Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 04)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 04)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
ماہا اپنے کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹ رہی تھی رات کے دس بج چکے تھے پر صنم کا اب تک کوئی اتا پتا نہیں تھا ناجانے کب سے وہ ایسے ہی چکر کاٹ رہی تھی ۔ دلاور شاہ کے خوف سے اس کی ٹانگیں بے جان ہو رہیں تھیں آخر اپنے باپ کی فطرت سے اچھی طرح واقف تھی جو اپنے جلال میں دنیا کی ہر محبت خو د پر حرام سمجھتا تھا ماہا ابھی باہر جانے لگی تھی جب منیبہ بیگم گھبراتی ہوئی کمرے میں آئیں
صنم آئی تم نے فون کیا اسے ؟منیبہ بیگم نے اپنے سامنے کھڑی ماہا سے پوچھا جو خود کافی پریشان تھی
صنم نے ان کے سوال پر نفی میں سر ہلایا
منیبہ بیگم بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھیں جانتی تھیں خدا نہ کرے کوئی بھی اونچ نیچ ہوگی تو مورد الزام ان کی ذات کو گردانا جائے گا
منیبہ بیگم نے دل میں رب سے صنم کو سلامت رکھنے کی ڈھیروں دعائیں مانگیں
ماہا ماں کے لیے پانی لاتی کہ اسے ہارن سنائی دیا
ماہا فوراً کھڑکی کی طرف لپکی اور پردے ہٹا کر سامنے کا منظر پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگی
جہاں صنم کسی اوباش ہولیے کے لڑکے کی باہوں کا ہار بنی اس سے مسکراتے ہوئے گفتگو کر رہی تھی ماہا کی سانسیں تھمنے کو تھیں یہ کیا قیامت تھی ۔۔۔ اس کی طویل خاموشی اور جگہ ساکت رہنے پر منیبہ بیگم بھی کھڑکی کے پاس آکھڑی ہوئیں
ان کی ذات بھی صنم کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھ کر زلزلوں کی زد میں تھی ۔۔۔۔ منیبہ بیگم کا ہاتھ سیدھا اپنے کلیجے پر پڑا ۔۔۔۔ وہ کبھی نہیں سوچ سکتی تھیں کہ ان کی صنم ۔۔۔۔۔ ان غلط راہوں کی مسافر بنے گی ۔۔۔۔۔ انہوں نے تو کبھی اس کی تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی تو ۔۔۔۔ یہ منیبہ بیگم فوراً نیچے کی طرف دوڑیں ۔۔۔ ماہا بھی کپکپاتے جسم کے ساتھ ماں کے پیچھے ہی چلی آئی
پر جیسے ہی ان کی نظر سامنے سے آتے دلاور شاہ پر پڑی خون مانوں رگوں میں سرد پڑ گیا جسم لرزنے لگا۔۔۔۔۔
دلاور صاحب نے ایک نظر اپنی جان سے پیاری بیٹی کو دیکھا۔۔۔۔۔ اس ایک نظر میں کیا نہیں تھا ۔۔۔۔ مان ٹوٹنے کا افسوس ۔۔۔دکھ۔۔۔۔ ازیت ۔۔۔پر اگلے ہی لمحے ان کی آنکھیں آگ اگلنے لگیں تھیں صنم نے بھی باپ کا دھواں دھواں چہرہ دیکھا
صنم اب بھی اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلی تھی اود نہ ہی اس کے چہرے پر کوئی شرمندگی کے تعصرات تھے ۔۔۔۔ جس بیٹی کو صدا سینے سے لگا کر رکھا تھا آج وہی بیٹی ان کا غرور توڑ گئی تھی ۔۔۔۔ دلاور صاحب پھولے تنفس سے اس کے قریب چلے آئے اور گرجدار آواز میں استفسار کرنے لگے
“کون ہے یہ لڑکا ؟اور تم اس وقت ۔۔۔ اس کے ساتھ کیا کر رہی ہو دلاور صاحب نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر ادا کیا ۔۔۔۔ضبط سے ان کا چہرہ سرخ انگارہ ہو گیا تھا ۔۔۔
صنم اب پرسکون مسکراہٹ چہرے پر سجائے بڑی دیدہ دلیری سے اس لڑکے کا ہاتھ تھامے ۔۔۔ باپ کے سامنے آکھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔۔
اچھا ہوا آپ خود آگئے میں آپ سے ملوانے ہی والی تھی ۔۔۔۔ میٹ مائے لو ۔۔۔۔ مائے بوائے فرینڈ۔۔۔۔ راکی ۔۔۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہِیں ۔۔۔ راکی بہت اچھا ہے ڈیڈ ۔۔۔ یہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے ۔۔۔۔۔
صنم بنادلاور صاحب کی طرف دیکھے اپنے دل کا حال سنا رہی تھی ۔۔۔۔ دلاور صاحب پر منیبہ بیگم کو کسی پتھر کا گمان ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اچانک دلاور صاحب کا بھاری ہاتھ اٹھا اور صنم کے نازک چہرے پر اپنا نشان چھوڑ گیا. ۔۔۔۔۔ تھپڑ اس قدر زور سے لگا کہ صنم دوفٹ پیچھے جاگری ۔۔۔۔منیبہ بیگم نے سختی سے منہ پر ہاتھ جمایا
ماہا اسے اٹھانے کے لیے آگے بڑھتی ۔۔۔ کہ دلاور صاحب کی گرجدار آواز نے اس کے قدموں کو پتھر کر ڈالا
ماہا دلاور ۔۔۔ اگر تم نے ایک قدم بھی اس لڑکی کی طرف بڑھایا ۔۔۔ تو اس سے پہلے تمہارا قتل ہوگا ۔۔۔۔۔ ماہا بت بنی وہیں کھڑی رہی جب کہ راکی آنکھیں گھماتے یہ فیملی ڈرامہ دیکھنے لگا اسے کیا انٹرسٹ تھا ۔۔۔۔
دلاور صاحب اور بھی کچھ بولتے جب راکی نے صنم کو سہارا دے کر اٹھایا اور دلاور صاحب کے سامنے تن کے کھڑا ہوا
دیکھیے انکل ۔۔۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے شادی کے خواہشمند ہیں ۔۔۔ آپ اس طرح میری محبت کو رسوا نہی کر سکتے ۔۔۔۔ راکی اپنی مکاری دکھاتے ہوئے افسردہ لہجے میں بولا
پلیز انکل صنم کو مجھ سے الگ مت کریں ۔۔۔ میں بہت پیار کرتا ہوں اس سے ۔۔۔۔ روکی اپنی چال چلتا ان کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگا ۔۔۔۔
بسسسسس۔۔۔۔۔۔ لڑکے خبردار جو اپنی گندی زبان سے میری بیٹی کا نام بھی لیا تو ۔۔۔۔ بوٹیاں نوچ کر کتو ں کو کھلا دونگا ۔۔۔۔سمجھے تمہاری بہتری اسی میں ہے کہ ابھی کے ابھی یہاں سے نکل جاو ۔۔۔۔ورنہ اپنے پاوں پر نہیں جاسکوگے ۔۔۔۔۔
دلاور صاحب اسے دھکا دیتے صنم کے بازو دبوچتے ۔۔۔ اندر کی طرف بڑھ گئے ۔۔۔۔ پر راکی کی نظر اب ماہا پر تھی جو ۔۔۔۔ کب سے اپنی سسکیاں دبارہی تھی ۔۔۔ ماہا کو منیبہ بیگم اپنے ساتھ لے گئیں ۔۔۔ راکی کی نظروں نے دور تک اس کمسن کلی کا پیچھا کیا ۔۔۔۔۔
ہائے راکی ۔۔۔۔ تیرک تو لاٹری لگ گئی ایک کے ساتھ ۔۔ ایک فری ۔۔۔۔ چل بھئی تیرا کام تو ہو گیا ۔۔۔ اب باقی کا کام تو وہ ۔۔۔۔۔ لومڑی کر ہی لے گی ۔۔۔۔ راکی خود سے بڑبڑاتا مکروہ قہقہے لگانے لگا ۔۔۔ اور کچھ ہی دیر میں میں اس کی گاڑی میں گیٹ سے نکلتی چلی گئی
دلاور صاحب نے جھٹکے سے اسے چھوڑا صنم منہ کے بل زمیں پر جاگری ۔۔۔۔۔
دلاور صاحب ۔۔۔ آتش فشاں بنے منیبہ بیگم کے سر پر پہنچے اور بنا خطا ۔۔۔۔ چٹاخ ۔۔۔۔ تھپڑ کی آواز نے منیبہ بیگم کے کان سن کیے وہیں ماہا کے حلق سے چیخ برآمد ہوئی
کہتے ہیں کہ ;توجہ; اگر پتھر کو بھی دی جائے تو وہ بھی نکھر جاتا ہے ___ ہر وہ چیز پھلنے پھولنے لگتی ہے جِسے تھوڑی سی بھی ;توجہ; ملے،. انسان، حیوان، چرند، پرند سب آپ کے تابع ہونے لگتے ہیں ___ آپ کی تھوڑی سی توجہ; کسی کی زندگی کو بدل سکتی ہے ___ آپ کا تھوڑا سا کسی کو وقت دینا بھی اُسے پوری زند گی اسے خوش رکھ سکتا ہے. ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی ایک تسلی اُسے دوبارہ جینے کے لیے آمادہ کر دے.
منیبہ بیگم نے اپنی زندگی کے نجانے کتنے سال اس شخص کو اور اس کی اولاد کو دیے تھے پر آج تک نارسائی ہی ہاتھ آئی تھی دلاور نام کے پتھر میں کوئی دراڑ نہیں آئی تھی
آئینہ صاف رہے ، ربط میں تشکیک نہ ہو
اس لیے روز تجھے کہتے ہیں نزدیک نہ ہو
ہے اگر عشق تو پھر عشق لگے ، رحم نہیں
اتنی مقدار تو دے،، وصل رہے ، بھیک نہ ہو
تجھ کو اک شخص ملے، جو کبھی تجھ کو نہ ملے
تجھ کو اک زخم لگے اور کبھی ٹھیک نہ ہو
چھوڑ کے جاؤ کچھ ایسے کہ بھرم رہ جائے
دل سے کچھ ایسے نکالو میری تضحیک نہ ہو
بے غیرت عورت۔۔۔۔ یہ تھی تمہاری تربیت ۔۔۔۔ کیسے ۔۔۔ کیسے یہ لڑکی ۔۔۔۔ اس حد تک آپہنچی ۔۔۔ کس نے دی اسے شے ۔۔۔۔ بتاو ۔۔۔۔ منیبہ بیگم بس خاموش کھڑی اپ۔ی کم مائیگی کے احساس تلے دبی تھیں ۔۔۔ ان کے چہرے پر کوئی تعصرات نہ تھے ۔۔۔ کیونکہ شاید اب تو ان کو عادت ہوگئی تھی ۔۔۔ اس حقارت کی ۔۔۔۔ نفرت کی ۔۔۔ بہتان تراشی کی
اب دلاور صاحب کا رخ واپس سے ۔ صنم کی طرف تھا جس کا چہرہ سوجھ چکا تھا گرنے کی وجہ سے ہاتھ اور پاوں پر بھی خراشیں آئیں تھیں ۔۔۔۔۔
بے حیاء ۔۔۔۔ لڑکی ۔۔۔ آخر دکھا ہی دی نہ اپنی اوقات ۔۔۔ تم بھی اپنی ماں کی طرح نکلی بدکردار . ۔۔۔۔ کس چیز کی کمی دی تھی بولوں ناہنجار۔۔۔۔۔ کس چیز کی۔۔۔۔ تمہارے ہر غلط سہی میں تمہارا ساتھ دیا ہر بات پر آمین کہا ۔۔۔ تمہاری وجہ سے کبھی اس لڑکی کو کوئی اہمیت نہ دی ۔۔۔ اس کے حصے کی محبت بھی تمہیں دی ۔۔۔ اور تم ۔۔۔ تم نے کیا کر کے دکھایا ۔۔۔۔ ایک بگڑے عیاش کو میرے سامنے لاکھڑا کیا
دلاور صاحب کی آواز میں بے پناہ درد ۔۔۔ پنہاں تھا ۔۔۔ ان کے تو پرانے زخم نوچ دیے گئے تھے ۔۔۔ ماں کی بیوفائی کم تھی جو ۔۔۔ بیٹی نے بھی ۔۔۔اس کے نقشے قدم پر چل کر کسر پوری کر دی ۔۔۔
دلاور صاحب نے صنم کا بازو دبوچا اور اس کے روم میں لاکر پٹخ دیا ۔۔۔۔
آج سے یہ کمرہ تمہاری ۔۔۔ حد ہے اس سے باہر آنے کی کوشش کی تو اپنی جان کی سلامتی بھول جانا ۔۔۔۔۔ یہ وعدہ ہے دلاور شاہ کا۔۔۔۔
صنم خونخوار بنی ۔۔۔ پورا کمرہ تہس نہس کر چکی تھی اسے ۔۔۔ نفرت ہو رہی تھی اپنے باپ سے ۔۔۔ ہر اس شخص سے جو اس کے اور روکی کے بیچ میں آرہا تھا
________
محبت کرتے ہو مجھ سے ؟
“حباء شیرازی ” اپنی سرخ آنکھیں خود پر سایہ
کیے دراز قد شخص کی آنکھوں میں گاڑھ کر بولی
“اتنی محبت کرتے ہو کہ مجھے میرے وجود کو صرف اپنی طلب کا سامان بنا کر رکھنا چاہتے ہو ہے نہ ! جانتے ہو جتنی شدت سے تمہاری رگوں میں میری طلب ہے اس سے کئی زیادہ جنون میری نفرت میں ہے تم ہار جاو گے مت لڑو مجھ سے
حباء بنا ڈرے ارحام حیدر خان سے بولی
ارحام خاموش کھڑا حباء کے لفظوں کا زہر خود میں اتار رہاتھا اس کا چہرہ ہر جذبے سے عاری تھا
تبھی اچانک حباء کو لگا کہ اس کا وجود ہوا میں معلق ہو کر رہ گیا ہے ارحام اسے کمر سے جکڑ زمین سے اوپر اٹھا چکا تھا حباء اس کے سینے سے لگی کانچ کی گڑیا ہی لگ رہی تھی
ارحام کی حدرجہ قربت پر “حباء شیرازی” کا روم روم کانپ اٹھا تھا جسم میں جیسے چیونٹیاں رینگنے لگیں تھیں
“”ارحام کی گرم سانسیں حباء کے حواس معتل کر رہیں تھی
“جتنی نفرت تمہارے اندر میرے لیے ہے تمہارے انگ انگ میں میری محبت خون کی روانی بن کر دوڑے گی میرا لمس تمہاری روح کی آواز بنے گا میری شدتیں تمہارے جھوٹے لفظوں کے آگے ہار جائیں گی تمہاری آتی جاتی ہر سانس صرف ارحام حیدر خان کی طلب مانگے گی تمہاری آنکھوں میں صرف ایک عکس ہوگا اور وہ ہوگا “ارحام حیدر خان “کا یہ وعدہ ہے تمہارےخان کا “
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں نا!!
جن کی نظر اتارنے کا دل کرتا ہے
بالکل تمہارے جیسے ہوتے ہیں وہ لوگ۔۔۔۔![]()
تمہیں پتا ہے تمہاری آنکھیں کتنی پیاری ہیں۔۔؟
غضب کا خمار لیے پھرتے ہیں آنکھوں میں
جو بھی نظریں ملاۓ گا مارا جاۓ گا..
اور تمہاری آواز
تمہاری آواز مجھے بہت پسند ہے۔۔۔![]()
تمہیں دیکھ کر
تمہاری مسکراہٹ کو دیکھ کر
تمہاری آنکھوں کو دیکھ کر
تمہارے صدقے جانے کو جی چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
حباء بنا پلکیں جھپکائے ارحام کے جنون کی روداد سن رہی تھی ارحام کی باتوں سے اس کے جسم میں کرنٹ سا پھیل گیا تھا کیا تھا یہ شخص پل میں اتنی محبت اور اگلے ہی پل تزلیل ہتک
ارحام اسے حیرت زدہ دیکھ کر اچانک حباء کی طرف جھکا اور اس کی گلاب پنکھڑیوں جیسے لبوں پر اپنے تشنہ لب رکھے حباء نے ناجانے کس بے خود احساس کے تحت اپنی آنکھوں کو بند کیا ارحام بے حد نرمی سے حباء کے لبوں کی نرماہٹیں خود میں سما رہا تھا کتنا تڑپا تھا وہ ارحام کے انداز میں اب شدت آتی جارہی تھی حباء کی نازک سی جان بیحال ہو رہی تھی حباء نے اسے کالر سے دبوچ کر پیچھے ہٹانا چاہا مگر جتنا حباء اسے دور کرتی ارحام جنونی سا ہوکر اتنا ہی اس کی سانسوں پر قابض ہوتا حباء ارحام کی شدتیں اپنے نازک ہونٹوں پر برداشت کرتی سسکیاں بھرنے لگی
ارحام اپنے چہرے پر گیلا پن محسوس کرکے حباء سے الگ ہوا اور اس کی طرف دیکھا جس کے ہونٹ سوج چکے تھے وہ بے آواز رو رہی تھی ارحام نے اس کی حالت پر غور کیا تو اسے خود پر جی بھر کر تاو آیا کہ
“کیوں اپنی ساری شدتیں ایک پل میں اس نازک سی لڑکی پر انڈیل دی تھیں جبکہ ابھی تو وہ حباء شیرازی “کو اپنی چاہت کا مان بھی نہیں دے پایا تھا
ارحام نے کھینچ کر اسے سینے میں بھینچا اور اسے چپ کرانے لگا اسے معلوم تھا کہ حباء کس حد تک ارحام خان سے نفرت کرتی ہے
“ارحام حیدر خان “مجبور تھا اپنے عشق کے ہاتھوں وہی عشق جس نے اسے صحراوں کی خاک چھاننے پر مجبورکر دیا تھا وہی عشق جو” ارحام خان “کو “حباء
شیرازی کی روح سے تھا اس کی نیلی آنکھوں سے تھا، گھنے پھیلے سیاہ آبشار سے تھا ،عشق جب روح کو اسیر کرتا ہے تو انسان پر ہجر بھی واجب ہوتا ہے “ارحام خان “بھی انہی میں سے تھا جسے رب نے عشق جیسے پاکیزہ جذبے کے لیے چنا تھا
اسے بنایا ہی “ارحام حیدر خان”کے لیے گیا تھا حباء شیرازی کے بغیر ارحام حیدر مکمل نہیں تھا حباء شیرازی کا “جنون “ارحام حیدر خان کا “عشق “تھا
