Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 9
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 9
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
شاہ آج بہت خوش تھا ۔ حمنہ اور ہادی آج اس کے ساتھ واپس جا رہے تھے اس کی فیملی مکمل ہونے والی تھی ۔ وہ معمول سے پہلے جاگا تھا اور تیار ہو کر بار بار خود کو آئینے میں دیکھ کر تسلی کر رہا تھا کہ وہ اچھا لگ رہا ہے یا نہیں۔ وہ کنفیوژ ہو رہا تھا ایسے جیسے پہلی بار کوئی لڑکا شادی کے لیےلڑکی دیکھنے کے لیے جا رہا ہو ۔ اپنی سوچ پر وہ خود ہی مسکرا دیا۔ تیار ہو کر وہ باہر نکلا اور گاڑی سٹارٹ کر کے حمنہ کے گھر کی طرف موڑ دی ۔ پورا راستہ بے چینی سے گزرا تھا ۔ سارا راستہ وہ بس انہی کے بارے ميں سوچتا رہا اور اب وہ اپنی منزل کے سامنے کھڑا تھا ۔ گاڑی سے اتر کر اس نے بیل بجائی اور دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔ ایک لمحے کے لیے اسے خیال آیا کہ اگر وہ یہاں سے بھی چلی گئی تو وہ کیا کرے گا اور ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ رشیدہ خالہ نے دروازہ کھول دیا اس نے گہرا سانس لیا اور شکر ادا کیا کہ وہ جو سوچ رہا تھا ویسا کچھ نہیں تھا ۔وہ انہیں سلام کرتا اندر چلا گیا ۔ حمنہ لاؤنچ میں بیٹھی ہادی کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔ ہادی کی فرمائش پر وہ اسے پینٹنگ کلر کھول کر پینٹنگ کرنا سکھا رہی تھی جو اسے خود بھی نہیں آتی تھی ۔
” ماما یہ ایسے نہیں ہوتا آپ دلط(غلط) کر رہی ہیں ۔” ہادی چیخا تھا ۔ کیونکہ وہ پانچویں بار درخت کے نام پر کچھ الگ ہی عجوبہ بنا چکی تھی ۔
” ہادی یہ ایسے ہی ہے ۔ بس ہمارا درخت ایسا ہی ہو گا۔” وہ تھک گئی تھی بار بار اس کو بنا کر اس لیے اب ہار مانتے ہوئے تھک کر اسے ٹالنا چاہا۔
” ماما سو سید(سیڈ) آپ کو یہ بھی نہیں بنانے آتا ؟” ہادی نے افسوس سےاس کی جانب دیکھا اسےسچ میں افسوس ہوا تھا اپنی ماں کی پینٹنگ دیکھ کر۔ وہ جو کب سے کھڑا دونوں کی نوک جھونک دیکھ رہا تھا حمنہ کی بنائی پینٹنگ دیکھ کر اس کی ہسی روکنا مشکل ہو گیا اور اس کا قہقہہ بلند ہوا جس پر حمنہ اور ہادی اس کی طرف متوجہ ہوۓ ۔ وہ جانے کب سے ان کو دیکھ رہا تھا ۔ اس کو ہستے دیکھ کر حمنہ کا چہرہ خفت سے سرخ ہو گیا تھا ۔
” واؤؤؤؤ ! یار اس پینٹنگ کو تو بائی گاڈ ایگزیبیشن کے لیے رکھنا چاہیے قسم سے بڑے بڑے آرٹسٹس بھی اپنے فن کی اس قدر توہین دیکھ کر خود کشی کر لیں گے ۔” وہ چہرے پر مصنوعی سنجیدگی طاری کرتے ہوئے آخر میں شرارت سے بولا۔ حمنہ جو پہلے ہی اس کے ہسنے پر چڑی ہوئی تھی مزید اپنی تعریف سن نہ سکی اور پاس پڑے واٹر کلر اٹھا کر اس پر پھینک دیے۔
” ذیادہ کھی کھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اتنے تم تیس مار خان ہو تو خود آ کر بنا دو نا۔ تمہارا بھی کچھ حق بنتا ہے۔” وہ غصے کہتی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ شاہ جو اپنی سفید شرٹ پر جا بجا دھبے دیکھ کر شاک میں تھا کہ وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے اس کے ساتھ۔اس کی آواز سےاس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔
” ایک تو تم تھوڑی سی تمیز سیکھ لو مجازی خدا ہوں تمہارا آپ بولا کرو اور دوسرا جہاں تک حق کی بات رہی تو وہ تو اور بھی بہت ہیں میرے۔”وہ ذومعنی لہجے میں بولتا اس کے قریب آیا۔ حمنہ اسےاتنا قریب دیکھ کر گھبرا گئی اور دور ہٹنا چاہا۔ شاہ نے اس کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اس کے گرد اپنے بازو لپیٹے ۔حمنہ نے فوراً ہادی کی طرف دیکھا وہ اپنے کھیل میں مصروف تھا اسے اپنی طرف متوجہ نہ پا کر حمنہ نے سکھ کا سانس بھرا۔شاہ نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا اور سمجھ گیا کہ وہ کیا دیکھ رہی تھی ۔
” فکر مت کرو بیوی ہو تم میری۔ کوئی چوری نہیں کر رہا” وہ اس کے کان کے قریب آ کر سرگوشی کے انداز میں بولا۔ حمنہ جو ہادی کو دیکھنے میں یہ بھول ہی گئی تھی کہ وہ اس وقت اس کے کتنے قریب کھڑا ہے اس کی آواز پر ہوش میں آئی اور ایک دم شرم سے سرخ ہوتے ہوئے دور ہٹی۔
” ویسے تم جیسا بےمروت نہیں دیکھا۔” شاہ اسکے دور ہونے پر مسکرا کر بولا ۔ حمنہ نے نا سمجھی سے شاہ کی جانب دیکھا ۔
” مطلب گھر میں بندہ آئے تو بندہ چاۓ پانی پوچھ لیتا ہے۔یا پھر بس آج ایسے ہی کھڑا رہ کر دوسروں کو مشکل میں ڈالنے کا ارادہ ہے ؟” وہ شرارت سے بولا اور حمنہ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر وہاں رکی نہیں تھی ۔شاہ اسے یوں جاتا دیکھ کر کھل کے مسکرا دیا ۔
ہانی اب اندھیرے میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی تاکہ وقت آنے پر وہ اپنی حفاظت کر سکے۔ جیسے انسان کا رزق اس کے پیدا ہونے سے پہلے لکھ ديا جاتا ہے لیکن اس کو حاصل کرنے کے لیے اسے تگ و دو کرنی پڑتی ہے اسے بھی اپنے رب پر یقین تھا کہ وہ اسے اس مصیبت سے بچائے گا لیکن اسے خود بھی ہمت کرنی تھی تاکہ وہ اس مصیبت سے جان چھڑا سکے۔ اندھیرے میں ڈھونڈتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اچانک کچھ کچھ لگا درد سے اس کی سسکی نکلی ۔اندھیرے میں بھی وہ اندازہ لگا سکتی تھی کہ اس کا ہاتھ کسی چیز سے کٹا ہے ۔ ایک دم سے اس کے ذہن میں کچھ خیال آیا اور وہ وہیں نیچے بیٹھ گئی جہاں اس کا ہاتھ زخمی ہوا تھا ۔
سجاول بی جان کے کمرے سے نکلنے کے بعد سیدھا کوٹھڑی کی جانب بڑھ گیا ۔ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو پوری طرح سے اندھیرا تھا جس کے سبب اسے کچھ نظر نہیں آیا ۔ہانی نے دروازہ کھلنے کی آواز سنی تو چوکنی ہو کر بیٹھ گئی ۔ سجاول نے ہاتھ بڑھا کر دروازے کے پیچھے لگے بورڈ کو ٹٹول کر بٹن دبایا اور ایک دم سے ہر طرف روشنی پھیل گئی۔ کافی دیر اندھیرے میں رہنے کی وجہ سے ہانی کی آنکھیں ایک دم تیز روشنی کی وجہ سے بند ہوئی تھیں ۔ لیکن جلد ہی خود پر کسی نظروں کو محسوس کر کے اس نے فوراً آنکھیں کھولیں اور سامنے کھڑے سجاول کو دیکھ کر اس ک اوسان خطا ہونے لگے۔ وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھ کر چند قدم پیچھے ہوئی۔ سجاول جس کا ارادہ فلحال ہانی کو وہاں سے ہٹانے کا تھا ۔ لیکن ہانی کو دیکھ کے اس کے اندر کا شیطان پھر سے جاگ گیا تھا ۔ وہ خطرناک تیوروں کے ساتھ اس کی جانب بڑھ رہا تھا ۔
” دددیکھو مم مجھ سے دور رہو سمجھے۔” ہانی نے اسے اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر کہا۔ سجاول نےاس بات سن کر مکروہ قہقہہ لگایا ۔
” اچھا ورنہ تم کیا کرو گی ؟” وہ اس کی حالت سے محفوظ ہوتا ہوا کمینگی سے بولا۔
” مم میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گی ۔ دور رہو” ہانی پھر سے چلائی ۔
” آہ ! چلو اب بس بھی کرو یہ ڈرامہ ۔ تم اچھی طرح جانتی ہو اب میری قید سے تم کہیں نہیں جا سکتی ۔ اس لیے یہ رونہ دھونا بند کرو۔” سجاول اس کے رونے سے تنگ آ کر دھاڑا۔
” تمہیں زرا بھی خدا کا خوف نہیں ہے ۔ ڈرو اس ذات سے کیا تمہاری کوئی بیٹی نہیں ہے ۔سوچو اگر اس کے ساتھ یہ سب ہو تو کیا کر۔۔۔” چٹاخ! ہانی اپنی بات بھی ہوری نہیں کر پائی جب سجاول کا غصہ ساتویں آسمان سے باتیں کرنے لگا ۔ تھپڑ اتنے زور سے لگا تھا کہ ہانی اپنے قدموں پر کھڑی نہیں رہ پائی اور ذمین پر جا کر گری ۔ ہونٹ کا کنارہ پھٹ چکا تھا اور سر کسی چیز سے ٹکرانے کی وجہ سے ہلکا ہلکا خون رسنے لگا تھا ۔وہ وحشیوں کی طرح اس کی جانب لپکا اور بالوں سے پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔
” خبردار ! جو اپنی زبان سے میری بیٹی کے بارے میں ایک لفظ بھی نکالا جان سے مار دوں گا ۔ وہ سجاول کی بیٹی ہے کوئی اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے تو آنکھیں نکال دوں گا اس کی” اپنی بیٹی پر بات آئی تو غصہ آ گیا تھا کیا وہ کسی کی بیٹی نہیں تھی ۔ ہانی نے تکلیف سے آنکھیں میچ لیں جب اچانک اسے کچھ یاد آیا ۔اس نے جلدی سے نظریں ادھر اُدھر دوڑائیں اور جلد ہو اپنی مطلوبہ چیز دیکھ کر پوری طاقت سے سجاول سے اپنا آپ چھڑاتی ہوئی اس جانب بھاگی ۔ سجاول سے اپنا آپ چھڑاتے ہوئے اس کا دوپٹہ گر چکا تھا اور قمیض بھی قندھے سے پھٹ گئی تھی لیکن اسے اس وقت صرف اپنی جان بچانے کی پرواہ تھی ۔سجاول اس کے پیچھے لپکا اس سے پہلے وہ دوبارہ اسے پکڑتا ہانی نے پوری قوت سے کانچ کی ٹوٹی ہوئی بوتل اس کے سر میں پیوست کر دی۔ وہی بوتل حو کچھ دیر پہلے اس کا ہاتھ کاٹ چکی تھی اب اس کی جان بچانے میں مدد دی لیکن اب وہ شاید صحیح معنوں میں مشکل میں پھنسی تھی ۔ سجاول اس اچانک افتاد کے لیے بلکل تیار نہیں تھا ۔ سر سے خون کا فوارہ بہ نکلا ۔ اور وہ آہستہ آہستہ حوش و خورد سے بیگانہ ہوتا زمین پر گرتا چلا گیا ۔ ہانی کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ اس کی حالت دیکھ کر وہ ڈر گئی۔
اگر وہ مر گیا تو ! تو کیا ہو گا اس کے ساتھ پولیس” نہیں نہیں میں یہاں سے بھاگ جاؤں گی ۔ پھر کوئی مجھے کہیں نہیں لے کر جاۓ گا۔” پولیس اور سجاول کے مرنے کا سوچ کر ہی اس کے اوسان خطا ہونے لگے۔ وہ بنا دوپٹے کی پرواہ کیے نگے پاؤں وہاں سے بھاگی وہ جلد از جلد یہاں سے دور چلی جانا چاہتی تھی ۔ ورتے ہوۓ بھاگنے کی وجہ سے اسے کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا جب اچانک وہ کسی زورداز چیز سے ٹکرائی اور کسی نے اسے تھام کر گرنے سے بچایا تھا
وہ جب سمیرا کو اس کے گھر چھوڑنے آیا تو سامنے کا منظر ان دونوں کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی تھا ۔ پولیس وین ابھی ابھی سمیرا کے گھر کے پاس سے گزری تھی ۔اندر سے کسی کے چیخنے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ سمیرا نے گھبرا کر ساتھ کھڑے ذولقرنین کو دیکھا جو اسی کی طرف دیکھ رہا تھا اسے اپنی طرف دیکھتے پا کر اس نے فوراً اس کا ہاتھ تھاما جس سے سمیرا اور ذیادہ گھبرا گئی ۔
” فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جاۓ گا. میں ان لوگوں سے بات کروں گا۔” اسے تسلی دیتا وہ اس کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔ اندر بیٹھے نفوس جو ایک دوسرے کو طعنے دے رہے تھے ان دونوں کو دیکھ کر ایک دم خاموش ہوۓ ۔
” تم کہاں گئی تھی ۔ پوری رات گھر سے غائب تھی ۔ کوئی پتہ نہیں تھا تمہارا ہر جگہ تمہیں ڈھونڈا۔” سب سے پہلے اس کے بابا صفدر صاحب گرج دار آواز میں بولے۔ سمیرا کے تو فرشتے بھی چھوڑ گئے ۔ ڈر کے مارے اس بولا ہی نہ گیا۔ جب ذولقرنین بولنے ہی لگا تو سمیرا کی ہونے والی ساس بول اُٹھیں ۔
” ارے اس کیا پوچھتے ہو صفدر میاں۔ یہ جو ساتھ لے کر آیا ہے تمہیں نظر نہیں آ رہا کیا اسی کے ساتھ گئی ہو گی۔ ارے میں پوچھتی ہوں جب میرے بیٹے سے شادی ہی نہیں کرنی تھی تو یہ منگنی کا ناٹک کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ارے. پورے خاندان میں ہمیں ذلیل کروا دیا اس لڑکی نے ۔ ارے یہ۔۔”
” بس اب ایک لفظ اور نہیں سنوں گا میں ہماری بات تو سن لیں آپ لوگ۔” ذولقرنین کی برداشت یہیں تک تھی اس نے چلا کر انہیں خاموش کروایا۔ وہ مزید کچھ کہنے ہی والا تھا جب صفدر صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے خاموش کروا دیا
” دیکھو لڑکے میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو ۔ کہاں سے آئے ہو اور تم لوگوں کے ساتھ کیا ہوا اور نہ ہی میں جاننا چاہتا ہوں ۔بس تم اسے لو اور ابھی اسی اقت یہاں سے سے نکل جاؤ۔” صفدر صاحب نے گویا کوئی دھماکہ کیا ۔ سمیرا اپنے باپ کا یہ روپ دیکھ کر صدمے سے گنگ رہ گئی ۔ اس میں تو اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی ہمت بھی نہیں بچی تھی ۔
