No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
حنین نے روکی کو اپنے قریب آتا دیکھ کر چیختے ہوئے بھاگنا شروع کر دیا
حنین کو اپنے آگے کچھ نظر نہیں آیا تو سویمنگ پول میں کود گئ
جبکے الیاس کا ہنس ہنس کر برا حشر ہوگیا تھا آنکھوں سے آنسوں بھی نکلنے لگ گۓ تھے
حنین سوئمنگ پول کے بلکل درمیان میں کھڑی تھی
الیاس چلتا ہوا حنین کے پاس آیا تو روکی بھی الیاس کے پاؤں کے پاس کھڑا ہوگیا
باہر آؤ حنین الیاس بولا
میں کیوں آؤں حنین روکی کو دیکھتے ہوئے بولی
میں نے کہا نہ باہر آؤ الیاس سیریس ہوتے ہوئے بولا
آنٹی الیاس کو دیکھیں نہ حنین زوبیہ کو دیکھتے ہوئے بولی
جو خود ظہور کے پیچھے کھڑی تھی
الیاس جاؤ اسے کتے کو باندھ کر آؤ زوبیہ دور سے ہی تیز آواز میں بولی
جبکے روکی نے بھونکنا شروع کر دیا تھا
امی اسے روکی کہیں کتا نہیں کہیں
الیاس سمجھاتے ہوئے بولا
اچھا جاؤ اس کو باندھ کر آؤ زوبیہ جان چھوڑواتے ہوئے بولی
اوکے الیاس چلنے لگا تو روکی بھی اسی کے پیچھے چلنے لگا
الیاس روکی کو باندھ کر واپس آیا تو حنین اسی طرح پانی میں کھڑی تھی
اور زوبیہ بھی باہر اسی کے پاس کھڑی تھی
نکلو بھی اب الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
جی حنین معصومیت سے بولی
جبکے زوبیہ آہستہ آہستہ چلتے ہوۓ الیاس کے پیچھے آرہی تھی تاکہ الیاس کو بھی سوئمنگ پول میں دھکا دے دے
حنین چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے آرہی تھی تاکہ الیاس کو شک نہ ہو زوبیہ اس کے پیچھے آرہی ہے
زوبیہ نے جیسے ہی الیاس کو دھکا مارنے کے لیۓ ہاتھ اٹھایا تو الیاس ایکدم سے پیچھے مڑا اور اپنی امی کو دیکھنے لگا واؤ امی بدلے لے رہی ہیں آپ مجھ سے وہ بھی اپنی بہو میڈم کے لیۓ
الیاس زوبیہ سے بولا
ہاں تو تم نے بھی حنین میڈم کو ڈرایا ہے زوبیہ نے بولتے ساتھ ہی الیاس کو پانی میں دھکا دے دیا
الیاس خود ہی پانی میں گرا تھا اگر وہ نہ چاہتا تو اسے کوئ گرا ہی نہیں سکتا تھا
حنین زوبیہ آذان اور آذنان سارے ہنس رہے تھےالیاس پورا گیلا ہوگیا تھا اور حنین کو دیکھنے لگا
اب چلیں روم میں الیاس بولا
حنین بنا کوئ جواب دیۓ سوئمنگ پول سے نکل گئ
ظہور نے حنین کی طرف ٹاول کیا تو الیاس نے پکڑ لیا مجھے دو اس کے بال کدھر ہے الیاس ٹونڈ مارتے ہوئے بولا
یہ بال تو ہیں آپ کو نظر نہیں آرہے کیا حنین اپنے کندھوں تک آتے بالوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی
نہیں الیاس بول کر روم کی طرف چلاگیا
جبکے زوبیہ مسکرانے لگی کیونکہ زوبیہ کو پتا تھا الیاس کو لمبے بال پسند ہیں لڑکیوں کے حنین نے آذان کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا حنین کے اچانک دیکھنے پر وہ مڑ گیا اور اندر چلا گیا ظاہر کروا رہا تھا آخر کو وہ بھی ناراض ہے
ناراض ہے آذان کیا زوبیہ حنین سے بولی
جی حنین اداس ہو کر بولی
کوئ بات نہیں منا لیں گیں زوبیہ مسکراتے ہوئے بولی
حنین روم میں آئ تو الیاس نے بلیک کلر کی قمیض شلوار پہنی تھی مطلب اس نے شاور لے لیا تھا
وہ کال پر بات کر رہا تھا
آپ دونوں کو ایک ساتھ چھوٹی خیریت الیاس قاسم سے بولا
کیونکہ قاسم کی کال سے پہلے لائبہ کا میسج بھی آیا تھا
پتہ نہیں سر مجھے تو میرے پرنٹس بلا رہے ہیں کیونکہ وہ پاکستان سے کل ہی آئیں ہیں قاسم بولا
اوکے چلے جائیں آپ دونوں کل سے میں نے آکر یہ سارے مزاخ ختم کرنے ہیں الیاس بولا
سوری سر اگر آپ چاہتے ہیں تو میں نہیں جاتا
قاسم بولا
نہیں چلے جائیں آپ دونوں
الیاس نے بول کر کاٹ دی
اور نماز پڑھنے چلا گیا
💞💞
لائبہ سر نے آپ کو چھوٹی دے دی ہے قاسم لائبہ کے پاس آتے ہوئے بولا
اوکے لائبہ سپاٹ لہجے میں بول کر اپنی چیزیں سمیٹنے لگی
میں آپ کو ڈراپ کر دوں قاسم ڈرتے ہوۓ بولا
نو تھینکس لائبہ بول کر باہر نکل گئ
قاسم بیٹھ گیا کیونکہ وہ چاہتا تھا لائبہ پہلے پہنچ جاۓ
اوۓ گیا نہیں ابھی تک مبین نے قاسم کو دیکھا تو سیدھا ہی اسی کے پاس آگیا
نہیں تھوڑی دیر بعد جاؤں گا
کیوں بھئ
لائبہ کے پیچھے پیچھے تو نہیں جاسکتا نہ قاسم بولا
او اچھا صیح ہے۔ بھابھی کو پہلے بھیج رہا ہے تو مبین ہنستے ہوئے بولا
ہاں نہ قاسم بہت پریشان تھا
💞💞
الیاس نماز پڑھ کر آیا تو حنین قرآن مجید کی تلاوت کر رہی تھی
الیاس اپنا لیپ ٹاپ لے کر بیڈ پر بیٹھ گیا
حنین نے قرآن مجید کی تلاوت کر کے قرآن مجید کو اس کی جگہ پر رکھا
پھر واشروم جاکر اپنے کپڑے چینج کر کے باہر آئ
اور اپنا موبائل اٹھا کر باہر نکلنے لگی
حنین
الیاس نے آواز لگائی
کدھر جارہی ہو
باہر آذان اور آذنان کے پاس حنین بولی
کیوں الیاس لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھتے ہوۓ بولا
کیوں کا کیا مطلب اکیلے ہیں ڈرتے ہیں وہ دونوں حنین الیاس کو دیکھتے ہوئے بولی
وہ دونوں امی کے ساتھ سوۓ گیں اس لیے ان کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے الیاس بولا
اوکے حنین صوفے کے پاس جانے لگی
ادھر آؤ الیاس اپنے پاس والی جگہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
جی حنین بیڈ کی نکر پر بیٹھ گئ
ٹھنڈ نہیں لگ رہی کیا یہ بلنکٹ لو الیاس حنین کی طرف بلنکٹ پھینکتے ہوئے بولا
کیونکہ اے سی الیاس نے کو ڈگری پر رکھا تھا جس سے روم میں کافی ٹھنڈ تھی
حنین نے بلنکٹ اپنی ٹانگوں پر پھیلایا
حنین تم پر ایسے کپڑے سوٹ نہیں کرتے الیاس حنین کی نائیٹ ڈریس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
کیونکہ وہ ٹراؤزر اور شرٹ تھی بازو بھی اس کے ہاف تھے
تو اب کیا میں وہ فراکیں پہن کر پھروں
حنین الیاس کو دیکھتے ہوئے بولی
بلکل الیاس حنین کے قریب ہوتے ہوئے بولا
کیونکہ تمہیں بہت شوق ہے اسطرح کے کپڑے پہننے کا
یعنی روز دلہن بننے کا
میں نے کب کہا کے مجھے شوق ہے اسطرح کے کپڑوں کا حنین حیرانگی سے بولی
میں نے تو بس اتنا کہا تھا کے تم پر ایسے کپڑے سوٹ نہیں کرتے
اور تم آگے سے شروع ہو گئی کے اب میں شادی والے کپڑے پہنوں
وہ نہ میرے پاس جینز شرٹ کے علاؤہ اور کسی کوالٹی کے کپڑے نہیں ہیں حنین بولی
تو کوئ بات نہیں ہم اور لے لیں گیں جیسے مجھے پسند ہیں
اوکے حنین بول کر لیٹ گئی
تم سورہی ہو الیاس حیرانگی سے بولا
جی مجھے بہت نیند آرہی ہے حنین جمائ لیتے ہوئے بولی
اچھا جاؤ پہلے میرے لیۓ کافی بنادو پھر سو جانا
کیونکہ میں آفس نہیں گیا تو آج رات بیٹھ کر کام کرنا ہے
حنین ایک دم سیدھی ہوکر بیٹھ گئ
میں کافی بناؤ حنین کنفرم کرتے ہوئے بولی
ہاں تو تم ہی بناؤ گی اور کوئ ہے تمہارے علاؤہ اس روم میں
لیکن مجھے کافی تو کیا کچھ بھی نہیں بنانا آتا حنین پریشانی سے بولی
اوو یہ تو مسئلہ کی بات ہے کیونکہ میں تو روز کافی پیتا ہوں
الیاس نے حنین کے بلکل قریب ہوکر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیا
چلو کوئ بات نہیں کافی نہیں ہوگی تو مجھے بھی سونا پڑے گا
چلو آؤ سو جائیں الیاس حنین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
میں بنا کر لاتی ہوں کافی
حنین کھڑے ہوتے ہوئے بولی
پکی بات ہے الیاس حنین سے بولا
جی لیکن جیسی بھی بنی تو چپ کر پی لیجیۓ گا ڈانٹنا شروع نہیں کر دینا
حنین جوتے پہنتے ہوئے بولی
نہیں کہتا کچھ الیاس لیپ ٹاپ اٹھاتے ہوئے بولا
حنین سیڑھیوں سے اتر رہی تھی
اور ڈر بھی رہی تھی اتنا بڑا گھر ہے الیاس کو ڈر بھی نہیں لگتا تھا اکیلے
اور ایک میں ہوں جان نکل رہی ہے میری ڈر کے مارے
حنین بھاگتے ہوئے کچن میں گئ
تو وہاں ایک لڑکی پہلے سے برتن دھو رہی تھی
ہیلو حنین اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
جی میم صاحبہ کوئ کام ہے
ہاں مجھے ایک کپ کافی بنا دینا حنین اسے کافی کا بول کر خود سٹول پر بیٹھ گئ
اوکے میم
کاش فون ہی لے آتی لائبہ سے ہی بات کر لیتی حنین دل میں بولی
پندرہ منٹ ہی گزرے تھے جب زائیدہ نے اسے کافی دی
تھینکس حنین کافی لے کر روم میں آئ
یہ پئیںے اور اپنا کام بھی کریں
حنین کافی کا مگ الیاس کو دیتے ہوئے بولی
اوکے کر لوں گا کام اتنی بھی تمہیں کس چیز کی بے چینی ہے الیاس کافی کا سپ لیتے ہوئے بولا
کافی تو بہت اچھی ہے الیاس تعریف کرتے ہوئے بولا
تھینک یو حنین مسکراتے ہوئے بولی
تم کیوں شکریہ ادا کر رہی ہو تم نے تو نہیں بنائ
الیاس سنجیدگی سے بولا
نہیں الیاس میں نے ہی بنائ ہے حنین الیاس سے مزاخ کر رہی تھی
الیاس نے مگ کو زمین پر زور سے دے مارا
جھوٹ نہیں بولو میرے ساتھ حنین
الیاس چیختے ہوئے بولا
حنین تو ڈر کے مارے دیورا سے چپک گئ تھی
جاؤ ابھی دس منٹ میں میرے لیۓ کافی بنا کر لاؤ
الیاس ٹائیم دیتے ہوئے بولا
حنین دوڑ کر نیچے گئ
💞💞
کہاں تھے تم دو دن سے رفاق صاحب جعفر کو دیکھتے ہوئے بولے
کام تھا میرا جعفر بیٹھتے ہوئے بولا
اور یہ جو چہرے پر چوٹیں لگی ہے یہ کیا ہے رفاق صاحب کو غصہ بہت آرہا تھا لیکن وہ برداشت کر رہے تھے کیونکہ ان کا لاڈلہ دو دن سے بغیر بتاۓ غائب تھا
چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوا تھا
اب ٹھیک ہوں جعفر بولا
اچھا رفاق صاحب بولیں
وہ حنین کا مامو اسے پاکستان لے گیا ہے کیا رفاق صاحب بولے
شادی کر لی ہے آپ کی بھتیجی نے جعفر غصے سے بولا
اسنے شادی کرلی کس سے رفاق حیرانگی سے بولا
دوبئ کی نمبر ون کمپنی کے باس سے شادی کی ہے اس نے
صیح امیر لڑکے کو پھسایا ہے آپ کی بھتیجی نے
جعفر غصے سے بولا
میں نہیں چھوڑوں گا آپ کی بھتیجی کو
کیوں کیا کیا ہے اس نے جو اسے نہیں چھوڑو گے رفاق بولا
وہ تو وقت آنے پر بتاؤں گا
💞💞
لائبہ گھر آئ تو وہاں عثمان صاحب اور روبینہ صاحبہ کو دیکھ کر انہیں سلام کیا
اور سیدھا اندر آگئ
روبینہ صاحبہ کو تو لائبہ بہت اچھی لگی تھی
بس اب وہ دعا کر رہی تھی کے رشتے کے لیۓ ہاں ہوجاۓ ۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی قاسم بھی اندر آیا
نرگس صاحبہ کو سلام کر کے عثمان صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا
ہمیں لائبہ بہت پسند آئ ہے اور قاسم میرا بیٹا بھی آپ کی بیٹی کو بہت پسند کرتا ہے
اس لیۓ اس نے ہمیں پاکستان سے دوبئی بلوا لیا تاکہ لائبہ کی بات پکی کریں
مجھے بھی آپ لوگ بہت پسند آۓ ہیں نرگس صاحبہ مسکرا کر بولی
بس لائبہ کی رضا بھی ہونی چاہیے
نرگس صاحبہ کو واقعی قاسم اور اس کی فیملی بہت پسند آئ تھی
بس اب وہ لائبہ سے پوچھ کر جلدی سے اس رشتے کے لیے ہاں کرنا چاہتی تھی
کیونکہ وہ لائبہ کے لیے بہت پریشان تھی اس کے اچھے رشتے کا انتظار کر رہی تھی
اب تو مشاللہ لڑکا بھی پیارا اچھا اور سلجھا ہوا تھا
اور پرنٹس بھی بہت اچھے تھے
ٹھیک ہے آپ پھر لائبہ سے بھی پوچھ لیں
لیکن جواب ہمیں ہاں میں ہی چاہیۓ اور پلیز ہمیں جلدی بتائیے گا ہم انتظار کریں گیں
روبینہ صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
کیوں نہیں میں جلدی ہی بتاؤں گی
نرگس صاحبہ اور روبینہ صاحبہ گلے ملی
اور باہر نکل گۓ
قاسم کار چلا رہا تھا
اسے بہت ٹینشن ہورہی تھی وہ نہیں جانتا تھا کہ لائبہ ہاں کرے گی یا نہ
قاسم لڑکی تو تم نے بہت اچھی پسند کی ہے
مجھے بہت اچھی لگی ہے روبینہ صاحبہ دل سے تعریف کرتے ہوئے بولی
جی ماما اچھی ہے تبھی تو مجھے پسند آئ ہے قاسم سنجیدگی سے بولا
ہممم
💕💕
حنین نے فٹافٹ کافی بنائ جس طرح زائیدہ بتا رہی تھی
اور کافی الیاس کے پاس لے گئ
الیاس کھڑکی کے پاس کھڑا ہو کر سیگریٹ کے کش لگا رہا تھا
حنین نے الیاس کو آواز دی تو وہ مڑا
الیاس نے جیسے ہی کافی پکڑی تو حنین مڑ گئ
الیاس نے ایکدم حنین کا ہاتھ پکڑا تو حنین کو رونا آگیا
میرا ہاتھ چھوڑیں الیاس حنین بغیر مڑے بولی
میری طرف دیکھو تو صیح حنی
حنین نے الیاس دیکھا
بولیں
سوری الیاس ایک ہاتھ سے کان پکڑتے ہوئے بولا
حنین کو پہلے رونا آرہا تھا لیکن الیاس کے سوری کہنے پر رونا شروع کردیا
ارے یار تم تو رو رہی ہو الیاس نے مگ ٹیبل پر رکھ کر حنین کو اپنے سینے سے لگایا یار جھوٹ نہ بولا کرو مجھے پتہ چل جاتا ہے جو جھوٹ بولتا ہے اور آئیندہ کبھی نہیں ڈانٹو گا پکا الیاس حنین سے بولا
میں تو مزاخ کر رہی تھی اور آپ نے مجھے اتنا ڈانٹ دیا حنین روتے ہوئے بولی
دیکھو زرا تم نے کتنی لال کردی ہیں اپنی آنکھیں الیاس حنین کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
آپ مجھے ساری زندگی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ڈانٹیں رہے گیں کیا حنین الیاس سے بولی
نہیں یار میرے بچے بھی تو ہونگیں تمہارہ غصہ ان پر نکالوں گا الیاس مسکراتا ہوا بولا
آپ زارا ڈانٹ کے دیکھائیں میں بتاؤں گی آپ کو
حنین ایک دم بولی
اور بولنے کے بعد اسے احساس ہوا کے اس نے بولا کیا ہے
اچھا یعنی تم مینٹلی طور پر تیار ہو بچو کے لیۓ
پتہ نہیں حنین بول کر الیاس سے پیچھے ہونے لگی
یار ایک تو تم نہ بھاگتی بہت ہو مجھ سے الیاس تنگ ہوتے ہوئے بولا
میں بھاگ نہیں رہی میں نے سونا ہے مجھے بہت کام ہے حنین بولی
کیوں آفس تو تم جاؤ گی نہیں اور پڑھتی بھی تم نہیں گھر کے کام آتے نہیں اور نہ ہی تمہارے دس دس بچے ہیں جسے تم نے سکول بھیجنا ہے
الیاس بچو کا ذکر کرتے ہوئے ہنس بھی رہا تھا
دس بچے اللہ معاف کرے اور آپ نے کیا بار بار بچے بچے لگا کر رکھا ہے
حنین تنگ ہوتے ہوئے بولی
ہاں تو بچے تو مجھے چائیے کم ازکم چھ
جس میں تین بیٹیاں اور تین بیٹے ہونگیں
تمہارے لیۓ دس سے چھ پر آگیا ہوں دیکھو زرا کتنا اچھا ہوں میں الیاس بولا
الیاس اگر آپ کی ایسی حرکتیں ہوئ تو آپ کی بزنس ڈوب جاۓ گا اس لیۓ بہتر ہےآپ اپنا کام کریں حنین پوری بات سمجھا کر مڑ گئ
تمہارہ ساتھ میرے ساتھ ہے تو میری کمپنی کبھی نہیں ڈوبے گی سمجھی اور ساتھ ہی الیاس نے حنین کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھ دیے
حنین نے کوئ حرکت نہیں کی تھی یعنی حنین اس رشتے کو مضبوط بنانا چاہتی تھی الیاس مسکرانے لگ گیا
💕💕
لائبہ قاسم کے پرنٹس بھی بہت اچھے ہیں اور قاسم بھی بہت اچھا ہے
اس لیۓ میں چاہتی ہوں کہ میں اس رشتے کے لیۓ ہاں کر دوں نرگس صاحبہ لائبہ سے بولی
جو اپنے آفس کا کام بیٹھ کر کررہی تھی
ماما آپ نہ کردیں کیونکہ میں نے ابھی شادی نہیں کرنی لائبہ نرگس کو بول کر واپس اپنا کام کرنے لگ گئ
کیو نہی کرنی تم نے شادی اتنا اچھا رشتہ تو ہے پھر کیا برائی ہے نرگس صاحبہ غصے سے بولی
ماما میں نے کب کہا وہ برا ہے یا اس کی فیملی
ماما وہ سب بہت اچھے ہیں لیکن میں نہیں کرنا چاہتی ابھی شادی آپ انہیں منع کردیں فضول میں نہ ان کا ٹائیم ویسٹ کریں نہ ہی ہمارا
لائبہ میں ابھی بھی کہ رہی ہوں بہت اچھے لوگ ہیں
نرگس صاحبہ پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی
ماما جی پلیزززززززززززززززز بار بار مجھے فورس نہ کریں پلیززز
لائبہ بول کر باہر نکل گئ
کیونکہ وہ جانتی تھی اگر وہ نرگس صاحبہ کے پاس بیٹھی تو وہ اسے بار بار فورس کرتے گی
اس لیۓ اٹھ کر باہر نکل گئ
پتہ نہیں میرے بچو کو کیا ہو گیا ہے ایک غلط کاموں میں لگ گیا ہے اور دوسری میری سننے کے لیے تیار ہی نہیں ہے نرگس صاحبہ افسوس سے بولی
💕💕
قاسم گھر آیا تو بنا کچھ کھاۓ پیے اپنے روم میں چلا گیا
بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھا لائبہ کے بارے میں سوچ رہا تھا
کیونکہ قاسم کو ستر فیصد یہ لگ رہا تھا لائبہ اس رشتے کے لیۓ نہ کرے گی
قاسم آؤ کھانا کھالو میں نے خود بنایا ہے روبینہ صاحبہ بولی
ماما مجھے بھوک نہیں لگی جب بھوک لگے گی تو کھالوں گا
قاسم روبینہ صاحبہ سے بولا
بیٹا ٹینشن نہ لو اور آؤ کھانا کھاؤ پتہ نہیں پھر کبھی موقع ملے یہ نہ ایک ساتھ کھانا کھانے کا روبینہ صاحبہ ایموشنل کرتے ہوئے بولی
اوکے ماما آپ ایموشنل تو نہ کریں میں آرہا ہو۔
قاسم روبینہ صاحبہ کے ساتھ باہر نکل گیا
💕💕
الیاس جیم سے آیا تو حنین سوئ ہوئ تھی
الیاس مسکراتا ہوا حنین کے پاس بیٹھ گیا
حنی الیاس نے ہلکی سی آواز دی
حنین اپنی جگہ سے نہیں ہلی الیاس جیسے اسکے ہونٹوں پر جھکا تو حنین کی آنکھیں یکدم سے کھول گئ
حنین نے ایکدم الیاس کو اپنے سے پیچھے کیا
الیاس سونے دیں نہ پلیزززززززززززززز حنین منت کرتے ہوئے بولی
تو سؤ جاؤ میں نے تو تمہیں کچھ نہیں کہا
الیاس ہنستا ہوا حنین سے بولا
میں سؤں گی تو آپ پھر سے حنین بول ہی رہی تھی پھر چپ ہوگئ
کیا حنی الیاس نے پیار سے حنین کو حنی بولنا شروع کر دیا تھا
یہ آپ حنی کس کو بول رہے ہیں حنین غصے سے بولی
تمہیں میری جان الیاس کھڑا ہوا اور اپنی شرٹ بیڈ پر پھینکی
میں نے آفس جانا ہے پھر اپنے ریسپشن کے لیۓ ہال بھی بک کروانا ہے
اس کے بعد گیسٹز بھی انوائیٹ کرنا ہے
پھر اپنی پسند کی تمہیں شاپنگ بھی کروانی ہے
اتنے سارے کام کرنے ہیں مجھے
ہنی میرے لیۓ ناشتہ بنا دو
الیاس نے اپنی بات جیسے پوری کی
حنین کی طرف مڑا تو وہ واپس اوندھے منہ پڑی تھی
زبان کی تو یہ سنتی ہی نہیں الیاس خود سے بولتا حنین کے پاس گیا
حنین کو جیسے ہی اپنی گود میں اٹھایا تو اسے ایکدم ہوش آیا
الیاس کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے میں گر جاؤں گی حنین نیچے دیکھتے ہوۓ بولی
حنی اگر میں نے تمہیں ابھی چھوڑ دیا تو تم لازمی نیچے گرو گی
تو بتاؤ چھوڑ دوں کیا
الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
نہیں نہ حنین الیاس کو زور سے پکڑتے ہوئے بولی
الیاس حنین کو واشروم لے کر گیا
واش بیسن کے سامنے اسے کھڑا کیا اور حنین کا منہ دھول وایا
پھر برش پر ٹوٹ پیسٹ نکال کر حنین کے منہ میں ڈالا
حنی اب کرو برش الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
حنین برش کر کے باہر نکلی
اور ساتھ ہی الیاس بھی نکلا
حنی اب میرے لیۓ ایسا ناشتہ بناؤ ساری زندگی مجھے نہ بھولے کیونکہ میری بیوی کے ہاتھ کا پہلا ناشتہ جو ہے
الیاس میں ایسا ناشتہ بناؤ گی آپ واقعی میں کبھی نہیں بھولیں گیں حنین الیاس سے بولی
تو میری جان میں چاہتا بھی یہی ہوں چلو اب جاؤ کچن ایک اچھی بیوی کی طرح
اور میں آفس کے لیۓ تیار ہو جاتا ہوں
اوکے حنین مسکرا کر کچن میں گئ
