Aatish Lagi By Binte ShahJahaan Ali Readelle50221 Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode
الیاس نے میٹنگ اٹینڈ کر لی تھی
اب وہ کچھ سوچ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کہاں سے شروع کرے
الیاس سوچ میں ڈوبتا جا رہا تھا
💞💞
جعفر یہ تم میرے ساتھ جو ڈرامے رچا رہے ہو نہ اسے بند کرو ورنہ ابھی اسی وقت تمہیں چھوڑ کر جاسکتی ہوں
اور یہ جو بچہ ہے نہ اسے بھی ختم کرا دوں گی روشانہ غصے سے بولی
روشانہ کیا ہو گیا ہے یہ ہمارا بچہ ہے اور گھر کی فکر نہیں کرو میں آج ہی اپنے گھر جاؤں گا اور شام تک تمہیں بھی لے جاؤں گا جعفر روشانہ کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا
دور ہٹو میرے سے تمہاری وجہ سے میری زندگی تباہ ہوگئ ہے ٹھیک ٹھاک اپنے گھر میں خوش باش تھی تمہارے ساتھ شادی کر کے اپنی لائف خراب کر دی ہے
اور کتنے دن تم مجھے اسی بات پر ٹیکاۓ رکھو گے کے آج گھر لے کر جاؤں گا آج گھر لے کر جاؤ گا روشانہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
نہیں روشانہ میں ابھی جاتا ہوں گھر جعفر کھڑے ہوتے ہوئے بولا
جعفر میری بات سن لو اپنے کان کھول کر
یہ نہ سمجھنا اگر میں نے تم سے بھاگ کر شادی کی ہے تو میرے گھر جانے کا راستہ بند ہو گیا ہے
میری ماما نے مجھے کہا ہے اگر جعفر تمہیں گھر نہیں لے کر جا رہا تو اس کے بچے کو ختم کر کے واپس آسکتی ہو
سو آج تمہارے پاس لاسٹ چانس ہے اگر اپنے گھر نہ لے کر گۓ تو میں اپنے پرنٹس کے پاس واپس چلی جاؤں گی روشانہ جعفر کو دیکھتے ہوئے بولی
ہم آج ہی اپنے گھر جائیں گیں جعفر بول کر نکل گیا
روشانہ نے جعفر سے شادی پیسے کے لئے کی تھی اب نہ تو پیسا تھا اور نہ ہی کوئ گھر تھا
اور اسی طرح اب روشانہ کو نہ بچہ چاہیۓ تھا اور نہ ہی جعفر
💞💞
الیاس سوچتے سوچتے کھڑا ہوا اور اپنی کار لے کر پولیس اسٹیشن چلا گیا
الیاس جیسے پولیس اسٹیشن پہنچا تو سیدھا ڈی ایس پی کے پاس گیا
جو آرام سے کرسی پر بیٹھا بسکٹ کو چاۓ میں ڈبو ڈبو کر کھا رہا تھا
الیاس سلام کرتے ہوئے چئیر پر بیٹھ گیا
بولو بھئ کیا کام ہے ڈی ایس پی اب چئیر سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا
آج سے تین سال پہلے آپ کے قریب ہی روڈ پر ایکسیڈنٹ ہوا تھا وہ فائیل کھلوانی ہے الیاس اپنی شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے بولا
او بھائی تین سال پہلے والا کیس کب کا بند ہو گیا ہے اب نہیں کھولے گا اپنے گھر جاؤ ڈی ایس پی غصے سے بولا
کھولے گی فائیل
ضرور کھولے گی اور آپ ہی اس کیس کو ہینڈل کریں گیں وہ بھی چوبیس گھنٹے کے اندر اندر الیاس ٹیک لگا کر موبائل یوز کرتے ہوئے بولا
اور اب ڈی ایس پی کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا
مجھے سمجھتے کیا ہو تم اس کرسی پر کوئ اتنی آسانی سے نہیں بیٹھتا ڈی ایس پی غصے سے بول ہی رہا تھا جب اسے کال آگئ
کال ریسیو کرنے کی دیر تھی ڈی ایس پی کے رنگ اڑنے لگے تھے
اور الیاس کی سمائیل گہری ہوتی جارہی تھی
آج بلیک شرٹ میں الیاس الگ ہی غضب ڈھا رہا تھا اور آج اسنے اپنا مقصد بھی پورا کرنا تھا ساری حقیقت جاننی تھی
سر آپ بلکل ٹینشن نہ لیں آج ہی یہ کیس سولو ہوجاۓ گا
کوئ پروبلم نہیں ہو گی ان کو بھی
ڈی ایس پی سامنے بیٹھے الیاس کو دیکھتے ہوئے بولا
اوکے سر ڈی ایس پی کال بند کرتے ہوئے بولا
سر جسٹ پانچ منٹ میں وہ فائیل لے کر آتا ہوں ڈی ایس پی الیاس سے بولا
واۓ نوٹ یور ٹائم سٹارٹ ناؤ الیاس اب اپنی چئیر سے اٹھ کر ڈی ایس پی کی چئیر پر بیٹھتے ہوئے بولا
وہ بھاگ کر فائیل ڈھونڈنے گیا
ابھی کچھ ہی منٹ گزرے تھے وہ فائیل لے کر پڑھتے ہوئے پہنچ گیا
سر یہ تو ایکسیڈنٹ کیس ہے ڈی ایس پی فائیل کو دیکھتے ہوئے بولا
آئ نو بٹ
مجھے نہیں لگتا یہ ایکسیڈینٹ کیس ہے الیاس فائیل کو دیکھتے ہوئے بولا
بتائیں جس بس سے میری گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس بس کا نمبر کیا ہے
الیاس سنجیدگی سے بولا
سر اس بس کا نمبر (پانچ پانچ دو چار)
اور یہ بس کس کی تھی
سر یہ بس سجاد نامی شخص کی تھی ڈی ایس پی فائیل پڑھتے ہوئے بولا
اپنے ڈیپارٹمنٹ کے تمام پولیسس سے کہیں وہ بندی یہاں حاضر کرے وہ بھی دو گھنٹے میں الیاس ٹائیم دیکھتے ہوئے بولا
سر دو گھنٹے کیسے اتنے کم وقت میں ڈی ایس پی پریشانی سے بولا
اگر یہ کیس پہلے ہی سولو کر لیتے تو آج اتنا مسلہ نہ ہوتا الیاس چئیر کو گھوماتے ہوۓ بولا
ڈی ایس پی خاموشی سے باہر نکل گیا
اور پورے ڈیپارٹمنٹ کو کام پر لگا دیا
💞💞
جعفر اپنے گھر آیا تو اس پر گورنمنٹ کے نوٹس لگے تھے اور اسکے گھر کو سیل کیا ہوا تھا
جعفر کو سمجھ نہیں آرہی تھی یہ گھر کیوں سیل کردیا ہے
کافی دیر وہ گھر کے باہر پریشان کھڑا تھا
پھر اسے سمجھ آئ یہ کس کے کام ہوسکتے ہیں
اس لیۓ اپنی کار کو ریورس میں لےکر الیاس کی گھر کی طرف نکلا
💞💞
سر وہ بندہ مل گیا ہے بس ہم پہنچنے والے ہیں ڈی ایس پی الیاس سے کال پر بولا کیونکہ دو گھنٹے سے بیس منٹ اوپر ہو گۓ تھے
آپ آئیں تو صیح الیاس ڈی ایس پی سے بولا
جی سر بس پہنچ گئے ڈی ایس پی نے بول کر کال کاٹ دی
ڈی ایس پی جیسے اندر سجاد کو لے کر آیا تو
الیاس بہت برے طریقے سے شاکڈ ہوا تھا
جب کے سجاد کے منہ پر تالہ لگ گیا تھا جو چیخ چیخ کر کہ رہا تھا مجھے کیوں لاۓ ہو
فیکری رجال الیاس نام لیتے ہوئے بولا
جو یہاں پر سجاد کے نام سے جانا جاتا تھا
سر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں فیکری رجال پریشانی سے بولا
تمہارا انتظار الیاس غصے سے بولا اور ساتھ ہی اس کے منہ پر ایک مکا مارا
مجھے کیوں مار رہے ہیں سر فیکری رجال غصے سے بولا
اس سے آپ لوگ خود انفارمیشن نکالیں گیں یا میں خود نکالوں الیاس پولیس کو دیکھتے ہوئے بولا
سر اگر آپ اجازت دیں تو ہم بات کر لیں اس سے ڈی ایس پی بولا
پندرہ منٹ میں سارا کچھ اس کے منہ سے نکلواؤ ورنہ میں خود سب دیکھ لوں گا الیاس غصے سے بولا
جی سر فیکری رجال کو گریبان سے پکڑ کر لوکپ میں لے گۓ
💞💞
آج سے تین سال پہلے تیرا پاس بس تھی ایسا ہے نہ پولیس والا فیکری رجال سے بولا
ہاں تھی میرے پاس فیکری رجال اکڑ دیکھاتے ہوئے بولا
دیکھ ہم جانتے ہیں وہ ایکسیڈنٹ نہیں تھا بلکے یہ ایکسڈنٹ کروایا تھا
اب بتا کس کے کہنے پر تو نے ایکسیڈنٹ کیا
پولیس والا نرمی سے بولا
اس فائیل میں سب کچھ لکھا جو ہے کے بس کی بریکیں فیل ہوگئ تھی اسلیۓ ایکسڈنٹ ہو گیا تھا
تو ہمیں بچہ سمجھتا ہے کیا اگر بس کی بریکیں فیل ہو گئ تھی تو وہ بس ایکسیڈنٹ کے بعد کہاں چلی گئ
اس بس کا تو نام و نشان نہیں تھا
بس گاڑی کو ٹھوکنا تھا اور وہاں سے فرار ہونا تھا ڈی ایس پی نے رخ کر فیکری رجال کے منہ پر چماٹ مارا
پھر جاکرفیکری رجال کی اکڑ تھوڑی کم ہوئ
بتا سب کچھ سچ سچ پولیس والا چیختے ہوۓ بولا
فیکری رجال بلکل چپ ہوگیا تھا کچھ بھی نہیں بول رہا تھا
الیاس اندر آیا اور اپنے ہاتھ میں گن بھی پکڑی ہوئی تھی
بنا کچھ کہے فیکری رجال کے ہاتھ پر شوٹ کیا جس سے اس نے ایک چیخ ماری اور آنسو بھی نکلنے لگ گۓ تھے
فیکری جانتے نہیں تم مجھے
مجھے اپنا ٹائیم ویسٹ کرنا بلکل پسند نہیں ہے الیاس فیکری رجال کے سامنے والی چئیر پر بیٹھتے ہوئے بولا
سچ بولنا سٹارٹ کرو بنا ٹائیم ویسٹ کیۓ اگر سچ نہیں بتانا تو میں تمہیں فارغ کر دوں اور اپنا دوسرا کام سٹارٹ کر دوں الیاس بولا
سر میں سچ کہ رہا ہوں مجھے نہیں پتا ہے کچھ بھی فیکری رجال روتے ہوئے بولا
ڈھیٹ پن کی حد تم پر ختم ہوتی ہے
اگر تم سچے انسان ہوتے تو سب سے پہلے اپنی شناخت نہیں بدلتے الیاس نے بولتے ساتھ ہی دوسرے ہاتھ پر شوٹ کیا
سر یہ آپ غلط کر رہے ہیں ڈی ایس پی آگے ہوتے ہوئے بولا
الیاس نے جب اسے خونخوار نظروں سے دیکھا تو وہ آرام سے پیچھے ہٹا
بتانا ہے یہ نہیں الیاس پھر سے فیکری رجال کو دیکھتے ہوئے بولا
سر بتاتا ہوں فیکری رجال اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولا
کے پہلے اس کا کچھ کرو
نہیں مرو گے بتانا شروع کرو الیاس غصے سے بولا
سر مجھے رفاق صاحب نے کہا تھا
کے ایک ایکسیڈنٹ کروانا ہے اس کا بیس لاکھ روپیہ دیں گیں
اور کوئ مسلہ بھی مجھ پر آنے نہیں دیں گیں
انہوں نے صرف لڑکے کو مارنے کا کہا تھا لیکن جعفر سر کا کہنا تھا اگر لڑکا مرے گا تو لڑکی بھی اسلیۓ میں بس لے کر نکل گیا
جب میں نے گاڑی کو مارا
تو اس میں صرف لڑکی تھی لڑکا نہیں تھا
گاڑی کو مارتے ساتھ ہی میں وہاں سے فرار ہوگیا
جب رفاق کو یہ بات پتہ چلی کے اس میں موجود لڑکی مری ہے لڑکا نہیں تو وہ خوب آگ بگولہ ہوۓ
مجھے بیس لاکھ کی جگہ سات لاکھ روپیہ دیۓ
اور مجھے کہا اپنی شکل ہمیشہ کے لیۓ دفعہ کر دوں
اگر یہاں رہا تو پکڑا جاؤں گا
انہوں نے ہی میری شناخت بدل دی تھی اور مجھے دوبئ بھیج دیا تھا فیکری رجال بول بھی رہا اور ساتھ غنودگی کی طرف بھی جارہا تھا
الیاس کو سمجھ نہیں آرہی تھی کے اس قدر سخت دل انسان کوئ ہوسکتا ہے جو اپنے ہی بچے کا بھی قتل کرواۓ
آگے کیا مجھے بتانا پڑے گا آپ لوگوں کو کے رفاق کو بھی یہاں لائیں الیاس غصے سے بولا
یس سر بس نکلنے والے ہیں سارے پولیسس الرٹ ہوتے ہوئے بولیں
لیکن سر اس پاکستان میں ہم اسے کہاں ڈھونڈیں گیں ڈی ایس پی پریشانی سے بولا
الیاس جانتا تھا رفاق کہاں ہے کیونکہ اس نے اپنے بندے اس کے پیچھے لگا کر رکھے تھے ۔
الیاس نے انہیں ایڈریس دیا
تو پولیس والیں ایڈریس لیتے ساتھ ہی نکل گۓ ۔
💞💞
چندہ جعفر چیختے ہوۓ بولا
زوبیہ صاحبہ اور حنین باہر آئیں تو جعفر غصے سے انہیں دیکھ رہا تھا
کیا ہے اتنا چلا کر کیوں بول رہے ہو حنین غصے سے بولی
میں چلا کر بول رہا ہوں جعفر حنین کے قریب آتے ہوئے بولا
ہاں حنین غصے سے بولی
میرے گھر کے باہر گورنمنٹ کے نوٹس لگے ہیں انہوں نے سیل کردیا ہے کیوں جعفر حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
مجھے کیا پتہ ہے کے تمہارا گھر کیوں سیل ہوا ہے حنین حیرانگی سے بولی
تمہیں نہیں پتہ لیکن جو تمہارا شوہر ہے اسے سب کچھ پتہ ہے
جعفر نے بولتے ساتھ ہی حنین کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے لے گیا
جعفر چھوڑو حنین کو زوبیہ صاحبہ آگے آتے ہوئے بولی
چل ہٹ بے بڑھیا مجھے اگر پہلے پتہ ہوتا کے تو الیاس کی ماں ہے
تو تجھے پہلے مار دیتا
جعفر نے غصے سے زوبیہ کو دھکا دیا اور ساتھ ہی باہر نکل گیا
زوبیہ نے روتے ہوئے الیاس کو کال ملائ
ہیلو الیاس زوبیہ روتے ہوئے بولی
امی آپ ٹھیک تو ہیں الیاس پریشانی سے بولا
الیاس جعفر آیا تھا پتہ نہیں کیا کیا بول رہا تھا
اور ساتھ میں حنین کو بھی لے گیا بیٹا اب کیا کریں تم بھی یہاں نہیں ہو زوبیہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
امی آپ حوصلہ رکھیں حنین کو کچھ نہیں ہوگا
وہ ایک گھنٹے کے اندر اندر گھر پہنچ جاۓ گی
الیاس زوبیہ سے بولا
امی میں فون رکھ رہا ہوں کسی اور جگہ کال کرنی ہے اللہ حافظ الیاس نے بولتے ساتھ ہی کال کاٹ دی
💞💞
ہٹو ادھر سے ڈی ایس پی چوکیدار سے بولا جو گیٹ کے باہر کھڑا تھا
اتنے سارے پولیسوں کو ایک ساتھ دیکھ کر چوکیدار خود آرام سے سائیڈ پر ہوگیا
پولیس اندر آئ تو رفاق کہیں نہیں تھا
سارے پولیس خاموشی سے ہر ایک کمرے میں جانے لگے
ایک کمرے میں رفاق بنیان پہنے بیڈ پر سویا ہوا تھا
پولیس نے بنا کچھ کہے لاؤنج میں فائرنگ کی فائرنگ کی آواز سن کر رفاق بیڈ سے نیچے گر گیا
پولیسوں کو دیکھ کر اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے ہی رہ گیا
چلو جناب جو گناہ تم نے تین سال پہلے کیا تھا آج اس کی سزا بھگتنے کا وقت آگیا ہے
پولیس والے نے رفاق سے بولا اور ساتھ ہی رفاق کو بغیر قمیض پہنے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گیا
چھوڑو مجھے رفاق اچھلتے ہوئے بولا رہا تھا
پیچھے سے پولیس والے نے اس کی گردن پر ایک تھپڑ مارا
انسانوں والے طریقے سے چل پولیس والا غصے سے بولا
شمسہ صاحبہ جیسے باہر سے ائ تو رفاق پولیس والوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ رہا تھا
شمسہ دوڑتی ہوئی رفاق کے پاس آئ جس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں تھی
رفاق یہ سب کیا ہے شمسہ پریشانی سے بولی
او باجی سائیڈ پر ہو لگ جاۓ گی پولیس والا شمسہ سے بولا
جو بلکل گاڑی کے ساتھ چپکی ہوئی تھی
میں کیوں سائیڈ پر ہو جاؤں پہلے یہ بتاؤ انہیں کیوں لے کر جارہے ہو شمسہ غصے سے پولیس والے سے بولی
اس نے تین سال پہلے اپنی بیٹی کو مروایا تھا اب کیس کھول گیا ہے ساری زندگی جیل میں سڑھتا رہے گا
بیٹی کو مروایا ہے شمسہ صاحبہ نے جیسے یہ سنا تو ایکدم سائیڈ پر ہوئ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے رفاق نے نایاب کو مروایا ہے
کیونکہ رفاق نے شمسہ سے یہ کہا تھا کے نایاب زندہ ہے صرف ہمارے لیۓ مر گئ ہے اس لیۓ اس کا ذکر کبھی نہیں کرنا
اس لیۓ شمسہ صاحبہ نایاب کا ذکر کسی سے نہیں کرتی تھی
رفاق چلا گیا تھا لیکن ساری سوسائٹی کے لوگ کھڑے شمسہ کو دیکھ رہے تھے جو گلی میں بیٹھی ہوئی تھی
کچھ لڑکوں نے تو رفاق کی ویڈیو بھی بنائی تھی اور مزاخ بھی اڑا رہے تھے
اوۓ یہ ویڈیو وٹس ایپ کردی کیا تھپڑ مارا ہے پولیس والے نے ایک لڑکا دوسرے لڑکے کو بولتا ہوا چلا گیا
شمسہ بلکل ایسی ہوگئ تھی جیسے کوئی پاگل ہو
شمسہ کی میڈ شمسہ کو گھر میں لے گئ
💞💞
ہیلو الیاس نے کال ملاتے ساتھ ہی پولیس والے سے بولنا شروع کیا
میں آپ کو ایک لوکیشن سینڈ کر رہا ہوں جلدی وہاں پہنچے الیاس اپنے لپ ٹاپ کو دیکھتے ہوئے بولا
جی دوبئ کی پولیس آفیسرز بولیں
الیاس انہیں راستہ بتا رہا تھا وہ لوگ اسی طرح جارہے تھے
الیاس کو سب پتہ چل رہا تھا حنین اس ٹائیم کہاں جارہی ہے کیونکہ الیاس نے جب اسے لاکٹ پہنایا تھا تو اس میں جی پی ایس بھی فٹ کیا تھا
جو آج بہت کام آرہا تھا
💞💞،
جعفر یہ تم مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو حنین ڈرتے ہوۓ بولی
تیرا شوہر کچھ زیادہ ہی چالاک بنتا ہے میرا گھر سیل کروادیا اس کمینے نے
الیاس تمہارا گھر کیوں سیل کرواۓ گا حنین روتے ہوئے بولی
وہی تو میں تجھ سے پوچھ رہا ہوں لیکن تو زیادہ ماصوم بن رہی ہے اور مجھے بتا نہیں رہی
جعفر اپنی شرٹ اتارتے ہوئے بولا۔
یہ کیا بدتمیزی ہے جعفر حنین کھڑے ہوتے ہوئے بولی
ابھی بدتمیزی کی ہی کہاں ہے جعفر ہنستے ہوئے بولا
اور ساتھ ہی اپنی بیلٹ بھی اتار کر اسے اپنے ہاتھ میں لہراتے ہوئے لایا
جیسے ابھی اس بلٹ سے اسے مارے گا
جعفر تم ایسا نہیں کرسکتے حنین روتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا
اور اللہ سے اپنی حفاظت کی دعا کی
میری جان جب میں تیرے ماں باپ کو مروا سکتا ہوں
جب میں اپنی منہ بولی بہن کو مروا سکتا ہوں
اس جائیداد کے لیۓ
تو تجھے کیسے چھوڑوں جعفر بولا
کیا بکواس کی ہے تم نے میرے ماں باپ کو تم نے مروایا ہے حنین غصے سے بولی
ہاں کیونکہ تیرا باپ کہ رہا تھا کے جائیداد کا بٹوارا کرو
ہمارے حصے میں تو ایک گاڑی بھی نہیں بچتی اس لیۓ میں نے اور بابا نے مل کر تیرے ماں باپ کو ختم کیا جعفر ہنستے ہوئے بولا
حنین نے پاس پڑی اینٹ کو اٹھا کر جعفر کے سر پر ماری
جعفر ایکدم چکرا گیا
حنین کا دل پھٹ رہا تھا کے جائیداد کے لیۓ کوئ اپنے بھائ کو کیسے مار سکتا ہے حنین روتے ہوئے بھاگ رہی تھی
جعفر کھڑا ہوا اور حنین کے پیچھے بھاگا
جیسے فیکٹری سے باہر نکلا تو وہاں ساری پولیس کھڑی تھی
ایک پولیس والی حنین کو پانی پلا رہی تھی اور اس کے ہاتھ سے خون صاف کر رہی تھی کیونکہ حنین کے ہاتھ پر چوٹ آئ ہوئ تھی
پولیس والوں کو دیکھ کر جعفر ایکدم سیدھا ہوا
جبکے پولیس والے اس کے پاس آئیں اور اسے ہتکڑی پہنا کر لے گۓ
💞💞
رفاق صاحب کو تھانے لا کر لوکپ میں ڈال دیا تھا
الیاس اپنا سر ہاتھوں میں دیۓ بیٹھا تھا
کیونکہ وہ سوچ نہیں سکتا تھا کے اس حد تک لوگ گر جاتے ہیں
الیاس کی آنکھوں میں آنسوں تھے کے نایاب کی کوئ غلطی نہیں تھی پھر بھی اسے اتنی تکلیف دہ موت ہوئ
سر ڈی ایس پی اندر آتے ہوئے بولا
ہمم الیاس سیدھا ہوتے ہوئے بولا
سر آپ کا کام ہوگیا ہے بس دو دن بعد ان کا فیصلہ ہوگا کوٹ میں
الیاس رومال سے اپنی انکھیں صاف کرتے ہوئے کھڑا ہوا
اوکے
الیاس باہر رفاق کے پاس گیا
رفاق زمین پر بیٹھا ہوا تھا
کھولو اسے الیاس حولدار سے بولا
جی سر حوالدار نے دروازہ کھولا تو الیاس اندر گیا
اور رفاق کے ساتھ ہی زمین پر بیٹھ گیا
نایاب آپ کی کیا لگتی تھی؟
اور آپ نے اسے کیوں مروایا؟
الیاس رفاق سے بولا جو بہت زیادہ پریشان بیٹھا تھا
بیٹی تھی میری اور میں نے اسے نہیں مروایا
رفاق نے پھر سے جھوٹ بولا
اچھا جی اگر آپ کی بیٹی ہوتی تو آپ اس دن مجھ سے پوچھتے کے میری نایاب کیسی ہے
جس دن میں حنین کے ساتھ آپ کے گھر آیا تھا
ناکے مجھے دیکھ کر ڈرتے اور یوں ڈر کے مارے پاکستان بھاگ آتے الیاس اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا
رفاق کی ہمت ختم ہو گئی تھی اپنا جھوٹ چھپا چھپا کر اس لیۓ اس نے بولنا شروع کر دیا
نایاب میرے دوست کی بیٹی تھی نایاب کی پیدائش پر اس کی امی کی وفات ہوگئی تھی
اس کی ماں کی جائیداد ساری نایاب کے نام ہوگئ تھی
میرا دوست نایاب سے نفرت کرتا تھا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کے نایاب کی وجہ سے میری بیوی فوت ہوئ تھی
نایاب دو ماہ کی تھی جب اسے میں لے آیا تھا
جیسے جیسے وہ بڑی ہو رہی تھی اتنا ہی ہمارے ساتھ اٹیچ ہوگئ تھی
اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کے ہم اسکے سگے ماں باپ نہیں ہیں ۔
جب تک وہ اٹھارہ سال کی نہیں ہو جاۓ تب تک اس کی جائیداد ہمارے نام نہیں ہوسکتی تھی
لیکن جیسے وہ اٹھارہ سال کے قریب ہونے لگی تو تم آگۓ
اگر ہم اس کی شادی تم سے کروا دیتے تو یہ کروڑوں کی جائیداد ہمیں نہ ملتی
میں نے اسے سمجھایا تھا کے تم سے شادی کی زد نہ کرے لیکن وہ نہیں مانی
پھر میں نے جعفر کو فون کر کے بتایا تو اس نے کہا میرے پاس نایاب کو بھیجیں میں اس سے نکاح کروں گا
میں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا
لیکن کچھ ہی گھنٹوں میں خبر آئی اس نے بھاگ کر تم سے نکاح کر لیا ہے
جعفر تک یہ خبر پہنچی تو وہ کہنے لگا ہماری عزت خراب کردی ہے اس گھٹیا لڑکی نے
اس لیۓ بابا اسے اور اس لڑکے دونوں کو مروا دیں
میں نے سجاد سے کہا کیوں کہ وہ بس چلاتا تھا اور جاننے والا بھی وہی تھا
لیکن اس کمینے نے تجھے چھوڑ دیا اور نایاب کو مار دیا
آج میں اس حالات میں آگیا ہوں رفاق غصے سے بولا
صرف آپ نہیں بلکے آپ کا بیٹا بھی آپ کے ہی طرح جیل میں رہے گا
ایک جائیداد کے لیۓ آپ لوگوں نے تین بندوں کی جانیں لی اور آج وہ ہی ساری جائیداد چیریٹی میں جاۓ گی
نہ آپ کو نصیب ہوئی اور نہ ہی آپ کے بیٹے کو
کیونکہ حرام کسی کو بھی راس نہیں آتا
الیاس افسوس سے بولا
اور اٹھ کھڑا ہوا
جیسے باہر نکلنے لگا پیچھے مڑ کر رفاق کو دیکھا
💞💞آتش لگانے والوں کو کہا خبر تھی
رخ ہواؤں نے بدلہ تو خاک وہ بھی ہونگیں💕💕
جو کے آج آپ ہوگۓ ہیں
الیاس رفاق کو بول کر نکل گیا
💞💞
(#ساتسالبعد)
الیاس آپ کہاں ہیں حنین الیاس سے فون پر بولی
کیوں الیاس حنین سے بولا
آپ کے بچو نے مجھے بہت تنگ کیا ہے خاص کر آپ کا رحمان ہے
الیاس نے اپنے بیٹے کا نام رحمان اسلیۓ رکھا تھا کیونکہ اسے سورت رحمان بہت پسند تھی
اور حنین نے رحمانیہ نام رحمان کے نام سے ملتا جلتا رکھ دیا تھا
آکر اسے خود سنبھالے ورنہ حنین بولی
ورنہ کیا الیاس مسکراتے ہوئے بولا
ورنہ میں ابھی سیلون جاکر رحمانیہ کے بولوں کی بےبی کٹ کروا دوں گی حنین دھمکاتے ہوئے بولی
اوۓ میری بیٹی کے بالوں کو ہاتھ بھی لگایا تو اچھی بات نہیں ہوگی
الیاس ایکدم کھڑے ہوتے ہوئے بولا
آپ کے پاس بیس منٹ ہے جلدی پہنچیں حنین بولی
یار میرا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے الیاس بولا
آپ ٹھیک تو ہیں نہ الیاس
حنین پریشانی سے بولی
ہاں میں ٹھیک ہوں بس انویسٹیگیشن کے لیۓ بیٹھا ہوں
اس لیۓ ایک گھنٹہ لگ جاۓ گا
اوکے ایک گھنٹے سے ایک منٹ بھی اوپر نہیں ہونا چاہیۓ حنین نے بول کر کاٹ دی
سر آپ نے جھوٹ کیوں بولا مبین مسکراتے ہوئے بولا
یار میں نے رحمانیہ کے لیۓ چیزیں لینی ہیں
اب میڈم مجھے کہتی ہے
یور ٹائیم سٹارٹ ناؤ ایک وقت تھا جب میں یہ کہتا تھا سب سے اور دیکھو الیاس افسوس سے بولا
ہاہاہاہاہاہا سر حکومت ساری زندگی نہیں رہتی قاسم ہنستے ہوئے بولا
صیح کہا یار میں جارہا ہوں الیاس ٹیبل سے اپنا والٹ اور کیز اٹھاتے ہوئے کھڑا ہوا
اوکے سر قاسم اور مبین ہنستے ہوئے بولیں
الیاس اور مبین قاسم کے فلیٹ میں آئیں ہوۓ تھے
قاسم اور مبین الیاس کو شیشے سے دیکھ رہے تھے جو پارکنگ ایریا میں کھڑا ان دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
یار سر کچھ غلط کرنے والے ہیں مبین الیاس کی سمائیل سے سمجھ گیا تھا وہ کچھ الٹا کرنے والا ہے
الیاس اپنی کار میں بیٹھا اور ساتھ ہی قاسم کو کال کی
یار میری بیوی بہت شکی ہے میں گھر جاؤں گا سب سے پہلے میری کار دیکھے گی کہاں سے ڈیمج ہے اور اگر ڈیمج نہ ہوئ تو وہ میرا جینا حرام کر دے گی
الیاس نے بولتے ساتھ ہی اپنی کار مبین کی کار سے ٹھوک دی جس سے مبین کی کار کا فرنٹ تھوڑا سا ڈیمج ہوگیا
قاسم زور زور سے ہنسنے لگ گیا
پھکی لگ گئ مبین کو قاسم ہنستے ہوئے بولا
سر کبھی نہ انصافی نہیں کرتا مبین نے جیسے بولا
الیاس نے قاسم کی کار کو بھی ٹھوک دیا اور پھر خود گاڑی بھگا لے گیا
آۓ ہاۓ میرا دل ٹھنڈا یخ ہو گیا مبین ہنستے ہوۓ بول کر گھر کے لیۓ نکلنے لگا
کدھر قاسم مبین کو دیکھتے ہوئے بولا
اپنی بیگم کے پاس رات کے دس ہوگۓ ہیں
یہ نہ ہو مجھے ڈھونڈنے کے لیے باہر نکل نہ جاۓ مبین ہنستے ہوئے بولا
ہاہاہاہاہاہا قاسم ہنسنے لگا
💞💞
قاسم روم میں آیا تو اسکی شہزادی اسی کے انتظار میں بیٹھی تھی
بابا آپ بہت ویٹ کرواتے ہیں مجھ سے روباب منہ بناکر بولی
جو ابھی چار سال کی ہوئ تھی
او سوری بیٹا قاسم بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا
اور روباب قاسم کے ساتھ لیٹتے ہی سو گئ
اس کی آنکھیں نیند سے بھری ہوئی تھی لیکن سونا اس نے بابا کے کندھے پر سر رکھ کر ہی تھا
قاسم روباب کا سر آرام سے تکیے پر رکھ کر لائبہ کے پاس آیا ۔
جو منہ بنا کر لیٹی ہوئی تھی
لائبہ قاسم ہلکی آواز میں بولا
لائبہ خاموش تھی
یار لائبہ تم سن رہی ہو مجھے پتہ ہے قاسم لائبہ کو اپنی طرف کرتے ہوئے بولا
اچھا یار کل میں تمہیں تمہاری ماما کے گھر آفس جاتے ہوئے چھوڑ دوں گا قاسم بولا
سچی میں لائبہ ایکدم مڑی
بلکل قاسم مسکراتے ہوئے بولا
اب زرا ہمیں بھی گھاس ڈالیں جناب
قاسم لائبہ کے ہونٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
سو جائیں آپ کی شہزادی اٹھ جاۓ گی لائبہ بول کر مڑنے ہی والی تھی
جب قاسم نے اسے اپنی طرف موڑا
اور اس کے ہونٹوں پر جھک گیا
💞💞
الیاس گھر آیا تو حنین رات کے دس بجے اپنے بیٹے کے پیچھے بھاگ رہی تھی
الیاس بھاگتا ہوا آیا اور رحمان کو اپنی گود میں اٹھالیا
کیوں میرے بیٹے کے پیچھے بھاگ رہی ہو
الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
آپ کا یہ بیٹا میری ماصوم سی بیٹی رحمانیہ کے بال کھینچتا رہتا ہے ہر ٹائیم حنین غصے سے بولی
اوۓ میری بیٹی کے بال کیوں کھینچتے ہو الیاس رحمان کو غصے سے دیکھتے ہوئے بولا
بابا ماما جھوٹ بول رہی ہے رحمان نے غصے سے بولا
ہاں حنین منہ کھول کر رحمان کو دیکھنے لگی
میں نے رحمانیہ کے بالوں کو ہاتھ بھی نہیں لگایا رحمان غصے سے بول کر اپنے روم میں چلا گیا
کوئ نہیں کہ سکتا تھا یہ چھ سال کا بچہ بھی غصہ کرتا ہوگا
دیکھا آپ کے بیٹے کا غصہ بلکل آپ پر گیا ہے حنین بولی
میرے بیٹا تو ہے لیکن غصہ بلکل تم پر گیا ہے الیاس حنین پر الزام ڈالتے ہوئے بولا
مجھے غصہ آتا ہی نہیں حنین مسکراتے ہوئے بولی
حنین یار بس کرو تمہیں غصہ نہیں آتا الیاس افسوس سے بولا
ہاں نہ حنین بول کر آذان آذنان کے پاس گئ ۔جہاں آذان اور آذنان رحمانیہ کو پینٹنگ سیکھا رہے تھے
آذان اور آذنان بھی ان سات سالوں میں کافی بڑے ہو گۓ تھے
جب کے زوبیہ پاکستان گئ ہوئ تھی اپنی بہن سے ملنے
💞💞
مبین گھر آیا تو نمرا اپنے بیٹے کو ہوم ورک کروارہی تھی
آگۓ آپ کروائیں اسے ہومورک نمرہ غصے سے چیزیں پھینکتے ہوئے بول کر کچن میں چلی گئی
مبین ہنسنے لگ گیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ آج کافی لیٹ ہوگیا ہے اب اسے غصہ تو آۓ گا
شایان آپ انگلش کا ہومورک کرو میں آتا ہوں
مبین اپنے بیٹے کو بول کر کچن میں گیا
جہان نمرا غصے سے روٹی بنا رہی تھی اور ہر برتن کو زور زور سے زمین پر پٹخ رہی تھی
مبین اپنی ہنسی کنٹرول کرتا ہوا آیا نمرا کو پیچھے سے پکڑ کر اپنا سر اس کی گردن پر رکھا
ناراض ہو مبین ہلکی آواز میں بولا
نہیں چھوڑیں مجھے نمرہ پیچھے ہوتے ہوئے بولی
لیکن مبین نے اور بھی زور سے پکڑ لیا
اچھا اگر تم ابھی ہنس گئ تو اس کا مطلب تو ناراض نہیں ہو
اور اگر تم نہ ہنسی تو اس کا مطلب تم واقعی ناراض ہو مبین سیریس انداز میں بولا
اب ہنسنا نہیں اچھا مبین ہنستے ہوئے بولا
اور ساتھ ہی نمرا بھی ہنسنے لگ گئ
دیکھا تم ناراض ہو ہی نہیں مجھ سے مبین ہنستے ہوئے بولا
میں بھی ناراض ہوں اور آپ کی بیٹی بھی نمرا بول کر روٹی بیلنے لگی
کیوں وہ کیوں ناراض ہے مجھ سے مبین پریشانی سے بولا
آپ نے اج اسکے سکول جانا تھا فرسٹ پوزیشن حاصل کی ہے آپ کی بیٹی نے
اور آپ سکول ہی نہیں گۓ اس لیۓ ناراض ہے نمرا بولی
او یار اللہ کی قسم میں بھول گیا تھا مبین سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا
یار تم ہی مجھے کال کر دیتی مبین بولا
کیوں کرتی کال آپ کی اپنی ذمے داری ہے ہوش ہونا چاہیے تھا نہ آپ کو نمرا ہنستے ہوئے بولی
جبکے مبین اپنی بیٹی کو منانے چلاگیا
💞💞
الیاس کل آفس سے جلدی آجائیے گا شاپنگ پر جانا ہے
حنین بیڈ شیٹ ٹھیک کرتے ہوئے بولی
آج کل تم کچھ زیادہ ہی آوڈر نہیں دیتی
الیاس حنین کو کمر سے پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوئے بولا۔
شرم کریں الیاس دو بچے کے باپ ہیں حنین چھوڑواتے ہوئے بولی
میں کیوں کروں شرم الیاس حنین کے بال ہٹاتے ہوئے بولا
الیاس ڈور لوک نہیں ہے حنین دروازے کو دیکھتے ہوئے بولی
تو الیاس کہتے ساتھ ہی حنین پر جھک گیا
اوران سب کی خوبصورت ترین زندگی کا آغاز شروع ہوگیا تھا
💞💞
رفاق صاحب پر تین قتل کے الزام تھے اسلیے انہیں پھانسی ہوگئ تھی
جبکے جعفر کو عمر بھر کی قید اور دو کروڑ جرمانہ ہوا
جعفر کی بیوی نے اس سے طلاق لے لی تھی
اور اسکا بچہ بھی مار دیا تھا
جبکے شمسہ صاحبہ اپنے بھائ کے ساتھ رہ رہی تھی
شمسہ نے رفاق سے اس کی زندگی میں ہی رشتہ ختم کردیا تھا کیونکہ نایاب اسکی سگی بیٹی نہیں تھی لیکن شمسہ نہ اسے بہت پیار اور خلوص سے بڑا کیا تھا
جعفر سے زیادہ پیار انہوں نے نایاب کو دیا تھا
لیکن اسکے اپنے بیٹے اور شوہر نے اس ماصوم سی لڑکی کی جان لے لی
ختم شد 🥰
