Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 07)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

صنم اپنے کمرے میں بیٹھی کسی غیر مرعی نقطے پر نظریں مرکوز کیے بیٹھی تھی عجب تھکان تھی اس کی آنکھوں میں جیسے کسی خشک صحرا میں ننگے ہاوں بھاگتے ہوئے کوئی شخص تھک جائے ٹھیک ویسی ہی تھکان اس میں سماچکی تھی یادوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا تو اس کے آنکھوں سے آنسو آبشار کی مانند بہنے لگے

صنم بیٹا میری جان کیا ہوا ۔۔۔ آپ کو کیسی لگی یہ چوٹ۔۔۔ ماہا اور صنم ابھی باہر سے آئے تھے جب صنم روتی ہوئی دلاور شاہ کے سینے آلگی دلاور شاہ نے کسی قیمتی متاع کی طرح صنم کو اپنے بازوں میں سمیٹا اور خوب پیار کیا دلاور صاحب بڑِ ی دلجمعی سے اس کے زخم پر مر ہم لگا رہے تھے صنم کا درد اب مسکراہٹ میں بدل چکا تھا کیونکہ دلاور شاہ اس کے پاس تھے اس کا سرمایہ اس کے پاس تھے کتنی عقیدت سے وہ پیشانی چومتے تھے آج تک کتنی بار فیل ہوئی لیکن انہوں نے کبھی مجھے ایک بار نہ ڈانٹا بلکہ ہمیشہ یہی کہا میرا بِیٹا بابا کا نام روشن کرے گا ۔۔۔۔۔ آہہہہہہہہ ری قمست ۔۔۔۔۔

صنم کی آنکھیں بہہ رہی تھیں دل خون کے آنسو رو رہا تھا تبھی دھاڑ کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور روکی اندر آیا صنم نے ایک نظر روکی کو دیکھا اور پھر تنفر سے سر جھٹک گئی اس کے روم روم میں روکی کی نفرت سفر کرنے لگی تھی وہ جب جب اس غلیظ شخص کا چہرہ دیکھتی تھی اپنے باپ کے ساتھ کیا دھوکہ یاد آرہا تھا ۔۔۔ بہت بڑی قیمت چکائی تھی نامحرم سے محبت کی سب خوشیاں اپنے ہاتھوں سے لٹا آئی تھی اب کھونے کو بچا ہی کیا تھا روکی مسکراتا ہوا صنم کے قریب چلا آیا اور بالوں کی لٹ کو اپنی انگلی پر لپیٹنے لگا صنم کا حال تڑپتی مچھلی سا تھا جسے سمندر سے باہر نکال کر مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے موت سے بڑی موت تھی اور پھر صنم دلاور شاہ تہی دامن رہ گئی تھی روکی نے کمر میں ہاتھ ڈال کر صنم کو قریب کیا ۔۔۔۔ صنم کی اچانک حملے پر دبی چیخ نکلی اسے شاید روکی سے قطعا اس دن کے بعد اس پیش قدمی کی امید نہیں تھی لیکن وہ شاید بھول گئی تھی وہ روکی تھا ۔۔۔۔ امیدوں کا خون کرنے والا ۔۔۔۔

صنم زبردست مزاحمت کرتی اپنا آپ روکی کی گرفت سے چھڑانے لگی لیکن روکی جیسے فولادی وجود کے آگے وہ تو تنکے کی مانند تھی ۔۔۔

“چھوڑو مجھے ۔۔۔ چھوڑو غلیظ انسان میں تمہارا خون پی جاوں گی ۔۔۔ مت چھوومجھے نفرت کرتی ہوں میں تم سے سنا تم نے تھوکتی ہوں تم پر “

کبھی کبھی انسان ایک نامعلوم سی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے اور سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کس چیز سے ناخوش ہے۔ اپنی زندگی سے، حالات سے، لوگوں سے یا پھر اپنے آپ سے!

صنم کی بات پر روکی سرخ انگارہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا روکی نے اک دم بالوں سے گھسیٹ کر صنم کا سر دیوار میں دے مارا صنم کی زور دار چیخ پورے کمرے میں گونج اٹھی ایک خون کی لکیر اس کے ماتھے سے بہتی شرٹ میں جذب ہونے لگی صنم درد کی شدت برداشت نہ کرتے اپنے حواس گنوا بیٹھی ۔۔۔۔

اس کے دماغ میں اب صرف ایک ہی بات چل رہی تھی

“اب مجھے تکلیف نہیں ہوتی چاہے کتنی ہی اونچائی سے گرایا جائے کیونکہ مجھے ان ہاتھوں نے دھکا دیا جن پر مجھے یقین تھا “

وقت بہت بڑے اور گہرے زخم دیتا ہے

شاید اسی لیے۔۔۔!!!!

گھڑی میں پھول نہیں سوئیاں ہوتی ہیں

روکی گھٹنا فولڈ کرکے اس کے قریب بیٹھا اور غور سے اسے دیکھنے لگا روکی کے انداز میں ایک پاگلپن تھا روکی بنا رکے صنم کے زخمی نقوش کو چھو کر محسوس کر رہا تھا خود کو ہر سکون کر رہا تھا پر اچانک اپنے ہاتھوں پر لگا خون دیکھ کر حواسوں میں لوٹا فورا صنم کو بازو میں اٹھایا اور باہر کی جانب دوڑ لگا دی

زندگی ایک حسین وادی ہے جس میں والدین ایسا باغ ہیں جو اپنے بچوں کو ہر اس مالی سے محفوظ رکھتے ہیں جو ان کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اکثر وہ باغ جھک جاتے ہیں کیونکہ جن بچوں کی بات ہوتی ہے وہ اپنی آبیاری خود کرنے لگتے ہیں والدین کے باغ کی چھاوں دنیا کی ہر چیز سے اعلی ہے ۔۔۔۔ جسے مل گئی وہ سنور گیا۔۔۔ جسے نہ ملی وہ بکھر گیا ۔۔۔۔

_________

میری بات سنو میں کبھی تمہیں ہرٹ نئی کروں گا پکا پلومس اللہ جی والا بسششش تم نہ جاو فیری ۔۔۔۔۔۔۔”

نیلی گہری آنکھیں سرخ و سفید دمکتی رنگت چوڑے مضبوط شانے وہ دیکھنے میں وجاہت کا شاہکار تھا جو کسی بھی لڑکی کی پہلی ترجیح ہوتا لیکن یہ صرف اس کے خاموش رہنے تک تھا اس کی باتوں سے اس کے لہجے سے سب دور بھاگتے تھے

وہ پچیس سالہ نوجوان بچوں کی طرح اس کے سامنے گڑ گڑا رہا تھا جب کہ وانیہ کو لگ رہا تھا اس کے جسم سے کوئی سانسیں نوچ رہا ہے

کیا وہ اتنی ارزاں تھی اپنے باپ کے لیے جو اسے ایک پاگل کے ساتھ ساری عمر کے بندھن میں باندھ دیا تھا وانیہ کا پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا اس نے اپنے ہمسفر کا ایسا خاکا تو تصور نہیں کیا تھا جیسا وانیہ نے سختی سے اپنی سبز آنکھوں کو بھینچ کر اپنی ازیت کو خود میں اتارا اور بنا کچھ بولے روم سے نکلتی چلی گئی

پیچھے کھڑا وجود اپنی نیلی آنکھوں میں آنسو لیے اسے جاتا دیکھ رونے لگا

_____،،

“کام ہو گیا شہباز _؟

بیسٹ نے اپنی سرد نظریں سکرین پر چلتے منظر پر جماتے ہوئے پوچھا

شہباز نے بیسٹ کی سرد آواز پر اپنے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس کیے

سسسسرررر وہ ہم۔۔۔۔۔۔۔۔شہباز آگے بھی کچھ بولتا جب بیسٹ نے ایک نظر اپنی سرخ نظروں سے اسے دیکھا ناجانے اس ایک نظر میں کیا تھا شہباز بری طرح جھر جھری لے اٹھا

“شہباز جسٹ شٹ اپ تم شاید بھول رہے ہو مجھے انکار سننے کی عادت نہیں ۔۔۔۔۔۔ اب اگر تمہارے منہ سے میں نے انکار سنا تو تمہاری لاش کے ٹکڑے بھی تمہارے گھر والوں کو نہیں ملیں گے “

جیییییی سر اوکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شہباز جلدی سے سر ہلاتا ریڈ روم سے نکلتا چلا گیا

بیسٹ نے اپنی نظریں واپسی اسکرین پر مرکوز کیں جہاں اب ایک خوبصورت سبز آنکھوں والی دوشیزہ کی تصاویر چل رہیں تھیں کسی تصویر میں وہ سبز آنکھوں والی گڑیا مسکراتی ہوئی پھولوں کی طرح مہکتی گارڈن میں بھا گتے خرگوش کے بچے کے پیچھے بھاگ رہی تھی

محبت اور وہ بھی بیسٹ ۔۔۔۔ بڑا ہی عجیب لگ رہا تھا بیسٹ کسی دیوانے کی طرح اپنی گردن ٹیڑھی کیے اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا اگر بیسٹ کو کوئی اس حالت میں دیکھتا تو یقیناً غش کھاجاتا

____

ابتہاج کی جنونیت حد سے سوا تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس طرح ماہاکو تڑپائے بلکل ویسے ہی اپنوں کی نظروں سے دور کردے جیسے اس نے کیا تھا ابتہاج نے جیب سے سگریٹ کا پیکٹ نکالا اور سگریٹ نکال کر پینے لگا

وہ گھر میں سموکنگ بہت کم کرتا تھا یہ عادت اسے کالج کے بعد سے لگی تھی سب کی اگنورینس کے بعد اس نے سگریٹ کو ہی اپنا دوست بنا لیا تھا

ابتہاج نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں اڑایا اور اس سے بنتے ماہادلاور شاہ کے عکس سے مخاطب ہوا

” اب تم جتنی نازک ہو سوچتا ہوں کیسے برداشت کرو گی میری سمندر سے زیادہ گہری شدتیں ،میری تلاطم خیز نفرت ،میرا جنون ہاہہاہاہا سب سوچ کو ابتہاج قہقہے لگانے لگا “

ابتہاج نے نو ک کی آواز پر شو ز تلے سگریٹ مسلی اور اندر آنے کی اجازت دی

ماہا کپکپاتی ٹانگوں کے ساتھ روم میں کھانے کی ٹرے لیکر داخل ہوئی

دل زخمی پرندے کی طرح پھڑ پھڑا رہا تھا نہ جانے اب ابتہاج کیا حال کرتا اس کا ابتہاج نے حیرت زدہ تعصرات چھپاتے ہوئے مسلسل اس پر نظریں جمائیں جو بلیو فراک اور گرے چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے میں بے حد حسین لگ رہی تھی

وہ وہہہہ ببببابا نےےے کھاننننابھیجاااا ہے ماہا لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں رک رک کر بولی

ابتہاج اس کی جھکی نظریں لہجے میں کپکپاہٹ دیکھ کر متبسم سا مسکرایا شاید وہ پہلی بار اس طرح ماہا کے سامنے مسکرا رہا تھا

ابتہاج لمبے ڈگ بھرتا اس کے قریب پہنچا اور ایک ہی جست میں ٹرے اس کے ہاتھ سے لیکر ٹیبل پر رکھی

مجھے میرے نام سے پکارو ۔۔۔۔ وہ ماہا کی تھوڑی جکڑے اپنی سرخ آنکھیں اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں گاڑھے غرا رہا تھا اس کا لمس اپنی تھوڑی اور کمر پر پاکر ماہا کے حواس جھنجھلا اٹھے تھے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی پاگل آدمی کی کبھی کہتا ہے میری نظروں سے دور ہو جاو اور اب ۔۔۔۔۔

مممری ببباتسننننے میممم کیسے آپ کا ننام لوںنن ۔۔۔۔ وہ لڑکھڑاتی آواز میں بولی

پکارو مجھے ابھی ورنہ میں جو کروں گا وہ تمہاری برداشت سے باہر ہو گا ۔۔۔

لیکنننن میں .کیسے بولو مما کہتی ہیں شوہر کا نام نہیں لیتی اچھی لڑکی ۔۔۔

تمہیں سمجھ نہیں آرہی کیا میں کیا کہہ رہا ہوں لڑکی میں آخری بار کہہ رہا ہوں نام لو میرا ورنہ ۔۔۔۔۔

ماہا کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے اس کی سخت پکڑ سے

ابھی اس کے آنسو بہتے کہ اچانک وہ ماہا کےلبوں کی کپکپاہٹ کو قید کر گیا

ماہا کی آنکھیں پھٹ گئیں یہ پہلا لمس تھا جو ستمگر کا پہلا تڑپاتا لمس تھا رگ وجان میں سرد لہرے اٹھنے لگیں تھیں

وہ پاگل جنونی بنا اپنی وحشتیں شمار کر رہا تھا اسے نہی پتا تھا کہ کیا کر رہا ہے بس سکون چاہتا تھا جو اسے اس لڑکی کی خوشبو میں میسر تھا اس کی سانسوں میں تھا اچانک ابتہاج ہوش میں آیااور ماہا کو ہاتھ پکڑ کر دروازے سے باہر دھکیلا اور انتہائی تنفر سے بولا

“میری نظروں میں تمہاری یہی اوقات ہے سنا تم نے اور ہاں تمہارے ہاتھ سے لائے کھانا کھانے سے بہتر ابتہاج گردیزی بھوکا مرنا پسند کرے گا “

ابتہاج نے بولتے ہوئے دروازہ منہ پر بندکیا

ماہا بری طرح روتے ہوئے اپنی چھلی ہوئی کہنیوں کو دیکھنے لگی اور اپنی ساس کے روم کی طرف بھاگ گئی

اور بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی

آج ماہا نے اپنے سسر کے سمجھانے پر ابتہاج کی طرف قدم بڑھایا تھا وہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ مہر کی جان کس عذاب میں پھنس گئ ہےمہت بری طرح روتے ہوئے سسکیاں بھرنے لگی

“ماہا “___؟ دروازہ ناک کرتے صباء بیگم نے نام میں اپنی محبت سمائے پکارا پر جواب ندارد ___ایک بار پھر انہوں نے کوشش کی

تکیے میں منہ دیے سسکتی ماہا نے اپنے ہونٹوں پر مضبوطی سے ہاتھ رکھ لیا اور درد سے آنکھیں سختی سے میچ لیں

ماہس بیٹا مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے “ابتہاج “کے بارے میں

ابتہاج “کا نام سن کر مہر کا دل دھڑک اٹھا

آجائیں ماما ___اٹھ کر بیٹھتی وہ خود پر دوپٹا ٹھیک کرتی اپنا بھیگا چہرا صاف کرنے لگی

صباء بیگم اس کے روم میں داخل ہوئیں اور مہر کا سرخ متورم چہرہ دیکھ کر پریشان سی اس کے پاس آبیٹھیں

بیٹا کیا ہوا ہے آپ کو ؟ کیوں ایسی حالت بنائی ہوئی ہے

‏دل مضطرب۔۔!

کوئی اسم ہو،

جسے پڑھ کے کم ہو ملالِ جاں

جسے پھونک کر

یہ اداسیاں ذرا کم لگیں

وہ فشارِ رنج ہے روح میں

کہ فضائیں سبز قدم لگیں

میں ہنسوں تو سارے جہان کو

مری ہنستی آنکھیں بھی نم لگیں

دلِ مضطرب

کوئی چارہ گر

جو اسیرِ غم کی دوا کرے

ہو ذرا سکون خدا کرے۔۔۔!

ماہاکا دل چاہا ماں جیسی ساس کے گلے لگ کر خوب سارا روئے لیکن انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لیے زبردستی مسکان سجا کر ان کی گود میں سر رکھا

کچھ نہیں ماما بس آنکھوں میں انفیکشن ہو گیا ہے اس لیے پانی جارہا ہے آنکھوں سے

ماہا کی باتیں سن کر صباء بیگم نے سکون کا سانس لیا اور اس کے بالوں میں انگلیا ں چلانے لگیں

ماہا بس اپنے معصوم زہن میں ابتہاج کی نفرت کے بارے میں سوچ رہی تھی کس طرح وہ سب سے ہنس ہنس کر بات کرتا تھا سوائے اس کے آخر کیوں ؟صرف اس لیے کہ وہ زبردستی اس کے سر تھوپی گئی تھی

یہی سوال عشال کے زہن میں چل رہا تھا جب اس کے کانوں میں اپنی ساس کی آواز گونجی

بیٹا آپ کو کبھی کبھی چیزوں کو بہت پولاِیٹلی ہینڈل کرنا چاہیے پتا ہے کیوں ؟

مہر نے نفی میں سر ہلایا

کیونکہ ضروری تو نہیں میری جان کہ ہر کوئی آپ سے ویسی محبت کرے جیسے آپ اس سے کرتے ہیں ہر انسان کی فطرت ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے کسی کی فطرت میں مٹھاس ہوتی ہے تو کسی کہ کڑواہٹ یہ ہم پر ہے کہ ہم کیسے اپنی محبت سے اس کڑواہٹ کو دور کرتے ہیں

آج میں نے جب تمہیں ابتہاج کے کمرے سے نکلتے دیکھا تو مجھے لگا ضرور اسی نے کوئی بات کی ہے جو میری گڑیا اداس ہے تو آج کے بعد ساری زندگی کے لیے یہ بات گانٹھ باندھ لو

“نفرت کو کبھی نفرت سے ختم نہیں کیا جاسکتا

ہمیشہ کاری ضرب محبت کی ہوتی ہے “

ماہاصباء بیگم کی باتیں غور سے سن رہی تھی اور اسے سمجھ بھی آرہی تھی

“تو ماما اگر میں ابتہاج سے پیار کروں گی تو کیا وہ بھی مجھ سے پیار کریں گے “

ماہااپنی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بولی

صباء بیگم بہو کی معصومانہ بات پر مسکرانے لگیں اور ہاں میں سر ہلایا اور اسے فریش ہونے کا بول کر نیچے چلی گئیں

ماہا نے دل میں عہد کیا کہ وہ ابتہاج کو ضرور منا کر رہے گی چاہے کچھ بھی ہو جائے اسے نہیں پتا تھا کہ یہ سب کیسے ہوگا بس اسے کسی بھی طرح ابتہاج کی ناراضگی دور کرنا تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *