61.1K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

الیاس اپنے آفس میں کھڑا اپنے تمام ورکرز پر نظر رکھے مسلسل گھور رہا تھا
تمام ورکرز کے لیۓ بہت زبردست طریقے سے کیبن بناۓ گۓ تھے
اور اپنا آفس اس نے اوپر بنایا ہوا تھا جس کی چاروں اطراف شیشے لگے تھے اور چار سے پانچ کمپیوٹر چئیر سے دور تھے جس پر وہ اپنا کام کرتا تھا
آفس اوپر ہونے کے باعث وہ اپنے تمام ورکرز کو اچھے سے دیکھتا کے کون کیا کر رہا ہے
اور اپنے کام سے اتنا سیریس تھا کے تین سال میں صرف دو چھوٹیاں کی تھی
پہلی چھوٹی میں تو تمام ورکرز اس حد تک خوش تھے خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو
لیکن افسوس وہ سی سی ٹی فوٹیج کے ذریعے ان پر نظر رکھے بیٹھا ہوا تھا
الیاس کو اپنی کمپنی میں بلکل اپنے جیسے لوگ چاہیۓ ہوتے تھے
اس لیۓ وہ کسی ورکر میں کوئ خرابی دیکھتا تو بغیر ورن کیۓ نکال پھینکتا یہی وجہ نے آج اس کی کمپنی دبئ میں پہلے نمبر میں رکھی ہوئی تھی
الیاس کی کمپنی میں نیو ایپس گیمز اور بھی کی طرح کے پروجیکٹ وغیرہ بناۓ جاتے تھے
سر مے آۓ کمن زارہ بولی
یس
سر میٹینگ کے لیۓ سب آپ کا ویٹ کر رہے ہیں
اوکے
الیاس چلتے چلتے روکا اور زارہ کو گھورنے لگا
کیا ہوا سر زارہ پریشانی سے بولی
تم اسسٹنٹ ہی ہو نہ میری
آئ ڈونٹ نو کے تم کیا چیز ہو الیاس غصے سے بولا
💞💞
چندہ اپنے دونوں بھائیوں کو اپنے لیفٹ رائٹ میں لٹا کر گوگل سے اسٹوری نکال کر سنانے میں مصروف تھی
جب میڈ بنا نوک کیۓ اندر آگئ
او ہیلو کوئ منرز وغیرہ نہیں ہیں آپ میں چندہ بھڑکتے ہوۓ بولی
بنا نوک کیۓ منہ اٹھا کر اندر گھس آئ سٹیوپڈ نون سنز
چندہ بیڈ سے کودتے ہوۓ بولی
جبکے سامنے کھڑی میڈ کے رنگ اڑ چکے تھے
وہ میم میرے ہاتھ بند تھے اس لیۓ ڈائیریکٹ اندر آگئ بنا نوک کیے میڈ اپنی صفائی پیش کرتے ہوۓ بولی
ڈھیٹ پن نہ تم پاکستانی عورتوں پر آکر ختم ہوتا ہے
معافی شافی کوئ نہیں بس اپنی صفائیاں پیش کرنی ہوتی ہیں
آذان اور آذنان دونوں بیڈ کے کونے پر ڈرے سہمے کھڑے ہوۓ تھے بس اب رونا سٹارٹ ہونے ہی والا تھا
کیونکہ چندہ کا غصہ بہت تیز تھا جو صرف اس کی ماما ہی کم کروا سکتی تھی اور جو کے گھر موجود نہیں تھی
کیا ہوا چندہ آفشین دوڑتے ہوۓ کمرے میں داخل ہوئ
ماما آپ سے پہلے بھی کہا تھا کے مت رکھے ان جیسی گوار عورتوں کو
مگر آپ میری سنتی ہی کہا ہیں چندہ اب اپنی نیلی آنکھیں اپنی ماں کی طرف گھماتے ہوۓ بولی
بچو کو لے کر جاۓ یہاں سے آپ آفشین میڈ سے بولی
جی میم صاحبہ
میڈ آذان اور آذنان کو دیکھتے ہوۓ بولی
کم ہئیر آذان اینڈ آذنان آفشین بولی
یس ماما
آپ لوگ بابا کے روم میں جائیں بابا وہی ہیں
اوکے آذان اور آذنان نے دوڑ لگائی
آفشین ڈور کو لوک کر کے چندہ کے قریب آئ
کیا ہوا آفشین بولی
آپ بھی یہاں سے چلی جاۓ ماما آلریڈی بہت غصہ آیا ہے
پہلے مجھے وجہ بتاؤ اپنے غصے کی اب کی بار آفشین چلا کر بولی
چندہ نے الف تا یے ساری بات اپنی ماما کو بتائ
اتنی سی بات کے لیۓ تم نے اتنا ہنگامہ کیا ہوا تھا آفشین چلا کر بولی
چندہ ایک دم سے ڈر کر پیچھے ہٹی
💞💞
الیاس اپنے جیکٹ کو گھورتے ہوۓ بولا
او سوری سر
چھوٹی ماصوم سی زارہ پھر سے چئیر کی طرف دوڑ لگا کر کوٹ اٹھانے لگی
جبکے الیاس باہر کی طرف بڑھ چکا تھا
ایک تو الیاس سر آپ تو کبھی میرے کام سے خوش ہو ہی نہیں سکتے زارہ اپنی ہیل والی سینڈل پہنے ٹک ٹک بھاگے باہر نکلی
لفٹ میں دونوں خاموش کھڑے تھے جب الیاس نے اس خاموشی کو توڑا
میں تمہارے کام سے اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتا جب تک تم میرا سارا کام خاموشی سے اور ڈھنگ سے نہ کر لو
رائیٹ الیاس زارا کو دیکھتے ہوۓ بولا
ہممم زارا مسکرائی
بولتی ہی کہاں ہوں میں اور سارا کام تو کرتی ہوں ڈھنگ سے
ایسے بول رہا ہے جیسے سارا کام یہ بتاتا ہو زارا دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہورہی تھی
آئ نو کے تم سارا کام خود کرتی ہو بٹ دھیان پتہ نہیں تمہارا کدھر ہوتا ہے
الیاس پیچھے مڑ کر زارا کو بتا کر لفٹ سے باہر نکل گیا
او گوڈ اسے کیسے پتہ چل گیا کے میں نے یہ بولا ہے
ہاۓ میں بھی کتنی بدھو ہوں اس انٹیلیجنٹ بندے کے سامنے سوچ رہی تھی اور وہ بھی اس کی برائ زارا پریشانی سے پھر بھاگنے لگی
جبکے الیاس اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے کھڑا اپنے تمام ورکرز سے بات کر رہا تھا
تین دن تک تین اور بندے اس جاب سے آؤٹ ہونے والے ہیں تیار رہیۓ گا اور باقی سب ورکرز کو ان تین بندوں کی طرف سے پارٹی ملے گی
الیاس کہ کر میٹنگ روم کی طرف نکل گیا
پتہ نہیں اب باس نے کس کی زندگی اجاڑنے کا فیصلہ کیا ہے
ایک ورکر دوسرے ورکر سے بولا
ہاں نہ یار چلو اب اور باتیں نہ کرو ورنہ سر نے ہمیں پہلے رزییکنیشن لیٹر دے دینا ہے
ورکر اپنے کیبن کی طرف دوڑ لگاتا ہوا بولا
الیاس جیسے ہی میٹینگ روم میں داخل ہوا
تمام آفیسرز کھڑے ہوۓ
گڈ مارننگ سر سب ایک ساتھ بولے
جبکے الیاس نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو بیٹھنے کا کہا
آئ تھینک میٹینگ سٹارٹ کر دینی چاہیۓ الیاس سنجیدگی سے بولا
تمام لوگوں نے منہ بنا کر فائلز کھولنا شروع کی
روم میں بلکل اندھیرا ہوچکا تھا پروٹیکٹر کی سکرین کے سامنے
ایک لڑکی کھڑے ہوکر اپنا پروجیکٹ بتانے لگی
ہم نے ایسے لینس بناۓ ہیں جو آنکھوں میں لگانے سے آپ کہی پر بھی جاۓ کسی بھی جگہ پر ہوں وہاں اپنی أنکھ ایک بار جھپکانے سے فوٹو کلک کر کے اسے اپنے لینس میں سیف کرسکتے ہیں اور اسی طرح تین بار جھپکانے سے اس میں لینس میں ویڈیو ریکارڈ کر سکتے ہیں
سامنے کھڑی لڑکی بول ہی رہی تھی
جب الیاس بول پڑا
انف
💞💞
چندہ ایسا کیسے چلتا رہے گا اور وہ بھی کب تک
تمہارے اس غصے سے تمہارے چھوٹے بھائیوں پر کیا اثر پڑتا ہے تم جانتی ہو
اور یہی عمر ان کے سیکھنے کی ہے وہ تم سے ہی سیکھیں گیں بیکوس تم بڑی ہو
میں مانتی ہوں کے میڈ کی غلطی ہے وہ بنا نوک کیۓ اندر آگئ یہی حرکت تمہارے بھائیوں نے بھی نوٹ کی ہوگی
اگر تم اس بات کو نارمل طریقے سے سولو کرتی تو وہ بھی اپنی آئیندہ زندگی میں ایسی باتوں کو ایزی ہو کر سولو کرتے
اب جب کے تم نے یہ حرکت کی ہے تو سوچو تمہارے بھائیوں پر کیا اثر چھوڑ گئ ہیں
اور بیٹا یہ پاکستان نہیں ہے جہاں ایک کام والی کو نکال کر دوسری کام والی رکھ لیں یہ دوبئ ہے یہاں ہر انسان اپنا کام خود کرتا ہے
کوئ کسی کے ہاں کام نہیں کرتا
تمہارے خاطر تمہارے لیۓ تمہارے بابا نے اسپیشل پاکستان سے میڈ ارینج کر کے یہاں بلوائی تا کے تمہیں کوئ پروبلم نہ ہو تمہارے سارے کام میڈ کرے وہ بھی کہے بنا
اور تمہاری دن بادن یہ جو حرکتیں بدل رہی ہیں اس سے تمہارے بابا کتنے ہرٹ ہورہے ہیں جانتی ہو
آگے ان کے بزنس میں بہت زیادہ لوس ہوچکا ہے اللہ نہ کرے اگر آگے بھی ایسا ہوا تو حالات کافی حد تک خراب ہوجاۓ گیں
چندہ پریشانی سے اپنی ماما کو دیکھنے لگی
اور اس سے پہلے تمہیں کبھی میڈ نے شکایت کا موقع دیا ہے
اب کی بار آفشین آئ برو اٹھاتے ہوۓ بولی
نہیں ماما
تو بیٹا آپ کو ایسے ریکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا وہ کتنی ہارٹ ہوئ ہونگی آپ کی باتوں سے
اسلام نے ہمیں یہ تو نہیں سکھایا کے اپنے ملازم سے بدتمیزی کریں یہ پھر ان پر ظلم کریں
ہمیں بھی ملازموں کے ساتھ شفقت سے بات کرنی چاہیۓ
سمجھ رہی ہو نہ تم آفشین چندہ کا جھکا ہوا سر دیکھ کر بولی
جی ماما
کل آپ میڈ سے سوری کرو گی اوکے
نہیں ماما میں نہیں مانگ سکتی اسطرح مجھے اپنی انسلٹ فیل ہوگی
جانتی ہو چندہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے تمام حقوق معاف کرسکتا ہوں پر اپنے بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں کرسکتا جب تک وہ اسے خود معاف نہ کردے
آگے تمہاری اپنی مرضی
💞💞
جاری ہے