59K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

زوبیہ نے اپنے بیٹے کو اتنے عرصے بعد اپنے سینے سے لگایا تھا
آج اسکے دل میں ٹھنڈک ہوئ تھی تین سال سے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا تھا ترس گئ تھی زوبیہ کی آنکھیں الیاس کو دیکھنے کے لیۓ روز کلیجہ چیرتا تھا زوبیہ کا اپنے جوان بیٹے کو یاد کر کے
اور آج یہاں اچانک الیاس کو دیکھ کر نہ خود رونے سے بس کر رہی تھی اور نہ الیاس کو بس کرنے دے رہی تھی
کیونکہ آج وہ اپنے تمام غم الیاس کے آنسو اور اپنے آنسو سے مل کر دھونا چاہتی تھی
حنین کھڑے ہوکر الیاس کے پاس آئ اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے آواز دی لیکن الیاس بلکل بھی اپنی امی سے پیچھے نہیں ہوا
الیاس حنین نے اب کی بار الیاس کو زوبیہ سے پیچھے کیا
تو الیاس نے غصے سے لال ہوتی انگارا آنکھوں سے حنین کو مڑ کر دیکھا
حنین تو الیاس کے اس طرح دیکھنے پر ہی ڈر گئ تھی
الیاس بس کریں پلیز نہ روۓ حنین خود رونے والے انداز میں بولی
تو الیاس نے اپنے آنسو صاف کیۓ
امی ابو کدھر ہیں اور آپ یہاں کیسے آئ
الیاس زوبیہ سے بولا
الیاس تمہارے ابو کی وفات ہوگئی ہے زوبیہ روتے ہوئے بولی
امی مجھے معاف کردیں یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے الیاس نے اپنی روتی ماں کو گلے سے لگا کر کہا
بیٹا ایسے کیوں کیا تم نے کیوں چھوڑ کر گۓ مجھے اور اپنے ابو کو زوبیہ روتے ہوئے الیاس سے پوچھ رہی تھی
امی غلطی ہوگئ مجھ سے وہ بھی بہت بڑی میری آنا کی وجہ سے میرے ابو اس دنیا میں نہیں رہے میں کبھی خود کو معاف نہیں کرسکتا کبھی بھی نہیں الیاس نے روتے ہوئے اپنے بالوں کو زور سے پکڑا
تو زوبیہ نے الیاس کے ہاتھوں سے اس کے بالوں کو آزاد کیۓ
نہیں بیٹا ایسے نہ کرو میں مر جاؤں گی اب تمہیں اور تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی
میں بہت مشکلوں کا سامنا کرتے کرتے یہاں آئ ہوں
اب اور ہمت نہیں ہے غم سہنے کی زوبیہ روتے ہوئے بول رہی تھی
امی آج کے بعد سے آپ کو کوئ غم کوئ تکلیف نہیں ملے گی
کیونکہ یہ آپ کا الیاس اب پرانا والا نہیں ہے حالات نے مجھے بہت بدل دیا ہے
اٹھیں چلیں یہاں سے الیاس زوبیہ کو کھڑا کرتے ہوئے بولا
تو زوبیہ کھڑی ہوئ
حنین حیرانگی سے اپنی میڈ کو دیکھ رہی تھی جو الیاس کی ماں تھی
حنین حد سے زیادہ حیران تھی بیٹا اتنی بڑی کمپنی چلا رہا ہے
اور ماں ایک گھر کی میڈ
چلو حنین الیاس نے زوبیہ کے ہاتھ کو پکڑ کر حنین کو بھی چلنے کو کہا
حنین اگر الیاس سے ایک سوال بھی کرتی تو اس کی شامت لازمی آتی اس لیۓ بنا کسی بحس کے اور بنا کسی سوال کے الیاس کے پیچھے پیچھے اپنے بھائیوں کے ہاتھ پکڑ کر نکل گئ
🥰🥰
قاسم اور مبین آفس میں بیٹھے تھے
مبین میرے پرنٹس تو آگۓ ہیں اب بہت ڈر لگ رہا ہے
قاسم بے چارا بظاہر تو بڑا بہادر لگ رہا تھا لیکن اندر سے بہت زیادہ ڈرا اور پریشان تھا
ڈر کس چیز کا میرے بھائ
(سنا نہیں جب پیار کیا تو ڈرنا کیا) مبین قاسم سے بولا
یار تو چھوڑ تو نے لو میرج نہیں کی اس لیۓ میرے ڈر کا احساس نہیں ہے قاسم مبین سے بولا
پہلے یہ بتا کے ڈر س چیز کا ہے
مبین قاسم سے بولا
ڈر اس چیز کا ہے کہیں لائبہ اس رشتے سے انکار نہ کردے قاسم بولا
اچھا میرے بھائ میں نے لو میرج ہی کی ہے اور جس جس مشکلات کا سامنا میں نے کیا ہے تو تو شکر کر تجھے اس مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا
مبین جوش سے بولا
بتانا پسند کریں گے کے کن کن مشکالات کا سامنا کرنا پڑا قاسم مبین کو دیکھ کر بولا
میں جس لڑکی کو پسند کرتا تھا وہ میری چاچو کی بیٹی ہے اور میرے ماں باپ ان سے ناراض تھے
پھر قاسم پورا کا پورا متوجہ ہوتے ہوئے بولا
میں نے سب سے کہا اپنے گھر والوں سے نمرہ کے گھر والوں سے لیکن وہ مان ہی نہیں رہے تھے
پھر میں نے پڑھنا چھوڑ دیا گھر آنا چھوڑ دیا خوب اپنے گھر والوں کو تنگ کیا
تم سٹوڈنٹ تھے تب جب نمرہ بھابھی کو پسند کیا تھا قاسم بولا
ہاں سی ایس ایس کے پیپر آنے والے تھے میں نے دینے سے انکار کیا تو اگلے دن ہی میرے گھر والے نمرہ کے گھر چلے گۓ
پھر آگے وہی پروسس جو ہر گھر میں ہوتا ہے مبین مسکراتے ہوئے بولا
یار غلط کیا تم نے ایسے تنگ نہیں کرتے اپنے ماں باپ کو قاسم ناراضگی سے بولا
یار مجھے پتہ تھا نمرہ میرے ساتھ اور میرے گھر والوں کے ساتھ آرجیسٹ کر لے گی اسی لیۓ تو میں نے ضد کی
جو بات میرے گھر والے بول رہے تھے اگر ایسی کوئ بھی بات نمرہ میں ہوتی تو میں ضرور اسے چھوڑ دیتا
ایک بات اور مزے کی بتاؤں مبین خوش ہوتے ہوئے بولا بول قاسم بولا
نمرہ مجھے پسند نہیں کرتی تھی میں اسے پسند کرتا تھا
اچھا مطلب ون سائیڈ لو قاسم بولا
بلکل مبین کالر جھاڑتا ہوا بولا
💕💕
الیاس گھر آیا تو حنین کو اس کے روم میں جانے کا کہا
اور آذان آذنان کو سلطان شیخ لے گیا
امی آپ میرے ساتھ چلیں الیاس زوبیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسکے روم میں گیا
زوبیہ نے جیسے ہی روم میں قدم رکھا تو حیران ہوگئ تھی
الیاس نے پورے روم میں اپنی امی ابو کی پیکچرز لگائ تھی
اس میں صرف تین پیکچرز پرنٹ ہوئ تھی بقایا ساری سکیجز تھے
الیاس تمہیں یہ پیکچرز کہاں سے ملیں زوبیہ الیاس کو دیکھتے ہوئے بولی
امی جس دن میں گھر کو چھوڑ کر جارہا تھا اس دن جلدی میں بس یہی ملی تھی
وہ لے آیا پھر کچھ سکیجز خود بنائیں ہیں اور کچھ بنوائی ہیں
الیاس زوبیہ کے ساتھ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا
امی مجھے یہ بتائیں کے آپ حنین کے گھر کیسے آئیں اور کس وجہ سے اس کے گھر رہ رہی تھی الیاس اپنی مودے کی بات پر آتا ہوا بولا
رہنا دو بیٹا جو گزر گیا اسے بھول جاؤ زوبیہ بولی
امی پلیز بتائیں مجھے الیاس ریکوسٹ کرتے ہوئے بولا
جب تم ہمیں چھوڑ کر گۓ تھے تو کچھ دن تک تمہارے ابو کچھ نہیں بولیں
پھر رشتےداروں نے آکر باتیں سنانا شروع کردی کے جوان بیٹا چھوڑ گیا
وہ بھی اکلوتا بیٹا پتہ نہیں پاکستان میں کیا کیا کارنامے انجام دیے تھے پھر ڈر کے مارے پاکستان ہی چھوڑ دیا
الیاس میں بہت سمجھاتی تھی تمہارے ابو کو
کے ہمارا الیاس اتنا بے رحم نہیں ہے آجاۓ گا وہ واپس
لیکن چھ مہینے تک تمہارا کوئ پتہ نہیں چلا
پھر رشتے داروں کے طعنے تمہارے ابو سے برداشت نہیں ہوا تو وہ مجھے اکیلے چھوڑ کر چلے گئیں
لیکن الیاس اس دن ہماری کوئ غلطی نہیں تھی
ہم گۓ تھے وہاں لیکن زوبیہ بول ہی رہی تھی جب الیاس نے انہیں چپ کروا دیا
امی میری وجہ سے ابو چلیں گۓ بہت انتظار کیا انہوں نے میرا لیکن میں نہیں آیا
سارا قصور ہی میرا تھا کاش کاش میں نہ جاتا الیاس بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا اور آنسو نکلنے لگ گۓ
امی آئیندہ آپ ماضی کی کوئ بھی بات نہیں کریں گی
اور نہ ہی حنین کو بتائیں گی
الیاس اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
بیٹا تم حنین کو یہاں کس رشتے سے لاۓ ہو زوبیہ پریشانی سے بولی
امی نکاح کر لیا ہے میں نے حنین سے الیاس بیٹھتے ہوئے بولا
نکاح وہ بھی اسنے کیسے کرلیا زوبیہ حیرانگی سے بولی
کیوں امی میں اس سے کم خوبصورت ہوں کیا الیاس ناراضگی سے بولا
میرے بیٹے جیسا کوئ ہو ہی نہیں سکتا اور ویسے بھی سب کا اپنا ایک الگ مقام ہوتا ہے زوبیہ مسکراتے ہوئے بولی
ہاہاہا یہ تو صیح کیا آپ نے کے میرے جیسا کوئ نہیں
بیٹا تم نے حنین سے زبردستی نکاح کیا ہے
مطلب وجہ کیا تھی نکاح کی زوبیہ نے پھر سے سوال کیا
امی حنین کا کزن جعفر جو تھا جس سے اس کی اینگیجمنٹ ہوئ تھی
ہاں وہ تو میں نے دیکھا ہے زوبیہ بولی کیونکہ جعفر بہت زیادہ حنین کے گھر آتا تھا
امی وہ بہت گھٹیا آدمی ہے
امی اس نے تین لڑکیوں کا ریپ کیا تھا
حنین میرے آفس میں جاب کرتی تھی
میں اپنے آفس میں جاب کرنے والوں کی تمام انفارمیشن نکال کر رکھتا ہوں
اس طرح حنین کی بھی ساری انفارمیشن مجھے پتا تھی کئ دفعہ وہ حنین کے گھر آیا تھا
لیکن میرے بندو نے اسے وہی سے بھاگا دیا تھا
ائ تھینک کچھ دن پہلے بھی آیا تھا وہ اس نے حنین سے بدتمیزی بھی کی تھی
الیاس یاد کرتے ہوئے بولا ساتھ ہی زوبیہ کو بھی وہ دن یاد آگیا تھا
امی میں چاہتا تھا حنین کو کسی سیف جگہ پر رکھ لوں
لیکن اس کا نہ ہی کوئی بڑا بھائی تھا اور نہ ہی باپ تھا سواۓ نکاح کے میرے پاس کوئی آپشن نہیں تھا
اگر میں اسے پیار سے یا پھر منت کر کے کہتا نکاح کے لیۓ تو وہ نہ مانتی کیونکہ وہ ضدی ہے اس لیۓ میں نے زبردستی نکاح کیا
لیکن میرا اللہ گواہ ہے کہ میں نے کسی غلط مقصد کے لیۓ اس سے نکاح نہیں کیا الیاس زوبیہ کو دیکھتے ہوئے بولا
میرا بیٹا شروع سے ہی سب کی مدد کرنے والا ہے بہت لکی ہے میرا بچہ اللہ پاک تمہیں ہی چنتے ہیں لوگوں کی ہیلپ کرنے کے لیے زوبیہ فخر سے بولی
جی الیاس ہلکی سی سمائیل پاس کرتے ہوئے بولا
بیٹا ریسیپشن بھی کرلو وہ بھی ضروری ہے زوبیہ بولی
جی امی آپ آگئ ہیں نہ تو سب کچھ ہوجاۓ گا
الیاس مسکراتے ہوئے بولا
ہاہا اچھا زوبیہ بھی ہنستے ہوئے بولی
آج دو دلوں کو تین سالوں بعد سکون ملا تھا آج زوبیہ بہت خوش تھی ایک بیٹے سے مل جانے کی خوشی اور دوسرا بیٹے کو سب سے زیادہ کامیاب دیکھ کر
اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے کرتے نہیں تھک رہی تھی جتنا شکر کر رہی تھی اتنا ہی اسے کم لگ رہا تھا
بیٹا میں نے شکرانے کے نوافل ادا کرنے ہیں وہ بھی ڈھیر ساری اس لیۓ تم حنین میڈم کے پاس چلے جاؤ
زوبیہ شروع سے ہی حنین کو حنین میڈم کہتی تھی اور اب بھی یہی بول رہی تھی
حنین میڈم الیاس حیرانگی سے بولا
او سوری بیٹا حنین بہو کے پاس جاؤ زوبیہ ہنستے ہوئے بولی
امی آپ بتائیں نہ حنین کے گھر کس طرح آئیں الیاس واپس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا
اٹھو چلو جاؤ یہاں سے ابھی میں بہت خوش ہوں پرانی یادوں کو تازا کر کے اداس نہیں ہونا چاہتی زوبیہ الیاس کو اٹھاتے ہوئے بولی
الیاس جانتا تھا زوبیہ اسے کچھ نہیں بتاۓ گی
اس لیۓ اب وہ حنین کے پاس جانے لگا
امی آپ پڑھ لیں اپنے شکرانے کے نوافل پھر میں دوبارا آتا ہوں الیاس زوبیہ سے بولا
اچھا اچھا زوبیہ جاۓ نماز بھی چھاتے ہوۓ بولی
💕💕
آذان یار مجھے تنگ نہیں کرو آگے میرے سر میں درد ہو رہا ہے حنین رونے والے انداز میں بولی
آپی یہ کیا آپ ہمیں اجنبیوں کے گھر لے آئیں ہیں ہمیں اپنے گھر جانا ہے آذان بھی رونے والے انداز میں بولا
ایک تو پتہ نہیں مسئلہ کیا ہے تم سب کو جہاں جاؤں وہاں جینا حرام کر کے رکھا ہے
حنین چیختے ہوئے بولی
مر کیوں نہیں جاتی میں تھک گئ ہوں میں سب کی باتیں اور مارے برداشت کر کر کے
حنین رونے لگ گئ
الیاس جیسے اندر آیا تو آذان روتے ہوئے باہر جانے لگا
کدھر الیاس آذان کو دیکھتے ہوئے بولا
لیکن آزان کچھ نہیں بولا
الیاس نے فٹافٹ آذان کو بازو سے پکڑ کر اپنے گود میں اٹھا لیا
ارے یار آپ کو تو الیاس سے بھی زیادہ غصہ اتا ہے الیاس آذان کو دیکھتے ہوئے بولا
الیاس کون ہے آذان پریشانی سے بولا
میں الیاس مسکرا کر بولا
آپ کو بھی غصہ اتا ہے آذان الیاس کو دیکھتے ہوئے بولا
بہت زیادہ الیاس بہت کو لمبا کرتے ہوئے بولا
آپی سے زیادہ غصہ کسی کو نہیں آتا آذان بغیر حنین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
جبکے حنین اپنے آنسو صاف کر کے اٹھی
آپ کی آپی کو تو غصہ نہیں آتا الیاس آذان کو دیکھتے ہوئے بولا
ابھی اتنا غصہ آیا تو تھا آپ نے دیکھا نہیں آذان بھی اپنا چھوٹا سا غصہ دیکھاتے ہوئے بولا
آپ کو غصہ کیا اب دیکھیں ہم دونوں مل کر آپ کی آپی کو پنیش کریں گیں الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
نہیں آذان ایک دم نہ میں گردن ہلاتے ہوئے بولا
کیوں الیاس حیرانگی سے بولا
اب میں آپی سے کبھی بات نہیں کروں گا آذان بولتے ساتھ ہی اپنے آپ کو الیاس کی گود سے نیچے اتارنے لگا
الیاس نے آذان جو جیسے ہی اتارا تو وہ بھاگ کر باہر نکل گیا
الیاس نے دروازے کو بند کیا
اور حنین کی طرف آیا
جو واشروم کی طرف بھاگنے والی تھی
کدھر بھاگ رہی ہو حنین میڈم الیاس میڈم پر زور دیتے ہوئے بولا
واشروم جانا ہے حنین اپنے ہاتھ چھوڑاتے ہوئے بولی
میری امی تمہارے گھر کسے آئ الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
وہ مجھے میڈ چاہیۓ تھی اس لیۓ ڈیڈی نے اپنے کسی دوست سے کہا تھا میڈ کا
وہ انکل پاکستان میں تھے
تو انہوں نے آپ کی امی کا کہا
پھر ڈیڈی نے انہیں پاکستان سے یہاں بلوایا ۔
حنین ڈرتے ہوئے بولی
تو وہ تمہاری میڈ تھی الیاس لمبا سانس خارج کرتے ہوئے بولا
حنین نے ہاں میں گردن ہلائی
الیاس نے اپنی شرٹ اتار کر بیڈ پر پھینکی اور شاور لینے چلا گیا
حنین کو اپنی ساری بدتمیزیاں یاد آگئی تھی ۔جو ایک وقت میں اس نے زوبیہ سے کی تھی
اسے بہت ڈر لگ رہا تھا کیونکہ الیاس اپنے آفس کے بارے میں کچھ غلط برداشت نہیں کرتا تھا اب تو حنین نے اسکی امی کے ساتھ بدتمیزی کی تھی
یااللہ اور کتنے امتحان باقی ہے حنین پریشانی سے بولی
اور ساتھ ہی الیاس کا فون بجنے لگا
حنین دیکھنا زرا کس کا فون ہے الیاس واشروم سے تیز آواز میں بولا
حنین نے الیاس کا فون اٹھایا تو اس میں نمبر تھا
سر وہ اس پر نمبر ہے آرہا ہے حنین نے پریشانی سے الیاس کو سر کہ دیا تھا
اوکے رکھ دو میں نکل کر بات کرتا ہو تم سے الیاس بولا
حنین نے واپس فون کو رکھا اور خود بیڈ پر بیٹھ گئ
حنین الیاس کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی
جب اسے اچانک یاد آیا کے اس نے الیاس کو سر کہ دیا ہے
یاد آتے ساتھ ہی حنین نے باہر دوڑ لگا دی
💕💕
حنین جیسے ہی باہر آئ تو سلطان شیخ چاۓ لے کر جارہا تھا
انکل حنین نے آواز لگائی
جی میم صاحبہ سلطان شیخ بولا
انکل یہ کدھر لے کر جارہے ہیں
الیاس صاحب کی امی کے پاس
اچھا چلیں میں بھی چلتی ہوں آپ کے ساتھ
حنین بھی سلطان شیخ کے ساتھ زوبیہ کے روم میں گئ
💕💕
الیاس نہا کر نکلا تو حنین روم سے غائب تھی الیاس کو پتہ تھا وہ کیوں بھاگی ہے روم سے اس لیے وہ ہنسنے لگا
الیاس نے ڈارک براؤن کلر کی قمیض شلوار پہنی تھی
وہ بالوں کو انگلیوں سے سیٹ کرتا باہر نکلا
تو آذان اور آذنان دونوں لاؤنج میں اداس بیٹھے تھے
الیاس ان دونوں ہی کی طرف گیا
کیا ہوا آپ دونوں کو الیاس ان دونوں کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا
کچھ نہیں بھائی آذنان بولا
چلو آؤ آپ دونوں کو ایک چیز دیکھاؤ
الیاس کھڑے ہوتے ہوئے بولا
تو آذان اور آذنان بھی صوفے سے جمپ مارتے ہوئے کھڑے ہوئے
الیاس ان دونوں کو اپنے روکی کے پاس لے گیا
الیاس باہر آیا تو ظہور گیٹ کے پاس کھڑا تھا
ظہور جاؤ اندر میری امی اور حنین کو بلا کر لاؤ
الیاس نے اپنے گھر کے لیۓ ایک الگ اسسٹنٹ رکھا تو
جو ایسے ہی پورا دن پڑا رہتا تھا کیونکہ الیاس کوئ کام اسے بتاتا ہی نہیں تھا
جی سر ظہور اندر گیا
الیاس نے اپنے روکی کو باہر نکالا تو آذان اور آذنان کی خوشی سے چیخے نکل گئ تھی
ڈر تو ان دونوں کو لگ ہی نہیں رہا تھا
بھائ میں اس کو ہاتھ لگاؤ کچھ کہے گا تو نہیں آذنان معصومیت سے بولا
ابھی تو کچھ نہیں کہے گا لیکن اگر میں گھر نہ ہوا تو اس کے قریب مت آنا ورنہ روکی کھا جاۓ گا آپ کو الیاس سمجھاتے ہوئے بولا
اوکے آذان اور آذنان ہنستے ہوئے روکی کے بالوں سے کھیلنے لگے
💕💕
عثمان صاحب اور روبینہ صاحبہ دونوں لائبہ کے گھر میں بیٹھے تھے
نرگس کو پتہ نہیں تھا یہ کون ہے کیونکہ لائبہ نے ایسا کوئ ذکر نرگس سے نہیں کیا تھا
ہم قاسم کے پرنٹس ہیں اور آپ کی بیٹی کے سلسلے سے آئیں ہیں عثمان صاحب بولے
اچھا نرگس صاحبہ مسکرا کر بولی
میرا بیٹا اور آپ کی بیٹی ایک آفس میں کام کرتے ہیں روبینہ صاحبہ بولی
اچھا بیٹا نہیں آیا آپ کا نرگس صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
نہیں وہ تو نہیں آیا بلا لیتے ہیں اسے عثمان صاحب بولیں
جی نرگس صاحبہ بولی
عثمان صاحب کال ملانے لگے
اگر آپ لائبہ کو بھی بلا لیتی روبینہ صاحبہ بھی بولی کیونکہ وہ بہت بےچان تھی لائبہ سے ملنے کے لیۓ
کیوں نہیں میں کال کر لیتی ہوں اسے آجاۓ گی
نزدیک ہی ہے آفس نرگس صاحبہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
اچھا روبینہ صاحبہ مسکرا کر بولی
💕💕
حنین اور زوبیہ باہر آئیں تو
الیاس آذان اور آذنان روکی کو نہلانے میں مصروف تھے
الیاس نے جیسے ہی حنین کو دیکھا تو روکی کی کان میں کچھ بولا
روکی نے اپنے بالوں کو صیح زور سے ہلایا تو سارا پانی اس کے بالوں سے نکلا
پھر روکی فل سپیڈ سے حنین کی طرف بھاگا
جب حنین نے روکی کو اپنے قریب آتا دیکھا تو ایسی چیخیں لگائ
جیسے روکی اس کو آدھا کھا گیا ہو
جاری ہے