Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

"بتاو کہاں ہے تمہاری بہن ۔۔۔۔۔؟ بتاو ورنہ آج تمہاری یہ نازک سی جان مجھے برداشت نہی کر پائے گی روز اتنی تکلیف برداشت کرتی ہو اور پھر بھی ڈھیٹوں کی طرح منہ بند رکھتی ہو ۔۔۔۔ ہاہہااہا اب سمجھ آرہا ہے یقیناً تمہارا بھی تمہاری بہن کی طرح کوئی عاشق ہو گا جس سے کئی وعدے کیے ہونگے پر ۔۔۔۔۔ چچچچچچ تمہاری قسمت میں درمیاں آگیا ہے نہ ویسے کیا نام تھا اس عاشق نامدار کا ۔۔۔۔۔ ویسے ایک بات کی تو داد دینی پڑے گی بہت ہڈ دھرم واقعی ہوئی ہو ۔ تمہاری نس نس میں زہر بھرا ہے اور منہ پر اففففف نہی پر ڈونٹ وری ڈارلنگ تمہارے منہ کھلوانے کے اور بھی راستے ہِیں"
وہ ایک قدم مہر کی طرف بڑھاتا ہوا بولا
مہر کانپتی ٹانگوں سے پیچھے ہونے لگی پر ابھی اور پیچھے ہوتی کہ دھڑام سے بیڈ پر جاگری ۔۔۔۔۔ اس کے گرنے پر جہاں سامنے کھڑے شخص کو تمسخر بھری مسکراہٹ سجانے پر مجبور کیا وہیں اس کے لفظوں کے نشتر مہر کا کلیجہ چاک کرنے لگے
"اتنا تو گر چکی ہو اور کتنا گرو گی ویسے آپس کی بات ہے بتاوں۔۔۔ ہاہاہہا قہہقہ لگاتے ہوئے اس شخص کی آنکھوں میں ہلکی سی. نمی چمکی جسے وہ نا محسوس انداز میں صاف کرتا دوبارہ مہر کی طرف متوجہ ہوا جو خوفزدہ نظروں سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی
"محبت کی شدت تو ہر کوئی دیکھتا ہے پر نفرت جانتی ہو کیا ہوتی ہے جب آپ کسی کی موجودگی میں گھٹن محسوس کرنے لگیں آپ کے سامنے بار بار ایک ناپسندیدہ منظر کسی فلم کی طرح چلنے لگے اور آپ کو لگے کسی نے کھینچ کر تھپڑ مارا ہو اندازہ کر سکتی ہو اس ازیت کا جب ایک ان چاہا شخص آپ کی مرضی کے خلاف آپ کی زندگی میں شامل کر دیا جائے "
مہر سسکنے لگی تھی اس کے سخت لفظوں پر کتنا عجیب شخص تھا جسے صرف اپنی تکالیف کا احساس تھا اس کے سوا کسی چیز کا نہی نہ کسی معصوم جان کا جو اس کی وجہ سے ہر لمحہ ایک ازیت میں گزار رہی تھی پر لب پر ایسی گہری چپ تھی کہ دیکھنے والے کو بھی پتھر کا گمان ہوتا وہ خو اکثر سوچتی تھی کہ کیا وہ واقعی اس قابل تھی جس سے زندگی نے نوازہ تھا
" ہے سِیاہ بخت کوئی مُجھ سا!؟ جو مُناسب نہ ہو کِسی کے لِیے! ۔ "
لمحوں کی قید کب مہر کے لیے صدیوں کی قید بن جائے کون جانے جس شخص سے رہائی پر وہ اپنی جان کی بازی لگا نے کو تیار تھی اسی کی دسترس میں کسی بے جان مورت کی طرح پڑی خود کو ڈھونڈ رہی تھی کہاں تھااس کا وجود۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *