Wo Humsafar Tha by Aroob Akram NovelR50426 Wo Humsafar Tha Episode 10
Rate this Novel
Wo Humsafar Tha Episode 10
Wo Humsafar Tha by Aroob Akram
زین گاڑی حویلی کے سامنے روکتا نیچے اترا اور شجاع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
” تم یہیں بیٹھو میں سیل فون لے کر آتا ہوں ۔” وہ شجاع سے کہتے ہوئے گیٹ کی طرف بڑھ گیا ۔ چوکیدار نے اسے دیکھتے ہی دروازہ کھول دیا ۔ چوکیدار نے اسے سلام کیا جس کا جواب وہ سر کے اشارے سے دیتے ہوئے اندر کی طرف چلا گیا ۔ ابھی وہ اندر داخل ہونے ہی والا تھا جب کسی سے بُری طرح ٹکرایا اس سے پہلے کے مقابل گرتا زین نے اسے تھام لیا۔ ہانی جو خود کو بچانے کے لیے بغیر دیکھے بھاگی جا رہی تھی ۔ زین سے ٹکرائی اور گرتے گرتے بچی۔ ہانی نے گرنے کے خوف سے آنکھیں زور سے بند کر رکھی تھیں ۔ جب کسی کی نظریں خود پر محسوس کر کے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور بس وہی لمحہ تھا جب زین اس کی گہری آنکھوں میں اپنا آپ کھو بیٹھا تھا ۔ بے اختیار اس کے دل نے دعا کی تھی کہ کاش وہ آنکھیں ہمیشہ کے لیے اس کی دسترس میں ہوں اور وہ ان میں کھو جاۓ ۔ ہانی نے اسے خود کو یوں دیکھتے پایا تو یکدم سے گھبرا کر پیچھے ہٹی ۔ اس کے پیچھے ہٹنے سے زین ہوش میں آیا اور اس کی نظر اپنے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی پر پڑی تو اسے خود ہی اپنی خواہش پر افسوس ہوا ۔ آج ہی تو اس کا نام کسی اور کے نام سے جُڑ گیا تھا وہ کیسے اتنی جلدی بھول گیا۔ اس کی نظر جب ہانی کے زخمی چہرے پر پڑی تو وہ چونکا۔
” کون ہو تم ؟ یہاں کیا کر رہی ہو اور یہ چوٹ کیسے لگی تمہیں ؟ ” زین نے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے تھے اور ہانی جو پہلے ہی ڈری ہوئی تھی اس کا تفتیشی انداز دیکھ کر اس کی جان ہوا ہونے لگی۔
” مم میں نے کک کچھ نہیں کیا ۔ میں سچ کہہ رہی ہوں ۔ میں اسے مارنا نہیں چاہتی تھی ۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔ ووو وہ پتہ نہیں کیسے اسے چوٹ لگ گئی ۔ ! پلیز مجھے جانے دیں ۔ مم مجھے معاف کر دیں ۔” وہ گھبرا کر تیزی سے بولتی اب اس کی منتیں کر رہی تھی ۔اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ اسے پولیس کع حوالے نہ کر دے۔
” کون؟ تم کس کی بات کر رہی ہو مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔ تم آرام سے مجھے بتاؤ کہ ہوا کیا ہے؟” زین نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا جب کہ خود وہ یہ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ آخر ہو کس کی بات کر رہی ہے اور کون ہے جس کو اس نے مار دیا۔
” وہ اس طرف ہے۔ مم میں نے اسے وہیں مارا ہے ۔” ہانی نے ڈرتے ہوۓ کوٹھڑی کی جانب ہاتھ سے اشارہ کیا۔ زین نے اس طرف دیکھا جہاں وہ اشارہ کر رہی تھی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اس جانب چلتا ہوا بولا۔
” کون ہے چلو آؤ دکھاؤ مجھے.” جب کہ ہانی نے ڈرتے ہوۓ جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا ۔
” میں نہیں جاؤں گی ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔” ہانی نفی میں سر ہلاتی دو قدم پیچھے ہٹی ۔
” ٹھیک ہے تم یہیں رُکو ۔ میں خود دیکھ کر آتا ہوں ۔” یہ کہتے وہ آگے بڑھا لیکن کچھ یاد آتے ہی پیچھے مُڑا اور چوکیدار کو آواز دی۔
” سنو یہ جو لڑکی یہاں کھڑی ہے اسے باہر مت جانے دینا ۔” اسے ہدایت کرتا وہ کوٹھڑی کی جانب بڑھا ۔ ہانی کو اپنا سانس رُکتا محسوس ہوا۔
سمیرا گنگ کھڑی سب کے سپاٹ چہروں کو دیکھ رہی تھی ۔ وہ ان سب کے رویوں پر حیران تھی کیسے ایک رات میں سب کچھ بدل گیا تھا ۔ اس کے اپنے گھر والے اس کی شکل تک دیکھنے کے رودار نہ رہے تھے ۔ صفدر صاحب اپنا فیصلہ سنا چکے تھے ۔ وہ سمیرا کو اپنی زندگی سے بے دخل کر چکے تھے بنا کسی غلطی کے اسے سزا سنائی جا چُکی تھی۔ کسی نے اس سے یہ پوچھنے تک کی زحمت نہ کی تھی کہ آخر وہ گئی کہاں تھی ۔اس کے ساتھ ہوا کیا تھا ۔ رات بھر وہ کہاں کس حال میں تھی۔ صفدر صاحب فیصلہ کر کے پلٹے ہی تھے کہ سمیرا کی ہونے والی ساس نے انہیں روکا ۔
” ارے بھائی صاحب ! ایسے کیسے اس کو کسی کے ساتھ بھیج رہے ہیں ۔ رشتہ کیا ہے ان کا آپس میں ۔ ارے میں تو کہتی ہوں کہ ایسے لڑکیوں کو تو۔۔۔۔”
” بس خبردار جو ایک لفظ بھی اور کہا آپ نے۔ ” ذولقرنین کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا ۔ وہ غصے میں دھاڑا تھا ۔ جبکہ ان خاتون کی بات بیچ میں ہی رہ گئی اور وہ ششدر سی ذولقرنین کو دیکھے گئی ۔
” آپ کو یہ جاننا ہے نہ کہ کس رشتے کے تحت میں اسے یہاں سے لے کر جاؤں گا ؟ ” وہ ان کی طرف رُخ کر کے بولا اور سمیرا کا ہاتھ تھام لیا۔
” میں ابھی اسی وقت آپ سب کے سامنے اس سے نکاح کر کے جائز رشے کی بنیاد پر اسے یہاں سے لے کر جاؤں گا ۔” اس نے سب کو ایک ساتھ جواب دیتے ہوئے سمیرا کی طرف دیکھا ۔ وہ تو بس حیران سی اسی کو دیکھے جا رہی تھی ۔ کیا کہہ گیا تھا وہ ۔اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا ۔ تھک کر اس نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا ۔ جو اس کی قسمت میں لکھا گیا تھا وہ اسے قبول کر چکی تھی اور اگلے آدھے گھنٹے میں وہ سمیرا صفدر سے سمیرا ذولقرنین بن چُکی تھی ۔ وہ اسے نکاح کے بعد وہاں سے لے کر اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا تھا ۔ ابھی واپس جا کر اسے ہانی کو بھی ڈھونڈنا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ جو سمیرا کے ساتھ اس کے گھر والوں نے کیا وہ سب کچھ ہانی کے ساتھ ہو ۔ وہ جلد از جلد گھر پہنچنا چاہتا تھا ۔لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ شاید اسے پہنچنے میں بہت دیر ہو جائے ۔
شاہ باہر ہی ہادی کے پاس بیٹھ گیا اور اسے پینٹنگ سکھانے لگا۔ حمنہ نے کمرے میں آ کر دروازہ بند کر دیا اور فرش پر بیٹھتی چلی گئی ۔ آنسو آنکھوں سے متواتر بہہ رہے تھے ۔ اس شخص کی قربت حمنہ کے لیے ہمیشہ صرف تکلیف کا باعث بنی تھی ۔ کیسے وہ آج پھر اس پر اپنا حق جتا رہا تھا ۔” کیا وہ سب کچھ اتنی آسانی سے بھول گیا ؟ جو کچھ اس نے میرے ساتھ کیا ۔” حمنہ خود سے ہی مخاطب ہوئی تھی۔
” تم بھول گئے ہو گے مسٹر شاہ ! لیکن میں کچھ نہیں بھولی ۔ وہ ایک ایک لمحہ جو میں نے اذیت میں گزارا ۔ وہ ظلم جو تم نے مجھ پر کیے ۔ وہ الزام وہ تکلیف میں چاہ کر بھی کچھ نہیں بُھلا سکتی۔ نہ میں خود بھولی ہوں نہ تمہیں بھولنے دوں گی جو تم نے میرے ساتھ کیا ۔ ہاں میں تمہارے ساتھ جا ضرور رہی ہوں ۔ لیکن تمہاری محبت میں نہیں صرف اور صرف اپنے بیٹے کو اس کا حق دلانے ۔ ” وہ خود کو ماضی کی تکلیفیں یاد دلاتی خیالوں میں شاہ سے مخاطب ہوئی تھی ۔ شاہ اس کے قریب آیا تھا اس کا چہرہ سرخ ہوا تھا جسے شاہ اس کی شرم سمجھ رہا تھا لیکن وہ چہرہ شرم سے نہیں ضبط کرنے کی وجہ سے سرخ ہوا تھا ۔ اس نے شاہ کو کچھ نہیں کہا تھا جب وہ اس کے قریب آیا تھا جسے شاہ اس کی رضامندی سمجھ رہا تھا ۔ لیکن وہ صرف ہادی کے لیے خاموش رہی تھی ۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ ہانی کے سامنے کوئی تماشہ بنے اور وہ اس سے سوال پوچھے ۔ وہ اس کے ننھے دماغ کو ان سب باتوں میں الجھانا نہیں چاہتی تھی اسی لیے شاہ کی ہر حرکت خاموشی سے برداشت کر گئی۔
