No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
حنین بال کٹوا کر مزے سے اپنے آپ کو شیشے میں دیکھ رہی تھی
جبکے الیاس حنین کو دیکھنے لگا
حنین الیاس نے آواز دی
جی سر حنین مسکرا کر بولی
میں نے کل کی فلائیٹ بک کروا دی ہے
کل تین بجے واپسی ہے دوبئ میں
الیاس چلتے ہوئے بولا
جی سر حنین منہ بنا کر بولی
کیونکہ اسے گھومنے جانا تھا
یورپ کے خطرناک رائیڈز لینے تھے
حنین کو ہمیشہ سے وہ ساری چیزیں انجوائے کرنے کا شوق تھا جس سے اسے ڈر لگتا ہے
سر کل کتنے بجے تک ائیرپورٹ تک نکلے گیں
حنین الیاس کو دیکھتے ہوئے بولی
ایک بج کے تیس منٹ پر
الیاس اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر تیز تیز چلنے لگا
سر حنین ہچکچاتے ہوئے بولی
ہممم بولو
الیاس بنا روکے بولا بلکے اور بھی تیز تیز چلنے لگا
حنین نے اب بھاگنا شروع کردیا تھا
اتنا بھی کوئ تیز چلتا ہے بھلا حنین بھاگتے ہوئے دل میں بولی
سر میں پارک جاؤں گی اولینا کے ساتھ
وہی سے سیدھا ائیرپورٹ آجاؤ گی
آپ میرا ویٹ مت کر یۓ گا
آپ نہیں جائیں گی پارک الیاس چلتے چلتے ایکدم روکا اور حنین کو دیکھنے لگا
بٹ سر حنین اداس ہوکر بولی
الیاس نے لیفٹ کا بٹن دبایا
اب لفٹ انہیں اوپر لے کر جانے لگی تھی
اولینا کا کام پروجیکٹ سائین ہونے تک کا تھا
اب اس کی زمہ داری ختم ہو گئی ہے
سو بے فضول لوگوں کو تنگ کرنے سے گریز کریں الیاس بول کر حنین کو دیکھنے لگا
جس کو اپنی انسلٹ کافی فیل ہورہی تھی
اپنی پیکنگ ابھی ہی کرلیں کیونکہ آپ کا سامان بہت زیادہ ہے
الیاس بول کر اپنے روم میں چلا گیا
جبکے حنین بھی مرے قدموں سے اپنے روم میں آئ
اور پھر سارے بیگز بیڈ پر پھینکے اور تین بیگ نکالے
ان میں ساری چیزیں ترتیب سے رکھنا شروع کردی
💕💕
الیاس نے روم میں آتے ساتھ ہی سب سے پہلے اپنا کوٹ اتار کر صوفے پر پھینکا
پھر اپنے شوز اتاریں
فریزر سے کوک کی بوتل نکال کر ٹیبل پر رکھی
سیگریٹ نکال کر وہ بھی ٹیبل پر پھینکی
پھر اپنی شرٹ کے بازو کو فولڈ کر کے اپنے شرٹ کے اوپری چار بٹن کھول دیۓ
کھڑکی سے پردے ہٹا کر صوفے پر بیٹھ گیا
الیاس کے سر میں بہت درد ہونے لگا گیا تھا
اس لیۓ اس نے سیگریٹ نکال کر اس کا کش لگایا
الیاس کی آنکھیں بھی لال ہورہی تھی کیونکہ اسنے تین دن سے اپنی نیند پوری نہیں کی تھی
الیاس کو روکی شیر اور چیتے کی یاد بھی آرہی تھی
کیونکہ اس نے دو دن سے انہیں نہی دیکھا تھا
الیاس سیگریٹ کے کش لگاتے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا
سوچتے سوچتے ہی الیاس کو ہنسی آگئی
💕💕
حنین نے سارے بیگز کی زپ بند کر کے انہیں دروازے کے پیچھے رکھ دیا
پھر حنین اپنے کپڑے چینج کرنے واشروم میں گئ
کچھ دیر میں حنین وضو کر کے باہر آئ
اس نے عشاہ کی نماز ادا کی
تہجد کا وقت بھی ہوا ہوا تھا
اس لیۓ اس نے تہجد بھی ادا کی
دعا مانگ کر حنین نے موبائل اٹھایا
اس میں سے سورت ملک نکال کر پڑھنا شروع کی
تَبَارَكَ الَّـذِىْ بِيَدِهِ الْمُلْكُۖ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ (1) ↖
وہ ذات با برکت ہے جس کے ہاتھ میں سب حکومت ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ (2) ↖
جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کے کام اچھے ہیں اور وہ غالب بخشنے والا ہے۔
اَلَّـذِىْ خَلَقَ سَبْعَ سَـمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَّا تَـرٰى فِىْ خَلْقِ الرَّحْـمٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِــعِ الْبَصَرَ هَلْ تَـرٰى مِنْ فُطُوْرٍ (3) ↖
جس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے، تو رحمان کی اس صنعت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ دوڑا کیا تجھے کوئی شگاف دکھائی دیتا ہے۔
ثُـمَّ ارْجِــعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ (4) ↖
پھر دوبارہ نگاہ کر تیری طرف نگاہ ناکام لوٹ آئے گی اور وہ تھکی ہوئی ہوگی۔
وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَآءَ الـدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُوْمًا لِّلشَّيَاطِيْنِ ۖ وَاَعْتَدْنَا لَـهُـمْ عَذَابَ السَّعِيْـرِ (5) ↖
اور ہم نے دنیا کے آسمان کو چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور ہم نے انہیں شیطانوں کو مارنے کے لیے آلہ بنا دیا ہے اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
وَلِلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِـمْ عَذَابُ جَهَنَّـمَ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيْـرُ (6) ↖
اور جنہوں نے اپنے رب کا انکار کیا ہے ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔
اِذَآ اُلْـقُوْا فِيْـهَا سَـمِعُوْا لَـهَا شَهِيْقًا وَّهِىَ تَفُوْرُ (7) ↖
جب اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کے شور کی آواز سنیں گے اور وہ جوش مارتی ہوگی۔
تَكَادُ تَمَيَّـزُ مِنَ الْغَيْظِ ۖ كُلَّمَآ اُلْقِىَ فِيْـهَا فَوْجٌ سَاَلَـهُـمْ خَزَنَتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ (😎 ↖
ایسا معلوم ہوگا کہ جوش کی وجہ سے ابھی پھٹ پڑے گی، جب اس میں ایک گروہ ڈالا جائے گا تو ان سے دوزخ کے داروغہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا۔
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِيْرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّـٰهُ مِنْ شَيْءٍۚ اِنْ اَنْتُـمْ اِلَّا فِىْ ضَلَالٍ كَبِيْـرٍ (9) ↖
وہ کہیں گے ہاں بے شک ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا پر ہم نے جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا، تم خود بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔
وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْـمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِىٓ اَصْحَابِ السَّعِيْـرِ (10) ↖
اور کہیں گے کہ اگر ہم نے سنا یا سمجھا ہوتا تو ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے۔
اسی طرح حنین نے اپنی پوری سورت کو پڑھا
حنین اس سورت کو اس لیۓ پڑھتی تھی
کیونکہ اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے
جو شخص سورت ملک عشا کی نماز کے بعد پڑھے گا اسے قبر عزاب نہیں ہوگا
سورت پڑھ کر حنین بیڈ پر آکر لیٹ گئ
حنین کو بہت گلٹی فیل ہو رہا تھا کیونکہ
اس نے ویسے ہی الیاس کے سامنے پارک کا ذکر کیا تھا
تو الیاس نے اسے بہت برے طریقے سے اسے منع کیا
حنین سوچتے سوچتے ہی سو گئ تھی💞💞
لائبہ میں آپ کو پسند کرتا ہوں
اور میں جلد ہی اپنے پرنٹس کو آپ کے گھر لاؤں گا
میں کوئ حرام ریلیشن نہیں رکھنا چاہتا
اور میں نہ ہی آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کو کوئ اعتراض تو نہیں ہے
بس میرے پرنٹس کو جواب دے دینا
قاسم بول کر لائبہ کے ہاتھ سے پانی کی بوتلیں لے گیا
جبکے لائبہ قاسم کی اس حرکت پر بلکل شاکڈ ہوگئ تھی
یہ کیا ہوگیا لائبہ خود سے ہی بولی
قاسم سیدھا اپنے کیبن میں چلا گیا
مبین نے اسے دیکھا تو
وہ بھی اٹھ کر اس کے پاس آگیا
کیا ہوا قاسم مبین چئیر کو گھوماتے ہوئے بولا
کچھ نہیں
کچھ دنوں تک پتہ چل جائے گا کے کیا ہونے والا ہے
قاسم پریشانی سے بولا
چل دعا کر جو بھی ہو بہتر ہو مبین دلاسہ دیتے ہوئے بولا
ہمم قاسم بولا
💞💞
حنین سوئی ہوئی تھی
جب اسے محسوس ہوا کہ اس کے روم کا دروازا کوئ کھٹکھٹا رہا ہے
حنین نے ٹائیم دیکھا تو
نو بج کے بیس منٹ ہورہے تھے
پتہ نہیں کون ہے
حنین کھڑے ہوکر اپنی شرٹ ٹھیک کی اور سلیپر پہن کر دروازے کی طرف بڑھی
سر آپ
حنین نے جیسے ہی الیاس کو دیکھا تو اس کی ساری نیند اڑ گئی
جی میں الیاس اسے دیکھتے ہوئے بولا
کیونکہ حنین بہت کیوٹ لگ رہی تھی
بکھرے بال جس کی اس نے ٹیل پونی بنائ ہوئ تھی
نیلی نیلی آنکھیں جو کافی بڑی بڑی لگ رہی تھی
تیار ہو جائیں بریک فاسٹ باہر کریں گیں
اوکے حنین نے بھی آگے سے ہاں کردیا تھا
💕💕
حنین اور الیاس نے بریک فاسٹ کر لیا تھا
اب الیاس حنین کو کہی اور لے کر جارہا تھا
سر ہم کہاں جارہے ہیں
حنین الیاس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بولی
آپ کچھ دیر کے لیۓ خاموش ہو جائیں پتہ چل جاۓ گا کہاں جارہے ہیں
الیاس حنین کو آنکھیں دیکھاتا ہوا بولا
جی سر
یہ انسان ضرورت سے زیادہ ہی میری بیستی نہیں کرنے لگ گیا
حنین دل میں بولی
اوووووووووو ماۓ اللہ حنین حیرانگی سے بولی
الیاس ایک دم روکا اور حنین کو دیکھنے لگ گیا
کیا ہوا الیاس پریشانی سے بولا
کیونکہ اسنے چیخ کر او ماۓ اللہ کہا تھا
سر وہ دیکھیں حنین انگلی دیکھاتے ہوئے بولی
تو الیاس نے ماتھے پر سلوٹیں لاتے ہوئے حنین کی بتائ ہوئی جگہ پر دیکھنے لگا
جہاں ایک لڑکا اور لڑکی طرح طرح کے کرتب کر رہے تھے
لڑکی ایک رسی پر کھڑی تھی
رسی جو کے دونوں طرف سے بندھی ہوئی تھی
اس پر کھڑے ہوکر ناچ رہی تھی
اور لڑکا منہ سے آگ نکال رہا تھا
حنین اس کے لیۓ تم نے اتنا اوور ریاکٹ کیا
الیاس اپنی پیشانی مسلتے ہوئے بولا
ہاں نہ سر حنین اکسائٹیڈ ہوتے ہوئے بولی
اور فٹافٹ اپنے موبائل میں ویڈیو بنانے لگ گئ
حنین اب بس کرو یہ کرتب ان کے ختم ہونے والے نہیں ہے الیاس حنین سے بولا
سر پلیززز دس منٹ اور
پچھلے ایک گھنٹے سے آپ یہی کہ رہی ہو دس منٹ دس منٹ اب بس
الیاس حنین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے لے گیا
سر پلیز نہ دس منٹ حنین اب بھی ضد کر رہی تھی
لیکن الیاس نے ایک بھی نہیں سنی
💕💕
سر آپ تو پارک لے کر آئیں ہے مجھے
حنین پورے پارک دیکھتے ہوئے ہنستے ہوئے بولی
او سوری لگتا ہے غلطی سے لے آیا
الیاس مسکراتا ہوا بولا
اس ٹائیم حنین بھول گئ تھی
کے الیاس کیا بول رہا ہے اور اس نے کل رات کیا بولا تھا
سر میں نے وہ والا رائیڈ لینا ہے حنین ایک کونے والے رائیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
(#فالکن_فیوری)
الیاس فالکن فیوری کو دیکھتے ہوئے بولا
جی جی وہی حنین ہنستے ہوئے بولی
آپ ڈر جائیں گی حنین وہ بہت زیادہ ڈینجرس ہے
الیاس حقیقت بیان کرتے ہوئے بولا
نہیں ڈرتی سر پلیز مت روکیں حنین منہ بنا کر بولی
دیکھ لو بعد میں ہارٹ فیل ہوگیا تو اس کا ذمے دار میں نہیں ہوں
الیاس بولا
اوکے حنین بولی
الیاس دو ٹکٹز لے آیا تھا اور دونوں اپنی اپنی چئیر پر بیٹھ گۓ
اب آہستہ آہستہ جھولا تین سو فٹ اوپر ہوگیا تھا
جھولے کو اوپر لے جانے کے بعد سیٹوں کو ایک سو تیس ڈگری پر بینڈ کردیا گیا ۔اور پھر ایک جھٹکے سے سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سےان کو نیچے آنے کے لیۓ چھوڑ دیا
جیسے ہی جھولا نیچے آنے لگا تو اس پر بیٹھے تمام افراد کی چیخے جن میں حنین بھی شامل تھی پورا پارک سننے لگا
الیاس نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر دی تھی
جھولے کا دورانیہ صرف پانچ سیکنڈ کا تھا
لیکن اس جھولے پر بیٹھنے والوں کے لیۓ یہ جھولا کسی ایڈوینچر سے کم نہیں تھا
حنین اور الیاس جھولا لے کر اترے اور ساتھ ہی زمین پر بیٹھ گۓ
حنین آر یو اوکے الیاس حنین کو دیکھتے ہوئے بولا
جو اپنا سر گھٹنوں میں دیۓ بیٹھی ہوئی تھی
یس سر حنین سر اٹھاتے ہوئے بولی
لیکن الیاس نے جیسے ہی حنین کو شکل دیکھی تو زور زور سے کہکے مار کر ہنسنے لگ گیا
کیا ہوا سر حنین الیاس کو دیکھتے ہوئے بولی
شکل دیکھی ہے اپنی الیاس اپنے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
کیوں کیا ہوا
حنین نے ساتھ ہی اپنے فون کا فرنٹ کیمرا اون کیا
جب دیکھا تو اس کا چہرہ لال سرخ ہوا تھا
اور بال بھی سارے آڑے ہوئے تھے
سر اسے چھوڑیں حنین فون پاکٹ میں رکھتے ہوئے بولی
ایک اور رائیڈ بھی لیتے ہیں حنین آنکھوں کو چھوٹا کرتے ہوئے بولی
اوکے کونسا الیاس نے بنا کسی بحس کے پوچھ لیا
کیونکہ وہ جانتا تھا رائیڈ تو حنین لے گی اس لیۓ بحس کا کوئی فائیدہ نہیں
وہ والا حنین پھر سے اشارہ کرتے ہوئے بولی
حنین وہ وہ کیا ہوتا ہے نام لیا کرو ان سب رائیڈز کا الیاس غصے سے بولا
نہیں آتے حنین اپنا سر نیچے کرتے ہوئے بولی
اوکے چلو کونسا جلدی بتاؤ اور یہ لاسٹ ہے اس کے بعد ائیر پورٹ نکلنا ہے
الیاس اپنی گھڑی کو دیکھتے ہوئے بولا
اوکے وہ رہا حنین چہکتے ہوئے بولی
بنکے رولر کوسٹر الیاس نام لے کر ٹکٹ لینے چلا گیا
ارے واہ سر کو تو اتنے مشکل مشکل نام آتے ہیں وہ بھی سارے حنین حیرانگی سے بولی
حنین کو دلچسپی نہیں تھی جھولوں کے نام سے اسے تو بس جھولوں پر بیٹھنے میں دلچسپی تھی
الیاس اور حنین اب رولر کوسٹر میں بیٹھ گۓ تھے
یہ رولر کوسٹر دنیا کی سب سے طویل رولر کوسٹر ہے
الٹے سیدھے اور بلند ٹریک چار ہزار ایک سو چوبیس فٹ لمبی رولر کوسٹر کو اور خطرناک بنا دیتے ہیں
رولر کوسٹر نے آہستہ آہستہ چلنا شروع کردیا تھا
حنین کافی انجوائے کر رہی تھی
جبکے الیاس اچھے سے جانتا تھا آگے کیا ہونے والا ہے
لیکن جب اس رولر کوسٹر نے اپنی فل اسپیڈ یعنی ایک سو بیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنا شروع کیا تو حنین کی چیخے ساتویں آسمان پر تھی
اس رولر کوسٹر کی میکسیمم ہائیٹ دو سو آٹھ فٹ ہے ساڑھے چھ فٹ سے لمبے اور ساڑے چار فٹ سے چھوٹے لوگ اس جھولے میں نہیں بیٹھ سکتے
حنین تو خیر پانچ فٹ پانچ انچ کی ہے
جھولا جب راونڈ راؤنڈ گھوم رہا تھا تب حنین کو چکر آرہے تھے
پر جھولے نے اوپر سے نیچے نیچے سے اوپر اور تیڑا میڑا چلنا شروع کیا تو
حنین کی عقل ٹھیکانے لگی
الیاس اور حنین جھولے سے اترے تو
الیاس کو حنین کی طبعیت ٹھیک نہیں لگی
اس لیۓ وہ اسے سیدھا کینٹین لے گیا
وہاں حنین کو کھلایا پلایا تو
اس کی طبعیت درست ہوئ
اگر آپ کی طبعیت ٹھیک ہے تو چلیں ائیر پورٹ الیاس حنین کو دیکھ کر بولا
جی سر میں ٹھیک ہوں حنین مسکرا کر بولی
کیونکہ الیاس نے اس کی بہت ساری باتیں مانی تھی
اوکے الیاس بھی مسکرا کر بولا
💕💕
آذان آپ لوگوں کی آپی آنے والی ہے
لائبہ آذان اور آذنان کو خوشخبری سناتے ہوئے بولی
سچی لائبہ آپی آذان اور آذنان چیخ کر بولے
مچی لائبہ بھی ہنستے ہوئے بولی
اووو یسسسس آذان کلیپ کرتے ہوئے بولا
حنین نے لائبہ کو بتا دیا تھا کے وہ کچھ دیر میں پہنچ جائیں گیں
اس لیۓ لائبہ نے بچو کو بھی بتا دیا
💕💕
حنین اب آفس تو نہیں جاسکتے سو آپ نے جہاں جانا ہے بتا دیں میں آپ کو ڈراپ کر دوں
الیاس اور حنین دوبئ پہنچ گۓ تھے
الیاس اپنی کار میں بیٹھا تھا
حنین سے اس کے گھر کا ایڈریس پوچھ رہا تھا تا کے وہ اس کو اسکے گھر ڈراپ کردے
حنین نے الیاس کو لائبہ کے گھر کا ایڈریس بتایا کیونکہ وہ بچو کو لے سیدھا اپنے گھر جانا چاہتی تھی
الیاس نے ہلکی سی آواز میں نصرت فتح علی خان کا گانا لگایا ہوا تھا
( فصلے پوچھے ہے شراب پیجے پیجے پیجے)
اور ساتھ ہی سیگریٹ بھی جلا دی تھی
حنین الیاس کو دیکھ رہی جو سیگریٹ اپنے ہونٹوں سے لگاۓ ہوۓ تھا ۔
حنین نے تو اسی دن سے یہ سب چیزیں چھوڑ دی تھی جب آفاق صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا
اسی دن سے حنین کو ان چیزوں سے نفرت ہوگئ تھی
حنین الیاس نے حنین کو آواز دی جو سر ٹیکاۓ آنکھیں موندے بیٹھی ہوئی تھی
حنین الیاس نے کار کے ڈزبورڈ پر زور سے مارتے ہوۓ آواز دی
جی جی سر حنین اٹھتے ہوئے بولی
آگیا ہے آپ کا گھر الیاس گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
جی تھینک یو سو مچ سر حنین الیاس کا دل سے شکریا ادا کرتے ہوئے بولی
ویلم الیاس سیگریٹ باہر پھینکتے ہوئے بولا
💕💕
اپیییی آذان اور آذنان چیختے ہوئے بولے
اور حنین کے گلے لگ گۓ
آپی کی جان حنین دونوں بھائیوں کے گال پر کس کرتے ہوئے بولی
بچو سے ملنے کے بعد حنین لائبہ نرگس اور اپنی میڈ سے گلے ملی
جاری ہے
