No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
جعفر پلیز اپنے روم میں جاؤ شمسہ صاحبہ منت کرتے ہوۓ بولی
اوکے جافر تیز تیز قدموں سے اپنے روم میں چلا گیا
شمسہ آپ تیار رہیۓ گا میں اور آپ کچھ دنوں تک آفاق کے گھر جائیں گیں فل حال بزنس کا مسلہ بہت چل رہا ہے رفاق صاحب پریشانی سے بولے
وہ تو ٹھیک ہے لیکن آئیندہ خدا کے لیۓ جعفر پر ہاتھ مت اٹھا یۓ گا
وہ اب جوان ہوگیا ہے اللہ نہ کرے اگر اس نے کچھ غلط کر دیا تو ہماری عزت میں کچھ نہیں رہے گا
بس تم تو اپنے لاڈلے کا ہی ساتھ دو چاہے وہ کوئ بھی گل کھیلاتا رہے
رفاق میں اپنے لاڈلے کو سمجھا دوں گی بس
شمسہ غصے سے بول کر اٹھ گئ
💞💞
اکیفہ رحمان بہت پریشان تھا کیونکہ اس نے اپنی فیملی دوبئ بلوا دی تھی اب جبکہ نوکری چلی گئ تھی تو اسے یہی پریشانی کھاۓ جارہی تھی وہ اپنی فیملی کو دوبئ میں کس طرح رکھے گا ان سب کا خرچہ کیسے اٹھاۓ گا
ابدللہ فانی کی چار بہنیں اور اس کے والدین تھیں جو افغانستان میں رہتے تھے اس جاب کے ذریعے ہی وہ اپنی چاروں بہنوں کو رخصت کرنا چاہتا تھا اور تین ماہ بعد ہی اس کی بڑی بہن کی شادی بھی تھی اب اسے یہی بات ٹینشن میں مبتلہ کر رہی تھی کے وہ اپنی ساری زمہ داریاں کیسے نبھاے گا اپنے ماں باپ سے جو وعدے کیۓ تھے وہ سب کیسے پورے کرے گا
فیکری رجال تو بس خاموش ہی تھا لیکن ٹینشن اس کے چہرے سے بھی جھلک رہی تھی
اور آفس کے تمام روکرز بریک ٹائیم ان تینوں کے آگے پیچھے بیٹھے تھے
آپ لوگ پریشان نہ ہو سر سے جاکر ایک دفع بات کر لیں کیا پتہ وہ آپ لوگوں کو فائیر نہ کرے
لائبہ دکھی انداز میں بولی
نہیں لائبہ سر ایک دفع جو بول دیں اس چیز سے پیچھے نہیں ہٹتے اکیفہ رحمان اپنے دکھ بھرے لہجے میں بولا
دیکھیں آپ تینوں اپنے مسلے سر کو بتائیں وہ آپ کی مدد ضرور کریں گیں قاسم لائبہ کو دیکھتے ہوۓ بولا
رائیٹ ہم سب مل کر آپ تینوں کے ساتھ جائیں گیں تو وہ ہیلپ ضرور کریں گیں
لیکن ہم سب کو نہیں جانا چاہیۓ جس کا مسلہ ہے وہ خود ہی سولو کرے تو بہتر ہو گا سلمان لائبہ اور قاسم کی طرف دیکھتا ہوا بولا
💞💞
سر سوری اگر لیٹ ہوتی تو آپ نے پھر سے سزا دینی تھی
لیکن زارا آپ آج کل کچھ نوٹ نہیں کر رہی الیاس فائیل کو پلٹاتا ہوا بولا
کیا سر میں کچھ سمجھی نہیں
یہی کے آپ غلطیاں بہت کرنے لگی ہیں
الیاس اب اپنے کمپیوٹرز کی جانب متوجہ ہوا
پھر کچھ دیر تک تینوں خاموش ہوۓ
اپنا موبائل چیک کرو زارا الیاس بولا
جی سر زارا اپنا موبائل کھول کر ٹٹولنے لگی جس میں اچانک میسج آیا
اور میسج میں یہ لکھا تھا کے آدھی سیلری اس کی کٹ چکی ہے
سر آپ ایسا نہیں کرسکتے زارا رونے والے انداز میں بولی
سو سوری میں ایسا کر چکا ہوں
اب آپ جاسکتی ہیں
جی سر زارا لڑکھڑاتے قدموں سے واپس چلی گئ
💞💞
چندہ نے دانتوں کو برش کیا تاکہ سیگریٹ کی بدبو نہ آۓ کیونکہ گھر میں کسی کو نہیں پتہ تھا کے وہ اس حد تک ہاتھ سے نکل چکی ہے
باہر آئ تو ڈائنگ ٹیبل کی طرف سے آوازیں آرہی تھی
چندہ نے بھی وہی کا رخ کیا
چئیر کھینچ کر خاموشی سے بیٹھ گئ
آپی آپ تو اب ہم سے بات ہی نہیں کرتی آذان دکھی لہجے میں بولا
ہمم تو آپ خود کر لیا کرو
اگر ہم بنا پوچھے کچھ بول دیں تو آپ اتنا چلاتی ہیں
اوکے اب نہیں کچھ کہوں گی
اب خاموشی سے اپنا کھانا کھاؤ
چندہ اپنے ڈیڈی اور ماما کو بلکل اگنور کرتا ہوا بولی
کل سب مل کر آوٹینگ پر چلتے ہیں کیا خیال ہے
یس ڈیڈی آذان اور آذنان چیختے ہوۓ بولے
آفاق صاحب اور شمسہ صاحبہ مسکرانے لگے
چندہ آپ بھی تیار ہو جانا کل میراکل گارڈن جائیں گیں
listed in Guinness book of records for having the longest flower wall, this is home to an other modern marvel of the world. Located in the desert, this is an oasis with the worlds largest collection of natural flower
سب سے طویل پھول کی دیوار رکھنے کے لئے گینیپن کتاب کے ریکارڈ میں درج کی گئی ہے، یہ دنیا کے دوسرے جدید پہلوؤں کا گھر ہے. صحرا میں واقع، یہ ایک قدرتی ہے جو قدرتی پھولوں کی سب سے بڑی مجموعہ کے ساتھ ہے
یہ بہت ہی خوبصورت جگہ ہے
ایک بار جو دوبئ چلا جاۓ وہ اس جگہ کو دیکھنے کے لیۓ بےتاب رہتے ہیں
میں نہیں جاؤں گی چندہ سیلڈ پلیٹ میں ڈالتے ہوۓ بولی
آذان اور آذنان اس کی بات سن کر بہت زیادہ آپسیٹ ہوگۓ تھے
چندہ ان دونوں کی شکل دیکھ کر سوچنے لگی
💞💞
اوکے حنین یہ رہی آپ کی فائیل اسے دیکھ لیں کیونکہ ایک ہفتے بعد ہماری میٹینگ ہے وہ بھی یورپ میں سو اگر آپ آفس کو پورا دیکھ چکی ہیں تو اپنے کام پر کونسٹریٹ کریں الیاس بول کر حنین کو دیکھنے لگا
حنین بہت زیادہ شرمندہ سی ہوئ
اوکے سر اینڈ تھینک یو
حنین فٹافٹ اپنے کیبن میں آکر بیٹھی اور فائیل کھول کر الیاس کی بات یاد آگئ
(اگر آپ آفس کو پورا دیکھ چکی ہیں تو اپنے کام پر کونسٹریٹ کریں)
ایک تو سر کو ہر بات کا علم ہو جاتا ہے اور یہ بھی نہیں پتہ اس نے کیمرا کدھر لگایا ہے حنین اپنی فائیل کے پیجز کو آگے پیچھے کرتے ہوۓ دل میں بول رہی تھی کے سامنے والا سمجھ رہا ہو کے فائیل پڑھ رہی ہے
اور پتہ نہیں یہ سارے لوگ کدھر مر گۓ ہیں ایک بھی یہاں نہیں ہے
حنین آخری صفحہ پلٹاتے ہوۓ بولی
جب اچانک اسے زارا کی بیستی یاد آئ
تو حنین بتیس کے بتیس دانت نکالتے ہوۓ ہنسنے لگی
اچھا ہوا اس چوڑی کے ساتھ
مجھے ایٹیٹوڈ دکھا رہی تھی اب بیچاری اپنی نظریں بھی نہیں ملا سکے گی ہاہاہاہاہاہا
💞💞
نہیں سلمان ایسے نہیں کرنا چاہیے ہم سب اگر ایک آواز سے بولیں گیں تو سامنے والے کو ہماری بات پر غور لازمی کرنا ہوگا
ہم سب کو ان کی مدد کرنی چاہیۓ لائبہ بول کر سب کو دیکھنے لگی
پتہ نہیں میں نے تو آپ سب کو ایڈوائس دی ہے آگے آپ لوگوں کی اپنی مرضی میں نہیں جاسکتا سلمان اپنی کافی کا سیپ لیتے ہوۓ بولا
کافی لوگوں کو اس پر غصہ بھی آیا
Ok Salman as you wish
گائیز چلو چلتے ہیں
لائبہ بولی
چلو چلیں قاسم اور مبین کھڑے کھڑے ہوئے تو ان کے ساتھ سارے کھڑے ہوگۓ
💞💞
خیریت تو ہے پورا کا پورا ٹبر اٹھ کر اوپر آگیا ہے زلزلہ تو نہیں لانا تم سب نے زارا کا آگے ہی موڈ اچھا نہیں تھا ان سب کو دیکھ کر اور بھی بگڑ گیا
ہمیں سر سے بات کرنی ہے مبین بولا
اوکے زارا کچھ سوچتے ہوۓ بولی
آپ سے بات کر رہے ہیں کے سر سے بات کرنی ہے لائبہ غصے سے بولی
اچھا جی سن لیا ہے اتنا گلا مت پھاڑو زارا بھی چلا کر بولی
اب تم دونوں جھگڑا مت کرو ہمیں اندر جانے دو قاسم پریشانی سے بولا
جبکے مبین اپنی ہنسی کنٹرول کرنے لگا
زارا نے اپنے کاؤنٹر پر پڑے (پی ٹی سی ایل) سے الیاس کو کال کی اور پوری بات بتائ
زارا آپ یہ پروبلم خود سولو کریں الیاس مصروف سے انداز میں بولا
اوکے سر
کیا مسلہ ہے مجھے بتاؤ زارا چئیر پر بیٹھتے ہوۓ بولی
لائبہ ایک لمبا سانس کھینچ کر بولی
یہ پرابلم تم سولو نہیں کر سکتی اس لیۓ براۓ مہربانی ہم سب کو سر کے پاس جانے دو
ہاں ہاں صیح بول رہی ہے لائبہ
سارے لائبہ کے پیچھے بولے
اچھا اچھا اب شور مت ڈالو یہ زو نہیں ہے یہاں سارے انسان رہتے ہیں
جو اتنا شور کر رہے ہو زارا تنگ آتے ہوۓ بولی
اور سر کا دوبارہ نمبر ڈائیل کیا
سر یہ لوگ مجھ سے کچھ بھی شئیر نہیں کر رہے کہ رہے ہیں آپ کو ہی بتائیں گیں
ایک کام بھی آپ سے نہیں ہوتا زارا
بھیجے اندر
الیاس نے غصے سے بول کر فون ڈس لائیں کردیا
جاؤ بھی جاؤ زارا رونے والے انداز سے بولی
اور سب اندر چلے گۓ
یہ کیا آج صبح سے میری اتنی بے عزتی ہورہی ہے پہلے اس حنین کے سامنے اور اب ان سب کے سامنے 😥😥
💞💞
جی کیا پرابلم آگئ آپ سب کو ایک ساتھ
الیاس ٹیبل پر پڑے گلاس سے جوس کا سیپ لیتے ہوۓ بولا
لائبہ قاسم اور مبین نے مل کر وقفے وقفے سے پوری بات بتائ
جس کے پیچھے سب ہاں ہاں کرنے لگے
آپ سب جائیں سواۓ ان تینوں کے علاوہ الیاس اپنا سر مسلتے ہوۓ بولا اور انتہائی غصے میں لگ رہا تھا
سوری سر آپ نے جو کچھ بھی کرنا ہے ہمارے سامنے کرنا ہوگا پیچھے کھڑا دوسرا ورکر بولا
الیاس نے ٹیبل پر پڑے گلاس کو اس قدر ضور سے زمین پر مارا
کے وہ گلاس چکناچور ہوگیا
اور سب ایک دم چیخ مار کر پیچھے ہوۓ
Get out non sense
الیاس چلا کر بولا
سب بہت زیادہ ڈر گۓ تھے
اس لیۓ ایک ایک کر کے باہر نکل گۓ
سو آپ لوگ میرے پاس میرے آفس کے ورکرز سمیٹ کر لے آۓ
الیاس غصے سے ان تینوں کی جانب مڑا
جاری ہے
Kaise thi aj ki ep
