No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
امی مجھے نوکری مل گئ ہے
الیاس گھر آیا تو اس امی نماز پڑھ رہی تھی
زوبیہ نے سلام پھیرا تو الیاس کو دیکھ کر مسکرائی اللہ میرے بچے کو کامیابیاں دیں
امین امی مجھے بہت بھوک لگی ہے الیاس ٹی وی لگاتے ہوئے بولا
بس دو رکعت نماز کی رہ گئ ہے ادا کر لوں پھر تمہیں کھانا دیتی ہوں
زوبیہ صاحبہ بول کر کھڑی ہوئ
امی ابو نہیں آئیں ابھی تک الیاس بولا
ہاں بیٹا بس آنے والیں ہیں انہوں نے کال کی تھی
اچھا چلیں کھانا انہی کے ساتھ کھاؤں گا الیاس بولا
ہمم زوبیہ نے رکعت باندھ لی
💕💕
الیاس کی رات والی ڈیوٹی نو بجے شروع ہو جانی تھی
اس لیۓ وہ گھر سے آدھا گھنٹہ پہلے نکل گیا تھا
اور اب وہ اپنے ٹائیم میں پہنچ گیا تھا
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے
نایاب کونے میں بیٹھی سبھی کو دیکھ رہی تھی
اس لیۓ الیاس نایاب کے پاس چلا گیا
میم میں نے کیا کرنا ہے الیاس نایاب سے بولا
آپ نے نایاب سوچتے ہوئے بولی
ہممم آپ ایسا کریں راؤنڈ لے پوری فیکٹری میں اوکے نایاب الیاس سے بولی
اوکے الیاس بول کر چلا گیا
💕💕
بیگم ہمارا الیاس بہت محنتی لڑکا ہے اب اس کے لیۓ کوئ لڑکی دیکھتے ہیں
الیاس کے ابو بلال صاحب بولیں
میرا بیٹا ایک بار اپنی پڑھائی مکمل کر لے پھر اچھی سی نوکری میں لگ جائے گا
اس کے بعد میں اپنے بیٹے کے لیۓ کوئ اچھی سی لڑکی دیکھوں گی زوبیہ صاحبہ سوچتے ہوئے بولی
اچھا ویسے الیاس کی عمر کا میں تھا تو میں نے شادی کر لی تھی بلال صاحب بولے
مجھے پتہ ہے بلال زوبیہ صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
💕💕
الیاس کو کام کیۓ تین ماہ سے زیادہ ہو گیا تھا
پہلے تو وہ یہ بات محسوس کر رہا تھا کے نایاب اسے پسند کرتی ہے
لیکن اب یقین ہوگیا تھا کیونکہ نایاب نے بنا لگی پٹی کے الیاس کو بتا دیا تھا
الیاس یہ نوکری چھوڑنا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے اسے ایک اور نوکری ڈھونڈنی تھی
نایاب کی بچپن سے عادت تھی اسے جو اچھا لگے یہ برا وہ منہ پر ہی بول دیتی تھی
الیاس بھی اسے پسند تھا اس لیۓ اسے بتا دیا
انکل الیاس کو اندر بیجھے نایاب اسسٹنٹ سے بولی
جی اسسٹنٹ باہر چلا گیا۔
آپ کو میم صاحبہ بلا رہی ہیں اسسٹنٹ الیاس سے بولا
جو چئیر پر بیٹھا گیم کھیل رہا تھا
اچھا الیاس گیم کو اسٹوپ کر کے کھڑا ہوا پھر نایاب کے روم میں چلا گیا
💕💕
نایاب اپنا سر ٹیبل پر رکھے شاہید رو رہی تھی
میم میں آۓ کمن الیاس بولا
نایاب نےتھوڑا سا سر اٹھا کر اندر آنے کا اشارا کیا
یس میم کوئ کام تھا
الیاس نایاب کو دیکھتے ہوئے بولا
الیاس اپنے پرنٹس کو میرے گھر بھیجو میرے رشتے کے لئے کیونکہ میرے بابا بھائ سے ڈسکس کر رہے تھے میرے رشتے کے بارے میں
لیکن میم میں کیوں رشتہ بھیجوں آپ کے گھر الیاس پریشانی سے بولا
الیاس میرے سامنے معصوم نہیں بنو میں جانتی ہوں تم بھی مجھے پسند کرتے ہو نایاب کھڑے ہوتے ہوئے بولی
دیکھیں میم میں آپ کو بتا رہا ہوں
میرے اور آپ کے سٹیٹس میں بہت فرق ہے
بلکے بہت نہیں زمین آسمان کا فرق ہے آپ کے گھر والے کبھی نہیں مانیں گیں الیاس بولا
الیاس تم مجھے پسند کرتے ہو نہ نایاب الیاس کو دیکھتے ہوئے بولی۔
الیاس خاموش تھا نہ ہاں کا جواب دیا اور نا ہی نہ کا جواب دیا
الیاس ہمارے اسلام نے ہمیں اجازت دی ہے
ہم اپنی پسند کی شادی کریں اور رہی بات اسٹیٹس کی تو ایک دن تمہارا اسٹیٹس بھی اچھا ہو جائے گا بس محنت کرنی ہے وہ تم اور میں مل کر کریں گیں
نایاب الیاس سے بولی
نایاب آپ کے پرنٹس نہیں مانیں گیں میں ہنڈریڈ پرسنٹ کہ رہا ہوں الیاس نے پھر سے وہی بات دہرائی
الیاس تم مجھے پسند کرتے ہو یا نہیں بس اتنا بتاؤ نایاب دھڑکتے دل سے بولی
الیاس نے نایاب کی طرف دیکھا اور ہاں میں گردن ہلائی
نایاب نے اپنے آنسو صاف کیۓ اور مسکرانے لگی
بس آج ہی اپنے پرنٹس کو بھیج دو میرے گھر
اور میں اپنے گھر والوں کو منا لوں گی نایاب بیگ اٹھاتے ہوئے بولی۔
کہاں جا رہی ہو الیاس نایاب سے بولا۔
گھر اپنے ماما بابا کو منانے اور تم بھی جاؤ نایاب بول کر نکل گئ
الیاس کو کافی ٹینشن ہو رہی تھی کے اب آگے کیا ہوگا
💕💕
امی مجھے ایک لڑکی پسند ہے الیاس نے گھر آتے ساتھ ہی بتا دیا
اچھا کون ہے زوبیہ صاحبہ ماتھے پر سلوٹیں لاتے ہوئے بولی
امی آپ کو کیا ہو گیا ہے الیاس اپنی امی کو دیکھتے ہوئے بولا
اس کو چھوڑو الیاس اپنے ابو کو بتاؤ کون ہے وہ لڑکی بلال صاحب مسکراتے ہوئے بولیں کیونکہ وہ بھی الیاس کی شادی ابھی کروانا چاہتے تھے
ابو میں جس فیکٹری میں کام کرتا ہوں
اس فیکٹری کے مالک کی بیٹی ہے الیاس بولا
بیٹا اتنے بڑے لوگوں میں ہم کیسے رشتہ کریں گیں اور وہ ہمیں رشتہ دیں گیں بھی نہیں اپنی بیٹی کا سمجھ گۓ
اس لیۓ ہم وہاں بلکل نہیں جائیں گیں
بلال صاحب صاف انکار کرتے ہوئے بولے
لیکن ابو آپ ایک دفعہ جائیں تو الیاس بول ہی رہا تھا بلال صاحب پھر بول پڑے
الیاس اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہیے سمجھے بلال صاحب غصے سے بولیں
ابو یہ کیا کہ رہے ہیں آپ ساری زندگی تو میں ایسا نہیں رہوں گا ایک دن ایسا آۓ گا میرے بھی دن اچھے ہونگیں الیاس غصے سے بولا
الیاس صاحب کیوں ہماری عزت رشتے داروں اور محلے میں ختم کر رہے ہو
کیوں ایسی لڑکی کو لا رہے ہو جو ہمارے گھر نہیں رہ سکتی بلال صاحب بولیں
میں شادی اسی سے کروں گا اور آپ لوگ ابھی جائیں گیں اس کے گھر الیاس بولا
بلال صاحب بولنے ہی والے تھے جب زوبیہ بول پڑی
چلے جاتے ہیں بلال ایک دفعہ جانے میں کوئی حرج تو نہیں ہے زوبیہ بولی
بلال صاحب خاموش ہو گئے
💕💕
بابا نایاب اندر آتے ہوئے بولی
کیا ہوا رفاق صاحب بنا کسی لاڈ پیار کے بولے
کیونکہ وہ اچھے سے جانتے تھے ان کی بیٹی آج کل کیا کیا کام کر رہی ہے اور ابھی کیا کہنے آئ ہے
بابا آپ سے بات کرنی ہے نایاب رفاق صاحب کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی
بولو بھی رفاق صاحب بولیں
بابا میں ایک لڑکے کو پسند کرتی ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتی ہوں نایاب بولی
کون ہے وہ لڑکا اور کیا کرتا ہے رفاق صاحب اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولیں
بابا وہ ہماری ہی فیکٹری میں کام کرتا ہے اور پڑھتا بھی ہے
پڑھائی جیسے مکمل ہو جاۓ گی تو اچھی سی کرے گا
نایاب آپ کو اتنی محنت سے بڑا نہیں کیا کے کسی بھی
بھیکاریوں کے گھر دے دوں سمجھیں اس لیۓ اپنی پیکنگ کرو آپ کو آپ کے بھائ کے پاس بھیجوں گا رفاق صاحب بول کر روم سے نکل گۓ
نایاب بیٹھی نہیں اٹھ کر اپنی ماما کے پاس گئ
جہاں الیاس کے امی ابو بیٹھے ہوئے تھے
نایاب نے انہیں سلام کیا
اور اپنی ماما کی طرف دیکھا کے اکیلے میں بات کرنی ہے
اس لیۓ شمسہ صاحبہ اٹھ کر نایاب کے ساتھ باہر آگئ
لیکن ان کے نکلتے ساتھ ہی رفاق صاحب اندر آئیں
اسلام علیکم بلال صاحب اور زوبیہ صاحبہ کھڑے ہوتے ہوئے بولیں
رفاق صاحب نے صرف اپنا سر ہلایا اور شہنشاہوں کی طرح صوفے پر بیٹھیں
بلال صاحب کو بہت برا لگا لیکن الیاس کے لیۓ یہ بھی برداشت کر لیا
بلال اور زوبیہ جیسے صوفے پر بیٹھنے لگے تو رفاق بولا
کھڑے ہو کر بولو جو بھی بولنا ہے تم لوگوں کو رفاق غرور اور اکڑ دیکھاتے ہوئے بولا
بلال نے زوبیہ کو دیکھا
بلال کی آنکھوں میں دکھ اور افسوس کے علاؤہ کچھ نہیں تھا
💕💕
ماما آپ بابا کو سمجھاۓ وہ اس رشتے کے لیۓ ہاں کردیں
ماما الیاس بہت اچھا لڑکا ہے اور انشاللہ فیوچر میں سب سے زیادہ کامیاب انسان ہوگا نایاب شمسہ کو سمجھاتے ہوئے بولی
دیکھو نایاب میں تمہارے فیصلے میں کوئ بات نہیں کر سکتی کیونکہ تمہارے بابا نے سختی سے منع کیا ہے
اور بیٹا تمہارے بابا الیاس سے اچھی جگہ تمہاری شادی کا سوچ رہے ہیں
اور وہ تمہارے لیۓ کچھ برا نہیں سوچ رہے ہیں سمجھیں
ماما آپ لوگوں کو بس اپنے بزنس کی پڑی ہے اور کچھ بھی نہیں
جہاں آپ لوگ میری شادی کا سوچ رہے ہیں اس جگہ بھی بابا کا بزنس ہے
آپ لوگ مجھے بیچ کر اپنے بزنس کی سودا بازی کر رہے ہیں نایاب روتے ہوئے بولی
بیٹا ہم کوئ سودا بازی نہیں کر رہے شمسہ صاحبہ سمجھاتے ہوئے بولی
رہنے دیں ماما میں نے اپنے کانوں سے سنا تھا بابا کو بات کرتے ہوئے
کے اگر وہ نایاب کا رشتہ یہاں دیں گیں تو انہیں بہت فائیدہ ہوگا بزنس میں
اور وہی فائیدہ حاصل کرنے کے لیۓ بابا مجھے بیچ رہے ہیں نایاب روتے ہوئے بولی
💕💕
ہمارے بچے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اسی سلسلے سے بات کرنے آئیں ہیں بلال صاحب بولیں
اگر میں تم دونوں کو اس صوفے پر بیٹھنے نہیں دے سکتا تو کیا اپنی بیٹی دوں گا
اوقات دیکھی بھی تم لوگوں نے اپنی جتنا تم لوگ مہینے کا کھاتے ہو اتنا روز میری بیٹی کی گاڑی میں پٹرول جاتا ہے
خود تو ایک جھونپڑی میں رہتے ہو
اب میری بیٹی کو لے جاکر مجھ سے پیسے ہڑپنے چاہتے ہو
میں اچھے سے جانتا ہوں تم جیسے لوگوں کو
نکلو میرے گھر سے رفاق صاحب نے آج بلال صاحب کو وہ وہ باتیں سنائیں تھی
جو بلال صاحب کی ساتھ نسلوں نے بھی نہ سنی ہو
آج انکے دل میں درد آیا تھا کے غریبی اتنی بری چیز تو نہیں جتنی اس دنیا کے لوگوں نے بنائ ہے
بلال صاحب بنا کچھ بولے باہر نکل گۓ
زوبیہ جیسے باہر نکلنے لگی تو رفاق بولا
او بیبی اپنے بیٹے پر پٹا ڈال کر رکھ اگر میں نے ڈال دیا تو ساری زندگی شکل دیکھنے کے لیۓ ترس جاؤ گے رفاق غصے سے بولا
زوبیہ بنا کچھ کہے باہر نکل گئ
💕💕
الیاس بیٹھا انتظار کر رہا تھا بلال اور زوبیہ کا لیکن وہ ابھی تک نہیں پہنچے تھے
💕💕
زوبیہ باہر آئ تو بلال کونے میں کھڑا تھا
زوبیہ اس کے قریب گئ
بلال اگر الیاس کو پتہ چلا کے لڑکی کے والد نے ایسی باتیں کی ہے تو وہ ضرور کچھ غلط کرے گا زوبیہ پریشانی سے بولی
اس کو کہ دینا انہوں نے انکار کر دیا تھا ہم نے بھی منت وغیرہ نہیں کی اس لیۓ آگۓ
لیکن بلال اس طرح تو الیاس ہم لوگوں کو برا سمجھے گا زوبیہ بلال کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بولی
زوبیہ یہ بڑے لوگ ہیں اگر میرے بیٹا ان کے ساتھ الجھا تو نقصان ہمارا ہوگا
اس لیۓ ہم برے بن بھی جائیں تو کچھ نہیں ہوگا بس اس کے سر سے عشق کا بھوت اتر جائے بلال صاحب بولیں
صحیح کہ رہے ہیں آپ زوبیہ پریشانی سے بولی
💕💕
الیاس
نایاب الیاس کو کال کرتے ہوئے بولی
بولا نایاب کیا ہوا
الیاس ہم دونوں کورٹ میرج کر لیتے ہیں نایاب ہلکی سی آواز میں بولی
نایاب تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا کدھر
الیاس غصے سے بولا
الیاس سمجھنے کی کوشش کرو میرے گھر والے اتنی آسانی سے نہیں مانیں گیں
اور تم دیکھ لینا وہ کل پہلی فرصت سے ہی مجھے یہاں سے بھائ کے پاس بھیج دیں گیں نایاب روتے ہوئے بولی
نایاب اس طرح بات اور بگڑ جاۓ گی الیاس نایاب کو سمجھاتے ہوئے بولا
الیاس نہیں بگڑتی بات
ہم نکاح کر کر سیدھا گھر آجائیں گیں اور تم دیکھ لینا میرے بابا کچھ نہیں کہیں گیں کیونکہ وہ مجھے سب سے زیادہ پیار کرتے ہیں
وہ ہمیں معاف بھی کردیں گیں نایاب الیاس سے بولی
نایاب میرے پرنٹس تمہارے گھر رشتہ لارہے ہیں
رشتہ مانگنے کے لیۓ
اگر تمہارے بابا نے رشتے سے منع کردیا تو میں اور تم کورٹ میرج کر لیں گیں اوکے
اوکے نایاب بولی
الیاس میں تمہیں ایڈریس سینڈ کر رہی ہوں جہاں تمہیں میں رات کو ملوں گی نایاب بولی
اوکے
💕💕
امی آگئ آپ الیاس زوبیہ کو دروازے پر آتا دیکھ کر بولا
ہممم زوبیہ بولی
امی کیا ہوا الیاس زوبیہ کو دیکھتے ہوئے بولا
انکار کر دیا ہے انہوں نے پھر ہم سے منت سماجت نہیں ہوئ اس لیۓ آگۓ
امی آپ کو نایاب کے گھر والوں کو فورس کرنا چاہیۓ تھا منت کرنی چاہیے تھی ان کو سمجھانا چاہیۓ تھا الیاس غصے سے بولا
نہیں ہوتی ہم سے منتیں وغیرہ یہ عشق کا بھوت اتارو اور اپنے کام اور پڑھائ پر توجہ دو
آپ لوگوں سے زندگی میں پہلی بار ایک کام کہا تھا افسوس ہے آپ لوگوں نے وہ بھی نہیں کیا
الیاس بول کر اپنے کمرے میں گیا
اور کپڑے وغیرہ بیگ میں ٹھونسے
کدھر جارہے ہو الیاس
زوبیہ الیاس کے پیچھے آتے ہوئے بولی
جہنم الیاس غصے سے بول کر گھر سے نکل گیا
💕💕
نایاب رات کو سونے کے بہانے سے اپنے روم میں آئ
اور کچھ پیسے اپنے بیگ میں رکھے
اور کچھ بھی اپنے ساتھ نہیں لیا
اور خاموشی سے سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی
اور آگے پیچھے دیکھ رہی تھی
وہ جیسے ہی رفاق کے کمرے سے گزرنے لگی تو اسے رفاق کی آواز آئ
جعفر میں نایاب کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں
وہاں پر نایاب کے آتے ساتھ ہی تم اس سے نکاح کر لو
یہ بات سننے کی دیر تھی نایاب کے پاؤں تلے زمین نکل گئی
اور وہ بنا دیر لگاۓ وہاں سے بھاگ گئ
💕💕
الیاس اور نایاب نے کورٹ میرج کر لیا تھا
الیاس نے نکاح کے بعد پہلی بار نایاب کو اپنے گلے سے لگایا تھا
نایاب الیاس کے گلے لگ کر رونے لگ گئ تھی
نایاب رو کیوں رہی ہو الیاس نایاب کو دیکھتے ہوئے بولا
الیاس بابا فون پر جعفر بھائ سے کہ رہے تھے
کے تم نایاب سے نکاح کر لو نایاب روتے ہوئے بولی
نایاب تم غلط سنا ہوگا بھائ کا نکاح تم سے اللہ معاف کرے الیاس توبہ کرتے ہوئے بولا
اللہ کرے ایسا ہی ہو نایاب اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی
💕💕
الیاس نے رینٹ پر گاڑی لی تھی
ابھی اسی سے وہ دونوں نایاب کے گھر جارہے تھے ۔
نایاب نے بیکری دیکھی تو الیاس کو گاڑی روکنے کا کہا
الیاس جاؤ سویٹس لے آؤ اب نکاح ہوا آیسے تو بابا اور ماما سے مل تو نہیں سکتے نہ
اوکے الیاس مسکراتا ہوا اترا اور بیکری کی طرف جانے لگا جب نایاب نے پھر آواز دی
پانی کی بوتل بھی لے آنا بہت پیاس لگی ہے نایاب عجیب سا منہ بناتے ہوئے بولی
اچھا جی
نایاب آج خوش بھی تھی اور اداس بھی تھی
کیونکہ ماں باپ کی نافرمانی کر کے اس نے یہ قدم اٹھایا تھا
الیاس نے کافی ساری چیزیں کھانے کی لی
اور بیکری سے نکلا
نایاب اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی
الیاس بھی مسکراتے ہوئے کار کے پاس آرہا تھا
کہ ایک بس فل اسپیڈ سے چلتے ہوئے الیاس کی گاڑی کو ٹکر ماری
الیاس کی گاڑی کے پیچھے کھڑی گاڑی کے ساتھ بلکل پس گئی تھی
ایکدم سے سارے لوگ جمع ہوگۓ تھے
الیاس ساری چیزیں پھینکتا ہوا بھاگ کر آگے آیا
اور گاڑی کے دروازے کو کھولا اور اس کے ساتھ ہی کچھ آدمیوں نے الیاس کی مدد کی
الیاس نے نایاب کو جیسے باہر نکالا تو
ایک آدمی اپنی گاڑی لے کر آگے ہوا۔الیاس نے فٹافٹ نایاب کو اس گاڑی میں ڈالا
💕💕
دیکھیں پیشنٹ کی حالت ابھی سیریس ہے اگر وقت پر سرجری نہ ہوئ تو ان کی جان خطرے میں جاسکتی ہے آپ کچھ بھی کریں اور ان کی سرجری کروانے کے لیۓ رقم ادا کرے
ڈاکٹر کھڑا سامنے الیاس سے بول رہا تھا
ڈاکٹر آپ سرجری کریں میں پیسوں کا بندوبست کرتا ہوں
دیکھے سر آپ جب تک پیمنٹ نہیں کریں گیں تب تک ہم کچھ نہیں کر سکتے
ڈاکٹر کہ کر چلا گیا
یااللہ میں کیا کروں الیاس بے بسی سے زمین پر بیٹھ کر اپنے اللہ سے بات کرنے لگا اور خودبخود ایک آنسوں اس کی گال پر گرا
الیاس نے اپنا فون نکالا اپنے ایک دوست کو کال کی کے اسے ارجنٹ پیسے چاہیۓ
تو الیاس کے دوست نے کہا اس کے پاس نہیں ہے
الیاس نے کافی اور لوگوں سے بھی کونٹیکٹ کیا
تو سب نے یہی کہا ان کے پاس پیسے نہیں ہے
ایک بندے نے کہا پیسے ہیں لیکن پانچ ہزار ہے
اس سے تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا اس لیۓ الیاس نے اس سے نہیں لیۓ
کافی دیر سوچنے کے بعد الیاس جیسے باہر جانے کے لیۓ کھڑا ہوا تو سسٹر نے الیاس کو آواز دی
جی الیاس سسٹر کو دیکھتے ہوئے بولا
آپ کے پیشنٹ کی طبعیت بہت خراب ہوگئ ہے
اور اب تو سرجری بھی پوسیبل نہیں ہے اس لیۓ آپ جلدی سے اندر آئیں پیشنٹ کو دیکھ لیں
سسٹر بول کر واپس آئ سی یو میں چلی گئ
الیاس بھی بھاگتا ہوا نایاب کے پاس گیا
جب وہ اندر آیا تو وہ بلکل ختم ہوئ تھی بلکل بھی اس میں جان باقی نہیں تھی
الیاس جیسے اس کے پاس آیا تو اسکی ڈیتھ ہوگئ تھی
یعنی وہ آخری دفعہ اس سے بات بھی نہیں کر سکی اور نہ ہی پانی کا ایک گھونٹ بھی پی سکی
یہی پچھتاوا الیاس کو ساری زندگی تھا کے کاش وہ اسے پانی پلا دیتا
💕💕
حنین جیسے جیسے الیاس کے منہ سے نایاب کے بارے میں سن رہی تھی
وہ اتنا ہی رو رہی تھی جب کے الیاس کی صرف آنکھیں ہی لال ہوئ تھی
حنین اس کے بعد مجھے سمجھ آیا کے پیسے کے بغیر انسان کی کوئ اوقات نہیں ہے
پھر میں نے دوبئ میں اپنا ایک مقام بنایا جو آج تمہارے سامنے ہے الیاس بولا
حنین نے ہلکے سے سر کو ہلایا
میرے ابو نے بھی میرے لیۓ بہت کچھ کیا تھا
مجھے زندگی کے دو افسوس کبھی نہیں بھولیں گیں کبھی بھی نہیں الیاس حنین کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
ایک میرے ابو اس دنیا سے مجھ سے ناراض رخصت ہو گئے اور دوسرا نایاب کو ایک گھونٹ پانی نہیں پلا سکا
حنین نے الیاس کے کندھے پر ہاتھ رکھا
الیاس تایا ابو نے ایسا کیوں کہا تھا کے وہ جعفر سے نکاح کر لے وہ بہن بھائ ہیں نہ حنین پریشانی سے بولی
پتہ نہیں حنین میں خود نہیں جانتا یہ سچ تھا یا کان کا دھوکا الیاس پریشانی سے بولا
جی حنین بولی
الیاس آپ نے مجھ سے محبت نہیں بلکے رحم پر نکاح کیا تھا حنین روتا ہوا منہ بنا کر بولی
الیاس نے اسے اپنے سینے سے لگایا پھر بولا
اگر رحم ہی کرنا ہوتا تو کسی اور طریقے سے رحم کر لیتا نکاح نہ کرتا
الیاس حنین کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا
حنین کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے
حنین رونا بند کرو
بےشک خواہش چاند کی رکھو
مگر قبول اس کا داغ بھی کرو
جیسے کے میں الیاس مسکراتے ہوئے بولا
میں نے کب خواہش چاند کی رکھی حنین منہ بناتے ہوئے بولی
الیاس ہنسنے لگ گیا
💕💕
لائبہ اپنے روم میں بیٹھی ہوئی تھی
اور حنین کا نمبر ٹرائی کر رہی تھی لیکن وہ ابھی تک اوف جارہا تھا
حد ہے ویسے اپنا فون پتہ نہیں کہا بند کر کے بیٹھی ہوئی ہے میڈم لائبہ غصے سے بول کر کھڑی ہوئ
قاسم اور مبین آہستہ آہستہ چلتے ہوئے لائبہ کے روم کے پاس آئیں
قاسم میری بات کان کھول کر سن دس منٹ سے زیادہ ایک منٹ بھی لگایا تو ادھر ہی چھوڑ کر چلا جاؤں گا
اوکے قاسم شریفانہ انداز میں بولا
گڈ میں وہ دیکھ اس ٹیبل کے پیچھا بیٹھا ہوں مبین ٹیبل کی طرف اشارا کرتے ہوئے بولا
جیسے تیرا ٹائیم پورا ہوگا میں تجھے میسج کروں گا تو عزت سے باہر آ جائ اور اگر میسج نہ کیا تو سمجھ جائ باہر کوئ ہے
پھر باہر نہ آئ ٹھیک ہے مبین بولا
جی باس سب کچھ سمجھ آ گیا ہے قاسم مسکراتے ہوئے بولا
شاباش اب مرو اندر مبین قاسم کو اندر دھکا مارتے ہوۓ بولا
💕💕
قاسم اندر آیا تو لائبہ غصے سے لیٹی ہوئی تھی
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا اندر تو وہ آگیا ہے لیکن اب وہ لائبہ سے کہے گا کیا
لائبہ قاسم لائبہ کو دور سے آواز دیتے ہوئے بولا
لائبہ ایکدم بیڈ سے اتری تم کیا کر رہے ہو لائبہ پریشانی سے بولی
تم سے بات کرنی ہے قاسم تیز آواز میں بولا
لائبہ ڈور کر قاسم کے پاس آئ اللہ کا واسطہ ہے آہستہ بولو اور اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا
لائبہ خود بھی آہستہ سے بولی
الیاس نے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے ہٹایا اور لائبہ کو پکڑ کر اپنے قریب کیا
کس سے محبت کرتی ہو اور وہ کب آۓ گا تمہارے گھر رشتہ لے کر قاسم سنجیدگی سے بولا
کیوں بولوں لائبہ بھی سنجیدگی سے بولی
آرام سے بتا دو لائبہ ورنہ میں تیز تیز بولوں گا قاسم دھمکاتے ہوئے بولا
اچھا یار بول رہی ہوں دھمکی تو نہ دو لائبہ بولی
میں کسی سے بھی محبت نہیں کرتی وہ سب میں جھوٹ بول رہی تھی لائبہ آنکھیں نیچے کرتے ہوئے بولی۔
اچھا کیوں جھوٹ بول رہی تھی قاسم لمبا سانس خارج کرتے ہوئے بولا
تا کے تم میرے گھر رشتہ نہ بھیجو
کیوں رشتہ نہ بھیجوں قاسم نے پھر سے سوال کیا
میرا بھائ یو نو لائبہ شرمندگی سے بولی
آئ نو تمہارے بھائی کا مسلہ تھا آنٹی ہمارے ساتھ رہ بھی لیتی تو کوئ مسئلہ نہیں تھا لائبہ
قاسم خفگی سے بولا
قاسم میں یہی تو نہیں چاہتی تھی کے میری ماما تمہارے ساتھ رہے میں کیوں اپنی ماما کو کسی اور کی زمہ داری بناؤں لائبہ بولی
چلو بھئی اب تو مسلہ سولو ہوگیا ہے قاسم لائبہ کے قریب ہوتے ہوئے بولا
قاسم ہمارا نکاح نہیں ہوا اور یہ جو بھی تم کر رہے ہو یہ جائیز نہیں ہے لائبہ اپنے آپ کو چھوڑواتے ہوئے بولی
تو قاسم خود بھی شرمندگی سے پیچھے ہوگیا
💕💕
آج الیاس نے پاکستان جانا تھا مٹینگ کے سلسلے سے
حنین الیاس کی پیکنگ کر رہی تھی
ہوگئ پیکنگ الیاس جم سے آیا تو حنین سے بولا
کیونکہ الیاس کی فلائیٹ نو بجے کی تھی
ہوگئ پیکنگ حنین بیگ نیچے رکھتے ہوئے بولی
یار حنین اگر تم بھی آتی تو بہت مزہ آتا الیاس خفگی سے بولا
الیاس ڈاکٹر نے ریسٹ کرنے کو کہا ہے اور سفر پر تو بلکل بینڈ لگایا ہے حنین ہنستے ہوئے بولی
اوکے جناب الیاس بولا
💕💕
قاسم اور مبین پر ساری آفس کی زمہ داری آگئ تھی
الیاس نے دونوں کو وارنگ بھی دی تھی کے کوئ کام غلط نہیں ہونا چاہیۓ ورنہ دونوں اپنی پنشمنٹ کے لیۓ تیار رہنا
پنشمنٹ سے بچنے کے لیے دونوں خوب محنت اور لگن سے کام کر بھی رہے تھے اور کروا بھی رہے تھے
💕💕
الیاس پاکستان پہنچ گیا تھا اب اسے میٹنگ کے لیۓ نکلنا تھا
اور یہ میٹنگ اس نے انجیو کے برانچ کے ساتھ تھی
جو گاؤں والے علاقوں میں سکول کھول کر بچو کو فری میں ایجوکیشن دے رہے تھے
الیاس نے بھی ان کے ساتھ میٹنگ رکھی تا کے وہ ہر سال کا فنڈ انہیں بھیجے اور وہ بچو کو ایجوکیشن دے سکیں
💕💕
