Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 12)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 12)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
صبح ماہا کی آنکھ کھلی تو خود کو ابتہاج کی گرفت میں قید پایا
کچھ دیر تو غائب دماغی سے ماہا ابتہاج کے چہرے کو تکتی رہی جس کی جھلساتی سانسیں ماہا کو اپنی سانسوں میں محسوس ہو رہی تھیں
پھر نرمی سے ابتہاج کا حصار توڑ کر باتھ روم کا رخ کیا
تھوڑی دیر بعد وہ وضو کر کہ باہر آئی
تو نظریں ابتہاج پر گئیں جو منہ کے بل تکیہ بانہوں میں دبوچے سو رہا تھا
کمرے میں ملگجہ سا اندھیرا چھایا ہوا تھا
کبرڈ سے جائے نماز نکال کر ماہا نے قبلہ رخ بچھا کر فجر کی
نماز پڑھنی شروع کی
دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو وہ خالی خالی نظروں سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتی رہی
“یا اللہ میں تیری گنہار بندی ہوں – مجھے معاف فرما دے—اور مجھ سے راضی ہو جا—میں بہت تکلیف میں ہوں اللہ –مجھ پر رحم کردے—میں نے کبھی تجھ سے شکوہ نہیں کیا—میرے ماں باپ نہیں رہے تو میں نے صبر کیا—تیری پاک ذات پر یقین رکھا—لیکن اس بار میں ٹوٹ چکی ہوں—میرا شوہر—مجھے اس سے محبت ہے – مگر اس کے لیے ہمارا رشتہ ایک غلطی ہے—مم—میں یہ نہیں سہہ پا رہی—میرے مولا میرے شوہر کے دل میں میرے لیے محبت ڈال دے –
اسے میرا کردے”—ہچکیوں سے روتی سر سجدے میں جھکا کر سسکنے لگی
ماہا کی سسکیوں پر ابتہاج نے مندی مندی آنکھیں کھول کر اردگرد نگاہ دوڑائی
تو نظریں سجدے میں سسکتی ماہا پر گئی
تو ابتہاج نے سختی سے اپنے جبڑے بھنچ لیے
اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے ماہا کے ہچکیاں بھرتے وجود کو دیکھتا رہا مگر جیسے ہی
ماہا کو سجدے سے اٹھتے دیکھا
تو آنکھیں بند کر کہ سوتا بن گیا
یہ جوڑا پہن کے تیار ہو جاؤ—صالح نے ایک شاپنگ بیگ صنم کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا
تو صنم نے اپنی رو رو کر سرخ ہوئی آنکھوں میں التجا لے کر صالح کو دیکھا
جس نے صنم کے دیکھنے پر لب بھنچ لیے
“مجھے پر رحم کرو—مجھے جانے دو—میں نہیں کر سکتی تم سے نکاح”—صنم نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر کہا
تو صالح نے اپنی سرخ آنکھوں سے صنم کو گھورا
“یہ تم پر رحم ہی ہے کہ تم سے نکاح کر رہا ہوں—ورنہ بھولو مت کہا سے لایا ہوں تمہیں—ناکح کے بغیر بھی بہت کچھ کر سکتا ہوں—
تو اسی لیے شرافت سے نکاح کے لیے تیار ہو جاؤ ورنہ نکاح کے بغیر رشتہ بنانے کے لیے خود کو تیار کر لو”—صنم کے جبڑے کو اپنے ہاتھ میں دبوچ کر دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا
تو صنم کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی
چہرے پر پڑنے والی صالح کی تیز دہونکنی کی مانند چلتی سانسوں سے حلق تک خشک پڑ گیا
کہ تبھی صالح نے ایک جھٹکے سے صنم کا جبڑا چھوڑا اور تیز تیز قدم بڑھتا باہر چلا گیا
جب کے صنم ہچکیوں سے روتی اپنی قسمت پر ماتم کناہ تھی
صالح اپنے دوستوں اور قاضی کو دروازے تک چھوڑنے گیا تھا
جبکہ صنم بت بنی ساکت سی لاونج میں بیٹھی تھی
اسے نہیں ہوش تھا
کب وہ تیار ہوئی کب اسے دلہن بنا کر لاونج میں لایا گیا
کب وہ صنم سے مسسز صالح بن گئی
صنم کو تو اپنے سبھی احساسات منجمد محسوس ہو رہے تھے
دل اور دماغ تو بالکل ساکت ہو چکے تھے
صالح جو اپنے دوستوں کو چھوڑ کر واپس آیا تھا
صنم کو ساکت بیٹھے دیکھ اپنے جبڑے بھنچے
اور ایک ہی جست میں صنم کے قریب پہنچ کر اس کے بائیں بازو کو اپنی آہنی گرفت میں لیا
اور قدم روم کی جانب بڑھائے
صنم ایک بے جان پتلے کی مانند صالح کے ساتھ گھسیٹتی جا رہی تھی
صنم کو بیڈ پر بٹھا کر صالح کچن میں گیا اور صنم کے لیے کھانا ٹرے میں نکال کر روم کا رخ کیا
“پانچ منٹ میں یہ سب ختم کرو”—صالح کی سخت آواز پر صنم نے چونک کر اسے دیکھا
جو اسے کھانے کی طرف اشارہ کر رہا تھا
صنم نے نم آنکھیں لیے نفی میں سر ہلایا
تو صالح نے جھک کر صنم کے بال جو کہ دوپٹے میں چھپے ہوئے تھے انہیں اپنی سخت گرفت میں لیا
“اپنے ڈرامے بند کرو—تمہارےنخرے اٹھانے کے لیے نہیں لایا—کھانا کھاو—کیونکہ اس کی بہت ضرورت ہے تمہیں”—صنم کے چہرے پر اپنی گرم سانسیں چھوڑتے—ایک ایک لفظ چبا کر کہا
اور اپنے دانت صنم کی گال پر گاڑھ دیے
جس پر صنم نے سسک کر آنکھیں میچ لیں
صالح کے دور ہونے پر صنم کھسک کر بیڈ کے اوپر ہوئی
صالح نے ٹرے آگے کی تو
صنم نے اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے کھانا شروع کیا
صالح سامنے صوفے پر بیٹھا اپنی سرخ انگارا ہوتی آنکھوں سے صنم کو دیکھ رہا تھا
جو لال جوڑے میں اپنا سوگوار حسن لیے سیدھا صالح کے دل میں اتر رہی تھی
صرف لال جوڑا اور ہاتھوں میں لال ہی چوڑیاں پہنی ہوئی تھی
گال اور ناک رونے کے باعث سرخ ہوئے پڑے تھے—اور گہری جھیل سی آنکھوں کے پپوٹے سوجھے ہوئے تھا
صالح نے ایک گہری سانس فضا کے سپرد کر کہ
صوفے سے ٹیک لگا دی
صنم کو کھانا ختم کرتے دیکھ صالح اپنی جگہ سے اٹھا
اور دروازے کی جانب قدم بڑھائے
دروازا لاک کر کہ
اپنا رخ صنم کی جانب کیا
جو اب اپنے ہتھیلیوں کو مسل رہی تھی
اپنی شرٹ کے بٹن کھول کر اسے صوفے پر اچھالا
تو صالح کی حرکت پر صنم نے تڑپ کر اس کی جانب دیکھا
جو سپاٹ چہرہ لیے قدم قدم چلتا صنم کے قریب ہی آرہا تھا
“نن—نہیں—آپ—مم-میرے ساتھ ایسا –نن—نہیں کر سکتے”نفی میں سر ہلاتے سسکتے ہوئے کہا
تو صالح نے آبرو آچکا کر صنم کو دیکھا
اور ایک ہی جست میں صنم کے قریب پہنچ کو اسے اپنی آہنی گرفت میں قید کیا
“کیوں نہیں کر سکتا میں—بیوی ہو میری—اب تو حق رکھتا ہوں تم کر—اور تمہاری یہ بے کار کی مزاحمتیں مجھے روک نہیں سکتی”—صنم کی گردن پر اپنا دہکتا لمس چھوڑ کر
بوجھل لہجے میں
کہا تو صالح کی سخت گرفت میں صنم بن پانی کے مچھلی کی طرح پھرپھرا کر رہ گئی
صنم کو بیڈ پر دھکا دے کر صالح اس پر جھک آیا
تو صنم نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں
“تمہاری قربت کے لیے پہلی بار صالح نے خود پر—اپنے جزبات پر قابو کیا ہے—ورنہ آج تک جو بھی چیز صالح نے حاصل کرنی چاہی—اس کے لیے انتظار نہیں کیا—
مگر آج میں ایک بھی لمحہ ضائع کیے بغیر تمہارے وجود سے روح تک اتر جانا چاہتا ہوں”—صنم کی مزاحمت کرتی کلائیوں کو اپنی سخت گرفت میں لے کر
صنم کی گردن میں چہرہ چھپاتے ہوئے گھمبیر لہجے میں کہا
تو صنم کو اپنے رگ و پے میں سرد لہر سرائیت کرتی محسوس ہوئی
“نہیں—میں اس رشتے کو نہیں مانتی سمجھے آپ”—چلاتے ہوئے کہا
اور بنا صالح کو سمجھنے کا موقع دیے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور دھکیلا
اور بیڈ سے اتر کر دروازے کی جانب دوڑ لگائی
صالح جو حق دق سا اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
صنم کو دروازے کھولتے دیکھ
–غصے کی ایک شدید لہر اپنے رگ و پے میں سرایت کرتی محسوس ہوئی
تن فن کرتا دروازا کھولتی صنم کے قریب پہنچا اور—صنم کو اپنی بانہوں میں بھر کر
بیڈ پر لا کر پٹکا
“بہت ہوگیا تماشا تمہارا—اب تمہیں بتاتا ہوں کہ صالح ہے کون—بہت اٹھا لیا تم نے میری نرمی کا فایدہ”—صنم کے سر سے دوپٹہ کھینچ کر اتارے ہوئے نیچے پھینکا اور دھاڑتے ہوئے کہا
تو صنم نے تڑپ کر صالح کی جانب دیکھا
جو خونخوار تاثرات سجائے صنم ہر جھک رہا تھا
صالح کے غصے کے ڈر سے صنم کو اپنا رواں رواں کانپتا ہوا محسوس ہوا
کہ تبھی بنا صنم کو سمجھنے کا موقع دیے صالح نے اس کی
کلائیاں اپنی مضبوط گرفت میں لے کر
بیڈ پر سر کہ اوپر ٹکرائی
اور پوری شدت سے صنم کے ہونٹوں پر جھک آیا
صالح کی شدت پر صنم کو لگا کسی نے دہکتا ہوا
کوئلہ اس کے ہونٹوں پر رکھ دیا ہو
اپنے ہونٹوں پر صالح کی شدت محسوس کرکہ
صنم نے سختی سے اپنی آنکھیں میچ لیں
ناجانے کتنے ہی آنسوں اپنی بے بسی پر صنم کی آنکھوں سے بہہ گئے
ہونٹوں سے گردن تک کا سفر صالح نے پل میں ہی طے کرتے صنم کو سسکنے پر مجبور کر گیا
ہاتھ صنم کی کلائیوں سے ہوتے ہوئے
اس کی کمر پر لگی زپ پر آئے
تو صنم تڑپ کر رہ گئی
کمرے کی معنی خیز خاموشی میں صالح کی دہونکنی کی مانند چلتی سانسوں
اور صنم کی سسکیوں کا شور برپا تھا
اپنی کلائیاں آزاد محسوس کر کہ صنم نے اپنے ہاتھ صالح کے کندھے پر رکھ کر اسے روکنا
چاہا
جبکہ صالح بے خود سا ہوا صنم کی زپ ایک ہی جھٹکے میں کھولتے اس کی شرٹ دونوں اطراف سے کندھوں سے سرکا چکا تھا
“صا—لح—پپ—لیز – مم—میں—مر جا—ؤ—گی” صنم نے ہچکیوں سے روتے ہوئے کہا
تو صالح نے اپنی آنکھیں جو کچھ غصے اور کچھ صنم کی قربت کے خمار سے اس وقت سرخ ہو رہی تھی—صنم کے سرخ چہرے کی جانب دیکھا
اپنے چہرے پر صالح کی بے باک نظروں کو محسوس کر کہ صنم نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں
صالح کی نظریں پلکوں سے ہوتی کپکپاتے گلابی لبوں پر آئی—جو صالح کی شدت سے سرخ ہو چکے تھے— ہونٹوں سے نظریں سرکتی ہوئی سفید گردن پر آئی جس پر جا بجا
صالح کی شدتوں کے نشان واضح ہو رہے تھے”—لب بھنچ کر صنم سے دور ہوا
اور کمرے کی لائٹ آف کر کہ سسکتی ہوئی صنم کو گھور کر دیکھا
بیڈ پر بیٹھ کر کمفرٹر کھول کر اپنے اوپر کیا
اپنی بازو صنم کی کمر میں حائل کر کہ ایک ہی جھٹکے میں اسے اپنی گرفت میں لیا
“صرف ایک ہفتے کا وقت ہے—جتنا رونا دھونا کرنا ہے کر لو—اس کے بعد تمہاری کوئی بھی مزاحمت مجھے تمہاری قربت سے دور نہیں کر سکتی”—اپنی ٹانگوں میں صنم کی ٹانگوں کو قید کرتے دبے دبے لہجے میں غرا کر کہا
تو صنم نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا
جسے محسوس کر کہ صالح کہ ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگ گئی
“اب سوجاؤ اس سے پہلے میرا موڈ بدل جائے”—صنم کے پیٹ پر اپنے دونوں ہاتھ باندھتے ہوئے کہا
تو صنم نے کپکپا کر ان ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ کر ہٹانا چاہا تو صالح نے اپنی گرفت سخت کر دی
