No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
special_long_ep🎈🎈
حنین نے نرگس اور لائبہ کو ان کے گفٹز نکال کر دیۓ
ارے بیٹا اس کی کیا ضرورت تھی نرگس صاحبہ اداسی سے بولی
ضرورت تو اس کی نہیں ہے آپ کو لیکن میری طرف سے چھوٹا سا گفٹ ہے پلیز رکھ لیں
حنین بہت پیار سے بولی
تھینکیو نرگس اور لائبہ مسکرا کر بولی
ویلکم حنین بھی مسکرائی
آنٹی حنین اپنی میڈ کو دیکھتے ہوئے بولی
جی حنین میڈم
میڈ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
ارے بیٹھ جائیں حنین اپنی میڈ کو بیٹھاتے ہوئے بولی
اچھا میڈ مسکرا کر بولی
یہ آپ کے لیۓ حنین ان کا گفٹ پکڑاتے ہوئے بولی
شکریہ میڈ خوش ہوتے ہوئے بولی
آپی ہمارے گفٹز کہا ہیں آذان اور آذنان ایک ساتھ بولے
آپ کے گفٹز گھر میں دوں گی ابھی ٹائیم نہیں ہے
حنین کھڑے ہوتے ہوئے بولی
یسسسس اپنے گھر جارہے ہیں
آذان خوش ہوتے ہوئے بولا
ہاہاہا حنین ہنسنے لگی
ارے حنین یہیں رات گزار لو کل گھر چلی جانا
ابھی اتنی دیر ہوگئی ہے
نرگس صاحبہ روکتے ہوئے بولی
نہیں نہیں آنٹی گھر جانا چاہتی ہوں
آپ لوگوں نے بہت بڑا احسان کیا ہے میں کبھی نہیں بھولوں گی
بہت بہت بہت شکریہ حنین دل سے بولی
بیٹا اس بات کو بھول جاؤ نرگس صاحبہ پیار سے بولی
اب یہی رہ لائبہ بیچ میں بولی
نہیں لائبہ یار میں اپنے روم کو بیت مس کر رہی ہوں وہاں جاکر سونا چاہتی ہوں حنین مسکرا کر بولی
اوکے لائبہ اداس ہو کر بولی
ناراض نہ ہو میری جان صبح پھر ملاقات ہو گی
ہاں یہ بھی ہے لائبہ خوش ہوتے ہوئے بولی
💞💞
حنین نے اذان اور آذنان کو ان کے سارے گفٹز نکال کر دے دیۓ تھے
ابھی وہ لوگ باہر بیٹھے ڈیسکش کر رہے تھے
جب جعفر آیا
آذان آپ کی آپی کدھر ہے
جعفر ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
بھائ آپ آذنان تو ڈر کر کھڑا ہو گیا تھا
جی میں
کدھر ہے چندہ جعفر غصے سے بولا
وہ سورہی ہیں آذان بولا
اچھا کہاں تھے آپ دو دن سے جعفر نے اذان کو پکڑ کر اپنی گود میں بیٹھایا
وہ ہم ان کی فرینڈ کے گھر تھے آذان جعفر کو بتانے لگا
جبکے آذنان حنین کے پاس بھاگ کر چلا گیا اور آپ کی آپی کدھر گئ تھی
جعفر اور بھی باتیں نکالتے ہوئے بولا
وہ یورپ گئ تھی ان کی میٹنگ تھی آذان بولا
💞💞
آپی حنین لیٹی ہوئی تھی
جب آذنان نے آواز دی
کیا ہوا آذنان
حنین بیٹھتے ہوئے بولی
باہر جعفر بھائ آئیں ہیں
کیا حنین ایک دم بیڈ سے اترتے ہوئے بولی
جی آپی آپ جلدی سے باہر چلیں
آذنان گھبراتے ہوئے بولا
اچھا چلو حنین آذنان کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی
💞💞
جعفر آذان سے سوال پر سوال کر رہا تھا
اور وہ اس کے سوالوں کا جواب دے رہا تھا
ہوگۓ تمہارے سوال تو نکلو یہاں سے
حنین جعفر کی گود سے آذان کو اتارتے ہوئے بولی
نہیں تو چندہ ابھی تو تم سے سوال کرنے ہیں جعفر حنین کے قریب قریب آتے ہوئے بولا
میں تمہارے کسی بھی سوال کہ جواب دینے کی پابند نہیں ہوں سمجھے
حنین غصے سے بولی
اور اب نکلو میرے گھر سے
ایسے کیسے نکلوں میری اور تمہاری منگنی تین سال سے تھی
جعفر وہ تھی ہے نہیں
ختم ہوگئے ہیں ہمارے رشتے
بلکے ختم نہیں ہوۓ تمہارے ماں باپ اور تم نے ختم کیۓ ہیں
اس لیۓ فضول بکواس سے اچھا ہے تم یہاں سے نکلو
عزت سے بات کرو سمجھی جعفر بولا
عزت انہیں ہی دی جاتی ہے جو دوسروں کو بھی دیں
حنین غصے سے بولی
جعفر نے حنین کا بازو زور سے پکڑا
چھوڑیں ہماری آپی کو بھائ
آذان اور آذنان جعفر کو پیچھے ہٹاتے ہوئے بولیں
ہٹو اوۓ جعفر نے اذان اور آذنان کو پیچھے دھکا مار کر حنین کو روم میں لے گیا
جعفر چھوڑو میرا ہاتھ
یہ کیا بدتمیزی ہے حنین دروازے کو پکڑتے ہوئے بولی
جعفر اسے گھسیٹتے ہوئے سیدھا روم میں لے گیا
اور دروازا لوک کردیا
جعفر اپنی اوقات میں رہو سمجھے ورنہ
ورنہ کیا بولو جعفر نے جھٹکے سے حنین کو کمر سے پکڑ کر اپنے قریب کردیا
جاہل آدمی حنین نے تھپڑوں کی بوچھاڑ جعفر کے منہ پر کردی
اچانک حملے پر جعفر کو سمجھ نہیں آئی لیکن پھر ایک دم حنین کا ہاتھ پکڑ کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا
حنین نے اپنے آپ کو چھڑوانے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی
جیسے ہی دروازے پر دزدزدز کی آوازے آئ تو جعفر نے حنین کو پیچھے دکھا مارا
جلد ہی تم میرے روم میں ہوگی جعفر ہنستے ہوئے بولا
ویسے لڑکیوں کو ضرورت سے زیادہ زبان اور ہاتھ نہیں چلانے چائیں ورنہ ان کا یہ حشر ہوتا ہے
جعفر کہکا مارتے ہوئے بولا
جبکے حنین اپنے ہونٹوں پر زور زور سے کپڑا رگڑ رہی تھی
اور ساتھ بند آواز سے رو بھی رہی تھی
دروازے پر اب زور زور سے دستک ہورہی تھی
جعفر نے دروازا کھولا تو ایک آدمی جو ان کے گیٹ کا گارڈ تھا
اور حنین کی میڈ بھی کھڑی تھی
یہاں سے ابھی نکلو گارڈ اپنی پستول نکالتے ہوئے بولا
میں دوبارا آؤں گا پوری تیاری سے سمجھ گئ نہ چندہ
جعفر معنی خیزی سے بول کر چلا گیا
جبکے گارڈ واپس گیٹ کے پاس بیٹھ گیا
اور حنین کی میڈ آذان اور آذنان کو اندر لے گئ
حنین کافی دیر سے اپنے آنسو بہا رہی تھی
جب میڈ اندر آئ
اور حنین کے پاس ہی بیٹھ گئ
حنین میڈم پلیز چپ ہو جائیں
وہ حنین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
جبکے حنین اپنی میڈ کے گلے لگ کر اونچا اونچا رونے لگ گئ
اتنا شاہد حنین اپنے ماں باپ کے جنازے پر بھی نہ روئ ہو جتنا ابھی رو رہی تھی
آنٹی کیوں کیا اس گھٹیا نے میرے ساتھ
کیوں کیوں حنین چیختے ہوئے بولی
بیٹا اس نے جو بھی تمہارے ساتھ کیا ہے وہ اس کے اپنی ماں بہن بیٹی بیوی سے نکلے گا اگر چہ تم اپنا فیصلہ اللہ پاک پڑ چھوڑتی ہو تو
حنین میڈم آپ فکر نہ کرو بس اپنے اللہ پر پر چھوڑ دو وہ بہتر انصاف کرنے والا ہے
حنین اب بھی روۓ جارہی تھی
اٹھیں آپ حنین میڈم
میڈ نے حنین کو اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور اس پر بلینکٹ ڈال کر روم کی لائٹ اوف کردی
آپ سوجائیں
اللہ بہتر انصاف کرنے والا ہے ٹھیک ہے میڈ بول کر چلی گئ
جبکے حنین نے آنکھیں بند کی تو اس کی آنکھوں سے خودبخود آنسو نکلنے لگ گۓ
💕💕
حنین صبح کی اذانوں کے ٹائیم بیٹھ گئ تھی
اور حنین کو اپنی آنکھیں بہت جلتی ہوئی محسوس ہورہی تھی
کیونکہ لاکھ کوشش کرنے بعد بھی اسے نیند نہیں آئی تھی
اس لیۓ آٹھ کر آذان اور آذنان کو سکول تیار کر کے بھیج دیا تھا
اور خود آفس کے لیۓ نکل گئ تھی
💕💕
الیاس اپنے روم میں کھڑا کچھ سوچ رہا تھا
جب زارا اندر آئ
سر وہ گیم آج رات گیارہ بجے ریلیز ہوگی زارا الیاس کے پاس آتے ہوئے بولی
اوکے آج کسی کو بھی بارا بجے سے پہلے نہیں بھیجنا اوکے الیاس زارا سے بولا
اوکے زارا جانے لگی تو الیاس نے آواز دی
حنین کو اوپر بھیجو
اوکے سر
💕💕
مبین گیم تو بن گئ ہے
اب جسٹ سر کو دکھانا ہے
قاسم مبین سے بولا
ہاں نہ چلو چلیں ورنہ سر نے خود بلایا تو نئ شامت آجاۓ گی
مبین کھڑا ہوگیا
چلو قاسم بولا
دونوں الیاس کے پاس کھڑے تھے
اور الیاس نے اس گیم کو اون کی اور کھیلنا شروع کر دی
الیاس کو شروع سے بہت شوق تھا گیمز کھیلنے کا
وہ اپنی گیمز بھی کافی کھیلتا رہتا تھا
اب مبین اور قاسم کی محنت کے ساتھ بھی کھیلنے میں مصروف تھا
ایک لیول کراس کیا تو
موبائل انہیں واپس کیا
سر کیسی تھی گیم مبین پریشانی سے بولا
جبکے قاسم کا دل دھک دھک کر رہا تھا
کیونکہ اگر گیم الیاس کو پسند نہ آتی تو وہ انہیں دوبارا بنانے کے لیۓ کہتا
مجھے بلکل بھی امید نہیں تھی کے آپ کو اتنا ٹائیم دوں گا اور آپ ایسی گیم بنائیں گیں
الیاس غصے سے بولا
جبکے مبین اور قاسم پریشان ہوگۓ تھے
اور مینٹلی اپنے آپ کو تیار کردیا تھا دوسری گیم کے لیۓ
💕💕
زارا نیچے آئ تو حنین اپنے کیبن میں لائبہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی
کیونکہ الیاس نے ابھی تک حنین کو آگے کام نہیں دیا تھا
حنین ایک ضروری بات بتانی ہے لائبہ پریشانی سے بولی
بولو حنین نارمل سے انداز میں بولی
وہ لائبہ بول ہی رہی تھی زارا ٹپک پڑی
حنین آپ کو سر بلا رہے ہیں زارا ان کے پاس آتے ہوئے بولی
اچھا
آپ جائیں میں چلی جاؤں گی حنین زارا کو دیکھ کر بولی
اوکے زارا چلی گئ
بولو لائبہ حنین واپس لائبہ کی طرف متوجہ ہوئی
وہ تم جاؤ میری بات بہت لمبی ہے
بعد میں بتاؤں گی لائبہ بولی
اوکے حنین کھڑی ہوگئ
💕💕
آئ کانٹ بلیو دیس الیاس حیرانگی اور خوشی سے بولا
کیوں سر مبین بولا
جبکے قاسم کی اتنی طبعیت خراب ہو گئی تھی کے اس کے چہرے کا رنگ پیلا ہوگیا تھا
آپ دونوں نے اتنی اچھی گیم بنائ ہے میں سوچ نہیں سکتا
الیاس مبین اور قاسم کو گلے لگاتے ہوئے بولا
جبکے مبین اور قاسم کی جان میں جان ائ
میں نے دو سال آپ دونوں کے ویسٹ کیۓ ایک عام سی پوسٹ میں بیٹھا کر الیاس اداسی سے بولا
پر کوئ بات نہیں ابھی بھی دیر نہیں ہوئ
الیاس مسکرا کر بولا
آپ دونوں کی فیملی اب دوبئ میں آۓ گی
آپ لوگ اب اپنی فیملی کے ساتھ ہی رہو گے
کیونکہ اب آپ دونوں کو بہت اچھی پوسٹ ملنے والی ہے
الیاس دونوں کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
تھینکیو سو مچ سر دونوں خوش ہوتے ہوئے بولیں
حنین نے نوک کیا
کمن الیاس بولا
حنین اندر آئ سر آپ نے بلایا تھا
جی بیٹھیں الیاس چئیر کی طرف اشارا کرتے ہوئے بولا
تھینکس حنین بول کر چئیر پر بیٹھ گئ
آج آفس کے سارے ورکرز کو بہت بڑا سرپرائز ملنے والا ہے
الیاس مبین اور قاسم کو دیکھتے ہوۓ بولا
جی سر
قاسم حیرانگی سے بولا
جی ہاں ویٹ کریں
اوکے سر
سر اب جاسکتے ہیں مبین اجازت لیتے ہوئے بولا
جی الیاس بولا
تو دونوں باہر نکل گۓ
💕💕
الیاس کافی دیر سے خاموش اپنے موبائل میں لگا ہوا تھا
حنین تنگ ہوکر بولی
سر آپ نے مجھے کیوں بلایا ہے پلیز بتائیں
حنین کا دل بہت گھبرا رہا تھا اس لیۓ بولی
ائیرپورٹ پر جس لڑکے نے آپ کا ہاتھ پکڑا تھا وہ کون تھا
الیاس حنین کے سامنے والی چئیر پر بیٹھتے ہوئے بولا
وٹ حنین حیرانگی سے بولی
بتائیں الیاس بولا
آپ مجھ سے آفس کے بارے میں سوال کرسکتے ہیں
میری پرسنل لائف کے بارے میں نہیں سمجھ گۓ
حنین غصے سے بولی
چلو آج سے تمہاری پرسنل لائف کو ہماری پرسنل لائف بناتے ہیں
اور تم کیا سمجھتی ہو
تم کچھ بتاؤ گی نہیں تو پتا نہیں چلے گا مجھے
الیاس غصے سے بولا
کیا جانتے ہیں آپ میرے بارے میں بولیں حنین الیاس سے بولی
بہت کچھ الیاس ہاتھ باندھ کر بولا
Can you give me the explanation
What do you know about me
حنین غصے میں بولی
Why not
الیاس بولا
💕💕
لائبہ کے سر میں بہت درد ہو رہا تھا
اس لیۓ مبین کو آواز دی کہ وہ اس کے لیۓ کافی لے آۓ
کیونکہ قاسم اور مبین سامنے بیٹھے باتوں میں مصروف تھے
کام تو ان کا ختم ہوگیا تھا بس
اب ایک دن کا ریسٹ ملا ہوا تھا
مبین کافی لینے گیا تو
لائبہ اپنا کام کرنے لگی
لائبہ میرے پرنٹس جلد ہی آپ کے گھر آنے والے ہیں
قاسم لائبہ کے پیچھے کھڑے ہوکر بول کر چلا گیا
ہاۓ اللہ ایک تو یہ لڑکا
لائبہ پریشانی سے بولی
نہیں کرنی میں نے اس سے شادی اس سے تو کیا کسی سے بھی نہیں کرنی
کیونکہ لائبہ کے علاؤہ نرگس کے پاس کوئی نہیں تھا
💕💕
جعفر تمہارا تایا زاد بھائی
الیاس بھائ پر زور دیتے ہوئے بولا
جس سے کچھ سال پہلے تمہاری منگنی ہوئی
اور پھر کچھ ہی مہینوں پہلے ٹوٹ بھی گئ
اور آئ تھینک تمہارے پرنٹس کی ڈیتھ بھی ایک ڈیڑھ مہینے پہلے ہوئ ہے
رائیٹ الیاس حنین کو دیکھ کر بولا
اور ہاں بہت رئیس خاندان سے تعلق ہے نہ تمہارا
لیکن پھر بھی تم تھرڈ کلاس جاب کر رہی ہو ۔
الیاس ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بول رہا تھا
اور میری اتنی باتیں بھی برداشت کرتی ہو
حنین حکی بکی الیاس کو دیکھ رہی تھی
اگر آپ میرے بارے میں اتنا سب کچھ جانتے ہیں تو میں کیا کروں حنین بولی
نکاح کرو الیاس بولا
کیا حنین کو سو واٹ کا جھٹکا لگا
میں نے تم سے نکاح کرنا ہے الیاس بڑے آسان انداز میں بولا
سر آپ ہوش میں تو ہیں
کیا کہ رہے ہیں آپ حنین اپنی تسلی کرتے ہوئے بولی
یہی مطلب ہے کے میں تم سے نکاح کروں گا سمجھی
دماغ تو خراب نہیں ہوگیا کدھر آپ کا
نکاح کرنا کیا اتنا آسان ہے
اب کی بار حنین غصے سے بولی
ہاں آسان تو ہے نکاح جسٹ قبول ہے قبول ہے ہی تو کرنا ہے
الیاس لاپرواہی سے بولا
اگر اتنا ہی آسان ہے نکاح تمہارے لیۓ تو جاؤ نکلو یہاں سے کسی اور سے کرلو
حنین غصے سے لال ہوتے ہوئے بولی
کیا کہا الیاس نے بولتے ساتھ ہی حنین کا ہاتھ مروڑ کر پیچھے کندھے تک لے آیا
آاااا درد ہو رہا ہے حنین روتے ہوئے بولی
چھوڑ دوں گا ہاتھ پہلے میری بات کان کھول کر سن لو
کل شام نکاح کے لیۓ تیار رہنا الیاس نے بولتے ساتھ ہی جھٹکے سے ہاتھ چھوڑ دیا
اگر اپنی چھوٹی سی بچی بچائ فیملی عزیز ہے تو عزت سے کل نکاح کے لیۓ تیار رہنا
الیاس سیگریٹ جلاتے ہوئے بولا
حنین الیاس کو اب غصے اور نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہی تھی
رسی جل گئ پر بل نہیں گیا
اب زرہ بدتمیزی سے بات کرو نہ
الیاس حنین کے قریب ہوتے ہوئے بولا
اوکے میں تیار ہوں حنین گھبراتے ہوئے بولی
ویری گڈ الیاس مسکرا کر بولا
حنین بنا کچھ کہے باہر نکل گئ
حنین کے جانے کے بعد الیاس نے ایک نمبر پر کال ملائ
ہیلو الیاس بولا
جی سر دوسری طرف سے آدمی بولا
ابو دابھی مسجد میں تیاری کرلو میرے نکاح کی
کل شام نکاح ہے میرا الیاس مسکراتا ہوا بولا
واؤ اٹس امیزنگ سر
ساری تیاری تیاریاں ہو جائیں گی آپ بلکل کو بے فکر ہو جائیں آدمی جوش سے بولا
گڈ الیاس نے بول کر کال کاٹ دی
💞💞
رات کے گیارہ بجنے میں پندرا منٹ باقی تھے
آفس کے سارے ورکرز ہال میں موجود تھے
جبکے الیاس ان سب کے سامنے بیٹھا
سب کی شکلیں دیکھ رہا تھا
گائیز آپ سب کے لپ ٹاپ کے سامنے ایک چیز آنے والی ہے سو اسے انجوائے کریں
الیاس سب کی شکلیں دیکھتے ہوئے بولا
یس سر سارے ایک ساتھ بولے
الیاس نے اپنے لپ ٹاپ پر ایک بٹن دبایا تو
سب کے لپ ٹاپ کی سکرین پر ایک گیم آگئی
جسے دیکھ کر سب کی شکلوں پر الگ سی تبدیلی آئ
او گوڈ سر مبین تقریباً چیختے ہوۓ بولا
یہ تو ہماری گیم ہے مینز کے ہماری گیم چوری نہیں ہوئ مبین خوش ہوتے ہوۓ بولا
آفکورس مبین میرے ہوتے ہوئے کوئ آفس میں بول نہیں سکتا تو گیم کیسے چوری کرے گا
جی سر سارے ایک ساتھ بولے
جبکے حنین ایسے چپ تھے جیسے اس کا منہ ایلفی سے چپکا دیا ہو
تو سر جو گیم دوسری کمپنی دے رہی ہے وہ کیا ہے دوسرا ورکر پریشانی سے بولا
پوائنٹ الیاس دوسرے ورکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
یہی سوال کا انتظار تھا مجھے
آپ سب کو پتا ہے یہ جو گیم ہماری لیک ہوئی ہے وہ اس آفس کے بندے نے ہی کی ہے اور وہ بندہ مجھے پتہ ہے کون ہے
سر کون ہے حنین ایکدم بولی کیونکہ وہ سن تو سب رہی تھی لیکن الیاس کو فیل ایسا کروا رہی تھی جیسے اسے نکاح کا روگ لگا ہو
بتا دوں گا اتنی جلدی بھی کیا ہے الیاس مسکراتا ہوا بولا
حنین ایکدم سے نظریں جھکا گئ (یہ کیا کردیا میں نے ہاۓ) حنین دل میں بولی
سلمان کھڑا ہوا
کدھر سلمان الیاس سلمان کو دیکھتے ہوئے بولا
سر واشروم سلمان اپنی عینک اٹھاتے ہوئے بولا
ارے بیٹھو تو صیح کچھ دیر میں چلے جانا الیاس سلمان کو دیکھتے ہوئے بولا
سلمان نے واپس اپنی سیٹھ سنبھالی
ابھی گیارہ بج کر دس منٹ ہی گزرے تھے جب سلمان کے نمبر پر کال آنے لگی
ایسکیوز می سلمان اٹھتے ہوۓ بولا
واپس بیٹھو الیاس چیختے ہوۓ بولا
سلمان کے ساتھ ساتھ سارے ورکرز کو اپنی روح فنا ہوتے ہوئے نظر آئ
کیونکہ الیاس کو ایکدم سے اتنا غصہ آگیا تھا
کال ریسیو کرو اور لاؤڈ اسپیکر پر کرو ابھی الیاس سلمان کے سر پر کھڑے ہوتے ہوئے بولا
جی جی سر سلمان زارا کو آنکھیں نکالتے ہوئے بولا
سلمان نے کال جیسے ہی پک کی تو
دوسری طرف سے آدمی کے الفاظ سننے کے قابل نہیں تھے
وہ طرح طرح کے غلیظ الفاظ سلمان کے لیۓ استعمال کر رہا تھا
تجھے گیم کے لیۓ دس کروڑ اس لیۓ دیۓ تھے کیا
کے تو گیم کا ٹریلر اٹھا کر دے دے اتنا بھی تجھ سے نہیں ہوا کے چیک کرلوں یہ گیم ہے یہ ٹریلر
سلمان اگر تو ہمارے ہاتھ سے بچ بھی گیا تو اس آفس کے باس الیاس سے نہیں بچے گا سمجھ گیا نہ تو
اور جلدی پہنچ جہاں کل میں نے پارٹی کی انونسمنٹ کی تھی
سلمان خاموش بیٹھا تھا
آواز آ بھی رہی ہے یہ نہیں یا پھر ڈورا ہوگیا ہے تو آدمی اپنا بلڈ پریشر ہاۓ کرتے ہوئے بولا
الیاس نے سلمان کی طرف اشارہ کیا ہاں کا
آتا ہوں سر سلمان اپنا گلا کھنکار کر بولا
دوسری طرف سے آدمی نے بنا کچھ کہے کال کاٹ دی
مبین میری اس گیم کو وائرل کر دو الیاس مبین کی طرف یو اسی بی پھینکتے ہوئے بولا
جی سر مبین اور قاسم باہر نکل گۓ
نکلیں آپ سب بھی یہاں سے سواۓ سلمان اور زارا کے الیاس دونوں کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
سارے ورکرز باہر نکل گۓ
میں آپ دونوں سے کچھ پوچھوں گا نہیں بلکے بتاؤں گا الیاس دونوں سے بولا
سلمان نفسیات کہتی ہے ضرورت سے زیادہ بڑی باتیں کرنے والا انسان جھوٹا اور مکار ہوتا ہے
سو آپ بہہہہتتت بڑے بڑے دعوے کررہے تھے یاد تو ہوگا آپ کو
آپ لوگ مجھے سمجھتے کیا ہیں یہ کمپنی خودبخود یہاں کھڑی ہوئی ہے کیا
الیاس سلمان سے بولا
نو سر آپ نے بہت محنت کی ہے سلمان سر جھکائے بولا
نہیں محنت نہیں کی ہے
اس کا استعمال کیا ہے الیاس اپنے دماغ پر ہاتھ رکھتے ہوئے
محنت تو ایک گدھا بھی کرتا ہے کبھی اسے کچھ ملا
نہیں نہ الیاس بولا
اوکے ختم کرو اس بات کو
میں سب جانتا تھا تم میری گیم کے لیۓ ہی آۓ تھے
میری گیم کے ٹریلر تک ایسے نہیں پہنچ سکتے آپ
کس نے ہیلپ کی تھی آپ کی
ویسے میرا شک 💯 پرسنٹ زارا پر ہے
چلو شاباش اب آپ بتاؤ ایسا ہی ہے نہ
الیاس زارا کی طرف مڑتے ہوۓ بولا
جی سر اسنے نے میری ہیلپ کی تھی سلمان فل غصے سے بولا
جبکے زارا تو پوری رونے والی ہو گئ تھی
آپ نے اس ماصوم سی بچی کو ہائیر کیا وہ بھی اتنے بڑے کام کے لیۓ الیاس زارا کو بچی کا لقب دیتے ہوئے بولا
سر ہمیں بلکل اندازا نہیں تھا یہ عورت بچی نکلے گی سلمان غصے سے بولا
او ہیلو عورت کسے کہ رہے ہو زارا غصے سے بولی
منہ بند رکھو اپنا سلمان دانت پیستے ہوئے بولا
زارا واپس سے ماصوم اور ڈری ڈری شکل بنا کر کھڑی ہو گئی
صاف پتا چل رہا تھا یہ ایکٹنگ کر رہی ہے
سلمان آپ کو ایک سرپرائز دوں
الیاس سلمان سے پوچھتے ہوئے بولا
جی سر سلمان دھڑکتے دل سے بولا
💞💞
گیم تو چلی گئ قاسم اور مبین چئیر کو گھوماتے ہوۓ بولیں
ہاں نہ
ویسے یار افسوس کی بات ہے سلمان اور زارا کے لیۓ کتنے بےشرم ہے یہ دونوں ہمارے ہی آفس کی گیم چوری کردی قاسم اداسی سے بولا
ہاہاہاہاہاہا الیاس سر سے بھی کوئ بچ سکتا ہے پھر کیسے پکڑ لیا ان دونوں کو مبین ہنستے ہوئے بولا
ہاں نہ اللہ کرے سر ان دونوں پر چوری کا کیس ٹھوک دے اور جیل بھیج دے ساری زندگی جیل میں پڑے رہے گیں نکلنے کا کوئ راستہ ہی نہیں ہوگا قاسم جوشیلے انداز میں بولا
ہاہاہا بس کردے رحم کر ان پر مبین ہنستے ہوئے بولا کونسا گیم چوری ہوئ ہے
💞💞
کمون زارا اب یہ ایکٹنگ بند کرو تھک گیا ہوں آپ کی یہ شکل دیکھ دیکھ کر الیاس مسکراتے ہوئے بولا
یس سر زارا سلمان سے ہٹتے ہوئے الیاس کے پیچھے کھڑی ہوگئ
اور ایک آئی برو اٹھاتے ہوۓ سلمان کو دیکھ کر ہنسنے لگ گئ
سلمان کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیونکہ الیاس کچھ منٹ پہلے اتنے غصے میں تھا اور ابھی مسکرانے لگ گیا
یہ ہو کیا رہا ہے سلمان سوچتے ہوۓ بولا
کچھ سمجھ آئ آپ کو الیاس سلمان کو دیکھتے ہوئے بولا
نو سر
آپ اس کمپنی میں جب آۓ تھے تو سر کو آپ پر شک تھا
سو اس شک کو دور کرنے کی ذمےداری سر نے مجھ پر ڈالی تھی
آپ پر نظر رکھنے کا کام تھا جو آپ کافی میرے لیۓ مشکل کر رہے تھے سو آپ سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا جسے آپ نے خوشی خوشی ایکسیپٹ کیا
تو میرا کام تھوڑا سا آسان ہوگیا تھا
بٹ آئ کانٹ بلیو دیس کے آپ مجھے اپنے پلین میں شامل کردیں گیں یہ میں کبھی نہیں سوچ سکتی تھی زارا حیرانگی سے بولی
پھر میں نے وہ سارا کام کیا جو آپ نے مجھ سے کروایا زارا مسکراتے ہوئے بولی
جبکے سلمان کو کو سو بھی نہیں ہزار واٹ کا جھٹکا لگا یعنی جس لڑکی سے میں کام کروا رہا تھا وہ باظاہر میرے ساتھ تھی لیکن اندر سے آگے سلمان کچھ سوچ نہیں سکتا تھا
الیاس کب سے زارا کی باتیں سن رہا تھا اور مسکرائی جارہا تھا
تھینک یو زارا اتنی ہیلپ کے لیۓ الیاس زارا کا شکریا ادا کرتے ہوئے بولا
زارا صرف مسکرا کر باہر نکل گئ
آپ کی پنیشمنٹ یہ ہے
آپ کو میں فائیر کر رہا ہوں یو نو ایل بی کمپنی سے اگر کوئ بندہ فائیر ہوجاۓ تو اسے پاکستان کے علاؤہ کسی بھی کمپنی میں جاب نہیں ملتی
الیاس سیریس انداز میں بولا
سر پلیززز ایسا نہ کریں میرا کیریر تباہ ہوجاۓ گا
مبین تقریباً روتے ہوئے ہی بولا
آؤٹ الیاس سپاٹ لہجے میں بولا
پلیزززززززززززززز سر سلمان ایک بار پھر سے ریکویسٹ کرتے ہوئے بولا
آئ سیڈ گیٹ آؤٹ الیاس چلا کر بولا
الیاس اپنی کمپنی میں زرا بھی کوتاہی برداشت نہیں کر سکتا تھا تو سلمان نے تو بہت بڑا کام کیا تھا اسے کیسے معاف کرتا
سلمان اپنی عینک پہن کر باہر نکل گیا
💞💞
حنین خاموشی سے اپنے کیبن میں بیٹھی تھی
تو لائبہ اس کے پاس آئ
حنین لائبہ نے آواز دی
لیکن حنین اپنے ہی خیالوں میں کھوئ ہوئ تھی
حنین لائبہ جھنجھوڑتے ہوئے بولی
ہاں حنین ایکدم سے سیدھی ہوئی
کدھر کھوئ ہوئ تھی بہن لائبہ بولی
کہی نہیں بولو حنین پریشانی سے بولی
بتاؤ نہ یار کیا ہوا لائبہ بھی پریشانی سے بولی
یار الیاس سر کل میرے سے نکاح کر رہے ہیں
اور میں بلکل بھی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میرے بھائ ہے میرے ساتھ حنین پریشانی سے بولی
او ماۓ گوڈ لائبہ حیرانگی سے بولی
تو یار منع کر دو سر کو لائبہ مشورہ دیتے ہوئے بولی
کیا تھا منع الٹا میرے اوپر ہی برس پڑے حنین رونے والے انداز میں بولی
یار اب کیا کریں لائبہ بھی پریشانی سے بولی
حنین اور لائبہ سوچنے لگی
یار میں اومان نکل جاتی ہوں اس کے بعد ایک دو دن میں ویزہ بنا کر اپنے ماموں کے پاس پاکستان چلی جاؤں گی
حنین اپنا پلین بناتے ہوئے بولی
رائیٹ بلکل ٹھیک چلو چلیں لائبہ بھی حنین کا پورا پورا ساتھ دیتے ہوئے بولی
اوکے حنین نے کھڑے ہوکر لائبہ کو گلے سے لگا لیا یار تم نہ ہوتی تو پتہ نہیں میرا کیا ہوتا حنین نم آنکھوں سے بولی
میں نہ ہوتی تو کوئ اور ہوتا اب چلو لائبہ مسکرا کر بولی
دونوں گھر کے لیۓ نکلنے ہی والی تھی جب سلمان کو دیکھا
وہ اپنے کیبن سے سامان سمیٹ رہا تھا اور اپنی آنکھیں بھی صاف کر رہا تھا
صاف ظاہر ہو رہا تھا وہ رو رہا ہے
حنین کو افسوس ہوا الیاس پر اور ساتھ ہی ٹھان لی تھی وہ ہرگز نکاح نہیں کرے گی
💞💞
لائبہ اور حنین جیسے گھر آۓ تو وہاں آلریڈی دو آدمی کھڑے تھے
حنین دوڑتی ہوئی ان کے پاس آئ
ایسکیوز می کون ہیں آپ حنین غصے سے بولی کیونکہ وہ انکے گیٹ کے پاس کھڑے تھے
ہمیں الیاس سر نے کھڑا کیا ہے صرف صبح تک کے لیۓ
کیا حنین بے چارگی سے بولی
اور میں پوچھ سکتی ہوں کے کیوں کھڑا کیا ہے حنین ہمت نہ ہارتے ہوئے پھر بولی
جو بھی پوچھنا ہے سر سے پوچھ لیں آدمی الیاس کو فون ملاتے ہوئے بولا
رہنے دو حنین بولتے ساتھ ہی اندر چلی گئ
جبکے لائبہ نے اپنی ماما کو کال کر کے بتایا وہ حنین کے گھر ہے اس لیۓ تین چار بجے تک آۓ گی کال کاٹتے ساتھ ہی لائبہ حنین کے پیچھے چلی گئ
حنین اب رونے کا کوئ فائیدہ نہیں ہے
اگر تمہارے نصیب میں سر سے نکاح ہوا تو وہ ضرور ہوگا اور اگر اللہ نے نکاح نہیں رکھا تو سر کچھ بھی کرلیں تمہارہ نکاح نہیں ہوگا
لائبہ حنین کو دلاسہ دیتے ہوئے بولی
جبکے حنین کی ہمت ختم ہو گئی تھی نہ کچھ بولنے کے لیے اور نہ ہی سوچنے کے لیۓ
💞💞
حنین نے فجر کی نماز ادا کر کے سورت یاسین پڑھی پھر ایتلکرس پڑھ کر اپنے اوپر دم کیا
اور ذکر کرنا شروع کردیا
ذکر کرتے کرتے حنین کو پتہ ہی نہیں چلا کب نو ہوگۓ
ٹائیم دیکھتے ساتھ حنین منہ لٹکاۓ کھڑی ہوکر آفس کے لیۓ نکلی
💞💞
حنین آفس کے پارکنگ ایریا سے جارہی تھی
جب الیاس نے اسے پکڑ کر کار میں بٹھایا
سر یہ کیا طریقہ ہے حنین روتے ہوئے بولی
رو کر میرا اچھا دن خراب مت کرو سمجھی الیاس غصے سے بولا
تو حنین خاموشی سے اپنے آنسو بہانے لگ گئ
اومان جارہی تھی کیا الیاس مسکراتا ہوا بولا
حنین کی دھڑکنیں ایکدم تیز ہوگئ کے الیاس کو کیسے پتا چل گیا
نہیں تو حنین جھوٹ بولی
او واؤ ابھی جتنے جھوٹ بولنے ہے بول لو
شادی کے بعد بلکل بھی جھوٹ نہیں بولنا ورنہ میرے بچو کو بھی جھوٹ کی عادت ہو جائے گی جو کے میں بلکل نہیں چاہتا الیاس کار کی اسپیڈ بڑھاتے ہوئے بولا
حنین کی حالت تو دیکھنے والی ہوگئ تھی
الیاس نے کار کو ایک سیلون کے آگے روکا
یہاں کیا کرنا ہے جب نکاح میری مرضی سے نہیں ہورہا تو ان سب فضول چیزوں کا کیا فائیدہ حنین منہ پر بولی
فائیدہ تو میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا ابھی جاؤ تیار ہوکر آؤ میں یہی کھڑا ہوں
الیاس بولا
حنین باہر نکلی تو فل زور سے دروازے کو لات مار کر بند کیا
اس لڑکی نے تو میری کار تباہ کر دینی ہے الیاس بولا
بیوٹیشن نے حنین کو وہی فراک دیا جو الیاس نے یورپ میں پسند کیا تھا
اگر مجھے پتا ہوتا یہ گھٹیا کپڑے میرے نصیب میں ہے تو میں کبھی شاپنگ کا نام ہی نہیں لیتی حنین کپڑوں کو دیکھتے ہوئے دل میں بولی
💞💞
ابو دابھی مسجد جو دوبئ کی سب سے مشہور مسجد ہے
حنین سمپل سی دلہن بنی بیٹھی ہوئی تھی
اور ساتھ زارا اور لائبہ بھی تھی
اور پردے کے پیچھے الیاس بیٹھا تھا
نکاح ہوگیا تھا حنین نے مرے ہوۓ ہاتھوں سے سائین کیا
ان کے نکاح کے گواہوں میں مبین قاسم اور ایک اور ورکر بھی شامل تھا
نکاح کے ہوتے ساتھ ہی ان کے بیچ کا پردہ ہٹا دیا تھا
الیاس حنین کو دیکھ رہا تھا جبکے حنین نظریں جھکاۓ ٹپ ٹپ آنسو بہا رہی تھی
جاری ہے
