Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dildar Maseeha e Dil (Episode 18)

Dildar Maseeha e Dil by Faiza Sheikh

مااہا۔۔۔۔۔۔” منیبہ بیگم کی آواز پہ ماہا جو کچن میں برتن سمیث رہی تھی اچانک سے اسکے ہاتھ تھمے تھے۔۔۔۔۔۔۔ وہ یونہی منجمد سی اپنی جگہ پر کھڑی کی کھڑی رہ گئی جب بہت اچانک سے وہ اسکے قریب آتی اسے پکڑتے اسکا رخ اپنی جانب کر گئی۔۔۔۔۔

کیا اپنی ماں کو معاف نہیں کرو گی” اسکے جھکے چہرے کو دیکھ منیبہ بیگم نے نم آنکھوں سے اسکی تھوڑی پکڑتے اسکا چہرہ اونچا کرتے کہا تھا۔۔۔۔

” میری ناراضگی معانی رکھتی ہے کیا آپ کیلئے….؟ وہ الٹا انکی آنکھوں میں دیکھتی انہی سے سوال پوچھنے لگی ۔۔منیبہ بیگم نے کرب سے آنکھیں میچیں۔۔۔۔۔

” بیٹا میں جانتی ہوں کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے بلکہ گناہ ہوا ہے ۔۔۔۔ میں اپنی اولاد میں برابری ناں کر سکی تمہیں وہ محبت وہ حقوق نہیں دے سکی جسکی تم حقدار تھی۔۔۔۔” اسکے ہاتھوں کو تھامے وہ نم آنکھوں سے نظریں جھکائے بولیں۔۔۔۔

” مگر اب اب مجھے اپنے کیے کا احساس ہے مجھ سے تمہاری یہ ناراضگی برداشت نہیں ہو رہی میری جان ۔۔۔ ماں باپ بھی تو غلطی کر جاتے ہیں اگر تم اپنے باپ کو معاف کر سکتی ہو تو کیا تم مجھے معاف نہیں کرو گی۔۔۔۔”

انکے لہجے میں عاجزی تھی ، محبت سے بھرے لہجے میں وہ آنکھوں میں ممتا کی تڑپ لیے اس سے گویا ہوئی تھیں۔۔۔۔ ماہا انکے اس طرح سے رونے پہ دل سے شرمندہ ہوئی۔۔۔ وہ یہ تو نہیں چاہتی تھی ۔۔اس نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ اسکے ماں باپ اسکے سامنے شرمندہ ہوں وہ تو بس اپنوں کی محبت انکا پیار چاہتی تھی۔۔۔۔۔

”ماما ایسا مت کریں پلیز میں نہیں ہوں آپ سے ناراض اور جہاں تک معافی کی بات ہے تو میرے ماں باپ مجھ سے معافی مانگی میں ایسا کبھی نہیں چاہوں گی۔۔۔۔۔ ” انکے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامے وہ آنکھوں میں محبت سموئے بولی تو منبیہ بیگم کی روح تک میں سکون اترا تھا۔ جبھی انہوں نے مسکراتے اسے مضبوطی سے اپنے سینے میں بھینجا۔۔۔۔۔۔۔

کتنا سکون تھا ۔ انکے سینے سے لگے جیسے وہ ہر قسم کی گرم ہواؤں سے دور آ گئی تھی۔۔۔۔ جیسے اب زندگی میں کوئی غم کوئی تکلیف باقی نہیں رہا تھا۔۔۔۔۔۔

_________________

صنم کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔” صالح بے چینی سے اسے پورے کمرے میں ڈھونڈتا اب نیچے آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صنم کا رویہ اسکے ساتھ اب کافی اچھا تھا وہ اب آہستہ آہستہ اسکی محبت میں رنگتی جا رہی تھی۔۔۔۔ دل میں چھپے سارے اندیشے جیسے اب خودبخود ہی ختم ہو رہے تھے۔۔۔۔۔ صالح کی قربت اسکی چاہت میں وہ اپنا ماضی بھلا رہی تھی۔۔۔۔۔

” میں اوپر ڈھونڈ رہا تھا تمہیں۔۔۔۔میری جان یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔ اسے پیچھے سے حصار میں لیتے صالح نے ہاتھ اسکے پیٹ پہ باندھے اسے کھینچتے خود سے لگایا تو پل بھر کو صنم کا سانس سینے میں الجھا تھا۔۔۔۔

وو وہ میں نے سس سوچا کہ آپ روز میرے لئے کچھ بناتے ہیں آج میں ہی کچھ بنا لوں آپ کے لئے۔۔۔۔۔۔” ایک دم سے صالح کے یوں اپنے قریب تر ہونے اور اپنے کندھے پہ اسکے بےباک ہونٹوں کا لمس محسوس کرتے صنم کا چہرہ لال انگارہ ہونے لگا۔۔۔۔۔۔ آواز میں کپکپاہٹ سی دھر آئی۔۔۔۔۔

واو ڈیٹس گڈ ۔۔۔۔ ویسے بھی میں نے سنا ہے کہ شوہر کے دل میں اترنے کا راستہ اسکے پیٹ سے ہو کر جاتا ہے مگر تم تو اس دل میں بہت گہری طرح سے اتر چکی ہو ۔۔۔۔۔۔ اب بتاؤ یہ کھانا کھلا کر کیا مجھے اپنا غلام بنانے کا ارادہ تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔”

وہ مسلسل اسکے کندھوں کو اپنے ہونٹوں سے چھو رہا تھا۔۔۔۔۔ صنم کا خود میں سمٹنا وہ واضح طور پر محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ جبھی اسنے جھکتے اسکے کان میں سرگوشی کی ۔۔۔۔۔۔۔

صالح پپ پلیز تنگ ناں کریں۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی شریر انگلیوں کی حرکت اپنے پچھلے گلے پہ محسوس کرتے صنم نے خوف سے دھڑکتے دل سے رخ موڑتے اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتے اسے خود سے دور کرنا چاہا ۔۔۔۔۔۔

” ابھی تو بس تھوڑا سا ٹیسٹ کر رہا تھا۔۔۔۔۔ تنگ تو تھوڑی دیر بعد کروں گا۔۔۔۔۔۔۔” اسکے چہرے پہ پھیلے شرم و حیا کے رنگوں کو دیکھتے صالح نے نرمی سے اسکے چہرے پہ آتی لٹ کو کان کے پیچھے اڑسا۔۔۔۔۔

”صنم نے بے بسی سے اسے دیکھا ۔۔جس کی بےباک نظریں اسکے کھلے کھلے روپ میں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ صنم نے گہرا سانس بھرتے اسکی آنکھوں میں چھپی فرمائش کو پڑھتے اپنی آنکھیں مضبوطی سے میچیں تو صالح کو جیسے اسکی طرف سے اجازت مل گئی تھی۔۔۔

جبھی وہ بنا لمحہ ضائع کیے اسکے خوبصورت ہونٹوں پہ جھکتا اسکی سانسوں کو اپنی ہونٹوں کی قید میں لے گیا۔۔۔۔۔۔ صنم نے خود پہ کسی سائے کی مانند جھکے اس پاگل شخص کی شدت بھری گرفت محسوس کرتے اپنا آپ اسے سونپ دیا۔۔۔۔ صالح نرمی سے ہاتھ اسکی کمر کے گرد لے جاتے اسے خود میں بھینجتا وہ رفتہ رفتہ اسکی سانسوں کو خود میں اتارتا بےخود سا ہونے لگا۔۔۔۔۔

صنم نے بےساختہ اسکے کالر کو جھٹکے سے اپنی گرفت میں لیا تو صالح نے آنکھیں کھولیں اسکی بند پلکوں کو دیکھ نرمی سے اسکے ہونٹوں کو آزادی دی ۔۔۔۔۔ صنم نڈھال سی اسکے سینے سے لگے گہرے سانس بھرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صص صالح کک کھانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔” صالح کو یوں اپنے وجود پہ قابض ہوتا دیکھ صنم نے منمناتے اسے یاد دلایا تو صالح نے جن نظروں سے اسے دیکھا تھا صنم کا دل چاہا کہ وہ شرم سے کہیں ڈوب مرے۔۔۔۔۔

ہاہاہا آپ کا فون۔۔۔۔۔۔” اچانک صالح کے کام میں مداخلت کرتے اسکے جیب میں پڑا فون چنگھاڑ اٹھا۔۔ جس پہ کھلکھلاتے صنم نے اسکا حصار توڑتے فاصلہ قائم کیا۔۔۔۔ صالح نے غصے سے اسے دیکھا اور پھر اپنے فون کو غصے سے ہاتھ میں دبوچ لیا۔۔۔۔

” اسکرین پر جگمگاتے نمبر کو دیکھ صالح نے ایک نظر صنم پہ ڈالی جو مگن سی جانے کیا بنا رہی تھی۔۔۔ اور پھر خاموشی سے وہ کال اٹھائے باہر آیا ۔۔۔۔۔

یہ کہاں چلے گئے۔۔۔۔۔۔ صنم نے کھانا میز پہ رکھتے صالح کی تلاش میں نظریں دوڑاتے خود سے بڑبڑاتے کہا تھا۔۔ جبھی وہ دروازہ کھولتے اندر آیا۔۔۔۔۔۔

صالح ۔۔۔۔۔۔” صنم نے اسے پکارا جو کسی گہری سوچ میں ڈوبا تھا۔۔۔۔۔

ہممممم۔۔۔۔” صالح نے ماتھا مسلتے بے چینی سے کہا ۔۔۔۔۔

” کھانا ۔۔۔۔۔ صنم نے اسکا دھیان اپنی جانب کرتے کہا تو صالح نے سر جھٹکے اسکے حسین چہرے کو دیکھا اور پھر مسکراتے اسکی جانب بڑھا۔۔۔۔۔۔۔

” چلو دیکھیں تو سہی ، آج میری بیگم نے اپنے ان ہاتھوں سے کیا بنایا ہے۔۔۔۔ صالح نے کھینچتے اسے خود سے قریب تر کرتے اسکے ہاتھوں کو ہونٹوں چھوا تو صنم بلش کر اٹھی۔۔۔ صالح اسے ساتھ لیے آگے بڑھا اور چئیر کھسکاتے اسے بٹھائے وہ خود بھی اسکے قریب بیٹھا۔۔۔۔۔

واؤ بریانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ڈش میں سجی بریانی کو دیکھ صالح کی آنکھیں حیرت سے چمک اٹھی تھی جسے محسوس کرتی صنم دل سے خوش ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔

” چکھ کر بتائیے ناں پلیز ۔۔۔۔۔! اسکے کندھے کو تھامے وہ معصومیت سے بولی تو صالح نے جھکتے اسکی پیشانی پہ بوسہ دیا ۔۔۔۔۔۔ صالح نے ایک نظر صنم کے پریشان بھرے پہ ڈال چمچ سے پہلا نوالہ لیا۔۔۔۔ صنم اسکے تاثرات نوٹ کر رہی تھی۔۔ جو کافی سنجیدہ تھے۔۔۔

صنم نے خوف سے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھا اسے لگ رہا تھا۔۔۔ کہ بریانی اچھی نہیں بنی ۔۔۔۔ اسنے نم آنکھوں سے صالح کو دیکھا جو اب اسی کی جانب متوجہ تھا۔۔۔۔

“اچھی نہیں بنی ناں ۔۔۔۔ مجھے پہلے ہی پتہ تھا۔۔۔ منہ بسورتے وہ رونے کو تھی۔۔۔۔صالح نے اچانک سے اسے کھینچتے خود میں بھینج لیا۔۔۔صنم یوں اسکے غیر متوقع ردعمل پہ سانس روکے اسکے سینے سے لگی تھی۔۔۔ صالح کا رویہ واقعی میں اسکی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔۔

” آج پہلی بار کسی اپنے کے ہاتھوں کا کھانا کھایا ہے یقین مانو اتنی ٹیسٹی بریانی آج تک صالح خان نے کبھی نہیں کھائی۔۔۔۔۔۔۔۔

صالح نے محبت سے اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے کہا تھا۔۔صنم اسکی آنکھوں میں جھلکتی سچائی دیکھ اندر تک سرشار ہوئی تھی۔۔۔۔

سچی۔۔۔۔” حیرانگی سموئی آواز میں وہ صالح کو دیکھ بولی تو صالح نے محبت اسکے ہونٹوں کو چھوا۔۔۔۔۔ مچی۔۔۔۔”

اب اپنے ان ہاتھوں سے کھلاؤ مجھے۔۔۔۔” اسکے ہاتھوں کو تھامے وہ فرمائشی انداز میں بولا تو صنم نے جھینپتے کپکپاتے ہاتھوں سے اسے کھلانا شروع کیا۔۔۔۔۔۔

صالح بھی اسے ساتھ ساتھ کھلا رہا تھا ۔۔۔ جو نظریں جھکا ریی تھی بار بار۔۔۔۔۔۔۔

” صص صالح ۔۔۔۔۔۔” صالح نے کھانا ختم کرتے ہی جھکتے اسے بانہوں میں بھرا تو صنم کے اوسان خطا ہوئے۔۔

جی جاناں۔ ۔۔۔۔” سیڑھیوں کی جانب بڑھتے صالح نے محبت سے اسے دیکھا۔۔۔

مجھے برتن سمیٹنے ہے اور بھی کام کرنا ہے ابھی ۔۔۔۔۔۔۔ اسکی گردن میں ہاتھ ڈالے صنم نے خفا نظروں سے اسے دیکھتے آگاہ کیا۔۔۔۔۔

” بعد میں کر لینا فلحال اپنے شوہر کے خواہش کا احترام کرتے ہوئے چپ ہو جاؤ ۔۔۔۔۔۔” صالح نے شدت سے کہتے اسکے ہونٹوں کو اپنی گرفت میں لیا۔۔۔۔۔۔ پاؤں سے ڈور لاک کرتے صالح نے نرمی سے اسے بیڈ پہ لٹائے اسپہ سایہ سا کیا ۔۔۔۔

صنم کی پلکیں لرز پڑی ۔۔۔۔۔ جسے دیکھتا وہ مسکراتے اپنی شرٹ اتارتے دور اچھالتا اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لئے پھر سے اسکے وجود پہ قابض ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ رفتہ رفتہ اسکی سانسوں کو خود میں اتارتے صالح نے اپنی شدت سے صنم کے پور پور پہ اپنا لمس چھوڑتے اسے خود میں سمیٹ لیا۔۔۔۔۔۔۔

______________

کاشان صاحب اور منیبہ بیگم کو الوداع کرتے وہ اداس سی بوجھل قدموں سے دروازہ کھولے اندر آئی۔۔۔۔

کتنا اچھا لگ رہا تھا اسے اپنی ماما پاپا کے ساتھ انکی محبت کو پاتے مگر وہ پھر سے چلے گئے تو ماہا سچ میں اداس ہو گئی تھی۔۔۔۔۔۔

ابتہاج جو کچھ ضروری کالز کرتا بالکونی کے گیٹ کو لاک کیے اندر آیا تو سامنے ہی ماہا تو بیڈ کے کنارے پہ یوں اداس بیٹھا دیکھ وہ منٹوں میں سمجھ گیا کہ آخر کیا مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔

جبھی بنا آواز کیے وہ دھیمے قدموں سے چلتا اسکے پاس آیا تھا۔۔ اسکے پاس بیٹھتے ابتہاج نے بہت نرمی سے ماہا کے گرد حصار بنائے اسے سینے سے لگایا۔۔۔۔۔ ماہا نے نرمی سے پیچھے ہوتے سر اسکے کندھے پہ رکھا۔۔۔۔۔

ابتہاج نے مسکراتے اسکے سر پہ بوسہ دیا۔۔۔ کیا ہوا اتنی خاموشی ہضم نہیں ہو رہی مجھے۔۔۔۔۔” ابتہاج نے شرارت سے کہتے ماہا کی ناک کھینچی تو ماہا نے آنکھیں چھوٹی کیے اسے گھورا ۔۔۔۔

” کیوں آپ کو کیا لگتا ہے میں ہمیشہ ہی چیختی رہتی ہوں؟

ماہا نے غصے سے ابتہاج نے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتے کہا تو ابتہاج نے لب دانتوں تلے دبائے ۔۔۔۔

” تمہیں ایسا لگ رہا ہے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا مگر میرا ایسا کہنے کا کوئی ارادہ نہیں۔۔۔۔۔ کندھے اچکاتے ابتہاج نے صاف انکار کیا ۔۔۔۔ ماہا نے غصے سے ناک پھولایا۔۔۔۔۔۔۔

کہاں جانم۔۔۔۔۔۔” اسے اٹھتا دیکھ ابتہاج نے اسے جھٹکے سے کھینچتے خود پہ گرایا ۔۔۔۔۔۔

” مجھے کام کرنا ہے اور آپ دور رہیں مجھے کوئی بات نہیں کرنی آپ سے۔۔۔۔۔” آنکھوں چھوٹی کیے وہ خفا خفا سی بولی۔۔۔۔۔۔۔

یہ تو ناممکن ہے تم سے دوری تو ابتہاج گردیزی کبھی بھی برادشت نہیں کر سکتا اور ناں ہی کبھی تمہیں یہ اجازت دوں گا کہ تم مجھ سے دور ہو جاؤ۔۔۔۔۔ ابتہاج نے اسے خود میں سموتے شدت سے کہتے ماہا کی آنکھوں میں دیکھا جو اسکی جنونیت پہ حیران سی گھبرا گئی ۔۔۔۔۔

ابب ابتہاج۔۔۔۔۔۔۔ ماہا نے آنکھیں پھیلائے اسے پکارا جبکہ ابتہاج جھٹکے سے کروٹ بدلتے اسکے ہونٹوں کو قید کرتے خود کو سیراب کرنے لگا۔۔۔۔۔ ماہا خود بھی اسکی قربت میں پرسکون سی آنکھیں موند گئی مگر ایک دم سے اسنے غصے سے ابتہاج کے سینے پہ ہاتھ رکھتے اسے خود سے دور کیا۔۔۔۔

ابتہاج نے سر اٹھائے اسے دیکھا۔۔جو بکھرے حلیے میں لمبے لمبے سانس بھرتی اسے مزید مدہوش کر رہی تھی۔۔۔۔

” میں ناراض ہوں آپ سے۔۔۔۔۔ آپ نے مجھے چیٹنگ کر کے میچ ہرایا تھا۔۔۔ ” اسے ناراضگی سے دیکھتی وہ رخ موڑتے لیٹی۔۔۔کہ ابتہاج نے ایبرو اچکاتے اسکی پشت کو دیکھا۔۔۔۔ کچھ سوچتے وہ اسکے قریب ہی نیم دراز ہوتے آنکھوں موند گیا۔۔۔

ماہا اسکی شرافت پہ حیران بھی تھی مگر پھر اپنی ناراضگی کا خیال آتے وہ گردن اکڑائے خود سے ہی دل ہی دل میں مخاطب ہوتے آنکھیں بند کیے سونے لگی۔۔۔

ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ اپنی گردن پہ ابتہاج کے دہکتے ہونٹوں کے لمس کو پاتے ماہا نے دھڑکتے دل سے رخ موڑنا چاہا۔۔۔۔ مگر اسے پیچھے سے حصار میں لیتے ابتہاج نے اسکی کوشش ناکام کرتے جابجا اپنے ہونٹ اسکی گردن پہ رکھتے اسے بے چین کر دیا۔۔۔۔۔

ابتہاج نے دھیمے سے اسے اپنے بازوؤں پے کیا اور جھکتے اسکے کندھوں پہ اپنی محبت کی بارش کرنے لگا۔۔ماہا کا سانس اسکی بڑھتی بےہودگی پہ الجھنے لگیں مگر ابتہاج کہاں اسے سانس لینے کا موقع دے رہا تھا۔۔۔۔۔ اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں سے الجھاتے اسے خود میں بھینجتے وہ شدت سے جھکتا اسکے ہونٹوں کو گرفت میں لے گیا۔۔۔۔۔

______________

صالح ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔؟ ’ صالح کے مضبوط بازوؤں کے گرد اپنے نازک ہاتھ لپیٹتے صنم نے چاروں اطراف دیکھتے پوچھا تھا۔۔۔۔ صالح نے اسکے پریشان چہرے کو دیکھا ۔۔۔۔ اور مضبوطی سے اسکے گرد اپنا مضبوط حصار بنایا۔۔۔۔

کسی سے ملنے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔” صالح نے اسے دیکھ نرمی سے کہا تو صنم کی انکو میں خوف آ سمٹا۔۔۔ وہ قدم روکے صالح کو دیکھنے لگی۔۔۔۔

صالح نے ماتھے پہ بل ڈالے اسکے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔ ابھی وہ کچھ کہتا کہ پیچھے سے آتی آواز پہ وہ دونوں ہی پیچھے کو مڑے۔۔۔۔۔

جہاں وہ ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے چہرے پہ بلا کی سنجیدگی لیے کھڑا تھا۔۔۔۔

ابتہاج کیسے ہو تم۔۔۔۔۔ ” صالح اسے دیکھ مسکراتے صنم کو تھامے اسکی جانب بڑھا تھا اور ہاتھ اسکے سامنے کرتے صالح نے خوشگوار لہجے میں اسے پکارا ۔۔۔۔۔۔

ہمممم ٹھیک ہوں۔۔۔۔ کہیں بیٹھ کے بات کریں” صنم کو نظر انداز کیے اسنے صالح کو مخاطب کیا ۔۔۔۔ جبکہ صنم خود بھی سہمی سی صالح کے اندر ہی سمٹ رہی تھی۔۔

ہاں چلو چلتے ہیں۔۔۔۔ بیچ پہ ایک جانب لگیں چئیرز کی جانب جاتے صالح اور ابتہاج مکمل خاموش تھے جبکہ صنم تو ابتہاج کے یوں آنے کے پیچھے کی وجہ پہ ہی ڈری ہوئی سی تھی۔۔۔ اسے لگا شاید وہ صالح کے سامنے اسکے کردار کا داغ دار کرے گا۔۔اسکا وجود سن سا پڑنے لگا ۔۔۔۔

صالح اسکی حالت سے واقف تھا۔۔۔۔ جبھی اسنے مضبوطی سے تھامتے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔۔۔

بتاؤ ابتہاج تم نے رات کو کہا تھا کہ تم کچھ بات کرنا چاہتے ہو صنم سے۔۔۔۔” صنم کو اپنے ساتھ بٹھائے صالح نے ابتہاج کو متوجہ کرتے پوچھا۔۔۔ جو ٹانگ پہ ٹانگ جمائے ہوئے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔

” دراصل میں چاہتا ہوں کہ صنم ایک بار ماہا سے مل لے تاکہ جو کوئی ان دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے غلط فہمیاں ہیں وہ نکل جائیں ۔۔۔۔۔ ” ابتہاج نے صنم اور صالح کو دیکھتے کہا تھا۔۔وہ جانتا تھا ماہا کے لئے اسکا ہر رشتہ اہم تھا جبھی وہ چاہتا تھا کہ وہ اپنی بہن کے پاس ہوتے ہوئے بھی اس رشتے سے دور ناں ریے۔۔۔

وہ چاہتا تھا کہ بچپن سے جن رشتوں کی محرومی وہ جھیلتی آئی ہے اب وہ اس سٹیج سے نکل آئے وہ بھی باقی سب کی طرح ایک مکمل فیملی کے ساتھ ہنسی خوشی وقت گزارے۔۔۔ جبھی اسنے رات کو ہی صالح کو کال کرتے صنم سے ملنے کا کہا تھا۔۔۔

وہ ماہا کو سرپرائز دینا چاہتا تھا جبھی اسے ان سب کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا۔۔۔۔۔

” مم مگر وہ تو مجھ سے نفرت کرتی ہے پھر بھلا کیسے۔۔۔۔۔۔۔”۔ صنم کا دل بھی ماہا کی محبت اسکے ساتھ کا طلب گار تھا وہ جانتی تھی آج تک اسنے غرور میں آ کر ہر رشتے کو روندھا تھا مگر اب وہ اپنی غلطیوں کی تلافی کرنا چاہتی تھی ۔۔

” تم شاید بھول رہی ہو صنم کہ ہم ناراض بھی اسی سے ہوتے ہیں جس سے ہمیں یہ امید ہو کہ وہ ہمیں منائے گا۔۔۔۔۔۔ تو پھر کیا ارادہ ہے تم کب مناؤ گی میری بیوی کو۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے بڑے اچھے طریقے سے مختصر سے جملے میں صنم کو ساری بات سمجھا دی تھی ۔۔۔۔ اور آخر میں صالح کو دیکھ شرارت سے پوچھنے لگا۔۔۔۔۔

” میرا خیال ہے کہ ہمیں کوئی اچھی سی جگہ پلین کرنی چاہیے۔۔۔۔۔ صالح نے فورا سے بولتے کہا تو ابتہاج نے سمجھتے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں ماہا کو کہیں بھی باہر لے آؤں گا اور پھر تم وہاں پہ صنم کے ساتھ آ جانا ۔۔۔۔۔ ابتہاج نے دونوں کو دیکھتے پلین بتایا ۔۔۔۔

ایک منٹ۔۔۔۔۔۔” صالح کا موبائل جو کب سے بج رہا تھا صالح نے جھنجھلاتے اسکرین کی جانب دیکھا سامنے موجود نمبر کو دیکھے وہ معذرت کرتے وہاں سے اٹھا تھا۔۔۔۔۔

” ماہا مان جائے گی کیا ۔۔۔۔۔ ” صالح کے جاتے ہی صنم نے پھر سے ابتہاج جو دیکھتے یقین دہانی چاہی تو ابتہاج نے مسکراتے سر ہاں میں ہلایا۔۔۔۔

ابتہاج یار مجھے اس وقت کسی ایمرجنسی کی وجہ سے نکلنا ہے تم پلیز صنم کو گھر چھوڑ دینا۔۔۔”۔ صالح نے ابتہاج کو دیکھتے التجائیہ لہجے میں کہا تو ابتہاج نے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔۔۔۔

جبکہ صنم صالح کو دیکھ رہی تھی ۔۔ جو کافی پریشان تھا۔۔۔۔۔۔

تم آرام سے گھر جاؤ میں جلد ہی لوٹوں گا۔۔۔۔ صنم کے گال تھپتھپاتے وہ وہاں سے نکلا ۔۔۔اسکے پیچھے ہی ابتہاج بھی صنم کے ساتھ واپسی کے لئے روانہ ہوا تھا۔۔۔۔

صنم آؤ کچھ کھا لیتے ہیں ۔۔۔۔ ریسٹورنٹ کے باہر گاڑی روکتے ابتہاج نے اسے مخاطب کیا جو کافی نروس سی تھی۔۔۔۔۔

” نہیں مجھے نہیں کھانا آپ پلیز مجھے گھر ڈراپ کر دیں ۔۔۔۔۔ انگلیاں چٹخاتے ماہا نے بےچینی سے کہا تھا۔۔۔۔

” آج پہلی بار اپنے جیجا جی کے ساتھ آئی ہو میں ایسے ہی تھوڑے جانے دوں گا ڈونٹ وری میں تم سے ناراض نہیں ہوں بلکہ میں خوش ہوں جو ہوا شاید ٹھیک تھا ورنہ میری ماہا میرے نصیب میں کیسی آتی۔۔ ۔۔”

اسکے چہرے پہ ماہا کے نام پہ ایک دلکش سی مسکراہٹ آنکھیں میں محبت کا جہاں آباد تھا۔۔۔۔ جسے دیکھتے صنم نے دل سے اپنی بہن کی خوشیوں کی دعا کی ۔۔۔۔ ابتہاج کی ضد پہ وہ چارو ناچار اسکے ساتھ آئی تھی۔۔۔۔

ابتہاج مجھے آپ سے کچھ بات کرنی یے۔۔۔۔۔۔۔ ” صنم نے ابتہاج کو دیکھتے کہا تھا جو ویٹر کو آرڈر دیے کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔۔

ماہا تھم اندر چلو میرے ساتھ ہم برو کو سرپرائز کرتی ہے۔۔۔۔۔۔” ماہا کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھتے سمیر نے چہرے پہ معصومیت سجائے کہا تھا۔۔۔جبکہ ماہا تو بس بے یقینی سے ہوٹل کے مرر سے نظر آتے صنم کے ساتھ بیٹھے ابتہاج کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

آنکھوں سے بے اختیار آنسوں جاری ہونے لگے مگر دل میں کہیں اسے یقین تھا کہ اسکا ابتہاج اسے کبھی بھی دھوکہ نہیں دے گا۔۔۔۔۔ ابتہاج کی سرگوشیاں ماہا کے کانوں میں گونج رہی تھی ۔۔ اپنے ڈوبتے دل کو سمجھاتے ماہا نے کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل نکالتے ابتہاج کا نمبر ملایا۔ ۔۔۔۔۔۔۔

” ماہا کا فون میں اسے بتاتا ہوں کہ تم اس سے ملنا چاہتی ہو ۔۔۔۔۔۔” ماہا کی کال دیکھ ابتہاج نے پرجوش لہجے میں کہا تھا۔۔

نہیں ابتہاج پلیز ابھی نہیں آپ اسے کچھ مت بتانا پلیز ۔۔۔۔۔ میں نہیں چاہتی کہ وہ مجھ سے مزید بد گمان ہو جائے جب تک مجھ میں ہمت نہیں بنتی اسکا سامنے کرنے کی تب تک آپ اسے ان سب سے انجان رکھیں گے ۔۔۔۔۔ پلیز وعدہ کریں مجھ سے۔۔۔۔۔۔”

صنم نے ڈرتے ابتہاج کو دیکھتے اپنے اندر چھپے خوف کا آشکار کیا تو ابتہاج بھی سوچ میں پڑ گیا مگر پھر صنم کو دیکھ اسنے حامی بھر دی ۔۔۔۔

ہیلو ہاں ماہا کہو ۔۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے کال پک کرتے موبائل کان سے لگاتے کہا تھا ۔۔۔۔۔

” آپ کہاں ہیں اس وقت ابتہاج۔۔۔۔۔۔؟” ماہا نے دھڑکتے دل سے خوف سے آنکھوں میں نمی لائے پوچھا تھا۔۔۔ اسکا دل مچل رہا تھا کہ ابتہاج اسے سچ بولے گا وہ اسکا مان نہیں توڑے گا۔۔۔۔

”میں اس وقت آفس میں ہوں ماہا کیوں کیا ہوا کچھ کام ہے؟’

ابتہاج نے ماتھا مسلتے جھوٹ بولا تھا۔۔۔ اسے خود بھی اس سے جھوٹ بولنا برا لگا تھا۔۔۔۔۔

” ایک پل میں ماہا کا سارا غرور ٹوٹا تھا۔۔۔ موبائل فون ہاتھ سے چھوٹتے اسکی گود میں گرا تھا۔۔۔۔ آنسو موتیوں کی طرح اسکی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔۔۔۔۔

” کیا ہوا ماہا۔۔۔۔۔۔۔؟” سمیر نے اپنی شیطانی مسکراہٹ چھپائے فکر مندی سے پوچھا ۔۔۔۔۔

” مجھے گھر جانا۔۔۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے آنسوں پونچھتے بولی تھی جبکہ سمیر تو اسی دھماکے کا منتظر تھا جبھی فورا سے یوٹرن لیتے وہ واپسی کے لئے نکلا۔۔۔۔۔۔

گھر پہنچتے ہی وہ بنا کچھ کہے دوڑتے تیزی سے اپنے روم کی جانب بھاگی تھی ۔۔۔۔۔

صبا بیگم نے اسے بلایا بھی مگر وہ اپنے آپ میں ہوتی تو ہی کچھ جواب دیتی ۔۔۔۔۔۔۔

ماہا نے کمرے میں جاتے ہی دروازہ اندر سے لاک کیا تھا۔۔۔ وہ چلتے مرر کے قریب رکی تھی۔۔۔۔۔ اپنی چہرے کو دیکھ اسے صنم کا خوبصورت چہرہ یاد آیا۔۔۔ ماہا نے غصے بےبسی سے اپنا خجاب نوچتے خود سے دور پھینکا تھا۔۔۔۔

کیوں کیوں ۔۔۔۔ میں ہی کیوں آخر…..” وہ روتے چیختی ڈریسنگ مرر پہ ہاتھ مارتے سارا سامان نیچے فرش پہ بکھیر گئی۔۔۔ دل میں لگی آگ اسکے وجود کو خاکستر کرنے لگی۔۔ ماہا کا روم روم جھلنی تھی۔۔۔۔ جس شخص پہ اعتبار کر کے اس نے اپنا آپ اسے سونپ دیا اسنے بدلے میں کیا دیا تھا اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔ دھوکہ صرف دھوکہ۔۔۔۔۔۔۔۔”

ماہا نے غصے سے چیختے پورے بیڈ کا خشر بگاڑ دیا تھا۔ ہر وہ چیز جو اسکے ہاتھ میں آئی تھی ماہا نے اپنا غصہ اپنے بےمول ہونے کا غم اس پہ نکالا ۔۔۔۔۔۔۔ ”

آخر کیا گناہ تھا اسکا ۔۔ یہی وہ کم صورت تھی۔۔۔۔ ” تم کامیاب ہو گئی صنم۔۔۔۔۔۔ تم ایک بار پھر سے کامیاب ہو گئی۔۔۔ تم نے چھین لیا ابتہاج کو مجھ سے۔۔۔۔۔ میرا تو پہلے ہی اسکے سوا کوئی نہیں تھا۔۔۔ اب کون ہو گا ۔۔۔۔۔۔ اب تو میرے ناں ہونے سے کسی کو بھی فرق نہیں پڑنے والا۔۔۔۔۔۔۔

کمرے میں ہر طرف تباہی مچی ہوئی تھی ۔۔۔ وہ پورا کمرہ تہس نہس کیے خود کمرے کے وسط میں بیٹھی بکھرے حلیے سوجھی آنکھوں ، بکھرے بال جو اسکے آنسوں سے تر چہرے سے چپک رہے تھے۔۔۔۔۔ اس وقت کوئی پاگل معلوم ہو رہی تھی ۔۔ جس کے نصیب میں آخر کار خسارہ ہی آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ماہا کو خود سے نفرت ہونے لگی۔۔۔۔ ۔” اس دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو تم ماہا ابتہاج گردیزی۔۔۔۔۔۔۔” گزری رات کے وقت مدہوشی میں۔۔۔۔ میں اس ظالم ، بےحس کی سرگوشیاں ماہا کے وجود سے جان کھینچنے لگی۔۔۔۔۔۔

ماہا کا دماغ سناٹوں میں چلا گیا ۔۔ جس احساس کمتری سے اسے ابتہاج نے رفتہ رفتہ اپنی محبت کے مرحم سے نکالا تھا آج وہ پھر سے اسی جگہ پہ کھڑی تھی۔۔۔۔۔ جہاں اسے چاروں طرف تپتا سہرا نظر آ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” تم اعتبار کے لائق نہیں ہو ۔۔۔۔ابتہاج گردیزی۔۔۔۔۔۔۔” ابتہاج کا حسین چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے لہراتا اسے بلکنے پہ مجبور کر گیا ۔۔۔۔

وہ نڈھال سی اڑھی ترچھی فرش پہ بےجان سے ہوتے ڈھے سی گئی تھی۔۔۔ عورت ہر چیز برداشت کر سکتی ہے مگر اپنی محبت کی تقسیم نہیں۔۔۔۔۔” آج سہی معنوں میں وہ ان لفظوں کا مطلب سمجھ پائی تھی۔۔۔

_________________

کیا ہوا ماما آپ اس قدر پریشان کیوں ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟ صنم کو گھر ڈراپ کیے وہ سیدھا گھر آیا تھا ۔۔۔اس دشمنِ جاں کو دیکھے کتنے گھٹنے ہو چکے تھے جبھی وہ آفس جانے کا ارادہ ترک کیے سیدھا گھر آیا۔۔۔۔ جہاں صبا بیگم پریشان سی ٹہل رہی تھی۔۔۔۔

‘ ابتہاج میرے چاند ماہا دروازہ نہیں کھول رہی۔۔ پلیز دیکھو ہوا کیا ہے آخر۔۔۔۔۔۔۔” صبا بیگم نے اسکے بازو کو تھامتے اسے پریشانی سے آگاہ کیا تو ابتہاج کے ماتھے پہ ایک ساتھ جانے کتنے بل نمودار ہوئے۔۔۔۔

کیا کچھ ہوا ہے ماما۔۔۔۔۔” ابتہاج کو یوں ماہا کا کمرے میں بند ہونا کچھ سمجھ ناں آئی جبھی اسنے صبا بیگم سے جلدی سے پوچھا۔۔۔۔۔

پتہ نہیں بیٹا تھوڑی دیر پہلے روتے ہوئے گھر آئی تھی۔۔میں نے بلایا بھی مگر وہ بنا جواب دیے اوپر چلی گئی اب بھی کس وقت سے میں دروازہ کھٹکھٹا رہی ہوں مگر وہ جواب تک نہیں دے رہی۔۔۔۔۔۔۔

” ابتہاج سنتا پریشانی سے بھاگتے اوپر گیا تھا۔۔۔۔۔۔

ماہا دروازہ کھولو۔۔۔۔۔۔” ابتہاج نے بےچینی سے دروازہ ناک کرتے کہا تھا مگر اندر سے کوئی بھی جواب ناں آیا۔۔۔ ۔۔ ابتہاج نے پریشانی سے اپنے ہاتھ کا مکہ بنائے بند دروازے پہ مارتے اپنا غصہ نکالا تھا۔۔۔۔۔

دو تین بار وار کرتے ابتہاج نے غصے سے ایک آخری لات دروازے پہ رسید کی تو دروازہ کھلتا چلتا گیا۔۔۔۔۔ ابتہاج دھڑکتے دل سے اندر دوڑتے داخل ہوا تھا۔۔۔۔ مگر سامنے ہی فرش پہ بکھری ہوئی حالت میں پڑی ماہا کو دیکھ ابتہاج کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں دبوچ لیا تھا۔۔۔۔۔ ابتہاج بےچینی سے دوڑتا اسکے قریب گیا تھا۔۔۔۔۔ پورا کمرہ تہس نہس ہوا پڑا تھا۔۔ مگر ان سب میں ماہا کی حالت ابتہاج کو لرزا گئی تھی۔۔۔

جبھی اسکے پاس بیٹھتے ابتہاج نے نرمی سے اسکا سر اپنی گود میں رکھتے اسکا چہرہ تھپتھپایا۔۔۔۔۔”

ماہا جانم اٹھو یار گیٹ اپ۔۔۔۔ کیا ہوا_____؟ کیوں کر رہی ہو ایسے۔۔۔۔۔۔؟ پلیز میری جان آنکھیں کھولو….. ” ابتہاج نے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے بےبسی سے کہا تھا۔۔۔ ماہا کی حالت ابتہاج کو خوف زدہ کر گئی تھی۔۔۔۔۔ مگر ماہا کو ہوش میں ناں آتا دیکھ ابتہاج نے اسے خود سے لگائے اسکے چہرے کو اپنے ہونٹوں سے چھوتے اپنے سینے میں بھینجا تھا۔۔۔۔۔۔

ماہا کی مدہم چلتی سانسیں ابتہاج کی دھڑکنوں میں انتشار برپا کر گئی۔۔۔جبھی اسنے کسی قیمتی متاع کی طرح اسے اپنے بازوؤں میں بھرا تھا۔۔۔۔ اور دوڑتے وہ نیچے کی جانب بڑھا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *