Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 21,22)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

ابتہاج کے مضبوط حصار میں کسمساتے ہوئے مندی مندی سے آنکھیں کھولتے ماہا نے سر اسکے کندھے سے اٹھائے اس کے حسین چہرے کو دیکھا۔۔۔۔۔

مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے ماہا۔۔۔۔۔۔ اسکے چہرے کی جانب اٹھا ماہا کا ہاتھ تھم سا گیا تھا۔۔ جب رات کو ابتہاج کے کہے الفاظ اسکے کانوں میں گونجے ماہا کے کان جیسے سائیں سائیں کرنے لگے ۔۔ آنکھیں شدت درد سے بہنے لگی ،بھلا ایک باپ کیسے اپنی ہی اولاد کو ختم کرنے کا سوچ سکتا یے۔۔۔۔۔۔۔ اسکی سوچیں معاوف ہونے لگی۔۔۔سر درد سے دکھنے لگا ۔

آپ کیلئے یہ ضروری نہیں ہو گا ابتہاج مگر میرے لئے میری زندگی میرا بچہ ہے ۔۔۔ میں کبھی بھی اس معصوم کو دنیا میں آنے سے پہلے ختم نہیں کروں گی۔۔۔۔۔ آپ کا ساتھ ان سانسوں کیلئے ضروری ہے مگر میں اپنی اولاد کے لیے کچھ بھی کر جاؤں گی آپ کے بنا بھی رہ لوں گی میں۔۔۔۔۔ ”

اسکے چہرے کو ہاتھوں سے چھوتے ماہا نے جھکتے اپنے ہونٹ اسکی پیشانی پہ ثبت کیے ۔۔۔۔ انسںوں لڑی میں پروئے موتیوں کی مانند اسکے چہرے کو بھگو رہے تھے ۔۔۔۔ ماہا لب بھینجتے اس ظالم بے حس کو ایک نظر دیکھ اپنا آخری فیصلہ کیے آہستگی سے اسکی گرفت سے خود کو آزاد کرواتے نکلی تھی ۔۔۔

ہو سکے تو معاف کر دیجئے گا۔۔۔۔۔ کیونکہ ماہا اب سے اپنی اولاد کے لئے جیے گی آپ سے دور جا رہی ہوں بہت دور مگر ایک بات ہمشیہ یاد رکھیے گا آپ میرے دل میں میری سانسوں میں بس چکے ہیں آپ کو بھول پانا نا ممکن سا ہو گیا ہے مگر میں اس معصوم کو ختم کر کے نہیں جی پاؤں گی ۔۔۔۔ آپکی ماہا آپ کو دھوکہ دے رہی ہے ابتہاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو سکے تو معاف کر دینا۔۔۔۔۔۔”

اپنے آنسوں کو ہاتھ کی پشت سے رگڑتے وہ اذیتوں کی ماری بےحال سی بولی تھی۔۔۔۔

ماہا نے ایک گہرا سانس فضا کے سپرد کرتے اپنے پیٹ کو چھوا تھا ایک ہمت ایک حوصلہ سا تھا اسے وہ اکیلی نہیں تھی۔۔۔اپنی اولاد کیلئے تو وہ دنیا سے لڑ جائے گی۔۔۔۔ خود کو مضبوط بنائے وہ ایک آخری نظر اپنے اس ستم گر پہ ڈالتے دروازہ کھولتے ملگجے سے اندھیرے میں روم سے باہر نکلی۔۔۔۔۔۔

اپنے دوپٹے سے چہرہ ڈھانپتے وہ سہمی ہوئی اپنی درد سے چور آنکھوں سے آگے پیچھے دیکھ گھر سے باہر نکلی تھی۔۔۔۔ ایک خوف ایک ڈر تھا اسے وہ کچھ غلط کر رہی ہے مگر وہ جانتی تھی ابتہاج اسے مجبور کر لے گا اس بچے کو ختم کرنے کے لیے جبھی وہ کسی کے اٹھنے سے پہلے ہی وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔

دور کہیں فجر کی اذان کی آواز اسکے کانوں میں گونجنے لگی وہ تیز تیز قدم اٹھائے گھر سے کافی دور نکل آئی تھی۔۔۔اس وقت وہ صرف ایک ماں بن کے سوچ رہی تھی کل سے ملا یہ نیا احساس وہ کبھی بھی نہیں کھو سکتی تھی۔۔۔۔۔

وہ ماں تھی قاتل نہیں بن سکتی تھی۔۔۔۔۔ اسکی سوچوں کے ساتھ اسکے قدم بھی تھمے تھے وہ سہمی نظروں سے حراساں سی اپنے سامنے رکتی اس سفید گاڑی کو دیکھنے لگی ۔۔ ماہا کے دل میں خوف سا دھر آیا وہ سہمتی لرزتے دل سے ایک جانب سے ہوتے تیزی سے چلنے لگی کہ معا گاڑی سے نکلتے ان نقاب پوشوں نے اسکے سمجھنے سے پہلے ہی اس پہ حملہ کیا ۔۔۔ وہ ڈر و وخشت کے زیر اثر تیز تیز قدم اٹھائے وہاں سے بھاگنے لگی مگر مقابل آتے دشمنوں نے اسے جلد ہی دبوچ لیا تھا ۔۔۔۔

اسکے مزاخمت کرتے وجود کو دیکھتے ایک نے انجیکشن نکالتے اسکی گردن پہ لگایا کہ ماہا سرخ ہوئی اپنی نم آنکھوں سے بےحال سی ابتہاج کو پکارتے بےہوش ہو گئی۔ ۔

لے چلو اسے ۔۔۔ پیچھے سے آتے سمیر نے مسکراتے ماہا کے بےجان وجود کو دیکھ کہا تھا وہ دونوں سر ہلاتے ماہا کو اٹھائے گاڑی کی جانب بڑھے ۔۔۔۔

اب آئے گا کھیل کا اصل مزہ ابتہاج گردیزی ۔۔۔۔ جب تمہاری پیاری سی بیوی تمہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔۔۔۔ وہ گہری شیطانی سوچ سوچتا قہقہہ لگا اٹھا ۔۔۔۔۔

_______________

ماما ماہا کہاں ہے اسے بھیجیں مجھے کام ہے اس سے۔۔۔۔۔۔ صبح کے نو بجے وہ ماہا کو اپنے قریب نا پاتے جھٹکے سے اٹھا تھا۔۔۔۔۔ ماہا کو آوازیں دیے وہ بے چینی سے اسے بلانے لگا مگر اسکے ناں آنے پہ خود ہی بےچین سا ہوتے ابتہاج نے اٹھتے واشروم اور چینجنگ روم چیک کیا تھا۔۔۔۔ جہاں پہ ماہا کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا ۔

جبھی وہ دوڑتے نیچے آتے منیبہ بیگم سے پوچھنے لگا مگر وہ خود اسکی بات پہ حیران ہوئی تھی ۔۔۔

ماہا ۔۔۔۔ وہ تو آج نیچے نہیں آئی بیٹا ذرا اندر چیک کرو ۔۔۔۔اوپر ہی کہی ہو گی ۔۔۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پر پلیٹس لگاتے منیبہ بیگم نے سرسری عام سے لہجے میں بتایا تھا ۔۔۔

وہ اوپر کہیں بھی نہیں ہے ماما ۔۔۔۔ابتہاج کی بےچینی مزید بڑھنے لگی۔۔ وہ تیزی سے آگے بڑھتا کچن اور سارے رومز چیک کرنے مگر ماہا کی غیر موجودگی اسکے وجود کو شل سا کرنے لگی ۔۔وہ ننگے پاؤں باہر لان کینجانب جاتے اسے پاگلوں کی طرح پکارنے لگا ۔۔۔۔ ماہا کی باتیں اسکے کہے آخری الفاظ اسکی شکوہ کرتی نظریں کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا اسے ۔۔۔۔۔۔۔ ابتہاج کا دل جیسے پھٹنے لگا تھا کتنی سوچیں کتنے وہم تھے اسکے دل میں ۔۔۔

ابتہاج نے بےبسی سے اپنے بالوں کو نوچا تھا۔۔۔۔۔ وہ ہر اس جگہ کو چیک کر آیا جہاں پہ ماہا کے ہونے کا امکان تھا ۔۔ مگر وہ نہیں تھی نہیں ملی اسے ۔۔۔۔۔۔ پورا دن وہ اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈتے مارا مارا پھرا تھا ۔۔۔۔۔۔ اسے ہر جگہ وہ ہنستی کھلکھلاتی اپنی طرف بلاتی نظر آنے لگی ۔۔۔۔۔۔ اسکے دل میں ایک امید تھی کہ وہ ڈھونڈ لے گا اسے۔۔۔۔۔۔

________________

صالح بس کر دیں اب اور نہیں کھایا جاتا۔۔۔۔۔۔۔” منہ بنائے وہ صالح کے ہاتھ کو پیچھے کرتے بولی تو صالح نے باؤل ایک جانب رکھتے اسے غصے سے گھورا ۔۔۔۔

پاؤں میں درد کی وجہ سے اسے ہلکا ہلکا سا بخار ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔

صالح آج صبح سے ہی اسکے پاس تھا ۔۔۔اسکا شہزادیوں کی طرح خیال رکھتے وہ اسے ہر قسم کی تکلیف سے بچانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔ ابھی بھی وہ سوپ بناتے اسکے لئے لایا تھا جسے وہ بمشکل سے اسکی ضد کی وجہ سے دو تین سپ لیتے اب مزید پینے سے انکار کر گئی ۔۔۔۔۔۔

جبھی صالح نے جھٹکے سے اسے گود میں بٹھایا ، صنم نے اپنی سرخ ہوتی ناک چڑھاتے اسے گھورا تو کھلکھلاتے اسکے گالوں کو شدت سے چومتا پیچھے ہوا ۔۔۔۔۔ غلطی تمہاری ہے کس نے کہا تھا اس صالح خان کے سوئے ہوئے ارمانوں کو اسکے جذباتوں کو جگاؤ ۔۔۔۔۔۔”

اسکی خفا نظروں کو ہونٹوں سے چھوتے وہ سارا الزام آرام سے صنم کے سر پہ ڈال دیا جو حیران سی ہکا بکا منہ کھولے اس میسنے کو گھورتے رہ گئی ۔۔۔۔۔۔۔

” ایک بار تم ٹھیک ہو جاؤ تو پھر تمہیں دوبارہ سے یونی میں داخل کروانے کا سوچ رہا ہوں میں۔۔۔۔۔۔ اسکے گرد گھیرا تنگ کرتے صالح نے ہاتھ بڑھاتے باؤل تھامتے چمچ میں سوپ بھرتے اسکے سامنے کیا تو صنم نے چاروں نا چار گھونٹ بھرا ۔۔۔۔۔۔۔

آپ بھی پیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” چمچ اسکے ہاتھ سے پکڑتے صنم نے سوپ بھرتے صالح کے سامنے کیا تو صالح نے ایبرو اچکاتے صنم کے بخار سے تپتے انگارہ بنے سرخ چہرے کو دیکھا صنم نے الجھن سے صالح کو گردن گھمائے دیکھا مگر صالح نے جھکتے اسکے ہونٹوں پہ لمس چھوڑتے اسکے گلنار ہوئے چہرے کے خوبصورت رنگوں کو دیکھا۔۔۔

تم اپنا کھاؤ اور میں اپنا کھا لوں گا۔۔۔۔ ” اسکے کان میں شریر سی سرگوشی کرتے وہ اسے خود میں سمٹنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔۔

صالح مجھے کہیں نہیں جانا بس جتنا پڑھنا تھا پڑہ لیا اب بس اور نہیں _______” منہ پھلائے وہ صاف انکار کر گئی۔۔۔۔۔۔ صالح نے شدت سے اسے خود میں بھینجا جو آگے ہی اسکی قربت میں موم سی ہوئی پڑی تھی ۔۔۔۔۔

پڑھائی تو لازم ہے جاناں۔۔۔۔۔ ورنہ تم میرے بچوں کو کسیے پڑھاؤ گی ۔۔۔۔۔۔۔ باؤل واپس میز پہ رکھتے ابکی بار صالح نے اسکا رخ اپنی جانب گھمایا _______ صنم کی پلکیں لرز پڑیں وہ عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہوئی اسے سمجھ ناں آیا کہ وہ کیسا ری ایکشن دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جانتی تھی صالح کی امیدیں بڑھ رہی تھی اسکے ساتھ مگر کیا وہ ان سب کی حقدار تھی ۔۔۔یہی سوچ اسے ہر وقت ایک انجانے سے خوف میں گھیرے رکھتی اسکی سمجھ سے بالاتر تھا خود اپنے ہی آپ کو سمجھنا ۔۔۔۔۔۔۔

” مجھے ایک پیاری سی بیٹی چاہیے صنم ۔۔۔۔۔۔۔ جو مجھے بلائے مجھے بابا کہے ۔۔۔۔۔۔ مجھے وہ احساس چاہیے جب کوئی میرا اپنے وجود کا ایک حصہ میری آنکھوں کے سامنے ہنستا مسکراتا کھلکھلاتا ہو۔۔۔۔۔ میں اسے چوموں اسے اٹھاؤں اسے دنیا کی ہر سرد و گرم سے بچاؤں۔۔۔۔ جن سے مجھے کوی بچانے والا نہیں تھا۔۔۔۔۔

وہ جب روئے تو تم سے پہلے مجھے پکارے ۔۔۔ جب پہلی بار بولے تو میرا نام لے ۔۔مجھے پکارے۔۔۔۔ جب آنکھیں کھولے تو مجھے دیکھے۔۔۔۔۔ وہ میری بیٹی ہو گی صنم میرا خون میری زندگی میرا سب کچھ ۔۔۔۔۔”

اسے سینے سے لگائے وہ اپنے گزرے وقت کی محرومیوں اپنے دل میں موجود احساسات کو صنم پہ عیاں کرنے لگا ۔۔۔۔۔ صنم۔خاموش سی اسکی کر بات کو سنتے سن سی پڑ گئی۔ بھلا کیا جواب تھا اسکے پاس ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو خود ہی حالی ہاتھ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

___________________

آؤ زین ۔۔۔۔۔۔۔ بڑی دیر لگا دی مہرباں آتے آتے ۔۔۔۔۔۔۔” قدموں کی آہٹ سنتے ڈرنک کے گلاس کو اپنے دائیں ہاتھ میں ہلاتے وہ مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔۔۔

زین یوسف چلتے صوفے کی جانب بڑھنے لگا مگر نظریں جیسے ہی صوفے کے پیچھے پڑے اس بیڈ پہ گئیں اسکا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا ۔۔۔۔۔۔

” واہ واہ کمال کر دیا تم نے سمیر ۔۔۔۔۔۔ اب تو اس ابتہاج کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی اسکی بیوی کے غائب ہونے پر ہی وہ مر جائے گا اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ۔۔۔۔۔۔”

بیڈ پہ رسیوں میں جکڑی ماہا کے بےہوش وجود کے قریب جاتا وہ مسکراتا اپنی جیت پہ قہقہہ لگا اٹھا ۔۔۔۔ سمیر ایک طرفہ مسکراتے اسکی پشت کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔

” اتنی آسانی سے تھوڑے ناں مارے گے اسے ۔۔۔۔۔۔ ابھی اسکے تڑپنے کے دن ہیں۔۔۔۔وہ روئے گا چلائے گا اسے ڈھونڈے گا ۔۔۔۔۔مگر اس کی ماہا میرے برو کی ماہا اسے کہیں نہیں ملے گی۔۔۔۔کیوں ماہا تھم تو گھائب(غائب) کو گئی ۔۔۔۔۔

سمیر سرشار سا مسکراتا یوسف کے قریب جاتے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے جھکتے ماہا کے کان میں سرگوشی کرتا یوسف کو مسکرانے پہ مجبور کر گیا ۔۔۔۔۔

ماہا کا وجود ڈرگز کی ہیوی ڈوزز کی وجہ سے سن سا پڑا تھا سمیر کی اواز اسکے کانوں میں گونج رہی تھی مگر بھاری ہوتی آنکھیں کھول پانا نا ممکن تھا۔۔۔۔۔

اسکا سر درد سے پھٹ رہا تھا مگر وہ ہل نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔۔ سمیر اسے صبح سے اب تک جانے کتنے ہی ہیوی ڈرگز کی ڈوزز دے چکا تھا جس کے باعث اسکا پورا وجود سن سا ہوا پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔

آہہہ ۔۔۔۔ِ ویسے حسین تو ہے یہ بھی مگر کیا کریں ہمارے کام کی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ” یوسف نے اسکے معصوم چہرے کو دیکھتے جلے انداز میں کہا تھا تو سمیر نے لب بھینجتے سگریٹ سلگایا۔۔۔۔۔۔

ہمممممم جانتا ہوں اس ابتہاج کے بچے کو لیے گھوم رہی ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ نفرت سے کہتا دھواں فضا میں خارج کرتے سر جھٹک گیا ۔ مگر اس میں اتنی بڑی بات تو نہیں ہم اس کے جسم کو اس قدر برا بنا دیں گے کہ اگر کبھی اس ابتہاج کو یہ ملے بھی تو اسے نفرت ہو جائے اس کے وجود سے وہ گھن محسوس کرے گا اس سے ۔۔۔۔۔ ”

سمیر نے کچھ سوچتے زین یوسف کو دیکھے آنکھ دباتے ہوئے کہا تو وہ بھی متجسسس سا اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔

تبھی سمیر نے سگریٹ اسکے سامنے کیے ماہا کی گردن کے قریب اس قدر زور سے لگایا کہ اسکا سن بےسودھ پڑا وجود بھی اذیت درد سے لرزا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔اسکے خشک سفید پڑے ہونٹ ہلے تھے وہ اس ظالم کو شدت سے یاد کرنے لگی اسکی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے مگر اس میں ہلنے کی سکت تک نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جانور وخشی اسکے وجود کو پوری طرح سے سگریٹ سے جلاتے راکھ کرنے لگے ۔۔۔۔۔ ماہا کا پور پور اذیت میں تھا۔۔۔۔۔۔۔ اسکی گردن بازوؤں پہ وہ حیوان سگریٹ سے تشدد کرتے اسکے ساتھ ساتھ اسکی روح کو بھی جلا رہے تھے بری طرح سے۔۔۔۔۔۔۔۔”

_________________

ماہا کہاں ہو تم۔۔۔۔۔۔۔؟”۔ پورا دن در بدر کی خاک چھانتے وہ پاگلوں کی طرح اسے ہر جگہ تلاشتہ اب رات کے ایک بجے نشے میں چور لڑکھڑاتے قدموں سے گھر آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھو ماہا تم یہاں بیٹھی ہو اور میں پاگلوں کی طرح تمہیں ہر جگہ تلاش رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ ہلکا سا مسکراتے وہ فرش سے اٹھتا صوفے کی جانب بڑھنے لگا ۔۔۔۔۔ جہاں ماہا مسکراتی اسے ہی بلا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

سوری یار ناراض ہو مجھ سے ۔۔۔۔۔ہو لو جتنا دل چاہے ڈانٹ لو مگر دور مت جایا کرو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔ یہ دیکھو یہ یہاں ۔۔۔۔۔ یہاں پہ تکلیف ہوتی ہے بہت ۔۔۔۔۔” اسکے سامنے بیٹھا وہ روتے ہوئے اپنے ہاتھ سینے پہ رکھتے اسے نا دکھنے والے اپنے درد سے روشناس کروانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔

وعدہ کرو کبھی نہیں چھوڑو گی ۔۔۔۔۔۔ ابتہاج نے نشے میں چور اپنی حدردجہ سرخ پڑتی آنکھوں کو کھولتے اسے دیکھ اسکے چہرے کو ہاتھوں میں بھرنا چاہا تھا مگر ایک دم سے وہ پھر سے غائب ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ماہا مم۔ماہا ۔۔۔۔۔۔۔” وہ پھر سے اسکے دور جانے ہے درد تکیلف سے چلا اٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

ابتہاج کا بکھرا حلیہ لڑکھڑاتی آواز اسکی بےبسی کی داستان سنا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔

جو ماہا کے جانے کے غم میں بالکل ٹوٹ سا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ ماہا ۔۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے سامنے دیکھا اسے کر جگہ وہی دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ وہ ناں ہوتے ہوئے بھی اس میں بسی تھی۔۔بھلا کیسے بھول جاتا اسے وہ۔۔۔۔۔۔ ”

” یہ تو شروعات ہے ابھی ابتہاج ۔۔۔۔۔۔ ابھی تو تمہیں اور ٹوٹنا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور رونا ہے۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں تھوڑا تھوڑا کر کے مکمل برباد کر دوں گا میں ابتہاج گردیزی ۔۔۔۔۔۔۔۔” ریلنگ سے ٹیک لگائے وہ سارا منظر دیکھ اب سکون اپنے اندر تک اترتا محسوس کر رہا تھا۔

اپنی الٹی گنتی شروع کر دو ابتہاج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہاری تباہی کی شروعات ہو چکی ہے۔۔۔۔۔” فرش پہ گرے اسکے بےہوش وجود کو دیکھتا وہ نفرت سے پھنکارا۔۔

Episode_no_22

ابتہاج پاگلوں کی طرح ماہا کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا اس کی سرخ آنکھیں اانگارے اگل رہی تھیں ماہا کو گھر سے غائب ہوئے آج چوبیس گھنٹے پورے ہو گئے تھے ابتہاج ساری رات لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا کسی کو نہیں پتا تھا کہ ابتہاج کا اگلا قدم کیا ہوگا پر ابتہاج کی خاموشی نے سچ میں سب کو ڈرا دیا تھا صباء بیگم اس کی طبیعت سے بخوبی واقف تھیں جانتی تھیں ابتہاج کی خاموشی کسی طوفان کا پیشہ خیمہ ہے

ابتہاج نک سک سا تیار ہو کر روم سے نکلا تو سامنے ہی صباء بیگم اور سمیر کو ناشتے کی ٹیبل پر پایا ابتہاج کی نظریں چاروں طرف گھوم رہی تھیں چہرہ ہمیشہ کی طرح بے تاثر ۔۔ سمیر بڑی دلجمعی سے ناشتہ کر رہا تھا جب ابتہاج کی کرخت آواز اس کے کانوں میں پڑی جو کہہ رہاتھا کہ

“مسٹر سمیر کل کہاں تھے آپ ؟جبکہ گھر میں اتنی ٹینشن چل رہی ہے “

ابتہاج کی انتہائی سرخ آنکھیں سمیر پر مرقوض اس کے چہرے کے اتار چڑھاو کو جانچ رہی تھیں ۔۔۔۔ ابتاہج کے لہجے میں کانچ کی سی چبھن تھی

ابتہاج کی بات پر اک پل کو سمیر کا جوس حلق میں اٹکا تھا جب ابتہاج اک دم گھوم کےاس کے قریب چلا آیا اور ایک ہاتھ ٹکا کر اس کی کمر پر دے مارا سمیر تو اس کا بھاری ہاتھ پڑتے کراہ اٹھا تھا

اتنا زیادہ بھی مت کرو کہ برداشت سے باہر ہو جائے ۔۔۔ابتہاج اسے جوس کی جانب اشارہ کرتا باہر کی جانب بڑھ گیا

صباء بیگم خود ابتہاج کے رویے سے خائف تھیں مگر ان کو لگا کہ ابتہاج ماہا کی وجہ سے کافی پریشان ہے اس لیے اس طرح کر رہاہے

ابتہاج کب کیا کر جائے یہ کسی کو خبر نہیں تھی ۔۔اس کی عادت تھی وہ اپنی چیزوں کی بے تحاشا حفاظت کرتا تھا اور یہاں تو بات “ابتہاج گردیزی “کی بیوی کی تھی جو اس کے روم روم میں بسی ہوئی تھی ۔۔۔۔ تو کیسے ممکن تھا کہ ابتہاج بے خبر رہتا ۔۔۔

______

صالح آج صنم کو یونی لایا تھا جہاں آتے ہوئے صنم اس کی ہزار منتیں کی تھیں کہ اسے نہیں پڑھنا پر وہ صالح ہی کیا جو اپنے آگے کسی کی سن لے اپنی بات منوا کر ہی اس نے دم لیا صنم برے برے منہ بناتی تیار ہوئی اور بنا اس سے بات کیے روم سے نکلنے لگی نیوی بلیو شارٹ فراک اور وائٹ کیپری میں وہ بے حد معصوم سی گڑیا لگ رہی تھی سر پر خوبصورتی سے حجاب کیے وہ صالح خان کی دنیا تہہ وبالا کر گئی تھی

اس سے پہلے کہ صنم روم سے نکلتی صالح نےاس کی کمر کے گرد بازو حائل کر اسے خود کے قریب کیا انداز نہایت دلبرانہ تھا صنم اب بھی اس سے اپنا آپ چھڑاتی رخ پھیرنے لگی پر ۔۔ وہ بھی صالح خان تھا جس کی ملکیت کو کوئی اس سے دور کرنے کی کوشش کرے تو صالح خان اسے ایسی آگ میں جھونک دے جس سے بچنا نہ ممکن ہو

صالح نے اپنے مضبوط ہاتھ کی انگلیوں سے صنم کا چہرہ اپنی جانب کیا اور مسکراہٹ دباتے اس کے خفا چہرے کو دیکھنے لگا جو اسی کے دیے مان پر آج اس قدر نڈر بنی اس سے ناراض کھڑی تھی

“عورت کے دل میں گھر صرف وہی مرد کر سکتا ہے جس کے دل میں عورت کے لیے عزت ہو کیونکہ ایک عورت محبت سے سمجھوتا کر لیتی ہے اگر اسے اپنا پسندیدہ شخص نہ ملے تو وہ خاموش ہو جاتی ہے مگر اس کی عزت پر آنچ آئے تو وہ زندہ لاش بن جاتی ہے اصل مرد وہ ہے جو کبھی اپنی اپنے نکاح میں آئی عورت کو اس کے ماضی کے تعنوں سے داغدار نہ کرے”

یہی محبت اور عزت صالح خان نے اسے دی تھی زمین سے اٹھا کر آسمان بنا دیا تھاصنم کے روم روم کو اپنا اس قدر عادی بنا لیا تھا کہ اب وہ ذرا سی دوری پر تڑپ سی جاتی تھی رات کے کسی پہر صنم کی آنکھ کھلتی تو صالح کو قریب ناں پاتے وہ سہم سی جاتی تھی۔ صالح کی موجودگی اسکی سانسوں اسکی روح تک کیلئے ضروری تھی ۔ صنم کا اپنے لیے یہ حساس رویہ صالح بخوبی محسوس کر پا رہا تھا جبھی اسنے بہت سوچ سمجھ کے صنم کو یونی میں داخل کروانے کا سوچا تھا ۔۔

وہ نہیں چاہتا تھا کہ صنم پوری طرح سے اس پر ڈیپنیڈ ہو کے رہ جائے وہ چاہتا تھا کہ اگر کبھی صالح خان اسکے ساتھ ناں بھی ہو تو وہ خود سے اپنا بچاؤ کر سکے دنیا کی سرد و گرم سے خود کو مخفوظ رکھ سکے ۔۔۔۔

اگر ایسے منہ بناؤ گی تو قسم سے کچھ غلط کر بیٹھے گا یہ پاگل عاشق ۔۔۔۔۔۔” اپنے بائیں ہاتھ کی پشت سے صنم کے گلابی ہونٹوں کو چھوتے وہ مدہوشی سے بولا تو صنم نے خفگی سے اسے دیکھا ۔۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی مقابل نے ایک دم سے اسکے ہونٹوں پہ اپنے دہکتے ہونٹ رکھتے اسے خود سے بے انتہا قریب کر لیا۔۔ صنم آنکھیں میچے اس کی شدتوں کو سہتے بے دم سی ہونے لگی مگر صالح کا مضبوط ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل اسے گرنے سے روکے ہوئے تھا۔

تمہیں کچھ اچھا سوچنا چاہیے اپنے بچاؤ کیلئے جانم وگرنہ اس اکیلے سنسان گھر میں یہ صالح خان تو تمہاری جان پہ بن آئے گا۔۔۔۔۔۔ صالح کے ہونٹ صنم کے گال پہ گستاخیاں کر رہے تھے جبکہ صنم تو اسکے کندھوں کو تھامے گہرے سانس بھرتے رہ گئی۔۔۔۔ آخر کار بشمکل اس سے جان چھڑواتے وہ منت سماجت کرتے باہر آئی تھی۔۔۔ مگر صالح ادھار چھوڑتے احسان کرتا اسکے پیچھے ہی روم سے نکلا۔

اچھے سے دل لگا کے پڑھنا ۔۔۔۔ کسی سے بھی ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، تم صالح خان کی بیوی ہو صنم صالح خان جو کوئی بھی تنگ کرے اسے منہ توڑ جواب دینا اور ایک اچھا سا دن گزار کے جلدی سے گھر واپس آنا تمہارا صالح تمہارا انتظار کرے گا۔۔۔

یونی جاتے ہی صالح فارمیلٹیز پوری کیے صنم کا ہاتھ تھامے کلاس تک آیا تھا۔۔۔جو بوجھل سے قدموں سے چلتی منہ پھلائے ہوئے تھی۔۔۔

بیسٹ آف لک اور اللہ خافظ______” صنم کہ پیشانی پہ بوسہ دیے وہ اسے وش کرتا تیزی سے وہاں سے نکلا تھا تھا۔۔۔

صنم نے مڑتے پانی بھری نگاہوں سے اس ظالم کو دیکھا جو اسے اپنی عادت لگائے اب یوں چھوڑ کے جا رہا تھا۔۔

________

” مسلسل دو گھنٹوں سے وہ جھنجھلاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا کب سے کال کے انتظار میں تھا کہ اچانک سے اس کا فون رنگ ہوا۔ ابتہاج نے سرد نظروں سے آس پاس دیکھ کال پک کی ۔۔

” تو میرا شک سہی تھا ان سب کے پیچھے یہی کمینہ تھا ۔۔ آج تجھے پتہ چلے گا توں نے ابتہاج گردیزی کی عزت پہ ہاتھ ڈال کے کتنا بڑا گناہ کیا ہے ۔۔۔ فون پہ گرفت مضبوط کرتے وہ غصے سے پھنکارتے موبائل ایک جانب پٹھکتے گاڑی سے نکلا۔۔۔۔۔

اسکے نکلتے ہی پیچھے موجود گاڑی سے دو افراد فورا سے نکلتے اسکے دائیں بائیں ہوئے ۔

ابتہاج نے سرد لہو مانند نظروں سے سامنے اس سنسان سی کھنڈر بنی عمارت کو گھورا اور ساتھ ہی بیلٹ سے گن نکالتے وہ لب بھینجتا آگے بڑھا تھا ۔۔ اسکے بھاری قدموں کے ساتھ ہی وہ دونوں بھی بشمکل سے اسکے ہمقدم ہو رہے تھے جو رات بھر سے کسی تپتی آگ میں جھلسا رہا تھا۔

عمارت کے قریب جاتے ہی ابتہاج نے ان دونوں کو اشارہ کیا اسکا اشارہ ملتے وہ دونوں ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب گھومتے غائب ہوئے تھے ابتہاج نے ماتھے پہ بل ڈالے اس عمارت کے بند سیاہ فام دروازے کو عجیب سی نظروں سے گھورا اور ایک ہی وار کرتے دروازے کو جھٹکے سے کھولا تھا کہ اندر بیٹھے وہ سب بری طرح سے چونکے۔۔۔

اپنی اپنی بندوقیں پکڑتے وہ کھلے دروازے کی جانب رخ کرتے آواز لگائے پوچھنے لگے۔۔۔۔۔ سمیر پیچھے ہی حسب معمول اندر بنے ایک تاریک کمرے میں بیٹھا اطمینان سے ڈرنک کر رہا تھا۔۔ ابتہاج کا رات والا روپ اسکے رگ پہ میں سرور دوڑا گیا تھا مگر وہ ابھی تک ابتہاج سے صحیح طور پہ واقف نہیں تھا۔ وہ جانتا نہیں تھا کہ مقابل جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں تھا بھلا کیسے ممکن تھا کہ ایک چھوٹی سی چیز کے دور جانے پہ ہنگامہ کرنے والا شخص اپنی بیوی کے غائب ہونے پہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرا بیٹھا رہے۔۔۔

” وہ سب بندوقیں لیے اب دروازے کے عین سامنے کھڑے تھے جہاں وہ اطمینان سے ہاتھ پشت پہ باندھے کھڑا تھا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتے ابتہاج کے ساتھ آئے اسکے آدمی ایک دم سے جھپٹتے ان پہ حملہ آود ہوئے اور تیزی سے ان سب سے بندوقیں چھینتے انہیں ایک جانب جانے کا کہنے لگے۔۔۔

وہ سب ہی حیران سے تھے آخر یہ شخص کون تھا اور اس کے ساتھ آئے وہ پانچوں آدمی اب کافی اچھے سے انکی دھلائی کر رہے تھے۔۔

ابے کون ہے۔۔۔۔۔!” آوازوں سے ڈسٹرب ہوتے وہ غصے سے جھنجھلاتے باہر نکلا تھا ۔ ابتہاج نے گردن گھمائے سمیر کو خونخوار نظروں سے گھورا تو وہ ایک دم سے گڑبڑا گیا مگر پھر کچھ سوچتے وہ خود کو مضبوط بنائے آگے بڑھا۔۔

تجھے کیا لگتا ہے کمینے کہ اگر توں مجھ سے میری ماہا کو دور کرے گا تو میں ہاتھ باندھے بیٹھا رہوں گا کیا اتنا بچہ سمجھا ہے توں نے مجھے ۔۔۔ غصے ، نفرت سے قدم اسکی جانب لے جاتے وہ غراتے لہجے میں چلاتے ایک دم سے سمیر کو خوف میں مبتلا کر گیا۔۔۔

چل اچھا ہی ہوا تجھے سب پتہ چل گیا۔ویسے بھی اب توں کچھ نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ تیری ماہااااا۔۔۔۔چچچچچچ بیچاری اسے تو میں نے کل ہی فششششش______” وہ گردن پہ ہاتھ سے کراس کا اشارہ کرتے ابتہاج کے دل کو ساکت سا کر گیا مگر وہ جانتا تھا اگر وہ سانس لے پاس رہا تھا تو یقیناً اسکی ماہا بھی یہیں کہیں اسکے بے حد قریب تھی۔

” بکواس بند کر اپنی سالے۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے آگے بڑھتے اسے گریبان سے پکڑتے ایک زور دار مکہ اسکے چہرے پہ جھڑا تھا کہ مقابل ایک دم سے لڑکھڑاتے قدموں سے پیچھے گرا ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ تجھے یاد ہے ابتہاج دس سال۔۔۔۔۔۔۔ صرف دس سال کا تھا میں جب توں ہمارے گھر رہنے آیا تھا ، تب تیری وجہ سے میری ماں کو عمر قید کی سزا ہوئی تھی یاد آیا تجھے یاں بھول گیا ہے سب ۔۔۔۔””

اپنے ہونٹ سے بہتے خون کو ہاتھ سے رگڑتے وہ نفرت سے پھنکارا تو ابتہاج جو اسے مارنے کو آگے بڑھا تھا اسکے قدم ایک دم سے تھم سے گئے ماتھے پہ ایک ساتھ ہزار شکنیں نمودار ہوئیں۔

” میں نے کچھ غلط نہیں کیا تھا سمیر۔۔۔۔میں خود اس وقت ایک چھوٹا بچہ تھا ۔۔۔ تب خالو کا قتل ہوا تھا اور میں نے خالہ کو یہ سب کرتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ، مجھ سے جیسا پولیس نے پوچھا میں نے بس وہی سچ سچ بتایا تھا ۔۔۔۔ اور کچھ نہیں مگر توں توں نے اتنے سالوں سے اس نفرت کے بیج کو اپنے اندر پالا جس کا زہر توں نے میری زندگی میں بھی بھر دیا۔۔۔۔۔ ”

ابتہاج اسکے دائیں بائیں پاؤں رکھے اسے کالر سے مضبوطی سے تھامتے اسکے چہرے پہ مکے مارتے اسے سن سا کر گیا ۔۔۔۔ مگر ابتہاج کا غصہ کم ہونے کی بجائے مزید بڑھا تھا۔

” کیا صحیح غلط کر رہا ہے توں تیری وجہ سے میری ماں مجھ سے دور ہو گئی اور توں ہے کہ ابھی تک ایک ہی بات پہ اٹکا ہے۔۔۔ ”

اگر تب توں میری ماں پہ الزام ناں لگاتا تو آج وہ میرے پاس میرے ساتھ ہوتی۔ توں نے مجھ سے میری ماں کو چھینا میں نے تیری بیوی تیزی زندگی کو چھین لیا حساب برابر۔۔۔۔۔ ۔ ہاہاہاہاہاہ ۔۔۔۔۔ ”وہ پاگلوں کی طرح قہقہہ لگاتے اس وقت کوئی پاگل دکھ رہا تھا جبکہ اسکی باتیں ابتہاج کا دماغ مزید گھمانے کا باعث بنی جبھی وہ اسے لاتوں اور مکوں سے بری طرح سے پیٹنے لگا۔۔۔۔

مسٹر ابتہاج چھوڑیں آپ پلیز انہیں۔۔۔۔ کاشان صاحب جو ابتہاج کے پیچھے ہی چینی سے نکلے تھے وہ اب پولیس کے ہمراہ یہاں پہنچے تھے ، پولیس اہلکاروں نے آگے بڑھتے بھپرے ہوے ابتہاج کو پکڑا اور ایک سائڈ کرتے وہ بے ہوش لہو لہان چہرے سے پڑے سمیر کو دیکھنے لگے ۔

ماہا ۔۔۔ سمیر کی کہی باتیں یاد آتے ہی وہ پاگلوں کی طرح خود کو چھڑواتا بےچینی سے وہاں سے بھاگا تھا ، وہ دیوانہ وار اسے پکارتا آنسوں سے تر چہرے سے بھاگتے اسے ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔۔

ماہا کے دور جانے کے تصور سے ہی ابتہاج کا سانس سینے میں بری طرح سے اٹک گیا تھا وہ بے جان سا ہونے لگا۔۔ ابتہاج نے کپکپاتے ہاتھوں سے ایک بند دروازے کے قریب جاتے خوف سے دھڑکتے دل سے اسے کھولا ۔۔۔۔۔

دور رہو سب کوئی اندر مت آنا________” سامنے کا منظر دیکھ ابتہاج کی روح تک لرزی تھی جہاں اسکی معصوم سی ماہا بری طرح سے رسیوں میں جکڑی ہوئی تھی جسکے وجود پہ واضخ تشدد کے نشانات تھے کپڑے بھی جگہ جگہ سے جلانے کے باعث پھٹ چکے تھے ۔ ابتہاج کربناک لہجے میں غراتے اپنے پیچھے آتے اہلکاروں کو روکتے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ لاک کر گیا۔۔۔۔

ماہا کی جانب بڑھتا اسکا ایک ایک قدم من من کا بھاری ہو گیا تھا جیسے۔۔۔۔ اسکے بےہوش معصوم سے وجود کو دیکھ اسکی تکیلف کو آنکھوں سے دیکھنے پر ہی ابتہاج کا دل جیسے کسی نے چیرتے لہو لہان کر دیا تھا۔۔۔۔ وہ بے بس سا اسکے قریب جاتے اسکے بری طرح سے جھلسے وجود کو دیکھ آنکھیں میچ گیا کتنے ہی آنسوں اسکی آنکھوں سے بہتے اسکے گالوں کو بھگو گئے تھے ابتہاج نے کپکپاتے ہاتھوں سے سے اسکی بند پلکوں چھوا ۔۔۔

نظریں اسکے ذرد پڑے چہرے سے خشک آدھ کھلے ہونٹوں پہ گئی وہ تکلیف درد سے پھٹتے دل سے نظریں چرا گیا۔۔۔

ممم ماہا۔۔۔۔۔۔اپنی سسکی کو دبائے اسنے نرمی سے اس معصوم کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرا۔۔۔اسکے چہرے اسکے ہونٹوں کو دیوانہ وار چھوتے وہ بچوں کی طرح بلکنے لگا وہ ٹوٹ گیا تھا اندر سے۔۔۔۔۔اپنی عزت اپنی روم روم میں بستی اس نازک جان کی یہ حالت آج ابتہاج گردیزی کو پل بھر میں ہی مار گئی تھی۔۔۔۔

معا دروازے پہ ہوتی دستک پہ ابتہاج نے حالی حالی نظروں سے بند دروازے کو دیکھ اپنی متاعِ جاں کو دیکھا جس کی مدہم سی سانسیں ابتہاج کی جان کیلئے قیمتی سرمایہ تھی۔۔۔۔ ابتہاج نے اپنا کوٹ اتارتے نرمی سے اسکے وجود کو ڈھانپا اور مڑتے دروازہ کھولا۔۔۔۔۔

اگر کسی نے بھی نظر اٹھا کے میری بیوی کو دیکھا تو قسم اس خدا کی وہ دوبارہ نظر اٹھانے کے قابل نہیں رہے گا۔۔۔۔ خاموش سنسان عمارت میں اسکی گرج دار پتھر سی سخت آواز گرجی تو وہاں موجود ہر فرد نے ایک دم سے سنتے نظریں جھکائے اسے جانے کا راستہ دے دیا۔۔

ابتہاج نے مڑتے اپنی ماہا کو اپنی بانہوں کو سمیٹا اور لمبے لمبے ڈھگ بھرتا وہ اسے لیے تیزی سے وہاں سے نکلا۔۔۔

_________

کیا تم بولتی نہیں ہو یا پھر تمہارے پاس زبان ہی نہیں یے ۔ ” اسے یوں خاموش بیٹھا دیکھ وہ چلتا سامنے موجود کرسی پہ بیٹھتے پوچھنے لگا ۔ صنم کب سے اسکی نظروں کو محسوس کر رہی تھی مگر اسکے یو براہ راست مخاطب کرنے پہ وہ ڈر سی گئی ۔۔۔

جبھی اسنے ایک چور نظر آگے پیچھے ڈالی تو سب ہی ایک دوسرے میں مگن تھے۔

یہاں کا ماحول اسے کافی عجیب لگا تھا اوپر سے اس لڑکے کا یوں گھورنا اور اب سامنے آ کے بیٹھنا وہ بری طرح سے جھنجلاہٹ بےچینی سے پہلوں بدلتے رخ گئی ۔۔

ہائے میرا نام فرحان ہے ۔۔ اور تمہارا نام ۔۔۔۔؟”

صنم کے آگے ہاتھ پھیلائے وہ اسکے خوفزدہ چہرے کے تاثرات کو دیکھتے پوچھنے لگا ۔ صنم بری طرح سے اپنے بیگ پہ گرفت مضبوط کرتے لب بھینجے ہوئے تھی ۔۔

ویسے نئی سٹوڈنٹ ہو ، ہممم۔ پہلے کہاں پڑھتی تھی۔؟ اسکے ساتھ دوستی بڑھانے کے چکر میں وہ بات کافی بڑھا چکا تھا۔۔ صنم کو اسکی حرکتیں عجیب سی لگی وہ وقت دیکھتے فوراً سے بیگ تھامے وہاں سے تیزی سے باہر نکلی ۔۔۔

صالح کی گاڑی کو دیکھ اسکا سینے میں اٹکا ہوا سانس بحال ہوا تھا وہ شکر کرتے تیزی سے باہر نکلی ۔۔۔

_______

ہاتھ کی مدد سے دروازہ کھولتے وہ موبائل فون کو آف کرتے اندر داخل ہوا جہاں پہ سامنے ہی وہ سر سے پاؤں تک کمفرٹر میں دبکی پڑی تھی ۔۔۔

صالح اسے دن کو گھر چھوڑتے خود اپنے کیس کے سلسلے میں جلدی سے واپس چلا گیا تھا مگر اسکے یوں جانے پہ وہ دن سے بھوکی ناراضگی لیے بیٹھی تھی ، اب بھی گاڑی کے رکنے کی آواز پہ وہ جلدی سے کمفرٹر تانے سوتی بنی۔۔۔

مگر صالح اسکی رگ رگ سے واقف تھا وہ جانتا تھا کہ وہ سوئی نہیں بلکہ سونے کے بہانے بنا رہی ہے۔۔۔”

جبھی وہ چلتا ٹرے ایک جانب رکھے صوفے پہ اسکے سامنے بیٹھا تھا ، کافی دیر یونہی خاموشی محسوس کیے صنم نے زرا سا کمفرٹر سے منہ نکالے دیکھا تو صالح کہیں نہیں تھا وہ آنکھیں چھوٹی کیے بغور دیکھنے لگی مگر اسے ناں پاتے وہ جھٹ سے اٹھی تھی ۔۔ یونہی ننگے پاؤں وہ بیڈ سے اترتے باہر کی جانب جانے لگی جب پردے کے پیچھے سے نکلتے صالح اپنے دونوں ہاتھ اسکی نازک کمر کے گرد حائل کیے اسے خود میں بھینجا تھا۔

صنم اسکی یوں اچانک آنے پہ اسکی خؤشبو کو خود میں اترتا محسوس کرتے ایک پل میں جیسے ساری ناراضگی بھول گئی تھی۔ صالح کی قربت بھلا کہاں اسے کچھ اور سوچنے کا موقع دیتی تھی وہ شخص تو اسکے دل و دماغ سے ہوتے اب اسکی روح کا مکین بنے بیٹھا تھا ،

صالح اسکی خاموشی محسوس کیے آہستگی سے صنم کی گردن پہ بکھرے ان سیاہ آبشاروں کو پیچھے کیے جھکتے اپنے دہکتے ہونٹ اسکی گردن پہ رکھ گیا صنم اسکے جان لیوا لمس پہ خود میں سمٹ سی گئی۔۔۔ جو رفتہ رفتہ اسکی گردن پہ اپنی محبت کی مہریں ثبت کیے اسکے نازک ہونٹوں پہ جھکا اپنی تشنگی مٹانے لگا تھا ۔

”صنم کا وجود اسکی قربت اسکے جان لیوا لمس پہ لرزنے لگا تھا جسے محسوس کیے صالح نے جھٹکے سے اسے بانہوں میں بھرتے بیڈ کی جانب آتے اسے نرمی سے لٹائے اپنے ہاتھ اسکے دائیں بائیں رکھتے صنم پہ سایہ سا کیا ۔۔۔

صنم نے بمشکل سے اپنی لرزتی پلکوں کو اٹھائے صالح کی جانب دیکھا جس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ۔ صالح ایک دم سے جھکتے پھر سے اسکی نازک ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیے اپنی سانسوں میں صنم کی مہکتی سانسیں بھرتا بےخود سا ہونے لگا ۔

یو نو واٹ_____ بہت مس کیا میں آج تمہیں۔۔۔۔” صنم۔کے ہونٹوں کو آزادی دیے وہ جھکتے اسکے گالوں کو چھوتے مدہوشی سے بولا تھا ۔ صنم جو اسکی قربت میں سب کچھ بھلائے بیٹھی تھی ایک دم سے اپنی ناراضگی یاد آئی تو وہ منہ پھلائے خود پہ جھکے صالح خان کو دیکھنے لگی ۔

” میں تو ناراض ہوں آپ سے ۔۔۔پہلے مجھے وہاں زبردستی چھوڑ آئے آپ اور پھر گھر بھی چھوڑ کے چلے گئے میں پاگل ہوں جو پاگلوں کی طرح آپ کا ویٹ کرتی رہتی ہوں ، وہ خفگی سموئے لہجے میں صالح کی شرٹ کے کالر پر اپنی شہادت کی انگلی سے لکیریں کھینچتی مقابل کو بے حد معصوم لگی صالح نے بطور انعام جھکتے اسکے ہونٹوں کو چھوا تو صنم۔کا چہرہ سرخ پڑ گیا۔۔

یہ تمہارے انتظار کا انعام تھا اور سوری بھی کرتا ہوں جانم۔۔۔۔۔۔ سچی بھی ایک اہم کیس چل رہا ہے وگرنہ کبھی بھی یوں اکیلا ناں چھوڑتا ۔۔۔۔۔۔۔” چہرے پہ معصومیت طاری کیے وہ صنم کو دیکھ گھبیر لہجے میں بولا تو صنم نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورا ۔

اچھا اب بتاؤ کیا کچھ کیا یونی میں ۔۔۔۔۔۔۔ کسی سے دوستی ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔ صالح اسکی کمر کے گرد ہاتھ لپیٹتے اسے بٹھائے ٹیبل کی جانب بڑھا کھانے کی ٹرے اٹھائے وہ صنم کے سامنے رکھتے خود بھی اسکے سامنے بیٹھا ۔۔۔۔

کچھ خاص نہیں کوئی بھی اچھا نہیں وہاں پر سب ہی برے ہیں اسی لئے تو کہہ رہی ہوں کہ مجھے نہیں جانا ۔۔۔۔۔ ”

صنم اس لڑکے کو یاد کرتے سخت بدمزہ ہوئی تھی جبھی وہ بات بدلتے اپنی سنانے لگی صالح سنتے گہرہ مسکرایا ۔

” ایک دن میں تو کوئی کسی سے دوستی نہیں کرتا کچھ دن لگے گے پھر دیکھنا خود ہی کوئی ناں کوئی دوست تو بن ہی جائے گی۔۔۔ ”

روٹی کا نوالہ بنائے اسکے سامنے کرتے وہ بچوں کی طرح پچکارنے لگا تو صنم برا سا منہ بنائے اس کے ہاتھ سے کھانا کھانے لگی ۔ اتنا زیادہ کام دے دیا ہے سب پروفیسرز نے ، کہتے ہیں لیٹ ایڈمیشن لیا ہے تو ان اسائمنٹس کو بنا کے لاؤ ۔۔۔ ”

اسکے پاس ڈھیر ساری وجوہات تھیں یونی ناں جانے کی ، ابھی بھی وہ صالح کے سامنے بیٹھے معصومیت سے اسے آگاہ کر رہی تھی۔ صالح نے تاسف سے سر ہلایا ، اس میں اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے ڈارلنگ ۔۔۔ میں کل تمہاری مدد کروں گا دیکھنا کتنی جلدی سارا کام ہو گا ، مگر آج نہیں ہم کل سے شروع کریں گے آج میرا ارادہ تمہیں کچھ اور سکھانے کا ہے۔۔۔۔

ایک جھکٹے سے اسکے بازوؤں کو تھامتے اپنے بے حد قریب کرتا وہ اسکے ہونٹوں پہ جھکتا اپنی من مانیوں پہ اترا۔

________

وہ بے سودھ سا ایک جانب بیٹھا ، اپنے حالی ہاتھوں کی لکیروں کو گھور رہا تھا، کچھ بھی تو نہیں بچا تھا اسکے پاس، اپنی بے جا کی ضد میں آج وہ اپنا سب کچھ گنوا چکا تھا وہ کیسے ماہا کا سامنا کرے گا ۔ یہ سوچ ہی اسے اندر سے حتم کر رہی تھی کیسا باپ تھا وہ اپنے بچے کا قاتل ہاں وہی تو قاتل تھا جس نے اس دنیا میں آ نے سے پہلے ہی بڑی سفاکی سے اسے قتل کرنے کا سوچا تھا ماہا کی سسکیاں اسکی کرب بھری شکوہ کرتی وہ نظریں آج ابتہاج کو پل بھر میں ہی ریزہ ریزہ کر چکی تھی۔

وہ دنیا کی نظروں سے اوجھل کیے اسے اپنے ساتھ اپنے اپارٹمنٹ میں لایا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکی ماہا کو کسی کی نظروں کا سامنا کرنا پڑے۔ اسکے سوا کوئی بھی وجود اسکی ماہا کو دیکھے۔ مگر ڈاکٹر کی کہیں باتیں اس کی روح تک کو لرزا گئی تھیں ۔ اسکی ماہا کو ڈرگز کی ہیوی ڈوزز دی گئی تھیں ، اسکے وجود کے ساتھ ساتھ اسکے ذہن کو بھی بری طرح سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ڈاکٹر نے اسے واضح لفظوں میں بتایا کہ اسکی بیوی پہ ہوئی ذہنی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے اسکا بچہ اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا تھا، ماہا کی ذہنی حالت بالکل بھی ٹھیک نہیں تھی وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا کرتا بھی تو کیا۔ ایک باپ کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے ہی وہ ایک قاتل بن چکا تھا مگر وہ اب کسی بھی طور اپنی ماہا کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اسکی معصوم سی بیوی اس سے بدگمان ہو جائے اسے چھوڑتے وہ اکیلا ان وخشتوں کے حوالے کر جائے، وہ خود غرض ہو چکا تھا اسکے معاملے میںں، وہ جنون عشق محبت ان سب سے بہت آگے نکل چکا تھا۔ ماہا کے بنا تو اسکی سانس بھی سینے میں الجھ جاتی تھی کجا کہ اسکا خود دور رہنا ، ابتہاج جانتا تھا جو بھی ہوا اس میں قصور وار وہی تھا ، اگر وہ اسے سمیٹتا تو آج وہ یوں اسی سے اپنی اولاد کو بچانے کیلئے دور جانے کا ناں سوچتی مگر اس وقت اسے ماہا چاہیے تھی ۔۔ اگر وہ وقت پر اسے ناں سمیٹ سکا تو وہ جانتا تھا وہ کھو دے گا اسے ۔ جو وہ کبھی نہیں ہونے دے سکتا تھا ۔

________

ماہا کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو ایک کمرے میں پایا۔۔۔۔۔ وہ سن ہوئے دماغ کے ساتھ پورے کمرے کو حالی حالی نظروں سے دیکھتے عجیب سی کیفیت میں مبتلا تھی۔ اسکے ہونٹ کے قریب بھی جلانے کا نشان موجود تھا جس میں سے خون رس رہا تھا وہ غائب دماغی سے اپنے ہاتھوں پہ دباؤ دیے اٹھنے لگی ۔ اس کا پورا وجود درد سے چور تھا درد کی شدت سے اسکی آنکھوں میں نمی سے جھلکنے لگی۔۔

ابتہاج کی خوشبو کو اپنے بےحد قریب محسوس کرتے ماہا نے اپنے وجود کو گہری نظروں سے دیکھا تو اپنے وجود پہ اسی ظالم کی سفید شرٹ دیکھ اسکے لب کپکپا اٹھے۔۔۔۔ پورا وجود درد و تکلیف کے باعث کرب ناک ہوا پڑا تھا ۔اچانک ماہا نے ایک احساس کے تحت اپنے پیٹ کو ہاتھ سے چھوتے اپنے بچے کو محسوس کرنا چاہا ، مگر جو احساس اسے اتنے دنوں سے ایک الگ سا سرور بخش رہا تھا آج وہ احساس وہ خود میں محسوس نہیں کر پائی تھی۔

اسکا دماغ سناٹوں میں جانے لگا ابتہاج کی باتیں ، سمیر کا اسکے کانوں میں اگلا زہر جانے کیا کچھ نہیں تھا جو اسکے دماغ میں گھومنے لگا ۔ اسکے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔ وہ خود کو بےحد اکیلا محسوس کرنے لگی اس ذہنی اذیت نے اسے جسمانی تکلیف سے زیادہ توڑا تھا وہ بری طرح سے چیختے سب کو خاموش کروانے لگی۔ بھلا وہ کیوں اپنے بچے کو جانے دیتی، وہ کیوں کھوتی اسے جس پہ اکلوتا حق صرف اسی کا تھا ۔ یہ احساس تو سب سے پہلے اسے ملا تھا جس کی وہ اکلوتی مالک تھی اسکی ماں اسکے دکھ درد تکلیفوں میں اسکے سامنے ڈھال بنے رہنے والی ماں۔ مگر اب اب اسکا وجود جیسے حالی سا ہوا پڑا تھا۔۔

ماہا نے غصے سے پاس پڑے اس جگ کو اٹھائے فرش پہ پھینکا تھا ، نہیں چپ کر جاؤ تم سب ۔۔۔ وہ ویران نظروں سے اپنے آگے پیچھے کھڑے خود پہ ہنستے سمیر اور ابتہاج کو دیکھ چلائی تھی ۔ مگر وہ دونوں ہی اسکی حالت پہ قہقہ لگا رہے تھے۔

ماہا ….. کیا ہوا تم ٹھیک ہو ۔۔۔ ” ابتہاج جو خود میں

ہمت پیدا کرتے کمرے کی جانب آیا تھا اب یوں ماہا کی کربناک چیخیں سنتاہ وہ ایک دم سے پریشان ہوتا کمرے کی جانب بڑھا تھا مگر سامنے ہی اسے یوں بکھری حالت میں دیکھ ابتہاج کی روح تک لرزی تھی ، وہ اندھا دھند بھاگتے اسکے قریب جانے لگا کہ اچانک سے فرش پہ بکھرا کانچ کا ٹکڑا اسکے پاؤں کی پشت پہ بری طرح سے لگا تھا ابتہاج کی بے ساختہ ہی کراہ گونجی مگر پھر وہ خود کو نظر انداز کیے اپنی متاعِ جاں کی طرف بڑھا جو دھاڑیں مارتے رو رہی تھی ابتہاج نے بیڈ پہ اسکے قریب جاتے اسے خود میں چھپانا چاہا تھا ۔ ماہا میری جان پلیز مت روؤ میرا دل بند ھو جائے گا اسکی کربناک درد سے چور آواز ابتہاج کو اذیتوں میں ڈال گئی وہ اسکے قریب جاتے اسکے وجود کو اپنے حصار میں لیتے بولا تھا ۔

ماہا اسکے حصار کو محسوس کرتے اسے خود سے دور کرتے کھڑی ہوئی ، ابتہاج نے لب بھنجتے اسکی شکوہ کرتی ان بہتی سرخ آنکھوں کو دیکھا تھا جس میں بےیقنی نفرت جانے کیا کچھ تھا، اببب ابتہاج آپ نے بچا لیا مجھے اس سمیر سے بچا لائے مجھے مگر ۔۔۔۔

مگر میرا بچہ وہ کہاں ہے ابتہاج …..؟‘ کہاں ہے وہ ……؟ اوہ آپ کو کیا پتہ ہو گا بلکہ آپ تو خوش ہونگے وہ چلا گیا ، مجھے چھوڑ گیا وہ ۔۔۔۔۔ آپ کیوں رو رہے ہیں ارے آپ ۔۔۔۔ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے ، آپ کی جان چھوٹ گئی آپ کو کچھ کرنا ہی نہیں پڑا سب کچھ خود ہی ہو گیا ۔۔۔ ابتہاج کے چہرے کو نفرت سے دیکھتے وہ پھنکاری تھی، ابتہاج ضبط سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینجے کسی مجرم کی طرح نظریں جھکائے ہوئے تھا۔۔۔

وہ جانتا تھا وہ اس وقت جس درد جس کرب سے گزر رہی تھی ان سب کے سامنے تو یہ باتیں برداشت کرنا کچھ بھی نہیں تھا، ماہا تم پلیز یہاں آؤ ۔۔۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں۔ ابتہاج نے اسے پچکارتے قریب جاتے تھامنا چاہا تھا مگر وہ اسکے قریب آتے ہی پیچھے ہوئی ابتہاج نے سرخ نظروں سے اسے دیکھ پیچھے فرش پہ بکھرے ان کانچ کے ٹکروں کو دیکھا۔۔

جانتے ہیں ، یہ تکلیف جو میرے جسم پہ ہے یہ کچھ بھی نہیں اببب ابتہاج. یہ دل یہ وجود تو آج حالی ہو گیا ، وہ خوشی جس کو بچانے کے لئے آپ سے دور بھاگی تھی آج وہ بھی نہیں رہی میرے پاس کیا میں اتنی گناہ گار ہوں کہ میرا رب مجھے ایک خوشی دیتا ہے اور اسے پھر سے چھین لیتا ہے۔۔ وہ ہذیانی سی ہوتے چلا رہی تھی اسکی ہچکیاں اسکا رونا ابتہاج کے وجود کو سن کرنے لگا وہ کمال ضبط سے اسے روتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔ ماہا ہم بعد میں بات کریں گے اس بارے میں۔۔ “

ابتہاج نے نرمی سے اسکی بات کاٹتے اسکے قریب جاتے کہا تو وہ ایک دم سے پیچھے ہوئی ، ابتہاج نے سرخ نظروں سے اسکے پاؤں کے قریب پڑے ان کانچ کے ٹکروں کو دیکھ ایک دم سے اسکے بازوؤں کو پکڑتے اپنی جانب کھینچا تھا ،” کہہ رہا ہوں ناں بعد میں بات کریں گے اگر لگ جاتی تو پھر ۔۔۔ “

وہ ایک دم سے دہشت زدہ سا بھپرے ہوئے تاثرات سے دھاڑا تھا ، یہ سب ماہا کو خاموش کروانے کے لیے ضروری تھا وگرنہ وہ اپنی ذہنی حالت کی بنا پر جانے کیا کر جاتی ۔ ابتہاج نے اسکے لرزتے وجود کو دیکھ ایک دم سے اسے کھینچتے اپنی بانہوں میں سمایا۔ پلیز ماہا مجھے بھی تکلیف ہے، میں خود بھی دکھ میں ہوں ، تمہاری طبیعت ابھی ٹھیک نہیں ۔۔۔ تم ابھی ریسٹ کرو جب سنبھلو گی میں وعدہ کرتا ہوں تم جو بھی سزا دو گی میں اسے قبول کروں گا ۔۔

آئی پرامس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اسکے گالوں کو بھگوتے انسںوں کو اپنے دہکتے ہونٹوں سے چنتے وہ خود بھی اذیت سے دوچار بولا تھا ۔۔۔ ماہا اسکے لمس پہ سن پڑتے دماغ سے کپکپانے لگی اسکی آنکھیں بند ہونے لگی ، وہ اسے خود سے دور کرنے لگی ، مگر اپنے کمزور وجود کی وجہ سے اسے خود سے دور کرنا نا ممکن سا ہو گیا تھا اسکے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔ اببب ابتہاج ۔۔۔۔۔”

اسکے چہرے کو چھوتے ابتہاج نے اسکی مدہم سی سرگوشی سنتے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھاما اور بے قراری سی اسکی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھا، ماہا میری جان بولو میں سن رہا ہوں۔۔۔۔ ابتہاج کا پورا وجود سماعت بنے اسکی جانب متوجہ تھا ، ماہا کے ہونٹوں کے قریب بنے اس سگریٹ کے جلے ہوئے نشان کو دیکھ ابتہاج کا دل لرز گیا۔ اس نے بےخودی سے اسکی ہونٹوں کو چھوتے اپنے ہونٹوں سے مرحم لگائے اسکی تکلیف اسکے درد کو کم کرنے چاہا ۔۔۔۔۔ ابب ابتہاج۔۔۔۔”

مم مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔۔ “دوا کی وجہ سے وہ دوبارہ غنودگی میں جانے لگی ، اسکی آنکھیں بند ہونے لگی وہ کرب تکلیف سے آنسوں بہاتے بمشکل سے بولی تھی کہ ابتہاج نے لب بھنجتے اس کے نازک وجود کو دیکھا جس پہ سگریٹ سے تشدد کرنے کی وجہ سے وہ جگہ جگہ سے جل چکا تھا جبھی ابتہاج نے اسکے وجود کو اپنی شرٹ سے ڈھانپتے اپنے ہونے کا تخفظ سونپا تھا۔ میری جان میں ہر دکھ ، ہر تکلیف کو سمیٹ لوں گا ، ایک آخری بار بھروسہ کرو مجھ پہ۔۔۔۔۔۔ اس کی بند آنکھوں کو دیکھ ابتہاج نے نرمی سے اسے سمیٹتے بانہوں میں بھرا تھا اور چلتے اسے بیڈ پہ لٹائے وہ اسکی بند آنکھوں کو دیکھ ایک آخری موقع ایک آخری چانس مانگنے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *