Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 17)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

ابتہاج بے چینی سے کمرے میں آیا تھا ماہا کے اس طرح سے رونے پر اسکا دل بری طرح سے ڈر گیا تھا۔۔۔۔ جبھی وہ کسی کی پرواہ کیے بنا ہی ماہا کے پیچھے کمرے میں آیا مگر کمرے میں آتے ہی اسے یوں بیڈ پہ اوندھے منہ پڑا بلکتا دیکھ وہ تڑپتے اسکے قریب آیا ، جو بے تہا شہ رو رہی تھی۔۔۔ ابتہاج نے آگے بڑھتے نرمی سے اسے کھینچتے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔ ماہا یوں اچانک ابتہاج کے سینے سے لگتی اسکی اچانک آنے پہ سانس روکے اسکے سینے سے لگی تھی۔۔۔

ابتہاج نے نرمی سے اسکے بالوں اور پشت کو سہلاتے اسے پرسکون کرنا چاہا تھا ۔ مگر دل میں اٹھتے خوف و وحشت نے اسے بری طرح سے سہما دیا تھا۔۔ ابتہاج اسکی زندگی کا کل سرمایہ تھا جس کے بغیر وہ اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔۔ جبھی ماہا نے ڈرتے ابتہاج کی شرٹ کو کاندھوں سے اپنی مٹھیوں میں جکڑتے اسکے ہونے کا یقین کیا تھا۔۔۔۔

ابتہاج اسکی حالت سے بخوبی واقف تھا، وہ جانتا تھا یوں ایک دم سے صنم کا واپس آنا ماہا کے اندر بھری احساس کمتری کو جگا گیا تھا۔۔ اسے کسی مضبوط سہارے کی ضرورت تھی جس کے کندھے سے لگے وہ اپنا ہر دکھ ہر غم بھلا دیتی ۔۔۔

“ سبب ابتہاج آپ پلیز اسے کہیں وہ چلی جائے واپس وہ کیوں آئی ہے ۔۔۔۔ جب بھی میری زندگی میں سکون ہوتا ہے وہ دوبارہ سے آ جاتی ہے میری خوشیوں کو نظر لگانے۔۔۔“

مگر اب اور نہیں میں یہ سںب کچھ نہیں برداشت کر سکتی ابتہاج آپ پہ صرف میرا حق ہے میں کسی سے بھی نہیں بانٹ سکتی آپ کو۔۔۔۔۔” ماہا نے روتے ہچکیوں سے کہا ___ ابتہاج اسکی یوں اس طرح سے حق جتانے پہ جی جان سے مسکرایا تھا۔۔۔۔۔۔ اسکا یوں استحقاق جتانا کتنا بھایا تھا اسے۔۔۔۔۔ ابتہاج کے عنابی لبوں پر ایک خوبصورت مسکراہٹ تھی۔۔۔۔

اببب ابتہاج آپ جانتے ہیں کہ بابا مجھ سے ذرا بھی محبت نہیں کرتے بچپن سے ہی وہ صنم سے محبت کرتے تھے ، صنم کے لئے روز کھلونے لاتے تھے اسکے ساتھ کھیلتے تھے اور رات کو بھی اسے اپنے پاس سلاتے اسے کھانا بھی اپنے ہاتھوں سے کھلاتے تھے، مگر مجھے ۔۔۔ مجھے وہ اپنے پاس بھی نہیں آنے دیتے تھے، اگر کبھی مجھے دیکھ لیتے تو نفرت سے جھٹک دیتے، مجھے کبھی محبت سے نہیں دیکھا ۔۔

مجھے بہت دکھ ہوتا تھا میں اکیلے کمرے میں بیٹھ کر روتی بھی تھی ، کئی بار اپنے چہرے کو چھوتی کہ میرے بابا صرف اس وجہ سے مجھ سے نفرت کرتے تھے کیونکہ میں بدصورت تھی۔۔۔ مگر اس میں میرا کیا قصور تھا ، مجھے بنانے والے اس خدا نے جب کسی میں تفریق نہیں کی تو پھر اس دنیا میں آئے اس کے بندے کیونکر تفریق کرتے ہیں کیوں اپنی ہی اولاد کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں ۔۔۔

جب میری بیٹی ہو گی ناں تو چاہے وہ مجھ جیسی ہو خوبصورت ناں بھی ہوئی مگر میں پھر بھی اسے وہ محبت اور شفقت دوں گی جس پہ اسکا حق ہو گا۔۔۔۔۔۔

میں اسکے بہن بھائیوں کو بتاؤں گی کہ یہ تمہاری بہن ہے اس سے بھی تم نے ویسے ہی محبت کرنی ہے جیسے کہ میں تم سے کرتی ہوں ۔۔ کبھی بھی اسے دھتکارنا اسے احساسِ کمتری کا شکار مت ہونے دینا ۔۔۔۔ اسکے سینے سے لگے وہ اپنے اندر چھپے احساس وہ سب محرومی جس کی وجہ سے وہ اپنی ذات سے ناآشنا ہو گئی تھی۔۔۔۔ اسکے سامنے عیاں کرنے لگی۔۔۔۔۔ جو اسکا شریکِ حیات اسکی زندگی کا ہمسفر تھا۔۔۔۔۔

ماہا میری جان تم کسی سے بھی کم صورت نہیں ہو اپنے اس چھوٹے سے دماغ سے یہ خیال نکال دو ۔۔ کیونکہ مجھے یہ سب چیزیں ناں تو پسند ہیں اور ناں ہی میں اہسا سوچتا ہوں۔۔ میرے لئے اس دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی میری ماہا ہے ماہا ابتہاج گردیزی۔۔۔۔۔”

اسکے کان میں سرگوشیاں کرتا وہ اسے مان سونپ رہا تھا۔۔۔ کتنا سکون تھا اسکے ان لفظوں میں جیسے اتنے سالوں کی ہر تکلیف کا ازالہ ہو گیا تھا۔۔۔

میرے ہوتے ہوئے تمہیں کسی دوسرے کی مانگی محبت کی ضروت نہیں ۔۔۔۔ ” اسکے معصوم چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ابتہاج نے اپنے سلگتے ہونٹ ماہا کی پیشانی پہ رکھے تھے۔۔۔۔

ماہا نے آنکھیں بند کیے سکون کو اپنے اندر اترتا محسوس کیا تھا ۔۔۔۔۔ ابتہاج نے باری باری اسکی آنکھوں پہ بوسے دیے اسکے ہونٹوں کو قید کیا ۔۔۔۔ مگر آج ماہا اسکے لمس اسکے یوں چھونے پہ گھبرائی نہیں تھی بلکہ دل میں ابھرتے اس نئے جذبے کے سبب وہ خود کو ابتہاج کے آگے ہار گئی تھی۔۔۔

ابتہاج اسکی خود سپردگی محسوس کرتے دل سے پرسکون ہوا تھا۔۔۔ وہ جانتا تھا ماہا کو ایک مضبوط سہارے کی ضرورت تھی ایک ایسا سہارہ جو اسکے بکھرے وجود کو اپنی محبت سے سمیٹ لے۔۔۔۔۔ ابتہاج خود بھی تو اس نازک وجود کو پناہوں میں لیتے ہر غم ہر دکھ بھول جاتا تھا۔۔۔

ابتہاج کی بڑھتی جسارتیں ماہا کا سانس سینے میں اٹکنے لگا تھا ۔۔۔ اسے یوں شرٹ اتارتے دیکھ ماہا کی آنکھیں خوف سے پھیلی۔۔۔۔ ماہا نے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھا جو اپنی نظروں میں اسکی قربت کی کا خمار لئے ماہا کو لرزنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔۔ وہ شرم و حیا سے گھبراتے نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔۔

جسے دیکھ وہ مسکراتا اسکے اوپر سایہ سا کر گیا۔۔ ماہا نے ابتہاج کے ہونٹوں کا دہکتا لمس گردن پہ محسوس کرتے تڑپتے اسے پکارا تھا۔۔۔۔ جو بالکل مدہوش اسکی سانسوں سے اسکی روح تک میں رسائی چاہتا تھا۔۔۔

ابتہاج نے ہونٹ ماہا کی تھوڑی پر رکھے تو وہ مچل اٹھی تھی، جبھی ہاتھ اسکے سینے پہ رکھتے ماہا نے اسے دور کرنا چاہا تھا۔۔۔ مگر مقابل نے اسکے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے الجھاتے اسکے ہاتھ تکیے سے لگائے ، ماہا نے اپنی بھاری سانسوں سے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ اسے پکارا ۔۔۔

ابب ابتہاج باہر پارٹی ہے سب کیا سوچیں گے۔۔۔۔۔۔۔“ ماہا جو کب سے اسے سمجھانا چاہ رہی تھی اب بمشکل سے ہمت کرتے وہ بولی تھی ۔۔۔۔ ابتہاج نے ہونٹ اسکے گردن سے سرکاتے کان کے قریب کے قریب لے گیا کہ اس کے لمس پہ ماہا کے اندر کپکپی سی طاری ہوئی ۔۔۔۔

” پاپا سنبھال لیں گے تم بس میری فکر کرو ، تمہاری سوچ میں صرف اس وقت میرا خیال ہونا چاہیے ، جیسے میری سوچ میری روح پہ اس وقت صرف تم چھائی ہو۔۔۔۔ یہ دل صرف تمہاری بے انتہا قربت کے لیے بے تاب ہے۔۔۔۔ تم ان لمحوں کو محسوس کرو بھول جاؤ سب کو۔۔۔۔ بھول جاؤ کوئی دکھ ہے تمہاری زندگی میں۔۔۔۔۔”

اسکے کان میں جھکتے وہ میٹھی سرگوشیاں کرتا ماہا کو اپنے آپ میں سمٹنے پہ مجبور کر گیا ۔۔۔۔۔ ابتہاج نے نرمی سے جھکتے اسکے دائیں کندھے سے میکسی سرکاتے اپنےدہکتے ہونٹ اسکے کندھے پہ رکھے تو ماہا نے آنکھیں میچتے ابتہاج کی گردن کے گرد اپنا ہاتھ لپیٹا۔۔۔۔۔۔

اببب ابتہاج پلیز۔۔۔۔۔۔۔ “ابتہاج کے ہونٹوں کے لمس کو اپنے پور پور پہ محسوس کرتے ماہا نے منت بھرے لہجے میں کہا تھا ۔۔ مگر ابتہاج کا ارادہ اسے محبت کی اس نئی دنیا سے واقف کروانا تھا۔۔ اپنی محبت سے اسکے پور پور کو بھگونا تھا۔۔۔۔

”خود ہی تو کہا تھا کہ ہماری بیٹی ہو گی تو تم اس سے سب سے زیادہ محبت کرو گی۔۔۔۔ تو میری جان اسے اس دنیا میں جلدی سے لانے کے لئے ہمیں ہی محنت کرنی پڑے گی۔۔۔۔ اب بس فضول سوچوں کو اپنے دماغ سے نکال دو اور محسوس کرو ان لمحوں میری محبت کو ۔۔۔۔۔۔۔“ ابتہاج نے ہونٹ اسکی گردن پہ جابجا رکھتے بےباکی سے اسکے کان میں جھکتے سرگوشی کی تھی کہ ماہا کا پور پور لرز اٹھا۔۔۔۔

اسکے وجود کی کپکپاہٹ اسکا ڈر ابتہاج بخوبی واقف تھا اسکے احساسات تھا مگر اس وقت اپنے جذبات پہ بندھ باندھنا ابتہاج کے دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام تھا۔۔۔۔

جبھی ابتہاج نے جھکتے اسکے لرزتے گلابی ہونٹوں کو اپنی دہکتی گرفت میں لیتے اسکے پور پور کو اپنی محبت سے بگھونے لگا۔۔۔۔۔

ابتہاج کی قربت ، اسکے لمس کو اپنے وجود پہ جابجا پاتے ماہا کو اپنا آپ آج پھر سے قیمتی لگنے لگا تھا۔۔۔۔ دل نے پھر سے ابتہاج پہ اعتماد کرنا چاہا تھا۔۔۔۔

جبکہ اسکے نرم و ملائم وجود میں کھوتے ابتہاج نے ایک سکون کو اپنے اندر تک اترتا محسوس کیا۔۔۔۔۔

_________________

صنم اٹھو یہاں سے۔۔۔۔۔۔” صالح جو دور کھڑا یہ سب ہوتا دیکھ رہا تھا اب سب کی عجیب نظریں صنم پہ پاتے وہ غصے پہ قابو کیے اسکی جانب بڑھا تھا جو فرش پہ بیٹھی پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی،

صنم نے صالح کا ہاتھ غصے سے جھٹکا تھا۔۔۔۔۔ ماہا کا رویہ اسے مزید دکھی کر گیا تھا۔۔۔۔ صالح نے جبڑے بھیجتے اسکی حرکت کو دیکھ اب کی بار صالح نے غصے سے اسے بازوؤں سے گھسیٹتا باہر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔

آج کی یہ پارٹی یہی پہ ختم ہوتی ہے آپ سب پلیز کھانا کھا کر جائیے گا۔۔۔ ماحول میں ہوتی چین گوئیوں کو سنتے کاشان صاحب نے بآواز بلند کہا تھا کئی لوگ تو ویسے ہی عجیب و غریب باتیں کرتے غصے سے وہاں سے چلے گئے تھے جبکہ باقی سب کو ویٹر اپنے ساتھ لے جاتے پیچھے لان کینجانب گئے ۔۔۔۔

کاشان آپ پلیز پریشان ناں ہوں۔۔۔۔ صبا بیگم نے پریشان سے کھڑے کاشان صاحب کے پاس جاتے انکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے کہا تھا وہ سر ہلاتے اپنے کمرے کی جانب بڑھے۔۔۔۔۔۔۔

پورے راستے صالح اسے یونہی روتا دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔ جس کی آنکھوں سے بہتے آنسوں تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔۔۔ اب بھی وہ کمرے میں آتے غصے سے ہوتا کمرہ تہس نہس کر چکی تھی ۔۔۔۔۔ مگر اپنے اندر اٹھتے طوفان کو کسی بھی طور وہ کم نہیں کر سکی تھی۔۔۔

صالح جو گیٹ بند کیے اب کھانا ٹرے میں نکالتے اندر آیا تھا ایک دم سے ٹھاہ کے ساتھ کشن اسکے منہ پر لگا تھا۔۔۔ وہ غصے سے آنکھیں بند کیے کھولتا اپنی سرخ ہوئی آنکھوں سے صنم کو دیکھنے لگا۔۔۔۔

جو بکھرے بال رونے سے سرخ ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ صالح نے آگے بڑھتے ٹرے ایک جانب میز پہ رکھی اور چلتا صنم کے قریب ہوا۔۔۔

” میرے قریب مت آئین صالح میں بہت بری ہوں میں نے سب کچھ ختم کر دیا اپنے رشتے اپنوں کا اعتبار سب کچھ توڑ ڈالا مجھے اسی ہی کی سزا مل رہی ہے آپ بھی چھوڑ دو گے مجھے ابھی چھوڑ دیں کیونکہ میں اسی قابل ہوں۔

وہ روتے اپنے قدم پیچھے کو لیتے اپنا چہرہ بری طرح سے نوچنے لگی ۔۔۔۔۔ صالح سنجیدگی سے اسکے قریب رکتے اسکے پاگل پن کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ جو اسے اپنے آپ میں نہیں لگی تھی ۔۔۔

ابتہاج نے کھینچتے اسے اپنے سینے سے بھینجا تو صنم سانس روکے اسکے سینے سے لگی بری طرح سے لرزنے لگی۔۔۔۔۔ ابتہاج نے اسکے کندھے پہ بکھرے بالوں کو ایک جانب کرتے اپنے سلگتے ہونٹ اسکی شفاف گردن پہ رکھے تو اسکے لمس پہ صنم کی جان سے لرز اٹھی۔۔۔۔۔

صنم نے اپنے لرزتے ہاتھوں سے اسے خود سے دور کرنا چاہا تھا۔۔۔ مگر صالح اسکی گردن کو اپنے ہونٹوں سے چومتے اب بےخود سا ہوتے اسکی کمر کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔ صنم اسکے ہونٹوں کے کرشدت دیکھتے لمس پہ مچل اٹھی تھی۔۔۔۔

مگر اسکی قید سے رہا ہونا کہاں ممکن تھا اسکے لئے۔۔۔

صص صالح میں آپ کے قق قابل نہیں ہوں مم میں نا پاک ہوں آپ پپ پلیز مجھے چھوڑ دیں۔۔۔۔۔” اپنے کندھوں سے سرکتے ڈریس کو محسوس کرتی وہ آنکھیں میچتے ہی روتے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔۔

اسے اپنا آپ صالح کے قابل نہیں تھا لگا۔۔۔۔۔ بھلا وہ لڑکی جس نے اپنی خوبصورتی کے غرور میں سب کو دھتکارتے اپنے وجود کو چھلنی کر دیا تھا وہ کیسے اسکی قابل کو سکتی تھی ۔۔۔۔۔

صالح نے ہونٹ اسکے کاندھے پہ رکھتے ہلکا سا اپنا دانتوں سے دباؤ دیا تو صنم لرز پڑی اسکی شدت اسکی گرفت پہ۔۔۔۔۔

صالح نے جھٹکے سے اسکے نازک وجود کو اپنی بانہوں میں سیمٹا تھا اور چلتے بیڈ کے قریب جاتے وہ بےحد نرمی سے اسے بیڈ پہ لٹائے اس پہ جھکنے لگا تھا کہ صنم نے خوف سے سہمی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔ جس کی آنکھوں میں آج الگ ہی رنگ آباد تھے۔۔۔۔

صنم کے لئے اسے روک پانا مشکل ہوتا گیا ۔۔۔۔۔۔ جبکہ صالح کسی برستی بارش کی طرح اس پہ جھکتا اسکے ہور پور کو اپنے لمس سے مہکانے لگا۔۔۔۔۔

اسکے شدت بھرے مگر نرم لمس پہ وہ خود بھی پگھلتی اپنا آپ اس کے سپرد کر گئی تھی۔۔۔۔ گزرتی رات کے ساتھ صالح کی بڑھتی جسارتیں ، اسکی بے باک سرگوشیاں اپنے ہونٹوں کو اپنے کی قید میں محسوس کرتی صنم اپنا ہر غم بھلائے اپنا آپ اسکے سپرد کر گئی۔۔۔۔ جبکہ اسکی خود سپردگی کو محسوس کرتے صالح نے شدت سے اسے خود میں سمیٹتے اسکی روح تک رسائی کی تھی ۔۔۔

___________

آنکھوں میں پڑتی تیز روشنی پہ ماہا نے تھکاوٹ سے خود اپنی سرخ ہوئی آنکھوں کو کھولا اور منہ بسورتے وہ کروٹ بدلتے لیٹی تھی۔۔۔۔۔ اسے یوں خود سے دور ہوتا دیکھ ابتہاج نے ایک دم سے ہاتھ اسکی نازک۔کمر کے گرد لپیٹتے اسے کھینچتے اپنے نزدیک کیا تھا کہ وہ ایک دم سے اسکے سینے سے لگی حیرت سے اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

جس کی آنکھوں میں شریر سی چمک تھی۔۔۔۔ماہا نے شرم سے دہکتے گالوں سے اپنا چیدہ ابتہاج کی گردن میں چھپایا تھا ۔۔۔

ابتہاج اسکے ناز وجود کے گرد گرفت مضبوط کرتا خود سیدھے سے لیٹے اسے سینے پہ ڈال گیا۔۔۔۔

اببب ابتہاج۔۔۔۔۔۔” اسکی نظروں کی معنی خیزی سے وہ گھبراتی غصے سے اپنے نازک ہاتھ کا مکہ بنائے اسکے سینے پہ مارتہ منہ بسور گئی۔۔۔ ابتہاج کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔

ابتہاج نے سر اٹھائے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو چھوا تھا جو آگے ہی اسکی شدت پر سرخ ہوئے پڑے تھی۔۔۔۔ ماہا نے اسے غصے سے گھورا تو وہ آنکھ دبائے ایک دم سے کروٹ بدلتے اسے بیڈ پہ لٹائے خود پھر سے اسپہ جھک گیا ۔۔

”ابتہاج مجھے نیند آئی ہے پلیز مجھے سونے دیں” ماہا نے گردن سے سرکتے اسکے بے باک ہونٹوں کے لمس پہ تڑپتے اختجاج کیا تھا۔۔۔۔

ابتہاج نے سر اٹھائے اسے دیکھا جس کے پور پور میں ابتہاج کی خوشبو بسی ہوئی تھی۔۔۔۔ چہرے پہ پھیلی اسکی قربت کی سرخی اسکا راز عیاں کر رہی تھی۔۔۔ابتہاج نے لبوں کا کونہ منہ میں دبائے مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔۔

” تمہارے معاملے میں میرے سارے جذبات بے لگام ہیں اس میں میرا قصور نہیں۔۔۔۔۔ اسکے سینے پہ دل کے مقام پہ ہونٹ رکھتے وہ بےخودی میں بولا تھا ۔۔ ماہا اسکے اس قدر حسین اظہار پہ پرسکون ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

ابتہاج آپ جائیں ناں پلیز۔۔۔ ” منہ بسورتے ماہا نے اپنے ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کرواتے کہا تھا اسکی آنکھیں نیند سے بوجھل تھی ایک رو ساری رات ابتہاج نے اسے سونے نہیں دیا تھا اوپر سے اب صبح ہی صبح اسکے دوبارہ سے شروع ہونے پہ ماہا تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔۔۔۔

اوکے مگر میری شرٹ۔۔۔۔۔ ” وہ معصومیت سے منہ بنائے سر اٹھائے ماہا کے وجود پر موجود اپنی ڈارک بلیو شرٹ دیکھتے بولا تھا۔۔۔۔ ماہا اسکی بات سنتے پل بھر میں خود میں سمٹی تھی۔۔۔۔۔۔۔ ابتہاج نے نرمی سے جھکتے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا تو ماہا نے سکون سے مسکراتے انکھیوں موندیں۔۔۔۔۔ کر کو آرام آج ضروری میٹنگ ںناں ہوتی تو تمہیں بتاتا میں ، چلو خیر ہے گھر واپس آ کر رات کو یہی سے کانٹینیو کریں گے۔۔۔۔”

” اسکے ہونٹوں کو ہلکے سے چھوتے وہ کان سرگوشی کرتے بیڈ سے اترا تھا وہیں اسکی بات سے وہ کان کی لو تک اپنا سرخ پڑتا چہرہ کمفرٹر میں چھپائے سوئی تھی۔۔۔۔

__________________

صالح بیڈ کروان سے ٹیک لگائے ایک ہاتھ میں پکڑے اپنے ساتھ سگریٹ کا کش لگائے اپنے برابر میں بکھری حالت میں کیٹی صنم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

جو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی اسکی من مانیوں کو سہتے سوئی تھی ۔۔ اسکے سونے کے بعد میں صالح کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔۔۔۔۔ وہ یونہی جاگتا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔جس کے حسین چہرے پہ مٹے مٹے آنسوں کے نشانات تھے۔۔۔ گال اور لب اسکی شدتوں کے سبب سرخ ہو چکے تھے ۔۔۔۔۔۔

اسکے معاملے میں جانے کیوں صالح کو اپنا آپ بے بس لگنے لگتا تھا ۔۔۔۔۔ اس نازک وجود کے آگے جانے کیوں وہ ہر بار ہار جاتا تھا ۔۔۔۔ حالانکہ وہ ایسا نہیں تھا وہ اب وہ صالح خان نہیں رہا تھا جس کے سینے کی موجود خون کا لوتھڑا صرف نام کا دھڑکتا تھا کیونکہ اب وہ صنم کا صالح بنتا کا رہا تھا۔۔۔ اسکا دل اس لڑکی کر قربت کے لئے دھڑکتا تھا۔۔۔ ۔۔

اسے چاہ تھی تو صنم کی محبت کی اسکے ، اسکی قربت اسکے ساتھ کی۔۔۔ وہ خود غرض ہو رہا تھا اسکے معاملے میں ۔۔۔ صالح نے کب بھینجتے اپنے دکھتے سر کو ہاتھوں سے چھوا تھا۔۔۔۔۔

ایک نظر اپنی شرٹ میں چھپی صنم کے وجود پہ ڈالے وہ ناچاہتے بھی جھکتے ہلکی سی جسارت کر گیا۔۔۔۔۔۔ اسکے گھنی خمدار پلکوں کو دیکھ صالح کی آنکھہں نیند سے بوجھل ہونےلگی تھی۔۔۔۔ جبھی اسے مضبوطی سے اپنے بازوؤں میں لٹائے وہ خود میں بھینجتا آنکھیں موند گیا۔۔۔۔۔

_______________

ابتہاج کے جانے کے بعد ہی وہ تقریبا بارہ بجے سو کے اٹھی تھی اچھے سے فریش ہونے کے بعد جب اسنے آئینے میں اپنا آپ دیکھا تو بے ساختہ ہی گال شرم سے دیک اٹھے تھے۔۔۔۔اسکے ہور پور میں ابتہاج گردیزی کی خؤشبو بسی تھی ۔۔۔

۔

ماہا نے بمشکل سے اپنی گھبراہٹ پہ قابو کیے خود کو سنبھالتے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے۔۔۔۔۔

صبا بیگم تو ماہا کے نکھرے نکھرے روپ کو دکھتی ہی خوشی سے نہال ہوئی تھی۔۔۔۔ مگر ماہا کی گھبراہٹ کو محسوس کرتے انہوں نے بہت اچھے سے اسے باتوں میں الجھایا تھا۔۔۔۔

اسکے بعد ہی وہ دونوں اٹھتے کچن میں جاتے تیاری کرنے لگی تھی۔۔ کیونکہ کاشان صاحب کا حکم تھا کہ انکا کوئی دوست ڈنر پہ آ رہا تھا تو اسی لئے کھانے کا انتظام اچھے سے کیا جائے۔۔۔۔۔ صبا بیگم نے ماہا کو ڈانٹتے پہلے ناشتہ کروایا تھا اسکے بعد ہی وہ تیاریوں میں مگن ہوئی۔۔۔۔۔

ہیے آنٹ۔۔۔ تھم کیا کر رہی ہے۔۔۔۔” کافی دیر سے کام میں مگن صبا بیگم اور ماہا نے آواز پہ چونکتے سمیر کو دیکھا ۔۔۔۔ جو سر پہ کیپ ڈالے ہاتھ میں بیٹ اور بال پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔

کام کر رہی ہوں بیٹا تمہارے انکل کے کوئی دوست آ بریے ہیں آج۔۔۔۔۔” صبا بیگم نے اسے مخاطب کرتے بتایا تو سمیر کا منہ پھول گیا۔۔۔

مگر میں تو آیا تھا کہ چلو تھم اور ہم کھیلتی ہے ابی۔۔۔۔۔۔” وہ منہ بناتے افسردہ سا ہوتے بولا تو صبا بیگم کے ساتھ ساتھ باؤل میں چکن نکالتی ماہا کے ہونٹ بھی مسکرائے۔۔۔ “

بیٹا جی آپ ایسا کرو ماہا کے ساتھ کھیل لو ویسے بھی اس عمر میں میں کہا کھیل سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔”

سلاد کا سامان تیار کرتے صبا بیگم نے اسے مشورہ دیا تو سمیر کی انھیں چمک پڑی۔۔۔۔

نہیں میں نہیں ماما مجھے ابھی کام کروانا ہے آپ کے ساتھ۔۔۔ماہا نے جلدی سے نفی کی تھی مگر صبا بیگم نے اسے گھورتے ہوئے دیکھا ۔۔

” سب کچھ ہو گیا ہے ماہا میری جان۔۔۔ تم۔جاو تھوڑا سا کھیل لو دونوں کو ہی اچھا لگے گا۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی ابھی مہمانوں کے آنے میں وقت ہے اور ابتہاج بھی اتنی جلدی نہیں آئے گا۔۔۔۔۔”

” صبا بیگم نے رسان سے اسے سمجھایا ۔۔۔ مگر وہ ضد پہ اڑی رہی جسے دیکھ صبا بیگم نے زبدستی مسکراتے اسے کچن سے نکالا تھا۔۔۔

اب زیادہ نصرے نہیں دکھاؤ ماہا آ جاؤ کھیلیں ۔۔۔۔” اسے یونہی کھڑا دیکھ سمیر نے روعب سے کہتے بال اسکے سامنے کی تھی۔۔۔۔۔

ماہا اسکی خراب اردو سے سخت بدمزہ ہوتے اسکے دوسرے ہاتھ میں تھامے بیٹ کو چھیننے لگی کہ وہ ایک دم سے ہڑبڑا اٹھا۔۔۔

ماہا پہلے میرا نمبر ہے مجھے دو بیٹ۔۔۔۔۔” اسکے آگے ہاتھ پھیلائے سمیر نے منہ بسورتے کہا تو ماہا نے آنکھوں میں شرارت سموئے اسے دیکھا ۔ ۔

جی نہیں اب تو میں ایک شرط پہ کھیلوں گی اگر پہلے مجھے بیٹنگ کرنے دو۔۔۔۔۔” ماہا نے گردن اکڑائے کہا تو سمیر چارو نا چار مان گیا۔۔۔۔

وہ دونوں خوشی خوشی باہر آئے تھے۔۔۔۔ جہاں سمیر کے پہلے سے وکٹ لگائے سارا انتظام کیا تھا۔۔۔۔۔

کیا ہو رہا ہے انگریزی بندر۔۔۔۔۔۔” ابھی سمیر بال کرواتا کہ پیچھے سے آتی روعب دار بھاری آواز پہ ان دونوں کی ہی آتی گم ہوئی تھی ماہا جو بیت تھامے فل فارم۔میں تھی ابتہاج کی آواز پہ خوف سے آنکھیں پھیلائے سامنے دیکھنے لگی۔۔ جہاں وہ آفس گیٹ اپ میں کھڑا کافی ہشاش بشاش دکھ رہا تھا ۔۔۔

کچھ نہیں ہم کھیل رہی ہے برو تھم بھی آؤ میرے برف تمہارا نمبر ہو گا ۔۔۔۔۔ سمیر نے مسکراتے اسے آفر کی تھی۔۔۔ جسے سنتا وہ ہاتھ سے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتے نظریں ترچھی کیے ماہا کے وجود کو تیز نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔۔

اسکے یوں بےباکی سے سمیر کے سامنے دیکھنے پہ ماہا کے چہرے پہ ایک ساتھ جانے کتنے رنگ بکھرے تھے۔۔۔

یہ یہ کھیلے گی جسے بیٹ پکڑنا نہیں آتا۔۔۔۔” ابتہاج نے سر نفی میں ہلاتے اسکا مذاق بنایا تو ماہا کا چہرہ کو تھوڑی دیر پہلے اسکی نظروں کی تپش سے سرخ پڑا تھا اب کی بار اسکے یوں کہنے پہ غصے سے سرخ ہوا۔۔۔

آپ خود کو شاید آفریدی سمجھتے ہیں کیا ؟ بھولیں مت مجھے بھی کرکٹ کھیلنا کافی اچھے سے آتا ہے ۔۔۔ گردن اکڑائے ماہا نے سمیر اور ابتہاج کو دیکھتے کہا تو ابتہاج نے بھنویں اچھاظے متاثر ہوتے گردن ہاں میں ہلائی تھی۔۔۔۔

بکو دیکھ لیتے ہیں۔۔۔ جو جیتا اسکی ہر شرط مقابل کو ماننی پڑے گی ۔۔ ابتہاج نے انگوٹھے سے ماتھا مسلتے کہا تھا۔۔۔۔ ماہا اسکےنیوں چیملج کرنے پہ فورا سے سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔۔

اوکے منظور ہے ۔۔۔۔ سمیر ان دونوں کو دیکھنے لگا جو اسے گیم سے نکالتے اب خود ہی ایک دوسرے سے شرطیں لگا رہے تھے۔۔۔

“ ماہا نے بیت تیسری بار زمین پہ مارا اور فوکس ابتاہج کے ہاتھ میں تھامی بال پر کیا جسے وہ مسلسل رہا تھا۔۔۔۔ ماہا نے غصے سے ابتہاج تو دیکھا تو اسکے دیکھنے پہ ابتہاج نے آنکھ دبائے بال کی تھی ۔۔کہ ماہا اسکی ہوں کھلے عام حرکت پہ سٹپٹا گئی۔۔۔ اسکے ہاتھ میںں تھماما بیٹ لرز گیا تھا ہوش تو اسے تب آیا جب اسکے کانوں میں سمیر اور ابتہاج کی آواز گونجی۔۔۔۔

” اب تو میں جیت گیا بیگم کیا ارادہ ہے شرط یاد ہے ناں۔۔۔۔ سینے پہ ہاتھ لپیٹتے ابتہاج نے ایک ادا سے اسے دیکھتے کہا تو ماہا نے غصے سے اپنے نتھنے پھلائے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا

۔۔

آپ چیٹر ہیں آپ نے چیٹنگ کی ہے ابھی ۔۔۔۔ وہ غصے سے انگلی دکھائے بولی تو ابتہاج نے امپریس ہوتے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔

کیا کیا ہے میں نے ۔۔ بتانا پسند کریں گی آپ۔ ۔۔۔ اپنے کان کو ہاتھ سے مسلتے وہ مسکراتے ماہا کو زہر لگا تھا۔۔۔وہ جانتا تھا کہ یوں سب کے سامنے سرعام وہ کبھی بھی ایسا کچھ نہیں کیے گی کبھی اس نے یہ حرکت کی تھی۔۔۔

ماہا پیر پٹھکتے غصے سے اوپر اپنے کمرے میں گئی۔۔۔۔۔ ابتہاج اسکے یوں خفا ہونے پہ خود بھی سر جھٹکتا اسکے پیچھے گیا تھا۔۔۔ ۔

منا لو خوشیاں ابتہاج گردیزی دیکھتا ہوں کتنی دیر کی خوشیاں ہیں یہ سب ۔۔۔۔ بہت جلد تم سب کے چہروں پہ آنسوں نا لائے تو میرا نام بھی سمیر نہیں۔۔۔۔۔

ابتہاج کو سیڑھیاں چڑھتا دیکھ وہ زہر خند لہجے سے بڑبڑاتے وہاں سے نکلا تھا۔۔۔۔

___________

دلاور صاحب کے ٹھیک ہونے کی خوشی میں کاشان صاحب کے آج انکو ڈنر پہ انوائٹ کیا تھا۔۔۔۔۔

جس کا علم صرف ابتہاج اور کاشان صاحب کو تھا۔۔۔

بیٹا ادھر میرے قریب بیٹھو ۔۔۔۔۔۔ ” اپنے سامنے خاموش بیٹھی ماہا کو یوں نظریں جھکائے بیٹھا دیکھ دلاور صاحب نے محبت سے کہا تھا۔۔۔

سیڑھیوں سے اترتے ابتہاج کے کب مسکرائے تھے۔۔۔ جبکہ ماہا نے بےیقینی سے اپنے پاپا کو دیکھ جنکی آنکھوں میں اج وہ نفرت نہیں تھی بلکہ کوئی اور ہی جزبہ تھا جسے فل وقت وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔۔

ماہا نے ابتہاج کو دیکھا جو مسکراتے سر ہاں میں ہلا گیا۔۔۔۔ ماہا دھیمے قدموں سے اٹھتے انکے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھی تھی۔۔۔ دلاور صاحب نے اسکے جھکے سر کو دیکھا تو دل میں ایک درد سے اٹھا۔۔۔احساس شرمندگی سے آنکھیں بھیگ گئی۔۔۔

ماہا بیٹا آپ اپنے پاپا کو کھانے سرو نہیں کرو گے ۔۔۔۔” دلاور صاحب نے لہجے پہ قابو پاتے محبت سے کہا تھا ۔۔۔ماہا تو آگے ہی انکے حکم کی منتظر تھی فروا سے کھانے پلیٹ میں نکالتے انکے سامنے کیا تھا۔۔۔۔

جہاں سب کی آنکھوں میں محبت خوشی کی چمک تھی وہی منیبہ بیگم ماہا کا خود سے کھنچاؤ محسوس کر چکی تھی مگر پھر بھی اپنی بیٹی کو یوں خوش دیکھ وہ دل سے مطمئن ہوئی تھیں ۔۔۔۔

______________

صالح ہم۔کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔” گاڑی میں بیٹھے وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے یہی سوال دہرا رہی تھی۔۔۔ صالح نے نظریں گھمائے سرخ رنگ کے سوٹ میں اپنی محبت سے دمکتے اسکے حسین روپ کو دیکھ نظریں سڑک پہ مرکوز کی تھیں ۔۔۔۔

سینیما ہال کے سامنے گاڑی روکتے صالح باہر آیا تھا اور صنم۔ہی سائڈ کا ڈور کھولتے اسے اترنے میں مدد کی تھی۔۔۔۔ جو کافی سہمی ہوئی تھی۔ صالح کی محبت اسکی قربت میں اسے اپنا آپ خوش قسمت محسوس ہو رہا تھا مگر دل میں کہی ایک سانپ بھی کنڈلی مارے بیٹھا تھا کہ کہیں صالح اسے چھوڑ نا دیں اگر ایسا ہوا تو کیا وہ جی پائے گی۔۔۔

وہ اپنی سوچوں میں گم تھی کہ صالح اسے لیے اندر داخل ہوا۔۔۔۔ صنم کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیتے صالح نے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی صنم فورا سے ہوش میں آتے تھیٹر کے حالی کمرے کو دیکھنے لگی جسے صالح نے اپنے کئے بک کیا تھا۔۔۔۔ اسے ساتھ لئے وہ داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ اور استحقاق سے اسکی کمر کے گرد ہاتھ لپیٹتے اسے اپنے سینے سے لگائے وہ ٹانگ پہنٹانگ جمائے مووی دیکھنے لگا۔۔ تھوڑی دیر کے بعد صنم بھی پرسکون ہو گئی تھی۔۔۔

یہ ایک فنی مووی تھی جو یقیناً صالح نے اسکا موڈ بہتر کرنے کو لگوئای تھی۔۔۔ مووی کے مزاخیہ سین پر صنم اور صالح کا ہنس ہنس کے برا حال تھا۔۔ بلآخر مووی کے ختم ہوتے ہے صالح یونہی اسے تھامے باہر لایا تھا اور آرام سے اسے گاڑی میں بتھاتا وہ اسکے برابر بیٹھا۔۔۔۔

صنم جانتی تھی وہ اسے کہیں ڈیٹ پہ لایا تھا مگر کہاں اور کیوں اس سے آگے ہی سوچ ہی اسکے گھبرانے پہ مجبور کر رہی تھی۔۔۔۔

اوپر سے رات اپنا آپ اسے سونپنا اسے صالح سے نظریں ملانے میں شرم محسوس ہو رہی تھی ۔مگر اسکے برعکس صالح کافی پرسکون۔ اور خوش تھا۔۔۔۔

صالح اسے ساحل سمندر پہ لایا تھا۔۔۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے اوپر سے بنتی ٹھنڈی ہوائیں صنم کا وجود ٹھنڈ سے سببب کانپنے لگا تھا۔۔۔

صالح اسے ساتھ لگائے ایک جانب لے گیا۔۔۔۔ ڈیکوریشن پھولوں سے سجی دور اس سے ہٹ کو دیکھتے صنم کا منہ حیرانی اور بےیقنی سے کھلا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔

صالح اسے کہتے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔جہاں ایک جانب زمین پہ کافی اچھے سے میٹرس بجھائے اسکے پھولوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔ایک جانب چھوٹا سا ایک عدد صوفہ پڑا تھا جبکہ ہر جگہ پھول ہی پھول بکھرے تھے۔۔۔

اندر کی تیاری کو دیکھ صنم کے ہاتھ پھولنے لگے۔۔۔۔ یہ سب اسکی سوچ سے بھی زیادہ کا تھا۔۔۔۔۔۔ جبکہ اسکے کمر کے گرد بازوؤں حائل کرتے صالح نے صنم کی پشت کو سینے سے لگایا تو صنم نے اپنی نم ہوتی آنکھوں کو بند کیا ایک آنسو بے اختیار ہی اسکی پلکوں سے بہتا صالح کے ہاتھ پر گرا تھا۔۔۔

صالح نے بے چین ہوتے اسکا رخ اپنے سامنے کیا تھا۔۔۔۔ میں آپکے قابل نہیں صالح می۔۔۔۔۔۔۔”

اشششش خاموش ایک لفظ بھی مت بھولنا میں نے رات کو تمہاری روح پہ اپنی مہر لگاتے یہ ثابت جر دیا ہے کہ تم ہر صرف اور صرف میرا یعنی صالح خان کا حق ہے اس لئے اب یہ سب سوچنا بند کر دو۔ ۔۔۔۔ تم میرے لئے ویسے ہی پاک ہو جیسے کہ ہر بیوی اپنے شوہر کیلئے ہوتی یے۔۔۔۔۔

جانتی ہو۔۔۔۔ میں کون ہوں۔۔۔۔اسکے حسین چہرے کو ہاتھوں میں بھرتے صالح نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے کہا تھا صنم نے گردن نفی میں ہلائی۔۔۔

” میں اپنے ماں باپ کا وہ ناجائز بچہ ہوں جسے جنم دے کر وہ لوگ پھینک گئے تھے میری پرورش ایک یتیم خانے میں ہوئی ہے ۔۔۔۔۔ جہاں مجھے پل پل اس بات کا احساس ہوتا رہا کہ ہاں میں ایک ناجائز اولاد ایک گناہ ہوں

۔۔۔۔

اب بتاؤ کون ناپاک ہے ہم دونوں میں سے۔۔۔۔۔ اسکی کہی باتیں اسکی انھکیں میں آتی نمی کو دیکھ صنم بے اختیار اسکے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔

صالح نے مضبوطی سے اسے خود میں بھینج لیا تھا ۔۔۔ آپ ناجائز نہیں آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔جانے کیوں مگر اسکا ماضی صنم جو کافی دکھ دے گیا تھا۔۔۔ صالح اسکے معصوم انداز پہ مسکرا دیا۔۔۔۔

نہیں صنم ہم دونوں ہی نامکمل تھے جن کی تکمیل رب نے ایک دوسرے کی ذات سے مکمل کی ہے۔۔۔۔ صنم کے لبوں کو چھوتے صالح نے محبت سے کہا تھا وہیں اسکے لمس پہ صنم نظریں جھکا گئی۔۔

اس کی رضا کو سمجھتے صالح نے نرمی سے جھکتے اسے اپنی گود میں بھرا تھا اور مڑتے اسے گرے میں لٹائے وہ خود میں اسکے قریب نیم دراز ہوتے اسکے خوبصورت نازک ہاتھ کو ہونٹوں سے چھونے لگا۔۔۔

صنم کی سانسیں تیز تیز تھیں جبکہ صالح نے ایک دم سے اسے خود پہ گرائے اسکے نازک لبوں کو اپنی گرفت میں لیا تھا۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اسکی قربت میں خود کو پرسکون کرتے صالح نے اپنی شرٹ اتارنے دور اچھالی تھی اور جھکتے صنم کے ایک ایک نقش کو چھوتے وہ اسے خود میں قید کر گیا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *