61.1K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

حنین الیاس کو راستہ بتاتے ہوئے اپنے تایا ابو کے گھر لے گئ تھی
اور اب ان کے گھر کے سامنے کار روکی
آذان اور آذنان تو سو گۓ تھے اور الیاس نے اندر جانا نہیں تھا
جاؤ حنین اور ان کو بتا کر دس منٹ میں باہر نکلو
الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
آپ نہیں آئیں گیں اندر حنین بولی
نہیں تم جاؤ الیاس نے بول کر اسٹیرنگ پر سر رکھ دیا
اوکے حنین باہر نکل گئ
حنین اندر آئ تو سب سوۓ تھے کیونکہ کافی دیر ہوگئ تھی
حنین نے دو تین آوازیں دی لیکن باہر کوئ نہیں آیا
حنین واپس جانے کے لیۓ جیسے ہی مڑی تو رفاق صاحب نے آواز دی
حنین
اسلام علیکم تایا ابو
حنین مسکراتے ہوئے بولی
وعلیکم اسلام رفاق کوئی خاص توجہ نہ دیتے ہوئے بولا
تایا ابو کل میرا حنین بول ہی رہی تھی رفاق صاحب بول پڑے
بیٹھو رفاق خود بھی بیٹھتے ہوئے بولا
نہیں ٹائیم نہیں میرے پاس حنین ٹینشن سے بولی
بیٹھ جاؤ حنین رفاق صاحب پھر سے بولیں
حنین کو مجبوراً بیٹھنا پڑا
شادی کرلی تم نے رفاق صاحب مسکراتے بولے
جی تایا حنین بھی مسکرائی اور کل میرا ریسپشن ہے آپ نے اور تائ امی نے لازمی آنا ہے پرانی ساری باتیں میں بھول گئ ہوں میں چاہتی ہوں آپ لوگ بھی بھول جائیں ڈیڈی تو نہیں ہے اس لیۓ کل آپ کو آنا ہے اور میرے سر پر ڈیڈی کی طرح ہاتھ رکھنا ہے ۔حنین جو بھی بول رہی تھی سب دل سے بول رہی تھی
آخر رات و رات شادی کرنے کا فیصلہ کیوں کیا تم نے رفاق غصے سے بولا
مطلب حنین حیرانگی سے بولی
💞💞
بیس منٹ ہوگئے ہیں یہ لڑکی آئ نہیں امی الیاس غصے سے بولا
آجاۓ گی بات کر رہی ہو گی زوبیہ سمجھاتے ہوئے بولی
میں لے کر آتا ہوں ایسی کونسی باتیں ہے جو ختم نہیں ہو رہی
الیاس بول کر کار سے نکل گیا
💞💞
مطلب یہ کے کیا کیا گل چھلرے اڑائیں تھے تم نے اس لڑکے کے ساتھ جو مجبوراً
تم نے ہمیں بغیر بتاۓ نکاح کر لیا رفاق اونچی آواز میں بولا
پہلی بات تو یہ کے میں نے کوئ گل چھرے نہیں اڑائے
آپ کے بیٹے کی طرح حنین بھی کھڑے ہوکر غصے سے بولی
اچھا جی میں نے کیا گل چھرے اڑائیں ہیں بتانا پسند کرو گی جعفر بنا شرٹ کے باہر ہاتھ باندھے کھڑا تھا
حنین خاموش ہو گئی جبکے الیاس نے جیسے ہی حنین کو آواز دی تو رفاق کا رنگ فق سے اڑ گیا تھا الیاس کو دیکھ کر
تو میرے گھر کیا کر رہا ہے کمینے جعفر دوڑتے ہوۓ الیاس کے پاس آیا مارنے کے لیۓ
الیاس نے جعفر کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور رفاق سے بات کرتے ہوئے آہستہ آہستہ ہاتھ پیچھے لے کر جارہا تھا
پہچان تو گۓ ہونگیں آپ
اور ویسے میں سوچ نہیں سکتا تھا کے ہماری ملاقات اس طرح بھی ہوگی الیاس رفاق کو دیکھتے ہوئے بول رہا تھا
بابا آپ جانتے ہیں اسے جعفر اپنا ہاتھ بھی چھڑوا رہا تھا اور درد کو بھی برداشت کر رہا تھا
ہاں آپ نہیں جانتے مجھے لیکن اپنے بابا سے پوچھ لینا میں کون ہوں وہ آپ کو تفصیل سے بتائیں گیں الیاس جعفر سے بول رہا تھا
ہاتھ چھوڑو میرا جعفر درد سے کراہتے ہوئے بولا
آئیندہ میرے پاس آنے کی کوشش مت کرنا سمجھے ورنہ یہ بازو جڑ سے اکھاڑ دوں گا الیاس نے بولتے ساتھ ہی جعفر کا ہاتھ چھوڑا
اور حنین کا ہاتھ پکڑ کر لے گیا
💞💞
قاسم تو
مبین پریشانی سے بولا
یار میرا دل کہ رہا تھا لائبہ انکار کرے گی اور تو نے دیکھا اس نے میرے رشتے سے انکار کر دیا
قاسم نے بول کر اپنا سر گھٹنوں میں رکھ دیا
قاسم اللہ کی قسم ہے تجھے روئ نہ مبین قاسم کو قسم دیتے ہوئے بولا
تو قاسم نے اپنے آنسو صاف کیۓ
یار آخر مئسلہ کیا ہے وہ انکار کیوں کر رہی ہے بار بار قاسم غصے سے بولا
وہی تو میں کہ رہا ہوں لائبہ سے کلئیر کر کے پوچھ کے پروبلم کیا ہے
کلئیر نہیں کرسکتا اب قاسم غصے سے بولا
کہیں وہ کسی اور کو تو پسند نہیں کرتی مبین ڈرتے ہوۓ بولا
شائید کرتی ہو قاسم افسوس سے بولا
تیری فیملی کب جارہی ہے پاکستان مبین بولا
پرسو قاسم بولا
تو پرسو لاسٹ ٹائیم پھر ٹرائے کر لے اپنی فیملی کو لائبہ کے گھر بھیج کر مبین مشورہ دیتے ہوئے بولا۔
بس میں اور تزلیل نہیں کرسکتا اپنی فیملی کی جب اسنے نہ کردیا تو نہ ہی صیح قاسم بول کر کھڑا ہوا
اوۓ اسے تزلیل نہیں کہتے لڑکی کے گھر بار بار رشتہ لے کر جاتے ہیں مبین سمجھاتے ہوئے بولا
مبین اس گھر میں لے کر جاتے ہیں جہاں امید بھی ہو لائبہ نے میری امید ختم کر دی ہے
قاسم بول کر باہر نکل گیا
اس لڑکے کا کیا ہوگا پسند بھی کرتا ہے
چھوڑنا بھی نہیں چاہتا اور چھوڑ بھی رہا ہے مبین خفگی سے بولا
💞💞
الیاس آپ میرے تایا ابو کو جانتے ہیں حنین نے الیاس سے پوچھا
ہاں جانتے ہیں ہم ایک دوسرے کو الیاس لیٹتے ہوئے بولا
کیسے اور کب سے
میری جان تمہیں بتا کر کیا کرنا ہے سوجاؤ
الیاس حنین کو لیٹاتے ہوئے بولا
بتائیں الیاس حنین زد کرتے ہوئے بولی
حنین میں نے کبھی تمہاری فیملی یہ کسی پرسنل چیز کی کے بارے میں پوچھا ہے الیاس حنین کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا
لیکن الیاس میں تو کھلی کتاب کی مانند ہو آپ کے سامنے
میری جان میرا ماضی ایسا نہیں ہے جو میں تمہیں بتاؤ یقین کرو سب سے زیادہ تکلیف ہی تمہیں ہوگی میرا ماضی سن کر
اور میں بلکل نہیں چاہتا تمہیں تکلیف ہو اس لیۓ زد نہیں کرو میرے بارے میں جاننے کے لیۓ
الیاس حنین سے بولا ۔
حنین نے اپنی کروٹ بدل لی
💞💞
بابا آپ جانتے ہیں الیاس کو جعفر حیرانگی سے بولا
ہاں رفاق صاحب پریشانی سے بولے
کون ہے یہ اور آپ کیسے جانتے ہیں جعفر رفاق سے سوال کرتے ہوئے بولا
چپ ہو جاؤ جعفر رفاق جعفر کو چپ کرواتے ہوئے بولا
بتائیں بابا مجھے جعفر ماتھے پر سلوٹے لاتے ہوا بولا
چپ ہو جاؤ سمجھ نہیں آتی کیا رفاق چیخ کر اپنے روم میں چلا گیا
اور جعفر سمجھ گیا تھا کے معاملہ خراب ہے اور ساتھ ان کی طبعیت بھی خراب ہو گئی ہے
💞💞
ہال میں سارے بڑے بڑے بزنس مین پہنچ گۓ تھے
ہر طرف گہما گہمی تھی
زوبیہ صاحبہ سارے گیسٹس کو دیکھ رہی تھی
لائبہ بھی پہنچ گئ تھی
مبین ابھی تک نہیں پہنچا تھا
کپل کا سارے انتظار کر رہے تھے
جو ابھی تک سامنے نہیں آئیں تھے
لائبہ چئیر پر خاموش بیٹھی تھی
اور یہ بات پیچھے بیٹھے قاسم نے نوٹ کر لی تھی
قاسم میں لائبہ کو ہال کی بیک سائیڈ پر بلا کر لاتا ہوں تو بھی آجا
اور اس سے آرام اور پیار سے پوچھ کے مسلہ کیا ہے
سمجھ گیا مبین قاسم کو دیکھتے ہوئے بولا جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی ایا تھا
ہمممم قاسم لائبہ کو دیکھتے ہوئے بولا
💞💞
بابا میں نے شادی کرنی ہے جعفر آپنے باپ کو دیکھتے ہوئے بولا
اچھا جاؤ کرلو شادی تم بھی رفاق صاحب غصے سے بولیں
رشتہ لے کر جائیں روشانہ کے گھر جعفر اپنی گرل فرینڈ کا بتاتے ہوئے بولا
اب روشانہ کون ہے رفاق صاحب بولیں
وہ ہے جس سے میں نے شادی کرنی ہے
اور آج کل میں ہی شادی کرنی ہے
جعفر نئ ڈیمانڈ لاتے ہوئے بولا
جاؤ پسند کر لی ہے تو بیاہ کر بھی لے آؤ
میرا دماغ خراب کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے رفاق غصے سے بولا
یہ کیا آپ نے بکواس لگا کر رکھی ہے کوئ کام بولوں تو جاؤ خود کرو منہ بند کرو آخر مسلہ کیا ہے
اگر میں خود کرنے پر آگیا نہ پھر ساری زندگی پچھتائیں گیں آپ
جعفر کو بھی غصہ آگیا تھا
جاؤ کرو اپنی مرضی نکلو میرے گھر سے رفاق جعفر کو دھکے مارتے ہوئے بولا۔
کیا کر رہے ہیں آپ دونوں شمسہ کچن سے نکلتے ہوئے بولی
جارہا ہوں اور اب اپنے ساتھ بیوی کو لے کر آؤ گا
جعفر بول کر غصے سے نکل گیا
شمسہ اپنا اور میرا بیگ پیک کرو رفاق پریشانی سے بولا
ہم کہاں جارہے ہیں شمسہ صاحبہ حیرانگی سے بولیں
پاکستان
میں جاتا ہوں ٹکٹ بک کروانے
تم پیکنگ کولو لیکن رفاق یہاں بزنس کون سنبھالے گا جعفر بھی چلا گیا ہے
لعنت بھیجو تم بزنس پر بس پیکنگ کرو میں جارہا ہوں
رفاق بول کر باہر چلا گیا
💞💞
لائبہ دو منٹ آنا کام کے مبین لائبہ سے بولا
جی لائبہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
یہ کہاں لے کر جارہے ہیں آپ مبین بھائ
لائبہ بولی
تم آؤ تو صیح مبین بولا
مبین جیسے ہی لائبہ کو قاسم کے سامنے لایا تو
لائبہ نے غصے سے مبین کی طرف دیکھا
جو دانت نکالتے ہوئے چلا گیا
کیا تکلیف ہے لائبہ قاسم کو دیکھ کر غصے سے بولی
تمہیں کیا تکلیف ہے قاسم نے الٹا لائبہ سے سوال کیا
مجھے کوئ تکلیف نہیں ہے لائبہ بول کر جانے لگی
جب قاسم نے اس کے بازو سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگا دیا
لائبہ بس وجہ بتادو انکار کرنے کی قاسم لائبہ کو دیکھتے ہوئے بولا
قاسم پلیززز سمجھنے کی کوشش کرو میں شادی نہیں کر سکتی لائبہ اپنا بازو چھڑاتے ہوئے بولی
تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتی لائبہ
کے میں تم سے محبت کرتا ہوں قاسم اپنے ایک ایک الفاظ پر زور دیتے ہوئے بولا
میں پسند کرتی ہوں کسی کو وہ بہت جلد میرے گھر رشتہ لاۓ گا بس خوش ہو اب
لائبہ قاسم کو دیکھ کر بولی
لائبہ کے ان الفاظوں کی دیر تھی قاسم اسکا ہاتھ چھوڑ کر باہر چلا گیا۔
لائبہ کو بہت رونا آرہا تھا لیکن وہ برداشت کر کے اندر چلی گئ
💞💞
ہال میں ساری لائیٹس اوف ہوگی تھی
پھر اچانک ایک لائیٹ اون ہوئ جس کا فوکس الیاس اور حنین پر تھا
وہ دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اسٹیج کی طرف جارہے تھے
حنین الیاس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چل رہی تھی
الیاس کے چہرے پر ہلکی سی سمائیل تھی جو اس پر کافی سوٹ کر رہی تھی
جبکے حنین پلاسٹک کی گڑیا کے مانند لگ رہی تھی
نظریں جھکائیں کنفیوز سی الیاس کے قدم سے قدم رکھ رہی تھی
بہت سارے فوٹو گرافر الیاس اور حنین کی تصویریں بنا رہے تھے
💞💞
جعفر یہ تم مجھے کہاں لاۓ ہو روشانہ غصے سے بولی
ہوٹل لایا ہوں اور کہاں لایا ہوں
وہ تو مجھے نظر آرہا ہے
تم نے کہا تھا نکاح کے بعد تم مجھے اپنے گھر لے کر جاؤ گے وہ بھی تم نہیں لے کر گۓ اور اب میں تمہارے ساتھ آگئ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر
تو اب بھی تم نہیں لے کر جا رہے روانہ غصے سے بولی
روشانہ میں نے نکاح اپنے باپ کی مرضی سے نہیں کیا
ان کو منانے میں تھوڑا وقت لگے گا
اس کے بعد ہی تو لے کر جاؤ گا گھر جعفر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا
اور کتنے دن لگے گیں تمہیں اپنے باپ کو منانے میں روشانہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولی
بس کچھ ہی دن جعفر لمبا سانس لیتے ہوئے بولا
جعفر یو نو آۓ ایم پریگنینٹ
میں اس ایک روم میں تو بلکل گزارا نہیں کر سکتی اس لیۓ جلد ہی میرے لیے کوئی فلیٹ دیکھو
آئ نو میں ڈئیر وایف
میں آج ہی کچھ کرتا ہوں فلیٹ کا جعفر اپنی بیوی سے بولا
ہممم روشانہ منہ بنا کر بولی
روشانہ اور جعفر نے نکاح تین مہینے پہلے ہی کرلیا تھا
اور اب روشانہ کی پریگنینسی کو بھی دو ماہ ہوگۓ تھے
روشانہ بہت امیر کبیر گھر کی لڑکی تھی
جعفر کا سٹیٹس دیکھ کر ہی اس سے نکاح کیا تھا
لیکن اب جعفر نے اسے ایک روم میں بیٹھایا تھا
اس ایک روم میں روشانہ کو بہت اریٹیشن ہو رہی تھی
💞💞
الیاس اور حنین دونوں سٹیج پر بیٹھے تھے پانچ پانچ منٹ بعد گیسٹس آتے اور ان دونوں کو مبارکباد دیتے
حنین بہت تھک گئ تھی اور اس کا دل بھی بہت خراب ہو رہا تھا
الیاس میں بہت تھک گئ ہوں حنین منہ کا عجیب سا زاویہ بناتے ہوئے بولی
بس چلتے ہیں دس منٹ اور روک جاؤ الیاس حنین کو پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا
جی حنین بولی
مبین قاسم کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا تھا لیکن وہ اسے کہی نہیں ملا
اس لیۓ مجبوراً اسے اسٹیج پر اکیلے جانا پڑا
کونگریچولیشن سر مبین الیاس کے پاس آکر بولا
تھینکیو الیاس مسکراتے ہوئے بولا آپ لوگ تو مجھے کہیں نظر ہی نہیں آۓ پورا دن الیاس مبین سے بولا
سر وہ آج ارجنٹ کام تھا اس لیے دیر ہو گئی سوری
اٹس اوکے میں نے ایسے ہی پوچھا
حنین کھڑی ان دونوں کی ہی باتیں سن رہی تھی
بھابھی آپ کو بھی بہت بہت مبارک ہو مبین حنین کی طرف سر کرتے ہوئے بولا
تھینک یو حنین مسکراتے ہوئے بولی
💞💞
حنین گھر آئ تو کافی تھک گئ تھی
اس لیۓ سب سے پہلے اس نے اپنے کپڑے چینج کیۓ پھر نیچے آئ
جہاں آذان اس سے ابھی تک ناراض بیٹھا تھا
باہر سے الیاس آیا
اور اس کے پیچھے اس کا اسسٹنٹ بھی تھا جس کے ہاتھ میں کافی چیزیں تھی
حنین نے جیسے الیاس کو دیکھا تو وہ مسکراتی ہوئی اس کے پاس گئ
ظہور یہ مجھے دے دو اور بقایا گفٹس میرے روم میں لے جاؤ
الیاس اور حنین کے ریسیپشن کے سارے گفٹس گھر کے ملازم ان کے روم میں لے کر جارہے تھے
الیاس نے کیک کا ڈبا کھولا جس پر لکھا ہوا تھا
آذان جانوں سوری
آذان یہ دیکھو آپ کی آپی نے مجھ سے ابھی منگوایا
وہ بھی آپ کے لیۓ الیاس کیک کی طرف اشارا کرتے ہوئے بولا
میں ریسپشن سے اتنا تھک گیا تھا
ریلی آپی آذان خوشی سے بولا
جی حنین مسکراتے ہوئے بولی
آذان حنین کے گلے سے لگا اور اس کی گال پر پیار کیا
آپ آئیندہ مجھے ڈانٹے گیں تو نہیں آذان کنفرم کرتے ہوئے بولا
نہیں حنین بولی
اوکے
چلو اب کیک بھی کاٹ لو زوبیہ صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
اچھا جی آذان مسکراتے ہوئے بولا
💞💞
آج قاسم کے پرنٹس کی رات نو بجے کی فلائیٹ تھی
انہوں نے واپس پاکستان چلے جانا تھا
قاسم تو پتہ نہیں رات سے کہاں غائب تھا
مبین قاسم کے گھر بیٹھا ہوا تھا
عثمان صاحب اور روبینہ صاحبہ بہت پریشان تھے
آنٹی انکل اگر آپ سے ایک بات کہوں برا تو نہیں مانیں گیں
مبین بولا
نہیں بیٹے بولو عثمان صاحب بولیں
میں چاہتا ہوں آپ لوگ پاکستان جانے سے پہلے ایک دفعہ پھر لائبہ کے گھر جائیں کیا پتہ اس دفع ہاں ہاں جاۓ
بیٹا چلو تمہارے کہنے پر چلے جاتے ہیں لیکن قاسم کدھر ہے
انکل آپ لوگ ایسا کریں لائبہ کے گھر جانے کی تیاری کریں میں قاسم کا پتہ لگاتا ہوں
اچھا عثمان صاحب بولیں
بیگم آپ تیار ہو جائیں چلتے ہیں پھر نکلنا بھی ہے
جی روبینہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
💕💕
حنی میں اور تم پاکستان جائیں گیں کل اس لیۓ تیاری کرلو
الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
جو بیڈ پر لیٹی تھی اور اس کی طبعیت بہت خراب تھی
الیاس میں نہیں جاسکتی حنین ہلکی سی آواز میں بولی
کیوں میری جان طبعیت تو خراب نہیں ہے
الیاس حنین کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا
جی پرسو سے بلکل ریسٹ نہیں کیا اس لیۓ روٹین خراب ہو گئی ہے
اچھا چلو میں آفس جاتے جاتے تمہیں ڈاکٹر کو بھی دکھا دوں گا
نہیں الیاس میں ٹھیک ہو جاؤں گی آپ جائیں آفس آپ کو آلریڈی اتنی دیر ہوگئ ہے
حنین بیٹھتے ہوئے بولی۔
اچھا جناب اگر ہوگیا تو کھڑی ہو جاؤ
الیاس حنین کا پکڑ کر کر کھڑا کرتا ہوا بولا
حنین واشروم جانے لگی تو اسے بہت زیادہ چکر آرہے تھے
الیاس حنین نے واشروم کا دروازا پکڑ کر زور سے الیاس کو آواز دی
الیاس دوڑتا ہوا حنین کے پاس آیا
کیا ہوا حنی الیاس حنین کو پکڑ کر بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے بولا
چکر آرہے ہیں مجھے حنین روتے ہوئے بولی
میری جان روتے نہیں ہیں الیاس حنین کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
چلو ابھی چلتے ہیں ڈاکٹر کے پاس
جی حنین روتے ہوئے بولی
💕💕
الیاس باہر ویٹ کر رہا تھا
زوبیہ صاحبہ اور حنین اندر لیڈی ڈاکٹر کے پاس تھی
مبارک ہو آپ ماں بننے والی ہیں ڈاکٹر مسکراتے ہوئے بولی
جی حنین پھٹی آنکھوں سے بولی
لگتا ہے آپ بہت چھوٹی ہیں
ڈاکٹر عجیب سا منہ بنا کر بولی
نہیں میری ایج بائیس سال ہے حنین بولی
تو آپ بہت ویک ہیں آپ کو اپنا اور اپنے بچے کا بہت خیال رکھنا ہے اوکے
ڈاکٹر بولی
جی زوبیہ صاحبہ نے تو اسی ٹائیم حنین کے ماتھے پر پیار کیا اور اسے گلے سے لگا کر ڈھیر ساری دعائیں دی
آپ ڈائیٹیشن کے پاس جائیں وہ آپ کو ریفر کرے گا کے آپ نے اپنی ڈائیٹ کا کیسے خیال رکھنا ہے
اوکے حنین بولی
حنین کو یقین نہیں آرہا تھا وہ اتنی جلدی ماما بننے والی ہے
الیاس کار میں بیٹھ بیٹھ کر تھک گیا تھا
اس لیۓ اس نے کال کی زوبیہ صاحبہ کو
امی کیسی ہے حنین اور کتنی دیر لگے گی آپ دونوں کو آنے میں
بیٹا میں آرہی ہوں صبر کرو
جی الیاس نے واپس اپنے پاکٹ میں فون رکھا
الیاس نے جیسے زوبیہ صاحبہ کو آتا دیکھا تو کار سے باہر نکلا
امی حنین کدھر ہے
بیٹا تم بابا بننے والے ہو زوبیہ صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
کییییااا الیاس منہ کھول کر حیرانگی سے بولا
ہاں زوبیہ صاحبہ الیاس کا منہ بند کرواتے ہوئے بولی
امی حنین کدھر ہے الیاس خوشی سے بولا
ڈایٹشن کے پاس ہے بس آنے والی ہے
اچھا امی الیاس اپنے دونوں ہاتھوں کو چہرے پر رکھتے ہوئے بولا
💞💞
عثمان صاحب اور روبینہ صاحبہ لائبہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے
دونوں طرف خاموشی تھی
ہم جارہے ہیں پاکستان سوچا آخری دفعہ پھر اپنی کوشش کر لیں روبینہ صاحبہ بولی
نرگس صاحبہ خاموش تھی
کافی دیر تک اسی طرح بیٹھنے سے وہ سمجھ گۓ تھے
کے نرگس صاحبہ کا رشتے کے بارے میں انکار ہی ہے
اوکے پھر ہم چلتے ہیں عثمان کھڑے ہوتے ہوئے بولا
نرگس صاحبہ بھی ان کے ساتھ ہی کھڑی ہوئ
وہ لوگ جیسے گھر سے نکلنے لگے
گھر میں آدم داخل ہوا
آدم کو دیکھ کر نرگس صاحبہ حیران رہ گئ تھی
اچھی خاصی صحت نہ ہی آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکل نہ ہی منہ کی ہڈیاں نکلی ہوئ تھی
ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے درکس کا نشہ چھوڑ دیا ہو
اسلام علیکم آدم مہمانوں کو دیکھتے ہوئے بولا
وعلیکم اسلام عثمان صاحب اور روبینہ صاحبہ ایک ساتھ بولیں
آئیں اندر انکل آنٹی آدم دونوں کو واپس اندر لاتے ہوئے بولا
اس لیۓ وہ لوگ واپس اندر آئیں
ماما آپ کھانے کا بندوست کر لیں یہ لوگ لنچ ہمارے ساتھ ہی کریں گیں آدم نرگس صاحبہ کو دیکھتے ہوئے بولا
اچھا نرگس صاحبہ بول کر اندر چلی گئ
کیسے ہیں آپ لوگ آدم ان کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا
الحمدللہ آپ کیسے ہو بیٹا عثمان صاحب پیار سے بولیں
اللہ کا کرم میں بھی ٹھیک آدم مسکراتے ہوئے بولا
آپ لوگ کیسے مطلب کس کام سے آئیں آدم کنفیوز ہوتے ہوئے بولا
وہ دراصل ہم لائبہ کے رشتے کے لیۓ آۓ تھے لیکن وہ نہیں چاہتی شادی کرنا
اچھا آپ کا بیٹا کیا کرتا ہے
میرے بیٹا اور آپ کی بہن ایک ہی کمپنی میں کام کرتے ہیں
اچھا آدم بولا
میں آتا ہوں ویٹ کریں تھوڑی دیر
آدم کھڑے ہوتے ہوئے بولا
اوکے بیٹا
آدم نرگس کے پاس کچن میں ہی آگیا
ماما یہ لوگ لائبہ کے رشتے کے لئے آئیں ہیں آدم بولا
بیٹا یہ پہلے بھی آچکے ہیں اور کافی اچھے لوگ ہیں لیکن تمہاری بہن نہیں مان رہی
اوکے میں لائبہ سے بات کرتا ہوں
آدم فون نکالتے ہوئے بولا
اسلام علیکم آدم بولا
وعلیکم اسلام لائبہ پھیکے سے لہجے میں بولی
کیسی ہے میری بہن آدم مسکراتے ہوئے بولا
ٹھیک لائبہ سپاٹ لہجے میں بولی
میری بہن کے لیۓ بہت اچھا رشتہ آیا ہے اگر اپنے بھائی کو بھائ کا رتبہ دیتی ہو عزت دیتی ہو تو اس رشتے کے لئے ہاں کر دوں آدم بہت ہی سلیقے سے لائبہ سے بولا
آپ میری شادی کروا کر مجھے اس گھر سے رخصت کروا دیں گیں اور پھر ماما کو اکیلا چھوڑ کر آوارہ گردیاں کرنے چلے جائیں گیں لائبہ روتے ہوئے بولی
نہیں میری گڑیا اب میں ایسا نہیں ہوں میں نے چھوڑ دیا سب کچھ اور اب تو میری جاب بھی لگ گئ ہے
میں بلکل ٹھیک ہوکر آپ سب کے پاس آیا ہوں آدم سمجھاتے ہوئے بولا
قسم اٹھائیں لائبہ روتے ہوئے بولی
اللہ کی قسم بس آدم کلئیر کرتے ہوئے بولا
لائبہ کچھ نہیں بولی بند آواز سے رونے لگ گئ تھی
رؤ نہیں لائبہ آدم لائبہ کو چپ کرواتے ہوئے بولا
مجھے یہ بتاؤ ہاں کر دوں رشتے کے لئے
جی لائبہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے خوشی سے بولی
اوکے میری شہزادی گھر آجاؤ جلدی تمہارے سسرال والیں انتظار میں بیٹھے ہیں
آدم ہنستے ہوئے بولا
تو لائبہ بھی ہنسنے لگی
💞💞
حنین جیسے باہر آئ تو الیاس اسے ہی دیکھ رہا تھا
اور آج الیاس کی خوشی آنکھوں سے جھلک رہی تھی
حنین نے ایک دفعہ بھی الیاس کی طرف نہیں دیکھا تھا
ماما یہ میڈیسن لانی ہے طاقت کی دی ہے ڈاکٹر نے حنین پرچی دیکھاتے ہوئے بولی
یہاں دو مجھے الیاس حنین کے ہاتھ سے پرچی لے کر میڈیسن لینے چلا گیا
💞💞
آدم واپس آیا تو انہوں نے کہا ہمیں دیر ہورہی ہے
انکل یہ رشتہ ہمیں منظور ہے اور لائبہ کو بھی کوئ مسئلہ نہیں ہے آدم مسکراتے ہوئے بولا
روبینہ صاحبہ نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
حیرانگی سے کیونکہ ان کی امید ہی ختم ہوگئی تھی
عثمان صاحب نے کھڑے ہو کر آدم کو گلے لگایا
آدم بھی خوشی سے ان سے ملا
بیٹا ہم چاہتے ہیں اینگیجمنٹ ابھی ہو جاۓ
کیونکہ ہم نے پاکستان واپس جانا ہے
اوکے انکل آج ہی کر لیں گیں اینگیجمنٹ آدم بولا
میں مبین کو کال کر کے بتا دیتا ہوں عثمان صاحب کال کرتے ہوئے بولا
جی اسی کی وجہ سے تو ہاں ہوئ ہے روبینہ صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
💞💞
حنین بیڈ پر لیٹی ہوئ تھی الیاس آفس جانے کے بجاۓ گھر ہی بیٹھ گیا تھا
اور حنین کو پچھلے دو گھنٹوں سے سارے کبھی کھانے کے لیۓ کیا لاتے تو کبھی کیا
الیاس کافی دیر سے کوشش کر رہا تھا کے وہ حنین سے اکیلے میں بات کرے
لیکن کوئ اسے موقع ہی نہیں دے رہا تھا
جاری ہے