No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
الیاس کافی خوش تھا
کیونکہ اس پروجیکٹ پر وہ دو سال سے کام کر رہا تھا
اور جیسے ہی یہ پروجیکٹ کمپلیٹ ہوا تو اس نے بنا ٹائیم ویسٹ کیۓ میٹینگ رکھ دی تھی
حنین بس اپنے سامنے ٹیبل کو دیکھ رہی تھی
اس نے غلطی سے بھی الیاس کی طرف نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی کام کے علاؤہ کوئ بات کی
سب الیاس سے باتیں کر رہے تھے
جب حنین کے نمبر پر قاسم کا میسیج آیا
اس میسیج کو پڑھ کر حنین تو پاگل ہونے والی تھی
یااللہ یہ کیا ہے میں سر کے ساتھ ہوں تو ساری مصیبتیں آرہی ہیں اب سر یہ غصہ بھی میرے اوپر اتاریں گیں
حنین پریشانی سے کھڑی ہوئ
سر حنین نے ہلکی سی آواز دی
الیاس باتوں میں مصروف تھا جب حنین کی آواز سنی تو اس کی طرف متوجہ ہوا
بولیں حنین
الیاس حنین کی طرف دیکھتا ہوا بولا
سر پرسنل بات ہے حنین سب کو دیکھتے ہوئے بولی
اوکے الیاس اپنے سامنے بیٹھے لوگوں کو دیکھتے ہوئے بولا
اور کھڑا ہوگیا
حنین اور الیاس اکیلے ایک روم میں تھے جب حنین نے اپنا فون الیاس کو دیا
اس میں قاسم کا میسج تھا
حنین سر سے کہو کے
جو سر نے گیم بنائ تھی اس کا ایڈ کسی اور کمپنی نے دیا ہے
ہمیں نہیں پتا گیم کس نے لیک کی ہے
لیکن میں اور مبین ابھی پتہ کروا رہے ہیں
حنین الیاس کے ہی ایکسپریشن دیکھ رہی تھی
کے ابھی ایکسپریشن چینج ہو گیں ابھی ہو گیں لیکن الیاس ویسا کا ویسا ہی تھا کوئ ایکسپریشن چینج نہیں ہوۓ تھے ایک دم نارمل تھا
اور حنین کے موبائیل پر وائیس میسج بھیج دیا
قاسم آپ لوگ جو بھی کر رہے ہیں
اسے اسٹوپ کردیں کوئ انویسٹیگیشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں آکر سب کچھ سولو کر دوں گا
بس آپ نے اور مبین نے اتنا کرنا ہے
رات دس بجے کے بعد کسی کو آفس میں نہیں رہنے دینا
اور ہر ایک ورکر پر نظر رکھنا
کون کیا کر رہا ہے کتنی دیر کیبن سے غائب رہتا ہے
انفیکٹ سب ورکرز کو اتنا کام دیں کے ان کو اپنی جگہ سے اٹھنے کی فرصت ہی نہ ملے
اور بریک ٹائیم آپ نے ایسا کرنا ہے
الیاس سوچتے ہوۓ بولا
سب کے آورڈر لینے ہیں
اور مبین کو دینا وہ سب کچھ لے آۓ گا
آپ نے سب پر نظر رکھنی ہے
اور آفس میں کسی کو اوپر جانے نہیں دینا
اوکے
اللہ حافظ
الیاس نے پوری وائیس بھیج دی
اور فون حنین کو واپس کیا جو منہ موڑے کھڑی تھی
💞💞
آنٹی میں نے گھر جانا ہے آذان بولا
بیٹا آپ کی آپی نے منع کیا ہے کے جب تک میں نہ آؤ تب تک گھر نہیں جانا
بٹ آنٹی میں بور ہوگیا ہوں
نہ اسکول جارہے ہیں اور نہ ہی یہاں کوئ ٹوایز آذان بیڈ پر لیٹتے ہوا بولا
کیا ہوا بچو نرگس روم میں آتے ہوئے بولی
کچھ نہیں آذان منہ بنا کر بولا
آذان کہ رہا ہے کے گھر جانا ہے
میڈ بولی
کیوں بیٹا کیا ہوا آپ کو نرگس پریشانی سے بولی
آنٹی میرے پاس کھیلنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے میں بور ہو رہا ہوں آذان صاف منہ پر بولا
آذان بیٹا ایسے نہیں بولتے
میڈ پیار سے بولی
ارے رہنے دیں بچہ ہے نرگس مسکرا کر بولی
آؤ آذان میں آپ کو ٹوایز دوں میرے پاس بہت سارے ہیں
نرگس مسکرا کر بولی
سچی آذان بیڈ سے چھلانگ مارتے ہوئے بولا
ارے ارے آرام سے نرگس آذان کو پکڑتے ہوئے بولی
جی ہاں اب چلیں
نرگس آذان کو دیکھتے ہوئے بولی
جی آذان اپنی دونوں آئی بروز اٹھاتا ہوا بولا
چلیں نرگس میڈ کی طرف بھی دیکھتے ہوئے بولی
جی جی میڈ مسکرا کر بولی
💞💞
قاسم نے وائیس سنی تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا
مبین فریش سا آفس میں آیا تو قاسم ہنس رہا تھا
کیا ہوا مرشد مبین قاسم کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا
یہ لو غالب وائیس سن لو سر کی قاسم موبائیل دیتا ہوا بولا
مبین حیران بھی تھا اور ہنس بھی رہا تھا
کیوں اس میں ایسا کیا ہے جو اتنا ہنس رہے ہو
سن تو لو قاسم چئیر پر بیٹھتے ہوئے بولا
مبین نے وائیس سننا سٹارٹ کی
اور سنتا رہا
قاسم آپ نے سب کے آوڈر لینے ہیں
مبین نے ایکدم وائیس اسٹوپ کر دی
ہاہاہاہاہاہا میرا بھائ ویٹر بنے گا ہم سب کا
مبین ہنستے ہوئے بولا
قسم سے قاسم میں اپنے سارے بدلے پورے کروں گا
جو سر نے میرے ساتھ کیا تھا اور تو دانت نکال رہا تھا
مبین خوش ہوتے ہوۓ بولا
اچھا کیا بدلے لے گا تو مجھ سے قاسم ہاتھ باندھتے ہوئے بولا
تجھے بیٹھنے ہی نہیں دوں گا بار بار تیرے سے چیزیں منگواؤ گا مبین آنکھ مارتے ہوئے بولا
چل میرے بھائی وائیس پوری سن لے سر کبھی کسی کے ساتھ نہ انصافی نہیں کرتے قاسم ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولا
اچھا مبین نے پھر وائیس اسٹارٹ کی
مبین کو سارے آورڈرز دینا وہ سب کچھ لاۓ گا
مبین نے ایکدم وائیس اسٹوپ کی
یار یہ کیا بدتمیزی ہوئ اب میں ویٹر بنو گا مبین غصے سے بولا
ہاں قاسم لمبا سانس لے کر بولا
اب میں تیرے سے بدلے نکالوں بھائ صاحب
مطلب مبین معصومیت سے بولا
آپ کو بیٹھنے نہیں دونگا قاسم بھی معصومیت کی ساری حدیں کراس کرتے ہوئے بولا
یار میرے سے نہیں ہوتا سب کے لیۓ انکے کھانے کی چیزیں لاؤں مبین منہ بنا کر بولا
آفس کے اندر سے ہی چیزیں لانی ہے باہر کسی ہوٹل سے نہیں لانی جو تجھے اتنی تکلیف ہو رہی ہے
قاسم ہنستے ہوئے بولا
💞💞
الیاس اور حنین روم میں بیٹھے تھے
دونوں اپنے اپنے فون میں مصروف تھے
حنین نے فون کو رکھا اور شوز پہننے لگی
الیاس باظاہر فون میں مصروف تھا
لیکن وہ حنین کو ہی نوٹ کررہا تھا
حنین نے شوز پہنے اپنی جیکٹ پہنی
اور بیگ اٹھایا
دروازے کو کھولنے ہی لگی تھی
جب الیاس کی آواز آئ
کہاں جارہی ہو
شاپنگ پر جارہی ہوں سر حنین اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی
کیونکہ اس نے پھر الیاس سے نہیں پوچھا تھا
اکیلی الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
جی سر اور کس کے ساتھ جاسکتی ہوں
حنین مسکرا کر بولی
پہلے کبھی آئ بھی ہو یہاں الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
نہیں حنین واپس روم میں آتے ہوئے بولی
پہلے آئ نہیں ہو تو اکیلے کیسے جارہی ہو گم ہو گئ پھر
حنین سر جھکائے الیاس کی باتیں سننے لگ گئ ۔
بولو بھی کچھ الیاس غصے سے بولا
حنین خاموش تھی
پھر میں تمہیں یہاں ڈھونڈتا پھیرو گا کیونکہ میں پاگل جو بیٹھا ہوں
الیاس اپنی جیکٹ پہنتے ہوئے بولا۔
حنین الیاس کو دیکھنے لگی
جو جیکٹ پہن اسے دیکھ رہا تھا
چلو اب الیاس بولا
سر آپ جائیں گیں میرے ساتھ حنین حیرانگی سے بولی
ہاں بیکوس مجھے بھی شاپنگ کرنی ہے
الیاس حنین پر نظریں گاڑتے ہوئے بولا
خیر حنین کو کیا جس لیۓ بھی جاۓ اسے تو شاپنگ کرنی تھی
آذان اور آذنان کے لیے
اوکے چلیں سر حنین خوشی سے بولی
تو الیاس باہر نکل گیا
حنین بھی الیاس کے پیچھے ڈانس کرتے کرتے نکل گئ
💞💞
حنین اور الیاس اوٹاما مال میں تھے
حنین آگے آگے چل رہی تھی اور چیزیں لینے میں مصروف تھی
جبکے الیاس حنین کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا
حنین نے آذان اور آذنان کے لیۓ اسپائیڈر مین والے کپڑے لیۓ
پھر دوبارا بچو کے کپڑوں والے سینٹر میں گئ
حنین نے آذان اور آذنان کے ساتھ کیرش والی مووی دیکھی تھی
(ہم نے بھی ایسے پینٹ شرٹ ماسک اور گاؤن لینا ہے)
جو کریش نے پہننا ہوا تھا
تو حنین نے کہا تھا کے وہ ان کے لیۓ لازمی لے گی
آج حنین کو موقع ملا تھا
تو وہ دھراڈم شاپنگ میں مصروف تھی
سر آپ نے جو شاپنگ کرنی ہے کر لیں
پھر آپ فارغ ہوکر مجھے کال کرلیجیۓ گا میں آپ کے بتاۓ ہوۓ ایڈرس پر آجاؤ گی
حنین بولی
کوئ بات نہیں آپ کرلیں شاپنگ مجھے کوئ پروبلم نہیں ہے
الیاس بولا
اوکے حنین بولی
💞💞
نرگس آذان اور آذنان کو آدم کے روم میں لائ تھی
جہان آدم کے بچپن کے سارے ٹوایز پڑے تھے
واؤ آنٹی یہ تو بہت اچھے ٹوایز ہیں آذان آذنان چہک کر بولیں
جی بیٹا آپ لوگ کھیلو آپ دونوں اب بلکل بھی بور نہیں ہوگے
نرگس مسکرا کر بولی
جی آنٹی دونوں ایک ساتھ بولے
بیٹا آپ دونوں کے لیۓ کچھ بناؤ
آذان کی میڈ بولی
جی نہیں ابھی تو بھوک نہیں لگی
جب لگے گی بھوک تو آپ کو بتادیں گیں آذنان مسکرا کر بولا
اوکے
نرگس بہت خوش تھی بچو کے آنے پر بہت زیادہ گھر میں چہل پہل ہوگئ تھی
💞💞
حنین اب لیڈیز بوتیک میں آگئ تھی
وہاں سے اس نے لائبہ کے لیۓ بہت پیارا سا سوٹ پسند کیا جو گرین کلر کا تھا
لائبہ کی امی کے لیۓ اور اپنی میڈ کے لیۓ بھی بہت ساری شاپنگ کی
الیاس نے بھی اسی بوتیک سے مہرون کلر کا سمپل سا فراک لیا
حنین نے دیکھا تو اسے ہنسی آرہی تھی الیاس پر
کیونکہ الیاس کو کافی شرم آرہی تھی لیڈیز بوتیک میں پھرتے ہوۓ
💞💞
مبین سب کے لیۓ ان کی پسند کی چیزے لے آیا تھا
اور بیٹھنے ہی لگا تھا جب قاسم نے اسے آواز دی
مبین تم تو پانی کی بوتلیں لاۓ ہی نہیں
قاسم دانت نکالتے ہوۓ بولا ۔
تو تم لے آؤ یار
مبین بے چارگی سے بولا
سو ری قاسم دانت نکالتے ہوئے بولا
لائبہ ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی
لائبہ سسٹر تم لے آؤ مبین لائبہ کو ٹارگٹ بناتے ہوۓ بولا
قاسم نے ایکدم مبین کو غصے سے دیکھا
تو مبین دانت نکالتے ہوئے دیکھنے لگا
اوکے لائبہ ٹیبل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑی ہوئ
قاسم ایک دم کھڑا ہوگیا
لائبہ آپ بیٹھ جاؤ میں لاتا ہوں قاسم بولا
نہیں قاسم بھائ آپ بیٹھ کر اپنا کھاۓ میں جارہی ہوں ویسے بھی ابھی میرا موڈ نہیں ہے لنچ کو
بھائ کے نام پر قاسم کے دل میں درد آگیا اور مبین اپنا سر ٹیبل پر رکھ کر اپنی ہنسی کنٹرول کرنے لگا
لائبہ بول کر چلی گئ قاسم دھرم سے چئیر پر گرا
دیکھا میری بات نہ ماننے کا انجام مبین بول کر زبان نکالنے لگا
تو ہے ہی منہوس ضروری تھا اس کے سامنے مجھے کام بولنے کا قاسم دکھ بھرے لہجے میں بولا
چل جا ابھی چلا جا اور اپنا پروپوزل پیش کر دے مبین ہنستا ہوا بولا
نہیں یار اب تو اس نے مجھے بھائ بول دیا ہے قاسم اداسی سے بولا
کچھ نہیں ہوتا یار
کہتے ہیں نہ
پہلے بھئیا پھر سیئاں مبین قاسم کو دلاسہ دیتے ہوئے بولا
سچی قاسم خوشی سے بولا
ہاں نہ اب جا مبین نے اور دلاسہ دیا
قاسم جلدی سے اٹھ کر لائبہ کے پیچھے بھاگا
💞💞
حنین نے کافی ساری شاپنگ کرلی تھی
اور اب اتنے سارے بیگز اٹھا نہیں پارہی تھی
الیاس نے ترس کھا کر کچھ بیگز اس کے ہاتھ سے لے لیۓ
آج الیاس حنین کو حیران پر حیران کری جارہا تھا ۔
خیر حنین کو تو خوشی ہورہی تھی کے اللہ تعالیٰ نے ایک وسیلہ بنایا ہے اس کے لیۓ
اس سے زیادہ حنین کچھ نہیں سوچ سکتی تھی
سر مجھے بھوک لگ رہی ہے
حنین الیاس کو واپس ہوٹل کی طرف جاتا دیکھ کر بولی
الیاس بولا تو کچھ نہیں لیکن گردن ہلائی
حنین ان بیگز کو روم میں رکھ لیتے ہیں پھر چلے جائیں گیں الیاس بیگز کو دیکھتے ہوئے بولا
اوکے سر
حنین ہوٹل میں آئ تو اولینا ان دونوں کا ہی ویٹ کر رہی تھی
او اولینا کیسی ہو حنین مسکرا کر بولی
میں ٹھیک آپ کیسی ہو
میں بھی فٹ حنین مسکرا کر بولی
اولینا نے الیاس سے بھی حال احوال پوچھا اور پھر اپنی بات پر ائ
وہ دراصل میں اس لیے آئ تھی حنین آپ کے لیۓ الگ روم ارینج ہوگیا ہے
آپ نے میری وجہ سے ایک روم میں ارجسٹ کیا
سو میں نے بھی جلدی سے آپ کے لیے روم ارینج کردیا
اولینا بولی
تھینکیو سو مچ دوسرا روم ارینج کرنے کے لیے حنین مسکرا کر بولی
ویلکم اولینا
سر کے سامنے والا روم ہی آپ کا ہے سو
اب مجھے اجازت دیں اولینا مسکرا کر بولی
اوکے حنین بولی
اور کھانا آپ دونوں کے روم میں پہنچا دیا گیا ہے اولینا بول کر چلی گئ
جبکے حنین کا منہ بن گیا
اس نے تھوڑی دیر باہر گھومنا تھا کھانے کے بہانے کیونکہ صاف الفاظوں میں الیاس سے نہیں کہ سکتی تھی
الیاس نے حنین کے ایکسپریشن پڑھ لیۓ تھے
ا س لیۓ حنین سے بولا
حنین آپ کھانا کھالیں پھر کافی پینے چلتے ہیں
ویسے بھی یہاں کی کافی بہت اچھی ہوتی ہے
اوکے حنین مسکرا کر بولی
الیاس اپنے روم کی طرف چلا گیا
حنین اپنے روم میں آئ تو
سب سے پہلے اس نے اپنا منہ ہاتھ دھویا
پھر وائیٹ جینز پہنی اس کے اوپر سمپل وائیٹ ہی کلر کی شرٹ پہنی اور اپنا کوٹ پہن کر
بالوں پر برش مارنے لگی تو اسنے نوٹ کیا اس کے بالوں کی لھینتھ کافی لمبی ہوگئ ہے
اتنی مصروف ہوگئ ہوں کے اپنے آپ کو ہی ٹائیم نہیں دیتی حنین ہنستے ہوئے خود سے ہی بولی
ویسے اچھی لگ رہی ہوں لمبے بالوں میں بھی حنین بولی
ابھی ویسے بھی فارغ ہوں ایسا کرتی ہوں آج بھی بال کٹوا لوں گی
حنین بول کر باہر نکل گئ
حنین الیاس کے روم کا دروازا نوک کرنے لگی
الیاس نے جیسے دروازہ کھولا تو سامنے فل ریڈی حنین کھڑی تھی
الیاس نے بنا شرٹ کے دروازہ تھوڑا سا کھولا تھا
وہ سمجھا کوئ ویٹر ہوگا
کیونکہ اسے امید نہیں تھی کے حنین اتنی جلدی آجاۓ گی
حنین نے جیسے ہی الیاس کو بغیر شرٹ کے دیکھا تو ایکدم مڑ گئ
سوری سر
آپ آرام سے ریڈی ہوجاۓ میں ویٹ کر رہی ہوں باہر حنین کی کمر الیاس کی طرف تھی اور وہ بول رہی تھی
اوکے
الیاس نے فٹافٹ شرٹ پہنی اور اپنے بالوں کو انگلیوں سے سٹ کر کے باہر نکل گیا
چلو الیاس بولا
حنین نے الیاس کی طرف دیکھا تو فل ریڈی تھا
(ارے واہ کتنی جلدی تیار ہو گئے سر حنین دل میں بولی)
💞💞
الیاس اور حنین کافی پی رہے تھے
بیک گراؤنڈ میں ہلکا سا میوزک چل رہا تھا
دونوں چئیر کے سامنے آگ لگائی ہوئ تھی
الیاس اور حنین خاموشی سے کافی پی رہے تھے
جب حنین کو لائبہ کی کال آئی
حنین نے کال ریسیو کی اور باتیں کرنے لگ گئی
کافی دیر تک حنین سب کے ساتھ باتیں کرتی رہی
الیاس کو دیکھا تو وہ کھڑا ہوگیا تھا
حنین آپ یہی بیٹھ کر انجوائے کریں
میں سیلون جارہا ہوں اپنا ہئیر کٹ کروانے
(الیاس کسی بھی کنٹری جاتا تو اپنا ہئیر کٹ اس جگہ سے لازمی کرواتا کیونکہ الیاس کو بہت پسند تھا)
حنین نے ایک منٹ روکنے اشارہ کیا
الیاس کافی حیران ہوا مجھے اشارے کرنا شروع کر دیا ہے کیا بات ہے اسکی الیاس سوچتے ہوئے بولا
اور خود بھی کھڑی ہو گئی
لائبہ میں بعد میں بات کرتی ہوں اوکے
اوکے لائبہ نے بولا
حنین نے کال کاٹ دی
سر مجھے بھی سیلون جانا ہے حنین چہک کر بولی
اوکے الیاس بولا
💞💞
لائبہ نے کاونٹر سے پانی کی بوتلیں اٹھائ اور چلنے لگی
تو قاسم نے اسے آواز دی
لائبہ
لائبہ پیچھے مڑی
جی
قاسم نے آتے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے پانی کی بوتلیں لے لی
لائبہ نے بنا کچھ بولے چلنا شروع کردیا
لائبہ میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں
قاسم ڈر ڈر کر بول رہا تھا
دیکھیں میں جو بھی بولوں گا آپ نے مائنڈ نہیں کرنا اور نہ ہی مجھے برا سمجھنا
اور پلیزززززززززززززز نہ ہی مجھے تھرڈ کلاس آدمی سمجھنا ہے
قاسم پریشانی سے بولا
لائبہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کے وہ کیا بولنا چاہتا ہے
دیکھیں قاسم بھائ آپ نے
لائبہ آگے بول ہی رہی تھی جب قاسم نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا
یار ایک یہ بھائ کا لقب بند کرو
قاسم عجیب سی شکل بنا کر بولا
مطلب لائبہ غصے سے بولی
💞💞
الیاس بیٹھا اپنا ہئیر کٹ کروا رہا تھا
اور حنین بھی ساتھ چئیر پر بیٹھی اپنے بالوں کا بتا رہی تھی
الیاس کو سمجھ نہیں آرہی وہ کروا کیا رہی ہے
کیونکہ حنین نے پچاس بار تو سامنے کھڑے آدمی سے نہ نہ کیا تھس
حنین کے بال ایک آدمی کاٹنے لگا
الیاس اپنے کٹنگ کروا شیشے میں اپنے بالوں کو دیکھنے لگا
اچانک اس کی نظر حنین پر پڑی جس نے اپنی کمر تک کے بالوں کو کندھے تک کٹوا دیا تھا
الیاس کا دل بہت برے طریقے سے ٹوٹ گیا تھا
اتنے لمبے بال اس لڑکی نے کیسے کٹوا دیۓ الیاس اداسی سے بولا
کاش اس بلی کو یہاں لاتا ہی نہ الیاس حنین کی نیلی آنکھوں کو دیکھتا ہوا بولا
اور غصہ بھی بہت آیا الیاس کو
جاری ہے
