Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh NovelR50589 Dildar Maseeha e Dil (Episode 14,15)
Rate this Novel
Dildar Maseeha e Dil (Episode 14,15)
Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh
صالح نے اسے بیڈ پر لا کر بٹھایا اور نیچے چلا آیا اس کے دماغ میں اس وقت بہت سی باتیں چل رہی تھیں صنم اس کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی وہ چاہتا تھا کہ وہ صنم کے ساتھ وقت گزارا اور صنم کو سمجھے ۔۔۔۔۔صنم کا اجنبی رویہ ان دونوں کے درمیان سخت گیر دیوار کا کام کر رہا تھا
صالح کے دل میں صنم کے لیے جو نرم جذبات پیدا ہوئے تھے یہ ان ہی کی وجہ سے تھا کہ صالح اس کا اتنا خیال رکھ رہاتھا
صالح نے تمام منفی سوچوں کو اپنے ذہن سے جھٹکا اور ایک ٹرے میں فرائیڈ ایگ اور بریڈ رکھ کر اورنج جوس کا ٹن فریزر سے نکالا اور کمرے میں چلا آیا
صنم ابھی بھی اسی طرح بیٹھی اپنے پاؤں کو گھور رہی تھی جیسے کچھ دیر پہلے صالح اسے چھوڑ کر گیا تھا
صالح نے اس کے سامنے ٹرے رکھی اور اپنے ہاتھوں سے چھوٹے چھوٹے نوالے بنا تا اسے کھلانے لگا صنم کافی دیر سے بھوکی تھی ناشتے کو دیکھ اس کی بھوک جاگ اٹھی تھی ۔۔ اسی لیے بنا کسی بحث کے ناشتہ کرنے لگی صالح بغور اس کے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھ رہاتھا
صنم چور سےنظروں سے اسے دیکھتی اور پھر نظریں جھکا لیتی ۔۔۔۔۔
اسے اچھا لگ رہاتھا یہ سب اتنی کئیر کی وہ عادی کہاں رہی تھی پر صالح ۔۔۔ ایک الگ ہی انسان تھا ۔۔۔ جس کا ہر انداز صنم کو جھکنے پر مجبور کر دیتا وہ سمجھ رہی تھی کہ اس رشتے کی نزاکت کیا ہیں پر اس کی التجا کرنے پر صالح کا اس سے دور ہو جانا اس بات کی دلیل تھی کہ صالح صرف اس کے جسم کا طلبگار نہیں تھا بلکہ وہ واقعی اس رشتے کو نبھانا چاہتا تھا
صنم ڈرتی تھی کہ اگر اس نے صالح کی طرف قدم بڑھایا تو وہ بھی صالح کی طرح اس کی زندگی میں تباہی مچا کر نہ چلاجائے ایک ہوا کے جھونکے کی طرح اسے اپنا عادی نہ بنا جائے ۔۔۔۔وہ اتنی جلدی سے دوبارہ صالح پر اعتبار کرکے اپنا آپ نہیں گنواناچاہتی تھی وہ پہلے ہی ٹوٹ چکی تھی اپنوں کی بے اعتنائی کی وجہ سے ۔۔۔۔ اب صالح اسے زندگی سے روشناس کرا کر اندھیرے کا باسی نہ بنا دے یہی ڈر اسے کھائے جارہا تھا۔ ۔
صالح نے اسے ناشتہ کرا کر لٹایا اور خود ٹرے سائیڈ پر رکھ کر اس کے ساتھ بستر پر نیم دراز ہوگیا
صنم اس کی اچانک حرکت پر سٹپٹا گئی اور اپنی خوبصورت آنکھیں بڑی کیے صالح کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
صالح نے آئبرو اچکا کر اسے دیکھا
صنم نظریں جھکائے اپنی انگلیاں چٹخانے لگی ۔۔صالح کی نظریں مسلسل اسی پر تھیں۔ ۔۔۔
صنم نے بہت اپنائیت سے اس کے کندھے پر سر رکھا اور آنکھیں موند گئی جہاں صالح اس کے اقدام پر حیرت زدہ تھا ۔۔۔ وہیں صنم اپنے بازو اس کے گرد باندھتی اپنے ساتھ کا اقرار سونپ گئی تھی ۔۔۔۔ صالح کے آس پاس ہونے سے جو سکون اسے میسر آیا تھا وہ صرف اپنے بابا کے ساتھ محسوس کرتی تھی ۔۔۔۔ صنم کو اپنے ساتھ ایسے دیکھ صالح کے لبوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی ۔
چاہت جب شدت اختیار کرنے لگ جائے تو انسان بے بس ہو کر رہ جاتا ہے اس کے ارد گرد سے اس کے چاہنے والے کا احساس رہ جاتا ہے صالح بھی بے بس تھا اس نازک سی جان کی خاطر جو اسے پوری طرح خود کی طرف راغب کر چکی تھی
پرس علی اس بات سے بھی بخوبی واقف تھا کہ جب اس کو سچائی کا علم ہوگا تو وہ اس سے نفرت کرے گی وہ نہیں چاہتا تھا کہ صنم کسی بھی صورت اس سے نفرت کرے
اب تو صالح خان صنم کے بغیر ایک سیکنڈ بھی نہیں گزار پاتا تھا اس کے دور جانے کے خیال سے ہی صالح کو اپنے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوتی ۔۔۔اس کے دل میں چھپے جذبات محبت کا قیدی بنا چکے تھے ۔۔۔ اس قید سے آزادی چاہتا بھی کون تھا ۔۔۔۔
صالح ہولے سےاس کے بالوں میں انگلیا ں پھیرتا اپنے نرم گرم لمس سے روح تک سکون اتار رہا تھا کچھ ہی دیر میں صالح کے پر حدت لمس کے اثر سے صنم سو چکی تھی ۔۔۔۔۔
جب کبھی لگنے لگے کہ اکیلے ہو۔۔۔۔ تو شکوہ کرنا چھوڑ دو ۔۔۔ کیونکہ رب تو سب کا ہے وہ کوئی نا کوئی ساتھی ضرور بھیجتا ہے جو آپ کی روح کے زخموں کو بھرنے کے لیے کسی نا کسی کو بھیج دیتا ہے
________
دلاور صاحب گھر آچکے تھے ابتہاج ماہا کے انکار کرنے کے باو جود اسے دلاور صاحب کے پاس گھر لے آیا تھا ماہا اپنے آپ سے سخت نالاں تھی ۔۔۔۔ وہ دلاور صاحب کا سامنا کرنے سے کترا رہی تھی . . ضبط کا دامن کب چھوٹ جائے پتا نہی ۔۔۔ وہ خود ہر سخت پہرے بٹھائے بیٹھی اپنی سوچوں پر نالاں تھیں ۔۔۔۔ کیسے وہ سامنا کرتی باپ کا۔۔۔۔ جبکہ ان کے دل پر لگے زخم صرف صنم دلاور شاہ ہی دھو سکتی تھی ۔۔۔
والدین کی محبت ایسی پرخلوص ہوتی ہے جس میں کوئی مطلب کوئی گناہ اور کوئی ثواب معنی نہیں رکھتا رکھتی ہے تو صرف اپنی اولاد کی محبت ۔۔۔۔ایسی ہی محبت دلاور شاہ کے دل میں صنم دلاور شاہ کے لیے تھے جسے کوئی بھی مٹا نہیں سکتا تھا بے شک ان کے ساتھ کتنا ہے غلط کر چکی تھی ان کی عزت کو خاک میں ملا کر اپنے قدموں تلے روند چکی تھی ۔۔۔۔ایسی ہی ہوتی ہے پر خلوص محبت ۔۔۔ جو ماں باپ کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
دلاور صاحب اپنے کمرے میں آرام کر رہے تھے منیبہ بیگم جو ان کے لیے سوپ لارہیں تھیں ماہا اور ابتہاج کو وہیں کھڑے دیکھ حیران ہوئیں ۔۔۔۔ انہیں لگ رہا تھا کہ ماہا ۔۔۔۔ یہاں آنے سے انکار کردیگی ۔۔۔
ابتہاج کی گھوریوں کو نظر انداز کرکے ماہا نے اپنی ماں کے ہاتھ سے سوپ کا پیالہ لیا اور دلاور شاہ کے کمرے کی طرف اپنے قدم بڑھا دیے وہ نہیں چاہتی تھی ۔۔۔کہ اس کی ماں پریشانی اٹھائے ماہا ناک کرکے کمرے میں داخل ہوئی
دلاور شاہ جو نقاہت زدہ سے بستر پر نیم دراز تھے آنے والے کو دیکھ کر ہمت کر کے بیٹھنے لگے ۔۔۔
ماہا نے اندر آتے ہی سوپ کا باؤل ایک جانب میز پہ رکھا اور دلاور صاحب کے سامنے وہ سر جھکائے بیٹھی۔۔۔۔
دل پہ بڑھتا بوجھ اسے بولنے پہ اکسانے لگا جبھی وہ آج اپنے بابا سے شکوہ کرنے لگی ۔۔ جبکہ وہ ایسی نہیں تھی وہ توشروع سے ہی بس دینا جانتی تھی اپنوں کی محبت انکی شفقت کہاں اسے میسر آئی تھی۔۔۔۔
بابا آپ نے کبھی بھی میرے سر پہ محبت سے اپنا شفقت بھرا ہاتھ نہیں رکھا ، آپ نے کبھی بھی مجھے صنم کے جیسے محبت ، پیار نہیں دیا۔۔۔۔ کیا میں آپ کا خون نہیں ہوں ، کیا میں آپ کی اپنی بیٹی نہیں ہوں ۔۔۔ میں نے تو آپ کے لئے آپ کا ہر فیصلہ تسلیم کر لیا ۔۔۔ کبھی اف تک نہیں کہا آگے سے۔۔۔ مگر آپ کے دل میں آج بھی صنم کے لئے اتنی ہی محبت ہے کیا میری محبت نظر نہیں آتی۔۔۔ آپ کو میری تڑپ، میری آنکھوں میں آپکی محبت آپ کی شفقت پانے کی جو تڑپ ہے کیا وہ آپ کو نہیں دکھتی ۔۔۔۔ “
ماہا دلاور شاہ کے پاس بیٹھی انکی آنکھوں میں دیکھ اپنے اندر کا حال اپنے بابا سے بیاں کر رہی تھی۔۔۔
جو بظاہر نظریں جھکائے ہوئے تھے مگر ماہا کا کہا ایک ایک لفظ آج انکے دل پہ بری طرح سے اثر کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ جانتی تھی جب وہ ٹھیک ہوں گے تو انکا سایہ انکی شفقت ان سب سے وہ محروم ہو جائے گی۔۔۔ ماہا نے نم آنکھوں سے اپنے ہاتھ میں موجود اپنے بابا کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر نرمی سے انکے ہاتھ پہ بوسہ دیتے وہ اپنی آنکھوں سے لگا گئی ۔۔
بابا آپ جانتے ہیں جب بچپن میں آپ صنم سے محبت کرتے تھے ناں تو میں چھپ چھپ کے دیکھتی تھی سب۔۔۔۔۔ میرا دل چاہتا تھا کہ آپ مجھ سے بھی ویسے ہی محبت کریں جیسے آپ صنم سے کرتے ہیں۔۔ مگر میں ہمیشہ سے آپ کی محبت کے لئے ترستی رہی کیا آپ کو کبھی احساس نہیں ہوا کہ آپ کی اس شفقت اس محبت پہ میرا بھی حق ہے۔۔”
ماہا نہیں جانتی تھی کہ اسکے کہے الفاظ دلاور شاہ کے دل و دماغ پہ کیسے بری طرح سے اثر کر چکے تھے ۔۔ ماہا کا وجود تو ہمیشہ سے انکے سامنے تھا مگر پھر کیسے وہ اپنی بیٹی کو نظر انداز کر گئے۔۔۔۔ احساس شرمندگی سے دلاور شاہ کی آنکھیں بھیگ گئی تھی۔۔۔۔
انہوں نے نرمی سے اپنی نم آنکھوں سے اپنے ہاتھ پہ سر رکھے روتی ماہا کے سر پہ اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھا تھا۔۔ ماہا نے سر اٹھائے اپنے بابا کو دیکھا جن کی آنکھیں خود بھی نم تھی۔۔۔۔ وہ بری طرح سے تڑپتے سر انکی گود میں رکھ گئی۔۔۔۔
کتنا سکون تھا انکی آغوش میں ، یوں جیسے زمانے کی گرم ہوائیں بھی اسکے وجود کو چھو نہیں پائیں گی۔۔۔۔ ماہا نے لب بھینجتے اپنے آنسوں پہ بندھ باندھا تھا۔۔۔۔
دروازے پر ہوتی دستک پہ ماہا فورا سے سیدھی ہوئی تو دلاور شاہ نے بھی اپنی آنکھیں رگڑتے سامنے دیکھا جہاں ابتہاج دروازے کے پاس کھڑا تھا۔۔۔
انکل کیسی طبعیت ہے آپکی ۔۔۔۔۔ ” وہ چلتا بیڈ کے قریب آتے ہاتھ پشت پہ باندھے دلاور شاہ کو دیکھتے بولا ۔۔ ابتہاج کی موجودگی میں ماہا نے پہلوں بدلا تھا۔۔ جسے ابتہاج نے نوٹ کیا ۔۔۔
ماہا تمہیں آنٹی بلا رہی ہیں۔۔۔ ” ابتہاج نے اسکے جھکے سر کو دیکھتے کہا تو ماہا جیسے آگے ہی کسی کے بلانے کی منتظر تھی وہ دوڑتے کمرے سے باہر نکلی تھی۔۔
اپنے آنسوں صاف کرتے وہ نیچے کچن کینجانب جانے لگی ، کہ اچانک سے اپنے ہاتھ پہ کسی کی سلگتی گرفت محسوس کرتے ماہا نے آنکھیں پھیلائے مڑتے ابتہاج کو دیکھا۔۔۔۔
جو ہاتھ پکڑے اسے لیتے ایک کمرے میں آیا تھا۔۔۔۔۔
ماہا کا سر ہنوز جھکا ہوا تھا۔۔ وہ ابتہاج کے یوں لانے پہ کنفیوز سی اپنے لب کچلنے لگی۔۔۔۔
میری طرف دیکھو ماہا۔۔۔۔۔ ” ابتہاج نے دروازہ بند کرتے اسے سامنے کھڑا کرتے پوچھا تھا۔۔ جبکہ ماہا نے سر مزید جھکا لیا تھا۔۔۔ ابتہاج ہاتھ اسکی تھوڑی کے نیچے رکھتے اسکا چہرہ اوپر کر گیا۔۔ مگر ماہا کی نظریں جھکی ہوئی تھی۔۔۔ ابتہاج نے نرمی سے جھکتے اسکی دونوں آنکھوں پہ بوسہ دیا تو بے اختیار ہی ماہا نے دھڑکتے دل سے اسے دیکھا۔۔۔۔
اسکی رونے سےسوجھی سرخ ہوئی آنکھوں کو دیکھ ابتہاج نے ہاتھ اسکی کمر کے گرد حائل کیا تھا اور جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا۔۔۔
اس اچانک افتاد پہ ماہا سن سی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جس کے نرم گرم سانسیں ماہا کے ہونٹوں پہ پڑ رہی تھی۔۔۔۔ ابتہاج نے دوسرا ہاتھ اسکے سر کے نیچے رکھتے اسے اپنی جانب کھینچا اور شدت سے اسکے کپکپاتے ہونٹوں کو اپنے لبوں میں قید کیے وہ اسکی نازک سی جان کو سہما گیا تھا۔۔۔
ابتہاج کی شدت بھری گرفت اپنے ہونٹوں پہ پاتے اور اسکے آہنی ہاتھ کا پرتپش لمس اپنی کمر پہ سرکتا محسوس کرتے ماہا کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگی تھیں۔۔۔۔ ماہا نے ابتہاج کے سینے پہ ہاتھ رکھتے اسے دور کرنا چاہا تھا۔۔۔۔
جبکہ ابتہاج کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔ جبھی وہ اسکے نازک وجود کو تھامتے دیوار سے لگا گیا۔۔۔ نرمی سے اسکے نازک ہونٹوں کو آزادی بخشتے ابتہاج اب اسکی گردن پہ جھکا اپنی بڑھتی تشنگی مٹا رہا تھا۔۔۔ وہیں اسکے سلگتے لمس کو اپنی گردن پہ پاتے ماہا نے آنکھیں میچتے گہرے سانس بھرے ۔۔۔
” کیا سزا دوں تمہیں میری آنکھوں کو یوں رلانے کی۔۔۔ ” گردن سے سرکتے اسکے ہونٹ ماہا کے کان کے قریب ہوئے تھے وہ سرگوشی میں کہتا اس سے شکوہ کرنے لگا۔۔ جبکہ ماہا جسے اس بات کی توقع نہیں تھی ابتہاج کے یوں کہنے پہ وہ آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی۔۔ جس کی آنکھوں میں ماہا کے لیے بے انتہا محبت تھی۔۔۔
ماہا کی نظریں اپنے چہرے پہ پاتے ابتہاج دلکشی سے مسکرایا اور جھکتے اسکی آنکھوں پہ بوسے دیے ہونٹ اسکی ناک پہ رکھتے وہ اسکے گالوں کو ہلکے سے چھوتے پھر سے اسکے نازک ہونٹوں کو گرفت میں لیتے اپنے سانسوں میں اسکی مہکتی سانسوں کو بھرنے لگا۔۔۔۔
میں نیچے ویٹ کر رہا ہوں آ جاؤ گھر چلیں۔۔۔۔۔ ” ابتہاج نے دھیرے سے اسکے ہونٹوں کو آزادی بخشتے ناک اسکی ناک سے مس کرتے کہا تھا۔۔۔۔
اپنی قربت میں ماہا کے لال پڑے گال ابتہاج کو مزید بہکا رہے تھے ۔۔ وہ بھرپور نظر اسکے نازک وجود پہ ڈالتے باہر نکلا تھا۔۔۔
پیچھے وہ اسکی پشت کو دیکھتے گہرے سانس بھرنے لگی۔۔۔۔
_______
ابتہاج گاڑی سے نکلتے ماہا کا ہاتھ تھامے اندر داخل ہوا تو نظر گارڈن میں پودوں کو پانی دیتے سمیر پہ پڑی۔۔۔
ہیے برو کم ہئیر دیکھو می پودوں کو بھانی دے رہی ہوں۔۔۔۔۔” سمیر نے دور سے آتے ماہا اور ابتہاج کو دیکھتے بلند آواز میں انکو مخاطب کیا تھا۔۔۔ ابتہاج نے ایک نظر ماہا پہ ڈالی جو کافی کنفیوز سی تھی۔۔ اور پھر مسکراتے وہ سمیر کی جانب بڑھا۔۔
گڈ انگریزی بندر مجھے لگتا ہے کہ توں باہر بھی یہی کام کرتا ہو گا۔۔۔۔ ” ابتہاج نے اسے چڑاتے مسکراتے سر نفی میں ہلایا تھا۔۔۔
تھم مجھ کو کیا بولی۔۔۔۔۔” سمیر ابتہاج کے یوں کہنے پہ برا سا منہ بنائے بولا تھا ۔۔۔ جبکہ ابتہاج کو کونسا اسکے برا لگنے سے کوئی فرق پڑتا تھا۔۔
میں نے وہ کہا جو آ۔۔۔۔۔ ” ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ ایکدم سے سمیر نے ہنستے ہوئے پائپ کا رخ اسکی جانب کیا تھا ۔۔۔۔ ابتہاج نے ہاتھ چہرے پہ پھیرتے اپنے بھیگے کپڑوں اور پھر غصے سے سمیر کو دیکھا جو اسکی غصیلی نظروں کو خود پہ پاتے سر نفی میں ہلاتا فورا سے پائپ چھوڑتے بھاگا تھا۔۔۔
ابتہاج نے پائپ پکڑتے رخ سمیر کی جانب کیا تھا مگر سمیر بھاگتے ماہا کے پیچھے چھپا ۔۔۔
ہیے برو تھم مجھے دگھو نہیں سکتے ، ۔۔۔ سمیر نے ہنستے ہوئے کہا تو ابتہاج نے ایک دم سے پائپ اسکی جانب کیا مگر وہ ماہا کی اوٹ میں چھپتے کھڑا ہوا تھا جس سے سارا پانی ماہا کے اوپر آیا تھا ۔۔ ابتہاج پائپ پھینکتے اسے مارنے کے لیے غصہ سے آگے بڑھا تھا جب وہ پودے کو کراس کیے دوسری جانب جاتا پائپ تھام چکا تھا۔۔۔۔
انگریزی بندر ناں کر۔۔۔۔” ابتہاج نے اسے وارن کیا مگر وہ زبان چڑھاتے پائپ پھر سے ابتہاج کی جانب کر گیا ابتہاج نے فورا سے ماہا کا ہاتھ تھامے اسے اپنے سامنے کیا تھا۔۔۔ ماہا کا پودا وجود بھیگ گیا تھا۔۔ جسے دیکھ سمیر پائپ چھوڑتے دبے قدموں سے وہاں سے نکلا تھا۔۔ جبکہ ابتہاج کی نظریں اب ماہا کے بھیگے سراپے میں اٹکی تھی۔۔۔
ماہا ہاتھ اسکے کندھے سے ہٹائے اندر کینجانب بڑھی تھی مگر ابتہاج نے جھکتے سے اسکے ہاتھ کو تھامتے اپنی جانب کھینچا ۔۔۔
یہ موسم کی بارش یہ بارش کا پانی
یہ پانی کی بوندیں تجھی کو ہی ڈھونڈیں
یہ ملنے کی خواہش ، یہ خواہش پرانی
ہو پوری تجھی سے میری یہ کہانی۔۔۔۔
ابتہاج نے نرمی سے اسکی پشت کو سینے سے لگائے محمور لہجے اسکے نازک وجود کو خود میں بھینجتے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔ اسکی یوں کھلے عام بے باک حرکت پہ ماہا سٹپٹاتے اس سے دور ہونے لگی مگر ہمیشہ کی طرح اس کی گرفت سے نکل پانا کہاں اسکے لئے آسان تھا۔۔۔۔
ابتہاج نے گھماتے اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا اور بنا کسی کی پرواہ کیے وہ ماہا کے نازک وجود کو بانہوں میں بھرتے اندر کی جانب بڑھا۔۔۔۔
واو برو سونگ بیت سچا تھے۔۔۔۔” ریلنگ سے جھانکتے وہ ابتہاج کو اوپر کی جانب بڑھتا دیکھ سیٹی بجاتے کہتے ساتھ ہی آنکھ دباتے ہنستا اپنے کمرے کی جانب بھاگا تھا۔۔۔وہیں ماہا نے شرم سے لال پڑتے اپنے چہرے کو ابتہاج سے سینے میں چھپایا تھا۔۔۔۔
ابتہاج قہقہ لگاتے اپنے بھاری قدم اٹھائے کمرے میں آیا تھا۔۔ اور پاؤں سے دروازہ لاک کیے وہ ماہا کے چہرے کو دیکھنے لگا۔۔ کمرے میں پھیلی فسوں خیز خاموشی ، ابتہاج کے سینے میں اٹھتے طوفان کو بڑھکا رہے تھے۔۔۔
ماہا اسکی لو دیتی نظروں سے بچنے کے لیے جلدی سے اسکی بانہوں سے آزاد ہوتے کبرڈ سے اپنے کپڑے لیے ڈرسینگ روم کی جانب بڑھی تھی۔۔ اپنی پشت پہ گھڑی ابتہاج کی نظروں کی تپش اسکا سانس خشک کر گئی ۔۔ وہ جلدی سے اسکی نظروں سے اوجھل ہونا چاہتی تھی۔۔۔۔
ماہا نے ٹھاہ سے دروازہ بند کیے گہرے سانس بھرتے خود کو پرسکون کیا تھا۔۔۔ اور ہاتھ کمر کی پیچھے لے جاتے ماہا نے جیسے ہی زپ ہلکی سے کھولی تو دروازہ کھلنے کی آواز پہ ماہا نے جلدی سے ہاتھ کھینچا تھا اس سے پہلے کہ وہ گھومتی ابتہاج تیزی سے اسے قریب آتے ہاتھ اسکے پیٹ پہ باندھے اپنے دہکتے ہونٹ اسکی کمر پہ رکھتے اسے بری طرح سے لرزنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔۔
ابتہاج کا ہاتھ اپنی زپ پہ الجھتا پاتے ماہا نے جلدی سے اپنا رخ موڑتے اسکے سینے میں اپنی پناہ ڈھونڈی تھی۔۔۔۔ مگر ابتہاج نے نرمی سے اسکے بالوں کو کندھے سے پیچھے کیا اور ہونٹ اسکی شفاف گردن پہ رکھتے وہ اسے خود میں سمٹنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔۔۔
ماہا نے آنکھیں بند کیے خود کو چھڑوانے کی چھوٹی سی کوشش کی تھی ۔۔۔ مگر ابتہاج کی گرفت جان لیوا ہوتی گئی ۔۔۔۔۔۔ ابتہاج نے اسے خود میں بھینجتے اسکی سانسوں کو پھر سے قید کیا تھا۔۔۔ ماہا کا نازک سا دل اسکی اتنی سی محبت پہ پھر سے ابتہاج کے لئے بری طرح سے دھڑک رہا تھا۔۔ جانے کیوں مگر ابتہاج کی محبت اسکا چھونا ماہا کی روح کو سرور بخشتا تھا۔۔۔۔۔۔ وہ چند لمحوں کے لئے ہی سہی مگر اس سرور کو خود میں محسوس کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
ابتہاج نے نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی دیے ہونٹ اسکی تھوڑی پہ رکھے تھے اور پھر جھکتے وہ اسکی گردن پہ اپنی محبت کی برسات کرنے لگا۔۔۔۔ جبکہ ابتہاج کا دوسرا ہاتھ ماہا کی زپ میں الجھا ہوا ماہا کی سانسیں بے ترتیب کر گیا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ ابتہاج کی جنون خیزیاں انتہا کو پہنچتی اچانک سے دروازے پہ ہوتی دستک پہ ماہا جیسے ہوش میں تھی۔۔۔
ابتہاج کے سینے پہ ہاتھ رکھے وہ اسے خود سے دور کرتے فاصلہ بنا گئی۔۔۔ ابتہاج بھی ایک نظر اسکے معصوم چہرے پہ ڈالتا ڈریسنگ روم سے باہر نکلا تھا۔۔۔
__________
” صالح کی مضبوط بانہوں کے مضبوط حصار میں وہ ساری تکلیفیں ، ساری اذیتیں بھلائے گہری پرسکون نیند میں تھی۔۔۔
جبکہ صالح ایک ہاتھ اسکی کمر کے گرد حمائل کیے اسے خود سے لگائے اسکے حسین چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اسکے خوبصورت نقوش کو اپنے ہونٹوں سے چھونے کی خواہش وہ صنم کی نیند کی وجہ سے اپنے اندر دبائے گہرا سانس بھرتے آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔۔
کہ اچانک سے صنم نیند میں بڑبڑاتے کچھ کہتے ڈرتی چیخنے لگی تھی۔۔۔
صالح نے آنکھیں کھولتے اسے دیکھا ۔۔۔ صنم صنم۔۔۔ صالح نے اسے پکارا مگر وہ خواب کے زیر اثر تھی۔۔۔جبھی اس پہ اثر نہیں تھا ہوا ۔۔۔ صالح نے جھنجھوڑتے اسے کندھوں سے پکڑتے ہلایا تھا صنم اپنی حسین بڑی بڑی آنکھوں میں خوف لیے خود پہ جھکے صالح کو دیکھنے لگی جس کے چہرے پہ اضطراب پھیلا ہوا تھا۔۔۔۔
صنم روتے ہوئے اسکے سینے سے جا لگی ۔۔۔ صالح نے نرمی سے اسکے گرد اپنے بازوؤں کا حصار باندھتے اسکی کمر کو تھپکا۔۔۔ شاید وہ خواب میں ڈر گئی تھی۔۔
صالح مم مجھے میرے ماما بابا سے ملنا ہے۔۔ وہ ناراض ہیں مجھے سے میں اچھی بیٹی نہیں ہوں۔۔۔ میں نے انکو دکھ دیا ہے ۔۔۔۔ پلیز مجھے بابا کے پاس لے چلو ۔۔۔۔” صالح کے سینے سے لگی وہ بری طرح سے کپکپا رہی تھی ۔۔۔ صالح نے نرمی سے اسکے بالوں میں انگلیاں چلاتے اسے پرسکون کیا تھا۔۔۔۔
مگر وہ کہاں پرسکون ہو پا رہی تھی۔۔۔ اپنے ماں باپ کو بھری دنیا میں یوں سرعام تماشہ بناتے وہ خود کیسے پرسکون رہ سکتی تھی۔۔ ماں باپ اولاد کی جنت ہوتے ہیں اگر اولاد ہی اپنے ماں باپ کو رسوا کر دے تو بھلا وہ کیسے پرسکوں رہ سکتے ہیں۔۔۔
خاموش ہو جاؤ صنم سب ٹھیک ہے کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔’ صالح نے نرمی سے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیتے اسے اپنے ہونے کا احساس دلایا تھا۔۔۔ جبھی وہ کچھ حد تک پرسکون ہوئی تھی ۔
اسکی نارمل چلتی سانسوں کو محسوس کرتے صالح نے اسے نرمی سے بیڈ پہ لٹاتے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں الجھاتے بیڈ سے لگایا تھا۔۔۔ صنم سہمی نظروں سے صالح کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جس کی نظریں صنم کی قربت میں سرخ ہوئی تھی۔۔۔۔۔
صالح صنم کی آنکھوں میں دیکھتے جھکتے اسکے ہونٹوں کو گرفت میں لئے خود کو سیراب کرنے لگا۔۔۔ صنم نے مچلتے اسے دور کرنا چاہا تھا مگر صالح کی مضبوط بانہوں سے نکلنا کہاں آسان تھا۔۔۔ وہ رفتہ رفتہ اسکی سانسوں سے خود کو سیراب کیے بہکنے لگا تھا۔۔ ہونٹوں سے کندھوں تک کا سفر طے کرتے وہ صنم کو بری طرح سے مچلنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔۔۔۔
صنم نے تیز تیز سانس بھرتے اپنے ہاتھوں کو چھڑوانا چاہا جو صالح کی آہنی گرفت میں تھے۔۔۔۔
اچانک میز پہ پڑا صالح کا فون بجا تھا۔۔ صالح نے سر اٹھاتے فون کو غصے سے گھورا تھا۔۔ جبکہ صنم شکر بھرا سانس لیتے اپنے ہاتھوں کو آزاد کرنے لگی۔۔۔۔۔
صالح اس آزاد کیے بیڈ سے اترا تھا۔۔۔ فون پہ نمبر دیکھتے صالح کے ماتھے پہ ایک دم سے بل نمودار ہوئے۔۔ وہ مرتے صنم کو دیکھتے فون لیے کمرے سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔
صالح کے جاتے ہی صنم نے گردن گھمائے ٹائم دیکھا تو اسے شدید جھٹکا لگا وہ اتنی دیر سوتی رہی تھی
۔۔ گھڑی پہ رات کے نو بجتے دیکھ وہ کافی حیران ہوئی تھی۔۔۔ پھر فورا سے اٹھتے وہ فریش ہونے کا سوچتے کبرڈ کی جانب گئی۔۔۔۔۔
کبرڈ کا دروازہ کھولتے ہی صنم کی نظریں کبرڈ کے اندر بنے اس چھوٹے سے لاکر پہ گئی۔۔۔ صنم نے تشویش سے اس لاکر کو چھوتے اسے کھولنا چاہا تھا مگر لاکر بند تھا۔۔۔ صنم کا تججس بڑھنے لگا آخر ایسا کیا تھا اس میں کہ صالح نے اسے لاک کیا تھا۔۔۔ صنم نے آگے پیچھے دیکھا مگر چابی ناں ملتے وہ دروازہ کھلنے پہ ایسے ہی کپڑے واپس رکھتے بیڈ کی جانب آئی تھی۔۔۔۔
کس کی کال تھی۔۔۔ صالح اسے کپڑے رکھتے دیکھ چکا تھا اسی لئے کوئی سوال جواب نہیں کیا۔۔۔
کسی بھی نہیں کوئی رانگ نمبر تھا۔۔۔” سر جھٹکتے وہ نظریں چراتا جھوٹ بول گیا۔۔۔ اسکا انداز صنم کو ٹھٹکنے پہ مجبور کر گیا۔۔۔ صنم نے گہری نظروں سے صالح کو دیکھا تھا جو چلتا اسکے قریب ہوا۔۔۔
صص صالح۔۔۔۔۔ ” صالح اسے حصار میں لیتے بیڈ کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ صنم نے کپکپاتے اسے پکارا تو صالح نے ایک گہری نظر اس پہ ڈالی صنم خاموش ہو گئی۔۔۔۔
” کہا تھا کہ تم پہ حق جتانے سے تم مجھے روک نہیں سکتی ۔۔۔ ۔۔۔ صنم کے وجود کو بیڈ پہ لٹائے صالح پھر سے اسکی گردن پہ جھکتے اپنی وخشتیں شمار کرنے لگا۔۔۔
جبکہ صنم کا دھیان اس لاکر میں اٹکا تھا۔۔۔ صالح نے سر اٹھاتے اپنی شرٹ کو اتارا تو صنم کی نظریں اسکے گلے میں لٹکی چابی پہ پڑی۔۔۔ یہ تو صالح کے لاکر کی چابی تھی آخر ایسا کیا تھا اس میں کہ صالح نے اس کی چابی اپنے گلے میں ڈالی تھی۔۔۔۔ آخر کیا چھپا رہا تھا صالح ۔۔۔۔ اپنی سائڈ پہ لیٹتے وہ ہمیشہ کی طرح کھینچتے صنم کو اپنی گرفت میں لے گیا۔۔ اس کے سینے سے لگی وہ اس لاکر کا سوچ رہی تھی۔
صالح ایک آرمی آفیسر تھا صنم کی حفاظت کا ذمہ اس کے ڈی آئی جی نے اسے دیاتھا وہ منیبہ بیگم کے سگے بھائی تھے دلاور شاہ کی طبیعت کے پیش نظر انہوں نے بھائی سے مدد مانگی اور اس طرح صالح خان کوٹھے پر جا پہنچا ۔۔۔ اور وہاں نکاح وہ سب قیمت سب ڈرامہ کیا ۔۔۔ پر کب اس نازک سی جان کے لیے دل میں جذبات پیدا ہوئے نا جان سکا یہ سکرٹ میشن تھا جسے صالح خان ہر حال میں پورا کر نا چاہتا تھا کل ہی وہ کوٹھے کو بند کر وا چکا تھا اور اب صنم کو لیے ایک خاص جگہ کسی سے ملوانے لایا تھا پورے راستے اس نے کوئی بات نہ کی تھی ۔۔۔ صنم ہچکیوں سے روتی شدید خوفزدہ تھی کہ صالح اسے کہاں لیجا رہا ہے
صالح اسے ایک خوبصورت طرز کے بنے گھر میں لایا اب وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے
کیا دیکھ رہی ہو، میں جانتا ہوں کہ میں بہت ہینڈسم ہوں، بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ ایک ادا سے اسے خود کو گھورتا پاتے بولا کہ وہ غصے سے سر جھٹکتے نظریں پھیر گئی۔۔۔”
” کیا ہوا پہچانا نہیں تم نے،،،، اسے حقیقتاً برا لگا تھا کہ کیسے وہ اسے اگنور کر رہی تھی، اسی کے عشق میں بیحال تھا اور اب وہی اسے نخرے دکھا رہی تھی اسے اپنی توہین پر رج کر غصہ آیا مگر فلحال موقع کی نزاکت دیکھتے چپ ہو گیا ۔۔”
” آج کی زبان ادھار دے آئی ہو ، یا پھر بول بول بیچاری پہلے ہی اپنی ساری انرجی ختم کر چکی ہے کہ اور اب بولنا ہی نہیں چاہتی، وہ مزے سے اسے چھیڑ رہا تھا ، اپنی عادت کے خلاف جاتے وہ اسے اکسا رہا تھا کہ وہ بولے اس سے باتیں کریں ، جو ہنوز آنسو بہاتی خاموش بیٹھی تھی۔۔۔”
” صالح کی باتیں اسے اور بھی دکھ دے رہی تھیں۔۔ اپنی محرومی کا سوچتے اسکی آنکھیں پھر سے بھیگی تھیں۔۔۔”مگر وہ اس کی بات پر ٹھٹککتے اسے دیکھنے لگی، وہ تو پہلی بار اس کو ایسے روپ مِیں دیکھ دہی تھی اور اب اسے یقین تھا کہ وہ اسے دوبارہ سے قید کر لیں گے۔۔
” کیا ہوا ڈر لگ رہا ہے ، اس کی حیرت سے زیادہ پھیلی آنکھوں کو دیکھ وہ اسکا سوال پڑھتے ہوئے بولا تھا کہ وہ آنسو رگڑتے منہ پھیر گئی۔۔۔”
“ارے آئیے ائیے، صد شکر کہ آپ ائے۔۔۔ جب سے آپ کا ہی انتظار کر رہا ہوں ، میں۔۔۔ اچانک سے سامنے سے آتے عاصم کو دیکھتے وہ اٹھتا پرجوش سا انکی جانب بڑھا تھا۔۔ کہ صنم سنتی ایک دم س زرد پڑی، اسکی آنکھوں کے سامنے پھر سے وہی سب کچھ کسی فلم کی مانند چکنا شروع ہوا تھا
پورا وجود کپکپا رہا تھا۔۔۔ کہ اچانک سے اپنے سر پر کسی کے ہاتھ کو محسوس کرتے و خالی خالی نظروں سے سامنے دیکھنے لگی مگر سامنے شناسا سا چہرہ اتنے عرصے کے بعد دیکھتے وہ ایک سے اٹھتے انکے سینے سے لگی تھی اور بے آواز ہچکیوں میں رونے لگی ، پہلے تو پاس کھڑا حیران ہوا تھا ،
مگر پھر برے سے منہ بناتے ایک جانب دوبارہ سے کرسی پر بیٹھتے ٹانگیں ہلانے لگا۔۔””
کیسی ہو میری بچی۔۔ اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے وہ ایک دم سے بھرائی آواز ، نم آنکھوں سے اسے دیکھتے بولے کہ وہ نم آنکھوں سے سر کو ہاں میں ہلا گئی کہ جیسے کہہ رہی ہو کہ ٹھیک ہوں، وہ سمجھتے ایک دم سے اسے پھر سے خود سے لگا گئے، “
کتنے عرصے سے وہ اسے دیکھنے ، محسوس کرنے کو تڑپے تھے۔۔ کس قدر عزیز تھی وہ انہیں ، کہاں سوچا تھا کہ اسکے بغیر بھی رہنا پڑے گا اسے خود سے دور کرتے اپنے دل پر خود سے پتھر رکھنا پڑے گا۔۔۔”
اگر آپ دونوں کا یہ ملنے کا ڈرامہ ہو گیا ہو تو کام کی بات کریں۔۔۔ انکے پیار کو دیکھتے وہ اکتاتے ہوئے لہجے میں بولتا پانی کا گلاس منہ کو لگا گیا۔۔۔”
ورنہ دل تو اسکا ایک ساتھ دو تین سگریٹ لگاتے خود کو پرسکون کر چکا ہوتا۔۔۔۔”
بیٹا تمہارا بیت بہت شکریہ کہ تم نے میرے کہنے پر میری بیٹی کو مجھ سے ملوایا۔۔۔ وہ مسکراتے اسکی بات پر متفق ہوتے اسکے پاس بیٹھے کہ صنم پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی اپنے ماموں تو کبھی صالح کو دیکھ رہی تھی جو اب احسان کا شکریہ کہتے گردن اکتائے بیٹھا تھا۔۔۔”
” میں اسے لے جا رہا ہوں اور اسکے رہنے کے لیے ایک مخفوظ مقام بھی تلاش لیا ہے میں نے ، تمہیں جو چاہیے ہو گا وہ میں بعد میں تمہاری خواہش سے بھی بڑھ کر دوں گا۔۔۔ اپنے وعدے کے مطابق وہ اسے خود سے ہی باور کراتے بولے اور اٹھتے صنم کا ہاتھ تھاما ، چلو میری بچی۔۔۔ میں تمہیں اس مکار ، فریبی دنیا سے چھپاتے کہیں دور لے جاؤں گا۔۔۔ “
” صنم کے ماما جی ۔۔۔” وہ بڑھتے کہ اچانک سے پیچھے سے آتی صالح کی آواز پر وہ ٹھٹھکتے ہوئے رکے ، اور انجان نظروں سے اسے دیکھنے لگے۔۔۔” گویا کہ ابھی ان کے پاس وقت بالکل ناں تھا کہ وہ اس سے بحث کرتے یا پھر کوئی سوال ہی پوچھتے کیونکہ ابھی وہ صنم کو چھپانا چاہتے تھے ، کسی مخفوظ مقام پر، کیونکہ کل ہی دو آدمی انکے ہوسپٹل میں آئے تھے اور انکے سئنیر ڈاکٹر کو رشوت دیتے صنم کی تصویر دکھائی کہ اس لڑکی کے بارے میں معلومات چاہیے ،
یہ تو شکر تھا کہ اس ڈاکٹر نے معاملے کو سمجھتے فوراً سے انکار کر دیا اور انہیں زبردستی ہوسپٹل سے نکالتے ہی وہ فورا سے عا کے پاس آیا تھا اور انہیں معاملے کی سنگینی سے واقف کیا ، اور وہ پریشانی میں کچھ بھی ناسوجھتے صالح سے ہی مدد مانگ چکے تھے کہ وہ جانتے تھے کہ ایسا کام صرف وہی کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔”۔
منبیہ بیگم کو بتانے کا وہ رزک نہیں لینا چاہتے تھے کہ کہیں وہ غصے میں خود ہی ان سے پنگا ناں لے لے۔۔۔”
” میں نے آپ سے کچھ کہا تھا کال پر۔۔۔ وہ چلتا سگریٹ کا گہرا کش لگاتے دھواں نکل کی جانب جھکتے اسکے چہرے پر چھوڑتے ہوئے بولا کہ وہ کچھ فڑبڑائے اسکی غیر متوقع بات پر انکا دماغ اچانک سے سن پڑا تھا کہ وہ کونسی سی فرمائش کرنے والا تھا۔۔”
” دیکھو بیٹا ، میں جانتا ہوں کہ تم میری رضامندی چاہتے ہو ، اور میں نے تم سے کہا تھا کہ اگر تمہارا دل بدل گیا تو جو مرضی مانگ لینا ، مگر میں کہہ رہا ہوں کہ ابھی مجھے جانے دو ، میرا جانا ضروری ہے میں واپس آ کر تم سے بات کروں گا۔۔۔”
” وہ جانتے تھے کہ اگر وہ ضد پر اڑا رہا تو اسے منانا بیت مشکل ہے اسی لیے آرام سے مسکراتے اس کا کندھا تھپکتے ہوئے بولے۔۔۔”
” نہیں انکل اس بار میرا دل کسی اور چیز پر آیا ہے۔۔۔ وہ صالح کے وجود کو اپنی گہری نگاہوں کے حصار میں رکھتے مخنی خیزی سے بولا کہ عاصم سنتے ایک دم سے بھڑک اٹھے۔۔۔
” کیا کہہ رہے ہو تم ، صالح خان زبان کو لگام دو۔۔۔۔ وہ غصے سے صنم کو اپنے پیچھے کرتے اسکے سامنے آتے ہوئے بولا کہ وہ ہنسا انکی بے وقوفی پر۔۔۔۔”
” آپ کی سادہ سی زبان میں کہوں تو پسند آ گئی کے آپکی بھانجی اب یہ صالح خان کی ہے اور صالح اس سے شادی کرچکا ہے۔۔۔”
ٹھنڈے ٹھار لہجے میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے وہ انکی آنکھوں میں دیکھتے مسکرایا کہ وہ سر جھٹکتے مٹھیاں بھینچ گئے ۔۔۔”
” یہ ناممکن ہے۔۔۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔ چلو میری بچی۔۔۔ وہ اسے دوبدو جواب دیتے اسکے کپکپاتے ہاتھوں کو تھامتے بولے جبکہ وہ تو اس کی فرمائش سنتے ہی مرنے والی ہوئی تھی کجا کہ اس سے ۔۔۔”
” یہاں سے اب ہم نہیں صرف آپ جائیں گے صنم۔ کے ماما جی ۔۔۔ آرام دہ انداز میں وہ کرسی پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھتے اپنے ہاتھوں کو اوپر کرتے انگڑائی لیتے بولا تھا کہ وہ سنی ان سنی کرتے باہر کو بڑھے۔۔۔
راستہ چھوڑو میرا۔۔۔ وہ بڑھتے باہر کو جاتے کہ دروازے کر کھڑے گارڈز نے گن نکالتے ان کے سر پر تانی۔۔۔ صنم نے ڈرتے اپنے سامنے ان ہتھیاروں کو دیکھتے انکے بازوؤں میں منہ چھپایا ۔۔۔۔”
سوری سر۔۔۔ آپ تب تک یہاں سے نہیں جا سکتے جب تک سر نہیں چاہے گے۔۔۔۔ ایک گارڈ نے نہایت ادب سے کہا تھا کہ وہ ضبط۔ سے سرخ ہوتی آنکھوں کے ساتھ بمشکل سے گہرا سانس لیتے خود کو نارمل کرنے لگے۔۔
ادھر ۔۔۔ سسر جی ادھر آئیے ، وہاں کیا کر رہیں ہیں۔۔ وہ مسکراتے سیٹی بجاتا انہیں اپنی جانب متوجہ کرتے پیار سے بولا کہ وہ سنتے نفی میں سر ہلاتے دوبارہ سے صنم کو لیتے اسکے سامنے گئے۔۔۔۔”
کیا چاہتے ہو آخر کار تم۔۔۔۔” وہ غصے سے ضبط کھوتے اس پر دھاڑ اٹھے تھے۔۔ جبکہ وہ بنا برا منائے یونہی لیٹا رہا۔۔۔”
آپ کی بیٹی سے شادی نکاح تو پہلے ہی کر چکاہوں ۔۔۔۔ ببل میں میں ڈالتے وہ نارمل سے انداز میں بولتے آنہیں سر تا پاؤں سلگا گیا۔۔۔۔”
” جانتے بھی اسکے بارے میں کچھ جو شادی کرنا چاہتے ہو ، اسکا کل ، اسکا ماضی کچھ معلوم نہیں تمہیں۔۔۔۔۔”
مجھے پرواہ نہیں۔۔۔ اسی عام سے انداز میں جواب دیا تھا مگر نظریں ابھی بھی اس نازک سے وجود پر اٹکی ہوئیں تھیں۔۔۔۔”
چھ ماہ یہ ، چھ ماہ تک یہ گھر سے باہر رہی ہے اغوا کیا تھا اسے گنڈوں نےایک کوٹھےپر وقت گزار کے آئی ہے ، پوری دنیا اسے بدچلن ، کہتی ہے اسکی ماں کو بھی وہ لوگ مار چکے تھے اور اسکی ماں کی موت کی زمہ دار بھی یہ مانی جاتی ہے۔۔۔ کیا اب بھی کرو گے اس سے شادی۔۔۔۔؟”!!!
کیا الفاظ تھے ، یا وخشت۔۔ وہ بولتے اپنے دل پر جبر کر رہے تھے ، انہیں تو یقین تھا اپنی معصوم بچی پر، مگر یہ دنیا ، یہ دنیا کیونکر یقین کرتی انکی کسی بات پر۔۔۔ وہ جانتے تھے کہ یہ سب کچھ سنتے ہی وہ خود سے انکار کر دے گا۔۔ “
” جبکہ وہ ہاتھ کو منہ پر رکھتے ، پھر سے رو رہی تھی۔۔ اپنی کم مائیگی اپنی قسمت ، اپنے نصیبوں کے لکھے پر۔۔۔۔۔”
” اگر میں کہوں کہ یہ سب مجھے پہلے سے معلوم ہے اور اس سے بڑھ کا جانتا ہوں میں سب کچھ ، اور پھر بھی اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں تو۔۔۔۔۔ کیا آپ اپنے ہاتھوں سے اسے میرے نام کریں گے۔۔۔”
نہایت آرام دہ سے انداز میں کہے اسکے الفاظ وہ سنتے ہی حیرت زدہ سے اسے گھورنے لگے، ‘
حیران ناں ہوں ، مجھے میرے سوال کا جواب چاہیے۔۔ وہ مسکراتے انکی حیرت کو دیکھ۔ جھکتے رازداری سے بولا کہ وہ لب بھینجتے سوچ میں پڑ گئے۔۔ دراصل اس آفت وہ خود شش و پنج میں مبتلا تھے کہ آخر اسے سب کچھ کیسے معلوم اور اگر معلوم بھی تھا تو پھر بھی وہ کیونکر نمل سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔”
” اگر میں مان بھی جاؤں ، تو تمہارا خاندان تمہیں اس کی اجازت نہیں دے گا،۔ وہ ہاتھ پشت پر باندھے کچھ سوچتے ہوئے بولے کہ وہ سر جھٹکتے مسکرایا۔
آپ کو لگتا ہے کہ وہ سو کالڈ نام نہاد خاندان والے مجھے میرے ارادوں سے روک سکتے ہیں ۔۔ “
وہ مسکراتا انکی بات کا مزاق اڑاتے ہوئے بولا کہ عاصم چونکے اسکے کہنے پر۔۔۔ مگر پھر سے کچھ سوچتے ہوئے بولے ۔۔۔۔”
“اور تمہیں یہ کیوں لگتا ہے کہ تمہارے کہنے پر میں یقین کر لوں گا کہ تم واقعی میں میری بیٹی کو پسند کرنے لگے ہو۔۔۔
انکے کہنے پر وہ ایبرو اٹھاتے ہوئے انہیں داد دینے والے انداز میں دیکھنے لگا وہ واقعی ان کے اس سوال سے متاثر ہوا تھا۔۔”
اور اب انکے کہنے پر وہ زرا سا گردن کو ترچھا کرتے انکے پیچھے دبکی چھپی ہوئی نمل کو دیکھتے مسکرایا۔۔۔۔”
” آپ کو اپنی بیٹی کی خفاظت کرنی ہے رائٹ۔۔۔ اسکے لیے کوئی ابھی سی جگہ تو آپ نے ڈھونڈ ہی کی ہو گی مگر اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ وہ وہاں پر مخفوظ ہو گی۔۔۔ مگر میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں ، اگر آپ اسے خود سے میرے نکاح میں دینے کو رضامند ہیں تو اس پر کسی کا برا سایہ بھی ناں پڑنے دوں گا۔۔ اور آپ تو جانتے ہی ہوں گے کہ میں اپنے قول کا کتنا پکا ہوں۔۔۔”
باقی اگر آپ نہیں بھی چاہتے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں کیونکہ نکاح تو ہوچکابہے ا چاہے آپ کی رضامندی شامل ہو یا ناں مگر آج یہ نکاح میں دوبارہ کرنا. چاہتا ہوں ہر صورت ہ باقی آپ مجھ سے زیادہ سمجھدار ہیں سسر جی۔۔۔۔ انکے پاس جاتے وہ آرام سے انہیں سمجھانے کے ساتھ وارننگ بھی دیتے ہوئے بولتا آخر میں انکا کندھا تھپکتے ہوئے سامنے کی جانب بڑھا تھا ، جہاں سامنے ہی بشیر اپنے ساتھ ایک مولوی کو گھیسٹتے کا رہا تھا جو کہ دیکھنے میں درمیانہ عمر کا حاصل شریف دکھ رہا تھا۔۔۔۔”
ارے آئیے مولوی صاحب کب سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں میں ، اتنی دیر لگاتے ہیں بھلا۔۔ مسکراتے اپنی گن کو جیب سے نکالتے وہ ہاتھ میں پکڑتے ہاتھ مولوی کے کندھے پر رکھ چکا تھا کہ مولوی کے دیکھتے ہی سارے تنے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے اور وہ پل بھر میں اپنی شرافت میں آیا ۔۔۔۔۔”
جی جی آ گگ گیا میں بب بتائیں کک کس کا نکاح پڑھوانا ہے۔۔۔” ” کپکپاتے ہوئے کہتے وہ ہاتھ سے اپنے کندھے پر رکھے صالح کے ہاتھ کو نیچے کرتے بولا کہ بشیر اس مولوی کی عقل ٹھکانے آنے پر فل بتیسی کی نمائش کرنے لگا، کتنی مشکل سے وہ اسے پکڑ کر لایا تھا جو جانے اس اللہ کے کون کون سے عذابوں سے روشناس کراتے اسکے ساتھ مجبوراً آیا تھا۔۔۔۔۔”
” یہ پرانی فلموں کے ہیرو کی طرح بتیسی دکھانا بند کر اور جا کر چھوراے لے کر ، ارے بھائی مولوی صاحب کو بھی تو کچھ کھلانا ہے اور تم سب کو بھی تو اپنے نکاح کے چھوراے کھلاؤں گا۔۔۔ چل مولوی آؤ بیٹھو اور نکاح شروع کرو۔۔۔۔۔”
وہ ہاتھ سے مولوی کو اشارہ کرتے بیٹھنے کا بولنے لگا کو کہ فوراً سے تابعداری سے بیٹھتے آگے پیچھے دیکھ رہا تھا۔۔۔”
” بیٹا بیٹا صنم ۔۔۔۔۔” اسے بھاگتے ہوئے دوبارہ سے اندر جاتا دیکھ وہ بے چین ہوتے اسکے پیچھے بھاگے۔۔۔”
توں کیا دیکھ رہا یے۔۔ آنکھیں نیچی کر اور کلمہ ٹھیک سے پڑھائیو۔۔۔۔۔۔” اسے اندر کی جانب گھورتا پاتے وہ غصے سے بولتے اسکے سامنے بیٹھتے ٹانگیں ۔یز پر پھیلاتے ہوئے بولا کہ وہ جی جی کرتا رہ گیا۔۔۔۔”
سس سائیں چھوراے تو میں لے آیا مگر گواہ وہ پریشانی سے اسکے کان میں سرگوشی کرتے بولا کہ صایام ایک نظر اسکے ہاتھ میں پکڑے چھوروں کے تھا ل کو دیکھتے اسے گھورتے دیکھنے لگا۔۔۔”
” یہ جو اتنے ڈارون کو پالا ہے اسی لیے تو رکھا ہے کہ
کام آ سکیں۔۔۔ بکا ان سب کو یہ رہے میرے باراتی اور میرے گواہان۔۔۔ سامنے کھڑے اپنے گارڑز کی نفری کو دیکھ وہ پہلی بار محبت سے بولا تھا کہ وہ سب ڈرتے اسکی اونچی آواز پر اتنی محبت برسانے ہر گھبراتے ایک دوسرے کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔
۔”
” آ جاؤ سارے۔۔۔۔۔۔”
وہ ہاتھ سے انہیں اشارہ کرتے بولا کہ وہ سب دبے دبے قدموں سے گن پکڑتے ہی اسکی جانب آئے تھے جبکہ مولوی ایک ساتھ ان سب کو اپنی جانب آتا دیکھ ، فل ہی دل میں اللہ کو یاد کر رہا تھا۔۔”
” صنم میری جان ، میری بات تو سنو۔۔۔۔ دیکھو صالح ایک اچھا انسان ہے ، وہ خوش رکھے گا تمہیں،
عاصم اسے بیڈ پر لیٹا روتا دیکھ اسکے پاس بیٹھتے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے تھے وہ جانتے تھے اسکی حالت مگر کبھی انہوں نے خود ہی تو خواہش کی تھی کہ کوئی انکی بیٹی جسیی بھانجی کا ہاتھ تھام لے اور اب جب وہ تھام رہا تھا تو وہ کیونکر مکمل اعتماد کرنے کے بعد بھی یہ نا چاہتے کہ انکی صنم ہنسی خوشی رہ پائے۔۔۔”
وہ روتے سنتی آٹھ بیٹھی تھی۔۔۔
دیکھو بیٹا ، اگر وہ اتنا ہی بتا ہوتا تو تم کل رات سے اسکے گھر پر ہو اور اسکے ساتھ ، تو سوچو وہ اگر برا ہوتا تو جو چاہے کر سکتا تھا مگر اس نے تمہاری خفاظت کی ، میرے ایک بار کہنے پر وہ اپنی جان حطرے میں ڈالتا تمہیں لے کر آیا تھا۔۔
اس کے سر پر ہاتھ رکھتے وہ اسے سینے سے لگاتے سمجھانے لگے ، مگر صنم کا دماغ تو اس ایک ہی بات ہر اٹکا تھا کہ وہ رات سے یہاں اسکے گھر ، اسکے ساتھ تھی۔۔۔ مگر وہ کیسے آئی تھی یہاں اور کیا کچھ ہوا تھا اور کیا اس پر پھر سے بہتان لگائے جائیں گے۔۔۔ وہ سوچتے لب بیھنج گئی۔۔ آنکھیں تو جیسے خشک ہونا ہی بھول چکی تھیں ۔۔۔”
” اپنے بابا مانتی ہو نا تو بابا کی بات مان لو ، مجھے یقین ہے کہ وہ تمہارا خیال رکھے گا اور اس وقت صرف وہی ہے جو تمہیں اس دنیا سے بچا سکتا ہے۔۔۔ ڈھکے چھپے الفاظ میں وہ اسے بتاتے ہونٹ اسکے سر پر رکھ گئے۔۔ وہ کیسے اسے کھل کر بتاتے کہ وہ دوبارہ سے کسی کی نظر میں آ چکی ہے، کیسے اسے دوبارہ سے اسی دلدل میں جانتے بوجھتے بھی بھیجتے ۔۔۔۔ اسی لیے انہوں نے صالح خان ہ کے حق میں فیصلہ کیا تھا ۔۔۔ اور بنا اسکی سنے وہ کہتے ایسے ہی اٹھتے باہر کو گئے تھے جبکہ کہ پیچھے وہ اپنی قسمت پر حیران سی اس اچانک سے آئے نئے طوفان اپنی زندگی کہ اس موڑ پر ششدر سی تھی۔۔۔۔”
مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔۔ انکی آواز کر باہر ایک دم سے سناٹا چھایا تھا۔۔ سب نے مڑتے انکی جانب دیکھا مگر صالح خانب کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک ایک الگ ہی منظر تھا۔۔۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا اپنی منزل کو نزدیک سے دیکھتے۔۔۔”
*___________________________________________*
” سر ۔۔۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ آپکو نہیں جانتی۔۔۔”!!!
” اوکے آپ کانشکریہ آپ جائیں۔۔۔۔ وہ سنتے ہی فورا سے لب بھینجتے بولا کہ چپڑاسی جی اچھا کہتا وہاں سے نکلا۔۔۔’
” جبکہ وہ جبڑے بھینجتے ، ایک دم سے سپاٹ چہرہ ، لیے سرخ کالی آنکھوں پر سن گلاسز لگائے چلتا ہوا ، یونی کے گرلز پورشن میں داخل ہوا تھا۔۔۔
” کئییوں نے مڑتے اس اکڑو ، سے تلسم برپا کرتی پرسنٹالی کے مالی نے ابتہاج گردیزی کو مڑتے دیکھا تھا ، جبکہ کئی اسے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ جو کہ ان سب سے کو اگنور کرتے بڑھتے سیڑھیاں چڑھتے اوپر کی جانب گیا تھا کہ پیچھے سے آتے چپڑاسی کی آواز نے اسے روکا ۔۔۔۔
وہ مڑتے قدم روکتا اسکی جانب دیکھنے لگا جو کہ اسکے دیکھنے پر دو سیڑھیوں کے فاصلے پر کھڑا اب عالی کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
سس سر وہ بڑے صاحب نے کہا ہے کہ آپ ان سے مل لیں، وہ آرام سے بولتے اسکو اترنے کی جگہ دینے لگا ،
جب وقت کو گا تب مل لوں گا ابھی ایمرجنسی ہے بتا دینا ۔ وہ سن گلاسز لگاتے شان بے نیازی سے کہتا دوبارہ سے اوپر بڑھ گیا۔ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ اب اس پرنسپل کو کیا کام ہو گا اس سے ، مگر اس وقت اس کا موڈ نہیں تھا کہ وہ اس فضول سے آدمی کے ساتھ بحث کرتا۔۔۔۔۔” اسی لیے وہ جس کام کو آیا تھا پہلے وہ سر انجام دینا تھا۔۔۔”
اکسکیوز می۔۔۔۔ کیا یہاں پر مس ماہا ہیں ۔۔ انہیں بھیجیں مجھے بات کرنی ہے ۔۔۔”
دروازہ کھولتے وہ سامنے کھڑے ہینڈسم سے ینگ سر کو دیکھ پہلے تو غصے سے مٹھیاں بھینچتے خود کو پرسکون کرنے لگا ، پھر ایک سرد آہ خارج کرتے وہ محاطب ہوا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی بدمزگی کو اسینلیے دروازے پر ہی کھڑا رہنا مناسب سمجھا۔۔۔۔”
اسکی سرد بھاری مردانہ آواز کو سنتے ہی وہ ہاتھ میں پکڑے پین پر گرفت مضبوط کر گئی ۔ جبکہ سامنے کھڑے ابرہیم (سر) کا دھیان اب اس شحض پر سے ہوتا ماہا کی جانب تھا جسے وہ عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
” ابتہاج ایک میڈیا پرسن تھا جسے وہاں موجود ہر شخص اچھے سے جانتا تھا مگر وہ چونکا اس لیے کیونکہ جتنا اسے معلوم تھا ماہا ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی تو پھر ان کا آپس میں کیا ری ریلیشن ہو سکتا ہے۔۔”ماہا اسی کے کہنےطپر کالج آئی تھی پر اس نے ابتہاج کے سامنے شرط رکھی کہ وہ کسی کو بھی اپنا رشتہ نہیں بتائیں گے
مس ماہابکیا آپ جانتی ہیں انہیں۔۔ ایک نظر دروازے کے پاس کھڑے ابتہاج کو دیکھتے وہ ماہا۔سے محاطب ہوا تھا جو سب کی توجہ خود پر پاتے پک بھر میں شرمندہ سی سرخ ہوتے اٹھی تھی۔۔۔
نن نو سر میں نہیں جانتی۔۔۔ ایک نظر اس کے مسکراتے ہوئے چہرے پر ڈالتے وہ سر جھکائے غصے سے بولی ، جبکہ ابتہاج کا دھیان اسکی سانولی غصے سے تپی رنگت پر تھا۔۔۔۔”
” دیکھیں وہ ایکو نہیں جانتی تو آپ پلیز جائیں ابھی لیکچر کا ٹائم ہے اگر پھر بھی آپ کو پرسنل بات کرنی ہے تو انکے گھر پر جائیے گا۔۔۔ “
ابرہیم اسکے بھیجنے جبڑوں اور تنے اعصاب کو دیکھتا تحمل سے بولا تھا کہ وہ سنتا ایک نظر اس پر ڈالتے سن گلاسز اتارتا کوٹ کے سامنے لگا گیا۔۔۔۔۔”
” رشتہ تو ہے ہمارا مگر وہ کیا ہے ناں کہ شاید اتنا مضبوط نہیں اسی لیے یہ سب کو بتانے سے ڈرتی ہیں۔۔ میں شوہر ہوں انکا ، نام تو سنا ہی ہو گا آپ سب نے۔۔۔ اپنے تعارف پر اٹھتی ہلکی ہلکی سی سرگوشیوں کو سنتے وہ سب سے مخاطب ہوا تھا ،کئی لڑکیوں نے غصے۔ تنفر سے ماہابکو دیکھا تو کئی حسرت بھری آہ بھرتی رہ گئیں۔۔۔”
اور آج ہم اپنی شادی کی شاپنگ پر جا رہے ہیں۔ وہ کیا ہے ناں کہ میرے ہی فورس کرنے پر اس نے ایڈمیشن لیا ہے ورنہ یہ تو انکار کر چکی تھی اور اب ویسے بھی شادی کے بعد ز گھر اور بچوں کو ہی سنبھالنا کے تو ابھی کیوں نہیں ، اور میری ہونے والی مسز ناراض ہیں کیونکہ میں نے رات کو ک جلدی کاٹ دی تھی۔۔ اب میرا ارادہ شاپنگ کے بعد اسے منانے کا بھی ہے۔۔ تو بائے بائے ایوری ون۔۔ چلیں جان۔۔۔۔ وہ تفصیل سے سب کو بتاتے عشال کے ہاتھ کو تھامتے اپنے ساتھ گھیسٹتے لے جانے لگا ،
جبکہ وہ تو اسکی بے تکی باتوں کو سنتے پورے کللاس اور سر کے سامنے شرمندہ ہی ہوئی تھی اوپر سے اس بددماغ آدمی کے یوں کھینچتے اپنے ساتھ کے جانے پر حاصا غصہ بھی ہوئی تھی ۔۔۔’
چھوڑیں میرا ہاتھ مسٹر ابتہاج ۔۔۔۔۔ وہ غصے سے اپنے ہاتھ پر اسکی جان لیوا سخت گرفت پر مچلتے اسے توڑنے کی ناکام سی کوشش کرنے لگی ۔۔ مگر وہ بنا اسکی باتوں کا اسکی حرکتوں کا اثر لیے اسے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔۔”
اگر ہلی ناں یہاں سے تو دو منٹ میں دماغ ٹھکانے لگا دوں گا۔۔۔ ڈور کھولتے ہی اسے اندر پٹکھتے وہ سرد غصے بھری آواز میں بولا تھا کہ وہ اسکی غراہٹ پر دبکتی سیٹ کے ساتھ جا لگی۔۔۔۔
” جب میں بلایا تھا تو ملنے سے انکار کیا۔۔۔ اسے پکڑتے رخ اپنی جانب کرتے وہ اس کی بھیگی لرزتی پلکوں کو دیکھتے وہ آرام سے بولا تھا۔۔ جبکہ وہ بنا کوئی جواب دیے یونہی بیٹھی اب آہستہ آہستہ سے رونے لگی تھی۔۔”
ماہا ۔۔۔۔ میں کچھ پوچھ رہا ہوں۔۔ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اسکی تھوڑی کے نیچے ٹکاتے وہ ہلکا سا اسکے چہرے کو اوپر کرتے بغور دیکھنے لگا۔۔۔۔”
بڑی بڑی سی سرمئی آنکھیں، درمیانی سی چھوٹی ناک ، باریک خوبصورت سے ہونٹ ، جس پر متصادم سانولی رنگت اسکے چہرے کی کشش کو اور بڑھا دیتی تھی مگر وہ تو اسکی تھوڑی میں پڑتے اسکے گڑھے پر فدا تھا جو اسکے گولائی سے تراشے گئے خوبصورت سے چہرے پہ اور بھی خوبصورت دکھتا تھا۔۔۔۔”
رونا بند کرو، ورنہ اگر میں نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو تمہی کو برا لگے گا۔۔۔”
مخنی خیزی سے اپنے پرتپش جھلسا دینے والی نگاہیں اسکے پورے چہرے پر دوڑاتے وہ گھمبیر لہجے میں بولتے اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ سی دوڑا گیا کہ وہ فوراً سے اپنے آنسو صاف کر گئی۔۔۔”
کیوں آئے ہو، وہ رندھی آواز میں بولتے اسکے وجیہہ چہرے کو دیکھنے لگی۔۔۔
بھول گئی خود ہی تو بلایا تھا۔۔ لب دانتوں تلے دباتے وہ مسکراتے اسے چھیڑتے ہوئے بولا ، انگوٹھی انگوٹھی لینے کو آیا ہوں، اسکی پھیلی آنکھوں دیکھتے وہ قدرے جھکتا اسکی جانب ہوتے
ابتہاج ماہا کے لیے انگوٹھی لایا تو اس نے جھجھک کر منع کردیا یہی بات ابتہاج نے پکڑلی تھی اور ماہا کے پیچھے چلا آیاتھا
رازدارانہ بولا کہ وہ حیرت و بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔”
” یہ لو۔۔۔ اسکی مسکراتی آنکھوں میں دیکھ وہ فوراً سے ہاتھ بڑھاتے ایک نظر اپنی ہاتھ میں دھمکتی اس نازک سی ڈائمنڈ رنگ کو دیکھتے اتارنے لگی . کہ وہ سر جھٹک گیا اس کی بے وقوفی پر۔۔۔ کیوں ہر بار یہ بے وقوفی کرتی ہو۔ جب جانتی ہو کہ تمہارے یہ ننھے ننھے مشنز۔ بھی تمہیں مجھ سے بچا نہیں پائیں گے۔۔۔۔ سو ریلکس رہو اور اگرررررر۔۔۔۔۔ یہ رنگ تمہارے ہاتھ سے اتری تو آئی سویر ، بہت براہوگا
‘عجیب سرسراتے سے لہجے میں وہ اسکے ہاتھ کو پکڑتے رنگ پر اپنی انگلی گھماتے ہوئے مخنی خیزی سے بولا تھا کہ وہ سنتے آنکھیں حیرت سے پھیلائے منہ کھول گئی۔۔۔
کیا کوئی شک ہے ، :” اس کی حددرجہ پھیلی آنکھوں میں دیکھتے وہ کچھ جانچتے ہوئے لہجے میں بولا کہ وہ ہاتھ چھڑاتے گردن نفی میں ہلا گئی۔۔۔۔”
کک کہاں جج کا رہے ہیں ہم۔۔۔۔ اچانک سے اسے گاڑی سٹارٹ کرتے دیکھ وہ کپکپاتے ہوئے لہجے میں بولی تھی سارا غصہ ، تو اسے سامنے دیکھ پل بھر میں جھاگ کی طرح بیٹھا تھا اور اب اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ سچ میں ہی تو اسے مارنے نہیں لے جا رہا
سرپرائز ہے جان۔۔۔۔۔۔ اور اس کے بعد ہم گھر جائیں گے اور آج میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتا ہوں ۔۔ سو پلیز اب یہ پڑھائی کا بہانہ بنانا بند کرو ، کیونکہ میں اچھے سے جانتا ہوں یہ سراسر مجھ سے بچنے کی پلینگ ہے ، مگر اب میں اور ویٹ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔ ‘”
تو خود کو تیار کر لو ۔۔۔ اسکی گود میں رکھے ہاتھ کو تھامتے وہ ہونٹوں سے چھوتے مسکراتے ہوئے سے لہجے میں بولا کہ وہ ہاتھ ایک دم سے پیچھے کرتے، اسکی نظروں کا رخ خود کر پاتے دوپٹہ ٹھیک کرتے پہلو بدل کر رہ گئی۔۔
