61.1K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

سب الیاس کو دیکھنے لگے
یہ لینس سو پرسنٹ میں سے تیس پرسنٹ تک اچھے ثابت ہوسکتے ہیں لیکن ستر پرسنٹ عام لوگوں کی زندگی پر بہت اثر کرے گی
کیونکہ یہ ایسی چیز ہے جس سے لوگ اس کا ناجائز فائیدہ اٹھاۓ گیں
اور میں نہیں چہتا کچھ بھی ایسا ہو
بٹ سر آپ نے جسٹ ہم لوگوں کو اس کام کے لیۓ شئیرز دینے ہے
بقایا ہمارہ کام ہے
I can understand
میں سمجھ سکتا ہوں
But i can not waste my money for this project
لیکن میں اس پروجیکٹ کے لیۓ اپنا پیسا برباد نہیں کرسکتا
الیاس کہتے ساتھ ہی میٹینگ روم سے نکل گیا
اور روم میں بیٹھے ساروں کے منہ بن گۓ
الیاس جیسے ہی اپنے آفس کے روم میں پہنچا تو زارا کمپیوٹرز کے پاس کھڑی تھی
What are you doing here
کیا کر رہی ہو تم یہاں پر
الیاس غصے سے بولا
ڈسٹنگ کر رہی تھی سر
زارا گھبراتے ہوۓ بولی
اوکے الیاس اپنی شرٹ کے اوپر سے دو بٹن کھول کر شیشے سے سب کو دیکھنے لگا
زارا اسے چھوڑو کافی لا کر دو
الیاس اپنی پیشانی رگڑتے ہوۓ بولا
جی سر
💞💞
اس لڑکی کی حالت ابھی نارمل ہے اگر وقت پر سرجری نہ ہوئ تو ان کی جان خطرے میں جاسکتی ہے آپ لوگ کچھ بھی کریں اور ان کی سرجری کروانے کے لیۓ رقم ادا کرے
ڈاکٹر کھڑا سامنے لڑکے سے بول رہا تھا
ڈاکٹر آپ سرجری کریں میں پیسوں کا بندوبست کرتا ہوں
دیکھے سر آپ جب تک پیمنٹ نہیں کریں گیں تب تک ہم کچھ نہیں کر سکتے
ڈاکٹر کہ کر چلا گیا
یااللہ میں کیا کروں لڑکا بے بسی سے زمین پر بیٹھ کر اپنے اللہ سے بات کرنے لگا اور خودبخود ایک آنسوں اس کی گال پر گرا
💞💞
الیاس اپنے کمپیوٹرز کے سامنے بیٹھ کر
کمپیوٹر میں مصروف ہوگیا اور اب اسے یہاں سے کوئ بھی نہیں اٹھا سکتا تھا اور نہ ہی ڈسٹرب
یار آج سر کا موڈ کچھ خاص اچھا نہیں تھا
مبین نے قاسم کے کمپیوٹر پر میسج کیا
ہے یار مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے
ویسے بھی آج کل کام جلدی ختم ہو جاتا ہے اس لیۓ ایسے ہی باتیں کر لیں گیں دونوں
کیسا ہے آئیڈیا مبین خوشی سے بولا
زبردست یار گڈ
تم دونوں کمپیوٹر میں کیوں باتیں کر رہے ہو
لائبہ نے کمپیوٹر پر میسج کیا تو دونوں کے کمپیوٹر پر میسج آیا
یہ سب الیاس کی کمپنی کے ورکر تھے
جو آمنے سامنے بات کرنے کی تو ہمت نہیں رکھ سکتے تھے اس لیۓ کمپیوٹر کا استعمال کر رہے تھے
اوۓ بہن بس کر دو بوس ہے لیکچر دینے کے لیۓ تم یہاں پر میڈم مت بنو
مبین قاسم سے بولا ہے نہ
پتہ نہیں قاسم بولا
کیوں بھائ کیوں نہیں پتا تجھے
مبین شکی انداز میں بولا
اور ساتھ ہی ٹیبل کے نیچے سے فون نکال کر میسج کر دیا
خیر تو ہے نہ بھائ کہیں
دل لگا لیا میں نے تم سے پیار کر کے والا سسٹم تو اون نہیں ہوگیا
مبین نے ٹائیپ کیا اور ساتھ ہی ہنسنے والے ایموجیز بھیجے
اوۓ فون رکھ چیلوں والی نظریں ہمارہ ہی طواف کر رہی ہونگی قاسم نے کمپیوٹر نے میسج کیا
مبین لکھ ہی رہا تھا جب اس کے کمپیوٹر کی سکرین پر ہینگ کا آپشن نظر آیا
یہ کیا ہوگیا اس کو
مبین نے پریشانی سے قاسم کی طرف دیکھا جو خود بھی پریشان تھا
دونوں نے جھٹ سے اوپر دیکھا تو الیاس اپنی چیلوں جیسی آنکھوں سے انہے ہی گھور رہا تھا اور مسکرا بھی رہا تھا
💞💞
چندہ اپنے بابا کے روم میں آئ تو وہ کافی حد تک پریشان تھے
ڈیڈی آپ پریشان ہے چندہ اپنے ڈیڈ کے بازؤں پر سر رکھتے ہوۓ بولی
نہی تو بچہ پریشان نہیں ہو
آفاق صدیقی مسکراتے ہوۓ بولے
ڈیڈی ایک بات بتاؤں
بولو بچے
اتنی عمر ہوگئ لیکن آپ کو اب تک جھوٹ بولنا نہیں آیا
چندہ مسکراتے ہوئے بولی
اچھا جی تو اس کا کیا حل ہوسکتا ہے
اس کا یہ حل ہوسکتا ہے آپ آذان اور آذنان سے آدھے گھنٹے کی کلاسز لینا شروع کر دیں
آپ کو بہت اچھے سے ٹرین کریں گیں یہ دونوں چندہ اپنے دونوں بھائیوں کو دیکھتے ہوئے بولی
جو اسے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے گھور رہے تھے اور چھوٹی سی ناک کو پھولا رہے تھے
اچھا جی اس کا مطلب میرے دونوں بیٹے جھوٹ بہت اچھا بولتے ہیں آفاق صدیقی ناراضگی سے بولیں
نو بابا
Api you are lying
آذان بولا
Ohhh really azan
چندہ ہنستے ہوۓ بولی
آذان اور آذنان نے ایک ساتھ اپنے ڈیڈی کے اوپر جمپ کیا
ارے ارے آرام سے تینوں ایک ساتھ ہی اپنے ڈیڈی کے ساتھ لپٹ گۓ ہو
آفشین صاحبہ ہنستے ہوۓ بولی
ماما آج آپ کو ایک فیصلہ کرنا ہوگا
چندہ بیڈ سے اتر کر اپنی ماما کے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓ بولی
کیا آفشین حیرانگی سے بولی
💞💞
مبین اور قاسم نے ایک دوسرے کی طرف بے چارگی سے دیکھا
چل اب
قاسم مبین سے بولا
تو چل پہلے مبین بولا
چل چلا کا جملہ اگر ختم ہوگیا ہو تو نکل جاؤ جناب یہاں سے لائبہ ہنستے ہوۓ بولی
اوۓ میسنی جیسی شکل والی سب پتہ تھا پھر بھی نہیں بتایا
مبین غصے سے بولا
جبکے لائبہ منہ پھاڑے ہنس رہی تھی
سر میں آۓ کمن
مبین اور قاسم ایک ساتھ بولے
یس آویزلی الیاس بولا
دونوں اندر آۓ
آج کل آپ دونوں کا کام جلدی ختم ہو جاتا ہے اس لیۓ میں نے آپ دونوں کے لیۓ ایک کام سوچا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا
جب تک اس کا استعمال نہ کرلو
الیاس اپنے دماغ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا
جی سر دونوں پریشانی سے بولے
پریشان نہ ہو بچو بس چھوٹا سا کام ہے
مبین لاسٹ گیم میں نے بنائ تھی یاد تو ہوگی آپ کو
یس سر یاد ہے
گڈ اگر میرے سوال کا صیح جواب دیا تو تین دن کی چھوٹی اور جہاں مرضی آپ جاؤ اور جتنا مرضی خرچہ کر لو وہ سب یہ کمپنی اٹھاۓ گی اور اگر نہ دے پاۓ تو اپنی پنشمنٹ کے لیۓ تیار رہیۓ گا
جو سوال مبین سے ہے وہی آپ سے بھی ہوگا قاسم
الیاس اب قاسم کی طرف دیکھتا ہوا بولا
جی جی سر قاسم بولا
تو سوال میرا یہ ہے میری گیم کب اور کس دن ریلیز ہوئی تھی پلے سٹور میں ایگزیکٹ جواب دینا
ورنہ خاموش رہنا کیونکہ میں اپنی چیزوں کے بارے میں کچھ غلط برداشت نہیں کرتا جانتے تو ہو آپ لوگ
یس سر
گڈ اب بتاؤ
دونوں کچھ دیر تک خاموش رہے
آپ لوگ پورے تین منٹ اور بتیس سیکنڈ تک خاموش رہے
الیاس نے بنا ٹائیم دیکھے بولا اس کا یہی مطلب ہے کے نہیں پتا
کوئ بات نہیں ایک اور آپشن دیتا ہوں
یس سر پلیززز دونوں منت والے انداز میں بولے
جب میری گیم ریلیز ہوئی تھی تب اس پر کتنے ویوز آۓ تھے
ایگزیکٹ آنس دینا
اب کی بار بھی دونوں خاموش تھے
میری گیم چوبیس سپتمبر اور بدھ کو ریلیز ہوئی تھی
اور اس گیم پر پورے ایک دن میں پینتیس ملین دو لاکھ چالیس ہزار آٹھ سو بارہ ویوذ آۓ تھے رائیٹ الیاس بولا
یس سر دونوں سر جھکا کر بولے
اب آپ لوگوں نے میری اس گیم کا پارٹ ٹو لانا ہے اوکے
سر اتنا بڑا کام ہم دونوں اکیلے کیسے کریں گیں
فرسٹ اوف آل دو بندے کبھی اکیلے نہیں ہوتے رائیٹ
اینڈ یہ بلکل بھی مشکل نہیں ہے تم دونوں یہ کر سکتے ہو سمجھے
ٹو ویکس کے بعد گیم مجھے ریڈی چاہیۓ
اوکے سر
گڈ
دونوں باہر نکل گۓ
💞💞
آپ کے دونوں بیٹے جھوٹ بولتے ہیں
تو
آفشین صاحبہ بولی
تو یہ کے ماما جھوٹ بولنا کتنی بری بات ہے اور آپ پوچھ رہی ہیں
تو
چندہ اداسی سے بولی
ہاں جی بچو آپ دونوں نے جھوٹ بولنا کب سے سٹارٹ کردیا
ماما آج ایک ہی جھوٹ بولا تھا وہ بھی مزاخ میں آذنان بولا جی ماما آذان بھی ساتھ ہی بو
چندہ کے نمبر پر کال آنے لگی جو اس نے یکدم سے کاٹ دی
کیا ہوا بچہ کال ریسیو کرو آفشین صاحبہ بولی
ماما ڈیڈی میں روم میں جارہی ہوں جافر کی کال ہے روم میں ہی پک کروں گیں
اوکے آفشین صاحبہ مسکراتے ہوۓ بولی
اللہ حافظ ڈیڈی ٹاٹاٹا چندہ سب کو ٹاٹاٹا کر کے اپنے روم میں آگئ
میری کال کیوں کاٹی تم نے جافر بولا
جافر میں فیملی کے پاس تھی اس لیۓ کاٹی
What do you mean
تم اپنی فیملی کے سامنے مجھے اگنور کرو گی جافر چلا کر بولا
جافر آہستہ بات کرو مجھ سے میں تمہاری منگیتر ہوں خریدی ہوئ غلام نہیں جو اسطرح چلا رہے ہو چندہ بولی
💞💞
یار مجھے یہ تو پتہ تھا کے سر کی گیم چوبیس سپتمبر کو ریلیز ہوئی تھی بٹ دن بھول گیا تھا قاسم اداسی سے بولا
اور مجھے اتنا یاد تھا کے سر کی گیم پر پینتیس ملین دو لاکھ ویوز آۓ تھے مبین اداسی سے بولا
اب ہم سر کی طرح اتنے شارپ اور انٹیلیجنٹ تو نہیں ہیں نہ مبین قاسم کو دیکھتے ہوۓ بولا
ہاں جی قاسم لٹکاۓ ہوۓ انداز میں بولا
ویسے یار سر کو دیکھو یہ بھی پتہ چل گیا کے میں اور تم باتیں کر رہے ہیں
ہاں نہ
ویسے اس کے علاوہ جو باتیں میں اور تم کرتے تھے وہ بھی سر کو پتہ تھی مبین حیرانگی سے بولا اور ساتھ ہی اس کے چہرے کا رنگ فق سے اڑ گیا
جاری ہے