Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 01)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

یہ منظر شاہ ہاوس کا ہے شاہ ہاوس رنگ برنگی برقی قمقموں سے آراستہ تھا،مخروطی چھت کو ان ننھی منی لائیٹس سے اس طرح آراستہ کیا گیا تھا کہ لگ رہا تھا روشنیوں کا کوئی آبشار نیچے تک بہہ رہا ہو باہر موجود ناریل کے بڑے سے درخت پر بھی پتوں کے کے بیچ رنگ برنگے چھوٹے چھوٹے بلب جگمگاتے پھول لگ رہے تھے پورا شاہ ہاوس اس قدر جگر جگر کر رہا تھا کہ پورا گاوں جگما اٹھا تھا ،راہدرای میں بھی روشنی کا اچھا اور خوبصورت انتظام کیا گیا تھا

مووی والے بھی اپنی لائیٹس سے رات کو دن بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے تھے ،ہلکی ہلکی خنک ہوا میں باربی کیو کی اشتہا انگیز مہک ہر سو پھیل رہی تھی ،کہیں گرما گرم کچوریوں کی خوشبو اٹھ رہی تھی تو کہیں مٹھائیوں کی سوندھی سوندھی خوشبو مٹھاس بکھیر رہی تھی اس قدر پر لطف انتظام آج دلاور شاہ کی چھوٹی بیٹی صنم کی بارت کی خوشی میں کیا گیا تھا بارات آنے میں ابھی تھوڑا ٹائم تھا لیکن ہلچل روج پر تھی ایک افراتفری تھی جو ختم ہونے کا نام ہی نہِیں لے رہی تھی ،مہمان بھی آنا شروع ہو گئے تھے ماحول میں ہنسی مزاق اور قہقہوں کا سنگم فضا کو مزید خوشگوار بنا رہا تھا

یہ سارا اہتنام تو آج کل ہال اور میرج لان میں کیا جاتا ہے لیکن دلاورشاہ کی لاڈلی بیٹی کی شادی تھی وہ چاہتے تھے کہ صنم ان کے گھر سے رخصت ہو تاکہ رات گئے تک رخصتی کے بعد ان کے دل میں ویرانی نا آئے صنم ان کے جگر کا ٹکڑا تو تھی ہی لیکن ان کی لاج دلاری بھی تھی اس لیے سارا انتظام شاہ ہاوس میں ہی کر لیا گیا تھا تین دن پہلے مایوں کی تقریب بھی اپنے انجام کا پہنچی تھی تب سے اب تک شاہ ہاوس میں رونق ہی رونق تھی بیرون شہر سے آئے مہمان شاہ ہاوس کے خاص کمروں میں ہی قیام پذیر تھے رنگ برنگے آنچل سے حویلی دمک اٹھی تھی لیکن ایک بات تھی تمام خواتین کے لباس انتہائی پر کشش اور با حیا تھے سب عورتوں نے خوبصورتی سے اپنے سروں پر تاج کی طرح دوپٹے لیے ہوئے تھے ویسے تو خواتین اور مرد وں کے لیے الگ انتظام کیا گیا تھا خواتین زنان خانے میں تھیں جبکہ مرد حضرات کی بیٹھک لگی ہوئی تھی

باوردی بیرے ان سب کو ان کے پسندیدہ مشروب سرو کر رہے تھے کسی شے کی کمی نہ تھی ہر شے کی فراوانی تھی

بس ایک بے اطمینانی تھی تو ماہ کے دل میں جس نے ذہن وروح کو عفریت کا شکار کر دیا تھا ہر طریقے سے آراستہ اور پیراستہ ہو کر بھی بہت مضمحل و دل گرفتہ بیٹھی تھیں بظاہر دنیا والوں کو دکھانے کے لیے ہنس بول بھی رہی تھی اور موقع کی مناسبت سے تیار بھی ہو گئی تھی بار بار نظریں صنم کے کمرے کی طرف جارہیں تھیں یہ ساری رونقیں اور قہقہے بس ایک خدشے کا شکار نظر آرہے تھے کچھ یہی حال ان کی ماں منیبہ بیگم کا بھی تھا

وہ بھی بظاہر مہمانوں سے خوشدلی سے مل رہیں تھیں مگر جو دل میں دھڑکا لگا بیٹھا تھا اسے تو اپنے شوہر سے بھی نہیں کہہ سکتی تھیں کہ فوراً ان کی طرف سے سوتیلے پن کا لقب ملتا

منیبہ دلاور صاحب کی پہلی بیوی اور ماہا ان کی بیٹی تھی ایک سکون کے عالم میں شب وروز گزر رہے تھے دلاور صاحب کی سخت طبیعت کے باوجود منیبہ کے مزاج کا ٹھراو زندگی کو باآسانی گزارنے میں سہل کر گیا تھا ماہا اکلوتی اولاد تھی اس کے بعد کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے وہ دوبارہ ماں بننے کے قابل نہ رہیں لیکن دلاور صاحب کی بیٹے کی خواہش نے اور ان کے رنگین مزاجی نے انہیں کسی باہر کی عورت کاایسا اسیر بنایا کہ وہ انہیں بیاہ کر لے آئے منیبہ بے بسی سے چوخ و چنچل سی لڑکی کو فاتحانہ انداز میں مسکراتی دیکھتی گئیں جو ایک انداز دلبرانہ سے دلاور شاہ کا بازو تھامے اپنے آگے ایک مجبور عورت اور دوسالہ بچی کو دیکھ رہی تھی

یہ دیواروں سے سر ٹکرانے کا ٹائم نہیں تھا سو بڑے حوصلے اور صبر کے ساتھ زندگی کے اس فیصلے کو قبول کیا ،کبھی جو شکوہ کیا تو دلاور شاہ کے اٹل لہجے نے باور کرا دیا کہ کچھ بھی بولنا بے سود ہے

” تمہیں برابر کا حق ملے گا کوئی کوتاہی ہوئی تب واویلا کرنا بس کائنات سے دوبدو کوئی سوال جواب نہ کرنا “

اب اس سے آگے وہ کہہ بھی کیا سکتی تھیں جب خوشبووں میں بسی کائنات ان کے سامنے بیٹھے دلاور صاحب کے ساتھ بلند وبانگ قہقہے لگا رہی ہوتی اور اس کا انداز اور وضع قطع ہی کچھ الگ تھا مرد کو اپنی مٹھی میں کر لینے والا سو منیبہ بے بس منچھی کی طرح بس پر ہی پھڑ پھڑا کر رہ گئیں

دلاورشاہ کو ہوش تو تب آیا جب دو ماہ کی بچی کو ان کے حوالے کرکے دوٹوک جواب دے کر رخصتی کا پروانہ طلب کر رہیں تھیں

“دانش میری پہلی محبت تھا کچھ وجوہات کی بنا پر مجھ سے شادی نہ کر سکا لیکن اب وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے برائے مہربانی مجھے اس نام نہاد رشتے سےآزاد کریں اور مجھے آپ کی اولاد سے بھی کوئی سروکا ر نہیں ہے اسے بھی اپنے پاس رکھیں مجھے میری غلطی پر معاف کیجیے گا “

ننھی بچی کو ان کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے غلطی کا لفظ بڑی سفاکی سے ادا کیا جس کی شدت کا اندازہ دلاور شاہ کی سرخ آنکھوں سے ہورہا تھا جن میں شکست تھی ،کرب تھا احساس ندامت تھی تو کہیں ایک شرمسار قصہ اپنے تمام باب کھولے پڑا تھا

“یہ بچی جوان ہو گئی تو اسے کس طرح اس کی ماں کی کہانی سناوں گا کہ کیوں اسے چھوڑ گئی ؟ اور کہاں گئی ؟بے وفا عورت “

جاتے وقت بس یہی ایک سوال انہوں نے خون فشاں ہوتی آنکھوں سے کیا تھا

“یہ تمہاری اولاد ہے ،تمہارا خون ہے تم اس کی پرورش کے زمہ دار ہو اگر تم وفادار ہوتے تو منیبہ اور ماہا سے بھی وفا کرتے “وہ تسخر اڑانے لگی

اب دیکھنا یہی ہے اس بچی کے ساتھ کتنی وفا کرتے ہو زرا سی بھی اس سے محبت ہوگی نا تو اسے احساس ہی نہیں دلواو گے کہ اس کی ماں کوئی اور تھی اور نہ ہی ماہا اور اس کے بیچ کوئی فرق رکھو گے “

“غدار عورت !اولاد کو کبھی یوں بھی کوئی چھوڑ کر جاتا ہے ،ارے اولاد کے لیے تو دنیا ایک طرف ہو جاتی ہے آخر دکھا دی نہ اپنی گھٹیا اصلیت “

تم کرو ،محبت اس سے ،میں جزباتیت میں اپنے ارمانوں جا گلا نہیں گھونٹ سکتی ،دانش واپس آگیا ہے میرے تمام خوابوں کی تعبیر بن کر اب عقلمندی یہی ہے کہ میرا پیچھا چھوڑ دو اللہ حافظ!

میں طلاق کے کاغذات کا انتظار کرونگی “کھٹ کھٹ کرتی وہ ان کی زندگی سے ایسے نکل گئی جیسے کبھی آئی نہیں تھی اس وقت بھی منیبہ اور ننھی ماہا زندگی کے اس تماشے کو دیکھتے رہ گئے بہت دنوں بعد منیبہ نے شوہر کے چہرے پر ملال دیکھا تھا ،جس کا رعب داب ہی اس شان تھا انہیں یہ تبدیلی اچھی نہیں لگی تھی شوہر تو اپنے فخروغرور میں ہی اچھا لگتا ہے یہ کمزور پڑتا شکست خوردہ مرد۔۔۔۔۔۔وہ بے ساختہ آگے بڑھیں تھیں اور ننھی بچی کے لیے ہاتھ پھیلائے

“اسے مجھے دیں آج سے میں ان دونوں بچیوں کی ماں ہوں انہیں جیسے جھٹکا لگا ،بہت خوفناک خواب سے جیسے بیدار ہوئے سیکنڈوں میں ان کا جاہ و جلال واپس آگیا جو کائنات جیسی عورت کے سامنے کبھی نہ ابھرا ۔۔

کبھی محسوس نہ کرنا کہ تمہاری بیٹی کون ہے اور اس بیوفا عورت کی بیٹی کون سی تاکہ زندگی کے کسی مقام پر اس سامنا ہو تو وہ بھی دھوکہ کھا کھا جائے کہ میری بیٹی کون ہے

منیبہ نے اس کی پرورش میں کوئی کسر نہ چھوڑی جو کہا وہ کر دکھایا ۔۔ راتوں کو اس بن ماں کی بچی کے لیے جاگیں ،ماہا کی طلب کو نظر انداز کرکے صنم کی طلب کو پورا کیا پھر بھی دلاور صاحب کے دل کو قرار نہ تھا کبھی جو صنم روتی تو تیکھے جملے کی نوک ضرور ان کے دل میں گاڑھ دیتے

دیکھو کیوں رو رہی ہے وہ ؟ کبھی ماہا سے نظریں ہٹا کر اس کی طرف بھی دیکھ لیا کرو ،،بیٹے کی طلب کہیں اور جا سوئی تھی اب تو ساری ضدیں منیبہ سے تھیں ،ساری محرومیوں کا حساب وہ صبردار عورت دیتی رہتیں ماہا اپنی ماں کی طرح کم گو اور معاملہ فہم لڑکی تھی ماں کی مجبوریوں کو خوب سمجھتی تھی اور سمجھوتہ کرنے کی عادت تو اس قدر پڑ گئی تھی کہ فوراً اس چیز سے دستبردار ہوجاتی جس کی خواہش سبز آنکھوں اور بے تہاشا گوری رنگت والی صنم کرتی ہر وقت کی خواہشات کی تکمیل نے اس کے مزاج کو ضد پن اور تکبر میں ڈھال دیا تھا اپنے سے کمتر لوگوں کو وہ منہ لگانا تو درکنار نظریں اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی تھی

گھر کے ملازموں اور ڈرائیوروں کو انگلی پر نچانے کے ساتھ ان کی ہتک بھی خوب کیا کرتی ،کبھی اس مسلے میں ماہا مداخلت کرتی تو وہ ہاتھ اٹھا کر خاموش کرا دیتی

“ان لوگوں کو ڈھیل دینے کامطلب خود کو تزلیل کروانا ہے ،بہتر ہے مجھے اپنا کام کرنے دو ” وہ خاموش کی خاموش رہ جاتی منیبہ بیگم شروع سے ہی اس کی چال ڈھال دیکھ کر چپ سادھ گئیں تھیں کہ جب ان کا شوہر اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ کر نظر انداز کر رہا ہے تو وہ کون ہوتی ہیں کسی مسلے میں دخل اندازی کرنے والی

وقت کا پہیہ چلتا رہا اط دونوں کالج کی طالبہ تھیں ،صنم جس قدر خوبصورت تھی اتنا ہی تعلیمی میدان میں پیچھے ،جیسے تیسے بی ایس سی کے پارٹ ون میں پہنچی تھی اور ماہا ایم ایس سی کے پارٹ ون کی زہین ترین سٹوڈینٹ تھی

ملیح رنگت ،بڑی بڑی آنکھیں ،بے تہاشا سیاہ بالوں والی ماہا اپنے وقار اور تمکنت سے پوری یونی کی ہر دلعزیز لڑکی تھی

صنم کالج میں ہی رہ گئی تھی دونوں اکٹھی ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں نکلتیں ،صنم کا کالج راستے میں تھا سو وہ راستے میں اتر جاتی اور ڈرائیور ماہا کو لیکر آگے بڑھ جاتا واپسی بھی اسی طرح ہوتی آج کل کے حالات کے پیش نظر دونوں کو سیل رکھنے کی اجازت گھر سے ہی تھی جبکہ صنم اسے اپنا حق سمجھ کر مہنگا ترین فون ہاتھ میں پکڑے رہتی

گزرے وقت کے ساتھ ایک حادثہ یہ ہوا کہ صنم کو ایک دن منیبہ بیگم اور دلاور شاہ کی گفتگو سے پتا لگ گیا کہ وہ منیبہ کی بیٹی نہیں ہے اور ماہا کی بہن نہیں ہے فق ہوتے چہرے سمیت دھڑ سے اندر داخل ہو گئی جہاں دلاور صاحب منیبہ بیگم کو کھری کھری سنا رہے تھے

“میں ان کی بیٹی نہیں ہوں تو پھر کس کی ہوں؟کون تھی میری ماں اور جب یہ میری ماں نہیں ہیں تو کون ہیں ؟؟

ہر بات کا برملا اظہار اس کی خاصیت تھی تو پھر اتنی بڑی بات سے آگہی اسے مشتعل نہ کرتی ؟وہ تو جیسے موقع کے انتظار میں رہتی تھی آگ بگولہ ہونے کے لیے ابھی تو افسانے بنانے کے لیے بہت بڑا نقطہ اسے مل گیا تھا منیبہ سکتے کے عالم میں آگیئں تھیں دلاور صقحب جذباتیت میں کہے گئے جملوں کا الزام منیبہ بیگم پر ڈالنے پر تیار ہو گئے

“تم ہماری بیٹی ہو غلط فہمی ہوئی ہے تمہیں ۔۔۔منیبہ کا جملہ خود ہء لڑکھڑا گیا

اتنی بڑی غلط فہمی کیسے ہو سکتی ہے مجھے اپنے کانوں سے سنا ہے سب کچھ اور آپ تو چپ ہی رہیں مجھے ڈیڈ سے بات کر لینے دیں ،،بدتمیزی سے انہیں چپ کراتی رخ باپ کی طرف کت گئی

تمہاری ماں ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔۔ انہوں نے نظریں چرائیں

ان کی ہاں میں ہاں ملانے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے مجھے دب کچھ صاف صاف بتائیں ،،وہ اتنی بڑی تباہی بن کر سامنے کھڑی تھی کہ انہیں جھوٹ کا سہارا لینا محال لگ رہا تھا اور جو کچھ انہیں نا چاہتے ہوئے بھی بتانا پڑا اس پر وہ قطعی یقین کرنے کو تیار نہیں تھی

“یہ کیسے ہوسکتا ہے بغیر کسی وجہ سے میری ماں نے اپنا بسا بسایا گھر اپنے ہاتھوں سے اجاڑ دیا ،کوئی تو وجہ ہوگی جس کی بنا پر وہ اپنی اولاد کو چھوڑ کر چلی گئیں ،اس کی آنکھوں میں ناقابل یقین تاثر تھا

”ہاں تمہاری سمجھ میں یہی کچھ آئے گا لیکن تمہاری ماں کی سوچ تم سے کئی زیادہ بلند تھی کہ اپنے عاشق کے سامنے گھر ،شوہر اور اولاد بھی ہیج لگے تھے اب کے وہ غصے میں آگئے تھے

مت لیں ایسے ان کا نام ۔۔۔۔،،دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے چلا کر روپڑی تھی کبھی جو اس کی آنکھوں میں نمی برداشت نا کر پائے تھے آج وہ بن ماں کی بیٹی ایسے اشک بہا رہی تھی یہ کیسے برداشت کرتے اس کے غم کا ذم دار خود کو سمجھنے لگے ،شکوں کناہ ہوکر منیبہ کو دیکھا وہ کمرے سے باہر نکل گئیں ،پتا تھا کہ قصوروار ٹھرانے میں ایک پل کا تعامل نہیں کریں گے اور صنم کی نظروں میں تو وہ نا معتبر ہیں ہی _اس کے بعد تو صنم اپنے کمرے میں جو محصور ہوئی کسی کے بلانے پر بھی اس کا سکتہ نہ ٹوٹا

منیبہ بیگم ،ماہا سب نے اپنے تئیں کوشش کر لی اس کا ایک ہی جواب تھا کہ اگر زیادہ ضد کی تو وہ کچھ کھا کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گی دونوں بدنامی کے خوف سے پیچھے ہٹ گئیں دلاور صاحب دوسری صبح جب بے حد ملتجی ہوئے تب اس نے دروازہ کھولا

متورم آنکھیں ،سپید چہرہ اور ایک روز کا بھوکا پیاسا نحیف وجود ان کی باہوں میں جھول گیا ان کے تو ہاتھ پاوں پھول گئے فوراً ہاسپیٹل لے کر گئے

ڈاکٹر نے کسی صدمے کا اثر بتایا اور مزید کسی بھی قسم کی ٹینشن لینے سے منع کیا

“دیکھ لیا اپنی زبان درازی کا نتیجہ ، تم لوگ اس بچی کی جان لے کر رہو گے ،،تنہائی ملتے ہی وہ کمزور حیثیت والی عورت کو داغ دے گئے منیبہ بیگم خالی خالی نظروں زے محض دیکھتی رہ گئیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *