No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
نکاح جیسے ہی ہوا تو لائبہ اور زارا نے حنین کو گلے لگا کر مبارک باد دی
قاسم اور مین بے چارے تو صدمے میں تھے
کیونکہ الیاس نے انہیں نکاح کے شروع ہونے سے بیس منٹ پہلے ہی بلایا تھا
دونوں کو سمجھ نہیں آرہی تھی آخر الیاس نے کیا کیا ہے
الیاس کھڑا ہوا اور چلتے ہوئے حنین کے قریب گیا اور اپنا ہاتھ آگے بڑھایا
حنین کو اتنی شرم آرہی تھی الیاس کی اس حرکت پر لیکن
بے چاری کچھ کرنہیں سکتی تھی
سو اپنا ہاتھ الیاس کے ہاتھ میں دیا
الیاس کا کیمرہ مین بھی کھڑا تھا لیکن کسی کو پتہ نہیں چلا یہ کیمرا مین ہے
الیاس اور حنین کو ساتھ دیکھ کر کیمرہ مین نے فٹافٹ اپنا کیمرا بیگ سے نکالا
اور دونوں کا خوبصورت سی مسجد ابو دابھی میں فوٹو شوٹ کیا
باقی سارے سائیڈ پر کھڑے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے
اور انکی جوڑیں کو آگے پیچھے چلتے لوگ بھی سرا رہے تھے
اور سراہتے بھی کیوں نہ ایک کی آنکھیں چیتے جیسی تو دوسری کی نیلی نیلی اللہ پاک نے بہت خوبصورت جوڑیں بنائ تھی
پوری تیاریوں کے ساتھ آیا ہے یہ آدمی حنین ہلکی سی آواز میں بڑبڑائ
کیا کروں دوسرا نکاح جو ہے الیاس مسکراتا ہوا بولا
اچھا جھوٹ ہے حنین غصے سے بولی
الیاس ہنسنے لگ گیا
حنین کر زہن میں بس ایک سوال تھا الیاس نے یوں اچانک اس نکاح کیا تو کیوں کیا
💕💕
مبین میں جارہا ہوں
قاسم مبین کو دیکھتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اپنی کار کی کیز نکالتے ہوئے انگلی میں گھومانے لگا
کیوں
اس لیۓ کے میرے پرنٹس آرہے ہیں انہیں ائیرپورٹ پک کر نے جانا ہے
اوکے تو جا ویسے بھی سر اور حنین بھی جانے والے ہیں
اوکے باۓ قاسم بولتے ساتھ ہی باہر کی طرف بھاگ گیا
الیاس اور حنین کا فوٹو شوٹ ہوگیا تھا
اس لیۓ وہ حنین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ ہی مبین اوری کے قریب آیا
قاسم کہاں گیا الیاس مبین کو دیکھتے ہوئے بولا
جبکے لائبہ حنین کو اپنے پاس آنے کا اشارا کرنے لگی
حنین نے اپنا ہاتھ چھوڑوانے کی کوشش کی تو الیاس نے اور بھی زور سے پکڑ لیا
لائبہ نے حنین کے ہاتھ کی طرف دیکھا تو خودبخود ہنسنے لگ گئ
سر وہ قاسم کے پرنٹس آنے والے ہیں اس لیۓ قاسم انہیں ائیرپورٹ پک کرنے لگ گیا ہے
او اچھا الیاس بولا
جبکے پرنٹس کی بات پر لائبہ کو زوردار جھٹکا لگا
اتنی جلدی یہ اپنے ماں باپ کو بھی لے آیا لائبہ پریشانی سے سوچتے ہوۓ بولی
اوکے آپ لوگ ایسا کریں آفس جائیں اور وہاں سب کا منہ میٹھا کروا دیں
اوکے سر مبین بولا
اوکے اللہ حافظ الیاس حنین سمیت واپس مڑا
سر آپ کب آئیں گیں مبین ماصوم سا بنتا ہوا بولا
جلدی آجاؤں گا الیاس مسکرا کر بولا
💕💕
الیاس حنین کو اپنے گھر لے آیا تھا جبکے حنین کی سوچنے کی صلاحیت ہی ختم ہوگئی تھی وہ تھک گئ تھی زندگی کے روز روز نۓ تماشوں سے وہ کرنا کیا چاہتی تھی اپنے اور اپنے بھائیوں کے لیے اور الیاس نے کر کیا دیا تھا
سلطان شیخ
الیاس اونچی آواز میں بولا
سلطان بھاگتا ہوا باہر آیا
جی
آپ انہیں میرے روم میں لے جائیں اور کھانے میں ان سے پوچھ لیں یہ کیا کھانا پسند کریں گی وہ بنا دیں
الیاس حکم دے کر اپنے روکی کے پاس چلا گیا
سلطان شیخ حنین کو الیاس کے روم میں لایا اور ساتھ ہی کھانے کا بھی پوچھا
سر کو کھانے میں کیا برا لگتا ہے حنین سلطان شیخ سے الیاس کی ناپسند جانتے ہوئے بولی
انہیں بیگن اور ٹینڈے برے لگتے ہیں سلطان بولا
اور پسند کیا ہے
گوبھی سب سے زیادہ پسند ہے
اور اسکے بعد سب کچھ نارمل پسند ہے سلطان شیخ بولا
اوکے اور میٹھے میں کیا برا لگتا ہے
حلوا سلطان شیخ بولا
اوکے آپ ٹینڈے بنا لیں اور ساتھ میں حلوہ بھی حنین بولی
جی سلطان شیخ حیرانگی سے بولا اور ساتھ ہی وہ جانے لگا
ارے روکے انکل حنین سلطان شیخ کو روکتے ہوئے بولی
جی بولیں میم صاحبہ
ایسا کریں بیگن بنا لیں وہ مجھے زیادہ پسند ہے حنین مسکرا کر بولی
اوکے میم صاحبہ اب سلطان شیخ تھوڑا نارمل ہوا تھا
اچھا ہوا حنین تم نے سبزی بدل وادی ورنہ انکل کیا سوچتے میں سر کے لیۓ زہریلی چیزیں بنارہی ہوں
یہ بیگن اور ٹینڈے
آہ ہ ہ ہ حنین زبان باہر نکال کر منہ کے الگ الگ زاویہ بنانے لگی کیونکہ حنین کو کوئ بھی سبزی پسند نہیں تھی سبزیوں کو تو دیکھ کر اسکی جان جاتی تھی
خیر اس نے کونسا سبزی کھانی تھی وہ تو الیاس کے لیۓ بنوا رہی تھی
💕💕
حنین الیاس کا انتظار کر کر کے تھک گئ تھی
لیکن وہ ابھی تک روم میں نہیں آیا تھا
اور اب تو اندھیرا بھی ہوگیا تھا
آخر تھک ہار کر بیڈ پر بیٹھ گئ
اسے بہت زیادہ ٹینشن ہونے لگ گئ تھی آذان اور آذنان کی
الیاس جیسے ہی روم میں آیا تو حنین بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی
الیاس کے آتے ساتھ ہی حنین بیڈ سے ایکدم اتری اور اپنی ہارٹ بیٹ کو نارمل کرنے لگی جو کافی تیز دھڑک رہی تھی
کدھر الیاس حیرانگی سے بولا
نکاح تو کر لیا ہے تم سے اور کیا چاہتے ہو مجھ سے حنین غصے سے بولی اور حنین کو تم ورڈ الیاس کے لیۓ کافی عجیب لگ رہا تھا
فرسٹ تمیز سے بات کرو الیاس حنین کو کمر سے پکڑ کر قریب کرتے ہوئے بولا
اور حنین میڈم ابھی میں تم سے بہت کچھ چاہتا ہوں الیاس حنین کے ہونٹوں پر فوکس کرتے ہوئے بولا
سر میں آپ کو ایسا کچھ بھی نہیں کرنے دوں گی حنین اپنے آپ کو چھوڑواتے ہوئے بولی
ارے واہ اتنی جلدی تم سے آپ پر آگئ الیاس حنین کا چہرا اپنی ہاتھوں سے اوپر کرتے ہوئے بولا
اٹس مینز اور بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے کیونکہ تم بیوی ہی اتنی اچھی ہو ساری باتیں جو مانتی ہو
الیاس حنین کی تعریف کرتے ہوئے بولا
میں نے کب آپ کی بات مانی حنین حیرانگی سے بولی
ابھی تو مانی تم نے
تم سے آپ پر آگئ الیاس یاد دلاتے ہوئے بولا
سر پلیز حنین بولنے ہی والی تھی الیاس اسکے ہونٹوں پر جھک گیا
حنین نے الیاس کو خود سے دور کرنے لگی لیکن وہ نہیں ہٹا
حنین کی طبعیت خراب ہو گئی تھی الیاس کی اس بے باکی پر اس لیۓ حنین نے مجبوراً الیاس کے ہاتھ پر اپنے ناخنوں سے خراش ڈالی
الیاس ایکدم پیچھے ہٹا اور حنین کو غصے سے دیکھنے لگا
حنین نظریں جھکائے کھڑی تھی
جاؤ فرسٹ ایڈ باکس ابھی لاؤ اور میری چوٹ کو بینڈیج کرو الیاس حکم دیتے ہوئے بولا
کیونکہ حنین نے بہت بڑا کٹ اسکے ہاتھ پر لگا دیا تھا
کدھر ہے فرسٹ ایڈ باکس حنین گھبراتے ہوۓ بولی
تمہارہ روم ہے ڈھونڈو خود الیاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا
تو حنین نے دراز میں چیک کیا تو اسے وہی سے مل گیا
وہ الیاس کے قریب بیٹھ کر اس کے ہاتھ سے خون اسپیریٹ سے صاف کرنے لگی
الیاس حنین کو ہی دیکھ رہا تھا
جو کافی ڈری ہوئی بلی لگ رہی تھی
تھوڑی سی اگر اس لڑکی کو ڈھیل دی تو میرے آگے شیرنی بن کر پھیرے گی الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے دل میں بولا
حنین الیاس کا ہاتھ بینڈیج کرکے کھڑی ہوئ
سر کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ آپ نے مجھ سے نکاح کیوں کیا حنین ڈر تو بہت رہی تھی الیاس سے لیکن پھر بھی اسنے سوال کر ہی دیا
ویسے بتانا تو نہیں چاہتا کے میں نے تم سے نکاح کیوں کیا لیکن اگر کبھی ضرورت پڑی تو بتادوں گا الیاس بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوئے بولا
بتانا تو پڑے گا خیر
سر میں نے گھر جانا ہے میرے چھوٹے چھوٹے بھائ حنین بول ہی رہی تھی جب الیاس نے اسکے بازو سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا
سب سے پہلے یہ سر سر کہنا بند کرو یہ لاسٹ وارنگ ہے اس کے بعد اگر سر کہا تو بہت سخت پنیشمنٹ ملے گی
الیاس سمجھانے کے ساتھ ساتھ دھمکی بھی دیتے ہوئے بولا
اور دوسرا میں سب جانتا ہوں تمہارے بارے میں مجھے یہ بھی پتہ ہے تمہارے بھائی بھی ہیں
ہم دونوں مل کر جائیں گیں انہیں لینے ٹینشن نہ لو الیاس پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا
جی حنین دور بیٹھتے ہوئے بولی
سوری حنین
الیاس شرمندگی اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے بولا
کیوں حنین تجسس سے بولی
پرسو میرے آدمی تمہارے گھر لیٹ آۓ تھے
اس دن تمہارا گھٹیا کزن آیا تھا اگے الیاس کچھ نہیں بولا
کیونکہ وہ سب جانتا تھا حنین کے بارے میں اور جو جعفر نے اسکے ساتھ کیا تھا وہ بھی اسے معلوم ہوگیا تھا
حنین شرمندگی سے نیچے دیکھنے لگی اور خودبخود اس کے چہرے پر آنسو بہنے لگے
اب تمہیں رونے کی بلکل بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب تم الیاس خان کے نکاح میں ہو
اب تم پر کسی مرد کا بھی پرچھایا آنے نہیں دوں گا یہ میرا وعدہ ہے الیاس حنین کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
تو حنین مسکرانے لگی اس کے دل کو سکون ملا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کے اچانک یہ سکون کیوں اور کیسے آیا
شائید حنین یہ نہیں جانتی تھی کے ماں باپ کے بعد شوہر ہی لڑکی کے ہر دکھ سکھ کا ساتھی ہوتا ہے
شوہر کے ساتھ سے ہی لڑکی کو بہت عزت اور احترام ملتا ہے دنیا والوں سے
(اگرچہ شوہر اچھا ہو تو)
سر چلیں گھر اب تو رات بھی ہوگئ ہے حنین پریشانی سے بولی
سر الیاس یاد کراتے ہوئے بولا
سوری سوری حنین ایکدم سوری کرتے ہوئے بولی
نو کوئ سوری ایکسیپٹ نہیں ہوگا
الیاس حنین کی گود میں سر رکھتے ہوئے بولا
حنین الیاس کی یہ ساری حرکتیں دیکھ کر پریشان ہو رہی تھی کیونکہ الیاس نے نکاح سے پہلے کوئ ایسی بے باکی نہیں کی
(جائیز رشتے میں بندھنے کے بعد تو یہ سارے حق اللہ کی طرف سے ملے ہیں انسان کو)
تو میں آپ کو کیا کہوں حنین پریشانی سے بولی
الیاس
الیاس اپنا نام لیتے ہوئے بولا
حنین خاموش تھی
چلو بولو الیاس
الیاس حنین کو بہت عجیب لگ رہا تھا الیاس کا نام لیتے ہوئے
الیاس پلیز مجھے گھر لے جائیں حنین ریکویسٹ کرتے ہوئے بولی
پہلے وہ سب تو کھا لو جو تم نے بہت پیار سے بنوایا ہے اپنے لیۓ
الیاس اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے کھڑا ہوا
ہیں حنین کے چہرے کا رنگ فق سے اڑ گیا تھا
جی حنین کنفیوز ہوتے ہوئے
چلیں نیچے الیاس حنین کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا
الیاس مجھے بھوک نہیں ہے حنین پریشانی سے بولی
میری جان اگر کھانا ابھی نہیں کھاؤ گی تو
میں پیک کروا کر تمہارے گھر لے جاؤں گا اور وہاں پر تمہیں کھلواؤں گا چھوڑوں گا تو بلکل بھی نہیں۔ جانتی تو ہو مجھے تم
الیاس بولا
الیاس پلیزززززززززززززز نہ ابھی چھوڑیں حنین منت کرتے ہوئے بولی
سوری میری جان
کہتے ہیں نہ جس کے لیۓ کھڈا کھودا جائے وہ خود ہی اسی میں گر جاتا ہے وہ کام اب تمہارے ساتھ ہو رہا ہے
تم نے وہ ساری چیزیں بنوائی جو مجھے بہت بری لگتی ہیں اب تو تمہیں کھانی ہی پڑے گی
الیاس پلیز مجھے معاف کر دیں دوبارہ کوئ ایسی حرکت نہیں کروں گی
حنین ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی
ہاہاہاہا الیاس نے ہنستے ہوئے حنین کو اپنے گلے سے لگالیا
ایسے دوبارا ہاتھ نہیں جوڑنا اوکے
الیاس آہستہ سی آواز میں بولا
اوکے حنین شرماتے ہوئے بولی لیکن اس بار حنین نے نہ ہی الیاس کو پیچھے کیا اور نہ ہی جنگلی بلی جیسی کوئ حرکت کی
💕💕
قاسم اپنے ماما بابا کو اپنے فلیٹ لے آیا تھا
قاسم صاحب اتنی جلدی میں کیوں بلایا
قاسم کے بابا بولیں
بتادوں گا بابا پہلے آرام تو کرلیں
نہیں بیٹا ابھی بتاؤ ورنہ قاسم کبھی کسی کام کے لیۓ اتنی جلدی نہیں کرتا قاسم کی ماما بےتاب ہوتے ہوئے بولی
ماما مجھے ایک لڑکی پسند آئی ہے اور آپ لوگ اس کا رشتہ لینے جائیں گیں
بیٹا کون ہے وہ لڑکی اور مسلم تو ہے نہ کیونکہ (روبینہ یعنی قاسم کی ماما) سمجھتی ہیں کے دوبئ میں سارے کسی اور ہی مزہب کے ہیں
روبینہ صاحبہ پریشانی سے بولی
جی ماما مسلمان ہے ماشااللہ سے اور نام اس کا لائبہ ہے میرے ہی آفس میں کام کرتی ہے ایج اسکی اکیس سال ہے
ماما ہے اور ایک بھائ ہے
اور وہ بہت ہی کیوٹ اور پیاری ہے قاسم تیز بولتے ہوئے آخر میں اوور ہوگیا
بیٹا ابھی تھوڑا صبر رکھو میں نے بس اسکا مزہب پوچھا تھا
اور تم نے سارا بائیو ڈیٹا بتا دیا
جبکے قاسم بے شرموں کی طرح ہنسنے لگ گیا
ماما بابا ابھی آپ اتنے دن کے لیۓ نہیں آئیں اسلیۓ کل آپ لوگ چلے جانا رشتہ لینے کے لیۓ
اوکے قاسم کھڑے ہوتے ہوئے بولا
تم کدھر جارہے ہو عثمان صاحب قاسم کو دیکھتے ہوئے بولیں
بابا میں آفس جارہا ہوں ایک گھنٹے کی درخواست دی تھی میں نے اب بس پندرہ منٹ رہ گۓ ہیں
ایک گھنٹے کی درخواست بھی ہوتی ہے کیا روبینہ صاحبہ حیرانگی سے بولی
بس کیا کریں ہمارے باس ہی ایسے ہیں چھوٹی ہی نہیں دیتے قاسم الیاس کی چغلی کرتے ہوئے بولا
اور ساتھ ہی ہنسنے بھی لگ گیا ماما اللہ حافظ
قاسم بول کر باہر بھاگا
اور پھر دوڑ کر اندر آیا
اب کیا ہوا روبینہ صاحبہ بولی
وہ نہ کچن میں کھانا وغیرہ سب پڑا ہے آپ لوگ کھالیں اچھا روبینہ صاحبہ مسکرا کر بولی
💕💕
حنین تم اندر جاؤ میں کچھ دیر میں آتا ہوں اور اپنے بھائیوں کی پیکنگ کر لینا
کیوں حنین حیرانگی سے بولی
کیوں کا کیا مطلب وہ ہمارے ساتھ رہے گیں الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
میں دوبارا آپ کے ساتھ آپ کے گھر جاؤں گی حنین حیرانگی سے بولی
میرے نہیں اپنے گھر جاؤ گی اب سے وہ تمہارہ گھر ہے الیاس سمجھاتے ہوئے بولا
جی حنین کار سے اتر کر گھر کی طرف چلی گئ
جبکے الیاس آفس چلا گیا
آپی کہاں رہ گئ تھی آپ آذنان حنین کو دیکھ کر اسی کے پاس آیا
لیکن حنین کی ڈریسنگ دیکھ کر حیران ہوگیا
آپی آپ نے یہ کیا پہنا ہوا ہے آذنان بولا
کپڑے پہنے ہے آذنان حنین منہ بنا کر بولی
آپی آپ اس فراک میں پرنسس لگ رہی ہیں آذنان تعریف کرتے ہوئے بولا
اچھا جی تھینکیو۔ اب مجھے یہ بتاؤ زرا کے آذان کدھر ہے
حنین آذان کا پوچھنے لگی
آپی وہ روم میں گیم کھیل رہا ہے
اچھا آپ لوگ ایسا کریں آنٹی سے کہیں وہ آپ کی پیکنگ کرلیں تب تک میں اپنی پیکنگ کرلوں گی حنین ڈوپٹے کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے بولی کیونکہ دوپٹہ پر بہت بھاری کام ہوا تھا تھک گئ تھی اس کو بھی پہن کر
آپی اب ہم کہا جارہے ہیں آذنان اداسی سے بولا
ہم نیو ہاؤس جارہے ہیں حنین دکھ سے بولی
سچی آپی ہم نیو ہاؤس جارہے ہیں جہاں ماما ڈیڈی بھی ہونگیں آذنان خوشی سے بولا
نہیں وہاں ہم ہونگیں حنین اداسی سے بولی
ہممم آذنان بھی اداس ہوگیا
حنین تیار ہو جاؤ چلتے ہیں جعفر تیز آواز میں موبائیل کو دیکھتے ہوئےتیز تیز قدموں سے اندر آیا
لیکن اس نے جیسے ہی حنین کو دیکھا دلہن کے ہلکے پلکے روپ میں سجی سنونری
تو جعفر کا دماغ آؤٹ ہونے لگا
یہ کیا دیکھ رہا ہوں میں جعفر حنین کے قریب آتے ہوئے چلا کر بولا
کیا حنین اپنے آپ کو مضبوط بناتے ہوئے بولی
یہ کیا پہنا ہے تم نے اور کس کے لیۓ پہنا ہے جعفر اپنی شرٹ کے بازو اوپر کرتے ہوئے بولا
نکاح ہوگیا ہے میرا حنین نے جیسے ہی اپنا جملہ پورا کیا
تو جعفر نے فل قوت سے ایک زوردار تھپڑ حنین کے منہ پر رسید کیا
حنین وہ زمین پر جاگری
حنین کا نیچے والا ہونٹ بھی پھٹ گیا تھا
اتنی ہمت ہے تم میں کے نکاح کر کے بیٹھ گئ اور یہ جانتے ہوئے بھی کے میں تم سے محبت کرتا تھا جعفر حنین کے پاس زمین پر بیٹھتے ہوئے بولا
جبکے حنین کا دماغ بلکل سن ہوگیا تھا
جعفر نے جیسے ہی حنین کے بالوں پر ہاتھ رکھا تو لاؤنج سے آتا الیاس جعفر کو دیکھ کر آگ بگولہ ہو گیا
الیاس نے جعفر کو گریبان سے پکڑ کر کھڑا کیا
میری بیوی کو ہاتھ کیسے لگایا الیاس ایک مکا جعفر کے ناک کر پر مارتے ہوئے بولا
تیری بیوی مائے فٹ جعفر خود کو چھوڑواتے ہوئے الیاس کو بھی مارنے کے لئے بڑھا جب الیاس نے اسکا ہاتھ پکڑ کر مروڑا جعفر کی درد سے آواز بند ہو گئی تھی
میری بیوی تمھارے فٹ پر آئے اس سے پہلے میں تمھارا فٹ ہی توڑ دوں گا الیاس جعفر کو پیچھے سے پاؤں پر لات مارتا ہوا بولا
جعفر زمین پر گر گیا تھا اسنے فٹافٹ سے اپنے پاؤں کے پانچے اوپر کئے اور گن نکالی
یہ کیا کر رہے ہو تم حنین جعفر کے ہاتھ میں گن دیکھتے ہوئے چیخ کر بولی
اپنی بکواس بند کرو جعفر حنین کو غصے سے دیکھتے ہوئے بولا اور الیاس کی طرف گن کی
چلانے بھی آتی ہے یا صرف شو کے لئے رکھی ہے الیاس جعفر کے پاس جاتے ہوئے بولا
وہ تو تمہیں چلا کر بتاتا ہوں جعفر نے جیسے ہی پسٹل کے ٹریگر پر ہاتھ رکھا تو الیاس نے ایک لات اسکے ہاتھ پر ماری پسٹل جعفر کے ہاتھ سے دور جا گری
ابھی بتاتا ہوں الیاس جعفر کو پکڑ زمین پر مارتا ہوا بولا
اور ایک لات اسکے پیٹ پر ماری جعفر کے منہ اور ناک سے خون بہنے لگا تھا
الیاس نے جعفر کو اٹھایا اور اسکا سر دیوار پر مارا
ابھی الیاس اسکا کام ہی تمام ہی کرنے والا تھا کہ حنین بیچ میں آئی
بس کر دیں سر وہ مر جائے گا حنین جعفر کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر بولی
الیاس نے جعفر کو چھوڑا
جعفر لنگڑاتے ہوۓ وہاں سے بھاگ گیا
جعفر کے بھاگتے ساتھ ہی الیاس حنین کے پاس آیا اور اسے چپ کروانے لگا جو روۓ جارہی تھی
خاموش حنین الیاس پیار سے بولا
لیکن حنین خاموش نہیں ہوئ چپ ہو جاؤ حنین بلکل
الیاس ڈانٹے ہوئے بولا تو حنین نے اپنی آواز بند کی دیکھو حنین تم رو رہی ہو تو تمہارے بھائ بھی رو رہے ہیں الیاس آذان اور آذنان کو دیکھتے ہوئے بولا
یہاں پر آؤ بچو الیاس پیار سے دونوں کو بلاتے ہوئے بولا
تو آذان اور آذنان دوڑ کر الیاس کے پاس آۓ
الیاس نے دونوں کے گال پر پیار کیا اور ان دونوں سے کہاں اگر جس نے اپنی آپی کو چپ کروادیا تو وہ اسے گفٹ دے گا
آذان اور آذنان دونوں حنین کے پاس آئیں
آذان نے بیٹھی ہوئی حنین کو گلے لگایا بلکل چھوٹا سا آذان خود کھڑا ہوکر اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا جبکے آذنان حنین کے لیۓ پانی لینے چلا گیا
الیاس ان دونوں چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھ کر مسکرانے لگ گیا
الیاس
حنین کی میڈ نے روتی ہوئی آواز میں الیاس کو آواز دی
الیاس نے جیسے ہی یہ آواز سنی تو بنا کچھ کہے دیکھے بھاگتے ہوئے حنین کی میڈ یعنی زوبیہ کے گلے لگ گیا
الیاس نے زور سے زوبیہ کو اپنے میں بھینچ لیا
اور رونے لگ گیا زندگی میں پہلی بار الیاس اتنا رو رہا تھا دوسری طرف زوبیہ کا بھی یہی حال تھا
دونوں ایک دوسرے کو گلے لگا کر بےحد رو رہے تھے
حنین نے الیاس کو دیکھا تو وہ بہت زیادہ رو رہا تھا
حنین کو بھی دیکھ کر رونا آرہا تھا لیکن اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کے الیاس اتنا امیر انسان ایک میڈ کو گلے لگا کر رو رہا ہے
اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے
جاری ہے
