61.1K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

مبین اور قاسم الیاس کے سامنے کھڑے تھے
جبکے الیاس زارا سے بات کرنے میں مصروف تھا
سر آپ نے آفس سے تین ورکرز کو نکال دیا ہے
اس کی جگہ اور ورکرز کی ضرورت ہے
بٹ ابھی تو آپ مصروف ہے کیونکہ آپ نے کل یورپ جانا ہے
تو کیا کریں سر زارا نے اپنی پوری بات بتائ
ہممم الیاس سوچنے لگا
زارا آپ سلمان کو بھیج دیں یہاں
الیاس بولا
اوکے سر
زارا واپس باہر نکل گئ
اب آپ دونوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے
الیاس کمپیوٹرز آف کرکے بقایدہ مبین اور قاسم کی طرف مڑا
سر ہمارا کام بہت زیادہ ہے جبکے دن بہت کم رہ گۓ ہیں
ہم چاہتے ہیں کے رات دیر تک یہی کام کریں قاسم گلا کھنکار کر بولا
اوکے یہ تو اچھی بات ہے آپ دونوں کو اپنے کام کی فکر ہے
آپ دونوں اپنا کام کریں بٹ اپنی صحت کا خیال بھی رکھنا
میں دو گھنٹے کی چھوٹی بھی کسی کو نہیں دے سکتا سوچو اگر بیمار ہوگۓ تو کم از کم دو چھوٹی تو لازمی دینی پڑے گی
اس لیۓ صحت کا خیال پہلے
اوکے سر دونوں خوشی سے بولے
💞💞
چندہ ہوش میں آئ تو اس کے ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئ تھی
اور بخار بھی کافی تھا
چندہ کا دل کافی گھبرا رہا تھا
لیکن یاد کچھ نہیں آرہا تھا
ڈیڈی اچانک آفاق صاحب کی یاد آئ تو
کھینچ کر اپنے ہاتھ سے ڈرپ
نکالی
اور بھاگ کر باہر نکلی
جہاں ڈاکٹرز پولیس سے باتیں کر رہے تھے
ایک دم سسٹر آئ
(سيدتي ، أنت بحاجة إلى الراحة ، من فضلك استريح لبعض الوقت)
میم آپ کو آرام کی ضرورت ہے آپ پلیز تھوڑی دیر ریسٹ کرلیں
لیکن چندہ نے اسے اگنور کر کے ڈاکٹر کے سامنے کھڑی ہوگئ
(أين أبي؟)
میرے ڈیڈی کدھر ہیں چندہ ڈاکٹر سے بولی
(إنهم في المشرحة ، وحالة عمك سيئة للغاية ، وعليك أن تدفع ثمن العملية حتى نتمكن من إجراء الجراحة له)
وہ مردہ خانے میں ہیں
آپ کی ماما کی طبعیت بہت خراب ہے آپ کو آپریشن کے لیۓ پیسے جمع کروانے ہو گیں تا کے ہم ان کا آپریشن کر سکیں
(كم عدد لتقديم؟)
کتنے جمع کروانے ہیں چندہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
(ستة ملايين)
ساٹھ لاکھ
چندہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کرے تو کیا کرے
اس ٹائیم اللہ تعالیٰ اس کو آزماہ رہے تھے
لیکن چندہ میں ہمت بلکل ختم ہوگئی تھی
چندہ بغیر کچھ کہے کار کی طرف بھاگی
پیسے کہاں سے لاؤں چندہ خود سے ہی باتیں کر رہی تھی پریشان ہوچکی تھی چندہ
تایا ابو
ہاں تایا ابو کے پاس ہی جاتی ہوں وہی میری ہیلپ کریں گیں
چندہ نے کار ریورس میں لےکر رفاق صاحب کے گھر لے گئ
جیسے ہی چندہ رفاق صاحب کے گھر پہنچی تو اسے آذان اور آذنان کی یاد آئ
میرے اللہ پلیز انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھنا
چندہ کو ان دونوں کی بھی ٹینشن ہورہی تھی
تایا ابو چندہ گھر میں داخل ہوتے ساتھ ہی تیز آواز میں بولی
جب کسی نے کوئ آواز نہی دی تو چندہ دوبارہ زور سے چلائی
کیا ہے لڑکی اتنا سپیکر کیوں پھاڑ رہی ہو شمسہ صاحبہ غصے سے بولی
تائ امی ماما ڈیڈی کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے
ڈیڈی کی ڈیتھ بھی ہوگئ ہے اور ماما کی کنڈیشن بہت سیریس ہے
تو
شمسہ صاحبہ نارمل لہجے میں بولی
آپریشن کے لیۓ پیسے جمع کروانے ہے
تو پیسے لینے آئ ہوں چندہ کو بہت شرم اور ذلت محسوس ہورہی تھی
پیسے مانگتے ہوئے
ایکدم رفاق صاحب روم سے باہر آئیں تو چندہ نے انہیں پوری بات بتائ
چندہ مجھے بہت افسوس ہے آفاق کے مرنے پر
لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس یہ ہے کے میں نے اپنے بھائ سے رشتہ ختم کردیا ہے اس لیے تم یہاں سے جاسکتی ہو
لیکن تایا ابو مجھے ساٹھ لاکھ روپے کی ضرورت ہے چندہ نظریں جھکا کر بولی
اس ٹائیم نہیں ہے میرے پاس رفاق صاحب بولے
جبکے چندہ کا پارا ہائی ہوچکا تھا
کیا مطلب نہی ہے آپ کے پاس
سمجھتے کیا ہیں آپ لوگ پیسے نہیں دیں گیں تو آپریشن نہی ہوگا
آپریشن تو لازمی ہوگا ماما کا
لیکن اس سے پہلے ایک کام ہے
حصہ نکالیں ہمارہ جو ڈیڈی نے آپ سے کہا تھا
بزنس اور پراپرٹی دونوں کا
چندہ غضب ناک تیور دیکھاتے ہوئے بولی
ایک پیسا بھی نہیں ہے تم لوگوں کا میرے پاس سمجھی
تمہارے باپ نے بزنس میں بہت نقصان کیا ہے اس سب کی قیمت تم لوگوں کا حصہ ہی بھرے گا
اور شکر کرو ایک گھر رہنے کو مل رہا ہے
نکلو اب یہاں سے
رفاق صاحب کے یہ تیور دیکھ کر چندہ بلکل شاکڈ ہوچکی تھی
لیکن اس نے پھر بھی اپنے آپ کو سنبھالا تھا کیونکہ اسے آفشین صاحبہ کے آپریشن کے لیے پیسے جمع کروانے تھے
چندہ جیسے جانے کے لیۓ مڑی تو اسے جعفر نظر آیا
چندہ کو جیسے امید کی کرن نظر آئ
تو جعفر نے کمینوں کی طرح مسکرانا شروع کردیا
چندہ سمجھ گئ تھی وہ اس کی یہ حالت دیکھ کر خوش ہے
چندہ نے جاتے جاتے کرسی کو صیح زور سے لات ماری اور باہر نکل گئ
چندہ نے اب کار گھر کی طرف موڑ دی تھی
اور دل ہی دل میں ایک خوف سا بیٹھا تھا
یا اللہ باپ کا سایہ چھینے کے بعد لوگ اپنے رنگ بدل دیتے ہیں
لیکن اتنی جلدی رنگ بدل دے گیں میں سوچ نہی سکتی اب چندہ نے آوازوں کے ساتھ رونا شروع کر دیا تھا
💞💞
جی سر
سلمان الیاس کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے بولا
بیٹھو الیاس چئیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
تھینک یو سر سلمان بیٹھتے ہوۓ بولا
سلمان میں آپ کو ایک گیم دوں گا
جو لوگ انٹرویو کے لیے آئیں گیں
انہیں یہ گیم دینی ہے
اس گیم کے ٹوٹل لیول 8 ہے
جو اس گیم کے لیول کراس کرلے گا
اسے اس آفس میں رکھ لینا ہے
بٹ سر انٹرویو کے لیۓ تو بہت سارے لوگ آئیں گیں
اگر سب نے ہی کراس کر لیۓ لیول
تو سب کو تو نہیں رکھ سکتے
سلمان پریشانی سے بولا
سب سے پہلے اس انٹرویو کے لیۓ آپ نے اٹھارہ سال سے لے کر پچیس سال تک کے نوجوانوں
کا انٹرویو لینا ہے
اس میں آپ کو ان سے کومن سنس کے سوال کرنے ہیں مثلا (ایک کلو لوہے کا وزن زیادہ ہوتا ہے یا پھر ایک کلو روئ کا
ایک اور مثال دیتا ہوں ایک فٹبال کا کتنا ویٹ ہوتا ہے)
لائیک اب یہ ایزی سوال مت پوچھ لینا
ٹف سے ٹف سوال پوچھنا ان سے
اور ہوسکتا ہے میں آکر آپ سے پوچھ بھی لوں سوالات کے بارے میں الیاس بولا
پھر جو ٹھیک جواب دیں گیں انہیں سلیکٹ کرنا ہے
لیکن یہ سوال تب تک کرنے ہیں
جب تک آٹھ بندے آپ کے پاس نہ ہو جائیں
اس کے بعد جو آٹھ بندے آپ نے سلیکٹ کیۓ ہونگے
اسے یہ گیم دینی ہے ۔
ان میں سے 💯 (سو پرسنٹ) تین بندے یہ گیم حل کر لیں گیں
انہیں یہ جوب مل جاۓ گی اوکے الیاس اپنی پوری بات کر کے سلمان کو دیکھنے لگا جو کافی حیران تھا
Any doubt
الیاس سلمان سے بولا
No sir
سلمان مسکرا کر بولا
💞💞
چندہ جیسے گھر پہنچی تو اپنے روم میں گھسی
اپنے روم سے تقریباً دو ڈھائی لاکھ روپے نکالیں
پھر
آفاق صاحب کے روم میں گئ
وہاں تقریباً بارہ لاکھ روپے کیش تھا اور آفشین صاحبہ کی جیولری پڑی تھی
سب کچھ سمیٹ کر باہر نکلی
تو میڈ باہر کھڑی تھی
چندہ بیگم کیسے ہیں صاحب اور میڈم
چندہ خاموش کھڑی تھی
چندہ نے جیسمین کو کال ملائ
ہیلو جیسمین بولی
جیسمین مجھے پیسو کی ضرورت ہے چندہ بولی
میری جان تمہیں پیسے چاہیے کیا بات ہے جیسمین خوشی سے بولی
ہاں مجھے چاہیۓ چندہ غصے سے بولی
اچھا اچھا کتنے چاہیۓ جیسمین ڈرتے ہوئے بولی
پندرہ سے بیس لاکھ تک
کییییییااااا جیسمین کیا کو بہت لمبا کرتے ہوئے بولی
ہاں
چندہ جانتی تھی وہ اتنی رقم آرام سے دے سکتی ہے لیکن
پھر بھی اس نے نہ کیا
چندہ تمہارہ دماغ تو خراب نہیں ہے اتنی بڑی رقم میں کہاں سے دے سکتی ہوں جیسمین بولی
چندہ نے بنا کچھ کہے کال کاٹ دی
چندہ بیگم میرے پاس تین لاکھ روپے کیش پڑا ہے اور کچھ گولڈ بھی ہے
اور تقریباً وہ گولڈ چار سے پانچ لاکھ تک ہوگا چندہ کی وہی میڈ آج کام آرہی تھی جس سے چندہ بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی
جس سے اس نے بدتمیزی کی تھی
لے آئیں آنٹی چندہ زمین پر بیٹھتے ہوئے بولی
وہ بھاگ کر اپنے کواٹر میں چلی گئ
جبکے چندہ لیو کو کال کرنے لگی
لیو پہلے کال ریسیو نہیں کر رہا تھا
پھر اسنے اپنا موبائیل آف کردیا
چندہ کو صیح معنوں میں پتہ چلا تھا کے
ماما ڈیڈی ان سے ملنے جلنے میں کیوں روکتے تھے
اچانک ہاسپٹل کے نمبر سے چندہ کو کال آنے لگی
چندہ نے فٹافٹ کال ریسیو کی
ہیلو چندہ بولی
(مريضتك ستكون في مزاج سيء جدا وهي تتصل بك منذ فترة طويلة يجب أن تصل بسرعة)
آپ کی پیشنٹ کی طبعیت بہت خراب ہوگئی ہے
وہ کب سے آپ کو پکار رہی ہے آپ جلدی سے پہنچ جائیں
چندہ کال کاٹ کر واپس کھڑی ہوئ
اور بنا اپنی میڈ کا ویٹ کیۓ باہر نکل گئ
💞💞
لائبہ اپنے کیبن میں بیٹھی
کام کر رہی تھی
جب زارا نے اسے پکارا
لائبہ
بولو
لائبہ مصروف انداز میں بولی
یہ حنین تمہاری کوئ رشتے دار ہے زارا ہچکچاتے ہوئے بولی
نہیں تو حنین جسٹ میری دوست ہے اور کسی بات کی انویسٹیگیشن کرنی ہے
لائبہ بولی
نہیں جی ایک بات کیا کر لی تیور ہی دیکھانے لگ گئ ہو
زارا غصے سے بولی
سوری لائبہ ایکدم کھڑی ہوئ
وہ گھر میں کچھ مسلے ہیں تو میرا موڈ بہت خراب رہتا ہے
سورییییییی لائبہ مسکرا کر بولی
اب تم نکلو یہاں سے ڈفر زارا نے اپنا بدلہ پورا کرتے ہوئے لائبہ سے بدتمیزی کر کے مڑی
لیکن زارا کے مڑتے ساتھ ہی اس کے چودہ طبق روشن ہو گۓ تھے
سامنے الیاس کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا
جبکے الیاس کے پیچھے کھڑی حنین اپنی ہنسی کنٹرول کرتے کرتے لال سرخ ہو گئی تھی
اور اچھل اچھل کر زارا کو دیکھ رہی تھی
💞💞
چندہ جیسے ہی آئ سی یو میں آئ
تو اس کی ماما پٹیوں میں جکڑی ہوئی تھی
آفشین صاحبہ کے چہرے پر کٹ کٹ کے بھر پور نشان تھے
کمر کی ہڈی بھی ٹوٹ چکی تھی
اور دماغ پر بھی بہت گہری چوٹ آئ تھی
ماما چندہ ہلکی سی آواز میں روتے ہوئے بولی
رونا نہیں بیٹا آفشین صاحبہ کی آواز حد سے زیادہ کم تھی
میری بات سنو آفشین صاحبہ بولی
بولیں ماما بولیں چندہ اپنے آنسو صاف کر کے اپنے کان آفشین صاحبہ کے ہونٹ کے قریب لے گئ
میں نہیں بچ سکوں گی
ماما ایسے تو نہ بولیں اللہ پاک آپ کا سایہ تو لازمی ہمارے سر پر رکھیں گیں
چندہ روتے ہوئے بولی
شششش آفشین صاحبہ نے چندہ کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا
تو چندہ پھر سے خاموش ہوگئ
اب سے تم ہماری چندہ نہیں اپنے بھائیوں کی حنین آپی ہو سمجھی
اب میں یا تمہارے ڈیڈ تمہارے ساتھ نہیں ہیں
تم نے خود سب کچھ کرنا ہے حنین
اپنے آپ کو اپنے بھائیوں کو سنبھالنا ہے
اب میری بیٹی چندہ نہیں حنین صدیقی ہے
آفاق صدیقی کی بیٹی کیونکہ چندہ ہماری لاڈلی تھی اب جبکے ہم نہیں رہے تو ہماری چندہ بھی نہیں
اب تم اپنے بھائیوں کی حنین آپی ہو
آفشین صاحبہ آگے بھی بولنے کی کوشش کر رہی تھی
لیکن ہرٹ بیٹ چیک کرنے والی مشین نے شور سٹارٹ کردیا
سب ڈاکٹرز اس شور کی آواز سن کر جمع ہوگۓ
تو چندہ نے تیز تیز آواز میں اپنی ماما کو پہلا کلمہ پڑھانا شروع کردیا
ماما
لَآ اِلٰهَ پڑھیں چندہ روتے ہوئے بولی
اِلَّااللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ. پڑھیں
چندہ نے روتے ہوئے اپنی ماما کو کلمہ پڑھایا
آفشین صاحبہ نے جیسے ہی کلمہ پڑھا تو ان کی روح نکل گئ
جبکے چندہ بلکل ٹوٹ چکی تھی
رونے کے لیۓ آنسوں ختم ہوگۓ تھے
سوچنے کے لیۓ تمام غم یہاں پر آکر ختم ہوگئے تھے
چندہ اپنی ماما اور ڈیڈ کی باڈی لے کر پہنچی تو
آفاق صاحب کے کچھ دوست تھے
اور دو تین عورتیں تھی جو چندہ کو ہی دیکھ رہی تھی
جو بلکل خاموش ایک سائیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی
اپنے نانو اور مامو کو بھی کال کر دی تھی
وہ پاکستان میں تھے
اس لیۓ وہ ابھی تک نہیں پہنچے تھے
آفاق صاحب کو ان کے دوستوں نے غسل دیا
اور آفشین صاحبہ کو دو تین عورتوں نے مل کر غسل دیا
جنازہ ابھی تک اس لیۓ نہیں لے کر جارہے تھے کیونکہ چندہ کے نانو اوری کا انتظار ہو رہا تھا
آذان اور آذنان دونوں کا رو رو کر برا حشر ہوگیا تھا
جبکے چندہ بلکل خاموش اور اپنا سر گھٹنوں میں دیۓ بیٹھی تھی
جب اچانک آذان نے شور کیا
نانو آگئ آذان چیختے ہوۓ بولا
چندہ کی نانو مامی اور ماموں آۓ تھے
انہوں نے میت دیکھتے ساتھ ہی رونا پیٹنا شروع کر دیا
ہاۓ میری بچی
ہاۓ حاشر دیکھ اپنی بہن کو اسے کیا ہوگیا
ہاۓ میرے اللہ یہ کیا کردیا
میری بچی کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوگۓ
چندہ کی نانو روتے ہوئے بول رہی تھی
جبکے چندہ کی ہمت بلکل ختم ہوگئی تھی
کلمہ شہادت
اللہ ہو اکبر
آدمیوں نے مل کر آفاق صاحب کا جنازہ اٹھایا تو چندہ نے ایکدم رونا شروع کردیا
نانو
نانو جی دیکھیں نہ ڈیڈی کو لے کر جارہے ہیں
چندہ ہچکیاں لیتے ہوئے بول رہی تھی
جبکے چندہ کی مامی چندہ کو خاموش کروانے لگی
چندہ بچے اللہ کی امانت تھی
جو اللہ نے واپس لے لی
ہم تو کچھ نہیں کرسکتے بس دعا کے علاوہ
مامی جی ہم کیسے رہیں گیں ان کے بنا چندہ اپنے موٹے موٹے آنسو نکالتے ہوئے بول رہی تھی
بس بچے چپ کرو سب سے پہلے اللہ ہےاور پھر ہم ہے نہ آپ کے ساتھ
اب آفشین صاحبہ کا جنازہ اٹھانے آۓ
تو چندہ نے چیخنا شروع کر دیا
نہیں لے کر جائیں میری ماما کو ہٹیں سب یہاں سے چندہ چیختے ہوئے بولی
تو مرد پیچھے ہٹے
چندہ کے مامو نے چندہ کی مامی کو اشارہ کیا
کے اسے پیچھے کرے
دو تین عورتوں نے چندہ کو پیچھے کیا اور جنازہ اٹھا لیا
جیسے ہی جنازہ اٹھا کر لے گۓ
تو چندہ بے ہوش ہوگئ
چندہ بیڈ پر بے ہوش پڑی تھی
جب ایک عورت نے آٹھ کر اس پر پانی کے چھٹکاؤ کیۓ
تو وہ ہوش میں آگئ
چندہ بچے رونا نہیں اوکے چندہ کی مامی قریب ہوتے ہوئے بولی
میری ماما کو بھی لے گۓ چندہ ماصوم نہ انداز میں بولی
جی آپ کی ماما کو بھی لے گۓ
چندہ کے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگ گۓ
چندہ اب بس کرو
اپنی پیکنگ کرو
اپنے بھائیوں کی پیکنگ کرو
ہم پرسوں کی صبح پاکستان جائیں گیں چندہ کے مامو جیسے آئیں تو تیز آواز میں بولیں
میں آپ لوگوں کے ساتھ پاکستان نہیں جاؤں گی چندہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
یہ کیسی بات کر رہی ہو چندہ تم
تمہارہ دماغ تو خراب نہیں ہوگیا
یہاں اکیلی کیسے رہو گی
چندہ کے مامو غصے سے بولے
میں اب سے چندہ نہیں حنین صدیقی ہوں
آفاق صدیقی کی بیٹی یہ میری ماما نے کہا تھا
اور انہوں نے خود کہا تھا کے میں اب اپنے بھائیوں کا خیال رکھوں گی سمجھے آپ سب
چندہ بولی
چندہ کے مامو جانتے تھے یہ بہت ضدی ہے ایک بار جو بات کر لے پھر وہ پتھر کی لکیر بن جاتی ہے
اس لیۓ خاموش ہوگئے
رات کے گیارہ بج چکے تھے
چندہ کھانا کھالو صبح کا تم نے کچھ نہیں کھایا چندہ کی مامی بولی
بولا ہے نہ آپ سے مجھے چندہ نہ کہیں
حنین کہیں سمجھ گئ آپ
چندہ غصے سے بولی
اچھا حنین کھانا کھا لو
مامی بھوک نہیں ہے جب ہوگی تب کھالوں گی حنین بول کر لیٹ گئی
چندہ سوری میرا مطلب حنین
تم بھی کھانا نہیں کھا رہی
تمہارے بھائ بھی نہیں کھارہے
ایسے کب تک چلتا رہے گا
مامی آذان اور آذنان نے کھانا نہیں کھایا حنین پریشانی سے بولی
ہاں انہوں نے نہیں کھایا کھانا
حنین نے بنا کچھ کہے کچن کی طرف رخ کیا
اور وہاں سے نوڈلز کے پیکٹ نکال کر بناۓ
اور اسے آذان اور آذنان کے روم میں لے گئ
دونوں بھوکے پیٹ اوندھے منہ لیٹے ہوئے تھے
آذان حنین نے آواز دی
اور نوڈلز کو ٹیبل پر رکھا
لیکن آذان ٹس سے مس نہیں ہوا
حنین نے اب کی بار اذان اور آذنان کو اٹھا کر کھڑا کردیا
آپی کیا ہوا
آذان انگڑائی لیتے ہوئے بولا
چپ کرو آپی کے بچے
کھانا کھاؤ حنین دونوں کو بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے بولی
کیا کھانا ہے آذان بولا
سبزی حنین بولی
آذنان اور آذان دوبارہ بیڈ پر لیٹ گۓ
ہم نے نہیں کھانی سبزی دونوں ایک آواز میں بولے
ہاہاہا مزاق کر رہی ہوں نوڈلز ہیں اٹھ کر کھاؤ چلو
نوڈلز کا نام سنتے ہی دونوں واپس بیٹھ گۓ
اور نوڈلز کو کھانا سٹارٹ کر دیا
آپی آپ بھی کھاۓ نہ آذان بولا
نہیں میرا موڈ نہیں ہے میں نے ابھی کھانا کھایا ہے حنین مسکرا کر بولی
جبکے آذنان روک گیا
آپی آپ ہمارے ساتھ نوڈلز کھائیں ورنہ ڈیڈی آئیں گیں تو ان سے آپ کی شکایت کروں گا
ڈیڈی اور ماما دونوں کبھی نہیں آئیں گیں
اب ہم نے ان کے پاس جانا ہے لیکن کچھ بن کر حنین بولی
اچھا آپی کیا بن کے جانا ہے آذان نوڈلز کھاتے ہوئے بولا
اچھا اور نیک انسان حنین مسکرا کر بولی
اچھا آپی ہم ماما ڈیڈی سے ملنے کہاں جائیں گیں آذان نے اگلا سوال بھی حاضر کردیا
چلو اب بس کرو کھانا کھاؤ
باتیں بند کرو
حنین آڈر دینے والے انداز میں بولی
دونوں خاموش ہوکر اپنا اپنا کھانے لگے
آج حنین کے مامو مامی اور نانی سارے واپس پاکستان جارہے تھے
حنین اب بھی کہ رہا ہوں آجاؤ پاکستان یہاں اکیلے کیا کرو گی کیسے منیج کرو گی ساری چیزیں
مامو آپ ٹینشن نہ لیں میں مینج کرلوں گی سب کچھ اور اگر نہ ہو پایا تو پاکستان آجاؤ گی حنین مسکراتے ہوئے بولی
چلو بیٹا اپنا اور اپنے بھائیوں کا خیال رکھنا کسی بھی چیز کی ضرورت ہوئ تو بتا دینا
ابھی کچھ پیسے تمہارے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروا دیۓ ہیں
اور پاکستان جا کر کرواؤں گا
مامو کیا ضرورت ہے پیسو کی رہنے دیتے آپ
حنین اداسی سے بولی
ہمم تمہیں ضرورت نہیں ہوگی لیکن میرے بچو کو ضرورت ہے سمجھی مامو آذان اور آذنان دونوں کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا
اچھا جی
وہ سارے پاکستان کے لیۓ نکل گۓ تھے
ان کے نکلتے ہی حنین نے اپنے روم میں آکر روم کو لوک کردیا
اور اخبار اٹھا کر آٹھ سے دس جگہ پر جاب کے لیۓ آپلاۓ کیا
آج ون ویک گزر چکا تھا
لیکن کہی سے بھی جاب کے لیۓ کال نہیں آئ تھی
اور حنین بہت زیادہ پریشان تھی
کے اب اسے پاکستان نہ جانا پڑ جاۓ
حنین نے آج کا اخبار کھولا تو اس میں الیاس کی کمپنی کا ایڈ تھا جس میں ان کو ورکرز کی ضرورت تھی
اس کے انٹرویو کے لیۓ حنین چلی گئ
اور پھر وہاں سے چندہ کی زندگی کا آغاز حنین سے ہوا
💞💞
سر سوری وہ زارا سوچتے ہوۓ بولی
جبکے الیاس بنا کچھ کہے
پیچھے مڑگیا جہاں حنین اچھل رہی تھی
الیاس کے مڑنے پر ایکدم سے سیدھی کھڑی ہوگئ
آپ تینوں کے بیچ میں کوئ بھی بات ہے اسے حل کرلیں
پہلے بھی کہ چکا ہوں کے آفس کا ماحول اچھا رکھیں نہ کے ایسا الیاس تینوں کو گھورتے ہوئے بولا
حنین
الیاس نے حنین کو پکارا
یس سر آپ اپنے گھر جائیں اور وہاں سے بیگ پیک کر کے ائیر پورٹ کے لیۓ نکل جائیں ہماری آج کی فلائیٹ ہے اوکے
بٹ سر ابھی تو میری کوئ تیاری نہیں ہے میں نے لائبہ کے ساتھ مل کر کچھ شاپنگ بھی کرنی ہے حنین پریشانی سے بولی
اوکے
آپ اور لائبہ ابھی نکل جائیں شاپنگ کے لیۓ
لیکن ایک گھنٹہ پہلے ائیرپورٹ پہنچ جائیے گا
اوکے سر حنین بولی
الیاس جیسے باہر نکلا
تو لائبہ اور حنین خوشی سے ایک دوسرے سے گلے مل
بہت مزا آنے والا ہے لائبہ میڈم
حنین بال پیچھے پھینکتے ہوئے بولی
ہاں جی بلکل مزا آۓ گا
💞💞
💞💞
حنین اور لائبہ دوبئ مال آئ ہوئ تھی
جو دوبئ کا سب سے بڑا اور جانا مانا مال ہے
یہاں پر لوگ اس لیۓ بھی آتے تھے
تا کے برج خلیفہ کو بھی دیکھ سکیں
برج خلیفہ دوبئ کی سب سے بڑی بلڈینگ ہے
یار حنین یہ کیا تم بچو کی شاپنگ کری جارہی ہو
پہلے دو چاکلیٹس کے ڈبے لیۓ
پھر ٹیڈی بیئر لیۓ وہ بھی دو
اب بچو والے کپڑے لے رہی ہو وہ بھی ایک جیسے اور دو دو
بتا بھی دو یہ کونسے شہنشاہ ہیں جن کی اتنی ساری چیزیں لے رہی ہو اور اپنی ایک بھی چیز ابھی تک نہیں لی لائبہ غصے سے بولی
یہ دو میری بھائ ہیں وہ بھی ٹوینس
میں ان دونوں کو ہر چیز سیم لے کر دیتی ہوں
ابھی دو تین دن کے لیۓ باہر جارہی ہوں
تو وہ لازمی ناراض ہو گیں اس لیۓ یہ سب چیزیں دے کر انہیں ناراض ہونے سے پہلے ہی منا لوں گی
حنین ہنستے ہوئے بولی
ارے واہ بچے پیرنٹز کے ساتھ فرینک ہوتے ہیں
اور یہاں پر دیکھو اپنی بڑی بہن کے ساتھ ہے
لائبہ ہنستے ہوئے بولی
جبکے پیرنٹز کا نام سنتے ہی حنین کو اپنا ماضی ایک بار پھر سے یاد آگیا
حنین ابھی بھی شاپنگ کر ہی رہی تھی
جب اس نے ٹائیم دیکھا چھ بج کر پچیس منٹ ہوگۓ ہیں
لائبہ میڈم ٹائیم بہت تھوڑا رہ گیا ہے میں نے ابھی تک پیکنگ بھی نہیں کی چلو گھر چلیں
حنین شور کرتے ہوۓ بولی
چلو چلو لائبہ بھی حنین کا ساتھ دیتے ہوئے بولی
لائبہ اور حنین جیسے ہی گھر پہنچے تو تو آذان اور آذنان دونوں کھیل رہے تھے
حنین کو دیکھتے ہی اس کے پاس دوڑے آۓ
آپی آج آپ اتنی جلدی آگئ دونوں خوشی سے بولے
ہاں لیکن پہلے یہ والی آپی سے ملو
حنین لائبہ کا تعارف کرواتے ہوئے بولی
ہیلو آذان ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا
اسلام علیکم بولتے ہیں بیٹا لائبہ مسکرا کر بولی
سوری آسلام علیکم آذان نے دوبارہ ہاتھ پیچھے کر کے آگے بڑھایا وعلیکم اسلام
آذنان نے بھی پھر اپنا تعارف کروایا
اچھا بچو میری بات سنوں میں
میں آپ لوگوں کے لیۓ کیا لائ ہوں دیکھو زرا حنین بیگز کھولتے ہوئے بولی
آذان اور آذنان نے اپنی ساری شاپنگ دیکھی تو بہت زیادہ خوش ہوگۓ تھے
ایک اور بات بھی سنو میری حنین خفگی سے بولی
تین دن کے لیۓ گھر نہیں آؤں گی میں نے یورپ جانا ہے اوکے حنین بولی
تو آذان اور آذنان کا موڈ آف ہوگیا
حنین لائبہ نے پکارا
ہاں بولو
حنین لائبہ کی طرف متوجہ ہوئ
مجھے اپنا روم بتا دو میں تمہارا بیگ پیک کر دوں تب تک تم ان کو سمجھا دو
اوکے جی تھینکیو جناب حنین مسکرا کر بولی
تھینکیو بعد میں کر لے نہ پہلے روم بتا دو
ہاں سیدھا جاکر رائیٹ میں دو سیڑھیوں کے نیچے میرا روم ہے
لیکن سیڑھیوں کے ساتھ والا سامنے والا نہی اچھا حنین بولی
اچھا جی جناب
لائبہ اٹھ کر چلی گئ ۔
دیکھو آپ دونوں میری بات سنو حنین آذان اور آذنان سے بولی
بولیں دونوں اداسی سے بولے
اگر آپ لوگ مجھے ایسے بھیجو گے تو میں بھی اداس ہو جاؤں گی پھر میٹینگ صیح سے نہیں اٹینڈ کر پاؤں گی
اور پھر میٹینگ خراب ہوگئ تو باس مجھے ڈانٹے گیں حنین اداسی سے بولی
آپی ہم کہاں ناراض ہیں آذان ایک دم فریش موڈ کے ساتھ بولا
آپ جائیں اچھے سے اپنا کام کریں ہماری بلکل بھی ٹینشن نہ لیں ہم اب بڑے ہوگۓ ہیں آذنان دانت نکالتے ہوئے بولا
اچھا جی حنین بھی مسکرائی
اچھا آپ دونوں کھیلو میں لائبہ آپی کو دیکھ کر آؤں حنین کھڑے ہوتے ہوئے بولی
جی آپی دونوں بھائی آپس میں کھیلنے لگے
حنین اٹھ کر روم میں آگئ
پیکنگ ہوگئ ہے کیا حنین روم کا دروازہ کھولتے ہوئے بولی
ہوگئ پیکنگ یہ لو بیگ
تھینک یو سو مچ حنین دل سے شکریا ادا کرتے ہوئے بولی
ویلکم لائبہ مسکرا کر بولی
حنین تمہارے ماما بابا کہاں ہے لائبہ ہچکچاتے ہوئے بولی
ان کی ڈیتھ ہوگئ ہے حنین اپنا بیگ لے کر نکلتے ہوئے بولی
سو سوری لائبہ خفگی سے بولی
اٹس اوکے حنین بنا کسی
ری اکشن سے بولی
کیسے ہوئ ڈیتھ انکل آنٹی کی
بہت لمبی سٹوری ہے پھر کبھی سناؤں گی
ابھی دیر ہورہی ہے حنین دوڑتے ہوۓ بولی
اوکے اوکے اللہ حافظ حنین باہر کی طرف دوڑتے ہوۓ بولی
اپنا خیال رکھنا
میں کچھ دیر آذان اور آذنان کے ساتھ کھیل کر گھر چلی جاؤں گی
صیح ہے لائبہ بولی
ہاں ٹھیک ہے حنین بول کر ائیر پورٹ کے لیۓ نکل گئ
💞💞
قاسم اور مبین خوشی کے مارے پاگل ہونے والے تھے
الیاس کے جانے پر
یار شکر شکر شکر سر چلے گۓ ہیں
اب کچھ دن سکون کے گزریں گیں مبین خوشی سے چہک کر بولا
اتنا نہ پھیلو سر کو ہر چیز کی خبر ہوتی ہے
سمجھے
ہاں بھائ پتہ ہے مجھے مبین اعجیب سی شکل بنا کر بولا
💞💞
حنین ائیر پورٹ میں آئ تو الیاس کو کال کی
ہیلو سر آپ کہاں ہے حنین تیز تیز چلتے ہوۓ بول رہی تھی
جبکے الیاس کونے میں چئیر پر گلاسس لگاۓ بیٹھا تھا
وہ حنین کو دیکھ سکتا تھا لیکن حنین اسے نہیں دیکھ پارہی تھی
سر آپ کونسی جگہ پر بیٹھیں ہیں مجھے تھوڑا گائیڈ کریں
حنین کی زور دار ٹکر اچانک ایک لڑکے سے ہوئ
اندھے کہیں کے نظر نہیں آتا حنین اپنا موبائیل اٹھاتے ہوۓ بولی
موبائل گرنے کی وجہ سے شیشہ بھی ٹوٹ گیا تھا
جبکے سامنے کھڑا لڑکا اسکے دیدار میں مصروف تھا
حنین جیسے کھڑی ہوئ تو جعفر کو دیکھ کر آگ بگولی ہوگئ
ہٹو میرے راستے سے حنین غصے سے بولی
میری جان اب میں تو تمہارے ہر راستے میرے سے شروع ہوتے ہیں اور مجھ ہی پر ختم
جعفر حنین کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ بولا
چھوڑو میرا ہاتھ بے غیرت انسان اگر اب کی بار تھپڑ لگا تو تمہاری عزت میں کچھ نہیں بچے گا سمجھے حنین غصے سے بولی
میری فکر چھوڑو اپنی عزت کی فکر کرو
یہاں کھڑے کھڑے تمہاری عزت تار تار کرسکتا ہوں
پھر ہاتھ ملتی رہ جاؤ گی سمجھی
ہاتھ چھوڑو میرا حنین آگے پیچھے دیکھتے ہوئے بولی
اتنا کیوں ڈر رہی ہو باپ تو تمہارہ مر گیا
کوئ بواۓ فرینڈ آیا ہے تمہارہ جعفر دوبارہ بدتمیزی کرتے ہوئے بولا
اپنی زبان کو لگام دو جعفر اور میرا ہاتھ چھوڑو حنین اپنا ہاتھ چھوڑواتے ہوۓ بولی
نہیں چھوڑتا کیا کرلو گی
جعفر ڈھیٹ بنتا ہوا بولا
چھوڑنا تو آپ کو پڑے گا مسٹر ایکس واۓ ذی الیاس نے کہتے ساتھ ہی حنین کو پکڑ کر اپنے پیچھے کردیا
جعفر پھٹی آنکھوں سے سامنے کھڑے الیاس کو دیکھ رہا تھا
اور حنین الیاس کے اسطرح سامنے آجانے پر سکون میں آئ تھی
جاری ہے