Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 28)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 28)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
ماہا اٹھو میری جان کب تک سونا ہے ۔۔۔؟” اسکے کمرے کا پھیلاوا سمیٹتے صنم نے ماہا کی جانب دیکھتے اسے پکارا تھا جو صبح کے نو بجے تک سو رہی تھی ۔۔۔ صنم نے گہرا سانس خارج کیا اور چلتے اسکے قریب جاتے وہ اسے بازوؤں سے پکڑتے اٹھانے لگی ۔۔۔ ماہا برے سے منہ بنائے بیٹھی تھی اور فورا سے صنم کی جانب دیکھا، جو کمرے کا پھیلاوا سمیٹ رہی تھی ۔۔۔ میں یہاں کیسے آئے میں تو ڈاکو جی کے پاس تھی۔
اپنے اردگرد دیکھتے وہ حیرت سے پوچھنے لگی کہ اندر صنم نے اسے گھورا کیا مطلب کیسے آئی تم اپنے کمرے میں نہیں ہو گی تو اور کہاں جاؤ گی۔۔؟ صنم نے اسے گھورا تو ماہا برے سے منہ بناتے بیڈ سے اتری ، تمہیں کچھ نہیں پتہ صنم میں یہاں نہیں تھی۔
میں رات کو ابتہاج کو ڈھونڈنے گئی تھی اور پھر مجھے وہ۔ڈاکو جی مل گئے جو ادھر میرے کمرے میں بھی آتا ہے اور پھر میرے بے بی کو بھوک لگی تھی تو اس نے مجھے اور بےبی کو برگر بھی دیا کھانے کو ، پھر اسنے مجھے گاڑی میں اٹھا کے بٹھایا اور پھر ۔۔۔۔۔” بس کر دو ماہا کیا اول فول کہہ رہی ہو کوئی نہیں ہے اپنے پاس سے چیزیں سوچنا بند کر دو کبھی کوئی چور آ جاتا ہے تمہارے کمرے میں تو کبھی تم خود سے ہی باہر چلی جاتی ہو اور پھر کوئی ڈاکو یہ سب صرف تمہارے دماغ کا وہم ہے اور کچھ بھی نہیں۔
جتنا سوچو گی اتنا ہی سب اپنے پاس سے تصور کرو گی تو اپنے اس چھوٹے سے دماغ پر زور ڈالنا بند کرو ، اور یہ لو وہ کپڑے اسے پکڑاتے ہوئے بولی۔۔ یہ کیا ہے؟” ماہا نے کپڑوں کی جانب دیکھا جو کالے رنگ کا کافی اچھا سا سوٹ تھا ۔۔ صالح کے پاس اسکا کوئی دوست آ رہا ہے اور میں نہیں چاہتی کہ میری بہن کو دیکھ کر کوئی بھی باتیں بنائے اسی لیے تم ابھی شاور لینے جا رہی ہو اور میں تمہیں اچھے سے تیار کروں گی۔۔
صنم نے اسکے بال کندھے سے پیچھے کرتے کہا ، تو صالح کا دوست آ رہا ہے میرا تو نہیں میں کیوں تیار ہوں اسکا دماغ صنم کی سوچ سے بھی زیادہ چلتا تھا صنم نے تاسف سے اسے گھورا۔۔ کیونکہ وہ ہمارے گھر آ رہا ہے پاگل لڑکی اور میں بھی اچھے سے تیار ہوں گی اور تم بھی۔۔۔۔ صنم نے اسے کندھوں سے تھامتے زبردستی باتھروم میں بند کیا ۔۔
صالح کی بیوی تو صنم ہے پھر میں کیوں یہ کپڑے پہنوں۔۔ وہ ہاتھ میں تھامے اس سوٹ کو گھورتے سوچ رہی تھی ۔۔۔ میں ابتہاج سے ملوں گی تو یہ اسے پہن کر دکھاؤں گی میں ایسا کرتی ہوں جلدی سے ریڈی ہو جاتی ہوں۔۔ وہ خوشی سے سوچتے ساتھ ہی کپڑے ہینگ کرتے شاور لینے لگی۔
____________
صالح آپ کا یہ دوست آخر ہے کون جسے آپ نے صبح ہی صبح انوائٹ کر لیا آپ اسے رات کو ڈنر پر بھی انوائیٹ کر سکتے تھے ، صنم جلدی سے بریک فاسٹ بنا رہی تھی اور صالح اسکا ساتھ دے رہا تھا میں مدد کر تو رہا ہوں جان ویسے بھی وہ دس بجے تک پہنچے گا اور تب تک ہم دونوں مل۔کر بریک فاسٹ بنا لے گے۔۔۔ وہ آملیٹ بناتی صنم کے کندھوں کو ہونٹوں سے چھوتے اسکے کان کی لو پر لب رکھتے سرگوشی نما آواز میں بولا۔۔
آپ رہنے دیں آپ سے میں کسی اچھی چیز کی توقع نہیں کر سکتی آپ مجھے ہی تنگ کریں گے ۔۔ صنم نے جھنجھلاتے ہوئے اسے پیچھے کرنا چاہا جسکے دونوں ہاتھ اب صنم کے پیٹ پر تھے۔
صالح کچھ تو خیال کریں دور رہیں نان تنگ کریں مجھے۔۔۔ وہ اسکے ہونٹوں کا لمس اپنے گالوں اپنے کندھوں پر پاتے اپنی پشت اسکے سینے سے لگی محسوس کرتے پور پور پسینے سے شرابور ہوئی بولی، میں اپنے بچے سے پیار کر رہا ہوں تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔۔
صنم کو ٹوکتے وہ پھر سے اسکے کندھے پر ہونٹ رکھتے بولا تو صنم نے جھرجھری لی یہ شخص اسے رات ہو یا دن۔کبھی بھی ستانے کا کوئی موقع نہیں جانے دیتا تھا اور اب بھی وہ وہی کچھ کر رہا تھا۔
صصص صالح۔۔۔۔ اپنی گردن سے سرکتے اسکے ہونٹوں کے لمس پر صنم۔نے لرزتے اسے پکارا تو صالح نے فورا سے اپنی انگلی اسکے ہونٹوں پر رکھی۔
اششششش_____ یہ بہت پرانا طریقہ ہے جانم کچھ نیا بھی ٹرائی کر لیا کرو جیسے تم۔اپنے ہونٹوں سے میرے ان بےباک ہونٹوں کو روک سکتی ہو۔۔۔ مجھے کافی خوشی ہو گی تمہاری اس مدد پر۔۔۔۔ ” وہ مزے سے اسکے کان کے قریب جھکتا معنی خیز بےباک سی سرگوشیاں کرتا صنم کو دہلا سا گیا تھا ۔
اچھا اچھا غصہ ہونے کی ضرورت نہیں میں جانتا ہوں تم بہت بےتاب ہو مگر یہ کچن ہے اور کسی بھی وقت ہماری ماہا بے بی آتی ہی ہو گی تو ہم ایسا کرتے ہیں یہ سب روم میں کریں گے میں تمہیں پورا موقع دوں گا اپنے ان گستاخ ہونٹوں کو سزا دینے کا مگر شرط یہ ہے کہ یہ سزا تمہارے ان حسین ہونٹوں سے ملے۔۔۔۔ صنم کا رخ اپنی جانب کرتے صالح نے بےہودی سے اسکے ہونٹوں پر ہونٹ رکھتے گہرا سانس اپنے اندر کھینچا تھا اور پھر ایک دم سے پیچھے ہوتے صالح نے خمار آلود نظروں سے صنم۔کے دھواں دھواں ہوئے چہرے کو بے باکی سے دیکھا جو اپنی گھبراہٹ پر قابو پانے کی کوشش کرتے اسے پیچھے کی جانب دھکا دیے اپنے کام میں مشغول ہوئی تھی۔۔
کیا ہے یار اتنا لیٹ کر دیا تم نے میں جلدی سے ریڈی ہو جاتا ہوں ، وحید مراد قریشی آنے والا ہو گا ، پھر اسکے ساتھ مجھے آفس بھی جانا ہے کام کے سلسلے میں۔۔۔ وہ سارا الزام صنم پر ڈالے اب اطمینان سے اسے اپنی روٹین سا آگاہ کرتا اوپر کمرے کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔اسکی پشت کو گھورتے صنم نے تاسف سے سر نفی میں ہلا دیا۔
_______________
کیا ہوا ہے دلاور آپ اتنے پریشان کیوں ہیں۔۔۔؟” صبا بیگم راکنگ چئیر پر خاموش بیٹھے دلاور شاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے انکے قریب بیٹھی تھی جو کسی گہری سوچ میں مبتلا تھے۔۔ ہممممم_____ کچھ نہیں بس ماہا کا سوچ رہا ہوں۔۔۔ ” انکے ہاتھ کے لمس پر وہ ہوش میں آتے تکلیف سے بولے ۔
آپ دعا کریں اللہ پاک ہماری بچی کو صبر دے دیں بس آمین ثم آمین______” وہ خود بھی کافی رنجیدہ تھیں انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر کو وہ کیا کریں ___ کیسے اپنی بچی کو اس غم اس تکلیف سے نکالیں۔۔ مجھے لگتا ہے میرے گناہوں کی سزا دی ہے میرے اللہ نے مجھے ۔۔۔۔ میری معصوم پھولوں جیسی بچی کو میں نے پوری زندگی کبھی سینے سے نہیں لگایا اسے کبھی محبت کی نظروں سے نہیں دیکھا ۔۔
اور آج میری بچی میری آنکھوں کے سامنے تڑپ رہی ہے اور میں کچھ نہیں کر سکتا۔ وہ بے بسی سے اپنی اندرونی کیفیت سے انہیں آگاہ کرتے بولے تو صبا بیگم مزید رنجیدہ ہوئی۔
میں نے سوچ لیا ہے کہ میں ماہا کو اپنے پاس لے آؤں گا ۔ وہ اپنی آنکھوں میں آئے آنسوں پونچھتے ہوئے اپنا فیصلہ صبا بیگم کو سناتے ہوئے بولے۔
نہیں دلاور ہم ایسا کچھ نہیں کر سکتے ، صنم اور صالح اسکا خیال دکھ رہیں ہیں۔۔۔ اگر وہ دوبارہ سے یہاں آئی تو اسکی حالت مزید بگڑ جائے گی ۔ اسے ابھی آرام کی ضرورت ہے اگر وہ یہاں آئے گی تو ابتہاج کی یادیں اسے مزید پاگل کر دیں گی اس وقت اسے وہاں ہی رہنے دیں۔۔ صبا بیگم نے انہیں آرام سے سمجھانا چاہا تھا مگر وہ مزید بےچین ہوئے تھے۔
تم جانتی نہیں میں نے اسے خود دیکھا ہے وہ مجھے دیکھ کر بھاگ گئی صباء جانتی ہو یہ کتنا اذیت ناک تھا میرے لئے ۔ وہ ایک دم تڑپ اٹھے صباء بیگم کی اپنی انکھںں اشکبار تھی ۔۔ وہ لاجواب ہو گئی۔۔۔ میں کل جاؤں گا مری چاہے جو بھی ہو میں اسے اپنے ساتھ لاؤں گا اسے وہ ساری محبت وہ لاڈ پیار دوں گا جس پر اسکا حق ہے میں اسے اپنے پاس رکھوں گا دنیا سے چھپا کر صرف اپنے لئے۔
صباء بیگم کینجانب دیکھتے وہ ایک پریقین لہجے میں بولے تو وہ خاموش ہو کے رہ گئی، انکی اذیت انکا دکھ وہ خود بھی جانتی تھی مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ انکے اس فیصلے سے ماہا کی زندگی مزید مشکل ہونے والی تھی ۔
________________
مسٹر خان مجھے آپ کی ڈیل بے حد پسند ہے اسی وجہ سے تو میں آپ سے ملنے یہاں آیا ہوں آپ کے گھر ۔۔۔۔ صالح کی جانب دیکھتے وحید مراد قریشی نے اشتیاق سے کہا تو صالح گہرا مسکرایا ۔۔ آپ کا۔بے حد شکریہ مسٹر قریشی کہ آپ نے پوری انڈسٹری میں سے ہماری کمپنی کو اپنے لیے چنا مجھے آپ کے ساتھ کام کر کے بے حد خوشی ہو گی۔۔
صالح نے صنم کی جانب دیکھتے ہوئے محبت سے کہا تھا صنم صالح کے ساتھ بیٹھی خاموشی سے یہ سب کچھ سن رہی تھی ۔ مگر اسکا دھیان سارا ماہا کی جانب اٹکا تھا ۔۔ ماہا کو کپڑے تو وہ دے آئ تھی مگر اسے تیار نہیں کر پائی تھی اوپر سے یہ بزنس مین اچانک ہی وقت سے پہلے ٹپک پڑا تھا جس کی وجہ سے وہ کافی تپی ہوئی تھی۔۔
صنم صالح یہ دیکھو میں کیسی لگ رہی ہوں ۔۔۔۔ ‘ سیڑھیوں کے وسط میں کھڑی وہ اپنے ہاتھ میں دوپٹہ لہراتے ایک ادا سے بول رہی تھی ۔ اسکے بھیگے بالوں سے بہتی پانی کی بوندیں اسکی گردن میں گرتے مقابل کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگی۔۔۔ چونکہ صالح اور صنم کی پشت اس جانب تھی وہ دونوں نہیں جانتے تھے کہ پیچھے کھڑی وہ مس کوین کونسا شوشا چھوڑ رہی تھی۔۔
اسکے نازک وجود کی نشیب و فراز دیکھتے مقابل کو اپنے حلق میں کانٹے سے اترتے محسوس ہوئے تھے وہ بمشکل سے اپنا چشمہ سیٹ کیے نظریں گھما گیا۔۔۔ ماہا یہ کیا کر رہی ہو سامنے دیکھو مہمان آئے ہیں۔۔۔۔ اسکے قریب جاتے صنم نے جھڑکتے اسکا۔دوپٹہ کھینچا تھا اور فورا سے خجاب بنائے اسکے سر پر پہنایا ۔۔۔۔
ماہا نے صنم کی پشت سے نکلتے سامنے دیکھا جہاں سرخ داڑھی میں آنکھوں پر بڑا سا چشمہ لگائے وہ کوئی آدمی تھی ۔۔
اب شرارت نہیں کرنی۔۔ اسکے گال کو چھوتے صنم نے تنبیہ کی اور اسے ساتھ لئے چلتے وہ میز کے قریب پہنچی ۔۔۔ یہ میری بہن ہے ماہا۔۔۔ صنم نے اسے اپنےساتھ والی کرسی پر بٹھاتے تعارف کروایا ۔۔۔۔ مقابل نے اسکے بھیگے چہرے نم ہونٹوں کو دیکھتے ایک سرد سانس فضا کے سپرد کیا اور جبرا مسکراتے سر ہاں میں ہلایا۔۔
ہیلو سرخ داڑھی والے انکل جی۔۔۔ ماہا نے خود سے اسے پکارا جو پیچارہ پانی پی رہا تھا۔
اسکی بات پر جہاں صنم۔اور صالح شرمندہ سے ہوئے وہیںں مسٹر قریشی کو اچھوکا سا لگا تھا ۔۔
اسکی چہرہ ایک دم سے سرخ پڑ گیا یہ سمجھنا مشکل تھا کہ یہ سب کس وجہ سے تھا۔ ماہا کے انکل کہنے پر یا پھر داڈھی والے انکل۔کہنے پر۔۔۔
ماہا ۔۔۔۔۔۔صنم نے دانت پیستے اسے خاموش کروانا چاہا جو صنم کو یوں گھور رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔۔
ویسے مجھے ایک بات تو بتائیں کیا آپ کی یہ داڑھی بھی ڈاکو جی کی طرح اصلی ہے ۔۔ اسے تجسس ہوا تھا اور کل رات کا کوئی بھی سین وہ بھولی نہیں تھی اسکی ایک ہی رٹ پر صنم نے ماتھے پر ہاتھ رکھا تھا جبکہ صالح وحید مراد کو دیکھ رہا تھا جس کی نظریں ماہا پر تھیں ۔
جی نہیں یہ میری خاص پسندیدہ داڑھی ہے۔؟ اسنے ہاتھ سے شیو برابر کرتے کہا تو صالح کو ہنسی آئی اسکی حالت پر مگر پھر صنم کے آنکھیں دکھانے پر وہ خاموشی سے بیٹھا رہا۔۔ ابکی بار ماہا کچھ بولتی اس سے پہلے ہی صنم۔اسکا۔ہاتھ تھامے اسے واپس کمرے میں لے گئی۔
آج رات میں نے ایک پارٹی رکھی ہے مسٹر خان تاکہ سب کو پتہ چل سکے کہ ہم دونوں ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔۔ مسٹر قریشی نے جگہ سے اٹھتے صالح کو مخاطب کیا ۔۔۔۔ مجھے خوشی ہو گی میں ضرور آؤں گا مسٹر قریشی۔۔۔ صالح اسکے ساتھ ہی نکلتے مسکراتا ہوا بول رہا تھا۔۔ جی مگر مجھے زیادہ خوشی ہو گی جب اپ اپنی بیوی اور سالی کو بھی لائیں گے ساتھ ڈونٹ وری ایک چھوٹی سے گیٹ ٹو گیدرنگ ہے اور کچھ نہیں۔۔۔ ‘ اسکی پریشانی کو بھانپتے قریشی نے اسکا کندھا تھپکا۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہم ایک مہینے سے ایک ساتھ کام کرتے آئے ہیں اور مجھے آپ ہر پورا یقین ہے مسٹر قریشی۔۔۔۔ اسکا۔کندھا تھپکتے صالح نے دل سے کہا تو وہ مسکرا دیے۔
_______________
صالح اور وحید مراد کے جانے کے بعد صنم نے کافی کوششوں کے بعد ماہا کو کھانا کھلاتے میڈیسن دی تھی ڈاکٹرز کے مطابق ماہا کی ریکوری اسکی نیند سے ہو سکتی تھی۔۔ صنم کافی دیر تک اسکے پاس بیٹھی رہی ماہا کو پرسکون سوتا دیکھ صنم نے جھکتے اسکی پیشانی پر لب رکھے اور بنا آواز کیے وہ روم سے نکلتے ہی دروازہ بند کرتے نیچے اتری تھی۔۔
میز پر برتن یونہی پڑے تھے اسے اس وقت کافی تھکاوٹ بھی محسوس ہو رہی تھی کیونکہ صبح سے وہ ناشتہ تیار کرتے کافی تھک گئی تھی اوپر سے ماہا کو سنبھالنا سب سے زیادہ مشکل کام تھا اسکے لئے جسے وہ محبت سے کر رہی تھی۔۔
اچانک سے دروازے پر ہوتی دستک پر وہ صالح کا سوچتے برتن چھوڑتے دروازہ کینجانب بڑھی تھی۔پاپا آپ۔۔۔۔۔۔۔ دروازے پر کھڑے دلاور شاہ کو دیکھتے صنم کو حیرت اور خوشی دونوں ہی ہوئی تھی وہ مسکراتے ہوئے انکے قریب گئی اور فورا سے انکے سینے سے لگی۔۔
اسکے سر پر ہاتھ رکھتے دلاور شاہ کا ہاتھ تھم سا گیا انہوں نے فورا سے ہاتھ کھینچ لیا صنم ان کی بے رکھی کے باوجودِ بھی مسکرا دی۔۔۔ آئیے پاپا اندر آئیں۔۔۔ انہیں ساتھ لیے وہ اندر داخل ہوئی۔
ماہا کہاں ہے ۔۔؟” صنم کی بات کا جواب دیے بنا وہ متلاشی نظروں سے ماہا کو ڈھونڈتے اسکی بابت پوچھنے لگے۔۔۔۔
پاپا وہ تو سو رہی ہے آپ بیٹھیں میں ناشتہ لاتی ہوں آپ کیلئے ۔ صنم کی آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی کہاں سوچا تھا اس نے کہ اسکے پاپا اسے معاف نہیں تو کم از کم اب ناراض بھی نہیں تھے وگرنہ جو کچھ وہ کر چکی تھی ان سب کے بعد یہ سب کچھ ناممکن سا لگتا تھا اسے۔۔
نہیں مجھے کچھ نہیں کھانا میں بس ماہا کو لینے آیا ہوں اسے لے کر ہی جاؤں گا ۔۔۔۔ وہ اٹل لہجے میں کہتے ماہا کے کمرے کی جانب بڑھے تھے ۔۔۔
پاپا یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔ ماہا بھلا کہاں جائے گی وہ یہاں میرے ساتھ میرے پاس رہے گی۔ صنم نے انکے قریب جاتے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو دلاور صاحب نے مڑتے اسے دیکھا۔
وہ میری بیٹی ہے میں اسے لینے آیا ہوں اور لے کر ہی جاؤں گا۔۔۔۔ وہ کہتے ساتھ ہی اوپر کی جانب بڑھنے لگے۔۔کہ صنم نے آگے بڑھتے انکا ہاتھ تھاما اور انہیں ساتھ لیے وہ اپنے کمرے کینجانب چل پڑی دلاور صاحب خاموشی سے اسکے ساتھ جا رہے تھے، انہیں خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا کرنے والی ہے۔
یہ لیں یہ دیکھیں ماہا کی رپورٹس ڈاکٹرز نے صاف صاف کہا ہے کہ اگر ماہا دوبارہ سے اس اسٹیج میں گئی جہاں اسے صرف اور صرف ابتہاج کی یادیں اسکے ساتھ گزارا وقت یاد آتا رہا تو پھر ماہا کے ٹھیک ہونے کے چانسزز زیرو ہو جائیں گے ۔۔۔ ہم اسے ہمشیہ کیلئے کھو دیں گے پاپا۔۔اپ چاہتے ہیں کہ وہ دوبارہ سے اسی جگہ جائے وہی سب کچھ یاد کرے۔۔۔
میں مانتی ہوں پاپا کہ میں نے بہت سی غلطیاں کی ہیں میں ایک نافرمان اولاد ہوں مگر کیا آپ کی بے رخی میرے خدا کی دی گئی سزا کیا میرا مکافات میرے گناہوں کو آپکی نظر میں کم نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ انکے دونوں ہاتھوں کو تھامے وہ بے بسی سے بولی تو دلاور صاحب نے نظریں چرا لی۔۔۔
پاپا مجھے معاف کردیں پلیز میں نے آپ کی نافرمانی کی اس دنیا نے مجھے ریزہ ریزہ کر دیا ، میں بے حد شرمندہ ہوں اپنے کیے پر کیا آپ مجھے معاف نہیں کریں گے ۔ انکے ہاتھوں کو تھامتے وہ محبت سے ان پر بوسہ دیے بولی تو دلاور صاحب کا دل بھاری ہونے لگا۔؟
انہوں نے ضبط سے سرخ آنکھوں سے اپنے ہاتھوں پر سر رکھتے روتی اپنی لاڈلی کو دیکھا۔۔
جس کی ایک غلطی نے ان سے انکا مان غرور عزت سب کچھ چھین لیا تھا ۔پلیز ماہا کو مت لے کر جائیں۔۔ انکے سینے سے لگے وہ بری طرح سے رو رہی تھی ابھی تو اسنے ایک بہن کی طرح ماہا کا خیال رکھنا شروع کیا تھا اب جب وہ اسے چھوڑ کر چلی جائے گی تو صنم پھر سے اکیلی پڑ جائے گی ۔۔۔
پاپا مجھے معاف کر دیں پلیز۔۔۔ اسکے لرزتے وجود اسکے لہجے کی سچائی پر آخر کار دلاور صاحب نے اپنا ہاتھ صنم کے سر پر رکھا تھا ۔۔ جو اپنی سرخ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔
میری بیٹی امانت ہے تمہارے پاس صنم۔۔۔۔اسکا بہت زیادہ خیال رکھنا اور اپنا بھی۔۔۔۔ وہ ضبط سے اپنے دل پر قابو کرتے نم لہجے میں بولے تو صنم نے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔ دلاوہ صآحب اسکے سر پر ہاتھ رکھے بنا کچھ کہے وہاں سے چلے گئے ۔۔۔
_______________
اففففف بیگم اگر ایسے غضب کی تیاری کے ساتھ جاؤ گی تو یقین جانو میرا دل اور ارادہ دونوں ہی بدل جائیں گے۔ صالح جو صنم کو دیکھنے اندر آیا تھا اسے ریڈ کلر کی شارٹ فراک میں ملبوس دیکھ ، چہرے پر ہلکا سا میک اپ کے ساتھ بالوں کا اونچا جوڑے بنائے وہ اسکے قاتل حسن سے متاثر ہوئے پیچھے سے اسے ہگ کرتے بولا تو صنم نے آئینے سے اپنے ساتھ نظر آتے صالح کے عکس کو مسکراتے دیکھا۔
میں نے کہا تھا کہ میکسی پہننا ، اسکے چہرے پر جھولتے لٹ کو انگلی کے گرد لپیٹتے وہ شکوہ کرنے لگا کہ صنم نے سرد سانس خارج کرتے صالح کو آنکھیں چھوٹی کیے گھورا۔ صالح آپ جانتے ہیں کہ میکسی کتنی فٹ ہوتی ہے اور ایسی کنڈیشن میں میرا دم گھٹنا شروع ہو جاتا ہے ۔ اپنے ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک لگاتے وہ صالح کو پیچھے کرنے لگی جس کی بے باک نظریں صنم کے ہونٹوں پر تھی ، ویسے جو آپشن میں نے تمہیں صبح دیا تھا وہ ابھی تک ویلڈ ہے تم اپنے ان خوبصورت ہونٹوں سے مجھے خاموش کروا سکتی ہو جانم کیونکہ یہ پھر سے کوئی گستاخی کرنے کا سوچ رہے ہیں۔
صنم کے گرد اپنی بانہوں کا حصار بناتے صالح کے اسکے کندھے پر ہونٹ رکھتے کان میں سرگوشی کی تو صنم نے تاسف سے سر ہلایا ۔
کبھی تو باز آ جایا کریں صالح ابھی مجھے ماہا کو تیار کرنے جانا ہے۔ اسکے ہونٹوں کی بڑھتی بے باکیوں سے وہ کسمساتی اسکے حصار کو توڑنے کی کوشش کرتے بولی تو صالح نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ لپیٹتے صنم کا رخ اپنی جانب کیا ،
کس نے کہا تھا کہ ایسے قاتلانہ تیار ہو کر اپنے شوہر کے سامنے آؤ اور پھر جب اسکے جذبات دہکنے لگیں۔ تو آگے سے نخرے دکھانا شروع کر دیتی ہو، وہ خفگی سے اسکی تھوڑی پر ہونٹ ثبت کرتے اسے ڈانٹنے کے سے انداز میں بولا تو صنم نے اس ناٹک باز کو گھورتے خود سے دور کرنا چاہا۔
ایسے کیسے میڈم ۔۔ صنم کے دور ہونے پر صالح نے فورا سے اسکا ہاتھ تھامتے اپنی گردن کے گرد حائل کیے وہ اسکے نازک وجود کو اپنے قریب تر کرنے لگا۔
تھوڑا سا چکھنا تو بنتا ہے ظالم بیوی ۔۔۔۔ صنم کی ناک پر ہونٹ رکھتے وہ بے باک سرگوشی کرتے اسکے نازک ہونٹوں پر جھکتے اپنی من مانیاں کرنے لگا۔
اسکے لمس میں ہمشیہ کی طرح ہی وہی نرمی اور محبت آباد تھی کہ صنم اسکے لمس پر مدہوش سی ہو گئی۔۔۔صالح نے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی دیے اسکی گردن پر اپنے ہونٹوں کی مہریں ثبت کیں تو صنم کا سانس اکھڑنے لگا۔۔۔
صصص صالح۔۔۔۔ صنم نے اسے خود سے دور کرنے کو پکارا تو صالح نے سر اسکی گردن سے نکالتے اسے دیکھا جو آنکھیں بند کیے گہرے سانس بھر رہی تھی۔
میرے جذبات میری چاہت تم پر بہت زیادہ ادھار بنتے جا رہے ہیں۔ میرا بے بی تمہیں بچا لیتا ہے ہر بار مگر ڈونٹ وری ایک بار بےبی کو آنے دو پھر فرصت سے اپنے سارے حساب اپنی فیورٹ سٹائل میں پورے کروں گا۔۔
اسکے ہونٹوں پر اپنا لمس چھوڑتے وہ پیچھے ہوتے اسے اپنے حساب کتاب کے متعلق بتانے لگا کہ صنم کا چہرہ شرم سے دہکتا انگارہ بن گیا۔
وہ بمشکل سے اسے خود سے دور کیے ماہا کو تیار کرنے اسکے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔
______________
آئیے آئیے مسٹر خان میں آپکا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔گہرے ڈارک بیلو کلر کے تھری پیس میں ملبوس اپنی شاہانہ وجاہت بڑھی ہوئی سرخ داڑھی اور آنکھوں پر چشمے لگائے وہ جو کب سے انکی۔راہ تک رہا تھا صالح کو اندر آتا دیکھ وہ فورا سے انکے قریب گیا۔۔
آپ نے اتنی محبت سے بلایا تھا مجھے تو آنا ہی تھا۔ صالح نے مسکراتے ہوئے کہا تو مسٹر قریشی سنتے سر ہاں میں ہلا گئے۔
بھابھی کو نہیں لائے آپ ساتھ کہاں بھی تھا کہ سب کو لائیے گا۔۔ ” صالح کو اکیلا دیکھ مسٹر قریشی نے صنم۔اور ماہا کو ناں پاتے پوچھا ۔
نہیں وہ آئیں ہیں ساتھ بس صنم ماہا لے کر آ رہی ہے۔صالح نے باہر دروازے کی جانب دیکھتے اسے آگاہ کیا تو اتنے میں ہی صنم ماہا کا ہاتھ پکڑے اندر داخل ہوئی تھی۔
ڈارک بیلو کلر کی پاؤں کو چھوتی اس خوبصورت میکسی میں ملبوس ، سر پر خجاب کیے چہرے پر ہلکا سا میک اپ کیے وہ صنم کے ساتھ مسکراتے ہوئے اندر بڑھی تھی ۔
اسلام علیکم بھابھی مجھے خوشی کہ آپ لوگ بھی میری پارٹی میں آئے ویلکم ۔۔۔ صنم اور ماہا کینجانب دیکھتے اسنے گہرے لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا تھا ماہا تو گردن گھمائے آگے پیچھے دیکھ رہی تھی جہاں پورا ہال ہی لڑکیوں اور مردوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔ اسنے ڈرتے صنم کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا تو صنم نے اسے خود سے لگایا۔۔۔ مسٹر خان آئیے میں آپ کو کچھ لوگوں سے ملواتا ہوں۔
صالح کو دیکھتے مسٹر قریشی اسے ساتھ لیے ایک جانب کھڑے بڑے بڑے بزنس مین کے پاس گئے اور صالح کا تعارف کروانے لگے۔
صنم مجھے وہ جوس لا کر دو بے بی نے پینا ہے۔۔۔ ” صنم جو تھکاوٹ کی وجہ سے ایک جانب کرسی۔پر بیٹھی تھی ماہا نے اشتیاق سے ان بوتلوں کو دیکھتے کہا تھا ۔
تم کچھ زیادہ ہی شریر ہو رہی ہو ماہا ہر بار اس معصوم پر الزام لگا دیتی ہو اور کوئی جوس نہیں پینا یہاں سے پتہ نہیں کونسا جوس ہو گا اور کونسی شراب ۔۔۔ خبردار جو کسی بھی جوس کو ہاتھ لگایا۔۔ اسکو ساتھ بیٹھاتے صنم۔نے اسے حکم بھی دیا مگر ماہا کی نظریں ابھی تک ان بوتلوں پر اٹکی تھی۔
ڈانس پلیز۔۔۔۔۔ میوزک سٹارٹ ہوتے ہی صالح مسٹر قریشی سے اجازت لیے انکے قریب آیا اور اپنا ہاتھ صنم کے سامنے پھیلائے کہا تو صنم نے شرماتے سر ہاں میں ہلا دیا ۔۔۔
ماہا آنکھیں چھوٹی کیے انکو گھور رہی تھی ۔ صنم کو تھامے صالح وہاں سے جیسے ہی گیا۔۔وہ تیزی سے اٹھتے میز کی جانب گئی اور ایک دم سے ایک بوتل اٹھائے جلدی سے اپنے منہ کو لگائی۔۔
اسکا ذائقہ کڑوا کیوں ہے۔۔۔ اسنے منہ بسورتے بوتل کو دیکھا جو اسکے ہاتھ میں تھی ۔۔ ایک بار پھر سے چیک کرتی ہوں کیا پتہ اچھا ہو۔۔ اسنے چور نظروں سے صالح اور صنم کو دیکھا جو اب ڈانس کر رہے تھے ۔
اور پھر سے بوتل منہ کو لگائی۔۔اس بار اسے اس جوس کا ٹیسٹ اچھا لگا تھا ۔۔۔۔ارے واہ میں اسے چھپا کے گھر لے جاؤں گی اور اپنے کمرے میں بیٹھ کر پیوں گی وہ نشے سے جھولتی اس بوتل کو دیکھتے مسکراتے ہوئے بولی تھی ، ارے واہ یہ تو گول گول گھومتی بھی ہے اسنے سامنے بوتل کو غور سے دیکھا تو ہنستے خود سے ہی مخاطب ہوئی تھی۔
بہت اچانک کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا ماہا نے صنم کے خیال سے فورا سے بوتل میز پر رکھتے مڑتے پیچھے دیکھا ۔۔ارے سرخ داڑھی والے انکل آپ۔۔۔ !” وہ ہنستی وحید قریشی کو دیکھتے ہوئے بولی تو مقابل نے اپنا ایک ہاتھ پینٹ میں پھنسائے اسکی سرخ آنکھوں میں دیکھا۔
ڈانس کریں گی میرے ساتھ۔۔اسکے نازک وجود کو آنکھوں میں بسائے وہ گھمبیر لہجے میں بولا ۔۔ اوکے مگر مجھے زیادہ تیز مت گھمانا۔۔۔ وہ اپنا نازک ہاتھ مقابل کے چوڑے سرخ و سفید ہاتھ میں رکھتے بولی تو وحید قریشی نے اسے چونکتے دیکھا وہ کیوں بھلا۔۔۔۔؟” اسکے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے وہ اپنے قریب تر کرتا اسکی خوشبو کو خود میں اتارنے لگا۔
کیونکہ اندر بے بی بیٹھا ہے اگر تم نے گھمایا تو وہ بھی گھومے گا اور اسے چوٹ بھی لگے گی۔
وہ دانشمندانہ انداز میں بولی تو مقابل نے گہرا سانس فضا میں خارج کرتے اسکے پیٹ کی جانب دیکھا اور پھر نرمی سے اسکے تھامے ہاتھ کو اپنے کندھے پر رکھتے وہ اسے ساتھ لیے آگے بڑھا تھا۔۔
توں آتا ہے سینے میں جب جب سانسیں بھرتی ہوں ۔
تیرے دل کی گلیوں سے میں ہر روز گزرتی ہوں۔
کون تجھے یوں پیار کرے گا جیسے میں کرتی ہوں۔”
اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے وہ گانے کے مدہوش کرتی تیز دھنوں پر اپنا ایک ہاتھ ماہا کی کمر کے گرد حائل کیے اسکے ساتھ احتیاط سے ڈانس کر رہا تھا۔۔ جبکہ ماہا تو مکمل۔ساتھ ساتھ گنگنا رہی تھی۔۔ جس پر مقابل اسکے ساتھ ڈانس کرتے وحید قریشی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری ۔
مسٹر قریشی۔۔۔۔۔اچانک سے صالح کے بلانے پر وحید نے ماہا کو نرمی سے چھوڑا اور مڑتے پیچھے متفکر سے کھڑے صالح کی جانب دیکھا۔
صنم کی طبیعت خراب ہو رہی ہے مجھے اسے ہاسپٹل لے جانا ہو گا آپ پلیز آج ماہا کا خیال رکھ دیں گے کیونکہ اگر ماہا نے صنم کو اس حالت میں دیکھ لیا تو وہ مزہد پینک ہو جائے گی۔
صالح نے اپنی پریشانی سے آگاہ کیا تو مقابل جیسے یہی سننے کو بے چین تھا۔
ڈونٹ وری میں انکا خیال رکھوں گا آپ بھابھی کو لے جائیں۔۔
اسنے کھلے دل سے اجازت دی جس پر صالح مشکور ہوتا صنم کو ساتھ لیے وہاں سے نکلا تھا۔
مسٹر قریشی نے مڑتے ماہا کو دیکھا جو وہاں نہیں تھی اسکے ماتھے پر بل نمودار ہوئے ۔۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھتا اسے ڈھونڈنے لگا۔
ماہا سویمنگ پول کے قریب اپنے دونوں گھٹنے کھڑے کیے ان پر سر رکھے ابتہاج کو یاد کرتے رو رہی تھی ۔۔ اسے آج کتنی یاد آئی تھی ابتہاج کی مگر وہ تو جیسے اپنی ماہا کو بھول ہی گیا تھا۔
ماہا نے سوں سوں کرتے اپنے آنسوں صاف کیے اور شفاف پانی میں دیکھنے لگی۔۔ نشے سے اسکا سر بھاری ہو رہا تھا۔۔اسنے سر جھٹکتے پانی میں دکھتے اس عکس کو گھورا جو اسکے ابتہاج کا تھا
ماہا نے منہ کھولے حیرت سے مڑتے دیکھا تو ابتہاج اسکے پیچھے کھڑا تھا وہ دھڑکتے دل سے فورا سے اٹھی تھی کہ ایک دم سے لڑکھڑاتے وہ پیچھے پانی میں گری اس اچانک افتاد پر اسکے منہ سے چیخ نکلی تھی۔۔۔۔وہ ڈرتے انکھںں بند کیے خود کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے لگی کہ ابتہاج نے فورا سے چھلانگ لگاتے پانی میں جاتے اسے تھاما۔۔
جس کا پورا وجود ڈر سے کپکپا رہا تھا۔۔ ماہا۔۔” اسکی بند آنکھوں کو دیکھتے ابتہاج نے اسے سینے سے لگائے متفکر سا ہوتے پکارا تھا۔۔
ماہا نے آنکھیں مضبوطی سے میچیں ۔۔۔اسے لگا یہ اسکا خواب تھا جو آنکھیں کھولتے ہی ٹوٹ جائے گا۔۔
ماہا آنکھیں کھولو۔۔۔ابتہاج نے اسکی بھیگی گردن پر اپنے بھیگے ہونٹ رکھتے سرگوشی کی تو ماہا نے سر نفی میں ہلایا۔۔
” میں جانتی ہوں اگر آنکھیں کھولی تو یہ خواب ٹوٹ جائے گا۔۔ ‘
اسکی آنکھوں سے بہتے آنسوں اسکے کہے الفاظ ابتہاج نے اسے ایک دم سے خود میں بھینج لیا۔۔ابتہاج کا ایک ہاتھ ماہا نے کمر کے گرد حائل تھا جبکہ اپنے دوسرے ہاتھ سے وہ اسکے بالوں کو سہلاتا ماہا کو پرسکون کرنے لگا۔
کہاں چلے گئے تھے آپ مجھے چھوڑ کر سب نے کہا کہ آپ نہیں رہے مجھے چھوڑ کر بہت دور چلے گئے ہیں مگر میں جانتی تھی کہ آپ مجھے چھوڑ کر کبھی نہیں جا سکتے۔
وہ روتے ہوئے ابتہاج کو مضبوطی سے تھام گئی جیسے ڈر ہو کہ وہ پھر سے چھوڑ کر چلا جائے گا۔
میں کہیں نہیں جا سکتا ماہا میں تمہارے قریب ناں ہو کر بھی تمہارے قریب ہوں۔۔۔
میری ہر آتی جاتی سانس میں تم بستی ہو بھلا ابتہاج گردیزی تمہیں چھوڑ سکتا ہے تم میرا آکسیجن سلینڈر ہو جبھی تو روز آتا ہوں اپنی سانسیں لینے تم سے۔۔۔ ٹھنڈ سے کپکپاتے ماہا کے وجود کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے وہ مدہوش سا بھاری سرگوشیاں کرنے لگا۔
ماہا کا وجود اسکے ہونٹوں کے شدت بھرے لمس پر کپکپانے لگا تھا۔۔وجود سے جیسے جان نکل رہی ہو۔۔ ابتہاج نے نرمی سے اسے بانہوں میں بھرا تھا اور پھر چلتے وہ اسے اپنے کمرے کی جانب لے جانے لگا۔۔
اسکی قربت میں وہ سب کچھ بھلائے اسکے سینے سے لگی ابتہاج کی دھڑکنوں کو سن رہی تھی۔
ابتہاج نے۔اندد آتے ہی ڈور پاؤں سے لاک کیا اور پھر چلتے بیڈ کے قریب جاتے وہ نرمی سے اسے بیڈ پر لٹائے اسکے قریب جھکا۔۔
ابتہاج۔۔۔۔اسے دور جاتا محسوس کرتے ماہا نے تڑپتے اسے پکارا تھا ابتہاج نے مسکراتے جھکتے اسکی پیشانی پر ہونٹ رکھتے اسے پرسکون کیا۔۔اور پھر اٹھتے وہ ڈرا کی جانب بڑھا۔۔
کمرے کی معنی حیز خاموشی میں ماہا کی تیزی سے دھڑکتی سانسیں ایک ہرفسون ماحول برپا کرنے لگی ماہا کا نازک بھیگا وجود کپکپا رہا تھا ہونٹ بھی سردی سے ٹھٹرے ہوئے تھے۔
ابتہاج اپنی مطلوبہ چیز نکالتے ماہا کی جانب بڑھا جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔
یہ میری جان اور میری آنے والی جان کیلئے ۔۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں میں تھاما ایک خوبصورت سا پینڈنٹ جس میں اے ایم ہارٹ شیپ میں لکھا ہوا تھا ماہا کی گردن میں پہناتے ابتہاج نے جھکتے اپنے ہونٹ اس پینڈنٹ پر رکھے تو ماہا تیز تیز سانس لیتے آنکھیں موند گئی۔
ابتہاج نے ہونٹ اسکی بند آنکھوں پر رکھے تو ماہا نے تڑپتے اسکے کندھوں کو تھاما تھا ۔ مگر اب ابتہاج کا اس سے دور رہنا نا ممکن۔تھا ابتہاج نے نرمی سے اسکے بھیگے خجاب کو اسکے سر سے اتارا تو ماہا کے حسین بال لہراتے اسکے چہرے پر گرے جن کی خوشبو کو خود میں اتارتے ابتہاج نے اپنے دونوں ہاتھ ماہا کی نازک کمر میں حائل کیے اسے کھینچتے اپنے قریب تر کیا۔
بہت تڑپا ہوں میں تمہارے لئے اپنے بے بی کیلئے ماہا ۔۔۔ اب مجھے خود سے دور مت کرنا ماہا کے پیٹ پر ہونٹ رکھتے ابتہاج نے اسکے کان۔میںں سرگوشی کی تو اسکے جنون کو لفظوں میں محسوس کرتی ماہا نے اپنے خشک حلق کو تر کیا ۔
اپنی شرٹ اتارتے دور پھینکتا وہ ایک دم سے ماہا کے ہونٹوں پر جھکا خود کو سیراب کرنے لگا۔۔۔ اسکے لمس اپنی سانسوں میں اترتی اسکی گرم سانسوں کو محسوس کرتے ماہا کی ٹانگیں لرزنے لگی تھی مگر اسے خود سے دور کرنے کی سکت وہ خود میں نہیں رکھتی تھی۔
ابببب ابتہاج۔۔۔۔۔۔ اپنی کمر سے کھلتی زپ کو محسوس کرتے ماہا نے ڈرتے اسے پکارا تھا کمرے میں پھیلے اندھیرے اور معنی خیز سی خاموشی میں ماہا کی سانسوں کی آواز کو سنتے ابتہاج نے اسکے دائیں کندھے سے میکسی سرکاتے اپنا شدت بھرا لمس اسکے کندھے پر چھوڑا تو ماہا نے تڑپتے اسے خود سے دور کرنا چاہا تھا۔
ابتہاج نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے بھاری ہاتھوں میں الجھائے تکیے سے لگایا کہ ماہا اسکی جان لیوا قربت پر نڈھال سی ہو گئی ۔ جب اںتہاج نے اسکے ہونٹوں پر جھکتے اسکے فرار کے سارے راستے خود تک محدود کر لیے۔۔۔ اسکے نازک وجود کو اپنی محبت سے چھوتے وہ اسے محبت اپنی چاہت سے روشناس کروانے لگا۔
