیا تھا ۔

____________________________!!

وہ گہری سانس بھرتا واپس روم میں آیا تھا کمرہ تاریخی سے بھرا پڑا تھا ابتہاج نے آگے بڑھ کر لائٹ آن کی روم خالی تھی اب اسے ایک اور فکر نے گھیرا وہ واش روم چیک کرنے لگا تو وہ وہاں بھی نہیں تھی آہستہ آہستہ ابتہاج کا دل گھبرانے لگا تھا ۔

وہ ہوٹل روم سے باہر نکلا تمام ہوٹل کو چیک کا آدھا گھنٹہ ہو رہا تھا وہ کہی نہیں ملی دل میں عجیب سے خیالات آنا شروع ہوئے تھے اسے خود سے ہی اب نفرت ہونے لگی تھی۔۔۔۔

ریسیپشن سے پتہ لگا کہ وہ ایک میم باہر تو گئی ہے ابتہاج فکری مندی سے ماتھا مسلتا باہر نکل گیا تھا آس پاس جنگل تھا وہ اسے کہاں ڈھونڈے اگر اسے کچھ ہو گیا یا وہ باہر نکلی ہی کیوں وہ شرمندہ تھا اس سے پریشانی سے ماتھے پر لکیریں واضع تھی

وہ جنگل میں پہنچ چکا تھا ادھر دیکھا وہ کہی نہیں تھی مزید فکر ہوئی تھی اسے شدید غصہ بھی آیا تھا ماہا پر کیا ضرورت ایسے جانے کی اگر غلطی ہو گئی تھی تو بیٹھ کر بات کر لیتی ۔

تھوڑی دور چلنے پر ہی اس کے اوپر جیسے حیرتوں کے پہاڑ گرے تھے وہ زمین ہر بے جان پڑی نظر آئی تھی وہ منٹوں میں اس تک پہنچا اس کا چہرہ تھپتھپایا لیکن جواب نہیں ملا تھا وہ بے ہوش تھی اسے بازوؤں میں بھرے وہ واپسی کی جانب چل پڑا تھا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا تھوڑی دیر بعد وہ ہوٹل کے روم میں موجود تھا اس کے وجود کو بیڈ پر لٹاتے وہ اندر سے تھوڑا خوف زدہ ہو گیا تھا ۔

“ماہا اٹھو پلیز ماہا “۔

اس کے چہرے ہر ہاتھ رکھتے وہ دھیمی آواز میں بولا پھر پانی کے چھینٹے اس کے چہرے پر مارے تھے ۔

“ماہا نے مندی مندی آنکھیں کھولی تھی کسی اپنے کو نظروں کے سامنے پا کر جان میں جان آئی تھی ہوش سنبھالتے وہ جھٹ سے اس کے گلے لگی تھی اس اچانک ہوتی کاروائی کر وہ محظوظ سا ہوا تھا ناسمجھی سے اپنے ساتھ لگے وجود کو دیکھا شاید وہ ڈر گئ تھی ۔

“ہیے ماہا میں ہوں کچھ نہیں ہو گا تمھیں پلیز ڈونٹ پینک”۔

وہ نرمی سے اس کے وجود کو خود میں سمیٹے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے بولا فلحال اس سے کسی بھی قسم کا سوال کرنے کا ارادہ ترک کیا تھا ۔

“تم کی جنگل کی رانی ہو یار وہاں جو گئی تھی حکم چلانے سب پر”۔

وہ آہستہ آواز میں مسکراتا ہوا بولا اور اسے خود سے دور کیا جبکہ ماہا نے ابھی بھی اپنے بازوؤں کا حصار اس کے گرد باندھا ہوا تھا ۔

“کس چوہے سے ڈر کر بے ہوش ہوئی تم ویسے “۔

وہ اس کا مائنڈ دوسری جانب کرنے کو مسکراہٹ دبا کر بولا تھا ۔

“جی نہیں میں بہت بہادر ہوں میں چوہے سے نہیں ڈرتی”۔۔

وہ اترا کر اسے دیکھتے بولی تھی جبکہ وہ اب کامیاب ہو گیا تھا تو خوش تھا ۔

“ہممم ایسی بات ہے کیا پکا نہیں ڈرتی کسی سے “۔

وہ چہرہ اس کے چہرے کے قریب کرتا معنی خیزی سے بولا کہ ماہا اچانک اسے دیکھتی سرخ ہو گئی تھی کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا تھا ۔

“ابتہاج مجھے نیند آ رہی ہے سونا ہے طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی “۔

وہ سر جھکائے بولی تھی تو وہ مسکراہٹ دبا کر اثبات میں سر ہلا گیا تھا پھر اسے لیٹنے میں مدد کی اور خود بھی لیٹ گیا تھا جبکہ ماہا جلد ہی نیند کی وادیوں میں جا چکی تھی ابتہاج نے ایک نظر اسے دیکھا کتنا مرجھا گیا تھا اس کا دلکش روپ صرف اس ک وجہ سے ۔

“ایم سوری ماہا “۔

جلد ہی اس کی بھاری سانسوں کی آواز پر وہ اندازہ لگا گیا کہ وہ گہری نیند میں ہے تبھی دھیمی آواز میں بولتا وہ آخر میں اپنے ہونٹوں سے اس کے کان کی لو کو چھو گیا تھا ۔

_________________________!!

وہ زندگی کے تلخ موڑ پر تھی کہ وہ نہ اپنی قمست کو قصوروار کہہ سکتی تھی نہ وہ اللّٰہ سے کوئی گلہ شکوہ کو سکتی تھی یہ کانٹوں بھری راہ جو اس کا مقدر تھی وہ اس نے خود طے کیا تھا اپنی عزت کو خود کے ہاتھوں۔ خود روندھا تھا ۔

اس کا چہرہ ستا ہوا تھا مرجھایا سا بے جان چہرہ آنکھوں کے گرد حلقے واضع تھے اب تو اسے آنسوؤں پر بھی شدید غصہ آیا جو اتنا رونے کے باوجود ختم نہیں رہا رہے تھے تبھی دروازہ کھلا وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی جب وہ بڑی شان اور کافی سکون سے چلتا ہوا آیا اور کھانے سے سجی ٹرے اس کے قریب رکھی صنم نے ایک نظر سہمی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔

“کھانا کھاؤ”۔

وہ کھانے کی جانب اشارہ کرتا سرد سی آواز میں بولا تھا جس پر صنم نے بھی ایک نظر کھانے کو دیکھا ۔

“م۔مجھے ۔ن۔نہیں۔ک۔ک۔کھانا “۔

وہ اٹکتے لہجے میں بولی اس انسان کا سحر کی ایسا تھا جو اسے خوف میں مبتلا کر دیتا تھا ۔

“اووو تو بھوکے پیٹ گڈ نیوز سننے کا ارادہ ہے یا یہ کہہ لو کہ تمھیں میری لائی ہوئی گڈ نیوز پہلے سننی ہے “۔

چہرے پر استہزاء مسکراہٹ سجائے وہ پوری طرح اسے سلگانا چاہتا تھا یا یوں کہہ لے وہ اسے زچ کر رہا تھا صنم نے سہمی ہوئی خوف بھری نظروں سے اسے دیکھا دل میں عجیب وسوسے آئے تھے وہ اندر تک مکمل ڈر گئی تھی ۔

“آپ کے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہو چکا ہے مر گے ہے وہ “.

وہ بڑے عزت سے اس کے پاس جاتا ہوا بولا تھا اس کی بات پر صنم نے بے یقین نظروں سے اسے دیکھا جب بھی وہ سوچتی تھی اس سے برا اس کی زندگی میں کچھ نہیں ہو گا تبھی زندگی اسے شدید قسم کا جھٹکا دے کر مسکراتی تھی ۔

آنکھوں سے آنسو جاری ہو گے جو سالح نے ناگواری سے دیکھتے تھے ۔

“آپ۔ج۔جھ۔وٹ ب۔بول۔ر۔ ہے ہے “۔

وہ اس کی جانب دیکھتی آنسوؤں سمیت بولی تھی وہ یقین نہیں کر پار رہی تھی پھر بھی وہ محبت کرتی تھی روکی سے اور اس کی موت نے صنم کی آنکھوں۔ میں آنسو کا دیے تھے ۔

“آہاں لک ایٹ “۔

وہ موبائل کی جانب اشارہ کرتا ہوا بولا تھا کہاں صاف روکی کو دفنایا جا رہا تھا صنم نے مظبوطی سے اپنے چہرے ہر ہاتھ جمائے آنسوؤں کا گلہ گھونٹنا چاہا تھا جو کہ ناکام تھا ۔

صالح غصے سے وہاں سے باہر نکل گیا تھا وہ روتی ہوئی یوں ہی بیڈ ہر گر گئی تھی جیسے کسی کی ہوش تک نہیں رہی تھی اس کی زندگی میں صرف دکھ تھے یا وہ دکھ خود اس نے اپنے ہاتھ سے بنائے تھے اور انہیں سکھوں کی جگہ رکھ آئی تھی ۔

_________________________!!!

کمرے میں پڑے اسے کئی دن گزر چکے تھے کھانا رکھ دیا جاتا تھا وہ کبھی کھا لیتی تو کبھی نہیں کھاتی خود کو اندر ہی اندر سمبھال لیا تھا لیکن یہ بہت ہی زیادہ مشکل تھا ۔صالح اس دن کے بعد واپس نہیں تھا اس کی عدت گزر رہی تھی ۔

وہ زندگی سے جیسے اوب گئی تھی لیکن پھر بھی اسے جی رہی تھی ۔

آج آخری دن تھا وہ بھی گزر گیا تھا ماریا نے اس کا بہت اچھے سے خیال رکھا تھا وہ فریش ہو کر باہر آئی تھی کھانا ابھی تک نہیں آیا تھا ۔

بیڈ ہر بیٹھتے وہ بھاری بوٹوں کی مخصوص آواز سن پا رہی تھی خوف سے آنکھیں پھیل گئی دل بری طرح دھڑک گیا تھا وہ یہی آ رہا کتنے مہنوں بعد ۔

وہ اس بار بھی کھانے کی ٹرے ہی لے کر آیا تھا ٹرے سائیڈ پر رکھی جب اس نظر جھکائے پتلا بنے وجود پر نظریں پڑی تھی۔

“In a short time, our marriage is ready. Get ready and there is no reason to forbid۔So go and get ready. And don’t cry anymore. Keep some tears for the future”

وہ سنجیدگی سے بولتا اسے چونکنے پر مجبور کر گیا تھا صنم نے آہستہ سے نفی میں گردن ہلائی تھیں وہ اب ہرگز شادی کے حق نہیں تھی آنکھوں میں نمی جھلکی تھی اس کی بات کو سرے سے نظر انداز کرتے وہ الماری سے ایک جوڑا نکال چکا وہ خوبصورت لباس اس کی الماری میں کیسے آیا صنم تو اس پر حیران ہوئی تھی ۔

“سوچ لو اتنے دن سے تم غائب ہو کیوں رہی ہو میرے ساتھ یہ سب ہاں کس کو بتاؤ گی کیا رشتہ ہے میرے ساتھ تمھارا “۔

وہ ذرا سختی سے بولا تو اس کی باتوں کو سمجھتے وہ اب سر جھکا گئی تھی وہ کہی سے غلط نہیں تھا ہر اتنی جلدی اچانک وہ نہیں کرنا چاہتی تھی پھر یہ انسان اس کے ساتھ زبردستی کیوں کر رہا تھا آخر ۔

“تیار ہو جاؤ بس کچھ وقت میں “۔

وہ بیڈ پر ایک نفیس سی فراک پھینکتا انتہائی سرد آواز میں بولا کہ صنم اندر تک خوف زدہ ہو گئی تھی روتی آنکھوں سے بہتے آنسو بھی اس ستم ظرف کا دل نہیں پگھلا پائے تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *