Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 03)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 03)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
صنم کی حرکتیں دن بدن خراب ہوتی جارہی تھیں کالج میں بھی اس کی دوستی غلط لڑکوں سے ہوگئی تھی جن سے اسے سگریٹ جیسی بری لت لگی صنم ہر وقت منیبہ اور ماہا کو ذہنی ٹارچر کرتی اور اپنے باپ کے سامنے اف تک نہ کرتی صنم کی چپ کسی بڑے طوفان کی آمد کا پتا دے رہی تھی جس سے دلاور شاہ شاید انجان تھے پر منیبہ بیگم تجربہ کار عورت تھیں اس کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر ہی سمجھ گئیں تھیں کچھ گڑبڑ ہے
پر شوہر سے ذلالت کے ڈر سے خاموش رہیں اور اکیلے میں صنم کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگی پر نہ صنم نے سمجھنا تھا نہ وہ۔سمجھی بلکہ بے عزتی کرکے منیبہ بیگم کو اپنے روم سے نکال دیا ۔ صنم کی روٹین بن گئی تھی آئے دن کوئی نہ کوئی تماشا کرنے کی ۔۔۔۔۔
_______
آج صنم کے کالج کی فئیر ویل پارٹی تھی ۔ جس میں صنم نے ضد کرکے دلاور صاحب سے جانے کی اجازت لی دلاور صاحب بھی اس کی ضد کے آگے ہار مانتے ہوئے اجازت دے گئے
صنم اپنے روم میں ریڈی ہو رہی تھی۔۔۔۔ جب ماہا ناک کرکے اس کے روم میں داخل ہوئی
صنم نے ایک نظر اسے دیکھا اور دوبارہ سےا پنے کام میں مصروف ہو گئی ۔۔۔۔ ماہا تو صنم کی تیاری دیکھ کر دنگ رہ گئی تھی۔۔۔۔ شارٹ بلیک سکرٹ ۔۔ بلیک جینز اور گلے میں ریڈ سٹالر وہ قیامت خیز لگ رہی تھی ۔۔۔ ہر طرف سے اس کا حسن نمایاں ہو رہا تھا
ماہا نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔ جیسے کوئی اجوبہ دیکھ لیا ہو
“ماہا اپنی حیرت چھپاتے ہوئے صنم سے بولی
“صنم یہ تم نے کس طرح کے کپڑے پہنے ہیں ۔۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ باہر کتنے مرد ہوتے ہیں ۔۔۔ کس کس کی مر کز نگاہ بنو گی ۔۔۔ “
ماہا کی بات پر ۔۔ صنم نے آئبرو اچکائی اور دو قدم چل کر اس کے قریب آکھڑی ہوئی
ماہا اس کی آنکھوں میں اترتی سرخی اور بغاوت دیکھ کر دھک سے رہ گئی
“تم جیسی لوئر کلاس کی لڑکی اب مجھے ڈریسنگ سینس سکھائے گی ۔۔ تم ہوتی کون ہو مجھے کچھ بتانے والی؟میرے دل میں جو آئے گا میں وہی کرونگی ۔۔۔ اور ہاں آئندہ کے بعد میرے راستے میں آئی تو ۔۔۔ مجھ سے برا کوئی نہی ہو گا “
صنم اس کی آنکھوں میں اپنی سرخ آنکھیں گاڑھیں ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی اور اپنا بیگ اٹھا کر نکلتی چلی گئی
پیچھے ماہا تو اپنے حواس قابو میں ۔ کر رہی تھی اسے یقین نہی آرہا تھا کہ اس کی بہن بھی غلط راستے کی مسافر بن گئی ہے ایسا راستہ جو صرف ایک گہری کھائی ہے جس گند میں وہ جارہی تھی وہ راستہ صرف اور صرف ایک تباہی ہے
________
دٌنیا کے سب سے تیز اور اندر تک چیر پھاڑ دینے والے ہتھیار لفظ اور زبان ہیں، عمریں گزر جاتی ہیں لیکن لفظوں کے گھاؤ نہیں بھرتے ایسے ہی گھاو روز وہ مہر کی روح پر لگاتا تھا مہر اب تھکنے لگی تھی کیا سے ہو گئی تھی زندگی ۔۔۔۔ اس نے کبھی ایسا تو نہی چاہا تھا وہ تو کبھی کسی پرندے کو بھی دکھ میں نہیں دیکھ پاتی تھی اور اب خود ایک پھڑ پھڑاتی ہوئی چڑیا بن کر رہ گئی تھی جس کے پر کاٹ دیے گئے تھے سانسیں مختص کر دی گئیں تھیں
مہر اپنی سوچوں میں گم تھی جب انعم بیگم روم میں داخل ہوئیں انہیں دیکھ کر مہر دوڑ کر ان کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
انعم بیگم بھی اسے خود سے لپٹائے اسے سہارا دیکر بیڈ پر بٹھاتی پانی پلانے لگیں
مہر نے دو گھونٹ بھرے اور گلاس رکھ کر ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی مہر کو اپنی ماں کی خوشبو محسوس ہوتی تھی انعم بیگم سے پورے پیلس میں وہی تو تھیں جو اسے پیار کرتی تھیں
“میرا کوئی نہیں ہے ماں جان ۔۔۔۔ کوئی نہیں !۔۔۔۔۔ سب کے لیے مِیں ایک ناکارہ چیز ہوں جس کا جب دل چاہتا ہے توڑ دیتا ہے میرے وجود پر جو زخم ہیں ماں جان سب معاف ۔۔۔ روح کو گھاو کس کو دکھاوں ۔۔۔؟”
مہر عجب رندھے ہوئے لہجے میں بولی
اس کی بات پر انعم بیگم نے گہری سانس خارج کی اور دھیرے سے اس کے بالوں مِیں انگلیا ں پھیرتی ہوئے بولنے لگیں
پر ایک ساتھی ایسا رہا تھا اس سفر میں جس نے کبھی ساتھ نہی چھوڑا
یقین مانو تمہارا رب واقف ہر سسکی سے جو تم دل میں دبا لیتی ہو..
وہ جانتا ہے ہر آنسو کو جو تم خود سے بھی چھپا لیتی ہو..
تمہارا رب تم سے ناراض ہے وہ تمہیں کچھ دینا نہیں چاہتا واللہ تم یہ گمان اس سے کیسے بنا لیتی ہو..
تمہارا رب تو خزانوں کا مالک ہے اور تمہارا دل اسے ہر دولت سے قیمتی ہے.. پھر کیونکہ عام سے لوگوں کے لئے رو رو کے آنکھیں سجا لیتی ہو..
ہاں ابھی زخم تازہ ہے دل کو سنبھالنا مشکل ہے ٫مگر وہ بھر دیتا ہے ہر زخم جب تم تقدیر کا فیصلہ رب کو تھما دیتے ہو..
اللہ کی چاہت ہی سب کچھ ہے اس کی رضا میں ہی سکون ہے.. وہ ان قیامت سے عرصے کو بھی گزار دے گا جب تم اس کی چاہت کو اپنی چاہت بنا لو گی
تقدیر کچھ فیصلے بے حد ظالم ہوتے ہیں.. ان کو قبول کرنے کے خیال سے اذیت روح پہ طاری ہو جاتی ہے۔۔مگر پھر وہی لمحے محبت اور مسرت بن جاتے ہیں جب تم رب کی رضا کو اپنی رضا بنا لیتے ہو..
کبھی یوں لگتا ہے نا کہ دنیا میں کوئی ہے ہی نہیں ہمارا…. نہ کوئی دوست نہ تسلی کا ذریعہ ۔۔مگر پھر وہ رب خود ہی اپنے بندے کے لئے تسلی بن جاتا ہے جب تم اسے اپنے سارے دکھ سنادیتے ہو..
انعم بیگم کی باتوں سے مہر کو اپنے دل میں سکون اترتا ہوا محسوس ہوا جیسے کوئی بوجھ سینے سے ہٹ گیا ہو کتنا پیارا ہے رب ہمارا ہمیں نوازنے کے بہانے ترکیب دیتا ہے دکھ اور سکھ تو زندگی کا حصہ ہیں ۔۔۔۔ امتحان سے ہی کامیابی ممکن ہے شاید یہ بھی میرا امتحان ہے مہر سوچتی ہوئی نیند کی وادیوں می۔ اترتی چلی گئی
انعم بیگم نے اس کے سر کے نیچے تکیہ لگایا اور آہستہ سے روم سے باہر آگئیں
ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی اسے سوئے ہوئے تبھی ابتہاج روم میں داخل ہوا
مہر کو آر ام سے اپنے بستر پر سوتے دیکھ اس کے ماتھے پر ہزاروں بل پڑے ایک جھٹکے میں ساری ٹیبل کی چیزیں زمیں بوس کرتا وہ اس کے سر پر آکھڑا ہوا
مہر اچانک آوازوں پر ہڑبڑا کر اٹھ گئی پر اپنے سر پر کھڑے شخص کو دیکھ کر اس کے چودہ تبک روشن ہو گئے ابتہاج نے ایک ہاتھ سے کھینچ کر اسے کھڑا کیا ۔۔۔۔۔ اور پھنکارتے ہوئے بولا
“بہت جلدی تھی میرے بستر تک آنے کی .
۔۔۔۔۔۔۔مجھے بتا دیتی ۔۔۔۔۔ ابتہاج کے لہجے میں آگ سی لپک تھی مہر کانپتی ٹانگوں سے خود کو اس ظالم سے بچانے لگی ۔۔۔۔ لفظوں سے گھائل کرنے میں تو وہ شروع سے ہی ماہر تھا
اچھا مجھے بتاو ۔۔۔ کہ تم کیسی لڑکی ہو ۔۔۔۔؟چھوڑو رہنے دو میں بتاتا ہوں
کبھی دیکھا ہے کپڑوں کی طرح بوائے فرینڈ بدلتے ہوئے لڑکیوں کو۔۔۔ اوپس سوری تمہیں تو خاصہ تجربہ ہوگا ۔۔آخر اسی کیٹگری کی ہو ۔۔۔۔ میری نظر میں تم ان سب سے بھی گئی گزری ہو سمجھتی ہو نہ ۔۔۔۔ کیسی لڑکیوں کا بول رہا ہوں
ابتہاج ۔۔مہر کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا
ابتہاج کی گفتگو پر مہر کی آنکھوں میں کر چیاں سی چبھنے لگیں تھیں پورا وجود انگارے کی مانند جل رہا تھا وہ تو ایسی نہی تھی۔۔۔۔۔ جیسی اس کا شوہر دعوی کر رہا تھا وہ تو ہر لمحہ خود کو سینچ کر رکھنے والی لڑکی تھی تو کہاں چوک ہوئی کہاں ۔۔۔۔۔؟ یہ سوال مہر کے دماغ میں گردش کر رہا تھا
ابتہاج نے اسے کسی گہری سوچ میں گم پایا ۔۔۔تو ماتھے پر بل ڈالے گردن ہلکی سی ٹیڑھی کیے اسے گھورنے لگا جیسے مہر کا یہ عمل اسے سخت ناگوار گزرا ہو۔۔۔۔
ابتہاج نے سختی سے اس کی کمر پر اپنی انگلیوں سے دباو بڑھایا
درد کی شدت سے مہر ہوش میں آتی سسکی بھرتے ہوئے خود کو آزاد کرانے لگی ۔۔۔ ابتہاج مزے سے اب اس کے پر مزحمت تاثرات انجوائے کر رہا تھا یہی تو وہ چاہتا تھا اسے اپنی ذات میں گم کرنا ۔۔۔۔۔ جہاں اس کے سوا کوئی نہ ہو اس کی ذات کے علاوہ ہر شخص مہر کی زندگی میں بے معنی ہو ۔۔۔۔اور وہ ابتہاج بخوبی کر رہا تھا ۔۔۔ مہر پر اپنی حکومت جتا کر ابتہاج کے دیے زخموں کو مہر خاموشی سے برادشت کرنے لگی تھی یہی بات ابتہاج کو پسند نہی آرہی تھی وہ تو چاہتا تھا وہ ۔۔۔۔ آہ و بقا کرے ؛اس کے سامنے گڑگڑائے ۔۔۔۔۔۔پر ناجانے کس مٹی سے بنی تھی
ابتہاج اس کی مزاحمت کو نظر انداز کرتا مہر کی گردن میں جھک کر اس کی دلفریب مہک خود میں اتارنے لگا مہر نے اپنی پوری طاقت لگا کر اسے خود سے دور کیا اور اپنی سہمتی حالت پر قابو پانے لگی . . ۔۔۔۔۔۔
مہر کی حرکت پر ۔۔۔۔ابتہاج کا تو خون کھول اٹھا ۔۔۔۔۔ اس لڑکی کی اتنی اوقات ابتہاج کو خود سے دور کرے۔۔۔۔ لڑکیاں ترستی تھیں اس کی توجہ کو اور یہ ۔۔۔۔ ابتہاج نے ایک جھٹکے میں اسے خود سے قریب کیا اور ایک بھی لمحہ ضائع کیے اس کے کپکپاتے لبوں پر جھک گیا ۔۔۔۔۔ کمرے میں معنی خیزی بڑھتی گئی ۔۔۔ابتہاج اب سب بھول کر مہر کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔ دونوں کی دھڑکنیں ماحول می گڈ مڈ ہونے لگیں تھیں
