Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 14
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 14
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
شاہ تھکے قدموں سے چلتا واپس اپنے فلیٹ پر آ گیا تھا ۔ایک ایک قدم بوجھل ہوا جا رہا تھا ۔اسے اپنی ہر خطا یاد آ رہی تھی ۔ کتنی تکلیف دی تھی اسنے حمنہ کو ایک امید تھی اسے کہ وہ ان کے رشتے کو ایک موقع اور دے گی لیکن آج اس کا سرد رویہ دیکھ کر شاہ کو اپنی امید ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی ۔لیکن وہ اتنی آسانی سے ہار ماننے والا نہیں تھا ۔
” جہاں اتنے سال تمہارا انتظار کیا ہے مسز حمنہ شاہ !وہاں تھوڑا اور سہی۔ لیکن اس بار میں تمہیں کہیں جانے نہ دوں گا۔” شاہ خیالوں میں اس سے مخاطب تھا ۔ اور مسکرا کر آنکھیں موند لیں۔
شاہ کے جانے کے بعد حمنہ ہادی کو لے کر روم ميں آ گئی ۔ لیکن اس نے ہادی سے اس سارے معاملے کے متعلق کوئی بات نہیں کی تھی ۔ وہ بچا ہوا سامان پیک کرنے لگی کیونکہ کل انہیں واپس وہیں جانا تھا جہاں سے کچھ سال پہلے وہ اپنی اور ہادی کی جان بچانے کے لیے بھاگی تھی ۔ یہ سب اس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا لیکن اپنے بیٹے کے لیے اسے یہ کڑوا گھونٹ پینا تھا ۔
” ماما آپ مجھ سے ناراض ہیں ؟” ہادی نے جب اسے اپنی خاموش دیکھا تو ہوچھے بنا رہ نہ سکا۔ حمنہ نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا کتنا ڈر گئی تھی آج وہ ۔
” نہیں میری جان ماما اپنے شہزادے سے کیسے ناراض ہے سکتی ہیں۔ ” حمنہ نے پیار سے اسے پاس بٹھا کر اس کے بال سہلاتے ہوۓ کہا۔
” تو پھر آپ بابا کو دانت (ڈانٹ) کیوں رہی تھیں ؟” ہادی کی سمجھ میں اب تک اس کے غصے کی وجہ نہیں آئی تھی ۔
” اس لیے کہ آپ لوگ مجھے بتائے بغیر چلے گئے تھے نا ۔” حمنہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
” آپ اس لیے ناراض تھیں کہ ہم لود(لوگ) آپ کو آئسکریم کھلانے نہیں لے کر دئے(گئے).” ہادی کی جتنا سمجھ میں آیا اس نے اپنی سمجھ کے مطابق یہی وجہ نکالی تھی حمنہ کے غصے کی۔ حمنہ ہادی کی معصومیت پر بس مسکرا کر رہ گئی ۔
” سوری ماما پکا پرامس آئندہ آپ کو ساتھ لے کر جاؤں دا(گا)۔” ہادی نے اس کی ناراضگی ختم کرنے کے لیے فوراً کہا تھا ۔
” اچھا تو آج کیوں نہیں لے کر گئے ؟” حمنہ اب ناراضگی بھول کر ہوری طرح سے صرف ہادی کی طرف نتوجہ ہو گئی تھی وہ اس کے ذہن سے آج ہوئی باتیں نکالنا چاہتی تھی ۔
” آج تو بابا نے مجھے تریت(ٹریٹ) دی تھی نام” ہادی یاد آنے پر فوراً بولا تھا ۔
” اچھا کس بات کی ٹریٹ؟” حمنہ نے آئبرو اچکا کر پوچھا تھا ۔
” وہ میں آپ کر نہیں بتا سکتا نا۔” ہادی نے منہ بناتے ہوئے گویا اپنی مجبوری بتائی۔
” کیوں بھئی ایسی کون سی بات یے جو مجھے نہیں بتائی جا سکتی۔” حمنہ اس کو تنگ کرنے کے موڈ میں تھی ۔
” بس ہے نا ماما اچھے بچے ہر بات نہیں پوچھتے۔” وہ اس کو بڑوں کی طرح سمجھاتا باہر بھاگا تھا اور حمنہ کا قہقہ بے ساختہ نکلا تھا اس کی چالاکی دیکھ کر۔
اظہار صاحب بوجھل قدموں سے واپس اندر کی طرف آئے ۔ اور صوفے پر خاموشی سے بیٹھ گئے ۔ ہانی کو ان کا چہرہ دیکھ کر تشویش ہوئی تھی وہ فوراً اُٹھ کر ان کے پاس آئی تھی ۔ زین بھی ان کے پیچھے ہی اندر داخل ہوا تھا وہ چاہ کر بھی واپس نہ جا سکا تھا ۔
” کیا ہوا بابا کون تھا باہر ۔ اور آپ اتنے پریشان کیوں ہیں ؟” ہانی سے ان کی پریشانی برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔ اور باہر ہوتے شور سے بھی وہ خائف تھی ۔ اظہار صاحب نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور دکھی لہجے میں بولے۔
” دعا کرنا بیٹا تمہارے بابا تمہاری حفاظت کر سکیں۔” اتنا کہتے ہی وہ رُکے نہیں تھے اور باہر کی جانب چل دیے جاتے جاتے انہوں نے زین کع بھی ساتھ آنے کا اشارہ کر دیا تھا ۔ ہانی بس ان کو جاتا دیکھتی رہی ۔
اظہار صاحب زین کے ساتھ سر پنچ کے گھر پہنچے تھے ۔ علاقے کے معززین پہلے سے پنچایت لگائے بیٹھے انہی کا انتظار کر رہے تھے ۔ ان سب کے چہرے دیکھ کر اظہار صاحب کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا ۔ جیسے وہ ان کے آنے سے پہلے ہی کوئی فیصلہ کر کے بیٹھے تھے ۔
” آؤ اظہار سب تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے ۔ تم جانتے ہیں ہو آج پنچایت لگنے کی وجہ۔” سر پنچ نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بات کا آغاز کیا ۔
” جی جانتا ہوں ۔” وہ بس جواب میں اتنا ہی کہہ سکے تھے ۔
” پھر تو تمہیں یہ بھی پتہ ہونا چاہئے جو فیصلہ پنچایت کرے گی وہ تمہیں ہر حال میں ماننا ہو گا۔” وہ ان کی طرف دیکھ کر تصدیق کرنا چاہتے تھے ۔
” جی ۔” یہ ایک لفظی جواب دیتے ہوئے وہ اندر تک کانہ گئے تھے کہ ناجانے اب کیا فیصلہ ہو گا۔
” تو سُنو تمہاری بیٹی رات بھر غائب رہی ہے اور کوئی بھی شریف انسان اب اس کو قبول نہیں کرے گا۔” سر پنچ نے بات شروع کی لیکن اظہار صاحب کو لگا جیسے یہ بات کر کے اس نے ان کے دل میں خنجر پیوست کیا ہو ۔
” آپ میری بہیٹی پر الزام لگا رہے ہیں ۔” وہ کمزور سا احتجاج کرتے ہوئے بولے جانتے تھے کوئی ان کی بات نہیں سُنے گا۔
” دیکھو اظہار کوئی الزام نہیں لگا رہے ہم لوگ حو دیکھا رہی کہہ رہے ہیں ۔ تمہاری بیٹی نے تمہیں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ہے ۔ اس لیے ہم سب نے فیصلہ کیا ہے کہ تمہاری بیٹی کا نکاح میں اپنے بیٹے سے کرنے کے لیے تیار ہوں ۔ عزت سب کی سانجھی ہے اس لیے تمہیں مزید رسوائی سے بچانے کے لیے یہ فیصلہ سب کا مشترکہ ہے۔” وہ گویا اظہار صاحب کر سر پر دھماکہ کر رہے تھے وہ ششدر سا ان کا منہ دیکھنے لگے۔ جب کچھ دیر بعد بولنے کے قابل ہوئے ۔
” ایسا ہر گز نہیں ہو گا ۔ تمہارے اس آوارہ بیٹے کو میں اپنی بیٹی ہر گز نہیں دوں گا سمجھے تم۔” وہ غصے سے پھٹ پڑے تھے ۔
” تو کون کرے گا تمہاری لڑکی سے شادی بولو؟” سر پنچ کو بھری محفل میں اپنے بیٹے کے لیے کیے گئے الفاظ پسند تو نہ آئے تھے لیکن اس وقت عہ بنی بنائی بات بگاڑنا نہیں چاہتے تھے اسی لیے غصہ ضبط کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں بولے۔ ” کوئی نہ کرے لیکن میں اس رشتے کے لیے بلکل نہیں مانوں گا۔” وہ چلائے تھے ۔
” دیکھو ایک بار ٹھنڈے دماغ سے سوچو اب کون بیاہے گا اس کو یہ لڑکا جس کے ساتھ وہ بھاگ گئی تھی ؟ نہیں کبھی بھی نہیں اگر اس نے اپنانا ہوتا تو کبھی اس کو چھوڑ کر نا جاتا۔” وہ ان کو ہر طرح سے ٹارچر کر رہے تھے ۔
” ایک اور بات غور سے سن لو اگر تمہیں یہ رشتہ منظور نہیں ہے تو اس لڑکی کو ابھی اسی وقت اس علاقے سے نکالو ورنہ اس کے لیے اچھا نہیں ہو گا پھر ہم میں سے کسی سے شکوہ مت کرنا” انہوں نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی۔ مزید احتجاج کرنے کی اظہار صاحب میں ہمت نہیں تھی ۔ وہ خاموشی سے ایک فیصلہ کر کے وہاں سے اٹھے تھے ۔ زین اس سارے معاملے کے دوران ایک لفظ نہیں بولا تھا وہ بس جلد از جلد اپنی جان چھڑا کر وہاں سے نکلنا چاہتا تھا لیکن اس مجبور باپ کع دیکھ کر اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی واپس جانے کی۔
گھر پہنچتے ہی اظہار صاحب نے سب کو اندر جانے کا کہا اور زین سے مخاطب ہوۓ ۔
” مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔” وہ ہارے ہوئے لہجے میں زین سے بولے۔
” جی کہیں میں سن رہا ہوں ۔” زین بس اتنا ہی کہہ سکا۔
اظہار صاحب کو سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ بات کیسے شروع کریں ۔ آخر ایک بیٹی کا باپ خود سے کیسے کہہ سکتا تھا لیکن اس وقت وہ مجبور تھے اپنی بیٹی کو ان درندوں سے بچانے کے لیے اوپر سے ان کے پاس وقت کم تھا کیونکہ پنچایت نے انہیں صرف ایک گھنٹے کی مہلت دی تھی ۔ بلآخر انہوں نے ساری ہمت مجتمع کر کے وہ بات کہہ ڈالی تھی حو خود ان کو انہی کی نظروں میں بے وقعت کر گئ تھی ۔
” کیاااا! ” ان کی بات سن کر زین کا تو سر گھوم گیا تھا ۔
” ایسا کیسے ہو سکتا ہے انکل ۔ مجھے معاف کیجیئے گا لیکن میں یہ شادی نہیں کر سکتا ۔ میں آلریڈی کمیٹڈ ہوں۔” زین نے صاف انکار کیا تھا ۔
” دیکھو بیٹا میری بچی کو ان ظالموں سے بچا لو اگر اس وقت میرا بیٹا میرے پاس ہوتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی ۔وہ بہت معصوم ہے میں اسے ان بھیڑیوں کے حوالے نہیں کر سکتا یہ ایک بوڑھے باپ کی التجاع ہے تم سے۔” اظہار صاحب نے اس کے آگے ہاتھ جوڑتے ہو منت کی تھی۔ ایک باپ اگر اس حد تک آ سکتا ہے اپنی اولاد کو بچانے کے لیے تو وہ کتنا مجبور ہو چکا ہے اس بات کا اندازہ زین لگا سکتا تھا ۔
” پلیز آپ ایسا کر کے مجھے شرمندہ مت کریں ۔ ” زین نے آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ پکڑے تھے ۔
” تو تم کرو گے ہانی سے شادی؟” ایک امید بھری چمک ان کی آنکھوں میں ابھری تھی ۔ اور زین تو حیران رہ گیا تھا ۔نہ جانے ان کی آنکھوں میں ایسا کیا تھا کہ وہ ان کی امید نہیں توڑ سکا اور خاموشی سے گردن ہاں میں ہلا دی۔
ہانی کمرے میں بیٹھی بے چینی سے اپنے بابا کو انتظار کر رہی تھی ۔ جب اظہار صاحب اندر داخل ہوئے ۔ ان کے چہرے پر کچھ تو ایسا تھا جو ہانی اندر تک لرز گئی تھی ۔ کسی انہونی کا احساس اسے ہونے لگا تھا ۔ اظہار صاحب خاموشی سے چلتے ہوئے اس کے قریب آ کر بیٹھ گئے تھے ۔
” بابا!” ہانی نی ڈرتے ہوۓ انہیں پکارہ تھا ۔
” آ ہاں! ” اس کی آواز پر وہ چونکتے ہوئے کسی گہرے خیال سے نکلے تھے ۔ وہ الفاظ ڈھونڈ رہے تھے اسے سمجھانے کے لیے
” کیا بات ہے آپ اتنے پریشان کیوں ہیں ؟” وہ ان کی پریشانی کو بھانپتے ہوئے بولی ۔
” ہانی اگر میں تمہارے کبھی کوئی فیصلہ کروں تو کیا تم مانو گی میری بات؟” وہ اسے پر یقین نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بولے۔
” ایسا کیوں کہہ رہے ہیں آپ ۔ بھلا میں کبھی آپ کے فیصلے سے انکار کر سکتی ہوں ۔ جانتی ہوں آپ جو بھی فیصلہ کریں گے اچھا ہی اور سوچ سمجھ کے کریں گے ۔” ہانی نے انہیں رسکی دیتے ہوئے کہا۔
انہوں نے تشکر سے اس کی جانب دیکھا ۔ وہ ہر وقت شرارتیں کرنے والی ہانی کہیں سے بھی نہیں لگ رہی تھی ۔ ایک رات میں کتنا کچھ بدل گیا تھا ان کی وہ چلبلی سے گڑیا کہیں کھو گئی تھی ۔ یہ تو کوئی بہت سمجھ دار لڑکی ان کے سامنے بیٹھی تھی ۔ جو ان کا ہو فیصلہ قبول کرنے کو تیار تھی ۔
” میں نے تمہارا نکاح کرنے کا فیصلہ کیا ہے ابھی اسی وقت۔ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ؟” وہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بولے۔ خود کو قصوروار سمجھ رہے تھے کہ عہ اس کی حفاظت نہ کر سکے ۔ ہانی بے یقینی سے ان کی جانب دیکھے گئی ۔ اتنا بڑا فیصلہ وہ ایسے کیسے کر سکتے تھے ۔
” مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔” ہانی نے اپنا فیصلہ سنایا وہ ان کا مان نہیں توڑنا چاہتی تھی ۔ اس لیے اپنی رضامندی دے دی۔ لیکن اسے ان دے شکوہ تھا کہ انہوں نے ایسا کیوں کیس اور یہ شکوہ وہ ان سے کر بھی نہ سکی۔
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
![]()
تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ کسی کی بیوی بن چکی تھی۔ گلابی رنگ کے ہلکے سے کام والے سوٹ میں بنا میک اپ کے اس کا افسردہ سا چہرہ بھی بہت پر کشش لگ رہا تھا ۔ اس بات سے انجان کہ اس کا نکاح کس سے ہوا۔ نہ اس نے کدی سے اس بارے میں پوچھا اور نہ ہی اس شخص کی بارے ميں جاننے کی اس کی کوئی چاہ رہی تھی ۔وہ تو بس شاک سی بیٹھی اپنی قسمت پر حیران تھی جس نے کیا سے کیا کر دیا تھا ۔ اظہار صاحب کے بہت سے ارمان تھے اس کی شادی کو لے کر لیکن وہ ادھورت ہی رہ گئے تھے ۔ انہیں اس بار کی تسلی تھی کہ کم از کم وہ اسے اپنی دعاؤں کے ساتھ تو رخصت کررہے ہیں۔ وہ تو اپنی رخصتی ہر ایک آنسو تک نہ بہا سکی ۔ ساری خاہشیں دم توڑ گئی تھیں ۔ آنسو خشک ہو گئے تھے۔ زینب بیگم کتنی دیر اس کو گلے سے لگائے روتی رہیں ۔ رانیہ کتنا سسکی ۔ اظہار صاحب کے خاموشی سے گرتے آنسو اسے کسی بات کا ہوش نہیں رہا تھا کب اسے رخصت کر کے گاڑی میں بٹھایا گیا اسے کچھ معلوم نہ ہوا۔ ہوش تب آیا جب جانی پہچانی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
” تمممم!” وہ بے یقینی سے ساتھ بیٹھے شخص کو دیکھ کر چلائ تھی ۔
