61.1K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

آذان اور آذنان فل ریڈی ہوکر چشمے وغیرہ لگاۓ کار کے پاس کھڑے تھے
کے کب ماما بابا نکلیں اور ہم چھورم چھو ہوجاۓ
جلدی کریں ماما آپ کتنا ویٹ کروا رہی ہیں ہم سے آذان منہ بنا کر بولا
ارے بھئ نکل تو گئ ہوں آفشین صاحبہ ہینڈ بیگ اندر سے دیکھتے ہوۓ بولی
آپ کی آپی کدھر ہیں بچو آفاق صاحب کار کا دروازہ کھولتے ہوئے بولیں
اوہو وہ ابھی تک نہیں نکلی آذنان منہ بناتا ہوا بولا
نکل گئ چندہ ہنستے ہوۓ باہر آئ
لیکن چندہ کی ڈریسنگ بہت نامناسب لگ رہی تھی
ہاف سلیفس بازو کمر تک ٹوپ اور نیچے کسی ہوئ جینز
چندہ آپ اپنے کپڑے چینج کرلو تب تک ہم ویٹ کر لیتے ہیں افاق صاحب لون کی طرف جاتے ہوئے بولے
کیوں میرے ڈریس کو کیا ہوا ہے جو اسے چینج کروں
چندہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوۓ بولی
آپ ایک مسلمان لڑکی ہو آپ کو یہ زیب نہیں دیتا کے اپنے جسم کی نمائش کرتی پھرو
اوہ رئیلی ڈیڈی پہلے تو کبھی آپ نے نہیں روکا
چندہ بس کرو اور جاکر چینج کرو آفشین صاحبہ باپ بیٹی کو دیکھتے ہوۓ بولی
انف اگر لے کر جانا ہے تو ایسے ہی لے کر جائیں ورنہ میں نہیں جاؤں گیں
چندہ اکڑ دیکھاتے ہوۓ بولی
💞💞💞
الیاس صبح کی نماز پڑھ کر سورت رحمان کی تلاوت کرتا ہوا باہر آیا
تو مبین کو دیکھ کر حیران رہ گیا
ارے اتنی جلدی اٹھ گۓ الیاس مبین کو دیکھ کر بولا
جی سر
رات جتنا مرضی لیٹ سو جاؤ
صبح اپنے وقت پر ہی آنکھ کھلتی ہے ان دو سال میں آپ نے ٹرینگ ہی ایسی کردی ہے
مبین مسکرا کر بولا
ویری نائس
الیاس بھی مسکرایا
نماز پڑھی ہے الیاس بولا
جی جی بلکل
اوکے جیمپ پر تو جاتے ہی ہوگے
الیاس مبین کی باڈی دیکھتا ہوا بولا۔
آفکورس سر
اوکے چلو چلیں
مبین اور الیاس جیمپ والی کلاس میں پہنچ گۓ تھے
مبین اور الیاس پشپس لگانے اکھٹے نیچے لیٹے
مبین نے تقریباً چالیس پر بس کردی اور الیاس پشپس لگائ جارہا تھا
مبین الیاس کے پاس ہی زمین پر بیٹھ گیا اور پشپس گننے لگا
دو سو سر اب تو بس کردیں
الیاس ایک دم کھڑا ہوا اور ٹاول سے اپنا پسینا صاف کرنے لگا
الیاس کی باڈی کافی زیادہ اچھی تھی وہ جیمپ کے علاؤہ مارشل آرٹ کا بھی ماسٹر تھا
وہ اپنے ہر چیز کو مکمل ٹائیم دیتا جس کی وجہ سے وہ جسمانی بہت فٹ تھا
الیاس اور مبین ٹیبل پر بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے
سر مبین گلا کھنکار کر بولا
ہمم
آفس کے لیۓ تو بیس منٹ باقی ہے
کیوں آپ کو کیا کرنا ہے
وہ سر میں چہاتا ہو میں بھی آپ کے ساتھ آفس آجاؤں
جی نہیں آپ نہیں آئیں گیں آفس میرے ساتھ کیونکہ میں چار بجے سے سات بجے تک گھر واپس آؤنگا
اور اپنے فرینڈز کے ساتھ جومیرا بیچ جاؤں گا
سو
آپ ریسٹ کرو اپنی فیملی سے باتیں شاتیں کرو موی دیکھ لو وٹ ایور جو دل کرے وہ کر لینا
اوکے
اوکے جی مبین خوشی سے بولا
کے آج تو موی دیکھے گا بیگم سے گپ شپ کرے گا
لیکن الیاس سے بھلا کوئی جیت سکتا تھا
اور ہاں روکی کو کھانا دے دینا سلطان شیخ دور سے آپ کو بتا دے گا کے کہا دینا ہے
بٹ سر وہ دور سے کیوں بتاۓ گا
ہاہاہا گڈ کویوسیٹین الیاس مسکراتا ہوا بولا
کیونکہ وہ روکی اسے کاٹ دے گا اسی لیۓ
تو سر وہ مجھے کاٹے گا نہیں بلکے پورا کا پورا نگل جاۓ گا
سلطان شیخ کے پاس آپ مت جانا
آپ کو خود روکی کا کھانا لا دے گا الیاس مبین کی بات اگنور کر کے باہر نکل گیا
ہاۓ اللہ اپنے اس نا سمجھ اور گنہگار بندے کو معاف کرنا کیونکہ میں جلدی آپ کے پاس آنے والا ہوں
مبین اپنے ہاتھ اٹھا کر اور گردن اوپر کر کے اللہ سے دعا کرنے لگا
💞💞
آفاق صاحب کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر زور سے دروازہ مار کر بند کیا
آفشین صاحبہ بھی آفاق کے ساتھ آگے بیٹھ گئ
چلیں آپی بیٹھ جائیں
آذان اور آذنان دونوں چندہ کا ایک ایک ہاتھ پکڑ کر بولے
ہممم چلو چندہ بولی
سارے میراکل گارڈن پہنچ چکے تھے
چوبیس لاکھ پھول ہر روز یہاں نۓ لگاۓ جاتے ہیں۔
اور بہت ہی لمبی سلائیڈ ہے جس کی لمبائی تقریباً چالیس یا پچاس فٹ کے قریب ہے
جو پھولوں والی ٹوکری میں بیٹھ کر سیدھا نیچے آتا ہے
آذان آذنان اور چندہ تینو اس پھولوں والی ٹوکری میں بیٹھے نیچے کی جانب آرہے تھے
ہاہاہاہا آذان تمہیں ڈر لگ رہا ہے
چندہ ہنستے ہوۓ بولی
آپی بہت زیادہ ڈر لگ رہا ہے آذان روتا ہوا منہ بنا کر بولا
ہی ہی ہی ہی تم ہی زیادہ شور کر رہے تھے نہ کے آپی سلائیڈ لینی ہے سلائیڈ لینی ہے چندہ ہنستے ہوۓ کھڑی ہوئی جبکے آذان اور آذنان دونوں سائیڈ پر ہی زمین پر بیٹھ گۓ
او میرے کاکے تھک گۓ ۔چندہ پیار کرتے ہوۓ زمین پر بیٹھ گئ
جی آپی
بچے اور آفشین صاحبہ نے خوب انجواۓ کیا جبکے آفاق صاحب پھولوں کے چھوٹے سے گارڈن میں بنچ پر بیٹھے ہوۓ تھے
💞💞
الیاس آفس آیا تو اپنا گیم پروجیکٹ بنانے لگا اور زارا کو خاص وارنگ دے کر کہا کے کوئ بھی اندر نہ آۓ
زارا باہر بیٹھی حنین کو گھور رہی تھی
جب لائبہ حنین کے پاس آئی
اسلام علیکم لائبہ پیار سے بولی
وعلیکم اسلام حنین مسکراتے ہوے کھڑی ہوئی
اور دونوں ایک دوسرے سے گلے ملی
زارا کی تو آنکھیں باہر آگئ تھی یہ لڑکی حنین نے مجھ سے تو سیدھے منہ بات نہیں کی اور لائبہ کے ساتھ کیسے کھڑے ہوکر گلے مل رہی ہے زارا دل ہی دل میں بولی
جبکے لائبہ اور حنین زارا کو ہی دیکھ رہے تھے
ارے لائبہ بیٹھو اور مجھے صبحِ کی ٹایمنگ کا بھی بتا دو تاکے اکھٹے ہی آفس آجایا کریں حنین لائبہ کو دیکھتے ہوۓ بولی
ہاں ہاں حنین بتاتی ہوں 8:30 پر نکلتی ہوں
اچھا رہتی کہاں ہو
وہ المخارج ڈیفنس ہے نہ اس میں بلڈنگ ٹو اور فلیٹ نمبر 6 ہے ہمارہ آنا کبھی تو اچھا لگے گا لائبہ بولی
واۓ نوٹ ضرور آؤں گیں
لائبہ اور زارا اونچا اونچا بول رہی تھی
جب زارا ٹپک پڑی
یہ تم دونوں ایک ساتھ کیوں بیٹھی ہو
چلو اپنے اپنے کیبن میں جاؤ
او ہیلو اس ٹائیم سر نے پچیس منٹ کی بریک دی ہوتی ہے سمجھی
لائبہ زارا کو آنکھیں دیکھاتے ہوۓ بولی
جبکے حنین نے زور سے کہکہ مارا
زارا کو خوب اپنی بےعزتی فیل ہوئ
الیاس باہر آیا تو زارا اپنے کیبن میں نہیں تھی
الیاس واپس روم میں چلا گیا اور اپنے اردگرد شیشوں سے نیچے دیکھنے لگا
جہاں چھوٹی سی زارا کافی غصے میں دکھ رہی تھی
وہ الیاس کافی اچھے سے محسوس کرچکا تھا
جبکے یہ بھی جان گیا تھا کے یہ لڑکیاں اس کا مزاخ اڑا رہی ہیں
الیاس واپس اپنی سیٹ پر بیٹھا اور قاسم کے کمپیوٹر پر میسج بھیجا
جس سے قاسم نے جلدی دیکھ لیا
حنین کو اوپر بھیجو فائیل سمیت الیاس کا میسج پڑھ کر قاسم نے جلدی سے حنین کو بولا
اور حنین اپنی فائیل اٹھا کر فوراً سے پہلے اوپر دوڑی
ٹک ٹک ٹک
یس الیاس بولا
حنین اندر آئ
الیاس نے بغیر لگی پٹی کے حنین کو بولا
💞💞💞
قاسم نے مبین کو کال ملائ لیکن وہ ریسیو نہی کر رہا تھا
قاسم نے پھر سے ٹرائی کیا اور اب کی بار فون اٹھا لیا
اور بھئ کتنے مزے ہورہے ہیں سر کے گھر قاسم ہنستا ہوا بولا
یار قاسم اپنے بھائ کے لیۓ دعا کر کے اس کی زندگی بچ جاۓ
کیوں کیا ہوا قاسم پریشانی سے کھڑا ہوگیا
یار سر نے اپنے کتے یعنی جو کے بلکل درندہ ٹائیپ ہے کہا ہے اس کے آگے کھانا ڈالو
اور اپنی کل سے لے کر ابھی تک کی پوری سٹوری سنا ڈالی
ہاہاہاہاہا ہاہاہا ہاہاہاہاہا ہاہاہا ہاہاہاہاہا ہاہاہا ہاہاہاہاہا قاسم ہنسی جارہا تھا جبکے مبین کو اپنی روح نکلتی ہوئ محسوس ہورہی تھی
ہنس ہنس جتنا مرضی ہے ہنسنا ہے ہنس لے
میں نفلیں روزے منت رکھوں گا اور اللہ سے یہ دعا کروں گا کے تیرے اوپر بھی یہ دن آۓ
اچھا اچھا یار بدعا تو نہ دے نہیں ہنستا میں قاسم ہنسی کو کنٹرول کرتا ہوا بولا
قاسم پلیز کچھ کر مبین پھر سے ریکویسٹ کرتا ہوا بولا
ایک بار پھر سے قاسم کے دانت نکلنا شروع ہوگۓ
جبکے مبین نے بغیر کچھ کہے کال کاٹ دی
اللہ میرا دوست ناراض ہوگیا قاسم فون کو دیکھتا ہوا بولا اور پھر سے ہنسنے لگ گیا
💞💞💞
آفاق صاحب کار گیٹ کے قریب لاۓ تو رفاق صاحب کی کار بھی کھڑی تھی
اس کا مطلب یہی تھا وہ ان کے انتظار میں ہیں
وہ سب اندر آئیں تو رفاق اور شمسہ لاونج میں ہے بیٹھے تھے
چندہ کی ڈریسنگ دیکھ کر شمسہ نے نظریں پھیر لی جبکے چندہ نے بھی بغیر سلام دعا کیۓ اندر چلی گئ
جاؤ آفشین کھانے کا بندوست کرواؤ
آفاق صاحب بولے
جی آفشین صاحبہ بھی ان سے مل کر کچن میں چلی گئ
کیسے آنا ہوا آپ لوگوں کا آفاق صاحب بولے
بس اب اپنی امانت لینے آۓ ہیں
رفاق صاحب مسکرا کر بولے
مطلب میں سمجھا نہیں کون سی امانت آفاق صاحب بلکل انجان بنتے ہوۓ بولے
ہم چندہ کی رخصتی چاہتے ہیں
میں اس رشتے کو آپ کے بیٹے کے سامنے ختم کر چکا ہوں
اور وہ بھی ختم کرچکا ہے میری بیٹی کے ساتھ رشتہ
تو کونسی رخصتی آفاق صاحب غصے سے بولے
کیا آفاق اب تم بچو کی باتوں میں رشتوں کو توڑو گے
نہیں بھائی یہ شادی ہم نے نہیں انہی بچو نے کرنی ہے انہوں نے ہی زندگی گزارنی ہے
اگر ابھی ان کی پسند نہ پسند نہ جانی تو کل کو شادی کے بعد طلاق ہوجاۓ گی
جس سے ان کے بچو کی زندگی بھی تباہ ہوگی ۔
اس لیے میں یہ رشتہ ہرگز نہیں دوں گا
آفاق صاحب صاف الفاظوں میں انکار کرتے ہوئے بولے
ڈیڈی میں اس رشتے سے خوش ہوں تو آپ کیوں منع کر رہے ہیں ۔چندہ باہر آتے ہوۓ بولی
تم
اندر
جاؤ
آفاق صاحب ایک ایک الفاظ پر زور دیتے ہوۓ بولے
او پلیز ڈیڈی میں اندر نہیں جاؤں گی ڈیٹ فکس کریں میری شادی کی
چندہ بنا آگے پیچھے کا لحاظ کرتے ہوۓ بولی
جبکے شمسہ صاحبہ کے رنگ پھنگ اڑ گۓ یہ کیا چندہ تو خود ان کو اپنی شادی کا آوڈر دے رہی ہے
پٹاخخخخ آفاق صاحب نے ایک زوردار چماٹ چندہ کے منہ پر مارا
ڈیڈی چندہ اپنے آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لاۓ چلا کر بولی
جبکے آفاق صاحب نے دوسرا چماٹ بھی اس کے منہ پر دے مارا
کیا کر رہے ہو آفاق پاگل تو نہیں ہوگۓ جو جوان بیٹی پر ہاتھ اٹھا رہے ہو
رفاق غصے سے بول بازو سے پکڑ کر صوفے پر پھینکا
تم سمجھتی کیا ہو
کے مجھے پتہ نہی کے تم ڈرنک کرتی ہو سموکنگ کرتی ہو
آفاق صاحب چندہ کو گھور کر بولے
چندہ بہت زیادہ شرمندہ ہوئ
اور دوڑ کر اپنے کمرے میں چلی گئ
جبکے رفاق صاحب تو ہکےبکے آفاق کے الفاظ سن کر رہ گۓ
اس لیۓ بھائ جان میں اس کا رشتہ جعفر کے ساتھ نہیں کر رہا
چندہ کی شادی میں پاکستان میں مڈل کلاس فیملی سے کروانا چاہتا ہوں
تاکے وہ چندہ کو اس کی اوقات میں رکھے
میں نے چندہ کو اس لیۓ اتنا لاڈ پیار نہی دیا تھا کے وہ میرے ہی سر پر دندنانے لگ جاۓ
آفاق صاحب ہائ غصے میں تھے
آفاق کچھ بھی نہیں ہوتا ہماری اپنی بیٹی ہے ہم خود سیٹ کر لیں گیں رفاق صاحب پیچھے نہ ہٹتے ہوئے بولا
بھائ میں بلکل بھی رشتہ دینے کے حق میں نہی ہوں اس لیۓ بحس کا فائیدہ نہیں ہے آفاق صاحب صاف الفاظوں میں بولے
اچھا جی رفاق صاحب اٹھتے ہوۓ بولے
کہاں جارہے ہیں آپ آفاق رفاق کو دیکھتے ہوئے بولا
گھر ہی جاؤں گا اور کہاں جاسکتا ہوں
بیٹھیں
ضروری بات کرنی ہے آپ سے آفاق صاحب بولے
رفاق صاحب ناراضگی سے بیٹھیں
میں چہتا ہوں اب جائیداد اور بزنس کا بٹوارا کرلوں
تاکے چندہ اور اپنے دونوں بچوں کا حق ان کے نام کردو
اور آپ کو بھی یہی مشورہ دوں گا کے آپ بھی اپنے بیٹے کا حق اس کو دے دیں
ہمم صیح اب
یہ دن بھی آگیا کے جائیداد کا بٹوارہ کریں
رفاق صاحب کو جائیداد کی بات بلکل بھی پسند نہیں آئ
جبکے آفاق صاحب بلکل خاموش تھے
ایک ہفتے تک پراپرٹی کے کاغذات تیار ہوجاۓ گیں
رفاق صاحب بولتے ساتھ ہی کھڑے ہوگۓ
اور بھائ ناراض مت ہوں چندہ کے لیۓ
آفاق جیسی تمہاری مرضی ویسے بھی تمہاری بیٹی ہے
جہاں تمہیں بہتر لگے وہی دو
اب جبکے رفاق صاحب کو چندہ کی حرکتوں کا پتہ چل گیا تھا تو وہ کیسے اپنے بیٹے کی شادی کرتے
شمسہ صاحبہ کا تو خوشی کا کوئ ٹھیکانہ نہ تھا
شمسہ اور رفاق دونوں اٹھ کر باہر نکل گۓ
💞💞
حنین ہمارا آفس بلکل فیملی جیسا ہے
یہاں کوئی کسی کو بھی تنظ وغیرہ نہی کرتا
سب ایک دوسرے سے اچھے سے ملتے ہیں
الیاس حنین کو دیکھتا ہوا بولا
بٹ سر وہ بھی
شششششش الیاس حنین کو خاموش رہنے کا سائین دکھاتے ہوۓ بولا
رات گئ بات گئ یہ کہاوت تو آپ نے سنی ہوگی
نیکسٹ میں ایسا بلکل بھی نہ دیکھوں کے آپ کسی کو جیلس فیل کروانے کے لیۓ ایک دوسرے سے اچھے سے باتیں وغیرہ کر رہی ہوں
اوکے الیاس حنین کو گھورتے ہوۓ بولا
جبکے حنین الیاس کے سامنے کافی کنفیوز ہوگئی تھی
کیونکہ الیاس نے اپنے گلاسز اتار کر حنین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگا
اچھا نہ اب میں جاؤں
حنین جلدی میں اجیب سے طریقے سے بولی
جی الیاس حیران ہوتا ہوا بولا
حنین دوڑ کر باہر آئی
ہاۓ اللہ اتنی پیاری آنکھیں میں صدقے
حنین نے فرسٹ ٹائیم کسی کی اتنی تعریف کی تھی
اور اس سر جناب کو دیکھو کیسے چھپا کر پھرتا ہے حد ہے بھئ
جبکے الیاس کیمرے کے زریعے حنین کو دیکھ رہا تھا
اور اس کی لمسنگ بھی سمجھ چکا تھا کے وہ کیا بول رہی ہے
الیاس فرسٹ ٹائیم کسی لڑکی کی حرکت پر مسکرایا تھا
💞💞
چندہ حقی بقی منہ کھولے لیٹی ہوئی تھی
یہ ڈیڈی کو کس نے بتایا ہوگا اور یہ چانٹے وہ بھی اتنی زور زور کے وہ بھی ایک نہیں دو دو
چندہ غصے سے بولی
اور فون اٹھایا تو جیسمین کی سات مسڈ کالز آئ تھی
جیسمین کی اتنی کالز چندہ بیٹھی اور جیسمین کو کال ملائ
ہاں جیسمین اتنی کالز خیریت تو ہے
چندہ نے جیسے کال ملائ تو جیسمین نے پک کر لی
💞💞
الیاس اپنے آفس روم سے نکلا تو سب ورکرز اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے
زارا بھی الیاس کے پیچھے ہی کھڑی تھی
ہیلو ایوری ون الیاس اونچی آواز میں بولا
تو ورکرز اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہوئے
کل آپ سب جانتے ہیں کہ پارٹی ہے
سو فرسٹ ٹائیم ایسا ہوا ہے کے پارٹی میں
میں نے آفس آف کیا ہے ورنہ تو پہلے میں کام کرواتا ہوں دین پارٹی سٹارٹ ہوتی ہے
کچھ خاص لوگ ہمارے آفس سے جارہے ہیں اس لیۓ خاص پارٹی ارینج ہوگی
قاسم آپ سب اریجمنٹ دیکھے گیں اور
ڈیکوریشن کا آوڈر میں نے دے دیا ہے
کل نو بجے تک وہ پہنچ جاۓ گیں
آپ ان سے پہلے پہنچ جائیے گا اوکے
یس سر ہمیشہ کی طرح اب بھی یس سر ہی جواب آیا
گڈ
الیاس بول کر نکل گیا
جبکے حنین واپس اپنی سیٹ پر بیٹھی اور اپنے کمپیوٹر کے آگے پڑھنے لگی
اور زارا نے اوپر کی طرف دوڑ لگا دی
💞💞
ہاں خیریت تو ہے لیو اور لارا اب کافی حد تک بہتر ہے تم ان کی خیریت ہی معلوم کر لو کب سے وہ ویٹ کر رہے ہیں تمہارہ جیسمین بولی
ہاں یار آنا تو تھا لیکن گھر میں اتنی پروبلمس ہے
نہ ہی ٹائیم ملا اور نہ ہی یاد رہا
چندہ اپنے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
جانی آجا یار مست سی پارٹی کریں گیں لیو اور لارا کے ٹھیک ہونے کی خوشی میں
جیسمین مغربی لڑکی تھی خود تو ڈرنک درگز چرس سموکنگ کے نشے کرتی تھی اور اپنے ساتھ عام لڑکیوں کو ملا کر ان کی بھی عادت کروا دیتی
یارہ تو ایسا کر
پارٹی ارینج کر لے میں آدھے پونے گھنٹے تک پہنچ جاؤں گی چندہ بولتے ساتھ ہی کھڑی ہو ئ
اوکے با باۓ جیسمین نے کال کاٹ دی
چندہ نے فٹافٹ بلیک کلر کی جینز اور اس کے اوپر بلیک کلر کی شرٹ
اور بالوں کو جلدی جلدی برش کر کے باہر نکلی
ماما
مامممما چندہ اپنی ماما کو آوازیں دیتے ہوۓ بولی
کیا ہے آفشین صاحبہ غصے سے بولی
چلیں میری چابی دیں اور پاسپورٹ بھی دوست کے ہاں جانا ہے
چندہ اپنے بیگ کی زپ کھولتے ہوئے بولی
تمہارے ڈیڈی نے منع کیا ہے آفشین صاحبہ بول کر واپس مڑی
او کمون ماما یہ حرکتیں پلیز بند کریں
چندہ غصے سے بول کر آفاق صاحب کے روم میں گئ
ڈیڈی چندہ دروازے کے پاس کھڑی ہوکر بولی
کیا آفاق صاحب منہ پھیر کر بولے
کار کی کیز دے دیں اور پاسپورٹ بھی
میں نہیں دوں گا چندہ واپس اپنے روم میں جاؤ
ڈیڈی آپ خامہخہ مجھ سے الجھ رہے ہیں دے دیں رات تک آجاؤں گی
چندہ اپنے ڈیڈ کے قریب جاکر بولی
چندہ اپنے حدیں پار مت
کرو
مجھے مجبور کے مت کوئ برا قدم اٹھاؤ آفاق صدیقی کا بلڈ پریشر ہاۓ ہوگیا تھا
اور دل کی دھڑکن بھی تیز ہوگئ تھی
کیا قدم اٹھاۓ گیں ہاں بتائیں
میرے رشتے سے انکار تو کردیا
پھر سب کے سامنے میرے منہ پر چماٹیں بھی ماری
اس کے علاؤہ کیا قدم اٹھاۓ گیں
بتاۓ مجھے چندہ چیختے ہوۓ بولی
چندہ آفاق صاحب چلا کر صوفے پر گر گۓ
آفشین صاحبہ نے جیسے ہی ان کی آوازیں سنی تو
وہ اندر بھاگ کر آئ
جبکے آفاق صاحب دل پر ہاتھ رکھے کراہ رہے تھے
آفاق آفشین صاحبہ دوڑ کر آفاق کے پاس آئ
گاڑی نکالو چندہ گاڑی نکالو آفشین صاحبہ روتے ہوۓ بولی
چندہ نے فٹافٹ گاڑی نکالی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ آفاق صاحب کو ہرٹاٹیک آیا ہوگا
گھر کے ملازم کے ساتھ آفاق صاحب کو گاڑی میں لٹایا
چندہ نے زن سے گاڑی بھگائ
اور دل ہی دل میں اللہ سے دعا کر رہی تھی کے ڈیڈ کو کچھ نہ ہو
💞💞
الیاس جیسے ہی گھر پہنچا تو مبین نماز عصر پڑھ رہا تھا
الیاس نے بھی وضو کیا اور نماز ادا کرنے لگا
دونوں نماز پڑھ کر فارغ ہوگۓ تھے
آپ نے روکی کو کھانا دیا
سر وہ سلطان شیخ نے تو کھانا نہیں دیا مجھے
اور آپ نے کہا تھا کے میں نہ مانگوں وہ خود لا کر دیں گیں
مبین نے پوری بات بتائ
اچھا میں نے آپ کے ساتھ چھوٹا سا پرینک کیا تھا الیاس مسکراتا ہوا بولا
سر کیسا پرینک کیا آپ نے مبین پریشانی سے بولا
آپ کو ٹینشن میں رکھا کے روکی کو کھانا دینا ہے
لیکن روکی کو کوئ کھانا وانا نہیں دینا تھا
کیونکہ اسے
میرے علاؤہ کوئی کھانا نہیں دے سکتا
الیاس پوری بات کلئیر کرتا ہوا بولا
جبکے مبین زمین پر ہی بیٹھ گیا
سر شام کے چار بج رہے ہیں میں صبح سے کتنی ٹینشن میں تھا آپ اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے
آئ نو کے آپ ٹینشن میں تھے بٹ کوئ نہیں میں سوری کر دیتا ہوں الیاس بولا
ویسے سوری بنتا تو ہے مبین منہ ہی منہ میں بڑبڑایا
اوکے اگر سوری بنتا ہے تو چلو یہاں سوری نہیں کروں گا جومیرا بیج پر کروں گا
نہیں نہیں سر اب آپ کیا سوری کریں گیں رہنے دیں
مبین ہاتھ جھاڑتا ہوا کھڑا ہوگیا
چلو آپ کو اچھے سے پتا ہے مجھے اپنی بات دہرانے کی عادت نہیں ہے الیاس واپس اپنے پرانے روئیہ کی طرف آتا ہوا بولا
جی سر چلیں مبین جلدی بولا
گڈ ویسے آپ کو بہت مزا آنے والا ہے جومیرا بیچ پر الیاس چلتا ہوا بولا
یس سر کیوں نہیں جب سے دوبئی آیا ہوں تب سے ہی آپ کا آفس جوائین کیا اور ایک دفعہ بھی جومیرا بیچ نہیں گیا
اور سب کہتے ہیں کے شام کے وقت جومیرا بیچ کا منظر بہت خوبصورت ہوتا ہے
اچھا جی چلو آج آپ کو جومیرا
بیچ بھی گھوما لاۓ الیاس ہنستا ہوا بولا
جبکے مبین الیاس کی ہنسی کا مطلب ہی سمجھ نہیں پایا
دونوں جومیرا بیچ پر کھڑے تھے
لیکن وہاں نہ کوئی بندہ تھا اور نہ ہی بندے کی ذات
سر یہاں کوئ بھی نہیں ہے یہ کیوں مبین معصومیت سے بولا
وہ دراصل اب سوری کرنا تھا تو سب کے سامنے اتنا بڑا بزنس مین معافی تو نہیں مانگ سکتا نہ الیاس بولا
کوئ بات نہیں سر سوری نہ کریں مبین بولتے ساتھ ہی مڑا
اور ٹھس نیچے گر گیا
جبکے الیاس ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگیا تھا
الیاس نے مبین کو اٹھا کر بینچ پر لٹایا اور اس پر پانی کے چھٹکاؤ کیۓ
مبین جیسے ہی ہوش میں آیا تو الیاس کے ساتھ چپک گیا
سر وہا پر شیر ہیں اللہ کی قسم میں نے انگلش موویز میں دیکھا ہے شیر انسانوں کو کھا جاتے ہیں مبین ڈرتے ہوۓ بول رہا تھا
کول مبین ایک دم کول ہو جاؤ
یہ آپ کو کچھ نہیں کہیں گیں کیونکہ میں نے انہیں پالا ہے وہ دیکھو شیر کا جوڑا اور چیتا بیچارا اکیلا ہے الیاس اداسی سے بولا
سر چیتا کی چیتی کدھر ہے مبین نے کس کر الیاس کا بازو پکڑ لیا تھا
وہ مر گئ ہے نشانے بازی میں اسے گولی لگ گئ تھی مجھ سے
الیاس بات کو بڑھاتے ہوۓ بولا
سر آپ نشانہ بازی بھی کرتے ہیں
مبین نے باتوں میں مصروف ہوکر اپنا ڈر ایک حد تک کم کر دیا تھا
ہاں میں وہ بھی کرتا ہوں
آپ نے میرے روم کی ونڈو کے بیک سے نہیں دیکھا وہاں نشانے بازی کی جگہ بھی بنائ ہے
نہیں سر وہ تو نہیں دیکھی لیکن واپسی پر دیکھوں گا
اچھا الیاس اپنی ہنسی کنٹرول کرتا ہوا بولا
کتنا باتونی ہے یہ انسان الیاس دل میں بولا
💞💞
💞💞
جاری ہے