61.1K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

جی سر سلمان سیدھا تیر کی طرح کھڑا ہوکر بولا
نائیس الیاس چئیر سے کھڑا ہوتا ہوا بولا
ویسے آج تک کبھی ہوا تو نہیں ہے اس آفس کی پرسنل ڈیٹیلز باہر لیک ہو
سو تو میں تمہیں کچھ اپنے پرسنل ڈاکومنٹس دوں گا تم نے اس پر سرچ کرنا ہے
اوکے الیاس سلمان کے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ بولا
اوکے سر
الیاس سلمان کو اوپر سے نیچے تک دیکھ رہا تھا
اگر آپ اس آفس میں سیلری کی وجہ سے نہیں آئیں تو کیوں آئیں ہیں الیاس اپنی ایک آئ برو اٹھاتے ہوۓ بولا
سر میں اس کمپنی کو آپ کے ساتھ مل کر اور بھی اوپر تک پہنچانا چہتا ہوں سلمان اپنی عینک ٹھیک کرتا ہوا بولا
اور اس کمپنی کو آپ کتنا اوپر لے کر جاؤ گے دوبئی کے پہلے نمبر پر آنے والی کمپنی ایل بی یعنی یہ کمپنی ہے دوبئی کے علاوہ بھی باہر کے ممالک میں جانی جاتی ہے
الیاس بولا
💞💞
چندہ جیسے ہی کار میں بیٹھنے لگی
جعفر نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
سورییییییی چندہ یار میں ٹائیم پر ہی نکلا تھا بٹ تمہارے لیۓ گفٹ لے رہا تھا وہاں سے تھوڑا لیٹ ہوگیا جعفر اپنی صفائی پیش کرتا ہوا بولا کیونکہ وہ جانتا تھا کے یہ آفت کی پڑیا اس کی جان کھا جاۓ گی طعنے مار مار کے
چھوڑو میرا ہاتھ ڈفر
چندہ چلا کر بولی
جبکے جعفر کے تو اوسان خطا ہو گئے تھے
تم نے ڈرنک کی ہوئ ہے جافر غصے سے بولا
ہاں کی ہوئ ہے تم کیوں یہ سوال پوچھ رہے ہو چندہ اکڑ کر بولی
شرم آنی چاہیۓ چندہ چلو میرے ساتھ جعفر چندہ کے بازو سے پکڑ کر لے کر جانے لگا
چھوڑو مجھے اسٹوپڈ انسان چندہ اپنا ہاتھ ضور سے چھڑوا کر بولی
پارکنگ ایریا میں موجود کچھ لوگوں نے انہیں نظر انداز کیا باہر کے ملکوں میں ایسی باتوں کو کوئ خاص تر جی نہیں دی جاتی
ایک تو ڈرنک کی ہے اوپر سے بدتمیزی بھی کر رہی ہو جعفر اپنا غصہ ضبط کرتے ہوۓ بولا
کیوں تم میرے باپ یا بھائی ہو جو بات بات پر طعنہ مار رہے ہو چندہ زمین پر بیٹھتے ہوۓ بولی
جعفر نے بنا کچھ کہے اس کو ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کیا اور گھسیٹ کر کار کی طرف لے جانے لگا
جافر اپنی لمٹ کروس مت کرو سمجھے مجھے ایسے گھٹیا مرد بلکل پسند نہیں ہیں جو عورتوں کے ساتھ زور زبردستی کریں سمجھے چندہ جھولتے ہوۓ بولی
اور مجھے تم جیسی گھٹیا لڑکیاں نہیں پسند سمجھی
جعفر نے بول کر چندہ کا ہاتھ چھوڑا اور کار کا دروازہ کھولنے لگا
بیٹھو جیسے ہی دروازہ کھول کر چندہ کی طرف منہ کیا
پٹاخخخ ایک زوردار تھپڑ چندہ نے جعفر کے منہ پر دے مارا
اب کی بار دو چار لوگ متوجہ ہوئے
جعفر ہکا بکا اپنی لال ہوتی انگارا آنکھوں سے چندہ کو گھورنے لگا
💞💞
سر ا ابھی یہ کمپنی صرف دوبئی میں نمبر ون پر ہے
میں اور آپ مل کر اس کمپنی کو دنیا کی نمبر ون کمپنی بنائیں گیں
سلمان کا یہ رویہ الیاس کو کچھ خاص پسند نہیں آرہا تھا
ہممم ٹھیک ہے
نیچے ٹیبل نمبر سترہ ہے اس پر تمہارہ نام بھی ہے وہاں بیٹھ جاؤ
تمہارہ سارا کام ای میل کر دیتا ہوں
اوکے سر
سلمان کہتے ساتھ ہی باہر نکل گیا
جبکے الیاس شاطرانہ مسکراہٹ مسکرانے لگا
💞💞
یہ تمہارہ کیبن ہے اور فائیل کی ای میل میں تمہیں کمپیوٹر پر سینڈ کر دوں گیں تم اسے پڑھ کر پی ڈی ایف بنا کر اپنے موبائل میں سینڈ کر دینا اوکے زارا اپنی بات مکمل کرتے ہوۓ بولی
میری بات سننا زرا حنین غصے سے بولی
فرمائیے زارا اپنی دونوں آئ بروز اٹھاتے ہوۓ بولی
تمیز نہیں ہے آپ میں کب سے تم تم لگا کر رکھی ہے یہ ڈیسیپلن ہے اس آفس کا
ہاں بھئ یہی توڑ طریقے ہے اس آفس کے اگر تمہیں اتنی تکلیف ہے تو کسی کمپنی میں آپلاۓ کر لو
میری بات کان کھول کر سن لیں آپ کو آئیندہ مجھے تم کہنے کی ضرورت نہیں ہے اور دوسری بات اس کمپنی میں
آپ کو سیلیکٹ ہوکر دیکھاؤں گی اوکے حنین چیلنجنگ انداز میں بولی
دیکھ لے گیں پہلے فائیل تو دیکھ لو زارا تنظیہ مسکرا کر بولی
ہمم چلے اب نکلیں یہاں سے تا کے میں پہلے دن آرام سے اپنے آفس کی ہر چیز دیکھ سکوں حنین چئیر پر پاؤں پر پاؤں رکھتے ہوئے بیٹھی
جبکے زارا پاؤں پٹخ پٹخ کر چلی گئ
چوڑیل کہی کی بندہ سامنے ہی عزت رکھ لیتا ہے حنین ناک چڑھا کر اپنی چئیر گھمانے لگی
💞💞
مبین اور قاسم آفس میں آۓ تو اپنے کیبن کو دیکھ کر حیران ہوگۓ تھے
ان دونوں کی سیٹ پر کوئ اور لوگ بیٹھے تھے
اوۓ یہ دیکھ میرے کیبن میں نیو لڑکی بیٹھی ہے مبین پریشانی سے بولا
اور وہ دیکھ میرے کیبن میں چشماٹو بیٹھا ہے قاسم بولا
یار کیا ہم دونوں کو جاب سے نکال تو نہیں دیا مبین پریشانی سے بولا
پتہ نہیں
لیکن بھاگ سر کے پاس قاسم بولا
دونوں الیاس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے تھے
آپ دونوں کے لیۓ میں نے روم کی اریجمنٹ کر دی ہے کیونکہ گیم بنانا آسان نہیں ہے وہ بھی شور میں
سو آپ لوگ ایزی ہو کر اپنا کام کرو گے
تھینک یو سو مچ سر دونوں خوش ہوتے ہوۓ بولے
ہممم اب جاؤ کام کر رہا ہوں میں
الیاس کمپیوٹر کو دیکھتے ہوئے بولا
دونوں باہر نکل گۓ
💞💞
جعفر نے اپنی پوری قوت لگا کر ایک زوردار تھپڑ رسید کیا چندہ کے منہ پر وہ زمین پر جاگری
اور نشہ بھی سارا اس تپھڑ سے اتر گیا
لیکن افسوس اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئ
کیونکہ یہ اس کی پوری زندگی کا دوسرا تھپڑ تھا
پہلا تھپڑ اس نے اپنی کلاس ٹیچر سے کھایا تھا
جعفر نے چندہ کو اٹھا کر کار میں پٹخھا
اور کار ڈرائیو کر کے اس کے گھر کے سامنے روکی
کار سے باہر نکل کر اپنی پوکٹ سے فون نکالا
اسلام علیکم چاچو جعفر باہر ٹہلتا ہوا بولا
وعلیکم اسلام آفاق صاحب بولے
آپ گھر ہیں یا آفس
گھر ہی ہوں خیریت تو ہے نہ
جی آپ باہر آئیں چندہ کو لے جائیں
جافر نے اتنا بول کر کال کاٹ دی
اور آگے پیچھے ٹہلنے لگا
آفاق صدیقی اور آفشین صاحبہ دونوں باہر آۓ
باہر چندہ کا حال دیکھ کر پریشان ہوگۓ
چندہ چندہ بیٹا کیاہوا
آفشین صاحبہ کار میں ہی اسے ہوش میں لانے لگی
پانی پکڑیں جعفر نے پانی کی بوتل دی
آفشین صاحبہ نے پانی کا چھڑکاؤ کیا تو چندہ ہوش میں آئ
ماما چندہ روتے ہوۓ بولی
کیا ہوا ماما کی جان
ماما جعفر نے اتنی زور کا چانٹا مارا میرے فیس پر
آفشین صاحبہ اور آفاق صاحب دونوں حقے بکے جعفر کو دیکھ رہے تھے جبکے جعفر اپنے موبائل میں مصروف تھا
افاق صاحب کا تو پارا ہائی ہوگیا
جبکے جعفر نے اپنا فون پاکٹ میں رکھ کر ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا ہوگیا
💞💞
اوہو کافی دیر سے اس آفس کو گھور رہی ہوں اب زرا اس کمپیوٹر میں دیکھوں ای میل آئ کے نہیں حنین خود سے ہی گفتگو کرتے ہوۓ کمپیٹر اون کرنے لگی
اللہ جییی اتنا زیادہ مجھے یاد کرنا ہے
حنین کمپیوٹر میں فائیل پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی
میرے اللہ اتنا تو میں نے کبھی سکول میں بھی نہیں یاد کیا اب کیا کروں
حنین رونے والا منہ بنا کر بولی
اور ساتھ کمپیوٹر پر میسج آیا
دیکھتی ہوں کے کیسے سیلیکٹ ہوتی ہو تم بھی زارا ہنسنے😁😁😁 والے ایموجیز بھیج کر بولی
جاری ہے