No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
حنین یہ پیو زوبیہ صاحبہ یخنی دیتے ہوئے بولی
ماما یہ تو میں بلکل نہیں پیو گی حنین منہ موڑتے ہوئے بولی
ارے کیسے نہیں پیو گی
پیو اسے تمہیں طاقت ملے گی ڈاکٹر نے کہا تھا نہ
ماما پلیززز نہیں پی سکتی آگے میرا دل خراب ہو رہا ہے
امی ابھی چھوڑ دیں بعد میں میں اسے خود پلا دوں گا
الیاس زوبیہ کو دیکھتے ہوئے بولا
پکی بات ہے زوبیہ کنفرم کرتے ہوئے بولی
جی پکی بات ہے الیاس مسکراتا ہوا بولا
اچھا چلو میں میٹھے میں کچھ بنا لیتی ہوں زوبیہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
اوکے امی الیاس بولا
زوبیہ کے باہر جاتے ساتھ ہی الیاس نے ڈور لوک کیا اور حنین کے قریب آکر بیٹھ گیا
سب سے پہلے اس کے گلے میں ڈائمنڈ کا لاکٹ ڈالا
واؤ الیاس یہ کتنا پیارا ہے حنین لاکٹ کو دیکھتے ہوئے بولی
مجھے اتنی بڑی خوشخبری دی ہے تم اس لیۓ تمہارے لیے چھوٹا سا گفٹ الیاس مسکراتے ہوئے بولا
حنین کے چہرے کا رنگ کبھی لال میں بدلتا تو کبھی بلکل سفید ہو جاتا
حنین کیا ہوا الیاس ہنستے ہوئے بولا
کچھ بھی نہیں حنین ناخنوں کو دیکھتے ہوئے بولی
یار حنین ابھی تو ہم ماما بابا بننے والے ہیں تم ابھی بھی اتنا شرما رہی ہو الیاس حنین کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا
حنین نے الیاس کی طرف دیکھا تو الیاس کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہیں تھا
حنین مسکرانے لگی
الیاس نے بھی آگے سے سمایل کیا
پھر حنین کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیۓ
💞💞
مبین قاسم کو کال کر کر کے تھک گیا تھا
لیکن قاسم نے قسم اٹھائ تھی کال نہ اٹھانے کی
مبین نے تنگ آکر قاسم کو میسج سنڈ کیا
کمینے مجنو میری کال کیوں نہیں ریسیو نہیں کر رہا تو
تجھے بتانا ہے کہ لائبہ نے رشتے کے لیۓ ہاں کردی ہے
سب تیرا ویٹ کر رہے ہیں منگنی آج ہی ہو گی تیری مجنو آجا گھر
مبین نے مسیج ٹائیپ کر کے سینڈ کیا
میسج سینڈ کرنے کی دیر تھی قاسم کی کال آگئ
لیکن مبین نے ریسیو نہیں کی
قاسم نے دوبارا کال کی لیکن اب مبین ڈھیٹ بن گیا تھا
مبین یار تجھے اللہ کا واسطہ کال ریسیو کر لے قاسم نے میسج سینڈ کیا اور ساتھ ہاتھ جوڑنے👏👏 والے ایموجیز بھی سینڈ کیۓ
مبین نے پھر کال ریسیو کی
بول مبین منہ بنا کر بولا
واقعی لائبہ رشتے کے لیۓ مان گئ ہے اور آج ہی منگنی ہوگی قاسم بے چینی سے بولا
ہاں اب پہنچ جلدی مبین منہ بنا کر بول رہا تھا
اوۓ میرے یار منہ تو نہ بنا قاسم کہکا مارتے ہوئے بولا
کب تک پہنچیں گیں آپ مبین بولا
اوووو آپ واؤ قاسم ہنستے ہوئے بولا
جی فرمائیں آپ مبین بولا
میں تو ڈرائیو کر رہا ہوں دس منٹ میں پہنچ جاؤں گا لائبہ کے گھر قاسم بولا
چل میں بھی پہنچ رہا ہوں باۓ مبین نے بول کر کاٹ دی
قاسم نے فون دیکھا تو ہنسنے لگا
ناراض ہو گیا ہے میرا یار قاسم نے بولتے ساتھ ہی کار میں میوزک تیز کیا اور کار تیزی سے بھگا کر لے گیا
💞💞
الیاس نے حنین کے کندھوں پر ہاتھ رکھے اسے اپنی بانہوں میں چھپایا تھا
💕💞میری بانہوں میں تھی میری زندگی
میری زندگی کے وہ حسین پل ہاۓ 💕💕
الیاس حنین کے کانوں میں ہلکی اور گھمبیر آواز میں بولا
حنین الیاس کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی
حنین میری زندگی تم نے کمپلیٹ کردی ہے
اب ہم دو سے تین
پھر تین سے چار پھر چار سے الیاس بول ہی رہا تھا جب حنین نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
الیاس بس بھی کریں حنین منہ بناتے ہوئے بولی۔
کیوں کروں الیاس بولا
کیونکہ آپ کی گنتی روکنے والی نہیں ہے حنین بولا
ہاہاہا اچھا الیاس ہنسنے لگا
اچانک الیاس کے نمبر پر کال آنے لگی
الیاس کال بند کرنے لگا تھا جب حنین بولی ریسیو کر لیں
تو الیاس نے کال ریسیو کی
سر جس فیملی پر آپ نے نظر رکھنے کو کہا تھا
وہ کہی اور جارہی ہے ہم انہیں کا پیچھا کر رہے ہیں
آدمی الیاس سے بولا
اوکے آپ لوگ کریں پیچھا اور مجھے انفورم کرتے رہنا الیاس مسکراتے ہوئے بولا
سر آپ آفس آجائیں آپ سے کام ہے آدمی پھر سے بولا
ہممم الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا
یار ضروری ہے کیا آفس آنا الیاس بولا
جی سر آدمی بولا
اوکے آتا ہوں الیاس بولا
اوکے تھینکیو سر آدمی نے بول کر کال کاٹ دی
کیا ہوا حنین الیاس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
یار ایک کام ہے الیاس منہ بنا کر بولا
کوئ بات نہیں آپ جائیں حنین مسکراتے ہوئے بولی
اوکے الیاس حنین کے ماتھے کو چومتے ہوئے کھڑا ہوا
💕💕
قاسم جیسے لائبہ کے گھر پہنچا تو مبین کھڑا اسی کا انتظار کر رہا تھا
قاسم ہنستے ہوئے مبین کی طرف آیا اور اسے گلے سے لگا لیا
دھوورر پیچھے ہٹ مبین قاسم پیچھے کرتے ہوئے بولا
یار ناراض تو نہ ہو
میں اسلیۓ کال ریسیو نہیں کر رہا تھا
کے تو مجھے یہی بتاۓ گا کے لائبہ نہیں مانی
اسے چھوڑ اس سے اچھی لڑکی مل جائے گی بس تو گھر آ یو نو لڑکوں کو پھر ایسے ہی سننے کو ملتا ہے
قاسم بولا
کیا یار تجھے پوری دنیا میں ایک ہی لڑکی پسند آئ تھی وہ بھی تجھے نہ ملتی یہ تو غلط تھا
مبین ہنستے ہوئے بولا اور ساتھ ہی قاسم کو گلے سے لگایا
ہاں نہ میں بھی تو سب کو یہی سمجھا رہا تھا قاسم بولا
اوۓ تھوڑا بہت صاف ہو کر ہی آ جاتا لائبہ کیا سوچے گی تیرے بارے میں
اب جو بھی سوچتی ہے سوچتی رہے قاسم بولا
لگتا ہے تو بہت خوش ہے مبین مسکراتے ہوئے بولا
ہاں نہ قاسم ہنستے ہوئے بولا
اور تیرا ناچنے کو بھی دل کر رہا ہوگا ہے نہ مبین پیار سے بولا۔
ہاں یار قسم سے تجھے کیسے پتہ قاسم حیرانگی سے بولا۔
کیونکہ تیرا دماغ گھوم گیا ہے سٹیا گیا ہے ڈنگر بن گیا ہے تو اس لیۓ مبین ہنستے ہوئے بولا
اچھا جی قاسم اپنے دانت اندر کرتے ہوئے بولا
💕💕
الیاس آفس میں بیٹھا ہوا تھا
اور کچھ پولیس والے اور آدمی اس کے ساتھ بیٹھے ڈسکشن کر رہے تھے
دیکھیں آپ پولیس والے ہیں اگر آپ کو سارے کلیوں مل رہے ہیں تو آپ اپنا کام کریں
اگر سزا انہیں یہاں نہیں ملی تو کہی اور مل جاۓ گی
الیاس پولیس کو دیکھتے ہوئے بولا
رائیٹ کیونکہ گناہ نہیں چھپتا پولیس والا کھڑے ہوتے ہوئے بولا
بلکل الیاس بھی سر ہلاتے ہوئے بولا
پولیس والے چلے گۓ تھے اب صرف الیاس بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا
کافی دیر سوچنے کے بعد الیاس نے حنین کو کال ملائ
اسلام علیکم الیاس محبت بھرے لہجے میں بولا
وعلیکم اسلام حنین بھی مسکراتے ہوئے بولی
یار حنی میرا ایک کام کرو گی
نہیں حنین شرارت بھرے لہجے میں بولی
اوکے کر لو نخرے ایک میرا بچہ آجاۓ پھر تمہیں بتاؤں گا الیاس ہنستے ہوئے بولا
اچھا بولیں کیا کام ہے حنین لائن پر آتے ہوئے بولی
یار میرے اسٹڈی روم میں جاؤ اور میرا کمپیوٹر اون کرو
اوکے حنین الیاس کے اسٹڈی روم میں گئ
کمپیوٹر کو جیسے اون کیا تو اس پر پاسورڈ آرہا تھا
الیاس پاسورڈ بتائیں کمپیوٹر کا حنین کمپیوٹر کو دیکھتے ہوئے بولی
ہاں ٹائیپ کرو اینجل الیاس بولا
اینجل حنین بولتے ہوئے ٹائیپ کرنے لگی
الیاس اوپن ہوگیا اب کیا کروں
حنین کمپیوٹر کو دیکھتے ہوئے بولی
سرچ کرو اینجل فولڈر وہ تمہیں مل جاۓ گا پھر مجھے ایمیل کر دو
اوکے حنین نے الیاس کو اینجل فولڈر سینڈ کیا الیاس آگیا دیکھ لیں
ہمم آگیا تھینکیو الیاس مسکراتے ہوئے بولا
نو نیڈ حنین بول رہی تھی اور ساتھ فولڈر کو بھی کھولا
لیکن جب فولڈر میں موجود تصویریں دیکھیں تو حنین کے اوسان خطا ہو گۓ تھے
حنین ایک دم سے چئیر پر بیٹھ گئ
حنین الیاس نے آواز دی کیونکہ کال ابھی تک کاٹی نہیں تھی
حنین نے زور سے موبائل کو دیوار پر دے مارا
اور اپنے بالوں کو پکڑ کر چیختے ہوئے رونے لگی
ایکدم کال کٹنے پر الیاس سمجھ گیا تھا
اس لیۓ وہ گھر آنے کے لیۓ کھڑا ہوا
💕💕
لائبہ نے خود اپنا لائٹ سا میکپ کیا تھا
وہ حنین کے نمبر کو بار بار ٹراۓ کر رہی تھی لیکن نمبر بند جارہا تھا
لائبہ بہت اداس تھی کیونکہ ایک ہی اس کی دوست تھی وہ بھی اسکی منگنی پر نہیں آئ
لائبہ آجاؤ باہر سب ویٹ کر رہے ہیں
نرگس صاحبہ اندر آتے ہوئے بولی
ماما دیکھیں نہ حنین کا نمبر بند جارہا ہے لائبہ منہ بنا کر بولی
بیٹا کوئ بات نہیں شادی پر آجاۓ گی
اب اتنا سب کچھ اچانک ہو رہا ہے وہ کیسے آۓ گی نرگس صاحبہ بولی
جی لائبہ بولی
چلو آجاؤ سارے ویٹ کر رہے ہیں
نرگس صاحبہ لائبہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے گئ
قاسم میلا کچیلا بیٹھا تھا لائبہ کو اسکے ساتھ بٹھا دیا تھا
روبینہ صاحبہ نے فٹافٹ اپنے بیگ سے رینگ نکال کر قاسم کو دی
تو قاسم نے رینگ لے کر لائبہ کی انگلی میں پہنائی
سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا تھا
اس لیۓ نرگس صاحبہ کے پاس کوئی مردانہ رینگ ہی نہیں تھی
آدم نے اپنے ہاتھ سے رینگ نکال کر لائبہ کو دی
کے وہ قاسم کو یہ پہناۓ
لائبہ نے قاسم کے ہاتھ آدم کی دی ہوئی رینگ پہنا دی
روبینہ صاحبہ نے لائبہ کو گلے سے لگایا
اور ڈھیر سارا پیار اور دعائیں دی
عثمان صاحب نے بھی لائبہ کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھا
مبین لائبہ کو پیسے دے رہا تھا لیکن وہ لینے سے انکار کر رہی تھی
لے لو لائبہ ٹائیم نہیں تھا ورنہ اپنی بہن کے لیۓ اچھا سا گفٹ لاتا مبین پیسے زبردستی پکڑ واتے ہوئے بولا
لائبہ نے مسکراتے ہوئے پیسے لے لیۓ
قاسم کو بہت شرم آرہی تھی
کیونکہ اس کے کپڑے بہت گندے ہوئے تھے
اور گندے ہونے بھی چاہیۓ تھے کیونکہ ساری رات مجنوؤں کی طرح سمندر کے پاس بیٹھا رہا
اور دن میں سمندر میں نہاتا رہا
💕💕
حنین نے اپنے آنسو صاف کیۓ اور نیچے زوبیہ صاحبہ کے روم میں آگئی
جہاں بچے اپنا ہوم ورک کر رہے تھے
حنین بیڈ پر لیٹ گئ بچو مجھے جگانا نہیں ہے اوکے
حنین نے بولتے ساتھ ہی بلینکٹ اپنے منہ پر ڈال دیا
الیاس سیدھا روم میں آیا تو حنین کہیں نہیں تھی
الیاس اسٹڈی روم میں گیا تو وہاں بھی حنین نہیں تھی
لیکن اس کا ٹوٹا ہوا فون مل گیا جو اسنے بڑی بے دردی سے توڑا تھا
الیاس تین تین سیڑیاں چھوڑتا چھلانگیں لگاتا نیچے آیا
امی الیاس نے زوبیہ کو آواز دی
جو کچن میں کام کر رہی تھی
جی بیٹا
حنین آپ کے روم میں ہے الیاس نے پوچھا
ہاں بیٹا میرے روم میں ہے کہ رہی تھی اسے کوئ جگاۓ نہ اس کی طبعیت خراب ہے اس لیۓ میں نے بچو کو بھی دوسرے روم میں بھیج دیا ہے
اوکے الیاس بول کر زوبیہ کے روم میں چلا گیا
حنین الیاس حنین کے سر پر کھڑے ہوتے ہوئے بولا
حنین نے کوئ جواب نہیں دیا بس اپنی آواز کو دبا رہی تھی
حنین رونے کی ضرورت نہیں ہے
الیاس نے بولتے ساتھ ہی حنین کے چہرے سے بلیکنٹ ہٹایا
حنین نے غضب ناک آنکھوں سے الیاس کی طرف دیکھا
حنین یار یہ کیا کر رہی ہو الیاس پریشانی سے بول کر حنین کے پاس بیٹھا
دور ہو جائیں الیاس حنین چیختے ہوئے بولی
اور ایکدم کھڑی ہوگئ
الیاس نے بنا کچھ کہے اس کو گود میں اٹھایا
اور گھر کے بیک سائیڈ سے بالکونی میں لے گیا الیاس چھوڑیں مجھے حنین نیچے اترنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن الیاس نے نہیں اتارا بہرا بن کر اسے لے کر جا رہا تھا
حنین نے زور سے الیاس کے ہاتھ پر اپنے ناخون مارے لیکن الیاس ٹس سے مس نہیں ہوا
حنین الیاس کے سینے پر مکے مارتے ہوئے رونے لگ گئ
الیاس جیسے ہی بالکونی میں آیا تو اسے نیچے اتارا
حنین کی آنکھیں رو رو کر لال ہوگئ تھی
کافی دیر تک دونوں میں خاموشی تھی
حنین نے اپنے آپ کو بالکونی سے ایکدم نیچے گرایا
💕💕
آدم سب سے باتوں میں مصروف تھا قاسم سے تو دنیا جہاں کے سوال کر دیۓ تھے
کے تم نے کتنا پڑا ہے نشہ تو نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ
قاسم جواب دے دے کر تھک گیا تھا مبین جیسے ہی جانے لگا تو قاسم نے اسے پکڑ کر واپس بٹھایا
آدم کو کال آئ تو وہ ان دونو کو ایسکیوز کر کے باہر نکل گیا
مبین یار لائبہ سے بات کرنی ہے قاسم بولا
یہ تو کیا بکواس کر رہا ہے مبین عثمان صاحب کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا
کیونکہ وہ ان دونوں ہی کی طرف دیکھ رہے تھے
ہاں نہ یار کچھ کر میرا اچھا بھائ ہوگا قاسم منت والے انداز میں بولا
چل نکل ادھر سے بھاگ اس کا بھائ دیکھا ہے ابھی اتنے سوال کر کے پکا گیا ہے مجھے
اللہ نہ کرے اگر اسے پتہ چلا میں نے تیری اور لائبہ کی ملاقات کروائی ہے تو وہ میری ہڈیاں توڑ دے گا
مبین ڈرتے ہوئے بولا
یار تو کیوں ڈر رہا ہے تو تو اتنا بہادر ہے دیکھ نہ اپنے ڈولے قاسم مبین کی باڈی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
یہ ڈولے میں نے اپنی سیفٹی کے لیۓ بنائیں ہیں کسی کی پٹائ کے لیۓ نہیں سمجھا
اور سنا تو ہوگا
Safety is the first priority
حفاظت پہلی ترجیح ہے
مبین بولا
چل میرے باپ اگر پتہ چل گیا تو میں کہ دوں گا اسنے تو کچھ نہیں کیا
میں نے کیا ہے سب کچھ بس قاسم بولا
اوکے دیکھتے ہیں کچھ مبین نخرے دکھاتے ہوئے بولا
دیکھ نہیں کر کچھ قاسم بولا
💕💕
الیاس حنین کو ہی دیکھ رہا تھا اور وہ جانتا تھا وہ ایسی حرکت لازمی کرے گی اس لیۓ پہلے سے ہی وہ الرٹ تھا
حنین جیسے ہی بالکونی سے کودی الیاس نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
اب وہ تین منزلہ عمارت سے نیچے لٹک رہی تھی
چھوڑ دوں الیاس بولا
چھوڑ دیں حنین روتے ہوئے بولی
الیاس نے حنین کو بازو سے پکڑ کر اوپر کیا اور ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پر مارا
یہ سب کر کے تمہیں کیا لگتا ہے تم بہت وفادار اور محبت کرنے والی بیوی ہو
الیاس غصے سے بولا
اگر میں وفادار نہیں تو دھوکے باز بھی نہیں ہوں الیاس میں نے پہلے بھی کہا تھا میں کھلی کتاب کی مانند ہوں آپ کے سامنے حنین اپنی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لیتے ہوۓ بولی
آپ تو دھوکے باز ہیں جھوٹے ہیں
کیا دھوکہ کیا ہے میں نے تمہارے ساتھ الیاس ہاتھ باندھتے ہوئے غصے سے بولا
میں کیا بتاؤں آپ خود کیوں نہیں بتاتے حنین لال ہوتی آنکھوں سے بولی
الیاس نے لمبا سانس لیا اور بولنا شروع کیا
💕💕
(ماضی)
الیاس تمہارا بی کوم مکمل ہوگیا ہے آگے کیا کرو گے
زوبیہ الیاس کے کمرے میں آتے ہوئے بولی
جہاں ایک چھوٹا سا بیڈ پڑا تھا اور مشکل سے ایک کمپیوٹر رکھا تھا
امی آگے پڑھنے کے لیۓ پیسو کی بھی تو ضرورت ہے
الیاس پریشانی سے بولا
بیٹا کتنے پیسے چاہیۓ زوبیہ صاحبہ بولی
امی اب تھوڑے پیسو سے داخلہ نہیں ہوگا اب مجھے یونی ورسٹی جانا
جہاں سمسٹر وائیس فیس دینی ہوتی ہے جو لاکھوں کے حساب سے ہوتی ہے
الیاس ٹینشن سے بولا
بیٹا اب کیا کریں تمہاری پڑھائی بھی تو آدھی نہیں چھوڑ سکتے زوبیہ صاحبہ بولی
امی یہ سال ضائع کرنا ہوگا کوئ جاب ڈھونڈو گا پھر فیس جمع کر کے اگلے سال ایڈمیشن لوں گا
الیاس سوچتے ہوئے بولا
الیاس اس سے تو نقصان ہے تمہارا زوبیہ صاحبہ پریشانی سے بولی
ویسے میں نے نائیٹ ڈیوٹی کی جابز آپلائی کی ہیں
اگر مل گئ تو یہ سال ضائع نہیں ہو گا الیاس بولا
اللہ تعالیٰ میرے بیٹے کی مدد کرے زوبیہ صاحبہ دعا کرتے ہوئے بولی
امین الیاس بولا
💕💕
بابا بھائ تو دوبئ ہیں اور آپ کی رپورٹ میں آیا ہے آپ کو شوگر ہے
اس لیۓ فیکٹری میں جایا کروں گی اوکے
نایاب اپنے بابا سے بولی
بیٹے آپ کیا کرو گی جاکر
بابا میں سب پر نظر رکھوں گی ایسے نایاب اپنی آنکھیں تیڑھی کرتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی ہنسنے بھی لگ گئ
اگر ایسے نظریں میری بچی رکھے گی تو جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے رفاق صاحب مسکراتے ہوئے بولیں
مزاخ کر رہی ہوں نایاب دانت نکالتے ہوئے بولی
میری نایاب میری بیٹی نہیں بیٹا ہے اللہ پاک نے مجھے ایک نہیں دو دو بیٹے دیۓ ہیں رفاق صاحب بولیں
وہی تو میں بھی کہ رہی ہوں بابا
آپ سنیں میں کیا چاہتی ہوں نایاب بولی
بولو کیا چاہتی ہو رفاق صاحب بیٹھتے ہوئے بولیں
میں چاہتی ہوں میں لڑکوں کی طرح صبح جم جاؤں
وہاں اپنی باڈی بناؤں
پھر واپس آکر یونی جاؤں
یونی میں میں کلاس اٹینڈ کر رہی ہوں اور آپ کی کال آجاۓ کے جلدی آو کام ہے تم سے
پھر میں اپنی پڑھائی چھوڑ کر بائیک پر کک مار کر آپ کے پاس پہنچ جاؤں
آپ کی پروبلم ختم کروں
پھر میں دوستوں کے ساتھ رات دیر تک باہر پھروں
آپ مجھے کال کر کے گھر بلائیں اور میں آپ کو یہ کہ کر ٹھگاؤ کے بس آنے والی ہوں
اور آپ میرا ویٹ کریں ساتھ ساتھ ماما کو بھی ڈانٹیں کے تم نے اپنے بیٹے کو اتنی چھوٹ دی ہے اس لیۓ وہ باہر آوارہ گردیاں کر رہا ہے ۔
ہاۓ بابا میرے نکے نکے خواب نایاب دونوں ہاتھوں کو چہرے پر رکھتے ہوئے بولی
سب سے پہلے آپ اتنی پتلی ہیں آپ کو جم کی ضرورت نہیں
دوسرا آپ کے پاس کار ہے جب دل چاہے آپ جہاں جا سکتی ہو اور تیسرا اب آپ فیکٹری بھی جاؤ بس خوش رفاق صاحب بولیں
نایاب نے ایکدم چیخ ماری ریلی بابا نایاب گھومتے ہوئے بولی
جی بلکل رفاق صاحب کھڑے ہوتے ہوئے بولیں
رفاق اب آپ اس کو فیکٹری کیوں بھیج رہے ہیں شمسہ روم میں آتے ہوۓ بولی
جانے دو بیگم
وہاں اور بھی بہت ساری لڑکیاں ہیں
اور اپنی ہی فیکٹری ہے کون سا میں اپنی بیٹی کو کسی اور کی فیکٹری میں بھیج رہا ہوں
دیکھ لیں جعفر سے بھی پوچھ لیں یہ نہ ہو وہ غصہ ہو جاۓ شمسہ بولی
اس کی اتنی ہمت نہیں ہے کے میرے ہوتے ہوئے وہ میری بیٹی کو کچھ کہے رفاق ایک دم غصے میں آتے ہوئے بولا
ایک منٹ بابا ابھی پوچھ لیتی ہوں بھائ سے بھی
نایاب فون نکالتے ہوئے بولی
بل جارہی تھی
اور ساتھ ہی جعفر نے کال ریسیو کر لی
ہیلو اسلام علیکم
وعلیکم اسلام کیسے ہیں بھائ آپ
میں ٹھیک میری گڑیا کیسی ہے جعفر بولا
میں ٹھیک ہوں بھائ
بھائ میں بابا کی فیکٹری جانا چاہتی ہوں ماما کا کہنا ہے کے آپ سے بھی پرمیشن لے لوں
میری پرمیشن کی کیا ضرورت ہے اگر آپ کو جانا ہے تو جاؤ جعفر پیار سے بولا ۔
دیکھا نایاب اپنی ماما کو دیکھتے ہوئے بولی
اوکے تھینکیو اللہ حافظ نایاب بولی
اوکے گڑیا جعفر نے بولتے ساتھ ہی کال کاٹ دی
آپ بھی نہ ماما نایاب بول کر فیکٹری چلی گئ
💕💕
اس فیکٹری میں تقریباً پانچ سو بندے کام کرتے ہیں
اس فیکٹری میں کاسمیٹک کی پیکنگ ہوتی ہے
نایاب فیکٹری آئ تو سارے لوگوں نے اسے سلام کیا اور اس کے بابا کا اسسٹنٹ اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا
انکل لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ کام کرتی ہیں
نایاب بولی
جی بیٹا ایک ساتھ کرتی ہیں اسسٹنٹ بولا
اوکے نایاب پوری فیکٹری میں راؤنڈ لگا رہی تھی
یہ فیکٹری ایک منٹ کے لیۓ بھی بند نہیں ہوتی یہاں دن کی الگ سے ڈیوٹی ہوتی ہے اور رات کی الگ
اور رات شفٹ کے لیۓ بھی کافی لڑکے اور لڑکیاں انٹر ویو دینے آۓ ہوۓ تھے ۔
جنہیں ابھی نایاب نے دیکھ کر رکھنا تھا
میڈم آپ آجائیں اور بھی بہت سارے لوگ آئیں ہوۓ ہیں جاب کے لیۓ آپ دیکھ لیں انہیں اگر آپ کو جو اس جاب کے لیۓ ٹھیک لگتا ہے تو رکھ لیں
انکل مجھے میڈم نہیں کہیں نایاب کہیں اتنا اچھا نام تو ہے میرا نایاب منہ بنا کر بولی
اچھا نایاب میڈم اسسٹنٹ مسکراتے ہوئے بولا کیونکہ وہ چالیس سال کے قریب کا تھا
یہ میڈم میڈم نہ بولیں اچھا نہ نایاب غصے سے بولی
ٹھیک ہے آج سے نہیں بولوں گا اسسٹنٹ مسکراتے ہوئے بولا
💕💕
الیاس کب سے باہر ویٹ کر رہا تھا انٹر ویو کے لیۓ لیکن اس کا نمبر ہی نہیں آرہا تھا
ایسکیوز می الیاس ایک آدمی کو بولا
جس کے ہاتھ میں چھوٹے چھوٹے ڈبے کافی سارے تھے
میرا نمبر کب آۓ گا انٹر ویو کے لیۓ
آنے والا ہوگا آپ ویٹ کرو آدمی بول کر واپس چلا گیا
الیاس واپس بیٹھ گیا
الیاس اپنے گھر کی غربت سے تنگ آگیا تھا کیونکہ پیدا ہوتے ساتھ ہی اس نے غربت دیکھی تھی اور ابھی تک دیکھ رہا تھا
آپ پانچ بندے آجائیں اندر آدمی باہر آتے ہوئے الیاس اور چار اور لڑکوں لڑکیوں سے بولا
جی الیاس کے ساتھ اور بھی لڑکے لڑکیاں کھڑے ہوۓ
الیاس اندر آیا تو نایاب اے سی والے روم میں بیٹھی ہوئی تھی اور چہرے پر خوبصورتی سے ہجاب کیا ہوا تھا
نایاب نے جب الیاس کی آنکھیں دیکھی تو اسے کافی اٹریکٹ کی
نایاب جو جو سوال کر رہی تھی الیاس سے وہ اس کا جواب آنکھیں نیچے کیۓ دے رہا تھا
آپ سب آج سے نائیٹ ڈیوٹی پر آ جایۓ گا
نایاب پانچوں کو سلیکٹ کرتے ہوئے بولی
تھینک یو الیاس بول کر کھڑا ہوا ۔
اور جیسے باہر نکلا تو جولائ کی گرمی اس کے بدن پر لگی
اللہ کرے باش ہی ہو جاۓ اتنی گرمی ہے الیاس پیدل چلتے ہوئے گھر جارہا تھا
جاری ہے
