229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 12

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

ان کو گاڑی میں بیٹھے دو گھنٹے گزر چُکے تھے ۔ اس سارے وقت کے دوران دونوں میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی ۔گاڑی میں خاموشی تھی جب اچانک ذولقرنین نے گاڑی سائیڈ پر لگائی اور اپنی طرف سے نیچے اُتر کر سمیرا کی سائیڈ کا دروازہ کھولا ۔

” نیچے اُترو۔” نین نے اس کی طرف دیکھے بغیر اسے مخاطب کیا۔

” جی!” سمیرا نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ دل میں کہیں خوف نے سر اُٹھایا کہ جن حالات میں اسے نین کے ساتھ زبردستی کے بندھن میں باندھ دیا گیا تھا کہیں وہ اس سے جان چُھڑوانے کے لیے اسے یہیں نہ چھوڑ جاۓ ۔

” پلیز میں کہاں جاؤں گی؟ میرا اب کوئی نہیں ہے ۔ میں ساری زندگی آپ سے کچھ نہیں مانگوں گی ۔ مجھے یہاں چھوڑ کر نہ جائیں ۔ میں آپ کے پیرنٹس سے ببھی معافی مانگ لوں گی۔ پلیز ۔۔” اس خیال کے ذہن میں آتے ہی کہ وہ اسے یہاں چھوڑ نہ جاۓ اس کی اگلی بات سُنے بغیر سمیرا نان سٹاپ شروع ہو چکی تھی ۔ نین جو اس کو کھانا کھلانے کا سوچ رہا تھا کیونکہ وہ دونوں کل رات سے بھوکے تھے ۔ پریشانی کی وجہ سے کھانے کا ہوش ہی نہیں تھا ۔اب راستے میں اس کی نظر سامنے ڈھابے پر پڑی اسے بھوک کا احساس ہوا تو اس نے گاڑی روک دی تھی۔ اس کی باتوں پر حیران سا اس کی جانب دیکھنے لگا۔

” مجھے پتہ ہے آپ مجھ پر غصہ ہیں کیونکہ میری وجہ سے آپ اتنی پریشانی میں گھرے ہوئے ہیں ۔” سمیرا اس کی حیرانی کے تاصرات دیکھ کر فوراً وضاحت دیتے ہوئے بولی۔ کیونکہ وہ سمجھ رہی تھی کہ نین شاید اس کی بات سن کر اکتا گیا ہے۔ جب کہ نین کو جب ساری بات سمجھ میں آئی تو نا چاہتے ہوئے بھی ایک شرارت اس کے دماغ میں آئی تھی ۔

” میں نے کہا فوراً گاڑی سے نیچے اُترو۔” نین نے مصنوعی غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا اس کی بات سن کے سمیرا کے اوسان خطا ہونے لگے اس کو ایسے دیکھ کر جب ہسی روکی نہ گئی تو رُخ موڑ کر مسکرا دیا۔

” لل لیکن مم میں کہاں جاؤں گی ؟” سمیرا نے گاڑی سے نیچے اُتر کر نم آنکھوں سے پوچھا ۔

” یہ میرا مسئلہ نہیں ہے ۔ جہاں دل کرے چلی جاؤ۔” نین نے رُخ موڑے مسکراہٹ دبا کے کہا۔ سمیرا کو تو اس کی بات سلگ کر رہ گئی۔ جب مزید برداشت نہ ہوا تو غصے سے پھٹ پڑی۔

” ہاں تو اس وقت کس نے کہا تھا ۔ میں نے کیا گن پوائنٹ پر نکاح کیا تھا آپ سے ؟ کوئی زبردستی نہیں کی تھی ۔ اس وقت تو خود بڑے تیس مار خان بنے تھے کہ میں ابھی نکاح کروں گا ۔نہ کرتے نا….” سمیرا غصے میں بولتی اس کی نکل اتار رہی تھی ۔ آہستہ آہستہ اس کی آواز اونچی ہو رہی تھی ۔ اس کی شور کی آوزیں سُن کر آس پاس کئی لوگ اکٹھے ہو چکے تھے ۔نین حو اس کا یہ کڑاکا انداز دیکھ کر ہس رہا تھا آس پاس بھیڑ لگتی دیکھ فوراً سنبھلا تھا ۔

” افوہ ! مزاق کر رہا تھا یار ۔ تم تو لڑائی ہی کرنے لگ گئی ہو ۔ دیکھو کتنے کوگ ہمیں دیکھ رہے ہیں ۔” نین اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے وہاں سے لے جانے لگا۔ سمیرا کی نظر جب خود کو گھورتے لوگوں پر پڑی تو اسے خفت محسوس ہوئی۔

” ہاں تو یہ کوئی وقت ہے مزاق کرنے کام حد ہوتی ہے ایسا کوئی مزاق کرتا ہے۔” سمیرا اپنی خفت مٹاتے ہوئے اسی کو سُنا رہی تھی ۔

” ہاں تو کیا ہوا بیوی ہو میری کسی بھی وقت مزاق کر سکتا ہوں تمہارے ساتھ ۔” نین نے شرارت سے آنکھ دباتے ہوئے بولا۔ اس کے بیوی کہنے ہر سمیرا کا چہرہ شرم سے سُرخ ہو گیا تھا وہ جھینپ کر مُسکرا دی۔ نین نے بھی ٹھنڈی آہ بھری ۔ وہ اس وقت اس کا دھیان بٹانا چاہتا تھا ۔ تاکہ آج کے واقعات کو وہ بھول سکے اور وہ اس کا دھیان بٹانے میں کافی حد تک کامیاب ہوا تھا ۔

ڈاکٹرز کو آپریشن شروع کیے کافی دیر گزر گئی تھی لیکن ابھی تک کوئی حوصلہ افزاء خبر نہیں آئی تھی ۔ ہانی مسلسل آنکھیں بند کیے بس دعائیں مانگ رہی تھی ۔ زین کورئیرڈور کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک چکا تھا ۔ وہ آپریشن تھیٹر کے سامنے آ کے کھڑا ہو گیا۔

” زین چل یار صبح ہو گئی ہے ۔ کینٹین سے کچھ کھا لے ایسےہی رہے گا تو یہ سب کیسے سنبھلے گا؟” شجاع زین کی حالت دیکھ کر اسے سمجھا رہا تھا ۔

” نہیں یار تو جا کچھ کھا لے اور اس کے لیے بھی کچھ لے آ۔ مجھے ابھی صرف اکیلا چھوڑ دے۔” زین نے ہانی کی طرف دیکھتے ہوئے بات مکمل کی۔ شجاع خاموشی سے وہاں سے نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد زین بھی تھک کر ہانی کے سامنے والی چیئر پر جا کر بیٹھ گیا۔

” اب دعائیں مانگو۔ یہ سب کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا تمہیں ۔ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی مشکل میں ڈالا ہوا تو تم نے ۔” زین ہانی کو مسلسل دعائیں مانگتا دیکھ کر اکتایا تھا ۔ اسے ہانی پر غصہ بہت آ رہا تھا ۔

” میرے پاس اس وقت اور کوئی چوائس نہیں تھی۔” ہانی نے تنک کر جواب دیا تھا ۔

” اچھا ایسا ہوا کیا تھا جو تم نے یہ سب کیا اور تم میرے گھر میں کر کیا رہی تھی ؟” اس بار زین کا لہجہ مزید تلخ ہوا تھا ۔

” آپ ہوتے کون ہیں مجھ سے یہ سب پوچھنے والے ۔ میں کوئی آپ کی ملازمہ نہیں ہوں جو آپ کو ہر بات کے لیے جواب دہ ہوں۔” ہانی اس کو سب کچھ بتانا چاہتی تھی لیکن اس کا تلخ لہجہ دیکھ کر وہ بھی سیخ پا ہو گئی تھی اور الٹا ہی حواب دیا تھا ۔

” تم مجھ سے اس لہجے میں بات نہیں کر سکتی ۔ جانتی نہیں ہو ابھی تم مجھے ۔” زین کو اس کا جواب دخت ناگوار گزرا تھا ۔ اس لیے دھیرے سے غرایا۔

” ہاں مجھ سے زیادہ تم لوگوں کو جان بھی کوئی نہیں سکتا۔ تم لوگوں کا بس صرف خود سے کمزور پر ہی چلتا ہے ۔” ہانی نے تنفر سے منہ پھیر لیا ۔

” تم اپنی بکواس بند کرو۔ سمجھتی کیا ہو خود کو ۔ تم جیسیوں کو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں ۔” زین تو اس کی بات سن کر اپنا آپا کھو چکا تھا ۔ غصے میں اُٹھ کر اس کا منہ اپنے ہاتھ میں دبوچ کر کہا۔ اس سے پہلے وہاں مزید تماشہ بنتا شجاع جو اندر آرہا تھا ان دونوں کو یوں دیکھ کر فوراً ان کی طرف آیا اور ہانی کو اس کی پکڑ سے آزاد کرواتا اس کو پیچھے لے کر گیا۔

” کیا کر رہا ہے یار! جانتا ہے پہلے کتنی مشکل ہو رہی ہے۔ کم از کم جب تک کچھ خبر نہیں آتی پلیز خود ہر کنٹرول کر۔” شجاع اسے سمجھانے لگا۔ اسے ہانی کی حالت ہر بھی کافی ترس آ رہا تھا ۔اس کا حلیہ دیکھ کر وہ کچھ اندازہ لگا چکا تھا کہ آخر معاملہ کیا ہے ۔ زین خاموشی سے اُٹھ کر اپریش تھیٹر کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ہانی ابھی بھی وحشت زدہ سی آنکھوں پھیلائے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ دہی تھی ۔

زین لوگوں کے حویلی سے نکلنے کے بعد وہ سیدھا بی جان کے کمرے میں آئیں اور ایک ٹھنڈی آہ بھری ۔شکر تھا کہ زین بی جان کے کمرے میں نہیں آیا تھا ورنہ ان کا پول کُھل جاتا ۔ اب وہ اگلا لائحہ عمل کے بارے میں سوچ رہیں تھیں ۔ وہ واقعی حد درجہ تک سفاک بن چُکی تھیں ۔ ان کا شوہر اس وقت ہسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان جھول رہا تھا ایک عورت چاہے جیسی بھی ہو اس کا شوہر جیسا بھی ہو ایسی سیچوایشن میں ٹوٹ جاتی ہیں لیکن وہاں تو کسی کو پرواہ ہی نہیں تھی ۔ان کو پرواہ تھی تو بس اس بات کی کہ اس قتل سے اب کیسے بچا جاۓ ۔ بہت دیر سوچنے کے بعد وہ ایک جھٹکے سے اُٹھیں اب وہ مطمئن تھیں ۔ ایک مسکراہٹ ان کے چہرے پر تھی جو سب کچھ ٹھیک ہونے کا اندیہ دے رہی تھی ۔ وہ خاموشی سے جیسے آئیں تھیں ویسے ہی پلٹ گئیں۔ اپنے کمرے میں آ کر بستر پر لیٹ کر کل کے بارے میں سوچتے ہوئے نیند کی وادیوں میں اُتر گئیں ۔

صبح کے 7 بج چُکے تھے جب ڈاکٹرز نے اپریشن تھیٹر کا دروازہ کھولا اور باہر آئے ۔ زین تیزی سے ان کی جانب لپکا۔

” ڈاکٹر صاحب اب کیسی طبیعت ہے ان کی ۔کیا کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے ؟” زین نے بے چینی سے پوچھا ۔

” فی الحال تو آپ لوگ دعا کریں ۔ ہم نے کانچ ان کے سر سے نکال دیا ہے ۔ کافی گہری چوٹ آئی ہے ان کو۔ کنڈیشن پہلے سے کافی بہتر ہے ۔ لیکن کچھ کہہ نہیں سکتے کہ کب ےک ہوش میں آئیں گے ۔ اور ان کے سر میں کس حد تک سیریس انجری ہوئی ہے ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔” ڈاکٹر نے اسے تسلی دی لیکن ساتھ میں پھر سے ایسی نیوز سُنا دی کہ وہ مزید پریشان ہوا تھا ۔

” چلو اُٹھو تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آؤں ۔” ڈاکٹر کے جانے کے بعد زین ہانی کے پاس آیا تھا ۔ وہ اباس کع مزید وہاں نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔ وہ خاموشی سے اُٹھ کر چل دی۔

” شجاع اگر کوئی بھی ایمرجنسی ہوئی تو فورا مجھے کال کر دینا اور ہاں گھر کال کر کے گارڈ کو ساری سیچوایشن بتا دو۔ اس سے کہنا میرے آنے دے پہلے کسی کو کچھ نہ بتائے۔” زین نے جانے سے پہلے شجاع کو سمجھاتے ہوئے کہا۔ جب کہ شجاع نے سر ہاں میں ہلا دیا ۔

” اب ایڈریس بھی بتا دو مجھے خواب نہیں آئے گا کہ تمہارا گھر کہاں ہے ۔” گاڑی سٹارٹ کرنے کے بعد بھی جب ہانی خود سے کچھ نہیں بولی تو زین نے تپ کر کہا ۔

” آپ نے مجھ سے پوچھا ہی کب جو م آپ کو بتاتی۔” ہانی نے بھی تپے ہوئے انداز میں جواب دیا ۔

” تو تم میرے پوچھنے کا ویٹ کیوں کر رہی تھی ۔ خود بھی بتا سکتی تھی ۔ تمہیں نہیں پتہ کیا ؟ ننھی بچی نہیں ہو کہ ہر بات پوچھنی پڑے گی۔” زین نہ جانے کیوں اس کے ساتھ اتنا سخت ہو رہا تھا ۔ ہانی نے مزید بحث سے بچنے کے لیے خاموشی سے ایڈریس بتایا وہ مزید اس سے بحث کر کے اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ زین نے گاڑی اس کے بتائے ہوئے راستے پر ڈال دی اور وہ بس آنے والے وقت کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ آنے والا وقت اب اس کے لیے کیا سوغات لانے والا تھا ۔