Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 31,32)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

ہاں بولو میں سن رہا ہوں۔۔ چہرے پر سرد مہری لیے وہ تیزی سے آگے بڑھتا اپنے آفس روم میں داخل ہوا ، سامنے ہی میٹنگ روم میں موجود لوگ جو اسی کا انتظار کر رہے تھے اسے آتا دیکھ سیدھے ہوئے بیٹھے ____ کئیوں نے اسکے بےتاثر چہرے کو دیکھا۔۔ جو سپاٹ چہرے سے چلتا اپنی سیٹ پر بیٹھا۔۔۔

بہت بہت مبارک ہو آپ کو اںتہاج گردیزی سر ۔۔۔۔۔ ” ان میں سے ایک نے مسکراتے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے کہا، ابتہاج نے مصروف سے انداز میں موبائل سے نظریں اٹھائے اس شخص کے ہاتھ کو گھورتے ایبرو اچکائے اسے گھورا ، اور پھر بنا ہاتھ ملائے وہ اپنے فون میں مصروف ہوا ۔۔۔ وہاں موجود سبھی ڈیلرز اسکے بدلے رویے پر حیران سے تھے ۔۔۔ مگر وہ مجبور تھے اسکے ساتھ کام کرنا مانو دن دگنی ترقی حاصل کرنا تھا۔۔۔ اپنا نام چھپائے اسنے اس گزرے عرصے میں بورڈ کے علاؤہ آؤٹ آف کنٹری میں بھی بزنس میں اپنا مقام بنایا تھا کہ اب اسکے ساتھ کام کرنے کو لوگ مارے مارے پھرتے تھے مگر اب اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی سوائے ماہا کے وہ سبھی کے لئے پتھر دل بن چکا تھا۔۔۔ بےحس احساس سے عاری ۔۔۔۔ !”

میٹنگ شروع کریں۔۔۔۔۔ اسنے نظریں وہاں موجود ان سبھی چہروں پر دوڑائی یہ سب وہی تھے جنہوں نے ایک وقت میں اسکی کمپنی اس سے چھینے زین یوسف کو دی تھی مگر اب وقت کا کھیل پلٹ چکا تھا اسکی طاقت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ اب دلاور خان بھی پریشان تھا کہ آخر کیسے اس کا مقابلہ کرتے اسکی دولت کو چھینے۔۔۔۔۔۔

سر مارکیٹ کے ریٹ بہت بڑھ چکے ہیں اور یہ سب کچھ آپ کی اس کمپنی کی وجہ سے ہوا ہے مطلب کے شیئرز اس قدر اونچی جگہ پر پہنچ چکے ہیں کہ معمولی سا بزنس مین انہیں خرید ہی نہیں پا رہا اگر آپ اپنے شئیرز کی قیمت کم کریں گے تو مارکیٹ پھر سے پہلی والی جگہ پر آ جائے گی۔۔ “

مسٹر کاشف نے اسے حالات سے آگاہ کیا۔۔۔۔ تو ابتہاج سنتے گہرا مسکرایا۔ ۔۔ آپ کو لگتا ہے کہ کسی معمولی بزنس مین کی اتنی حیثیت ہے کہ وہ اںتہاج گردیزی کی کمپنی کے شئیرز کو خرید سکے۔۔۔ اسکی آنکھوں میں غرور تھا اور لہجے میں ٹہراؤ۔۔۔۔

میرے شئیرز ہاتھو ہاتھ جا رہے ہیں۔ مجھے تو کوئی پروبلم نہیں ہے اس سے۔۔۔۔ ہاں اگر آپ لوگوں کو ہے تو آپ ایسا کریں اپنی اپنی کمپنی کے شئیرز مجھے ففٹی پرسنٹ پرافٹ پر دے دیں باقی میں سب کچھ سنبھال لوں گا ۔۔۔ “

وہاں موجود سبھی لوگوں کی جانب دیکھتے وہ انہیں ایک دم سے خاموش کروا گیا ۔ وہ سبھی دم سادھے بیٹھے تھے ۔۔۔ ابتہاج کا لہجہ اسکا انداز ایسا تھا جیسے وہ سوچ کے آیا تھا کہ وہ اب کسی بھی قسم کا کوئی بھی رحم نہیں دکھائے گا۔۔

مجھے ابھی جانا ہے تو آج کی میٹنگ یہی پر ختم ہوتی ہے سی یو سون۔۔۔۔۔” وہ جلدی سے کہتے وہاں سے باہر نکلا تھا ۔۔۔اج اسے ماہا کے ساتھ واپس جانا تھا ۔۔۔۔۔ مگر پہلے میٹنگ میں آنا ضروری تھا اسے نوٹی ملا تھا کہ ماہا کے ماں باپ اس سے ملنے مری پہنچ آئے تھے اور اس سے پہلے کہ وہ ماہا تک پہنچتے وہ اسے ہمیشہ کیلئے سب سے دور لے جانا چاہتا تھا۔۔۔

اسنے گہرے پرسوچ انداز میں سوچتے سرد سانس فضا کے سپرد کیا۔

_______۔

لیٹی رہو آرام سے۔۔۔” ہاتھ میں پکڑا سوپ کا باؤل ایک جانب رکھتے وہ اسے جھڑکتے ہوئے غصے سے تیز انداز میں بولا تو صنم نے منہ پھولائے اسے گھورا۔۔۔ رات سے اسے تیز بخار ہو رہا تھا صالح اسکی حالت پر کافی گھبرایا ہوا تھا جبھی صبح ہوتے ہی ڈاکٹر کو بلاتے اسکا چیک اپ کروایا ۔۔ ڈاکٹر نے اسے تھکاوٹ اور ٹینشن سے دور رہنے کی ہدایت دی ۔۔۔ جس کے بعد صالح کوسکون تھا کہ کوئی بڑا مسلہ نہیں ہوا تھا، صالح میں ٹھیک ہوں میں کر لوں گی آپ رہنے دیں پلیز۔۔۔ صالح جو کہ روم میں بکھرا سامان سمیٹ رہا تھا صنم نے شرمندگی سے اسے دیکھتے کہا تھا اسے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا صالح کا اسکے ہوتے یوں کام کرنا ۔۔۔ چپ چاپ لیٹی رہو ۔۔۔۔صالح نے اسے گھورتے کہا وہ لب بھینجتے اپنی دکھتی آنکھوں کو انگلیوں کے پوروں سے دبانے لگی۔۔۔ صالح نے گردن گھمائے اسکے بخار سے سرخ پڑے چہرے کو دیکھا، جو اپنے ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں سے اپنی آنکھوں کو دبا رہی تھی۔ صالح سرد سانس فضا کے سپرد کرتے چلتے بیڈ کے قریب گیا اور نرمی سے اسکے پاس بیٹھتے اسکا سر اپنی گود میں رکھا۔۔ صالح۔۔۔۔صنم نے سرخ آنکھوں کو کھولتے صالح کو دیکھا جس نے انگلی ہونٹوں پر رکھتے اسے خاموش کروا دیا ۔۔۔ صنم اسے دیکھ سے خاموشی سے آنکھیں موند گئی۔۔۔ صالح نے جھکتے اپنے ہونٹ اسکی دونوں آنکھوں پر رکھے اور پھر نرمی سے اپنی انگلیوں سے اسکی آنکھوں کو دبانے لگا۔۔۔ صنم اسکے ہاتھ کے نرم لمس پر اب سکون محسوس کر رہی تھی اسکے ہونٹوں پر خوبصورت سی مسکان تھی، جیسے اسے سکون راحت ملی تھی۔۔ صالح کافی دیر تک اسکی آنکھوں کو دباتا رہا اور پھر نرمی سے اسے سہادہ دیے بٹھائے صالح نے سوپ کا باؤل اٹھائے آہستگی سے اسکے چہرے سے بال ہٹائے اسے سوپ پلانے لگا ۔صنم نے محبت پاش نظروں سے صالح کو دیکھا واقعی ایک اچھا شوہر بھی خدا کی نعمتوں میں سے ہوتا ہے ، اب پھر سے کچھ سوچ کے رونا شروع کر دیا ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں آنسوں دیکھ صالح نے جھڑکتے کہا تو صنم بے ساختہ ہی ہنسنے لگی ۔۔۔ اسکی خوبصورت کھلکھلاہٹ پر صالح کئی لمحوں تک بےساختہ ہی اسکے حسین چہرے کو دیکھے گیا جو اب یوں صالح کی نظروں کو خود پر پاتے جھینپ سی گئی۔

صالح اسکے جھیپنے پر ہنستے فورا سے اسے خود سے لگائے صنم کی پیشانی پر بوسے دیے اسے خود میں بھینج گیا۔۔ بس ایسے ہی مسکراتی رہا کرو ۔۔۔ صالح نے اسکے بالوں میں ہاتھ چلاتے کہا تو صنم نے بےساختہ ہی اپنے ہونٹ اسکے سینے پر دل کے مقام۔پر رکھے اسکی معصوم سی حرکت پر صالح کو بےساختہ اس پر پیار آیا۔ ابھی تم ریسٹ کرو میں جلدی سے اپنا کام فنش کر کے آتا ہوں اور میڈ کا بندوست بھی کر دیا ہے میں نے۔۔۔۔ جب تک میں آؤں گا وہ بھی آ جائے گی پھر اسے تم کام سمجھا دینا اور باقی تم بیڈ سے قدم بھی نہیں اتارو گی۔۔۔وہ جلدی جلدی سے آگاہ کرتے اسے نرمی سے لٹائے اسپر کمفرٹر برابر کرتا باہر نکلا تھا۔۔

صنم نے دور تک اسکی چوڑی پشت کو دیکھ آنکھیں موندیں۔۔

______

ہاں صالح نکل چکا ہے گھر سے۔۔۔ تم اپنا کام مکمل کرو ۔۔۔۔۔ ارسم خان نے پردے برابر کرتے واپس بیڈ پر بیٹھتے کہا تو مقابل دوسری جانب موجود شخص نے سر ہاں میں ہلا دیا۔۔

اگر ابتہاج کو کچھ ہو گیا تو اسکی ساری پراپرٹی یا تو اسکے ہونے والے بچے کو ملے گی یا پھر ٹرسٹ کو ۔۔۔تو پھر آپ کو ان سب سے کیا حاصل ہو گا۔۔ عماد نے انکی بات سنتے پرسوچ انداز میں پوچھا۔۔۔۔ وہ ایک بہت بڑا غنڈہ تھا جو پیسوں کے عوض اپنا کام کرتا تھا ارسم خان سے اسکی کافی پرانی جان پہچان تھی اور اسی وجہ سے دلاور خان اپنے ایسے روشن کام۔اسی سے کرواتا تھا۔۔

نہیں اسے مارنا نہیں ہے اسے بس ڈراؤ ایسے کہ وہ اپنی بیوی کو کھونے کے خوف سے خود ہی ڈر جائے اور پھر جب وہ اس خوف میں مبتلا ہو جائے گا تو اسے شکست دینا آسان ہو گا، ارسم خان نے اپنا سوچا پلین عماد کو سنایا تو عماد اسے داد دیے بنا ناں رہ سکا۔

اب فون رکھو اور مجھے اچھی سی خبر دینا جلدی سے۔۔۔۔۔۔” اسے حکم دیے ارسم خان نے موبائل آف کیا تھا۔۔۔ صالح ابھی جانے سے پہلے ان سے مل کے گیا تھا۔ صالح کی فکر دیکھ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ اب اسکی مٹھی میں قید تھا ابتہاج چاہے کچھ بھی کر لے وہ کسی کی بات نہیں مانے گا۔۔۔

اب دیکھتے ہیں ابتہاج گردیزی تم کیسے میرے بنائے پلین سے بچتے ہو۔۔۔ وہ نفرت سے ابتہاج کو سوچتے قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔

________۔

ماہا چلو یار باہر آؤ۔۔۔۔۔۔۔ ابتہاج کب سے اسکا ویٹ کر رہا تھا ۔۔جبکہ ماہا تو اپنے ماما پاپا سے ملنے کی خوشی میں نہال شام سے تیار ہو رہی تھی ۔۔۔۔ وہ بے حد خوش تھی کہ کم از کم ابتہاج اسے آخر کار اسکے اپنوں سے ملانے کے لیے مان گیا تھا ۔۔۔

ماہا۔۔۔ ابتہاج نے فون آف کیے اسے آواز لگائی تو وہ بڑی سے چادر اپنے اردگرد لپیٹتے عجلت سے باہر نکلی۔۔۔۔ ابتہاج نے بغور اسے دیکھا جو اس وقت سکائی بلیو کلر کی گھٹنوں تک جاتی شرٹ کے نیچے وائٹ کیپری اور ساتھ میچنگ ہی وائٹ خجاب کیے اپنے اردگرد بڑی سی چادر لپیٹے میک اپ کے نام پر ہونٹوں پر صرف ریڈ لپ اسٹک لگائے بے حد خوبصورت دِکھ رہی تھی ۔

چلیں ۔۔۔ ابتہاج نے اسکے قریب کرتے اسکی تھوڑی کو چھوا تو وہ بلش کرنے لگی ۔۔۔ ابتہاج نے اسکے چہرے پر بکھرے حیا کے رنگوں کو مسکراتے اپنی آنکھوں میں قید کیا اور پھر نرمی سے اسکے ہاتھ کو تھامے وہ بوسہ دیے اسے لیے گاڑی کی جانب بڑھا اور پھر فرنٹ سیٹ کا ڈور کھولتے ابتہاج نے نرمی سے اسے اندر بٹھایا اور پھر جلدی سے اپنی جگہ سنبھالی۔۔۔۔

ابتہاج ہم آج رات ماما پاپا کے پاس رکے گے ۔۔۔۔ آپ کوکوئی اعتراض تو نہیں۔۔ اسکے مضبوط بازؤ پر اپنا نازک ہاتھ رکھے وہ محبت سے استفسار کرنے لگی ۔۔ ابتہاج نے گردن گھمائے اسکے چہرے کو دیکھا اور مسکراتے سر نفی میں ہلا دیا بھلا اسے کیا پروبلم ہو سکتی تھی جب وہ اسے ہمیشہ کے لیے سب سے دور لے کے جا رہا تھا تو پھر اسے کیسے کوئی پروبلم ہو سکتی تھی ۔۔

میری زندگی اب سے کوئی پریشانی کوئی مسلئہ نہِیں ہو گا۔۔۔ابتہاج نے اسکے نازک ہاتھ کو تھامے اپنے ہونٹوں سے چھوا ۔۔ ماہا نے مسکراتے نظریں جھکا لیں ، ابتہاج آپ نے۔مجھے کچھ بھی نہیں لینے دیا ۔۔۔ میرے سارے کپڑے اور بھی کتنا سامان تھا یہاں۔۔۔۔۔۔۔ وہ منہ بناتے بولی تو ابتہاج مسکرا دیا۔۔۔ وہ جان بوجھ کے رات کو نکلا تھا تاکہ اگر کہیں راستے میں اسکا سامنا دلاور صاحب سے ہو جاتا تو ماہا انہیں دیکھ ناں پاتی ۔۔۔۔

ڈونٹ وری ماہا کیا میں تمہارے لئے نئے کپڑے اور باقی کا سامان نہیں لے سکتا۔۔ اسکے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے وہ محبت سے پوچھنے لگا تو ماہا مسکرا دی۔۔۔ نہیں ایسا تو نہیں کہا میں نے۔۔۔۔” جو بھی کہا ہو اب سے نہیں کہنا کیونکہ تم ابتہاج گردیزی کی بیوی ہو اس دنیا کی ہر چیز میں تمہارے قدموں میں رکھ سکتا ہوں جو تم چاہو وہ سب۔۔۔۔۔” ماہا کے ہاتھ پر بوسہ دیے وہ مضبوط لہجے میں بولا تو ماہا نے آنکھیں موندے اپنے رب کا دل سے شکر ادا کیا جس نے اسے اتنا اچھا شوہر عطا کیا تھا۔۔۔۔ وہ کافی آگے نکل چکے تھے مری کی حدود سے باہر نکلتے ہی اب چاروں اطراف جنگل دکھائی دے رہا تھا ۔۔اونچی اونچی پہاڑیاں رات کے وقت بہت کم دکھائی دے رہی تھی۔۔۔جبکہ ماہا اسکے کندھے پر سر رکھے سکون سے آنکھیں موندے ہوئے تھی کہ معا گاڑی ایک جھٹکے سے رکی۔۔ ابتہاج اور ماہا دونوں ہی چونکے تھے ابتہاج کو کچھ غیر معمولی احساس ہوا اسنے ماتھے پر بل ڈالے چاروں اطراف نظریں دوڑائیں۔۔۔ وہ جان چکا تھا کہ گاڑی کا ٹائر پھٹ چکا تھا اور جس طرح جھٹکے سے گاڑی رکی تھی اسکا مطلب صاف تھا کہ ضرور کسی نے جان بوجھ کے ایسا کیا ہے ۔۔

ماہا تم باہر مت آنا میں ابھی دیکھتا ہوں کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟” اسکا سر تھپکتے ابتہاج نے اسے پرسکون کیا تو ماہا کے اسکا بازو دبوچتے سر نفی میں ہلایا۔۔۔

ماہا میری جان میں دیکھوں گا تو ہی پتہ چلے گا کہ آخر کو ہوا کیا ہے ۔۔۔؟” تم یوں ڈرو مت میں ابھی دیکھ کے آتا ہوں ۔۔۔” اسکی پیشانی پر ہونٹ رکھتے وہ اسے پرسکون کیے گاڑی سے اترا تھا۔۔

ماہا کی خوف سے پھیلی سیاہ آنکھیں ابتہاج پر ٹکی تھیں۔۔

________

بابا کیسے ہیں آپ طبیعت ٹھیک ہے ۔۔؟” وہ آفس سے واپس تا سیدھا ارسم خان کے کمرے میں آیا تھا جہاں وہ چت لیٹے چھت کو گھور رہے تھے ۔۔صالح کو وہ پریشان لگے جبھی وہ متفکر سا ہوتے آگے بڑھتے ان سے پوچھنے لگا ۔۔۔ارسم خان نے حیرت سے مڑتے صالح کو دیکھا جیسے وہ لاعلم تھے اس کے آنے سے ۔۔۔ تم کب آئے بیٹا۔۔۔۔۔وہ اٹھتے سیدھا ہوتے ہوئے بولے تو صالح انکے قریب بیٹھا ۔۔ بس ابھی ہی واپس آیا ہوں۔۔ تو سوچا پہلے آپ کو دیکھ لوں۔۔۔ ” صالح نے انہیں دیکھتے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔ تو ارسم خان رنجیدہ ہوئے۔۔۔۔۔ میں نے جانے کونسا نیک کام کیا ہے جو مجھے رب نے ایسا نیک بیٹا عطا کیا ہے ۔۔۔ وہ آنکھیں صاف کرتے دکھی لہجے میں بولا تو صالح نے سرد سانس فضا کے سپرد کرتے ارسم خان کو دیکھا ۔

بابا پریشان کیوں ہیں آپ کیا ہوا ہے____؟” انکا ہاتھ تھامے صالح نے متفکر سا پوچھنے لگا تو ارسم خان نے سر نفی میں ہلا دیا ۔۔ بس بیٹا میری وجہ سے تمہارا اور ابتہاج کا جھگڑا ہو گیا مجھے شرمندگی سی محسوس ہوتی ہے اللہ جانے کب سب کچھ ٹھیک ہو گا ۔وہ مصنوعی غم طاری کیے بولا تو صالح نے لب بھینج لیے آپ کا کوئی قصور نہیں ابتہاج کو سمجھنا چاہیے وہ غلط الزامات لگا رہا ہے۔۔ سب جانتے بوجھتے بھی وہ بنا کسی وجہ کے آپ پر الزام لگا رہا ہے اور اسے لگتا ہے کہ میں اسکی بات مان جاؤں گا ۔ مگر میں کبھی بھی غلط کا ساتھ نہیں دینے والا۔۔۔۔۔ اور آپ بھی اب اس بات کو سوچ سوچ کے خود کو۔ہلکان کرنا بند کر دیں۔۔۔۔ ابتہاج کو سمجھنا ہو گا کہ وہ غلط ہے نہیں تو میں اسکے لئے آپ کو کبھی بھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔”

اپنے ہاتھوں میں ارسم خان کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامے وہ مضبوط لہجے میں بولا تو ارسم خان نے اسے خود سے لگا لیا۔۔۔ وہ جانتا تھا اب صالح کا یقین اور بھی مضبوط ہو گیا ہو گا۔۔

________

ہاتھ اوپر کرو خبردار جو کوئی ہوشیاری دکھائی ۔۔۔ ” ابتہاج جو ٹائر چیک کر رہا تھا کہ اچانک سے کسی نے پھرتی سے اسکے قریب ہوتے اسکے سر پر گن طانے کہا ۔۔ ابتہاج ایک دم سے چوکس ہوا اسکے پہلے کہ وہ اپنی گن نکالتا مقابل کھڑے شخص نے تیزی سے اسکے ہاتھوں کو قابو کرتے اسے کھڑا کیا۔۔۔ ابتہاج نے سانس روکے اپنی گاڑی کی جانب دیکھا اسے ڈر تھا کہ کہیں ماہا کو کوئی نقصان ناں پہنچا ہو ۔۔۔۔۔۔ کون ہو تم لوگ اور کیا چاہتے ہو۔۔؟ اسے اندازہ تو تھا مگر وہ کسی بھی طور ان لوگوں کو خود پر حاوی نہیں ہونے دے سکتا تھا ۔۔۔۔

سب بتاتے ہیں اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔۔ ان کا لہجہ سخت تھا اںتہاج کو اندازہ ہوا کہ وہ پیسوں کے بدلے خریدے گئے حیوان ہیں جو اب اس پر ذرا بھی رحم نہیں دکھانے والے اسکا خوف مزید بڑھا تھا جب ان میں سے ایک کو گاڑی کی جانب بڑھتا دیکھا۔۔۔ ابتہاج نے نظریں گھمائے انہیں دیکھا وہ تعداد میں چھ تھے اور طاقتور بھی ان کا مقابلہ کرنا سرعام موت کو گلے لگانا تھا۔۔

اسی وجہ سے وہ خاموش تھا مگر وہ تیزی سے کچھ لائحہ عمل سوچ رہا تھا کہ کسی بھی طرح سے اس سچویشن سے باہر نکلا جا سکے۔۔۔۔

اببب ابتہاج۔۔۔۔ ” ماہا کی خوفزدہ سی سسکی پر وہ دھڑکتے دل سے سامنے دیکھنے لگا جہاں وہ خوف سے زرد پڑتی ہاتھ اوپر کیے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی ابتہاج نے اسے گردن ہلائے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تو ماہا نے سمجتے گردن ہاں میں ہلائی ۔۔۔اسے اپنا خوف نہیں تھا اسے اپنے بچے کی پرواہ تھی وہ پہلے ایک بار اس درد سے گزر چکی تھی اب پھر سے وہ اس درد کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔

اگر چاہتے ہو کہ تمہیں آرام سے بنا کسی تکلیف کے ماروں تو چپ چاپ چلو۔۔۔۔۔ ماہا کو لاتے ابتہاج کے پاس کھڑا کیا گیا ۔۔۔۔ابتہاج نے فوراً سے اسے اپنے مضبوط حصار میں قید کیے سینے سے لگایا جو خوف سے کانپ رہی تھی۔۔۔۔

خاموش ہو جاؤ ماہا میرے ہوتے کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔۔ابتہاج نے مدہم سی سرگوشی کی تو وہ معصوم جھٹ سے سر ہاں میں ہلا گئی۔۔۔ا گر یہ رومینس ہو گیا ہے تو چلو آگے لگو۔۔۔ ان میں سے ایک نے پیچھے سے ابتہاج کی کمر پر لات مارتے کہا تو ابتہاج نے اپنے قہر بھری سرخ آنکھوں کو موندے اپنے آپ پر قابو کیا اسکا بس نہیں تھا کہ وہ ابھی سب کچھ تہس نہس کر دیتا۔۔۔۔

بس بس غصہ بعد میں کرنا پہلے چل یہاں سے ۔۔۔۔’ وہ روڈ سے اترتے اب جنگل میں داخل ہوئے تھے۔۔۔۔۔ ابتہاج کی نظریں اپنے دونوں اطراف تھیں۔۔۔۔ وہ بالکل پرسکون سا ماہا کو سنبھال رہا تھا ۔۔۔ اسکے دماغ میں کیا چل رہا تھا کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔

ارے چھوڑ آگے ہو تم۔۔۔۔۔” معا ان میں سے ایک نے ماہا کو ابتہاج سے دور کرتے اسے جھٹکے سے آگے کیا تو خوف و دہشت سے ماہا کی چیخ نکلی۔ ابب ابتہاج۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے گردن گھمائے ابتہاج کو دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں غصے کی سرخی تیزی سے بڑھی تھی ۔۔۔ ابتہاج نے ہاتھ کا مکہ بنائے خود کر ضبط کرنا چاہا کہ اچانک سے ماہا کو پیچھے کی جانب دیکھتا پاتے ان میں سے ایک نے اسے تھیٹر مارنا چاہا مگر ابتہاج نے ایک دم سے اسکے ہاتھ کو پکڑتے گردن نفی میں ہلائے دانت پیستے اسکا ہاتھ زور سے جھٹکا دیے گھمایا کہ درد سے اس کی چیخ نکلی ۔اپنے ساتھی کو تڑپتا دیکھ ان میں سے دو جو کے آگے اور دو جو کے پیچھے چل رہے تھے وہ سبھی تیزی سے اسکی جانب بڑھے ابتہاج نے ماہا کا بازو پکڑتے اسے خود سے قریب کیا اور پھر اپنی جانب آتے ان آدمیوں پر وار کیے وہ ماہا کو ایک جانب درخت کے پیچھے کھڑا کر گیا۔۔۔

ابتہاج اتنا تو جان چکا تھا کہ یہ لوگ اسے مارنے کو نہیں آئے کیونکہ اگر انکا ارادہ اسے مارنے کا ہوتا تو وہ بلا توقف کے اسے وہیں گاڑی کے قریب ہی مار سکتے تھے۔۔

تم یہاں رکو ماہا میں ابھی آتا ہوں ۔۔۔۔ ابتہاج نے اسکا چہرہ تھپتھپاتے کہا تھا اس سے پہلے کہ ماہا اسے روکتی وہ تیزی سے باہر نکلا ۔۔۔۔ اسے اپنی جانب آتا دیکھ ابکی بار سبھی نے اپنی اپنی گنز نیچے پھینکی اور پھر آگے بڑھتے اس سے لڑنے لگے۔۔۔۔

ابتہاج مہارت سے انکا مقابلہ کر رہا تھا مگر وہ ایک تو تعداد میں زیادہ تھے اسکے علاؤہ وہ اپنے کام کے ماہر تھے ابتہاج کے لئے اب مشکل ہونے لگا ۔۔۔ اچانک ان میں سے ایک نے ابتہاج کے سر پر اپنی گن کی پشت سے وار کیا درد سے اسکی سسکی سی نکلی تھی ۔۔۔

ابتہاج نے آنکھیں میچتے اپنے سر کو چھوا جہاں سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔۔ اسکی آنکھیں دھندلانے لگیں۔۔ اب وہ باری باری اسکے چہرے پر مکے مارتے اسے مزید بےبس کر رہے تھے ۔

ماہا نے ڈرتے اپنا سر درخت کی اوٹ سے نکالا تو سامنے ہی ابتہاج لہو لہان پڑا تھا ۔۔ وہ ہذیانی سی کیفیت میں۔ چیختی اسکی جانب آئی تھی ۔۔۔ ابتہاج ابتہاج اٹھیں پپ پلیز۔۔۔۔۔” وہ گھٹنوں کے بل اسکے قریب بیٹھے اسکا چہرہ تھپتھپاتے اسے ہوش دلانے لگی۔۔۔ ابتہاج نے بشمکل سے آنکھیں وا کیے اسے دیکھا اور پھر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا ایک نے آگے بڑھتے ماہا جو کھینچتے کھڑا کیا۔۔ کہا تھا ناں کہ چپ چاپ چل ہمارے ساتھ۔۔۔۔۔ مگر نہیں تجھے بھی ذرا چین نہیں ملتا۔ اب تو پچھتائے گا۔۔۔۔۔ اسکے پیٹ پر اپنے بھاری بوٹ سے وار کیے وہ غصے نفرت سے اپنے منہ سے بہتے خون کو صاف کیے غرایا۔۔

________

صالح آپ کب آئے ۔۔۔۔۔!” صنم جو خاموش بیٹھی بور ہو رہی تھی اچانک سے صالح کو اندر آتا دیکھ وہ خوشگوار حیرت سے بولی تو صالح نے اپنے بازو پر رکھا کوٹ صوفے کی جانب اچھالا اور پھر چلتے بیڈ کے قریب جاتے وہ نرمی سے اسکی پیشانی پر بوسہ دیے مسکرانے لگا۔۔۔

مجھے معلوم تھا کہ میری صنم اکیلی بور ہو رہی ہو گی تو بس اسی لئے میں جلدی سے واپس آ گیا۔۔ صالح نے اسکے ماتھے کو ہاتھ کی پشت سے چھوا اور پھر اسکی گردن کو چھوتے وہ بخار چیک کرنے لگا۔۔

ابھی ٹھیک ہوں بخار نہیں ہے ابھی ۔۔۔ وہ چہکتے اسکا ہاتھ تھامے بولی تو صالح نے مسکراتے اسکے حسین چہرے کو دیکھا۔۔۔اوکے اوکے میں کونسا کہہ رہا ہوں کہ بخار ہے میں تو بس چیک کر رہا تھا۔۔۔ صالح نے لب دبائے کہا تھا اور پھر جھکتے اپنے تشنہ لب اسکی گردن پر رکھے تو صنم اسکے لمس پر خود میں سمٹ گئی۔۔ کیا کھایا آج دن میں ۔۔۔۔ صالح نے اسے خود سے لگائے اسکے سر پر بوسہ دیے پوچھا۔۔۔۔ وہ کافی متفکر رہا تھا اسکے لئے۔۔ اب اپنی آنکھوں کے سامنے اسے سہی سلامت دیکھ اسکا ڈر پریشانی سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔۔۔۔

میں نے آج بریانی کھائی تھی۔۔۔وہ پرسوچ انداز اپناتے بولی تو صالح نے اسکے چہرے کو گھورا ۔۔۔۔۔۔ یہ کونسا وقت تھا بریانی کھانے کا آگے ہی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی تمہاری۔۔۔۔ وہ غصے سے اسے جھڑکتے ہوئے بولا ۔ تو صنم نے لب دانتوں تلے دبائے۔۔۔ تو میرا دل چاہ رہا تھا کھانے کو اسی لیے کھائی۔۔ویسے بھی میں نے نہیں بنائی۔۔۔۔۔ صالح جو اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا اسنے چونکتے اسے دیکھا تو تو پھرکس نے بنائی____!” صالح نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔

ارے آپ نے ہی تو کہا تھا میڈ کو وہی آئی تھی آج دن میں۔۔۔۔۔ میں نے کہا کہ کل سے آ جانا تو کہنے لگی کہ کام تو کرنا ہے چاہے کل سے کروں یا پھر آج سے تو پھر کیا تھا میں نے اسے سب کچھ سمجھا دیا اور پھر اس نے جلدی سے سارے کام بھی کیے اور میرے کہنے پر مجھے مزے کی بریانی بھی بنا کے دی۔۔۔۔۔ “

اوکے چلو یہ تو تم نے ٹھیک کیا ۔۔۔۔۔ مجھے اچھا لگا کہ تم نے کوئ کام اپنے ہاتھوں سے نہیں کیا ۔۔۔۔ یہ بتاؤ بے بی کیسا ہے تنگ تو نہیں کیا اس نے تمہیں۔۔۔۔۔!” صنم۔کے پیٹ پر ہاتھ رکھتے وہ متفکر سا محبت سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ نہیں صالح اس نے تنگ نہیں کیا مجھے آرام سے رہا آج سارا دن۔۔۔۔ ” وہ لاڈ سے اسکی گردن کے گرد بازوؤں حائل کیے بولی تو صالح نے اسکی کمر کے گرد مضبوط حصار بنائے اسکی خوشبو کو خود میں اتارا۔۔۔

معا دروازے پر دستک ہوئی صالح نے چونکتے دروازے کو گھورا اور پھر صنم کے ماتھے پر لب رکھے وہ اٹھتا دروازے کی جانب بڑھا۔۔۔

جی کوئی کام تھا۔۔۔صالح نے باہر کھڑی میڈ سے پوچھا ۔۔۔۔۔ جی صاحب باہر کوئی لڑکی آئی ہے کہہ رہی ہے کہ آپ سے ملنا ہے۔۔۔۔”

لڑکی کے نام پر صنم جو سیدھا ہوئے لیٹی تھی ایک دم سے جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔۔۔ جبکہ دوسری جانب صالح کے ماتھے پر بھی ایک ساتھ جانے کتنے ہی بل نمودار ہوئے تھے۔۔

________

جی کس سے ملنا ہے آپ کو۔۔۔۔۔” منیبہ بیگم اور دلاور صاحب کو دیکھ چوکیدار نے سوالیہ نظروں سے پوچھا تو دلاور صاحب مسکرا دیے۔۔۔ یہاں پر ابتہاج گردیزی اور میری بیٹی رہتے ہیں ہمیں ان سے ملنا ہے۔۔۔۔۔ ان کا لہجہ کافی خوشگوار تھا۔۔۔ آج صبح ہی صنم۔نے انہیں کال کرتے بتایا تھا ۔

کہ ابتہاج زندہ ہے اور ماہا اس کے پاس ہے۔۔۔۔۔ دلاور صاحب تو سنتے ہی خوشی سے نڈھال ہو گئے تھے ۔۔۔ جبکہ منیبہ بیگم کا بھی کچھ ایسا ہی حال تھا۔۔۔۔ اپنی معصوم بیٹی جی خوشیوں کو واپس اسکی جھولی میں دیکھ وہ دونوں ہی خوشی سے اپنے رب کو یاد کرتے اسکا شکر ادا کیے روئے تھے۔۔

وہ دونوں پہلے شاپنگ کرنے گئے تھے ماہا اور ابتہاج کیلئے ڈھیروں چیزیں خریدتے وہ دن کے وقت وہاں سے نکلے تھے۔۔

اور اب رات کے دس بجے وہ محتاط سے ڈرائیو کرتے مری پہنچے تھے ۔۔ صاحب لوگ تو کب کے نکل چکے ہیں ۔۔۔ یہاں سے، ” چوکیدار نے انہیں ابتہاج اور ماہا کے متعلق آگاہ کیا تو دلاور صاحب چونک گئے ۔۔۔ کیا مطلب ہے کہ وہ نکل گئے ہیں کہاں گئے کس وقت گئے۔۔۔۔ انکا لہجہ حیرانی سموئے ہوئے تھا ۔۔۔ آخر ابتہاج ماہا کو لے کر کہاں گیا ہو گا۔۔

معلوم نہیں صاحب ہم خود غریب لوگ ہیں بھلا ہم کیسے ان سے پوچھتا کہ آپ لوگ کدھر جا رہا ہے ۔۔۔ چوکیدار نے انہیں مختصر سا آگاہ کیا تو منیبہ بیگم اور دلاور صاحب دونوں ہی پریشان ہوے تھے آخر یوں اس وقت ابتہاج ماہا کو کہاں اور کیوں لے کر گیا ہو گا۔۔

مجھے بے چینی ہو رہی ہے میری ماہا ٹھیک تو ہو گی۔۔۔۔۔ منیبہ بیگم نے صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے متفکر سا ہوتے پوچھا ۔۔۔

پریشان مت ہو تم منیبہ ابتہاج اسکے ساتھ ھے اسے کچھ نہیں ہونے دے گا۔۔۔۔ تم آؤ گاڑی میں بیٹھو ہمیں فلحال صنم کے پاس جانا ہو گا۔۔۔۔۔ صاحب نے انہیں تسلی دیے کہا تھا مگر حقیقتاً وہ خود کافی پریشان ہوئے تھے۔۔

Episode no 32

میری بیوی کو چھوڑ دو چاہے تو مجھے جان سے مار دو____! اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرے ابتہاج نے ماہا کو دیکھ ضبط سے سرخ پڑتے چہرے سے کہا تو وہ سبھی سنتے قہقہ لگا اٹھے۔۔۔

اگر تجھے اتنی ہی پرواہ تھی بیوی کی تو پھر تجھے سوچنا چاہیے تھا پہلے ہی کہ توں اکیلا نہیں تیری خوبصورت بیوی بھی تیرے ساتھ ہے۔۔

اہاہاہا وہ سبھی اپنی بات کہتے ابتہاج کے غصے سے سرخ پڑتے چہرے کو دیکھ لب بھینجتے رہ گئے۔ منہ بند کرو اپنا کمینو۔۔۔۔۔_ابتہاج سنتے ہی غصے سے اپنے پاس کھڑے آدمی کی ٹانگ پر لات رسید کیے سیدھا ہوا تھا اسکی غصے سے بھری تیز غراہٹ پر وہ سبھی قہقہ روکے اسے گھورنے لگے۔۔

تیری تو ۔۔۔۔” ان میں سے ایک نے آگے بڑھتے اسے مارنا چاہا تھا کیونکہ وہ اسے ڈرانے کو آئے تھے اگر جان سے مار دیتے تو ان کا پیسہ انہی کے گلے کا۔طوق بن جاتا۔۔۔۔

ابتہاج نے غصے سے اپنی جانب آتے شخص کے پیٹ پر لات رسید کی تو وہ پیٹ پکڑے درد سے کراہتا نیچے کو بیٹھتا چلا گیا۔۔۔ چھوڑو میری بیوی کو۔۔۔۔” ابتہاج نے اپنے ہونٹ کے کنارے سے بہتے خون کو انگھوٹے سے صاف کرتے ٹھٹرا دینے میں بھاری لہجے میں کہا تو وہ سبھی پہلے تو گھبرا تھے مگر پھر خود ہی سے قہقہ لگاتے وہ ہنسنے لگے۔۔۔۔

ماہا نے بےبسی سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی۔

ابتہاج ماہا نے ابتہاج کینجانب دیکھتے اسے اور غصے سے دانت پیستے اپنی جانب آتے غنڈوں کو بری طرح سے باری باری پیٹنا شروع کر دیا۔۔

ماہا دور کھڑی لمبے لمبے سانس لیتے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی جو بری طرح سے ان لوگوں کو پیٹ رہا تھا۔۔۔

ابتہاج نے اپنی تسلی کرتے سر اٹھائے ماہا کو دیکھا جو کپکپاتے وجود سے بمشکل سے کھڑی تھی۔۔۔ ابتہاج نے جلدی سے اٹھتے اسکے قریب جاتے اسے خود میں بھینجا۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو ماہا ۔۔۔۔۔۔ وہ متفکر سا اسکے چہرے کو چھوتے پوچھ رہا تھا ماہا نے ہچکی دبائے سر ہاں میں ہلایا ۔

چلو یہاں سے_____! ابتہاج اسکا ہاتھ تھامے تیزی سے آگے بڑھا تھا کیونکہ پیچھے جانا سراسر بے وقوفی تھی اسکی گاڑی کا ٹائر پنکچر تھا اور ایسے میں اگر وہ واپس جاتا بھی تو وہ لوگ اسے آسانی سے پکڑ لیتے ۔۔

ماہا کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے وہ گھنے جنگل میں گم ہوتا گیا۔۔

______________

ہائے صالح کیسے ہو _____!” صالح جو ماتھے پر بل ڈالے سیٹنگ روم میں آیا تھا اب اپنے سامنے امیشہ کو دیکھ صالح حیران سا ہوا۔۔۔۔

صالح کیسے ہو تم_____! امیشہ اسے اپنے سامنے دیکھ چہکتے جگہ سے اٹھی تھی ۔۔۔ صالح اسے یوں اچانک سے اپنے سامنے دیکھ حیران بھی تھا مگر اس سے پہلے کہ وہ کسی قسم کا کوئی ری ایکشن دیتا امیشہ ایک دم سے چہکتے صوفے سے اٹھتے اسکے قریب گئی ۔۔۔

میں نے اتنا مس کیا تمہیں صالح ۔۔۔؛” وہ منہ پھلائے افسردگی سے کہتے اسکے گلے میں آنے بازوؤں حائل کرنے لگی کہ معا صالح نے اسکے بازو کو پکڑتے اسے خود سے دور کیا ۔

امیشہ ہک بکا سی صالح کو دیکھ رہی تھی آخر کیا تھا یہ سب ۔۔۔۔ صص صالح میں میشہ ۔۔۔ تمہاری دوست۔۔۔۔۔ !” صالح کے یوں دھکا دیے پیچھے کرنے پر ایک ساتھ جانے کتنے ہی آنسوں امیشہ کے حلق میں اٹکے تھے وہ رندھی ہوئی آواز میں کہتے کب بھینج گئی ۔۔۔۔۔ صنم جو سیڑھیاں اترتے اضطراب سے نیچے آئی تھی سامنے ہی بلیو شرٹ سکرٹ اور بلیو میچنگ جینز پہنے کھڑی لڑکی کو دیکھ صنم کو عجیب سی بے چینی ہوئی۔۔۔۔

دوست ہو امیشہ تو میری عادتوں سے اچھی طرح واقف ہونا چاہیے تمہیں مجھے یوں کسی بھی عورت کا غیر محرم کے گلے لگنا سخت ناپسند ہے۔۔ صالح نے بنا توقف کے اسکے منہ پر سچ بولا تھا۔۔ امیشہ نے اپنی نم آنکھوں کو ہاتھ کی انگلیوں سے رگڑا۔۔

سوری میر ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا بچپن میں ہم اکثر ایسے ملتے تھے تو بس خوشی میں مجھے سمجھ نہیں آئی۔۔۔۔” اپنے ڈارک چاکلیٹ بالوں کو کندھے سے پیچھے کرتے وہ اس بار نم لہجے میں بولتے صالح کو شرمندہ کر گئی۔۔۔

سوری امیشہ میں تھوڑی زیادہ ہارش ہو گیا تھا مگر میرا ارادہ تمہیں تکلیف دینا نہیں تھا۔۔۔ صالح کو شرمندگی سی ہو دہی تھی وہ اس کی بچپن کی ساتھی تھی دونوں نے ایک ساتھ جانے کتنا عرصہ گزارا تھا اور اب وہ اچانک سے اتنے سالوں بعد اس سے ملنے آئی تھی۔ ۔۔

اٹس اوکے مجھے خیال کرنا چاہیے تھا۔۔ اپنی خفت مٹانے کو وہ جبرا مسکائی تو صنم چلتے صالح کے قریب پہنچی۔۔۔ امیشہ اس سے ملو یہ ہے میری بیوی صنم اور صنم یہ ہے میری بچپن کی دوست امیشہ۔۔۔۔” صنم کے گرد اپنے بازو حائل کیے صالح نے مسکراتے ان دونوں کا تعارف کروایا۔۔۔۔۔ امیشہ نے گہری نظروں سے صنم کے حسین چہرے اور پھر بھرے بھرے وجود کو دیکھا۔۔۔

کیسی ہو صنم ۔۔۔۔۔؟” امیشہ مسکراتے اسکے قریب آتے بولی تو صنم نے مسکرانے کینکوشش کرتے سر ہاں میں ہلا دیا ۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں_____؟” صنم نے اسے بن غور سے دیکھتے پوچھا جو اب کافی آرام سے صوفے پر بیٹھی تھی ۔۔ بس پچھلے ہفتے اٹلی سے آئی ہوں تو سب سے پہلے آفیسر صالح خان کا پتہ ڈھونڈا تو پتہ چلا کہ جناب اجکل مری میں ڈیوٹی دے رہے ہیں تو پھر کیا تھا میں نے پیک کیا اپنا سامان اور پھر بھاگتے ہوئے یہاں تم دونوں کا سر کھانے پہنچ آئی۔۔۔

امیشہ انہیں اپنی کاروائی کی بابت بتاتے خوشی سے بولی تو صالح کے ہونٹوں پر مسکان بکھری۔۔۔۔

چلو آؤ بیٹھو یہاں تم ۔۔۔۔۔!” صالح نے صنم کو گھورا جو تججس کی ماری دوڑتے نیچے آئی تھی ۔۔ نہیں صالح میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔ صنم نے منمناتے ہوئے کہا حالانکہ اسکا دل خود بھی انکے پاس بیٹھتے انکی باتیں سننے کا تھا۔۔

امیشہ نے ایک تیز نظر صنم کے وجود پر ڈالی اور پھر چہرے پر مسکراہٹ سجائے وہ صالح کی جانب متوجہ ہوئی۔۔

عماد کام ہوا ہے یا نہیں ______! ارسم خان کب سے پریشانی سے چکر کاٹتے عماد کی کال کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔اسے بے چینی تھی کہ کہیں اتنا اچھا موقع اسکے ہاتھ سے ناں نکل جائے۔۔۔ ارسم خان دراصل وہ ابتہاج۔۔۔۔۔” عماد کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے اسے بتائے کہ اسکے آدمی بجائے اسے پکڑنے کے خود ہی اکسے ہاتھوں زخمی ہوئے اب اسی کو ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔

کیا کیا ہے اس نے ابکی بار صاف صاف بتاؤ مجھے_____! ارسم خان کا دماغ پھٹنے کو تھا جہاں اتنی زیادہ محنت کی تھی اتنا انتظار تھا اسے اس۔ وقت کا اور اب عماد اسے ہری جھنڈی دکھا رہا تھا ۔۔۔

دراصل ابتہاج ماہا کے ساتھ جنگل میں کہیں گم۔ہو گیا ہے۔۔ میرے آدمی بھی اچھے خاصے زخمی ہوئے پڑے ہیں مگر پھر بھی وہ ڈھونڈ رہے ہیں اسے وہ مل جائے گا ۔ ۔ عماد نے اسے حوصلہ دینے کو کہا جبکہ ارسم خان سنتے بپھر گیا ۔۔۔۔ کیا کہا توں نے۔۔۔ تیرے اتنے ہٹے کٹے آدمی ایک لڑکے اور لڑکی کو قابو نہیں کرسکے۔۔۔۔ توں جانتا ہے کہ میری کتنی سالوں کی محنت لگی ہے اس کام کے پیچھے ۔۔۔۔۔۔ پہلے اسکا باپ وہ کاشان مجھے سکول کالج کر جگہ دی گریڈ کرتا تھا ہر کوئی اسکی ذہانت کی تعریف کرتا تھا اسکی وجہ سے میں دوسرے نمبر پر رہا ہمشیہ ۔۔۔ اسکے بعد وہ بزنس کی دنیا میں بھی مجھ پر بازی لے گیا میں نے پیسے کی حاطر دوسری شادی کی اپنے بیٹے اور بیوی کو چھوڑ دیا در در کی ٹھوکریں کھانے کو ۔۔۔ مگر پھر بھی مجھے کچھ حاصل نہیں ہؤا ۔۔الٹا اس کاشان کا نام اور بھی بلند ہو گیا لوگ اسے جاننے لگے میرا ہر حربہ بے کار رہا اور پھر جب میں نے دھوکے سے اسکا سب کچھ اپنے نام کرنا چاہا تب اسکا بیٹا وہ ابتہاج وہ آ گیا کمپنی سنبھالنے۔۔۔۔۔

مجھے زین یوسف کو اپنے ساتھ ملانا پڑا مجھے لگا تھا کہ میں کسی بھی طرح اسکی دولت کو چھین لوں گا مگر برا ہو اس روکی کا اور یوسف کا ۔۔۔۔ جہنوں نے ابتہاج کی بیوی کو قید کر کے اسے مزید بپھرا دیا۔۔۔۔اور جب وہ پولیس کے ساتھ وہاں پہنچا تو صاف ظاہر تھا ان دونوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے مگر میں بچ گیا کیونکہ میں نے کبھی بھی ان سے آمنے سامنے بات نہیں کی۔ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا ۔۔۔

اسکے بعد کاشان کو ایک نہیں دو دو کمپنیاں مل گئی ۔۔۔۔میرا اندر جل کے بھسم ہونے لگا تھا کبھی میں نے کاشان اور اسکی بیوی کو مروا دیا۔۔

مر تو اس ابتہاج نے بھی جانا تھا مگر ایک تو اسکی قسمت اچھی نکلی اور دوسرا مجھے وقت پر خبر مل گئی کہ اس وقت اسکا کوئی بھی وارث نہیں جس کی وجہ سے ابتہاج کے مرنے کے بعد اسکی جائیداد حکومت ضبط کر لیتی۔۔۔۔۔

میں نے اتنے سالوں سے انتظار کیا اپنا اتنا صبر اتنے رشتے تباہ و بربار کیے اور اب جب مجھے میرے صبر کا پھل ملنا تھا تم مجھے حالی ہاتھ دکھا رہے ںو۔۔ عماد تو اسکا سارا منصوبہ۔اسکے کالے کرتوت سنتے ہی سن سا رہ گیا اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ کچھ ایسا بھی کر سکتا تھا ۔۔۔

یہ سب کچھ تم نے کیسے کیا ارسم خان۔۔۔۔؟” وہ خود بھی ایک غنڈہ تھا مگر اس وقت اسے ارسم خان زیادہ خطرناک لگا تھا ۔۔ حسد ____حسد سے ۔۔۔۔ برسوں سے اس حسد نے مجھے نگلا ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ یہ سب میں نے کیسے کیا ہے۔۔۔۔؟

ڈھونڈو ابتہاج کو اسکی آنکھوں کے سامنے اسکی بیوی کو ٹارچر کرو کہ وہ خود ہی تڑپ کے خوفزدہ ہوتے اپنی ساری دولت میرے نام کر دے۔۔۔۔۔ ” ارسم خان نے زہر خند لہجے میں ابتہاج کو سوچتے کہا تھا جبکہ عماد اسکے لفظوں کے زہر سے ڈر سا گیا۔۔۔ میں جلد اسے ڈھونڈ لوں گا۔۔۔۔ عماد نے جلدی سے کہتے ساتھ ہی کال کاٹی تھی وہ حیران تھا آخر ایسا بھی کیا دولت کا لالچ جو اتنی زندگیاں تباہ کرنے کے باوجود بھی اس شخص کو چین نہیں تھا ۔

مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ جب حسد انسان کے دلوں میں گھر کر جائے تو باقی کی محبتیں صرف فرضی لگتی ہیں۔۔۔

اب ابتہاج۔۔۔۔۔ مجھے ڈڈڈ ڈر للل لگ رہا ہے ۔ ماہا نے ڈرتے ابتہاج کی شرٹ کو مضبوطی سے گرفت میں لیتے کہا تو ابتہاج نے اسکی کمر تھپکتے اسے خاموش کروایا۔۔۔ اشش ڈونٹ وری میری جان میں ہوں ناں ساتھ۔ بس ڈرو مت ۔۔۔ وہ دونوں اس وقت ایک اونچی ڈھلوان کے نیچے تھوڑی ایک جانب ایسی جگہ پر چھپے تھے جہاں پر درختوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے انہیں ڈھونڈ پانا نا ممکن سا تھا۔۔۔۔

ابتہاج ممم میرے بچے کو کک کچھ ہہہہ ہوگا تو نہیں۔۔۔۔۔” اسکے لہجے میں خوف تھا ابتہاج کا دل چاہا کہ ابھی کے ابھی سب کجھ تہس نہس کر دے جن کی وجہ سے اسکی ماہا آج اس حال میں تھی۔۔کچھ بھی نہیں ہو سکتا ماہا ڈرنے کی ضرورت نہیں اس بار اگر کسی نے بھی میری ماہا یا پھر میرے بچے جو تکلیف دینے کا سوچے گا بھی میں اسکا خشر بگاڑ دوں گا۔۔۔۔

ابتہاج نے سرگوشی نما آواز میں اسکے کان کے قریب جھکتے کہا ابتہاج کا ساتھ ہونا ہی اسکے لئے سب سے بڑی طاقت تھی۔۔ ابتہاج نے جھکتے اپنے ہونٹ ماہا کی پیشانی پر رکھتے سکون سے آنکھیں موندے اسکی خوشبو کو خود میں اتارا ۔۔

معا بھاری قدموں کی تیز آواز پر ماہا کا پورا وجود ڈر سے لرزنے لگا۔۔۔۔۔ وہ لوگ ماہا اور ابتہاج کوڈھونڈ رہے تھے مگر ابتہاج جانتا تھا کہ وہ اس جگہ لازمی آئیں گے اسی وجہ سے وہ کافی دور چھپا تھا۔۔۔

ڈھونڈو یہیں کہیں ہونگے اس بار ملے تو دونوں کی قبریں بنا کر ہی واپس جائیں گے۔ وہ سبھی کافی غصے میں تھے ۔۔اوپر سے کچھ عماد کا فون کرتے انہیں ذلیل کرنا آگ لگا رہا تھا وہ کسی بھی طور ابتہاج کو پکڑنا چاہتے تھے جبھی وہ بھوکے کتوں کی طرح ان کی بو سونگھتے پھر رہے تھے۔۔۔۔

اببب ابتہاج وو وہ لل لوگ ادد ادھر ااا رر رہے ہیںں۔۔۔” ماہا خوفزدہ سی ہوتے اونچی آواز میں بولنے لگی۔۔۔۔ ابتہاج نے گھبراتے اسکا رخ اپنی جانب کیے اسے خاموش کروانے کی کوشش کی مگر اس وقت ڈر اسکے حواسوں پر طاری تھا۔ ماہا کچھ بھی نہیں وہ لوگ نہیں آ رہے یہاں تم پینک مت ہو ۔۔۔۔۔” ابتہاج نے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرتے کہا تھا جو مسلسل ایک ہی بات بڑبڑا رہی تھی۔۔

ابتہاج نے گھبراتے اپنا سر اٹھائے پیچھے کو دیکھا ۔۔شاید وہ لوگ ماہا کی آواز سے چوکس ہو رہے تھے ۔۔۔ابتہاج نے جھکتے ایک دم سے ماہا کی سانسوں کو قید کیے اسکے الفاظ کو چن لیا کہ وہ جو بولنے کی کوشش کر رہی تھی ایک دم سے ساکت سی رہ گئی ۔۔۔

ابتہاج نے اسکے نازک وجود کو اپنی گود میں بھرتے ماہا کی کمر کے گرد اپنا مضبوط حصار قائم کیا۔۔۔۔۔۔ اسکا دھیان اس وقت ان لوگوں کی جانب تھا ۔۔ فلحال ماہا کو چپ کروانے کا اس سے بڑا کوئی اور طریقہ نہیں ملا تھا اسے۔۔۔۔

ابتہاج کافی دیر بعد پیچھے ہوئے اسکے سرخ چہرے کو دیکھ ماہا کی پیشانی پر بوسہ دیے اسے خود میں بھینج گیا جیسے اسے دنیا جہاں کی گرم و سرد سے بچاتے وہ اسے ہمیشہ کیلئے اپنے مخفوظ حصار میں قید کر لے گا ۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ یہ برا وقت بھی اللہ پاک کی آزمائش تھی ۔۔۔ جو جلد ہی ختم ہونے والی تھی مگر شرط یہ تھی کہ اسے ثابت قدم رہنا تھا۔۔

ابتہاج نے کافی دیر بعد سر اٹھائے دیکھا۔۔ تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا جبھی وہ لمبا سانس فضا کے سپرد کیے پیچھے ایک جانب گھاس سے ٹیک لگائے آنکھیں موند گیا۔۔۔ ماہا بھی تھکن اور خوف سے نڈھال اسکی گود میں سر اسکے سینے سے لگائے سونے لگی۔۔

امیشہ تم رہو۔ گی کہاں میرا مطلب ہے کہ یہاں مری میں۔۔۔۔۔!” صنم نے اسے چاہے سرو کرتے پوچھا تو امیشہ کھلکھلا اٹھی۔۔۔یار اتنی دور سے ائیی ہوں اسپیشل صالح سے ملنے اب تو تم سے بھی ملاقات ہو گئی ہے۔۔ تو بھلا میں اپنے دوست کے گھر کو چھوڑ کے باہر کیوں رہوں گی۔۔۔۔۔؟” وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے ہنستی صنم کو زہر لگی تھی۔۔

صالح اپنی بیوی کے نقوش میں گھلتی غصے کی سرخی پر بمشکل سے اپنے قہقہے کو دبائے بیٹھا تھا۔۔۔۔

کیوں صالح کوئی پروبلم ہے تمھیں۔۔۔۔۔ اب کی بار امیشہ نے ڈائریکٹ صالح سے پوچھا جو سنتے کندھے آچکا گیا بھلا اسے کیا مسئلہ ہو سکتا تھا۔۔۔ نہیں تم اتنی دور سے آئی ہو گھومو پھرو انجوائے کرو اور میرے ہوتے تمہیں کسی دوسرے کے پاس یا پھر ہوٹل میں رکنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔”

صالح نے دل سے کہا تھا ۔۔۔۔ اگر وہ اسے اتنی دور سے ملنے آ سکتی تھی تو اسکا بھی فرض تھا کہ وہ اسے اچھے سے ڈیل کرتا۔۔۔۔

چلو یہ تو گڈ ہو گیا۔۔۔۔ اب ایک بات بتاؤ۔۔۔۔ شادی کو کتنا عرصہ گزرا۔۔۔۔”

وہ صنم کے تپے چہرے کو دیکھ آنکھ دبائے پوچھنے لگی کہ صالح نے بشمکل سے اپنی ہنسی پر ضبط کیا۔۔ بس زیادہ عرصہ نہیں ہوا چند ماہ گزرے ہیں۔۔۔۔۔ وہ بالوں میں ہاتھ چلاتا صوفے سے ٹیک لگائے پرسکون سا بولا۔۔۔

کیا واقعی ہار____!” کیا تھا جو کچھ مہینے صبر کر جاتے شادی ہی تو کرنی تھی میں کونسا کم ہوں۔ مجھ سے کر لیتے۔۔۔۔”امیشہ نے صنم۔کو دیکھ صالح کو آنکھ دباتے کہا تو صالح نے گڑبڑاتے صنم۔کو دیکھا۔۔۔ امیشہ کا یہ چھوٹا سا مذاق اسکے گلے کا طوق بن سکتا تھا مگر یہ صرف صالح ہی جانتا تھا کہ اسکی معصوم بلی اب شیرنی بنے اسپر اپنا حق جتاتی تھی۔۔۔ آؤر صالح خان کی۔جرت نہیں ہوتی تھی اپنی صنم خان سے کچھ کہنے کی۔۔ صنم۔کا حق جتانا اسے اچھا لگتا تھا خود میں ایک نیا سرور اترتا محسوس ہوتا تھا۔۔۔۔

ارے ارے کہاں جا۔رہی ہو صنم۔۔۔ صنم جو۔غصے سے اپنا ضبط کھوتے اٹھی تھی اسے کمرے کی جانب جاتا دیکھ صالح گڑبڑا سا گیا۔۔۔۔

یار وہ بہت پوزیسو ہے اور اوپر سے پریگنٹ بھی ______ آئندہ ایسا مذاق نہیں چلے گا کیونکہ میری روح کا حصہ صرف اور صرف وہی ہے۔۔۔۔۔۔”

صالح جھٹکے سے جگہ سے اٹھتے امیشہ کو آگاہ کیے اوپر اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔امیشہ نے حیرت سے صالح کی چوڑی پشت کو دیکھ کندھے اچکائے۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے صنم تم اتنی ہایپر کیوں ہو رہی ہو ۔امیشہ نے صرف ایک چھوٹا سا مذاق کیا ہے صالح نے صنم کا ہاتھ پکڑے اسے روکتے کہا۔صنم

نے سرخ لال انگارا ہوتے چہرے سے صالح کی جانب دیکھا ۔یہ مذاق تھا صالح اگر یہ مزاق تھا تو بہت بیہودہ تھا ۔ صنم غصے سے اپنا ہاتھ صالح کی گرفت سے آزاد کرواتے اپنے کمرے میں داخل ہوئی تھی صالح نے جلدی سے کمرے داخل ہوتے صنم کو بازو سے پکرتے اس کا رخ اپنی جانب کیا ہو گیا ہے یار صنم تمھیں کیا لگتا ہے کہ میں اپنی اتنی پیاری بیوی کو چھوڑ کر اس چڑیل سے شادی کروں گا صالح نے فوراً سے صنم کو اپنی گود میں اٹھائے بیڈ پر بیٹھایا ۔اپ فکر ناں کریں میں کرنے بھی نہیں دوں گی ۔

صنم نے غصے سے نظریں اٹھائے صالح کی جانب دیکھتے کہا تو صالح نے قہقہ لگایے صنم کی پیشانی کو چھونا چاہا اس سے پہلے ہی صنم نے اپنا رخ دوسری جانب گھمائے اپنے غصے کا اظہار کیا

۔۔۔۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ

یہاں لینے کیا آئی ہے۔۔۔۔۔۔؟ صنم نے جلے دل سے کہا۔۔۔۔! کیوں تم جیلس ہو رہی ہو صنم صالح نے لب دبائے صنم کی جانب دیکھا ۔ تو صنم نے فوراً سے ہربڑاتے سر کو نفی میں ہلایا____ نہیں میں کیوں ہونے لگی اس سے جیلس صنم نے فوراً سے اپنی ہربڑاہٹ پر قابو پاتے صالح کی جانب دیکھا ۔ اچھا تمھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں اس سے شادی کر لوں صالح نے قہقہ دبائے صنم کی جانب دیکھتے اسے چھیڑا تھا صنم جو کے آ گے ہی غصے سے بھری پڑی تھی صالح کے یوں کہنے پر وہ مزید غصے میں آئی تھی ۔صالحححححح۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صنم کے یوں کہنے پر وہ قہقہ لگاتے صنم کی پیشانی کو چومتے اس کی متوجہ ہوا تھا ۔ دیکھو صنم وہ صرف میری اچھی دوست ہے اس کے علاؤہ اور کچھ بھی نہیں ۔ میرا بچپن گزرا ہے اس کے ساتھ ۔ وہ اتنی دور سے اتنے سالوں بعد مجھ سے ملنے آئی ہے ۔تو اب تم حود سوچو کے وہ مجھ سے ملنے کے لیے یہاں آئی ہے اور میں اسے یوں ہوٹل میں ر ہنے دوں۔ وہ کہتے ساتھ ہی صنم کے بالوں کو ہاتھ سے سہلانے لگا ۔۔ ۔۔۔۔تو اپنی دوست کو اچھے سے سمجھا دیں کہ آئندہ آسیا کوئی مذاق میرے ساتھ نہیں کرے وہ مجھے نہیں پسند کہ کوئی مذاق میں بھی اپ کے متلعق کچھ کہے ۔۔ ” صنم نے صالح کا ہاتھ پکڑتے مضبوط لہجے میں کہا تو اسکی پوزیسونیس پر صالح کا دل چاہا کہ اسے خود میں چھپا دے۔۔۔۔۔۔ اچھا اب تم ریسٹ کرو میں ذرا امیشہ کو اسکا کمرہ دکھا کے آتا ہوں پھر ہم یہی سے شروع کریں گے وہ مسکراتا بے باکی سے صنم کے گال پر ہونٹ رکھتے کہتے آخر میں آنکھ دبائے بولا تو صنم نے شرم سے دہکتا چہرہ جھکا لیا جسے دیکھ صالح قہقہ لگاتے اسکے سر پر بوسہ دیے کمرے سے نکلا۔۔

وہ کافی دیر سے وہیں چھپے بیٹھے تھے اگر ماہا کا ساتھ ناں ہوتا تو ابتہاج کیلئے ان کتوں سے لڑنا مشکل نہیں تھا مگر وہ ماہا کیوجہ سے کوئی بھی رِزک نہیں لینا چاہتا تھا۔ ۔ ابتہاج نے ایک نظر ماہا کو دیکھا جو اسکے سے سینے سے لگی دنیا جہاں سے غافل بے فکر سو رہی تھی۔۔

شاید ابتہاج کا ساتھ اسکے ساتھ ہونے کے احساس نے اسکے خوف ڈر کو ہرا دیا تھا۔ ابتہاج نے بےرازی سے آگے پیچھے دیکھا ، یہاں نیٹ ورک بالکل بھی نہیں تھا جسکی وجہ سے وہ کسی سے بھی کنٹیکٹ نہیں کر پا رہا تھا۔۔ مگر وہ جانتا تھا کہ اسکے آدمی جلد اس تک پہنچتے ہوں گے۔۔۔ ابھی وہ پرسکون تھا۔ اسے صرف ایک بات کا غصہ تھا وہ تھا آرام خان کا یوں قائروں کی طرح چھپ کے وار کرنا۔ اب جب اسکے شروعات کر ہی دی تھی تو پھر بھلا وہ پیچھے کیسے رہتا۔۔۔۔

ابتہاج نے اپنی سرد آنکھوں کی پتلیوں کو سکیڑتے متفکر سا سوچا اور پھر اپنے ہاتھ میں پہنی واچ کی جانب ۔۔۔۔۔ ” اسے یقین تھا کہ اب تک اسکے آدمی اسکی لوکیشن سرچ کرتے استک پہنچ چکے ہونگے ۔۔۔ ابتہاج نے سرد سانس لیے ماہا کو نرمی سے اپنی بانہوں میں بھرا اور پھر اٹھتے وہ تیز تیز قدم اٹھائے اس جگہ سے باہر کینجانب نکلا۔۔۔

ماہا کی موجودگی اسکے غصے اشتعال کو دبا رہی تھی۔۔۔ بھلا اسکی موجودگی میں ابتہاج گردیزی کو کہاں کچھ یاد رہتا تھا۔۔ ابتہاج کے ہونٹوں پر ایک دلکش دل کو چھو لینے والی مسکراہٹ تھی اگر کوئی اسے اس قدر بھیانک صورتحال میں بھی مسکراتا دیکھ لیتا یقیناً شاک ہو جاتا مگر وہ ابتہاج گردیزی تھا دنیا کی سوچ سے بالاتر ۔۔۔۔وہ دنیا کو دیکھ کر نہیں بلکہ دنیا اسے دیکھ کر چلتی تھی۔۔

فضا میں خوشگوار ہوا کے ٹھنڈے جھونکے ماحول کو پرسوز بنا رہے تھے۔۔۔ رات کی گہری تاریکی میں آسمان پر صبح کی روشنی گھلنے لگی تھی ، اگر وہ اس بری حالت میں یا برے وقت میں ناں پھنسے ہوتے تو یقیناً اس قدرت کی خوبصورتی کو کافی اچھے سے محسوس کر سکتے تھے۔۔اپنے بھاری قدم اٹھائے وہ چوڑے قد و قامت مضبوط اعصاب کا مالک چلتے ڈھلوان سے باہر نکلا تھا ۔۔۔اسکا ہونٹ اور چہرہ زخمی تھا ۔۔

باقی بھی کافی چوٹیں اسکے وجود پر موجود تھیں مگر اسے اپنی پرواہ نہیں تھی جسکی تھی وہ پرسکون سی اسکی بانہوں میں دنیا جہاں سے غافل ابتہاج گردیزی کے جذبات کو دہکا رہی تھی۔۔۔

کہاں سوچا تھا اسنے کہ وہ خود کو اس طرح سے اس چھوٹی سی لڑکی کر عشق میں قید پائے گا۔۔۔۔مگر ماہا کی معصومیت اسکی توجہ اسکے ساتھ نے کیسے ابتہاج گردیزی کو خود میں۔ قید کیا تھا یہ وہ خود بھی نہیں جان پایا تھا۔۔۔

ابتہاج ڈھلوان عبور کرتے اوپر کی جانب آیا اسے اندازہ تھا کہ وہ لوگ اسے ڈھونڈتے کافی دور نکل گئے ہونگے______ ! ابتہاج نے گاڑی کی آواز پر گردن گھمائے پیچھے دیکھا ، اسنے جبڑے بھینجتے اپنے غصے پر قابو کرنے کی سعی کی۔۔۔

سوری سر لوکیشن ٹریس کرنا مشکل ہو گیا تھا بہت زیادہ۔۔۔!” وہ سبھی گاڑی سے نکلتے بھاگتے اسکے قریب آتے بولے تو ابتہاج نے بے تاثر نظروں سے انہیں دیکھا۔۔

تم سب کو کس چیز کے پیسے دیتا ہوں میں ۔۔۔۔۔لوکیشن سرچ کرنا کس کا کام ہے؟ اگر لوکیشن ٹریس نہیں کر پا رہی تھی ابھی کیسے ملی لوکیشن۔۔۔۔۔۔۔ تم سب کی لاپرواہی کی وجہ سے آج میں اپنی بیوی کو کھو دیتا کوئی احساس ہے تم۔لوگوں کو۔۔۔۔۔۔وہ دبے دبے لہجے میں غرا رہا تھا لوگو کے جاگنے کے خیال سے وہ ان لوگوں کو زیادہ سختی سے نہیں ڈانٹ رہا تھا ۔۔

تم سب کو میں ابھی اور اسی وقت جاب سے نکال رہا ہوں۔۔۔ ابتہاج نے بے تاثر لہجے میں پھنکارتے ہوئے کہا تو سبھی گڑبڑا سے گئے۔۔ سوری سر ہم سے غلطی ہو گئی آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔۔۔ وہ ڈرتے ابتہاج سے معافی مانگنے لگے اگر وہ جاب سے نکال دیتا تو ان سب کیلئے مشکل ہو جاتی۔ تمہارے اس سوری سے وہ ڈر ختم نہیں ہوسکتا جو میری بیوی کے دل میں بیٹھ چکا ہے۔۔۔ تمہارے اس سوری سے وہ غنڈے جنہوں نے میری بیوی کو ہاتھ لگایا میں انہیں جان سے نہیں مار سکتا۔۔۔۔ اسکا لہجہ انتہائی روکھا اور ٹھنڈا دینے والا تھا جیسے وہ اپنے غصے کو دبا رہا ہو۔۔

سر ہمیں ایک موقع دے دیں پلیز _____ اسے گاڑی کینجانب بڑھتا دیکھ وہ سبھی ہاتھ جوڑے معزرت کرنے لگے۔۔۔ ابتہاج نے گاڑی کا ڈور کھولتے ماہا کو اندر لٹایا اور پھر مڑتے ان سب کو دیکھا۔”جاؤ ان سب کو زندہ سہی سلامت پکڑ کے لے آؤ میرے سامنے اگر لے آئے تو میں تم سب کو جاب پر رکھ لوں گا۔۔۔۔۔

دروازہ بند کیے وہ چلتا انکے سامنے چند قدموں کے فاصلے پر رکا ____ ابھی تم جا سکتے ہو۔۔۔” ان سب کو دیکھے وہ اپنی بات کہتا گاڑی کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔

وہ سبھی ساکن بت بنے اپنی آنکھوں سے ہوا کی مانند اوجھل ہوتی گاڑی کو دیکھ رہے تھے۔۔

اسلام علیکم انکل آنٹی آئیے اندر آئیں پلیز۔۔۔۔۔۔!” صالح جو امیشہ کو اسکا روم دکھائے واپس اپنے روم میں کا رہا تھا کہ اچانک ڈور بیل پر وہ حیرانگی سے دروازے کی جانب بڑھا کہ اتنی رات کو کون ہو سکتا ہے بھلا۔۔۔۔

مگر سامنے ہی دلاور خان اور منیبہ بیگم کو دیکھ اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔۔۔ کیسے ہو بیٹا۔۔۔” اسے سینے سے لگاتے دلاور خان نے محبت سے پوچھا وہ دل سے اپنے رب کے شکر گزار تھے جس نے انکی بیٹی کو اتنا اچھا ہمسفر عطا کیا تھا۔۔

بیٹا دراصل ہمیں آج صبح ہی پتہ لگا تھا ابتہاج کا تو ہم سے رہا نہیں گیا۔۔۔ مگر جیسے ہی ہم۔یہاں پہنچے تو ابتہاج اور ماہا نہیں تھے گھر۔۔۔۔

چوکیدار نے کہا کہ وہ دونوں کہیں چلے گئے ہیں تو اس وقت رات کو ہم یہاں آ گئے۔۔۔

دلاور صاحب کو یوں بنا بتائے آنا عجیب سا لگ رہا تھا جبھی وہ اسے تفصیل سے بتانے لگے ۔۔۔ انکل ایسے ناں کہیں یہ آپ کا ہی گھر ہے آپ آئیں اندر میں صنم کو بلاتا ہوں ۔۔۔۔ ” صالح انہیں بیٹھنے کا کہتے صنم کو بلانے جانے لگا۔۔۔ نہیں بیٹا اسے آرام کرنے کو دو ہم صبح مل لیں گے طبیعت بھی نہیں ٹھیک اسکی۔۔۔۔۔ منیبہ بیگم نے صالح کو آواز دیے روکا تو صالح نے سوچتے سر ہاں میں ہلا دیا ۔۔۔

انٹی انکل آپ فریش ہو جائیں میں کھانے کا بندوست کرتا ہوں۔۔۔

صالح نے مسکراتے کہا تو دلاور صاحب نے اسے روکا۔۔۔ بیٹا ہم راستے سے کھانا کھا کر آئے تھے آپ پریشان ناں ہوں ۔۔۔ “اب بس ریسٹ کریں گے۔۔۔ “

اوکے انکل جیسے آپ کی مرضی آئیے میں آپ کو روم میں چھوڑ آتا ہوں، وہ انہیں ساتھ لیے گیسٹ روم میں چھوڑتا باہر آیا تھا۔۔۔۔

پتہ کرو کہ ابتہاج اور ماہا کہاں ہیں اگر وہ کسی مصیبت میں ہوئے تو چھوڑوں گا نہیں کسی کو بھی۔۔۔۔۔ غصے سے سرد آواز میں تنبیہ کرتے صالح نے فون آف کرتے آنکھیں موندی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *