No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
آپ کون ہو بھئ
جعفر غصے سے بولا
الیاس
الیاس ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا
تو جعفر نے بھی ہاتھ ملایا
لیکن جب اس نے الیاس سے ہاتھ ملایا
تو الیاس نے اس قدر زور سے دبایا
تو جعفر ہاتھ چھوڑ وانے لگا
لیکن الیاس نے نہیں چھوڑا اور اپنی بات کرنے لگا
آئ ڈونٹ نو کے آپ کا اور حنین کا کیا ریلیشن ہے بٹ
آئیندہ حنین سے اس طرح بات نہیں کرنی
بلکہ حنین ہی کیوں سب لڑکیوں کے ساتھ اوکے
الیاس ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولا
جعفر نے شکر کے کلمے ادا کیۓ
جبکے حنین الیاس کے ساتھ ایسے کھڑی تھی جیسے وہ اس کا کچھ خاص لگتا ہو
چلیں حنین فلائیٹ کی اننونسمنٹ ہوگئ ہے
الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
جی
حنین بس اتنا ہی بول پائی تھی
الیاس حنین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ ہی لے گیا
جبکے جعفر کو کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی
یہ کون
حنین کا لگتا کیا ہے
خیر کوئ نیا یار ہوگا لیکن مجھے ابھی تم جانتی نہیں چندہ میڈم میں تمھارا پرانا عاشق ہوں
جعفر خود سے ہی بولتے اس جگہ سے چلا گیا
حنین اور الیاس کی سیٹس جہاز میں الگ الگ جگہ پر تھی
اس لیۓ وہ دونوں ساتھ نہیں بیٹھے تھے
حنین کے ساتھ ایک اولڈ ایج کی عورت تھی
جو کب سے حنین کے ساتھ بول بول کر
حنین کا دماغ چاٹ گئ تھی
حنین بھی بہت اکتا گئ تھی
جبکے الیاس اپنا سر سیٹھ پر ٹیکاۓ آنکھیں موندے بیٹھا ہوا تھا
آپ کہاں جارہی ہو بیٹا بڑھیا حنین سے مسکرا کر بولی
ظاہر ہے آنٹی یورپ جارہی ہوں
اب یہ بس تو ہے نہیں کے میں آپ کو اپنا اسٹوپ بتاؤں
حنین نے مسکراتے ہوۓ کرارے دار جواب دیا
اتنا تو مجھے بھی پتا ہے بیٹا کہ آپ یورپ جارہی ہو کومن سنس کی بات ہے
لیکن میرا یہ مطلب ہے کے کس سلسلے سے یورپ روانہ ہوئ ہو
بڑھیا نے بھی آگے سے صیح جواب دیا
بزنس میٹنگ کے سلسلے سے جارہی ہوں
تین دونوں کے لیۓ بس
حنین جان چھڑاتے ہوئے بولی
کیونکہ وہ جعفر کی وجہ سے بہت پریشان تھی
اور اوپر سے آذان اور آذنان بھی اکیلے تھے
اچھا اچھا
بڑھیا پھر سے بولنے لگی ہی تھی
جب جہاز لینڈ ہونے کی اننونسمنٹ ہوئ
الحمدللہ حنین ہلکی سی آواز میں بولی
بیٹا آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی مجھے
آپ بہت اچھی بچی ہو
بڑھیا خوش ہوتے ہوئے بولی
جی تھینکس حنین مسکرا کر بولی
الیاس بھی آٹھ چکا تھا اور وہ حنین کی حرکتیں ہی دیکھ رہا تھا
جو کافی رویڈ طریقے سے آنٹی سے بات کر رہی تھی
💕💞💕
سلمان سب کے انٹرویوز لینے میں مصروف تھا
اور زارا صبح سے غائب تھی
اس چیز کو لائبہ نے کافی محسوس کیا تھا
مبین
قاسم نے مبین کو آواز دی
بول مبین کمپیوٹر پر کچھ ٹائیپ کرتے ہوئے بولا
یار ایک ضروری بات بتانی ہے مجھے
میری طرف دیکھ
بول یار سن رہا ہوں مبین مصروف انداز میں بولا
یار ادھر دیکھو ورنہ میں کوئ بات نہیں کر رہا قاسم غصے سے بولا
اچھا بول میرے باپ
مبین کیبورڈ کو سائیڈ پر کرتے ہوۓ بولا
یار لائبہ کتنی اچھی لڑکی ہے نہ قاسم بات گھوماتا ہوا بولا
ہاں یار بہت اچھی ہے بہنوں والی فیلنگز آتی ہے مبین بھی اسی کے انداز میں بولا
نہیں وے قاسم ایکدم سے بولا
کیا نہیں وے جو بات ہے سیدھے طریقے سے بول یہ ھیرا پھیری نہ کر میرے ساتھ مبین مسکراتا ہوا بولا
یار میں اسے لائیک کرتا ہوں مطلب کے پسند
اووو اچھااااا مبین حیرانگی سے بولا
ویسے مجھے پتہ تھا اور ساتھ ہی یہ بول دیا
اچھا جی قاسم واپس مڑتے ہوئے بولا
اور ہنسنے لگ گیا
💞💞
الیاس اور حنین دونوں اب ائیرپورٹ سے نکل کر باہر کھڑے تھے
کیونکہ انہوں نے جس کمپنی کے ساتھ کونٹریک کرنا ہے انہی کی کمپنی کا کوئ ورکر انہیں پک کر کے ہوٹل تک لے جانے والا تھا
ایک دم سے ایک لڑکی دوڑتے ہوۓ آئ اور اپنے ہاتھ میں بورڈ کو اونچا کر کے پکڑ لیا
جس پر الیاس اور حنین کا نام لکھا تھا
الیاس نے حنین کو دیکھا تو وہ کافی پریشان لگ رہی تھی
حنین الیاس نے آواز دی
جی سر
حنین ایکدم سے الیاس کی طرف متوجہ ہوئی
چلیں الیاس حنین کو اوپر سے لے کر نیچے تک دیکھتے ہوئے بولا
جی جی حنین اپنی پوری گردن ہلاتے ہوئے بولی
الیاس اس لڑکی کے سامنے کھڑا ہو گیا
تو لڑکی نے فوراً سے اپنا نام بتایا
اولینا لڑکی ہاتھ بڑھا تے ہوئے بولی
الیاس خان
الیاس نے بھی ہاتھ بڑھایا
حنین ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی
تو اولینا نے حنین کی طرف دیکھا
تو حنین مسکرائی
اولینا بھی آگے سے مسکرا کر کار کی طرف بڑھ گئ
حنین اور الیاس دونوں پیچھے بیٹھے تھے
جبکے اولینا ڈرائیو کر رہی تھی
💞💞
لائبہ کا کام ختم ہو گیا تھا
اس لیۓ وہ کھڑی ہوکر اپنے کیبن کو سیٹ کرنے لگی
جو کافی خراب ہو گیا تھا
لائبہ کیبن سٹ کر کے کافی پینے کے لیۓ نکلنے لگی
لائبہ جب سیڑھیوں سے اوپر آئ تو شیشے سے الیاس کے روم میں نظر گئ
جہاں زارا الیاس کے کمپیوٹر پر لگی تھی
لائبہ کو تھوڑا عجیب لگا لیکن اگنور کر کے کافی پینے کے لیۓ نکل گئ
💞💞
الیاس اور حنین دونوں ہوٹل میں سائیڈ پر کھڑے تھے
جبکے اولینا ہوٹل کے منیجر سے جھگڑ رہی تھی
آپ لوگ ایسے کیسے کرسکتے ہیں ہم نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا کے دو رومز کی بکنگ ہے
اور آپ لوگوں نے یہی کہا تھا کے رومز کی بکنگ ہوگئ ہے
اور اب آپ کہ رہے ہیں کے ایک روم ہی ہے
اولینا انگلش میں غصے سے بول رہی تھی
جبکے مینجر سوری کے علاؤہ اور کچھ کہ ہی نہیں رہا تھا
الیاس کا پارا ہائی ہوگیا تھا
وہ اپنے قدم اٹھاتا ہوا اولینا کے پاس پہنچا
کیا مسئلہ ہے الیاس غصے سے بولا
سر دو رومز کی بکنگ کی تھی بٹ اب یہ بول رہے ہیں کے ایک روم ہے
اولینا پریشانی سے بولی
تو اب ہم ایک روم تو شئیر نہیں کرسکتے
اور یہ ارنجیمنٹ آپ کی کمپنی نے ہمارے لیۓ کی ہے الیاس کافی زیادہ غصے سے بولا
جبکے لڑکی سر جھکائے بولی
سر ہم کسی اور ہوٹل میں چلتے ہیں اولینا بولی
نہیں اب میں آپ کے ساتھ کسی بھی ہوٹل میں نہی جاؤں گا
آپ مجھے اپنے بوس کا نمبر دیں میں ان سے بات کروں
اولینا کے تو رنگ بھنگ آڑ گۓ تھے
کیونکہ الیاس اور حنین کے آنے کی تمام ارنجیمنٹ اولینا کے زمہ لگائ تھی
اب جبکے الیاس
اولینا کے بوس سے شکایت کرتا تو وہ اپنی جاب سے فائیر ہو جاتی
حنین یہ سب کچھ دیکھ رہی تھی
لیکن جب بوس کی بات آئ اور پھر اولینا کا یو پریشان ہونا حنین سے برداشت نہیں ہوا
کیونکہ حنین کو ایکدم سے اپنی زندگی یاد آگئی
جب اسے جوب کہی نہیں مل رہی تھی تو وہ کتنی پریشان تھی
ہم ایک روم شئیر کر لیں گیں کوئ پروبلم نہیں ہے حنین ایکدم تیز آواز میں بولی
تو الیاس حیرانگی سے حنین کو دیکھنے لگا
لیکن مجھے پروبلم ہے الیاس بولا
سر پلیز ابھی کوئ سکینڈل مت کھڑا کریں کل میٹنگ بھی ہے اب آگے ہمارے پاس کچھ ٹائیم نہیں بچا حنین منت والے انداز میں بولی
الیاس یوں حنین کا رویہ دیکھ کر سکتے میں تھا
وہ لڑکی جو کسی لڑکے تو کیا لڑکی سے بھی بات کرنا پسند نہیں کرتی
وہ ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ روم شئیر کرے گی
Are you Shure
الیاس ایک بار پھر سے اپنی یقین دہانی کرتا ہوا بولا
یس حنین تیز آواز میں بولی
اوکے
الیاس اولینا کو دیکھ کر بولا
تو ویٹر الیاس اولینا اور حنین کو روم میں لے گیا
تینو روم میں کھڑے تھے
تو اولینا دل سے حنین کا شکریہ ادا کر رہی تھی
آپ نے بہت بہت بہت بڑا احسان کیا ہے میرے اوپر
جو میں زندگی بھر بھول نہیں پاؤں گی
اولینا خوشی سے بول کر حنین کو گلے بھی لگا دیا
تھینک یو حنین مسکرا کر بولی
سر اسی ہوٹل کو ہم نے ہمیشہ اپنے خاص مہمانوں کے لیۓ بک کروایا ہوتا ہے
اور کبھی بھی کوئ مسئلہ نہیں ہوا
آج فرسٹ ٹائیم ایسا ہوا ہے اس کے لیۓ میں دل سے معزرت خواہ ہوں
اٹس اوکے الیاس بول کر صوفے پر
پاؤں پر پاؤں رکھ کر بیٹھ گیا
تو اولینا نے انہیں بتایا کے کل انکی میٹنگ بارا بجے سٹارٹ ہوگی سو گیارہ بجے تک لینے پہنچ جاۓ گی
یہ بول کر اولینا روم سے چلی گئ تھی
پونہ گھنٹہ ہوگیا تھا الیاس اپنے موبائل میں مصروف تھا
اور حنین اسی جگہ پر کھڑی تھی
الیاس نے یہ بات نوٹ کی تھی لیکن وہ اگنور کرگیا اور بنا کوئ رسپانس دیۓ اپنے موبائل میں لگا رہا
حنین کی ٹانگیں شل ہوگئ تھی کھڑے ہو ہو کر
(#سبسےپیاراکونہےپاپامیرے_پاپا)
حنین کے نمبر پر کال آنے لگی
پاپا کی رینگ ٹون سن کر الیاس نے حنین کی طرف دیکھا جو الیاس کی طرف ہی دیکھ رہی تھی
اور منہ پورا کا پورا رونے والا بنا تھا
کیونکہ اسکی ٹانگیں بہت درد کر رہی تھی اور بھوک بھی بہت زیادہ لگ رہی تھی
موبائل بج بج کر بند ہوگیا تھا
اور ایک بار پھر سے پاپا والا سور شروع ہوگیا تھا
جاؤ ریسیو کر لو کال
الیاس کھڑے ہوتے ہوئے بولا
الیاس کے الفاظ سنتے ہی حنین نے بیڈ کی طرف دوڑ لگائی
کیونکہ بیڈ پر اس کا بیگ پڑا تھا
اور فٹافٹ کال ریسیو کی
ہیلو اسلام و علیکم حنین بول کر بیڈ پر بیٹھ گئ
آپی آپ پہنچ گئ آذنان بولا
جی میری جان میں پہنچ گئ
حنین مسکراتے ہوئے بولی
اور یہ بھول گئ الیاس سامنے کھڑا اسے ہی دیکھ رہا ہے
کیونکہ اپنے بھائ سے بات کر کے حنین کی ساری تھکان دور ہوگئ تھی
جان کا لفظ سنتے ہی الیاس کے ماتھے پر بل پڑ گۓ
اور غصے سے باہر نکل گیا اور دروازہ صیح زور سے مار کر باہر نکل گیا
دروازا زور سے بند ہونے کی آواز سے حنین کو ہوش آیا الیاس باہر نکل گیا ہے
حنین بیڈ پر پھیل کر لیٹ گئ
اور آپ دونوں آنٹی کو تنگ تو نہیں کر رہے
حنین آذنان سے بولی
نہیں آپی ہم دونوں تنگ نہیں کر رہے
ادھر دو فون مجھے آذان کھینچتے ہوئے بولا
نہیں میں ابھی بات کر رہا ہوں نہ آذنان غصے سے بولا
جبکے آذان نے زبردستی آذنان سے فون کھینچ کر حنین سے بات کرنا شروع کر دی
آپی جعفر بھائ آۓ تھے
اور بہت سارے ٹوایز چاکلیٹس اور بھی بہت کچھ لاۓ تھے
اور وہ کہ رہے تھے کے میں روز اسی طرح آپ لوگوں کے لیۓ چیزیں لاؤں گا
اور آپی کیا پتہ کل وہ ہمیں اپنے ساتھ لے جاۓ
آذان نے پوری بات بتائی
آذان آپ دونوں کو ان سے کچھ بھی نہیں لینا چاہیۓ تھا
حنین پریشانی اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے بولی
آپی ہم نے کہا لی ہے وہ ہمیں خود دے کر چلے گۓ
اور جعفر بھائ آپ کے بارے میں بری بری باتیں کر رہے تھے آذان نے اب رونا شروع کر دیا تھا
رؤ نہی میرے بچے حنین خود رونے والے انداز میں بولی
جعفرکیا بول رہا تھا آپ سے
آپی وہ گالیاں دے رہے تھے اور کہ رہے تھے کے آپ کی آپی ٹھیک نہیں ہیں
وہ ایک امیر لڑکے کے ساتھ پھرتی رہتی ہیں
لیکن جب میری اور آپ کی شادی ہوجاۓ گی
تو میں آپ کی چندہ آپی کو اچھے سے سیٹ کرلوں گا
آذان بول رہا تھا
جب آذنان کی آواز اسے آئ
آذان جعفر بھائ نے منع کیا تھا نہ آپی کو بتانے سے
اب وہ آپ کو بتائیں گیں آذنان بھی ڈرتا ہوا بولا
آذان آپ ایسا کرو فون آنٹی کو دو حنین کھڑے ہوتے ہوئے بولی
تو آذان فٹافٹ فون اپنی میڈ کے پاس لے گیا
ہیلو بیٹا کیسی ہو
آنٹی آپ اس بات کو چھوڑیں آپ اپنی آذان اور آذنان کی پیکنگ کریں
لیکن کیو بیٹا میڈ پریشانی سے بولی
آنٹی آپ پیکنگ کریں میں تھوڑی دیر تک کال کرتی ہوں
حنین نے کہتے ساتھ ہی کال کاٹ دی
اور لائبہ کو کال ملانے لگی
ہیلو لائبہ حنین تیز آواز میں بولی
حنین خیریت تو ہے پریشان لگ رہی ہو
خیریت ہی تو نہیں ہے مجھے تمہاری ہیلپ کی بہت زیادہ ضرورت ہے
بولو کیا ہیلپ چاہیۓ لائبہ چلتے ہوئے بولی
تم کہا ہو اس ٹائیم حنین بولی
میں تو گھر جارہی ہوں
پلیززز لائبہ میرے گھر جاؤ وہاں سے آذان آذنان اور آنٹی کو تین دن کے لیۓ اپنے گھر لے جاؤ پلیززز حنین رونے والے انداز میں بولی
اوکے اوکے میں لے جاتی ہوں ٹینشن نہ لو
میں تمہارے گھر ہی کی طرف جارہی ہوں لائبہ سیدھا حنین کے گھر کی طرف چلتے ہوئے بولی
تھینک یووو سو مچچچچچچ
حنین مسکراتے ہوئے بولی
💕💕
الیاس ہوٹل کے باہر ایسے ہی بینچ پر بیٹھا ہوا تھا
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے
کافی دیر کا وہ بیٹھ بیٹھ کر اکتا گیا تھا اس لیۓ وہ کھڑا ہوگیا
اور روم کی طرف جانے لگا
💕💕
قاسم یار اگر تمہیں وہ اچھی لگتی ہے تو رشتہ لے جاؤ اس کے گھر
اور یقین سے کہ سکتا ہوں کے اتنے اچھے لڑکے کو وہ نہ نہیں کریں گیں
اچھا اللہ کرے ایسا ہی ہو قاسم دل سے بولا
دعا کرنا تم بھی مبین
قاسم بتیس کے بتیس دانت نکالتے ہوئے بولا
ارے واہ واہ ابھی سے اتنی دعائیں اور یہ دیکھو زرا دانت کیسے نکال رہا ہے شہزادہ مبین ٹون مارتے ہوئے بولا
بتادوں یہ جو پیار ہے نہ صرف کچھ دن تک رہتا ہے
پھر بعد یہی کہو گے یار میں تھک گیا ہوں اسے شاپنگ کروا کروا کے
میں تھک گیا ہوں اس کی باتیں سن سن کے
یہ بار بار میرا فون چیک کرتی ہے
یہ ایسا کرتی ہے یہ ویسا کرتی ہے
فلانا تے ڈینگانہ مبین ہنستے ہوئے بولا
نہیں جی میں ایسا کچھ بھی نہیں کہوں گا
میں خود اسے اتنی شاپنگ کرواؤں گا
وہ خود منع کیا کرے گی
میں اپنا فون ڈیلی اسے دیا کروں گا
وہ پھر اسے بھی اٹھانا بند کر دے گی
قاسم بھی اپنی پوری پلینگ سوچتے ہوئے بولا
ماشااللہ میرے بھائ نے تو ابھی سے اتنی پیلینگ کی ہے مبین ہنستا ہوا بولا
ہاں نہ اب اتنی کیوٹ لڑکی کے ساتھ زندگی گزاروں گا تو اسے تکلیف تھوڑی نہ دوں گا
قاسم خوشی سے بولا
💕💕
ہیلو حنین
لائبہ نے حنین کو کال کی
ہاں بولو حنین پریشانی سے بولی
میں بچو اور آنٹی کو لے آئ ہوں
اب تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے اوکے
یار لائبہ مجھے سمجھ نہیں آرہی میں کسطرح تمہارا شکریا ادا کروں
حنین خوش ہوتے ہوئے بولی
کوئ ضرورت نہیں ہے شکریہ وکریہ ادا کرنے کا
بس اپنا خیال رکھو لائبہ ہنستے ہوئے بولی
اچھا لیکن ایک اور بات
آذان اور آذنان کو سکول مت بھیجنا
ٹھیک ہے جناب نہیں بھیجتی ویسے بات کیا ہے جو تم بچو کو ایک دم میرے پاس لانے کا کہ دیا
واپس آکر بتا دوں گی
سٹوری بہت لمبی ہے اوکے جی
آذان اور آذنان کیا کر رہے ہیں
ان دونوں کے لیۓ ماما اور آنٹی کھانے کے لیۓ کچھ بنا رہی ہیں
ہاہاہا اچھا حنین خوش ہوتے ہوۓ بولی
💕💕
الیاس نے جیسے روم کا دروازا کھولا
تو حنین لیٹی ہوئی تھی
ابھی دس منٹ ہی ہوۓ تھے حنین کو سکون کا سانس لیتے ہوۓ
اوۓ الیاس نے دور سے ہی حنین کو آواز دی
حنین کی آنکھ لگی ہوئ تھی
الیاس نے حنین کے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے اسے کھڑا کیا
حنین ایکدم الیاس کی اس حرکت پر گھبرا گئ
کیا ہوا سر حنین پریشانی سے بولی
میرا بلیو کلر کا کاٹن کا سوٹ نکال کر پریس کر کے مجھے دو
الیاس حکم دیتے ہوئے بولا
سر کاٹن کا سوٹ حنین آنکھیں پھاڑتے ہوئے بولی
کیونکہ آفشین صاحبہ اکثر آفاق صاحب کے کاٹن کے سوٹ پریس کرتے وقت گھنٹا لگا دیتی تھی
جی بلکل اور بیس منٹ ہیں آپ کے پاس
الیاس بیڈ پر لیٹتے ہوئے بولا
حنین نے فٹافٹ الیاس کا بیگ کھول کر اس کا سوٹ نکالا
تو سوٹ کی حالت سے لگ رہا تھا وہ پریس ہوا ہے
حنین نے جیسے سوٹ نکال کر استری ڈھونڈی تو وہ نہیں تھی
سر استری نہیں ہے حنین پریشانی سے بولی
الیاس اٹھ کر حنین نے قریب آیا
اور بازو سے کھینچ کر بلکل اپنے سامنے کھڑا کردیا
دونوں میں ایک انچ کا فاصلہ بھی ختم ہو گیا تھا
تمہیں یہ لگتا ہے کے
میں سکینڈل کھڑا کرتا ہوں
الیاس حنین کے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کرتا ہوا بولا
ہیں یہ بات کہاں سے آگئ حنین دل میں بولی
سر وہ میرے منہ سے نکل گیا تھا وہ بھی غلطی سے
حنین اپنا چہرا موڑ کر بولی
کیونکہ حنین کو بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا الیاس کا اتنے قریب آنا
الیاس نے حنین کا چہرہ واپس اپنی طرف موڑا
یہاں دیکھ کر بات کرو چہرہ مت موڑو بار بار الیاس غصے سے لال ہوتا ہوا بولا
حنین کی تو جان نکل رہی تھی
ایک تو حنین کے بازو اس قدر زور سے پکڑے تھے
اور دوسرا الیاس کی شکل دیکھ کر
کیونکہ الیاس کے ماتھے کی رگے بھی باہر آرہی تھی غصے کی وجہ سے
حنین کی ٹانگیں تھر تھر کانپ رہی تھی اور آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آگۓ تھے
الیاس نے حنین کے ہاتھ سے زور سے کپڑے کھینچ کر جانے لگا
اور پھر مڑا
میں نکل کر تم سے بات کرتا ہوں
الیاس بول کر واشروم میں چلاگیا
اور کیا بات کرے گا یہ جنگلی انسان حنین روتے ہوئے اپنے بازو کو دیکھنے لگی
جہاں الیاس کی انگلیوں کے نشان بیت برے طریقے سے چھپے ہوئے تھے
جاری ہے
