Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 16)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 16)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
بہت بہت مبارک ہو میرے شیر ۔۔۔۔۔ میرا سر فخر سے بلند کر دیا ہے تم نے۔۔۔۔۔!”۔ آفس سے واپس آتے اپنی جانب بڑھتے ابتہاج کو دیکھتے کاشان صاحب فخر سے کہتے کھڑے ہوئے تھے۔۔۔۔۔ ابتہاج ہلکا سا مسکرایا ۔۔اور قدم آگے بڑھائے اپنے پاپا کی جانب بڑھا۔۔۔ ابتہاج مسکراتے انکے گلے ملا جنکی آنکھوں میں اپنی بیٹے کی کامیابی پر خوشی کی نمی جھلک رہی تھی۔۔۔
اسے سینے میں بھینجے کاشان صاحب نے اسکا ماتھا چومتے اپنے سامنے کیا ۔۔ تو ابتہاج خوبصورتی سے ہلکا سا مسکراتا سر جھکائے صوفے پہ منتظر اپنی مام کی جانب بڑھا۔۔۔۔
جہنوں نے محبت سے اسکی پیشانی پہ بوسہ دیے اپنے پاس بٹھایا تھا۔۔۔اور ساتھ ہی جانے کتنی دعائیں پڑھ کر دم کیں کہ انکی محبت پر ابتہاج نے عقیدت سے انکے ہاتھ کو تھامتے بوسہ دیا اور ہاتھ آنکھوں کو لگائے سکون اپنے اندر تک اتارا۔۔۔
برو بہت بہت ببارک جاد آپ کو۔۔۔۔۔۔۔” سمیر جو بغور سب کو دیکھ رہا تھا اپنی باری کا انتظار کیے بنا ہی وہ مسکراتے بولا تھا۔۔۔۔
ابتہاج نے ٹھٹکتے اس انگریزی بندر کو دیکھا۔۔۔ اور پھر ایک ساتھ سب کا قہقہہ فضا میں بلند ہوا تھا۔۔۔ جہاں سمیر ہونقوں کی طرح منہ کھولے سب کو دیکھ رہا تھا وہیں ابتہاج کا ہنس ہنس کے برا حال تھا۔۔۔
مجھے تیری ببارک جاد نہیں چاہیے انگریزی بندر اور توبہ تجھ سے اللہ پناہ دے۔۔۔۔ یہ زبان بول بول کے توں نے ہم سب کو پاگل بنا دینا ہے ۔۔۔”
ابتہاج نے سر ترچھے کیے اپنی مام کے کاندھے پر رکھا ۔۔۔۔ جسے وہ نرمی سے تھپکنے لگی۔۔ یہ بیت غلط بات ہے برو۔۔۔۔۔” سمیر نے خفا خفا سی نظر سے سب کو دیکھتے اختجاج کیا ،
” بس کر انگریزی بندر تجھے بڑا پتہ ہے کیا ٹھیک ہے کیا غلط۔۔۔۔ زیادہ سمارٹ مت بن۔۔۔۔۔” ابتہاج نے اسے گھرکا جس پہ وہ پہلوں بدلتا خاموش ہو گیا۔۔۔۔
بیٹا آج رات کو میں نے اپنے بیٹے کی کامیابی پر پارٹی رکھی ہے گھر پر۔۔۔ آخر کار پاکستان کی سب سے بڑی ڈیل ہماری کمپنی کو ملی اور یہ سب میرے بیٹے کی محنت کے سبب ممکن ہوا۔۔۔ساری مارکیٹ رشک کر رہی ہے مجھ پر۔۔۔ کرے بھی کیوں ناں آخر کار ایسی اولاد ہر کسی کو نہیں ملتی۔۔۔
کاشان صاحب کے کہے ایک ایک لفظ میں ابتہاج سمیت سب کو محبت جھلکتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔
جی پاپا میں نے خود بھی پارٹی ارینج کرنے کا سوچا ہے۔۔۔۔ اچھا ہوا کہ آپ نے گھر پر ہی رکھ لی۔۔۔ بیک یارڈ میں انتظامات کرواتا ہوں میں ذرا فریش ہو لوں۔۔۔
آج کا دن کافی تھکا دینے والا تھا۔۔۔ اتنی بڑی ڈیل کے اوپر اسنے بے حد محنت سے پراجیکٹ بنایا تھا۔۔ اور اسکی محنت کا صلہ اسے ملا تھا۔۔ جس پہ ابتہاج کا موڈ کافی خوشگوار تھا۔۔۔
ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگ کو مضبوطی سے دبوچتے وہ ایک کندھے پر اپنا کوٹ لٹکائے رف سے حلیے ماتھے پہ بکھرے بالوں سے کافی حسین دکھ رہا تھا۔۔۔۔
مسز کاشان نے دور تک اسے جاتے دیکھ دل ہی دل میں نظر اتاری تھی۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح وہ دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تو حالی کمرہ دیکھ دل میں بوجھ سا بنا۔۔۔ مگر دروازے کو لاک کرنے پر ابتہاج نے ترچھی نظر سے باتھروم کے دروازے کو دیکھا اور لاک لگاتے اب وہ سیدھا کھڑا ہوتے اسے سر تا پاؤں گہری نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
” جو اس وقت پنک کلر کے ڈھیلے سے سوٹ میں بالوں کو تولیے سے خشک کرتے باہر نکلی تھی۔۔۔ مگر ایک دم سے وہ ٹھٹکی جب سامنے ہی اسے دروازے کے پاس بت بنا کھڑا دیکھا۔۔
” اپنے بھیگی قیمض کو دیکھ وہ نظریں دوڑائے دوپٹے کو تلاشنے لگی۔۔۔ جبکہ ابتہاج کی نظریں اسکے وجود کی خشر سامانیوں میں اٹک سی گئی ۔۔۔۔۔ ماہا نے کانپتے قدموں سے قدم بیڈ کی جانب بڑھاتے اپنے دوپٹے کو تھاما مگر ابتہاج نے تیزی سے آگے بڑھتے اسکے دوپٹے کو درمیان سے پکڑتے گرفت مضبوط کی ۔۔۔ کہ ماہا اسکے بھاری سرخ ہاتھ کے گرد لپٹے اپنے دوپٹے کو دیکھ خلق تر کرنے لگی۔۔۔
ماہا نے دوپٹہ کھینچا مگر ابتہاج نے آہستہ آہستہ قدم آگے بڑھاتے اسکے سارے دوپٹے کو کھینچتے اپنے ہاتھ میں لپیٹا ۔۔۔۔ کوٹ وہ صوفے پہ اچھال چکا تھا۔۔۔ اسکے تیور دیکھ ماہا کو سچ میں اب اس سے خوف محسوس ہونے لگا۔
آنکھوں میں دھری اسکی شریر نظروں کی تپش پر شرم و حیا کا بھار پڑ گیا کہ اسے اس آدمی سے نظریں ملانا دنیا کا سب سے مشکل کام لگا۔۔۔۔۔۔۔
ابتہاج نے ایک دم سے اسکے قریب جاتے ہاتھ اسکی کمر کے گرد لپیٹتے اپنی جانب کھینچا۔۔۔ ماہا اسکے سینے سے لگی بری طرح سے کپکپاتی اسکے کندھوں کو تھام چکی تھی ۔۔ ابتہاج کی لو دیتی تیز نظریں اسکے وجود پہ ٹکی تھی۔۔۔۔ جسے محسوس کرتی وہ خود میں سمٹنے لگی۔۔۔۔۔
” اببب ابتہاج ۔۔۔۔۔۔” ابتہاج کے دہکتے ہونٹوں کا لمس اپنی شہہ رگ پہ محسوس کرتے ماہا نے اٹکتے اسکا نام لبوں سے ادا کیا۔۔۔۔ ابتہاج نے خمار سے سرخ ہوئی نظروں کو اٹھائے اسکے کپکپاتے وجود کو دیکھ نرمی سے بازوؤں میں بھرا۔۔۔۔
جب جب تم یوں اٹک اٹک کے میرا نام لیتی ہو۔۔۔میرا دل چاہتا ہے کہ اپنے ہونٹوں سے تمہارے ہونٹوں کے سارے الفاظ کو چن لوں۔۔ تمہیں اپنی سانسوں میں بھر لوں کہ تم کبھی مجھ سے دور نا جا پاؤ۔۔۔اسکی بے باک سرگوشیاں اسکی ہونٹوں کا لمس اپنے کان پہ محسوس کرتے ماہا کا سانس سینے میں الجھنے لگا تھا۔۔۔۔
ابتہاج کی شدت بھری باتوں سے وہ گھبرا گئی تھی۔۔۔ اسکی جان لیوا قربت میں وہ ہمیشہ کی طرح اپنا آپ اسکے سامنے ہار گئی تھی۔۔ جسے دیکھتے ابتہاج نے اسکے چہرے کے نقوش کو محبت سے چھوتے اسکے ہاتھوں کو نرمی سے اپنے ہاتھوں میں الجھا دیا کہ ماہا کا سانس بھاری ہونے لگا۔۔۔۔
ابتہاج نے آنکھیں موندے اسکے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کی قید میں لیا تھا۔۔۔ اسکے ہونٹوں کی نرمی اسکی نرم گرم سانسوں کو خود میں اتارتے ابتہاج بے خود سا ہوتے اپنے لمس کی شدت سے اسے پاگل کر دینے کے در پے تھا۔۔۔۔۔
ماہا نے تڑپتے اختجاج کرنا چاہا تھا۔۔۔اسکا سانس اسکے سینے میں اٹکا جب ابتہاج کی شدت پہلے سے بھی زیادہ جنونیت سموئی ہوئی۔۔۔۔ ماہا کا پورا وجود جیسے بے جان ہونے لگا تھا۔ جبکہ ابتہاج تو جیسے اسکے وجود کی خوشبو کو خود میں اتارتے بے بس سا ہونے لگا ۔۔۔۔۔ ماہا کی قربت اسے پاگل کر دینے والی تھی ۔۔
یہ لڑکی اسکی سوچ سے بھی زیادہ اسکے حواسوں پر طاری ہوئی تھی کہ اب ابتہاج اسکی سانسوں میں سانسیں بھرتا اپنے اندر ایک سکون اترتا محسوس کرتا تھا۔۔۔اسکی قربت ابتہاج گردیزی کو مدہوش کر دیتی تھی۔۔۔۔
اس وقت کیوں نہائی۔۔۔۔۔” اسکی اکھڑتی سانسوں کو محسوس کرتے ابتہاج نے نرمی سے اسکی ہونٹوں کو آزادی دی اب اسکا شکار ماہا کی گردن اور کاندھے تھے۔۔۔جن پر اپنی شدت لٹاتے وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتے پوچھنے لگا۔۔۔۔
ماہا نے گھبراتے اپنی تیز تیز چلتی سانسوں سے بیڈ شیٹ کو دونوں مٹھیوں میں بھینچا تھا ۔۔۔۔ ابتہاج کے ہاتھ اسکے بھیگے نم بالوں میں تھے۔۔ جن کی نرماہٹ اپنی انگلیوں پہ محسوس کرتا ابتہاج بےبس سا ہونے لگا۔۔۔۔۔
“ووو ویسے ہی ۔۔۔۔۔” ماہا نے اپنے سرخ پڑے ہلکے سے زخمی ہونٹ پر زبان پھیرتے کہا تھا۔۔۔۔۔ جس پر ابتہاج نے سر اسکی گردن سے نکالتے گھور کر دیکھا۔۔۔
آج کے بعد مجھے ایسے بے وقت باتھ لیتی ناں ملو اور ایک بات۔۔۔۔ ایک ڈریس لایا ہوں تمہارے لئے۔۔۔۔ آج رات پارٹی میں وہی پہننا۔۔۔۔ ۔
ابتہاج نے اسکے برابر تکیے پر کہنی جمائے کہا اور دوسرے ہاتھ سے اسکے سرخ نچلے ہونٹ کو سہلانے لگا۔۔۔۔
پ پارٹی وہ کیوں۔..!” ابتہاج کی نظروں سے گھبراتی وہ پلکیں جھپکتے بولی تو ابتہاج کا دل چاہا کہ اسے خود میں کہیں چھپا لے۔۔۔ ابتہاج نے جھکتے اسکے ہونٹوں کو شدت سے چھوا تھا اور ماہا کے سمجھنے سے پہلے ہی وہ پہلی پوزیشن میں آ چکا تھا اور اب مزے سے اسکے چہرے پہ اپنی قربت کے رنگ دیکھ رہا تھا۔۔
” آج تمہارے شوہر کو کامیابی ملی ہے اسی وجہ سے آج پارٹی ہے گھر میں ۔۔۔۔ میں فریش ہو لوں ۔۔۔ تم بھی اٹھ کے تیاری پکڑو جلدی سے ۔۔۔۔۔ ماہا کے دونوں سرخ پڑتے گالوں کو چومتے وہ اٹھا تھا دروازے کے پاس پڑے شاپنگ بیگ کو اٹھائے وہ واپس آتے ماہا کے پاس رکھ گیا۔۔
ایک بار دیکھ لو میں آتا ہوں۔۔۔۔” بیگ اسکے قریب رکھتے ابتہاج نے بمشکل سے نظریں چراتے کہا اور ساتھ ہی وہ فریش کیلئے کبرڈ سے کپڑے نکالتے چینجنگ روم میں گیا ۔۔۔۔
______________
تمہیں کچھ کہا تھا میں نے صنم۔۔۔۔۔ کیا ایک بار بولی بات تمہیں سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔۔۔!” روم میں داخل ہوتے اسے یونہی گم سم سا بیٹھا دیکھ صالح دھاڑا تھا ۔۔۔۔۔ صنم نے ایک دم سے خوف سے اچھلتے آنکھوں میں ڈر سموئے صالح کی جانب دیکھا۔۔
جو اب ہاتھ سینے پہ باندھے اسے گھور رہا تھا۔۔۔ صنم نے فورا سے کھڑے ہوتے انگلیاں چٹخاتے نظریں جھکا دیں۔۔۔۔ جبکہ اسے یوں بت بنا دیکھ۔۔۔ صالح اپنے بھاری قدم آگے بڑھاتا اسکی جانب آیا تھا۔۔ ۔۔صنم نے نا محسوس انداز میں قدم پیچھے کو لیے تھے۔۔۔۔
اسکے ہر بڑھتے قدم پر وہ سہمتی پیچھے دیوار سے جا لگی ۔۔۔۔ صالح نے ہاتھ اسکے دائیں بائیں جمائے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔۔ جو خوف سے کالی پڑ رہی تھیں۔۔۔۔
تمہیں کہا تھا میں نے کہ اچھے سے تیار ہو جانا تو پھر ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔ اسکے سرخ پڑتے گال کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاتا وہ بھاری مدہوش لہجے میں بولا تھا ۔۔
صنم کا دل اسکے ہاتھ کے لمس پہ کپکپانے لگا۔۔۔ وہ خوف و وخشت سے بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔ جس کی بے تاثر نظریں صنم کی آنکھوں سے ہوتے اسکے ہونٹوں پہ رکی تھی۔۔۔۔۔۔
” مم میں بب باہر نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔۔۔۔!” اسکی بے تاثر غصے سے لبریز نظروں سے ڈرتے وہ نم لہجے میں بولی تھی کہ صالح نے ایک دم سے اسکی آنکھوں میں دیکھا جو کافی پریشان سی لگی اسے۔ ۔۔۔ صالح سمجھ گیا شاید وہ اب دنیا کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
تمہاری مرضی پر چلوں گا کیا اب میں۔۔۔۔۔” اسکے چہرے کے قریب تر اپنا چہرہ کیے وہ دبے دبے غصے سے بولا جبکہ اسکی غصے بھری آواز اوپر سے اسکی ناک کو اپنی ناک سے مس ہوتا محسوس کرتے صنم کا دل بری طرح سے دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔
” بولو۔۔۔۔” صالح نے ہاتھ اسکے بالوں میں پھنساتے اسکا چہرہ اونچا کرتے پوچھا تو ناں چاہتے ہوئے بھی صنم نے سرخ آنکھوں نے گردن نفی میں ہلائی۔۔۔۔
صالح نے ناک اسکی گردن سے سہلاتے اسکا چہرہ اونچا کیا تھا۔۔۔۔ جہاں صنم اسکی قربت اسکے خوف سے سہم سی گئی تھی وہیں صالح اسکے قریب مدہوش سا ہونے لگا تھا۔۔۔جبھی بے اختیار اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیتے صالح نے اسے خود میں بھینجا تھا۔۔۔۔
صنم کے کپکپاتے ہاتھ صالح کے سینے پہ تھے ۔۔ جبکہ صالح اسکی سانسوں کو خود میں اتارتے اسکے ہاتھ تھامے اپنے سر پہ رکھ گیا۔۔۔۔ اسکی سخت گرفت ہونٹوں پہ محسوس کرتے صنم نے ڈرتے اسکی وارننگ پہ اسکی بالوں کو اپنی مخروطی انگلیوں سے سہلایا تھا۔۔۔۔۔
جسے محسوس کرتا صالح اپنے اندر تک سکون اترتا محسوس کیے صنم کو یونہی اٹھائے اسکی سانسوں کو قید کیے بیڈ کی جانب بڑھا۔۔۔۔۔ نرمی سے جھکتے صالح نے اسے بیڈ پہ لٹاتے ہاتھ اسکے قریب تکیے پہ رکھے اور نرمی سے اسکی بند ہوتی سانسوں کو محسوس کیے وہ پیچھے ہوتا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
جو سرخ چہرے سے کپکپاتے وجود کے ساتھ صالح کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔۔۔
اب خود سے تیار ہو جاؤ گی کہ یہ کام بھی میں ہی کروں۔۔۔۔۔۔” صالح نے کاٹ دار لہجے میں بے باکی سے پوچھا تھا۔۔۔ جسے سنتی وہ سر فورا سے ہاں میں ہلا گئی ۔۔ ایک مدہم سی مسکراہٹ نے صالح کے ہونٹوں کا احاطہ کیا ۔۔۔۔ وہ جھکتے ایک بار پھر سے ہلکی سی جسارت کرتا اسے چھوڑ کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔۔
_______________
” وہ رات دس بجے کے قریب سارے اریجمنٹس اپنی نگرانی میں کرواتا اب اپنے کمرے کی جانب آیا تھا۔۔۔۔ مہمان آنا شروع ہو چکے تھے اور ویسے بھی ابتہاج کے دل میں ماہا کو اپنے لائے ڈریس میں دیکھنے کی چاہ اسےمسکرانے پر مجبور کر گئی ۔۔ جبھی وہ بالوں میں ہاتھ چلاتے دروازہ کھول اندر آیا ، مگر جیسے ہی نظر ماہا پہ پڑی ابتہاج کے ماتھے پہ ایک ساتھ کئی بل نمودار ہوئے۔۔۔۔۔
ابتہاج تیزی سے چلتا آگے بڑھا تھا اور سنجیدگی سے ماہا کو دیکھنے لگا جو ابھی تک اسی حالت میں آرام دہ انداز میں کوئی اسلامک بک ریڈ کر رہی تھی ۔ ابتہاج نے تیزی سے جھپٹنے والے انداز میں اس سے بک چھینی تھی۔۔۔ ماہا نے اچانک سے ہڑبڑاتے ابتہاج کو دیکھا جس کا چہرہ سرخ پڑا تھا جبکہ تاثرات بالکل سخت تھے ۔۔
ماہا نے سہمی نظروں سے اسے دیکھا تو ابتہاج اسکے قریب ہوتے ہاتھ سے تھامتے اپنے روبرو کر گیا۔۔۔
” جب میں نے کہا تھا کہ تم مجھے تیار ملو میرے لائے ڈریس میں تو پھر یہ سب کیا ہے ماہا۔۔۔۔۔۔” دانت پیستے ابتہاج نے خود کو قابو کرنے کی کوشش کی وگرنہ اسکا دل کافی دکھا تھا۔ ۔
” اببب ابتہاج وو وہ اس ڈریس کا پیچھے والا گلا کافی ڈیپ ہے میں کیسے۔۔۔؟ میرا مطلب میںں نہیں پہن سکتی اسے۔۔۔۔۔اسکے قریب کھڑی وہ آنکھوں میں نمی سموئے کہتے ساتھ ہی نظریں جھکا گئی۔۔۔
ابتہاج نے سنتے ہی سکون سے آنکھیں موندیں، سارا غصہ ایک دم سے ہوا ہوا تھا جیسے۔۔۔ جبھی اسنے مضبوطی سے ماہا کے دونوں کندھوں کو تھامتے اسکے ماتھے پہ شدت سے اپنے ہونٹ رکھے ماہا نے آنکھیں بند کیے سکون اپنے اندر تک اترتا محسوس کیا تھا۔۔۔
” تمہیں ہر روپ میں میں ہی دیکھ سکتا ہوں ۔۔ ماہا تم تو ویسے بھی حجاب اوڑھتی ہو اور اس میں سے کوئی بھی تمہیں یا تمہارے وجود کو میرے سوا نہیں دیکھ سکتا۔۔ ابتہاج نے نرمی سے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اسکی نمی سموئی آنکھوں پہ بوسہ دیا تو ماہا کو کچھ راحت ملی۔۔۔
” اببب ابتہاج میں تیار ہو لوں۔۔ ۔” ماہا نے اٹکتے اسکے حصار کو توڑنا چاہا مگر ابتہاج کے حصار سے اسکی رضا کے بنا نکل پانا کہاں ممکن تھا ۔ ماہا کے اختجاج پر ابہتاج نے وقت دیکھ اپنے بے لگام ہوئے جذباتوں کو تھپکا تھا اور نرمی سے اسکے چہرے کو چھوتے وہ پیچھے ہوا۔۔۔۔
یہ لو چینج کر کے آؤ۔۔۔۔۔اب کی بار ابتہاج نے خود سے ڈریس نکالتے اسکے سامنے کی ۔۔ جسے تھامتے ماہا چینجنگ روم میں گئی۔۔۔ ابتہاج خود بھی جلدی سے وارڈروب سے اپنا بلیو ڈنر سوٹ نکالتے باتھروم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
” ڈارک بلیو ڈنر سوٹ میں ملبوس وہ جلدی سے باہر آتا مرر کے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔ اپنی رسٹ واچ پہنتے ابتہاج نے بال بناتے خود کو مرر میں دیکھا نظریں بار بار بٹھک کر ڈریسنگ روم کے دروازے پر جاتی جہاں اسکی بیوی اسی سے چھپے بیٹھی تھی۔۔۔
ابتہاج کے عنابی لب مسکرائے۔۔۔۔ پرفیوم اسپرے کرتے ابتہاج نے ایک آخری تنقیدی نظر اپنی تیاری پر ڈالی اور مڑتے ڈریسنگ روم کے پاس آیا۔۔۔۔۔
بیوی کیا آپ اسی تاریخ میں باہر آ کر اپنے معصوم شوہر پر احسان کریں گی۔۔۔ ورنہ سوچ لیں مجھے کوئی ایشو نہیں اگر میں اندر آیا تو آپ کا آج پارٹی میں جانا کینسل۔۔۔۔۔” ابتہاج کی شرارت سموئی شریر لہجے میں کہی بے باکی کو سنتے ماہا جو آگے ہی کافی کنفیوز سی کھڑی تھی وہ اور بھی سہم گئی۔۔۔
اسنے دھک دھک کرتے دل کے ساتھ کپکپاتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا وہ نہیں چاہتی تھی کہ ابتہاج اندر آئے۔۔۔ جبھی وہ خود اسکے سامنے جانے کو راضی ہوتے باہر ائی۔۔۔۔
ڈارک بلیو پاؤں کو چھوتی میکسی جس کے گلے پر نفیس گولڈن کام ہوا تھا۔۔۔۔ فل سلیو بازوؤں جو بالکل چوڑی دار تھے۔۔۔ دونوں بازوؤں پر بھر بھر کے گولڈن تاروں کا خوبصورت نفاست سے ہوا کام۔۔۔۔۔ اوپر سے ماہا کا دو آتشہ روپ ابتہاج گردیزی کی نظریں جیسے پلٹنا بھول گئی ہوں۔۔۔۔۔ وہ لمحوں میں ساکت بت ہوا اسکے حسن کو اپنی نظروں سے خراج دیتا رہا مگر اسکی نظریں ماہا کو گھبراہٹ میں مبتلا کرنے لگی ۔۔۔
میکسی کی فیٹنگ تنگ ہونے کی وجہ سے ابتہاج کی نظریں ماہا کے وجود کی تمام تر رعنائیوں ہے تھی۔۔۔جبکہ ماہا کا دل چاہا کہ کہیں چھپ جائے۔۔ اس بندے کی نظریں اسے ہمشیہ سے ہی گھبرانے پر مجبور کر دیتی تھی۔۔۔۔ اسی لیے اب بھی وہ دروازے کے بیچ اسے یوں بت بنا دیکھ ہاتھ مسلتی ایک سائڈ سے نکلنے لگی مگر ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اس کھینچتے ابتہاج نے شدت سے اسکے لبوں کو اپنی قید میں لیا۔۔۔
ماہا ابتہاج کے اس ردعمل پہ سن سی پڑتی بری طرح سے کپکپاتے وجود کے ساتھ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھے آنکھیں موند گئی۔۔ جبکہ ابتہاج تو جیسے اسکی سانسوں کو قید کرتے رہا کرنا بھول گیا تھا۔۔۔۔ ابتہاج نے ماہا کی رکتی سانسوں کو خیال کرتے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشی تھی ابھی وہ کھل کے سانس بھی ناں لے پائی تھی ۔۔ ابتہاج کے ہاتھ اسکی کمر میں حائل ہوئے تھے ۔
اور جھٹکے میں ابتہاج نے اسے نزدیک کرتے اسکا رخ موڑے پشت اپنے سینے سے لگائی۔۔۔۔ ماہا کا دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔۔ جب ابتہاج کے سلگتے ہونٹوں کا نرم گرم لمس اسکی دہکتی سانسوں کو اپنی پچھلی گردن پہ محسوس کیا۔۔۔
جبکہ ابتہاج تو ماہا کے وجود میں کھویا تھا اور اب اسکے ہونٹ ماہا کی گردن سے ہوتے نیچے کا سفر طے کرنے لگے۔۔۔ ماہا کا وجود بالکل سن سا پڑ گیا مگر ابتہاج کی شدتوں میں جھلکتی بے تابی , چاہت ماہا کے لئے یقین کر پانا مشکل ہو گیا۔۔۔۔
“ابتہاج نے جھکتے اسکی کمر کو اپنے سلگتے ہونٹوں سے چھوا تو ماہا مچلتے مڑی تھی اور اپنے ڈر سے کانپتے وجود کے ساتھ اسی ستمگر کے سینے میں منہ چھپایا۔۔۔ ابتہاج کا قہقہ بےساختہ بلند ہوا۔۔۔۔ اسنے محبت سے اسکے گرد اپنے مضبوط ہاتھوں کا حصار قائم کیا تھا۔۔۔۔۔
ماہا کے سر پہ ہونٹ رکھتے ابتہاج نے اسکا چہرہ تھوڑی سے پکڑتے اونچا کیا اور بڑی محبت سے اسکی چہرے پر بکھرے اپنی محبت کے رنگ دیکھتا وہ پھر سے اسکی گلابی ہلتے ہونٹوں پہ جھکنے لگا کہ معا دروازے پر دستک ہوئی ابتہاج نے کھا جانے والی نظروں سے دروازے کو گھورا تھا۔۔۔جبکہ ماہا کا رکا ہوا سانس بحال ہوا۔۔۔اسنے جلدی سے اسکے حصار کو توڑا اور مرر کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے بالوں کو سلجھانے لگی۔۔۔۔
ابتہاج نے ایک نظر اسے دیکھا جس وجود ابھی تک کپکپا رہا تھا وہ دلکشی سے مسکراتے دروازے کی جانب ہوا تھا ۔۔۔
برو تھم کو نیچے انکل بلا رہی ہے۔۔۔”سمیر نے ابتہاج کو دیکھتے بتایا تھا جبکہ ابتہاج نے باہر آتے دروازہ بند کیا اور چلتا اسکے قریب ہوا۔
توں یہ بتانے کو آیا تھا۔۔۔ اسنے غصے سے سمیر کی پچھلے گردن کو ہاتھ میں دبوچا تو سمیر اچھل پڑا۔۔۔۔
سوری برو تھم غصہ کیوں ہو۔۔۔ انکل سن رہی کہ پیپل تھم کو دیکھ رہی۔۔۔۔ ” ابتہاج کے ڈر اور کچھ اپنی بگڑی زبان سے وہ توڑ موڑ کے لفظ ادا کرتا ابتہاج کے ہاتھ کو کندھے سے ہٹانے لگا۔۔۔ ویسے آج تو انگریزی نہیں بلکہ پاکستانی بندر لگ رہا ہے۔۔ بلیک تھری پیس میں ہلکا سا تیار سمیر کو سر تا پاؤں دیکھتے ابتہاج نے اسکی تعریف کہ تھی جس سنتا وہ منہ بسور گیا۔۔
سمیر نے بدلے میں اسکا پورا جائزہ لیا مگر وہ بھرپور شاہانہ وجاہت کے ساتھ اسکے سامنے کھڑا تھا کہی سے کوئی بھی کمی نہیں دکھی سمیر کو جبھی وہ دل مسوستے رہ گیا۔۔۔
تو جا نیچے میں آتا ہوں۔۔۔” ابتہاج نے اسکی گردن کو ہلکے سے چھوڑا جس پہ وہ اپنا سوٹ ٹھیک کرتا کالر کو پکڑتے برابر کرتا آگے پیچھے دیکھنے لگا مگر کسی کو بھی ناں پاتے سمیر نے ایک ادا سے سیٹی بجائے ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے اور اکڑا کر چلتا وہاں سے نکلا۔۔۔۔
ابتہاج سر ہلاتا دوبارہ سے روم میں آیا تو نظریں سامنے کھڑی ماہا پر پڑی۔۔ جو سر پہ ڈارک بلیو خجاب اوڑھے بالوں کا اونچا جوڑا بنائے ، کاجل سے لبریز آنکھوں اور لبوں پہ ڈارک ریڈ لپ اسٹک لگائے سیدھا ابتہاج کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔۔
ابتہاج چلتا اسکے قریب آیا۔۔۔۔۔
اسکی نیت بھانپتے ماہا نے منہ بنائے خود پہ جھکتے ابتہاج کو دیکھا اور ہاتھ اسکی ہونٹوں پر رکھا۔۔ ابتہاج نے سرخ ہوتی نظروں سے اسے ہاتھ کو چومتے پیچھے کرنا چاہا تھا۔
” اببب ابتہاج میری تیاری خراب ہو جائے گی ہمیں نیچے جانا چاہیے۔۔۔۔۔۔ ماہا نے منت سموئے لہجے میں کہا تو ابتہاج کو ٹوٹ کر اس کے پیار۔۔۔ اوکے میری جان۔۔۔۔” اتنی آرام سے اسکے مان جانے پر ماہا کو حیرت بھی ہوئی مگر یہ زیادہ دیر قائم ناں رہ سکی جب ابتہاج نے فورا سے جھکتے اسکے ہونٹوں کو نرمی سے چھوا تھا۔۔۔ ماہا سٹپٹا گئی مگر اپنی کاروائی کے بعد وہ کافی پرسکون تھا۔۔۔
ٹیسٹ اچھا ہے اسکا رات کو دوبارہ سے لگانا۔۔۔۔ ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کرتے ابتہاج نے جھٹکے سے اسے ساتھ لگائے اسکے کان میں سرگوشی کی تو ماہا کا چہرہ اسکی بے باکی پر گلنار ہوا۔۔۔ ابتہاج اسے استحقاق سے خود سے لگائے نیچے اترا ۔۔۔۔۔
ہائی ہیل کی وجہ سے ماہا ابتہاج کے سہارے پر تھی مگر یوں سب کے سامنے ایسے جانے ہر اسے شرم بھی محسوس ہو رہی تھی۔ مگر ابتہاج کو کسی کی کوئی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔۔
جبھی وہ شان سے سیڑھیاں اترتا نیچے آیا ۔۔۔۔ جبکہ نیچے موجود مہمانوں کی نظریں بھی ان دونوں کے پرفیکٹ کپل پر ٹکی تھی ۔۔
مسز کاشان نے مسکراتے ان دونوں کو دیکھا تھا۔۔۔ ابتہاج سب سے ملتا ساتھ ماہا کا تعارف بڑے وثوق سے کروا رہا تھا۔۔۔ ماہا خود بھی گھبرائی ہوئی سی تھی۔۔ جسے دیکھ ابتہاج چلتا اپنی مام کے قریب آیا تو انہوں نے ماشاءاللہ کہتے ان دونوں کا سر ماتھا چوما ۔۔۔ مام میں سب سے مل لوں آپ ماہا کا خیال رکھئے گا۔۔۔
ماہا کو دیکھ وہ مام سے کہتے باقی لوگوں کی طرف بڑھا۔۔کاشان صاحب نے پرجوش ہوتے اسے سینے میں بھینجا تھا ۔۔۔
_______________
صص صالح مم مجھے نہیں جانا پلیز۔۔۔۔۔ گاڑی کے رکنے پہ ایک بار پھر سے صنم نے منت کرتے اسکے ہاتھ کو تھاما ۔۔ صالح نے ابرو اچکاتے اسکے ہاتھ اور پھر اسکے قاتل حسین روپ کو دیکھا۔۔۔۔
” میرے فرینڈ نے بے حد اصرار سے بلایا ہے صنم۔۔۔۔ اگر تم پھر بھی نہیں جانا چاہتی تو کوئی مسئلہ نہیں آج کی رات ہم ایک دوسرے کے ساتھ ایک دوسرے کی بے انتہا قربت میں گزاریں گے۔۔۔۔۔ ابتہاج نے ایک دم سے فاصلے مٹائے اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیا اسا انداز جنونیت بھرا تھا۔۔
صنم کا دل خوف سے تیز تیز پھڑپھڑانے لگا مگر صالح کا اسے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔۔ جبھی اسکے ہونٹوں سے جام پیتا وہ پھر سے اسکے حسن میںں کھونے لگا۔۔
” اب بتاؤ کیا ارداہ ہے۔۔۔۔۔ ” اپنی من مانی کرنے کے بعد وہ اسکے کھینچتے اپنے اوپر گرا گیا کہ صنم نے نظریں جھکائے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔
جسے دیکھ صالح کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رینگی۔۔۔
لیٹس گو مائی لو۔۔۔۔ بلیک میکسی میں بالوں کا اونچا جوڑا کیے کانوں میں خوبصورت کندھوں تک جاتے آویزے ڈالے وہ ہلکے سے میک اپ کے بعد بھی بے حد حسین دکھ رہی تھی۔۔
صالح نے گاڑی سے اترتے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔۔ جبکہ صنم اندر سے خوفزدہ تھی اگر کسی نے اسے پہچان لیا تو پھر ۔۔۔۔ آگے کی سوچ ہی اسے خوفزدہ کر رہی تھی۔۔مگر صالح کے سامنے وہ مجبور ہو گئی تھی۔۔۔
ہائے صالح یار کیسا ہے تو اتنی دیر کر دی آنے میں۔۔۔ دروازے کے پاس کھڑا سفیان جو اسی کا انتظار کر رہا تھا اسے دیکھ شکوہ کرتے اسکے گلے ملا تھا۔۔۔۔ صالح مسکراتے اس سے الگ ہوا۔۔ کیا بتاؤں بیگم نے تیار ہونے میں وقت لگا دیا۔۔۔۔
کندھے اچکاتے وہ سارا الزام صنم پہ ڈال گیا۔۔۔اسکی بات پر صنم کا منہ حیرت سے کھل گیا۔۔۔ وہ حیرت سے اس میسنے کو دیکھ رہی تھی جس نے اپنی من مانیوں کی وجہ سے اسے بھی تیار ہونے میں لیٹ کیا تھا اور اب کیسے سارا الزام اسی کے سر پر ڈال دیا۔۔۔۔
اسلام علیکم بھابھی کیسی ہیں آپ۔۔۔۔۔ سفیان نے صنم کو دیکھتے عزت سے کہا تھا۔۔ صنم نے سہمی نظروں سے صالح کو دیکھا جس کا دھیان اسی پہ تھی وہ گردن ہلاتے ہلکی آواز میں بولی جس پہ سفیان ان دونوں کو لیے اندر گیا۔۔۔
آؤ تمہیں کاشان صاحب اور انکے بیٹے سے ملواؤں۔۔۔ صالح کا ہاتھ تھامے وہ اسے اپنے بزنس پارٹنر کے پاس لے جانے لگا۔۔ صنم تم ویٹ کرو میں آتا ہوں ۔۔۔۔ صالح صنم کو ایک جانب کھڑا کرتے اب اسکے ساتھ کاشان صاحب کی طرف گیا ۔۔
کاشان صاحب ملیں میرے سب سے اچھے دوست صالح سے اور صالح یہ ہیں کاشان صاحب میرے بزنس پارٹنر آج انکے بیٹے مسٹر ابتہاج گردیزی کی وجہ سے ہمیں یہ اتنی بڑی ڈیل ملی ہے۔۔۔۔”
سفیان نے پرجوش انداز میں انکا تعارف کروایا ابتہاج بھی اسی طرف آیا تھا۔۔ صالح سے ملنے کے بعد وہ ادھر ادھر کہ باتیں کرنے لگے۔۔۔
صنم دور کھڑی اس پارٹی میں خود کو اکیلا محسوس کیے کافی بور ہو رہی تھی ۔ اس نے نظریں آگے پیچھے دوڑائی تو سامنے ہی ایک طرف ماہا کھڑی نظر آئی جو یقینا کسی بات پر مسکرا رہی تھی۔۔
صنم نے اسکے پاس جاتے ماہا کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ماہا نے مسکراتے مڑی مگر جب نظریں صنم پر پڑی۔۔۔ ماہا کا وجود سہم سا گیا۔۔۔مسز کاشان بھی حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ صنم یہاں کیسے۔۔۔
ماہا کیسی ہو تم ۔۔۔۔” ان سب سے انجان آج اتنے دنوں کے بعد کسی اپنے کو دیکھتے صنم نے بے قراری سے اسے کھینچتے اپنے ساتھ لگایا تھا۔۔
جبکہ ماہا کا دماغ جیسے سناٹوں کی ضد میں تھا۔۔۔۔ وہ پھر سے آ گئی تھی اسکے ابتہاج کو اس سے چھیننے ۔۔۔۔۔ وہ کیسے رہے گی ابتہاج کے بنا۔۔۔۔ وہ کیوں آئی تھی ۔۔۔۔ “
ماہا کا دماغ اپنی ہی سوچوں میں الجھا ہوا تھا۔۔۔ اسنے جھٹکے سے صنم کو خود سے دور دکھیلا تھا جو لڑکھڑاتی پیچھے ہوئی۔۔۔۔ پارٹی میں موجود ہر کسی کی نظر اب ان دونوں پر تھی۔۔۔۔۔ ۔
کیوں آئی ہو تم واپس۔۔ کیوں میرا سکون چھیننے آ جاتی ہو۔۔۔ چلی کیوں نہیں جاتی میری زندگی سے۔۔ ماہا نے روتے ہوئے چیخ کر کہا تھا جب اندر زخمی ہو تو انسان کا لہجہ بھی اسکی کرواہٹ کو نہیں چھپا سکتا۔۔۔
مسز کاشان نے آگے بڑھتے ماہا کو سنبھالنا چاہا تھا مگر وہ سب سے دور ہونے لگی اسے لگ رہا تھا اب کوئی نہیں اسکا صنم سب کو چھین لے گی اس سے۔۔۔۔
ماہا کی حالت دیکھ صنم کی آنکھیں خود بھی بھیگ گئی تھی۔۔۔ کتنا دور کر دیا تھا اسنے اپنی ہی ذات میں کھوئے ، اپنی بہن کو خود سے۔۔۔۔۔
ماہا۔۔۔۔۔ ماہا کو روتے اوپر کی جانب جاتا دیکھ ابتہاج نے ایک تیز نفرت بھری نظر صنم پر ڈالی ۔۔۔ جو بت بنے کھڑی تھی ۔ ماہا کو پکارتا وہ بے قرار سا اسکے پیچھے ہی اوپر گیا۔۔۔۔
