61.1K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی آفاق صدیقی جعفر کا گریبان پکڑتے ہوۓ بولے
ارے چھوڑیں چاچو مجھے اپنی بیٹی پر لگام ڈالیں دوبئ میں تو رہتی ہے لیکن یہ بھول گئ کے ایک عزت دار لڑکی ہے
دیکھا ہیں کبھی آپ نے اس کے کپڑے
ہاف سلیپف گھٹنوں سے نیچے ساری ٹانگیں نظر آتی ہیں
جعفر غصے سے بولا
اس کا حق تمہیں نہیں ہے تم میرے شوہر نہیں ہو سمجھے چندہ کار سے باہر نکل کر غصے سے بولی
صیح کہا میرا تمہارے پر کوئ حق نہیں ہے لیکن اگر تم اپنی لیمٹز کراس نہ کرتی تو میں بھی نہ کرتا
میرے سے بات کرو تم آفاق صدیقی غصے سے بولے
بولیۓ جعفر اپنے ماتھے کا پسینا صاف کرتا ہوا بولا
وہ جو بھی پہنے اس سے تمہیں کوئ سروکار نہیں سمجھے اور آئیندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا ورنہ تمہارہ قتل کروا دوں گا
آفاق صدیقی بول کر چندہ کا ہاتھ تھام کر اندر جانے لگے
مجھے بھی کوئ شوق نہیں ایسی عورت کے ساتھ شادی کرنے کا جو شراب پیتی ہو نشہ آوری چیزیں استعمال کرتی ہو
جعفر اونچی آواز میں بولا
اب کی بار آفاق صدیقی نے ایک مکا جافر کے منہ پر دے مارا
گھٹیا انسان تمہیں عزت سے یہاں سے بھیج رہا ہوں لیکن تم ہوکے میرے ہی گھر میں کھڑے ہو کر میری ہی بیٹی پر الزام لگا رہے ہو
شرم آتی ہے تمہیں اپنا بھتیجا کہتے ہوۓ
الزام نہیں حقیقت بتا رہا ہوں کل کلاں کر منہ کالا کر کے آئ گی تو آپ لوگوں کو پتہ چلے گا
جعفر اتنا کہ کر وہاں سے نکل گیا
چلو اندر آفاق صدیقی غصے سے بولا
💞💞
او اللہ ریڈ مور تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا حنین کمپیوٹر کی سکرین پر نظر جما کر بولی
نہیں نہیں ایسا نہیں ہوسکتا اتنا کچھ میں کیسے یاد کروں گی
یہ ضرور سر کی چہیتی نے کچھ بکواس دیا ہوگا
ایسا کرتی ہوں سر کے پاس جا کر پوچھ لیتی ہوں
حنین خود سے ہی باتیں کرتے ہوۓ کھڑی ہوئی
لیکن الیاس بھی اپنے روم سے باہر ہی آرہا تھا
💞💞
قاسم اس گیم کے ٹائیٹل کے بارے میں کچھ سوچا مبین بولا
نہیں ابھی تو صرف اس گیم کی لوکیشن سلیکٹ کی ہے اس کے بعد اور بھی بہت سارے کام ہے ٹائیٹل اینڈ میں رکھیں گیں تب تک کچھ اچھا سا سوچ لیتے ہیں قاسم اپنی دونوں آنکھیں کمپیوٹر پر گاڑتے ہوۓ بول رہا تھا
ارے ایک بات تو بتا مبین بولا
پوچھ
تو پاگل بن رہا ہے یا شروع سے ہی ایسا ہے
نہیں یار اگر شروع سے ہوتا تو اس کمپنی میں سلیکٹ نہ ہوتا
لیکن اس گیم کو بنانے کے بعد ضرور پاگل ہو جاؤ گا قاسم پیچار گی والا منہ بنا کر بولا
اچھا اب ماصوم نہ بن اپنے حصّے کا کام کر مبین چپس کھاتا ہوا بولا
ویسے میں نے کیا پاگلوں والی بات کی ہے قاسم اپنی چئیر گھوما کر پورا کا پورا مبین کی طرف متوجہ ہوا
یہی کے گیم کا ٹائٹل سوچے گیں
ہاں تو اس میں کیا پاگلوں والی بات ہے قاسم حیرانگی سے بولا
💞💞
آفاق صدیقی جیسے لاؤنج میں آۓ تو چندہ کو بلند آواز دی
چندہ
جی ڈیڈی چندہ نڈھال سی ہوتی ہوی بولی
آج کے بعد تمہارہ باہر جانا بند اور اپنی ڈریسنگ بھی درست کرلو سمجھی
ہمم چندہ جان چھڑانے والے انداز میں بول کر روم چلی گئ
آفشین
آفاق صاحب نے پکارہ
جی
چندہ کی کار کی کیز مجھے لا کر دو اور اس کا پاسپورٹ بھی
لیکن آپ جانتے تو ہے اگر اسے اس کی چیزیں نہ ملی تو کتنا ہنگامہ کرے گی
وہ میری بیٹی ہے اور میں اس کا باپ
اگر سر پر چڑھانے آتا ہے تو اتارنے بھی آتا ہے آفاق صاحب غصے سے بولا
جی آفشین صاحبہ بول کر روم میں چلی گئ
💞💞
اس میں یہ حیرانگی کی بات ہے
کے ہم سر کی گیم کا پارٹ ٹو لارہے ہیں میری جان
تو ظاہر ہے گیم کے ٹائیٹل کے ساتھ پارٹ ٹو ہی لگے گا
ارےےےےے ہاں ں ں ں ں یاد آگیا قاسم ارے ہاں کو لمبا کرتے ہوۓ بولا
جی ہاں ں ں مبین ہنستا ہوا بولا
یار یہ بات کبھی نوٹ کی ہے سر ہم سب کو بیٹا بیٹا کہ کر بلاتے ہیں حلانکہ ہم پچیس سال کے قریب ہیں قاسم بولا
لیکن خدا کی قسم اگر ہم سر کو بیٹا کہے تو برے نہیں لگے گیں جتنا سر کہ کر برا لگتے ہیں مبین بولا
ایک تو چھوٹے ہیں اوپر سے بیٹا بیٹا کہ کر اور بھی شرمندہ کرتے ہیں
قاسم افسوس سے بولا
او بھائی سر کوئ چھوٹے نہیں ہیں جب میں اس کمپنی میں دو سال پہلے آیا تھا تو سر نے اپنی ایج بتائ تھی اٹھائیس سال کے تھے
اور اب تو ماشااللہ تیس سال کے ہیں مبین بول کر چپس کا پیکٹ کھولنے لگا
مبین کام کے وقت کھانا کمپنی کے رولز کے خلاف ہے اور اس کی پنیشمنٹ بھی مل سکتی ہے
ارے جا اب تو ہم روم کے مالک ہے اپنی جاگیر ہے اس روم میں دو ہفتوں تک کھاۓ پئۓ سوۓ سر کو کون بتاۓ گا مبین کھول کر کھانے لگا
ڈزز
زارا نے دروازہ زور سے مار کر کھولا
الیاس سر نے پانچ منٹ کا ٹائیم دیا ہے اپنے سامنے حاضر ہونے کا
ہم دونوں کو قاسم غصے اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے بولا
آویزلی دونوں کو بلایا ہے زارا بول کر چلی گئ
مبین اس دن تو میری غلطی تھی جس کی سزا میں بھگت رہا ہوں لیکن یاد رکھی آج مجھے کوئ سزا ملی تو تیرا دھوبڑا بدل دوں گا قاسم بول کر چلا گیا
جبکے مبین قاسم کی یہ لینگویج سن کر مبین ہکا بکا رہ گیا
ارے واہ تیرے منہ میں بھی زبان ہے مبین بول کر باہر نکل گیا
💞💞
آپ سب جانتے تو ہیں کے آج میں نے آپ سب کو کیوں جمع کیا ہے الیاس اپنی واچ کو دیکھتے ہوۓ بولا
یس سر سارے اکھٹے بولے
وہ تین لوگ تیار ہو جاۓ جن کا نام لینے لگا ہوں
سب ورکرز کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں تھی
اکیفہ رحمان
ابدللہ فانی
فیکری رجال
آپ سب کو میں نے فائیر کر دیا ہے
آفس میں کل شام کی پارٹی ہوگی وہ بھی آپ کے نام سو الیاس سوچتا ہوا بولا یہ دیکھے بنا کے سامنے لوگوں کا کیا حال ہے
اور مبین آپ میرے روم میں آۓ
جی سر مبین بولا
الیاس اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر چلتے ہوۓ اپنے آفس روم میں چلا گیا
جبکے قاسم بتھیسی نکال کر مبین کو دیکھ رہا تھا
💞💞
سر میں آۓ کمن
آفکورس الیاس چئیر کو گھوماتے ہوۓ بولا
سر آپ نے بلایا تھا مجھے
جی آپ نے اس آفس کا رول توڑا ہے کیونکہ وہ روم آپ کی جاگیر ہے اینڈ آپ اس میں سوۓ کھاۓ پیۓ اس سے کسی کو کوئ مطلب نہیں
لیکن آپ کو میں بتا دوں کے یہ آفس میرا ہے سو رول توڑنے کی پنیشمنٹ تو ضرور ملے گی
الیاس اپنے کمپیوٹرز اون کرتا ہوا بولا
💞💞
آفشین صاحبہ چندہ کے روم میں آئ تو وہ شاور لے رہی تھی
آفشین صاحبہ نے خاموشی سے دراز میں سے کار کی کیز اور پاسپورٹ اٹھا کر نکلنے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی کے چندہ کے سامنے چیزیں لی تو وہ پھر سے ہنگامہ کر دے گی
ماما آپ یہاں کیا کر رہی ہیں چندہ واشروم سے نکلی تو اپنی ماما کو دیکھ کر پوچھنے لگی جو دروازے کے پاس ہی تھی
آفشین صاحبہ یکدم سے چندہ کی طرف متوجہ ہوئ
کچھ نہیں بیٹا تمہیں دیکھنے آئ تھی
اچھا
ویسے آپ کے ہاتھ میں کیا ہے چندہ اپنے بالوں سے ٹاول نکال کر اپنے بال ڈرائے کرنے لگی
آپ کے ہاتھ میں کیا ہے ماما
میرے ہاتھ میں تمہارہ پاسپورٹ اور کار کی کیز ہیں جو تمہارے ڈیڈ نے منگوائی ہیں آفشین صاحبہ تنگ آتے ہوۓ بولی
کیوں ماما
آپ میرے روم میں آئی اور اوپر سے بغیر پوچھے میری چیزیں بھی لے کر جارہی ہیں
چندہ غصے سے بولی
اب بتا دیا نہ اب جارہی ہوں میں
میری چیزیں مجھے واپس کریں مجھے جانا ہوتا ہے ماما چندہ دانت پیستے ہوۓ بولی
میری بات کان کھول کر سن لو تم
تمہارے ڈیڈ کا کہنا ہے آج کے بعد تم کہی بھی جاؤ گی تو آ
اپنے ڈیڈ کو بتا دینا وہ ہی تمہیں ڈراپ اینڈ پک کر لیں گیں
اور آؤٹنگ کے لیۓ ہم تمہیں ہر سنڈے لے جایا کریں گیں سمجھی
آفشین صاحبہ نے بول کر دروازہ زور سے مار کر چلی گئ
پتہ نہیں مسلہ کیا ہے ان سب کو چندہ غصے سے ڈرائیر پھینکتے ہوۓ بولی
الماری سے سیگریٹ نکال کر کش لگانے لگی
💞💞
سر میں تو جسٹ مزاخ کر رہا تھا مبین پریشانی سے بولا
یہ مزاخ مجھے تمہارہ ردی برابر پسند نہیں آیا الیاس غصے سے بولا
سر سوری
نہ نہ نہ نہ اگر آج آپ کو پنیشڈ نہ کیا تو قاسم بھی ایسا کرے گا اور پھر قاسم کو دیکھ کر اور بھی لوگ ایسے مزاخ کریں گیں
سو تمہاری سزا یہ کے تم دو دن کے لیۓ آؤٹ ہورہے ہو
سچی سر مبین چہک کر بولا
میرا مطلب سر کے پلیز ایسا نہ کریں
بات تو پوری سن لو میری الیاس آنکھیں دکھاتا ہوا بولا
سوری سر
ہمم تو آپ یہ دو دن میرے گھر گزارے گیں اوکے
وٹ سر ۔
یس سو چھوٹی ٹائیم پارکنگ ایریا میں آجانا ایک ساتھ ہی چلیں گیں
اوکے سر
گڈ
مبین منہ لٹکاۓ باہر نکلنا
کہا جارہی ہیں آپ مبین حنین سے بولا
آپ سے مطلب حنین اٹیٹیوڈ سے بولی
آیسکیوز می آپ کے بھلے کے لیۓ ہی پوچھ رہا تھا
آپ میرے بھلے کے بارے میں نہ ہی سوچیں اوکے
فائین مبین جان چھڑانے والے انداز میں بولا
حنین اندر کی طرف بڑھ گئ
بہت ایٹیٹوڈ ہے نہ پتہ چلے گا اب
مبین ہنستا ہوا بول کر قاسم کے پاس چلا گیا
💞💞
جعفر یہ ہم کیا سن رہے ہیں
کیا سن رہے ہیں لوگگگگ جعفر لوگ کو لمبا کرتا ہوا بولا
یہی کے تم نے چندہ پر ہاتھ اٹھایا ہے تمہیں پتہ بھی ہے وہ آفاق کی کتنی لاڈلی ہے
رفاق صاحب غصے سے بولے
جی بلکل آپ کی بدتمیز بھتیجی
کی حرکتوں کا پتہ نہیں چلا
جعفر صوفے پر بیٹھتے ہوا بولا
بکواس اپنی بند رکھو اگر اس کی حرکتیں ٹھیک نہیں ہیں تو مجھے یا اپنے چاچو کو بتاتے ہاتھ اٹھانے کا حق کس نے دیا ہے
بابا اس کے پر بہت نکل گۓ ہیں وہ ہم سب میں آرجسٹ نہیں کر پاۓ گی
جعفر کھڑا ہو کر غصے سے بولا
پٹاخخخ میرے سامنے اونچی آواز میں بول رہے ہو رفاق صاحب نے جعفر کو تھپڑ مارتے ہوۓ بولا
دوبئ میں رہ کر سمجھتے کیا ہو کے یہاں کے بچو کی زبان بولو گے
بس کردیں رفاق جوان بیٹے پر اسطرح ہاتھ نہیں اٹھاتے (شمسہ) جعفر کی ماما بولی
دیکھ رہی ہو شمسہ اپنے اس اکلوتے شہزادے کو
کیسے زبان تراضی کر رہا ہے
میرے سامنے
میں سمجھاؤں گی آپ ٹینشن نہ لیں
میں اور آپ مل کر بھائ صاحب کے گھر جائیں گیں اور شادی کی ڈیٹ فکس کریں گیں
میں شادی نہیں کروں گا اس لڑکی سے آپ لوگ میری یہ بات کان کھول کر سن لیں
💞💞
ٹک ٹک ٹک
Yes
Sir IAM come in
Sure
الیاس حنین کو دیکھ کر بولا
حنین نے گھوٹنو تک ٹاپ پہنا ہوا تھا اس کے ڈریس کے ہاف سلیفس بازو تھے اور بالوں کو کھول کر آگے کی طرف پھینکا ہوا تھا
سر آپ سے کچھ پوچھنا چہاتی ہوں
ہممم پوچھیں
سر یہ فائیل مجھے آپ کی اسسٹنٹ نے دی ہے آپ ایک بار چیک کر لیں کے یہی فائیل میٹنگ والے دن کی ہے
اوکے یہاں رکھ دیں
الیاس نے فائیل پڑھ کر اپنے ٹیبل پر پڑے پی ٹی سی ایل سے کال کرنے لگا
زارا آپ میری ایک ہفتے بعد ہونے والی میٹنگ کی فائیل لے آئیں جسٹ 20 منٹذ میں
Your Time start,s now
Ok sir
زارا ایزی ہو کر الیاس کی بات سن رہی تھی ٹائیم کا سنتے ہی جھٹکے سے کھڑی ہوگئ
اور دوڑنا شروع کردیا
اچھا ہوا حنین آپ آگئ ورنہ اس میٹنگ کو میں نے نہیں اٹینڈ کرنا تھا
جی سر حنین مسکراتے ہوۓ بولی
زارا اب آہستہ آہستہ میں تمہاری جگہ یہاں سے ختم کر دوں گی حنین دل ہی دل میں بول رہی
اللہ شکر ہے آپ کا اب اتنا سب کچھ یاد تو نہیں کرنا پڑے گا
حنین نے ایک بار پھر سے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا
زارا دوڑ کر اندر آئ سر یہ رہی فائیل
گڈ چار منٹ پہلے آگئ ہیں بٹ بنا نوک کیۓ آئ ہیں الیاس مسکراتا ہوا بولا
💞💞
کیا ہوا مبین صاحب قاسم کہکہ لگاتے ہوۓ بولا
بہت اچھا ہوا
ویسے امید تو نہیں کے جاسکتی اچھے کی لیکن پھر بھی بتا دو قاسم دانت نکالتا ہوا بولا
سر نے مجھے دو دن کے لیۓ آفس سے آؤٹ کردیا ہے مبین چہک کر بولا
وٹ سیریسلی قاسم اپنی آنکھیں پھاڑتا ہوا بولا
ہاں لیکن مبین سسپنس کریٹ کرتا ہوا بولا
یار یہ سسپنس نہ کریٹ کر ڈراموں والوں کی طرح آگے بول قاسم کھڑا ہوتا ہوا بولا
میں یہ دو دن سر کے ساتھ گزاروں گا مینز سر کے گھر
کیا۔ ہا ہاہاہا ہاہاہاہاہا قاسم ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگا
قسم سے مبین سر نے جو کام کیا ہے نہ تیرے ساتھ تم بےشک ہسٹری پڑھ لینا ایسی پنیشمنٹ کبھی کسی باس نے اپنے ایمپلائز کو نہیں دی
ہاں ہاں پتہ ہے اور ویسے بھی یہ کوئ پنیشمنٹ ہے میں تو مزے کروں گا سر کے گھر جاکر پورے دو سال چھوٹی نہیں کی میں نے مبین خوش ہوتا ہوا بولا
اچھا جی پھر تو اچھا ہوا سر نے تمہیں ایسی پنیشڈ دی قاسم اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتا ہوا بولا
جاری ہے