Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 26)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

ابتہاج وہاں اس شاپ پر چلتے ہیں پلیز______ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے الجھے ابتہاج کے ہاتھ پر دباؤ بڑھاتے وہ تقریباً اسے کھینچنے کے سے انداز میں ایک شاپ کی جانب اشارہ کرتے بولی تو ابتہاج نے محبت سے اسے دیکھا ۔۔۔ میں چلوں گا مگر بدلے میں مجھے کیا ملے گا ۔۔۔ اسکے ایک ہاتھ میں شاپنگ بیگز تھے جو ابھی ماہا نے سارا بازار گھومتے شاپنگ کی تھی ۔۔۔۔۔۔

‘ایک تو آپ ہر بات میں ایسے شرطیں کیوں رکھ دیتے ہیں کبھی بنا کسی غرض سے بھی بات مان لیا کریں ۔۔۔وہ منہ بناتے ناراضگی سے کہتے منہ پھیرے کھڑی ہوئی تو ابتہاج نے لب کا کونہ دانتوں تلے دبائے اسے دیکھا ۔۔۔ ” جب بیوی اتنی خوبصورت اور جان لیوا ہو تو پھر بندے کا دل بار بار فرمائشی تو ہو گا ہی ناں۔۔۔۔۔۔” وہ جھکتے اسکی گردن میں اپنا بازو ڈالے اسے کھینچتے اسکی پشت خود سے لگائے محبت سے سرگوشی کرتے بولا۔ ۔۔

تو ماہا بلش کرنے لگی ۔۔۔ اسنے خفگی سے اپنی گردن سے ابتہاج کا بازوؤں نکالنا چاہا ۔۔ ” اوکے ایسا کرتے ہیں پہلے اس شاپ پر لے چلتا ہوں جو شاپنگ کرنی ہے کر لو اسکے بعد ہم سیدھا ہوٹل جائیں گے جہاں صرف میری مرضی چلے گی ۔۔۔۔ وہ محبت سے اسکی پیشانی پہ بوسہ دیے گہرے لہجے میں بولا تو ماہا کے گال دہکنے لگے ۔۔۔۔۔ابتہاج اسکے کندھوں کے گرد اپنا مضبوط حصار بنائے اسے خود سے لگائے شاپ کینجانب بڑھا ۔۔۔۔۔

صالح کوئی حد ہوتی ہے ہم یہاں ایک ساتھ گھومنے آئے ہیں مگر آپ نے مجھے ایک بار بھی اپنی بہن سے نہیں ملنے دیا ۔۔۔۔ صالح کے سامنے منہ پھلائے وہ کھانے کو گھورتے ناراضگی جتاتے اپنےدونوں ہاتھ سینے پر باندھے بولی تو صالح نے بغور اسکے روٹھے روٹھے تیور دیکھے، وہ یہاں پر ہنی مون منانے ایک ساتھ نکلے تھے مگر یہاں مری میں پہنچتے ہی صالح اور ابتہاج نے ان دونوں کو ملنے تک نہیں دیا تھا۔۔

صنم نے بارہا کہا تھا کہ صرف ایک مرتبہ اسے ملنے دے مگر صالح اپنی ضد پر قائم تھا وہ اپنے ہنی مون میں اپنی پرائیویسی میں کسی کا بھی ذکر یا پھر موجودگی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ اور کچھ ایسی ہی سوچ ابتہاج کی تھی جبھی وہ دونوں اپنے پلین کے مطابق ان دونوں کو گھمانے لے جانے سے پہلے آپس میں جگہ کنفرم کر لیتے تھے۔۔جانتے جو تھے اب کی بار ملی یہ بہنیں ان دونوں کا سارا ہنی مون سپائل کر دیں گی ۔۔۔۔

چلو جلدی سے ڈنر فنش کرو پھر کہیں گھومنے چلتے ہیں اسکے موڈ کو ٹھیک کرنے کی خاطر صالح نے پچکارتے ہوئے صنم کے گال کو چھوا تو وہ خفا سی نظروں سے اسے گھورتے خاموشی سے کھانا کھانے لگی_

_______________

ابتہاج مجھے لگتا ہے کہ اب ہمیں واپس چلنا چاہیے جتنے دن ہو گئے ہیں ، یہاں آئے۔۔۔۔۔۔۔ ” ہاتھ میں پکڑے بیگز کو بیڈ پر رکھتے وہ تھکاوٹ سے چور لہجے میں بولی تو ابتہاج نے دروازہ لاک کرتے ائبرو اچکاتے مڑتے اسے گھورتے دیکھا۔۔ ابھی تو ہم نے ٹھیک سے انجوائے بھی نہیں کیا جان اور تمہیں واپس جانے کی پڑی ہے۔۔۔۔ابھی تو تمہیں شاپنگ کرواتے ہی یہ دو چار دن گزرے ہیں ۔۔ مگر میں نے سوچ لیا ہے کہ اب سے ہم کہیں نہیں جا رہے ، کیونکہ اب سے یہ سارا وقت صرف اور صرف میرا ہے ۔۔۔

ابتہاج نے کھینچتے اسے اپنے قریب تر کرتے گہرے لہجے میں کہا تو ماہا شرم سے دہکتا اپنا گلال چہرہ اسکے سینے میں چھپا گئی ۔۔۔ ابتہاج نے قہقہ لگاتے اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرا تو ماہا کی پلکیں ہمشیہ کی طرح ابتہاج کی قربت میں لرزنے لگیں ۔۔۔۔ ابتہاج گہری بےباک نظروں سے اسکے معصوم چہرے کو دیکھتے جھکتے اسکے نازک ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں قید کرتے ماہا کی خؤشبو کو خود میں اتارنے لگا ۔۔۔۔۔۔ ماہا بھی اسکے لمس اسکی قربت پر آنکھیں موندیں خود میں اترتی اسکی دہکتی سانسوں اپنے ہونٹوں پر اسکی جنون بھری گرفت پہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکے کالر کو دبوچے ابتہاج کے سہارے کھڑی تھی۔۔۔۔۔

ابتہاج نے اپنی شدتوں سے اسے نڈھال کرتے پیچھے ہوتے ماہا کا دہکتا سرخ چہرہ دیکھ اسے نرمی سے اٹھائے بیڈ پر لے جاتے لٹایا ۔۔۔۔ تو ماہا نے گہری سانس بھرتے آنے والے لمحات کے لئے خود کو تیار کیا۔۔۔۔ ابتہاج اسکی گردن پر جھکا اپنی محبت سے اسے بھگونے لگا ، ماہا کا سانس ابتہاج کی بڑھتی شدتوں پہ بھاری ہونے لگا ۔۔۔ ابتہاج اسکے نازک وجود میں کھویا بالکل مدہوش سا تھا۔۔۔۔۔ کہ اچانک کمرے میں گونجتی اسکے موبائل فون کی رنگ پر ابتہاج نے سخت گیر نظروں سے میز پر پڑے اپنے موبائل کو گھورا۔۔۔۔

وہ اگنور کیے پھر سے ماہا پر جھکنے لگا کہ ماہا نے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا۔۔۔ابتہاج اسکے دائیں بائیں تکیے پر ہاتھ ٹکائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ پہلے کال پک کریں۔ کیا پتہ کوئی ضروری کال ہو۔۔۔۔۔” ماہا نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا تو ابتہاج نے سر کو نفی میں ہلاتے اسے گھورا ۔۔۔ جانتا ہوں بس مجھ سے بچنے کے بہانے تلاشتی رہتی ہو، دومنٹ رکو ابھی کرتا ہوں تمہیں سیٹ۔۔۔۔۔ ابتہاج نے وارن کرتے لہجے میں اسے سخت نظروں سے گھورا تو ماہا اپنا حلیہ ٹھیک کرتے کروان سے ٹیک لگائے ابتہاج کی چوڑی پشت کو دیکھنے لگی ۔۔جو اب فون پر کال بیک کر رہا تھا ۔۔۔۔

کیوں کیا ہوا ہے سب کچھ ٹھیک تو ہے ۔۔۔۔؟” ابتہاج کی آواز میں بے چینی فکر گھلی دیکھ ماہا اٹھتے اسکے قریب ہوئی اور نرمی سے ابتہاج کے کندھے پر ہاتھ رکھا ابتہاج جو دلاور صاحب کے یوں ایمرجنسی میں بلانے پر پریشان سا تھا اسنے جبرا مسکراتے ماہا کو ریلکیس کرنا چاہا جو کافی پریشان ہو چکی تھی ۔۔۔۔ اوکے انکل ہم ابھی نکلتے ہیں آپ پریشان ناں ہوں۔۔۔۔۔۔

وہ کال کٹ کرتے مرا تو ماہا کے خوف سے زرد پڑتے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں بھرا۔۔۔۔ کیا ہوا میری جان سب کچھ ٹھیک ہے پریشان ناں ہو تم۔۔۔۔۔۔ ضرور کوئی ایمرجنسی ہو گی بزنس کا ورک ہو گا کیونکہ ماما پاپا بھی عمرے کیلئے گئے ہیں تو پیچھے سے ہم بھی اتنا برڈن ڈال کر نکل آئے ہمیں یوں نہیں آنا چاہے تھے ۔۔۔۔ ماہا کو سینے میں بھینجتے ابتہاج نے اسکی پیٹھ سہلاتے اسے نارمل کیا۔۔۔۔

ویسے بھی اب گھوم پھر تو لیا ہے تم ایسا کرو سامان پیک کرو میں صالح اور صنم کو بلا لوں ایک ساتھ ہی واپسی پر نکلیں گے ۔۔ ماہا کی پیشانی کو چھوتے وہ اسکا گال تھپتھپاتا روم سے نکلا۔۔۔۔۔ پیچھے وہ سب بہتر ہونے کی دعا کرتی جلدی سے سامان سمیٹنے لگی ۔۔۔۔۔

اگلے آدھے گھنٹے میں وہ سارا سامان گاڑی میں رکھ چکے تھے صالح اور صنم بھی آ چکے تھے وہ ایک ساتھ ہی واپسی پر نکلنے والے تھے ۔۔۔۔۔۔

_____________

اببب ابتہاج۔۔۔۔۔۔” صبح کے چھ بجے تک وہ واپس گھر پہنچے تھے راستے میں صنم کی صحت کے باعث وہ کافی دیر سوئی رہی تھی مگر ماہا ایک پل کیلئے سو نہیں پائی تھی اتنا تو وہ جانتی تھی کہ ضرور کچھ بڑا ہوا تھا جبھی پاپا نے انہیں یوں اچانک سے واپس بلا لیا تھا ۔۔۔۔۔

جونہی گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہوئی تو سامنے اپنے لان میں اتنے سارے لوگوں کو اکٹھا دیکھ ماہا نے ڈرتے ابتہاج کے بازوؤں کو مضبوطی سے تھاما تو ابتہاج نے چہرے پر حیرانگی خوف سموئے اپنے سامنے سے روتے ہوئے آتے دلاور شاہ کو دیکھا ۔۔۔ صالح اور صنم خود بھی پریشان تھے اخر ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ یوں رو رہے تھے اور اتنے سارے لوگ کیوں اکھٹے تھے انکے گھر پر ______؟”

ابتہاج میرے بچے۔۔۔۔۔ دلاور شاہ سب کو حیرت زدہ چھوڑتے ابتہاج کے پاس آتے اسے گلے لگائے رونے لگے۔۔ ابتہاج کا دل خوف سے تیز تیز دھڑکنے لگا۔۔ اسنے بنا وقت ضائع کیے انہیں پکڑتے خود سے دور کیا اور انجان نظروں سے انہیں دیکھتا وہ ان لوگوں کے پاس جانے لگا۔۔۔۔ آپ سب کیوں اکھٹے ہوئے ہیں یہاں ۔۔۔ جائیں پلیز سب جاؤ اپنے اپنے گھر ۔۔۔۔وہ غصے سے کہتا دلاور شاہ کی جانب دیکھنے لگا ماہا کی ٹانگیں ڈر سے کانپ رہی تھی وہ کچھ بھی برا نہیں سننا چاہتی تھی ۔۔۔

” انکل بھیجیں ان سب کو_____” اسکی آنکھوں میں ایک ان دیکھا خوف تھا جیسے کچھ ہونے والا ہو بہت ہی برا ۔۔۔۔۔۔!”

بیٹا یہ سب تمہارے پاس تعزیت کیلئے آئے ہیں ۔۔۔۔۔!” دلاور شاہ نے آنکھیں پونچھتے ابتہاج کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا تو سبھی حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگے ۔۔۔ابتہاج نے حیرانگی سے زیر لب یہ لفظ دہرایا ، ککک کس لیے کک کس کی تعزیت ان سب کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے پلیز آپ سس سب جائیں اپنے گھروں میں۔ ۔۔۔۔ ۔۔ اسکے قدم لڑکھڑا رہے تھے دماغ سائیں سائیں کرنے لگا سینے میں ایک دم سے درد کی ٹیس سی اٹھی تھی وہ دل ہی دل میں اپنے رب سے دعا گو تھا کہ یا رب جیسا میرا دماغ سوچ رہا ہے ایسا ویسا کچھ بھی ناں ہو ۔۔۔۔۔۔

” بیٹا یہ سب تمہارے پاس آئیں ہیں کیونکہ کاشان صاحب اور منیبہ بھابھی اب اس دنیا میں نہیں رہے ان کا پلین کریش ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔ ” خبر تھی کہ کوئی دھماکے جو ابتہاج کے اعصاب شل۔کر گیا۔۔۔۔اسے ایسا لگا کہ جیسے پورے کا پورا گردیزی ہاؤس اسکے سر کے اوپر گر گیا ہو۔۔۔ قدم ایک دم سے لڑکھرائے تھے وہ بے یقنی سے نیچے گرتا چلا گیا۔۔

ماہا ںے یقینی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھے تھے جبکہ صنم ایک دم سے سن پڑتی صالح کو تھامے کھڑی تھی سبھی اس قیامت پر ٹوٹ سے گئے تھے ۔۔۔۔ابتہاج نے روتے ہوئے اپنے بالوں کو بری طرح سے نوچنا شروع کر دیا ۔۔۔اسکی دھاڑیں اسکی چیخیں پوری ولا میں گونجتے ایک وخشت کربناک ماحول برپا کر گئی۔۔

صالح نے آگے بڑھتے اسے سنبھالنا چاہا تھا جو بری طرح ٹوٹ کے بکھرا تھا۔۔۔۔اسکی حالت دیکھ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ۔۔ ہر چہرہ اداس تھا مگر ماہا تو اپنی جینے کی وجہ کو اس حال میں دیکھتے ہی اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔۔۔۔ وہ کیسے سنبھالتی خود کو اس کیلئے تو یہ سب یقین کر پانا بھی ناممکن تھا ۔۔

دلاور صاحب نے آگے بڑھتے اسے سہارہ دیا تو ابتہاج نے ضبط سے اپنی سرخ پڑی آنکھوں سے دلاور صاحب کو دیکھا ۔۔۔ لوگ حیرانگی سے اسے دیکھ رہے تھے وہ خود انجان تھے کیا ابتہاج اس خبر سے انجان تھا۔۔۔ ابتہاج نے اٹھتے دلاور صاحب کو دیکھا جو اسے سینے سے لگائے اسے دلاسہ دینے لگے۔۔۔۔

ابتہاج سرخ آنکھوں سے لب بھینجے اپنے آپ پر ضبط کرتے انکے ساتھ لگے کھڑا تھا ۔۔ یہ دلاسے یہ تسلیاں یہ افسوس اسکے غم کو کم نہیں کر سکتا تھا۔۔ وہ بظاہر تو ان سب کے بیچ کھڑا تھا مگر اسکا ذہن بری طرح معاوف ہو چکا تھا۔

________

صالح اور صنم یہی تھے ماہا کے پاس ۔۔۔۔ ابتہاج جانے کب سے اپنے آپ کو روم میں لاک کیے ہوئے بیٹھا تھا ۔۔۔ خوشیوں سے چہکتے اس پررونق گھر میں صف ماتم بچھا ہوا تھا۔ خاموشی نے ایسا ڈیرا ڈالا تھا کہ اب یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اس وخشت ناک ماحول میں کوئی ذی روح آباد نہیں تھا۔۔۔۔

ہر کوئی شاک میں تھا مگر ابتہاج کا غم ایسا تھا کہ وہ خود کو اس سے نکال نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔ ماہا _______ ماہا جو جانے کب سے اپنے کمرے میں اداس سی بیٹھی تھی صنم ہاتھ میں کھانے کا ٹرے لیے اندر آتے ہی اسے پکارنے لگی ۔۔۔۔ ماہا نے نم سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔ تو صنم گہرا سرد سانس فضا میں خارج کرتے اسکے قریب جاتے اسے خود سے لگایا ۔۔

صنم یہ سس سب۔۔۔۔۔ یہ سب کیسے ہو گیا پاپا ماما وہ کیوں چلے گئے ہمیں چھوڑ کے ۔۔۔۔اسکے سینے سے لگے وہ غم زدہ سی ہوتے بولی تو صنم نے اسکی پیٹھ تھپکتے اسے ساتھ لگایا ۔۔ماہا اس دنیا میں جو بھی انسان آیا ہے اسکے واپس جانا ہی ہے میری جان۔ خود کو سنھبالو اگر تم ہی ایسے ٹوٹ جاؤ گی تو کون سنبھالے گا ابتہاج کو اسے ضرورت ہے تمہاری ۔۔۔۔۔۔ صنم نے اسے پیار سے سمجھایا تھا۔۔ وہ خاموشی سے سنتی ابتہاج کے دکھ ہر پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔

بس کرو ماہا میری جان صبح سے بھوکی ہو چلو کچھ کھا لو _____” اسکے چہرے سے بال سمیٹتے، وہ محبت سے بولی تو ماہا نے سر نفی میں ہلا دیا ۔۔۔ ابتہاج دکھی ہے صنم______ بھلا میں کیسے کھانا کھا سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔ اپنے آنسوں پونچھتے وہ صنم کو دیکھے معصومیت سے بولی تو صنم نے محبت سے اسکی پیشانی پر ہونٹ رکھے ۔۔۔

تمہاری اپنی طبیعت ٹھیک نہیں۔ تم اور صالح سو جاؤ میں ابتہاج کے پاس جا رہی ہوں ۔۔۔۔ وہ صنم کو بتاتے تیزی سے بیڈ سے اتری تو صنم نے دور تک اسکی پشت کو دیکھا ۔۔۔

___________

وہ جانے کب سے اپنے آپ کو لاک کیے اندر بیٹھا تھا ۔۔۔ بکھرے حلیے میں سرخ نظروں سے وہ ایک ہاتھ میں سگریٹ پکڑے بیڈ کے پاس نیچے بیٹھا اپنے دوسرے ہاتھ سے اپنی گود میں رکھی اپنے موم ڈیڈ کی تصویر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ انکے ساتھ گزارا ایک ایک لمحہ اپنے پاپا کی خوشی سے چمکتی انکھیں انکے آخری لمس اپنی ماں کا محبت سے ماتھے کو چھونا ۔۔۔ اپنی گود میں رکھی اپنے ماما پاپا کی مسکراتی تصویر کو چھوتے وہ اذیت سے دوچار تھا ۔۔۔۔۔

کیسا بدنصیب بیٹا تھا وہ جو آخری بار انکو دیکھ بھی نہیں سکا تھا۔۔۔۔ ہاتھ میں جلتا سگریٹ اسکی انگلیوں کو جلا رہا تھا۔۔ مگر ہوش کسے تھا وہ تو بالکل بکھر سا گیا تھا ۔۔۔۔۔ بس وجود میں جان باقی تھی ۔۔۔۔ مگر تکیلف اور غم نے اسے بےموت اذیت سے دوچار کر دیا تھا۔۔۔۔

ماہا جو بے آواز دروازہ کھولتے اندر داخل ہوئی کمرے میں سگریٹ کے پھیلے بےتخاشہ دھوئیں کی وجہ سے اسکا سانس سینے میں الجھ سا گیا تھا ۔۔۔۔ آنکھوں میں اس قدر دھوئیں کہ وجہ سے پانی آنے لگا، وہ منہ پر کپڑا رکھتے آگے بڑھی تھی اور خاموش بت بنے ابتہاج کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ماہا نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو وہ حالی حالی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

اسکی بکھری اذیت ناک حالت ماہا کی آنکھوں میں ایک دم سے جانے کتنے آنسوں آئے تھے وہ تیزی سے اسکے قریب بیٹھتے ابتہاج کے چہرے کو ہاتھ کے پیالے میں بھرتے اسکے آنسوں صاف کرنے لگی۔۔۔۔ ابتہاج نے سرخ نظروں سے اسے دیکھا جو اسکے غم۔میں اسی کی طرح بے تخاشہ رو رہی تھی۔۔۔ ابتہاج نے ایک دم سے اسے کھینچتے اپنے سینے میں بھینجا کہ اس افتاد پر جہاں ماہا سہم گئی تھی وہیں ابتہاج کا جنون اسے مزید ہولا گیا تھا۔۔۔۔۔۔

ابتہاج کے انسںوں ماہا کے کندھے پر گرتے اسکی گردن میں جذب ہونے لگے۔۔۔۔اسکی بکھری حالت ماہا کو مزید بےچین کر گئی۔۔۔۔ ماہا نے اپنے نازک ہاتھوں سے اس چوڑے جوان مرد کے کندھوں کو تھامے اسے اپنے ہونے کا یقین حوصلہ مان دیا تھا۔۔۔۔۔ ماہا میری ماما پاپا وہ چلے گئے مجھے چھوڑ کر ۔۔مم ماہا ۔۔۔۔ دیکھو سب کچھ ختم ہو گیا ہے تمہارا ابتہاج اکیلا پڑ گیا بے بس ہو گیا میں ۔۔۔۔کتنی محبت کرتے تھے وہ دونوں مجھ سے تم سے ۔۔۔۔۔ مگر میں انہیں نہیں بچا پایا ۔۔۔۔

ابتہاج کا ہر لفظ ماہا کو مزید دکھی کر رہا تھا ، وہ آگے ہی اس غم سے بری طرح سے بے حال تھی مگر ابتہاج کہ حالت اسے مزید کمزور کر گئی تھی ۔۔۔ اج پہلی بار ابتہاج کو یوں روتا دیکھ اسکی تکلیف کو خود میں بھی محسوس کرتے ماہا کے ہونٹ جیسے سل گئے تھے کوئی لفظ نہیں بچا تھا جیسے اسکے پاس ۔۔۔۔۔ ابتہاج نے ایک دم سے اسے چھوڑتے اپنے آنسوں صاف کیے تو ماہا نے اسکے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا۔۔۔۔۔۔

ابتہاج پلیز آپ خود کو سنبھالیں۔۔۔۔۔ یہ وقت خود کو مضبوط بنانے کا ہے ۔۔۔ اور آپ یہ تو سوچیں کہ وہ اللہ کی راہ کیلئے نکلے تھے کتنے خوش نصیب تھے ہمارے ماما پاپا جو ان کو اللہ پاک نے اس راہ میں جاتے ہوئے اپنے پاس بلا لیا ۔۔۔۔ کیونکہ مرنا تو ہم سب نے ہے مگر ایسی موت تو اللہ کے پیاروں کو نصیب ہوتی ہے۔۔

ابتہاج کے سینے سے لگی وہ اپنے لفظوں سے اسکے زخموں کو بھرنے کی کوشش کرنے لگی۔ ابتہاج نے آنکھیں موندے خود کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔۔۔۔۔

ماں باپ ہی اولاد کا سکون انکا سہارہ ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ انکی محبت کی چھاؤں تلے ہمیں ہر دکھ ہر تکلیف چھوٹی سی بے ضرر لگتی ہے مگر یہی ماں باپ ہم سے دور چلیں جائیں انسان کو اپنا آپ حالی حالی سا لگنے لگتا ہے ۔۔۔ جیسے وہ سب کچھ پا کر بھی اپنی روح کو کھو چکا ہو۔۔۔

_____________

ماہا کیسی ہے اب۔۔۔۔۔” صنم کے پاس بیٹھتے صالح نے کھینچتے اسے اپنی گود میں بٹھائے پوچھا ۔۔۔۔ تو صنم نے سرد سانس خارج کرتے افسردگی سے اپنا سر صالح کے سینے سے لگایا ۔۔۔۔۔ وہ ٹھیک ہی ہے صالح مگر ابتہاج ٹھیک نہیں وہ اس اچانک ہوئے حادثے پر بالکل ٹوٹ سا گیا ہے ، ۔۔۔ ” ہم کیسے سب کچھ ٹھیک کریں گے۔۔۔۔ ” صنم کافی متفکر تھی وہ جانتی تھی کہ اس وقت ماہا اور ابتہاج دونوں کو ہی انکے سہارے اور انکے ساتھ کی ضرورت تھی۔۔۔۔

ہم کچھ بھی ٹھیک نہیں کر سکتے میری جان ۔۔۔۔وہ اوپر بیٹھا ہم سب کا مالک وہی ہے جو سب کچھ ٹھیک کر سکتا ہے۔۔۔۔ انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا ابھی اسکا غم تازہ ہے اسے وقت لگے گا ان سب سے نکلنے میں مگر تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔ ہم ساتھ ہیں انکے ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا ان دونوں کو۔۔۔۔۔۔ صنم کی پیشانی پر لب رکھتے صالح نے اسے محبت سے خود میں بھینجتے کہا تو صنم نے آنکھیں موندتے اپنے رب کا شکر ادا کیا جس نے اسے اتنا خوبصورت ہمسفر عطا کیا تھا ۔۔۔

بیڈ کے پڑے صالح کے موبائل فون نے ان دونوں کو کی اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔۔صنم نے چونکتے موبائل فون کو دیکھا۔۔۔ صالح نے فون اٹھائے نمبر دیکھا تو چونکتے اسنے ماتھے پر بل ڈالے صنم کو ایک جانب کیا تھا ۔۔۔۔

صنم اسے ہی دیکھ رہی تھی جو فون لیے بالکونی کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔۔

ہمممم کہیے انسپکٹر صالح نے چونکتے فون کان سے لگائے انسپیکٹر کی کال کی بابت پوچھا ۔۔۔۔۔۔ ” مسٹر صالح آپ کے مطابق ہم نے ابتہاج سر کو نہیں بتایا کہ سمیر جیل سے بھاگ نکلا ہے مگر ہم اسے کب سے ڈھونڈ رہے ہیں وہ ہمیں نہیں ملا ۔۔۔۔۔ ہمیں شک ہے وہ کہیں ابتہاج سر کے گھر پر ناں حملہ کر دے تو جب تک ہم۔پہنچتے ہیں پلیز آپ دیکھئے گا ۔۔۔حالات کنٹرول میں رہیں ۔۔۔۔ انسپیکٹر نے صالح کو کال کے متلعق بتایا تو صالح فورا سے کال کاٹتے تیزی سے باہر کی جانب بڑھا۔۔۔۔

کیا ہوا ہے صالح آپ پریشان کیوں ہیں۔۔۔۔؟_ اسکی متفکر سے چہرے کو دیکھتے صنم۔نے بےچینی سے استفسار کیا ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا باہر سے آتی چیخوں کی آواز نے اسے اپنی جانب راغب کیا۔۔۔۔۔ صنم اپنا خیال رکھنا اور کمرے سے باہر مت آنا۔۔۔۔ اسکے سر کو تھپکتے وہ تیزی سے کہتا روم سے نکلا تھا۔۔۔۔۔

” صالح صص صالح کیا ہوا ۔۔۔۔۔؟! وہ اسکے پیچھے تیزی سے بھاگتے جانے لگی مگر صالح نے جلدی سے دروازہ بند کیا تھا۔۔۔۔۔

سس سمیر یہ کیا کر رہے ہو تم ۔۔۔ نیچے کرو اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ماہا حواس باختہ سی سمیر کے وخشی روپ اسکی آنکھوں میں۔ جھلکتے خون کو دیکھ کر جلدی سے بولی تھی جس کی بے تاثر نظریں ماہا کے پیچھے کھڑے ابتہاج پر تھیں۔۔۔

چپ کر تُو ۔۔۔۔۔۔ اگر اب آواز کی تو پہلی گولی تجھے ماروں گا سمجھی۔۔۔۔۔۔ کتنا کچھ کیا میں نے تجھے برباد کرنے کیلئے سالے مگر تُو پھر بھی ویسے ہی آزاد ہے باکل ٹھیک ٹھاک ۔۔۔۔۔۔ تجھے لگتا ہے کہ سمیر تجھے اتنی آسانی سے چھوڑ دے گا۔۔۔۔ نہیں ابتہاج یہ تیری بھول ہے کہ تو مجھے جیل میں بھجوائے گا اور میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہوں گا ۔۔۔

ابتہاج کی بے تاثر نظروں میں دیکھتا وہ گرجتے خونخوار لہجے میں بولا تو ماہا نے سہمتے ابتہاج کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسے کچھ بھی نہیں ہونے دے گی۔۔۔۔ ددد دیکھو سس سمیر ابتہاج کو کچھ مت کرنا پپ پلیز۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھے مار دو مگر ابتہاج کو چھوڑ دو پلیز۔۔۔۔۔اسکے آگے بازوؤں پھیلائے وہ منت بھرے لہجے میں بولی تو سمیر بےساختہ ہی قہقہ لگا اٹھا۔۔۔۔

واہ واہ ۔۔۔اسے کہتے ہیں اصل محبت کیا تڑپ ہے۔۔۔۔۔؟ ” سمیر ہنستا ماہا کا مذاق اڑاتے ہوئے بولا تو ابتہاج نے غصے سے ماہا کو ایک جانب کرتے اپنے قدم آگے بڑھائے تو اسے اپنی جانب بڑھتا دیکھ سمیر نے ایک دم سے بندوق کا رخ سامنے کرتے ٹھاہ ٹھاہ سے فائر کیے تھے۔۔۔۔۔ کمرے کے وخشت ناک ماحول میں ماہا کی دلدوز چیخیں گونج اٹھی ۔۔۔۔۔۔

______________

ابتہاججججججج__________ ” وہ گہری نیند سے پیسنے سے شرابور چیختے ہوئے اٹھی تھی۔ صنم نے تڑپتے اسے سہارہ دیا جو پاگل سی دکھ رہی تھی ۔۔۔۔اسکی آنکھوں کے نیچے سیاہ ہلکے کھلے بال ۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کی ویرانی دیکھ صنم کا دل دکھ سے بھر گیا۔۔۔۔۔ ۔

ااببب ابتایج کک کہاں ہے ۔۔۔۔۔ مم مجھے اسکے پاس جانا ہے ۔۔۔۔۔!” اپنے ہاتھ میں لگی ڈرپ کی پن نکالتے وہ چلاتے ہوئے بیڈ سے اٹھی تو صنم نے گھبراتے اسے سنھبالنا چاہا ۔۔ “

ماہا کیا ہو گیا ہے کیوں پاگلوں کی طرح کا برتاو کر رہی ہو ٹھیک ہے ابتہاج۔۔۔۔۔۔۔!”

اسکے بازوؤں کو جھنجھوڑتے وہ اسے ہوش دلانے لگی۔۔ماہا نے سہمی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔ مممم مجھے درد دیکھنا ہے اسے ابھی اسی وقت۔۔۔۔۔۔” صنم کے ہاتھ کو بے دردی سے جھٹکتے وہ پھر سے کمرے سے جانے کو پر تولنے لگی۔۔۔۔

ماہا ہوش میں آؤ مر گیا ہے وہ ۔۔۔۔۔۔۔ ” ابتہاج نہیں رہا اب اس دنیا میں مر گیا ہے وہ۔۔۔۔۔۔” اسے بازوؤں سے جھنجھوڑتے وہ اونچی آواز میں چیختے ہوئے بولی تو ماہا نے دہشت زدہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔ اسکی حالت پر صنم تڑپ کے رہ گئی تھی پورے چوبیس گھٹنوں کے بعد وہ ہوش میں آئی تھی صنم۔جانتی تھی کہ یہ سب ماننا ماہا کے لئے آسان نہیں تھا ۔

وہ اتنی جلدی اتنا سب کچھ قبول نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔ ایک ساتھ جانے کتنی قیامتیں اس معصوم کے سر پر ٹوٹی تھیں۔۔۔ ماہا۔۔۔۔” چپ کرو تم خاموش ہو جاؤ بالکل پاگل سمجھا ہے کیا مجھے ۔۔۔۔۔؟” خبردار جو میرے ابتہاج کو مرا ہوا کہا۔ ادھر دیکھو میں زندہ ہوں ناں سانسیں چل رہی ہیں میری تو پھر اسے بھلا کیا ہو سکتا ہے۔۔۔؟” میرا دد دل جانتا ہے کہ کہ وہ زندہ ہے ۔۔۔ اسے کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔”

وہ بری طرح سے روتی ایک دم سے زمین پر ڈھے سی گئی تھی۔ اسکی بکھری حالت کسی کو بھی تڑپا سکتی تھی۔۔۔صنم تو پھر اسکی بہن تھی۔۔۔۔ صنم نے اسکے قریب بیٹھتے اسے خود میں بھینجا تھا ۔۔۔۔ یہ وقت ان سب کیلئے بے حد مشکل تھا ۔۔۔۔۔صالح جانے کیسے یہ سب کچھ اکیلے سنبھال پا رہا تھا۔۔۔۔۔ مگر ماہا تو آج حالی دامن ہو کے رہ گئی تھی۔۔۔۔

_____________

دو ماہ بعد******

ماہا کھانا کھا لو۔۔۔۔۔” صنم اسکے قریب بیھٹے محبت سے اسکے چہرے پر آتے بالوں کو پیچھے کرتے بولی تھی۔۔۔۔ مگر ہمیشہ کی طرح وہ غصے میں کھانے کی ٹرے کو ہاتھ سے جھٹکتے منہ پھلائے اٹھنے لگی کہ صنم نے اسے ہاتھ سے پکڑتے واپس اپنے قریب بٹھایا ۔۔۔۔ ان دو مہینوں میں ماہا کی حالت دن بدن بدتر ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ابتہاج کی یادوں میں وہ اس قدر پاگل ہو گئی تھی کہ اب اسکا ذہنی توازن بگڑنے لگا تھا ۔۔۔ صنم اور صالح کے لیے اسے سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔۔مگر وہ اسکے ساتھ تھے۔۔۔۔۔

ماہا تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔۔۔ اور جانتی ہو اگر تم نے اب بھی کھانا نہیں کھایا تو بے بی بہت روئے گا۔۔۔۔۔۔ کہ اسکی ماما نے کچھ نہیں کھایا تو وہ کیسے کھانا کھائے گا ۔۔ اسکی تھوڑی سے پکڑتے صنم نے ہمشیہ کی طرح اسے پھر سے سمجھایا تو وہ سوچ میں پڑ گئی ۔۔۔۔

اچھا۔۔۔۔۔ اگر میں کھانا کھاؤں گی تو بے بی کو بھی کھانا ملے گا۔۔۔۔۔وہ اپنے پیٹ کو چھوتے اپنی اداسی سے بھری بے رنگ آنکھوں سے صنم کو دیکھتے پوچھنے لگی تو صنم نے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔۔۔ ماہا کو سنبھالنا شاید اتنا مشکل ناں ہوتا مگر جب سے اسکے ماں بننے کی خبر ملی تھی صنم۔اور صالح کی مشکلات بڑھ گئی تھیں ۔۔۔۔ کیونکہ اسکا ذہنی توازن بگڑ چکا تھا۔۔ وہ ہر جگہ ابتہاج کو تلاشتی تھی ۔۔۔۔۔ پوری پوری رات روتے رہنا وقت پر کھانا ناں کھانا یہ سب کچھ اب عام ہو گیا تھا۔

اسکی دن بدن بگڑتی حالت کی وجہ سے اسکی پریگننسی مزید کومپلیکیٹڈ ہو گئی تھی۔۔۔۔۔ جس وجہ سے اب صالح اور صنم کو انکا خیال زیادہ رکھنا پڑ رہا تھا۔۔ صنم۔اسے کھانا کھلاتے اچھے سے کمفرٹر دیے اسے سلائے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔

ماہا کتنی دیر تک یونہی کروٹیں بدلتی سونے کی ناکام سی کوشش کرتے آخرکار نیند کی وادی میں اتر ہی گئی تھی ۔۔۔۔

_____________

صنم روم میں آئی تو صالح جو فون پر کسی سے بات کر رہا تھا ایک دم سے صنم کو کمرے میں آتا تھا اسنے جلدی سے کال کٹ کرتے اسکے قریب جاتے اسے بانہوں میں بھرا تھا ۔ ۔۔۔۔ صنم خود بھی تھکی ہاری اسکے کندھے پر سر رکھے آنکھیں موند گئی۔۔۔۔۔

صنم خود بھی پرنگنٹٹ تھی ماہا کی وجہ سے وہ خود کا خیال نہیں رکھ پا رہی تھی ۔۔۔ صالح نے نرمی سے اسے لٹاتے اسکے ماتھے پر ہونت رکھے تو صنم آنکھیں بند کیے سکون اپنے اندر تک اترتا محسوس کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ صالح نے اسکے پاس لیٹتے اسکا سر اپنے بازو پر رکھا اور نرمی سے اسکے بالوں کو سہلاتا اسے پرسکون کرنے لگا ۔۔۔

صالح آپ تھک جاتے ہونگے ناں سب کچھ سنبھالنا کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ صنم نے رخ اسکی جانب کرتے اپنا نازک ہاتھ اسکی گردن میں حائل کیے اپنا چہرہ اسکی گردن میں چھپایا تھا۔۔۔۔۔اسکی فکر پر صالح کے ہونٹوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھر گئی۔۔۔۔۔

جب تم ساتھ ہو تو میری جان کچھ مشکل نہیں ہے۔۔۔۔۔ بس ماہا جلدی سے اس حقیقت کو ایکسپٹ کر لے کہ ابتہاج اس دنیا میں نہیں رہا ۔۔ تاکہ ہم اسکی اور اسکے بچے کی اچھے سے دیکھ بھال کر سکیں۔۔۔۔ صالح اور صنم اسے اپنے ساتھ مری لے آئے تھے اس گھر میں رہتے وہ ایک ہفتہ ماہا نے جس اذیت میں گزارا تھا اسکے بعد ڈاکٹرز کے مشورے پر کچھ اسکی پریگنینسی کی وجہ سے وہ دونوں اسے مری لے آئے تھے۔۔۔

یہاں آ کر وہ رونا چیخنا تو کم۔کر چکی تھی مگر ابتہاج کو اج تک نہیں بھول پائی تھی ۔۔۔۔ جس کا سب سے زیادہ دکھ صنم اور صالح کو تھا ۔۔۔ان کی آنکھوں کے سامنے ہی تو سمیر نے ایک نہیں بلکہ دو گولیاں اسکے سینے پر مارتے اسکی جان لی تھی۔۔۔۔

سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا بس تم پریشان مت ہو ۔۔۔۔” نرمی سے اسکے ہونٹوں کو چھوتے وہ محبت سے بولا تو صنم اس اچانک افتاد پر بلش کرتے اپنی پلکیں جھکا گئی ۔۔۔ تنگ تو نہیں کیا میری بیٹی نے ۔۔۔ وہ اب پھر سے اپنے موڈ میں واپس آتا شرارت سے بولتے اسکے پیٹ کو چھوتے اپنے بےبی کو چھوتے اسے محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔

صالح بس کریں اب آپ حد سے بڑھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔ صنم نے غصے سے اپنی کمر کی جانب بڑھتے اسکے بھاری ہاتھ کو محسوس کرتے صالح کو روکا تو وہ معصومیت سے اسے دیکھتے منہ بنا گیا ۔۔۔۔۔ تمھیں سکون دیا ہے کیا اب میں نہیں لوں اپنا سکون جو تم میں بسا ہے۔۔۔۔ ایک جھٹکے میں آسکی زپ کھولتے صالح نے ہونٹ اسکے کندھے پر ثبت کرتے گہرے لہجے میں کہا تو صنم نے تیز تیز سانس بھرتے اس شخص کو گھورا۔۔۔۔۔

جو ہمشیہ اسے زچ کر دیتا تھا۔۔۔۔۔ صالح می۔۔۔” صنم اسے ٹوکنے لگی کہ صالح نے ایک دم اسکے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اسکے لفظوں کو پی لیا۔۔۔۔۔ اسکے لمس میں نرمی تھی وہ محبت سے اسکے ہونٹوں کو چھوتا اسے اپنی محبت کی دنیا میں لے گیا۔۔۔

_________

اپنے چہرے پر کسی کے سلگتے پرتپش ہونٹوں کے لمس کو محسوس کرتے ماہا نیند میں ہی کسمسائی تھی۔۔۔ ایک دم سے اپنے آپ پر گہرا سایہ محسوس کرتے وہ جھٹ سے آنکھیں کھولے نیم اندھیرے میں اپنے ہونٹوں پر جھکے مقابل کی شدت بھری گرفت پر خوفزدہ سی ہوتے بری طرح سے ہاتھ چلاتے خود کو آزاد کرنے لگی۔۔۔۔ مگر مقابل موجود شخص کی گرفت میں وہ نازک سی جان کسمساتے ہوئے اپنے آپ کا بچاؤ کرنے کی ناکام سی کوشش کرنے لگی۔۔

کہ اسکی بند پلکوں کو دیکھتے ہی مقابل ہونٹ ماہا کی شفاف گردن پر رکھتے اپنا دہکتا لمس چھوڑتا اسے پاگل کرنے کے دم پر تھا ۔۔ وہ بری طرح سے چیختے خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرنے لگی مگر یہ سب نا ممکن سا تھا۔۔۔۔

ایک دم سے ماہا نے دروازے پر ہوتی تیز دستک پر اپنی آنکھیں کھولے آگے پیچھے دیکھا وہ خوف سے بھاگتے دروازے کھولتے ہی صنم کے ساتھ لگتے بری طرح سے رونے لگی۔ ۔۔کیا ہوا ہے ماہا تم ٹھیک تو ہو میری جان ۔۔۔۔۔۔ کیوں رو رہی تھی اس طرح سے ۔۔۔” اسے ساتھ لگائے صنم نے محبت سے پوچھا۔۔۔۔

وو وہ وہاں کوئی یے۔۔۔۔؟” وہ ڈرتے اندر اپنے بیڈ کی جانب اشارہ کرتے پھر سے رونے لگی تو صالح نے ماتھے پر بل ڈالے وہ اندر جاتے ہی سارا کمرہ اور کھڑکی دیکھنے لگا جو اندر سے لاک تھی۔۔۔۔ اسے پھر سے ماہا کی ذہنی حالت پر افسوس ہوا جو ذہنی توازن ٹھیک ناں ہونے پر اپنے پاس سے ہی سب کچھ تصور کر لیتی تھی۔ ۔۔۔

کوئی نہیں یہاں پر ماہا۔۔۔۔۔!” صالح کے اشارہ پر صنم نے اسے گہری سانس بھرتے سمجھایا تو ماہا نے حیرانگی سے اپنے کمرے کو دیکھا۔ ۔۔ننن نہیں وو وہ تھا وہ پہلے بھی آتا ہے من مجھے معلوم ہے ۔۔۔” وہ روتے ہوئے اپنی بات کا یقین دلانے لگی تو صنم اسے ساتھ لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔۔۔۔اج تم میرے پاس سو جاؤ اوکے ڈونٹ وری کچھ بھی نہیں یہ سب کچھ تمہارا وہم ہے ۔۔۔ اسکی بات کو آرام سے وہم گردانتے وہ اسے زبردستی ساتھ لیے اپنے کمرے کی جانب بڑھی ۔۔۔ صالح ایک گہری نظر روم پر ڈالتے دروازہ بند کرتا وہاں سے نکلا تھا ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *