No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
الیاس واشروم میں شاور لے رہا تھا
اور حنین باہر اسی جگہ پر کھڑی رو رہی تھی
اسے آج اپنے ماما ڈیڈی کی بہت یاد آرہی تھی
کاش میں مامو کے ساتھ چلی جاتی کاش پاکستان
حنین روۓ جارہی تھی اور دل میں بول رہی تھی
اتنی ذلت نہیں اٹھانی پڑ رہی ہوتی
لیکن ماما نے بھی تو یہی کہا تھا کے بھائیوں کا خیال رکھنا ہے
حنین کب سے دل میں بولی جارہی تھی
حنین کو اب بھوک سے چکر بھی آنے لگ گۓ تھے
اور اب تو کافی ویک بھی ہوگئ تھی کیونکہ کھانے کا کوئ ہوش ہی نہیں ہوتا تھا
الیاس کافی دیر سے واشروم میں تھا
حنین کی ہمت اب ختم ہوگئی تھی کھڑے رہ رہ کر
کڑک کڑک
الیاس نے جیسے دروازا کھولا
تو سامنے دیکھ کر حیران رہ گیا تھا
حنین زمین پر اوندھے منہ گری ہوئ تھی
الیاس نے دوڑ کر حنین کو سیدھا کیا اور اسکا سر اپنی گود میں رکھا
حنین کے ماتھے پر بھی چوٹ آئ ہوئ تھی
الیاس تو حیران اور پریشان تھا کیونکہ اسنے جاتے جاتے اپنے کپڑے ہی کھینچے تھے اور تو کچھ نہیں کیا تھا پھر یہ سب کیسے
الیاس نے حنین کو اپنی گود میں اٹھا کر بیڈ پر لٹایا اور فرسٹ ایڈ بوکس روم میں ڈھونڈا تو
دراز سے ملا
الیاس نے حنین کے ماتھے سے تھوڑا تھوڑا جو خون نکلا تھا وہ صاف کیا
اور پھر اس پر سنی پلس لگایا
پھر فریزر سے پانی کی بوتل نکالی
اور حنین پر پانی کا چھڑکاؤ کیا
تو وہ تھوڑی سی ہلی
بھوک لگی ہے حنین بند آنکھوں سے بولی
بھوک الیاس عجیب سا منہ بنا کر بولا
تو حنین نے بند آنکھوں سے ہلکے سے گردن ہلائی
الیاس کھڑا ہوا
اور اپنی قمیض کے بازو کو فولڈ کرتا ہوا کونی تک لایا
پھر اپنے ہاتھوں سے بالوں کو سٹ کرتے ہوئے واپس فریزر کی طرف گیا
اور وہاں سے بریڈ جیم اور جوس نکالا
بریڈ پر جیم لگا کر جوس گلاس میں ڈال کر حنین کے پاس لایا
جو سوئی ہوئی تھی
حنین الیاس نے آواز دی
لیکن حنین اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئ
کیونکے وہ ابھی بھی اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھی
اس لیۓ الیاس نے چیزیں بیڈ پر رکھ کر
حنین کے ہاتھ کو پکڑا اور پیچھے بیک پر ہاتھ رکھ کر اسے بٹھایا
پھر سامنے خود بیٹھ کر اس کے منہ کے آگے بریڈ کی تو
حنین نے ایک چھوٹی سی بائیٹ لی
اور اسے چبانے لگی
الیاس کو بہت عجیب لگ رہا تھا حنین کے اس طرح اتنے قریب آنا پھر اسے اپنے گود میں اٹھانا
اور اب اسے چیزیں بھی کھلانا
خیر مجبوری ہے ورنہ میں کونسا یہ سب کچھ جان بوجھ کر رہا ہوں الیاس خود سے ہی دل میں بولا
حنین نے جب ہوش سنبھالا تو ایک دم کھڑی ہوگئی
جبکے الیاس بیڈ پر بیٹھا اپنی گردن اٹھاۓ اسے دیکھنے لگا
لیکن حنین کے ایکدم کھڑے ہونے پر اسے چکر آئے تو فوراً سے بیڈ پر بیٹھ گئ
الیاس کو ہنسی آئی لیکن وہ چھپا گیا
کھالو الیاس واپس بریڈ پلیٹ پر رکھ کر کھڑا ہو گیا
جبکے حنین بریڈ کو گھور رہی تھی
حنین
الیاس نے اپنے ہاتھ باندھ کر حنین کو دیکھا
پھر بریڈ کر
اسے
کھاؤ
اور پھر حساب کتاب بھی دو ہری ایپ
الیاس اپنے ایک ایک الفاظ پر زور دیتے ہوئے بولا
جبکے حنین بھی کھڑی ہوگئ
کیا حساب کتاب لینا ہے
بتائیں حنین بھی اپنے ہاتھ باندھتے ہوئے بولی
کیونکہ وہ تھک گئ تھی الیاس کے نخرے برداشت کر کر کے
جبکے الیاس حیرانگی سے اس حنین کو دیکھ رہا تھا
جو کچھ دیر پہلے ڈری بلی لگ رہی تھی
💞💞
اوۓ قاسم یہ تو سر کی گیم ہے نہ
قاسم موبائل میں دیکھتے ہوئے بولا
ہاں اوۓ یہ تو سر کی گیم ہے
مبین بھی موبائل کو پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا
کیونکہ موبائل میں نیو ایپلیکیشن کا میسج آیا تھا
جب اسے اوپن کیا تو اس میں الیاس کی گیم کی پکچر تھی
اور ایک چھوٹا سا ایڈ تھا
یار اس گیم کا ایڈ تو کسی اور کمپنی نے دیا ہے
ہاۓ قاسم اب پتہ نہیں کیا ہوگا مبین پریشانی سے بولا
قسم سے سر نے تو ایک ایک کو اٹھا کر باہر پھینک دینا ہے قاسم بھی کافی ٹینشن میں تھا
سر کو کال ملا جلدی سے مبین پریشانی سے بولا
ہاں اچھا قاسم نے الیاس کے نمبر پر کال کی
لیکن الیاس کا نمبر بند جارہا تھا
مبین نمبر اوف قاسم موبائل کو دیکھتے ہوئے بولا
یہ کس کمینے نے سر کی گیم باہر نکالی ہے مبین غصے میں بولا
آج پہلی بار مبین کو قاسم نے غصے میں دیکھا تھا
پتا نہیں لیکن جس نے بھی کیا ہے وہ سر کے ہاتھ سے بچ نہیں سکتا دیکھ لینا قاسم بولا
چل سلمان کے پاس چلیں مبین بولا
اس چشمش کے پاس جاکر کیا کریں گیں قاسم منہ بنا کر بولا
وہ چشمش ہیکر ہے
اب ہمارے کام آۓ گا
مبین اور قاسم چلتے ہوئے بولے
سلمان مبین نے آواز دی
جی سلمان کھڑے ہوتے ہوئے بولا
یہ دیکھو مبین اپنا فون ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا
اس کو زرا چیک کرنا یہ ایپ کس جگہ سے ریلیز ہوا ہے
اوکے میں چیک کرتا ہوں ویٹ
سلمان چشمے لگا کر کمپیوٹر اون کرنے لگا
💕💕
پوچھ بھی لیں
حنین الیاس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی
رئیلی الیاس قدم پر قدم بڑھاتے ہوئے بولا
حنین پیچھے ہونے لگی
پیچھے کیوں جارہی ہو حنین میڈم الیاس نے حنین کا ہاتھ پکڑ کر بلکل اپنے سامنے کردیا
سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں چھوڑے مجھے
حنین آنکھیں دیکھاتے ہوئے بولی
میں نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں الیاس نارمل لہجے میں بولا
میرا ہاتھ چھوڑے نہیں تو میرے سے برا کوئ نہیں ہوگا
حنین اپنا ڈر سائیڈ پر کرتے ہوئے بولی
او اچھا کیا کرو گی بتاؤ الیاس ہاتھ کو اور کس کر پکڑتے ہوئے بولا
اس جاب کی وجہ سے آپ مجھے اتنا زلیل کر رہے ہے نہ
میں یہ جاب چھوڑ دوں گی
حنین نے بولتے بولتے ایکدم سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگئی
لیکن پھر بھی کوشش کرتی رہی
افسوس الیاس کی ایک انگلی بھی اپنے ہاتھ سے نہیں اٹھا سکی
اتنا اچھلنے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں الیاس غصے سے بولا
الیاس کی یہ لینگویج اور غصہ سن اور دیکھ کر حنین سیدھی کھڑی ہوگئ
اور الیاس کو دیکھنے لگی
تم نے اس آفس کو جوائن کرنے سے پہلے کونٹریک کیا تھا
کے اس آفس میں تم تین سال تک کام کرو گی
اور اچانک چھوڑنے پر
دو کروڑ دو گی اور اگر نہ دیا تو کورٹ کے چکر لگاؤ گی سمجھیں
الیاس نے بولتے ساتھ ہی حنین کا ہاتھ چھوڑ دیا
لیکن آپ نے تو میری یہ جاب ابھی تک ڈون ہی نہیں کی تھی آپ نے یہ کہا تھا کے
جب تک کل والا کونٹریک نہ ہو جاۓ تب تک آپ کی سلیکشن نہیں ہوسکتی میرے لیۓ انٹرویوز بہت ہیں اور آپ کے لیۓ جوبز بہت ہیں حنین پوری بات یاد دلاتے ہوئے بولی
تو پھر کونسا کونٹریک
حنین بولی
تمہاری جاب میں نے اسی دن ڈون کردی تھی جس دن تم نے مجھے اپنی پریزنٹیشن دیکھائ تھی الیاس مسکراتا ہوا بولا
تو حنین کو وہ دن یاد آگیا
آگے وہ سب جانتی تھی کے پیپر بھی الیاس نے سائین کروا ہی لیۓ ہونگیں
سوری جو بات میں نے نیچے کی سکینڈل والی
آئیندہ آپ کو ایسا کوئ موقع نہیں دوں گی
سامنے کھڑے الیاس سے بولی
کیونکہ حنین میں اور بحس کرنے کی ہمت نہیں تھی
اوکے الیاس نے اپنی گردن ہلائی
سر میں کل کی میٹنگ کے لیۓ تیاری کرسکتی ہوں
حنین ریکوسٹ کرتے ہوئے بولی
اوکے کر لیں آپ
الیاس کا پہلے تم والے سے ایک دم آپ والا روئیہ دیکھ کر حنین کو بہت عجیب لگا
حنین نے اپنی فائیل کھولی اور صوفے پر بیٹھ گئ
اور اپنا چہرہ کھڑکی کی طرف کیا جہاں سے نیچے ہوٹل کا سارا نظر آرہا تھا
ہر طرف گہما گہمی تھی
کچھ بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ تھے
تو کچھ بچے ایسکریم والے کے پاس
حنین نے باہر دیکھا تو مسکرانے لگی
جبکے الیاس بیڈ پر لیٹ گیا
پھر حنین نے آہستہ آہستہ آواز سے تیز تیز آواز میں بولنا شروع کردیا
حنین
الیاس نے آواز دی
لیکن حنین نے کوئ رسپانس نہیں دیا
الیاس کا پھر سے پارا ہائی ہونے والا تھا
جب الیاس کو اچانک حنین کا آفس والا سین یاد آگیا
جب وہ کانوں میں انگلیاں ڈال کر پڑھ رہی تھی
الیاس نے اپنا فون اٹھا کر حنین کے پاؤں پر مارا
حنین ایکدم سیدھی ہوئ
جی سر حنین کھڑے ہوتے ہوئے بولی
یہ فون لگاؤ میرا چارجر پر
الیاس اوڈر دیتے ہوۓ بولا
جی سر حنین بورڈ کی طرف گئ
تو اپنا موبائل چارجنگ سے اتار کر الیاس کا لگانے لگی
میرے اپنے چارجر سے لگاؤ الیاس پھر سے حکم دیتے ہوئے بولا
سر یہ آپ کا ہی ہے حنین سر جھکاتے ہوئے بولی
وٹ
الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
وہ میرا چارجر گھر رہ گیا تھا حنین شرمندگی سے بولی
تو آپ نے میرا چارجر لے لیا وہ بھی میرے بیگ سے نکالا الیاس کو بلکل اچھی نہیں لگی تھی حنین کی یہ حرکت
نو سر یہ تو باہر پڑا تھا حنین ایکدم سے بولی
اچھا لگاؤ اب
الیاس نے بول کر اپنا بازو اپنی آنکھوں پر رکھ دیا
حنین نے فون چارجر پر لگا کر دوبارا پڑھنا شروع کردیا
الیاس کافی دیر سے سونے کی کوشش کر رہا تھا لیکن حنین کی چیک چیک سے اسے نیند نہیں آ رہی تھی
حنین
الیاس نے زور سے آواز دی
تو حنین نے پھر سے پیچھے مڑ کر دیکھا
جی سر حنین بےچارگی سے بولی
لائیٹس اوف کرو
بٹ سر میں تیاری کر رہی ہوں
حنین حیرانگی سے بولی
آئ ڈونٹ کئیر آپ کو ہی بہت شوق تھا ایک روم میں آرجیسٹ
کرنے کا تو اب کریں
الیاس بولا
تو حنین نے اپنے قدم گھسیٹتے ہوۓ لائیٹس اوف کی
اور صوفے پر آکر لیٹ گئ
اور موبائل اٹھا لیا
الیاس کو بہت افسوس ہو رہا تھا حنین پر لیکن اتنا ہی غصہ بھی آرہا تھا
کتنی ڈھیٹ لڑکی ہے سو ہی نہیں رہی الیاس دل میں بولا
💕💕
لائبہ آپی آذان بولا
جی بولو آذان
لائبہ آذان کو دیکھتے ہوئے بولی
میں نے آپی سے بات کرنی ہے
آپی سے لیکن ابھی تو بہت دیر ہوگئ ہے
لائبہ پریشانی سے بولی
پلیز لائبہ آپی کچھ کریں میں نے بات کرنی ہے آذان ضد کرتے ہوئے بولا
اوکے میں میسج کرتی ہوں اگر انہوں نے بات کی تو کروا دوں گی
اور اگر بات نہ ہو پائ تو آذان دکھی انداز میں بولا
تو کل کرواؤں گی
لائبہ بولی
جی آپی آذان مسکرا کر بولا
Hunain what are you doing
لائبہ نے میسج کیا
Nothing just got lying down
حنین نے بھی ساتھ ہی میسج کیا
Azan has to talk to you
لائبہ نے میسج کیا
Sorry it’s not possible to talk know
inshaAllah let’s talk in the morning
حنین نے اداس ہو کر میسج کیا
Ok talk tomorrow
Allah Hafiz
لائبہ بولی
Allah Hafiz
حنین نے بھی بول کر موبائل رکھ دیا
اور آنکھیں بند کر دی
💞💞
الیاس کی آنکھ کھلی تو حنین تیار ہو کر صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی
آٹھ گئ آپ الیاس کھڑے ہوتے ہوئے بولا
جی سر
حنین سپاٹ لہجے میں بولی
سر واشروم میں آپ کے کپڑے ہنگ کیۓ ہوئے ہیں ۔
حنین کھڑے ہوتے ہوئے بولی
گڈ الیاس بول کر واشروم چلا گیا
حنین نے الیاس کے بیگ میں سے الیاس کے شوز نکالے
اور اس کو بھی باہر رکھ دیا
تھوڑی دیر ہی گزری تھی ویٹر
ناشتہ بھی لے آیا تھا
حنین نے ساری چیزیں سٹ کر کے بیڈ پر رکھی
الیاس باہر آیا تو ہر چیز تیار تھی
حنین خاموشی سے واپس صوفے پر بیٹھنے لگی تو اسے آذان اور آذنان کی یاد آگئی
سر آپ کو کتنا ٹائیم لگے گا تیار ہونے میں
حنین الیاس کو دیکھتے ہوئے بولی
بیس منٹ الیاس اپنا کوٹ پہنتے ہوئے بولا
اوکے میں دس منٹ کے لیۓ باہر جارہی ہوں
حنین بولی
اوکے
الیاس نے بھی کچھ نہیں کہا
حنین اپنا فون لے کر باہر چلی گئ
حنین نے باہر نکلتے ساتھ ہی لائبہ کو کال کی
لائبہ نے جیسے کال ریسیو کی
تو حنین ایکدم بول پڑی
لائبہ پلیز میری بات کرواؤ بچو سے
یار بچے تو سوۓ ہیں
اچھا حنین خفگی سے بولی
ہاں
لائبہ بولی
اوکے پھر میٹنگ کے بعد بات کروں گی تم سب سے اوکے حنین مسکراتے ہوئے بولی
اوکے لائبہ بھی مسکرائی
💞💞
الیاس اور حنین امبروسیا کمپنی میں بیٹھے تھے
یہ کمپنی یورپ کی خاصی مشہور کمپنی تھی
پانچ سے چھ نوکر ان کے پاس ہاتھ باندھے کھڑے تھے
بہت ہی اچھے طریقے سے الیاس کی استقبال بھی کیا تھا
کیونکہ یہ بہت بڑا بروجیکٹ تھا
اور اب میٹنگ شروع ہونے میں دس منٹ رہ گۓ تھے
کمپنی کا ہیڈ الیاس اور حنین کو خود لینے آیا
میٹنگ روم میں لے جانے کے لیۓ
دونوں میٹنگ روم میں آچکے تھے
الیاس نے حنین کو اشارا کیا
کے اب میٹنگ شروع کردے
تو حنین نے بولنا شروع کر دیا
ایل بی کمپنی نے ایک ایسا ایپ بنایا ہے جس میں سو گیمز ہے
اور یہ ایپ چار سال کے بچے کے لیۓ ہے جو گھر میں بیٹھے ہوتے ہیں
اسے اگر یہ گیم کھیلنے کے لیۓ دے دی جاۓ تو وہ نرسری ون اور ٹو تک کا سارا کورس سیکھ جاتا ہے
جس میں تین بکس کا سلیبس وہ کور کر لیتا ہے
انگلش میتھامٹک اور سائینس
اور یہ ایپ کتنے بیلین کا ہے
آدمی بولا
دس بیلین حنین نے جواب دیا
اور اس ایپ نے اگر بچے کو کچھ نہ سکھایا تو
دوسرا آدمی پین کو گھوماتے ہوئے بولا
حنین نے الیاس کی طرف دیکھا
الیاس نے ہاتھ کے اشارے سے حنین کو بیٹھنے کا کہا
حنین واپس بیٹھ گئ
الیاس نے بولنا شروع کیا
💞💞
مبین
قاسم نے آواز دی
بول مبین کمپیوٹر کو یوز کرتے ہوئے بولا
میں نے سر کو وائیس بھیج دی ہے
اور دونوں اپنا کام ختم کرتے ہیں
اس کے بعد سلمان سے پوچھتے ہیں
کے اس کا کام کدھر تک پہنچا ہے
قاسم بولا
ہاں میں نے اسے پوچھا تھا کام کے بارے میں
تو کیا کہا قاسم بولا
وہ کہ رہا تھا کچھ دیر میں ہوجاۓ گا
اوکے قاسم بیٹھتے ہوئے بولا
💕💕
ہم اس پروجیکٹ سے سٹسفائی ہیں
بس آپ سائین کردیں
کمپنی کا اونر بولا
تو الیاس نے فائیل پڑھ کر
سائین کردی
اور آج ایک الگ چمک الیاس کے چہرے پر تھی
جاری ہے
