229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 8

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

جانے وہاں بیٹھے بیٹھے اسے کتنا وقت گزر گیا وہ یوں ہی شکوے کرتی رہی ۔ اب رو رو کر تھک گئی تو اپنی زندگی پر نظر دوڑانے لگی کہ کہاں اس سے ایسی کوئی غلطی ہوئی تھی جس کی سزا اسے اس صورت میں مل رہی تھی لیکن اسے ایسی کوئی غلطی نظر ہی نہ آئی جس کی اتنی بڑی سزا اسے دی جا رہی تھی ۔ لیکن اچانک اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا۔ اب وہ اپنی غلطی ڈھونڈے کے بجائے اپنا کوئی ایسا عمل ڈھونڈ رہی تھی جس کے بدلے اسے وہاں سے رہائی ملتی ۔ لیکن یہ کیا چاہ کر بھی اسے اپنا ایسا کوئی عمل کوئی نیکی نظر نہیں آ رہی تھی ۔ اس نے قرب سے اپنی آنکھیں بھینچ لیں ۔ وہیں بیٹھ کر اس نے اپنے رب سے سچے دل سے طوبہ کی۔

” یا اللّٰه ! میں اپنے ہر گناہ کی معافی چاہتی ہوں ۔ ہر اس گناہ کی جو میں نے انجانے ميں کیا۔ ہر اس گناہ کی جو میں نے جان بوجھ کر کیا۔ تُو تو اپنے بندوں کا ہر گناہ معاف کر دیتا ہے نا تیرا در تو معافی کے لیے ہر وقت کُھلا رہتا ہے نا۔ یا اللّٰه میری توبہ کو قبول کر لے۔” وہ معافی مانگ رہی تھی اور ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی بندہ اپنے رب سے معافی مانگے اور وہ اس نا اُمید لوٹا دے ۔ وہ تو بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ اسے تو اپنے بندے سے اس قدر محبت ہے کہ ایک آنسو کے قطرے کے بدلے انسان کے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے ۔ اب وہ پر سکون تھی ۔ کیونکہ اسے اپنے رب پر یقین تھی ۔ جس رب نے آج تک اس کی حفاظت کی تھی آج کیسے اسے تنہا چھوڑ سکتا تھا اور یہی یقین انسان کا اپنے رب پر اسے وہ طاقت بخشتا ہے جو اسے ہر مصیبت سے اس امید پر لڑنے کی حمت دیتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں آ اس کا رب اس کے ساتھ ہے۔

زین بی جان سے اجازت لے کر شجاع کے ساتھ واپسی کے لیے روانہ ہو گیا ۔ سب مہمان بھی آہستہ آہستہ جا چکے تھے ۔ سب کے جانے کے بعد اب سجاول کا دھیان ہانی کی طرف تھا ۔

” رب نواز!” اس نے اپنے ایک وفادار نوکر کو آواز دی۔ وہ اب تک ہانی کی طرف سے خاموش اس لیے تھا کہ آج گھر میں منگنی کا فنکشن تھا اور زین گھر پر تھا ۔ زین کو سجاول کے ان معملات کا نہیں پتہ تھا اور اب تو وہ اس کا ہونے والا داماد تھا اس لیے وہ کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتا تھا ۔

” جج۔۔۔جی سائیں حکم کریں ۔ یاد کیا ہے آپ نے ۔” رب نواز اس کی آواز سن کر جلدی سے بھاگتا ہوا آیا اور دونوں ہاتھ آپس میں جوڑ کر مودبانہ انداز میں بولا۔

” وہ لڑکی کیسی ہے ؟ کسی کو شک تو نہیں ہوا اس کے بارے میں ؟” سجاول نے اس سے تحکمانہ پوچھا ۔

” نہیں سائیں کسی نے نہیں دیکھا ۔ وہ پیچھے کوٹھڑی میں ہی بند ہے۔” اس نے اسی طرح ادب سے کہا۔

” ٹھیک ہے تم جاؤ اس پر نظر رکھو ۔ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔” سجاول اس کو حکم دیتا حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گیا

وہ نا جانے اس کے جانے کے بعد کتنی دیر کمرے میں بیٹھی اپنی قسمت کو کوستی رہی ۔ ماضی کی کتنی ہی تلخ یادیں آج تازہ ہو گئیں تھیں ۔ وہ ماضی میں کھوئی ہوئی تھی جب ہادی کی آواز پر چونک کر اسے دیکھا ۔

” ماما وہ انکل کہہ رہے تھے کہ وہ میرے بابا ہیں ۔ اور ہم اب ان کے ساتھ رہیں دے ۔ ماما میں ان کے ساتھ نہیں رہوں دا وہ دندے ہیں انہوں نے آپ کو مارا ہے نا؟ ” ہادی نے معصومیت سے کہا۔

” نہیں بیٹا ایسی تو کوئی بات نہیں انہوں نے مجھے نہیں مارا۔”حمنہ نے ہادی کو پیار سے اپنی گود میں بیٹھاتے ہوۓ کہا۔

” پھر آپ رو کیوں رہی ہیں ؟”ہادی بھی نے ایک اور سوال پوچھا ۔ حمنہ نے ہادی کو دیکھا جو بلکل اپنے باپ کی کاپی تھا ۔اور اس کو ٹالنے کے لیے سوچ میں پڑ گئی ۔ ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے کیا کہے جب رشیدہ خالہ اندر کمرے میں آئیں ۔ شاہ کے جانے کے بعد سے اب تک اس کے پاس نہیں آئیں تھیں۔اب وہ اسے اکیلے میں سوچنے کے لیے وقت دینا چاہتی تھیں ۔ کمرے میں آتے ہوۓ انہوں نے ہادی کی بات سن لی تھی اور حمنہ کے چہرے کی الجھن بھی دیکھ لی تھی ۔

” آپ کے بابا آپ کی ماما سے ملنے آۓ تھے نہ اس لیے آپ کی ماما خوش ہیں اور یہ خوشی کے آنسو ہیں ۔” انہوں نے ہادی کو مخاطب ہوۓ حمنہ کی الجھن کم کرنے کی غرض سے کہا۔

” لیکن خوشی میں تو لود (لوگ) ہنستے ہیں نا روتے تو نہیں ہیں نا؟” ہادی نے اپنا ہاتھ تھوڑی کے نیچے رکھتے ہوئے بڑوں کے سے انداز میں سوچتے ہوۓ کہا۔ جس پر حمنہ اور رشیدہ خالہ کی ہنسی چھوٹ گئی اس کا انداز دیکھ کر ۔ اور وہ منہ پُھلا کر کمرے سے باہر چلا گیا کیونکہ اسے ہرگز گوارا نہ تھا کوئی اس کا مزاق اُڑاۓ۔ حمنہ نے اسے جاتے دیکھ کر گہرا سانس لیا کیونکہ اگر وہ وہاں رکتا تو اس سے مزید سوال کرتا رہتا جن کے جواب وہ اسے نہیں دیکھ سکتی تھی ۔ہادی کے جانے کے بعد خالہ رشیدہ اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔

” پھر کیا سوچا ہے تم نے؟” انہوں نے بات کا آغاز بغیر کوئی تمہید باندھے کیا ۔

” کیا سوچنا ہے جانا تو پڑے گا مجھے اس کے ساتھ ۔” حمنہ نے سرد آہ بھر کے کہا جب کہ یہ بات کہتے ہوئے اس کا چہرہ خوشی سے کھلنے کی بجاۓ سپاٹ تھا ۔

” جب تم اس کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تو پھر جانے کا کیا مقصد؟” وہ اس کی بات سمجھی نہیں تھیں ۔

” آپ کو کیا لگتا ہے وہ اتنی آسانی سے میرا پیچھا چھوڑ دے گا ؟ وہ الٹا ان سے سوال کر رہی تھی ۔

” وہ میرا اتنی آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑے گا ۔ اور اب جب وہ ہادی کو قبول کر رہا ہے تو میں کیوں اپنے بچے کا حق اس سے چھینوں ۔ جب اس کا باپ اس کو اپنا نام دینے کو تیار ہےتو میں اس سے اس کے باپ کا نام نہیں چھین سکتی۔ کل کو کیا وہ بڑا ہو کر مجھ سے اس بارے میں سوال نہیں کرے گا؟ تب میں اسے کیا جواب دوں گی؟” رشیدہ خالہ کو کوئی جواب نہ دیتے دیکھ کر اس نے خود ہی بات مکمل کی۔ رشیدہ خالہ بس خاموشی سے سر ہلا کہ رہ گئیں وہ اسے کہتیں بھی کیا وہ بھی اپنی جگہ سہی تھی۔

بی جان کو آج بہت گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی ملازمہ سے کہہ کر لان کی سائیڈ کی کھڑکی کھلوا کر آرام کی غرض سے آنکھیں موند کر لیٹ گئیں جب اچانک باہر سے آتی کچھ آوازوں سے انہوں نے آنکھیں کھول دیں اور باہر ہونے والی گفتگو سننے لگیں ۔

سجاول جو اندر کی طرف یہ دیکھنے آیا تھا کہ سب لوگ سو چکے ہیں یا نہیں تاکہ وہ واپس جا کر اپنے شیطانی منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکے سکینہ بیگم کو کمرے میں نہ پا کر باہر لان کی طرف آۓ جہاں وہ ان کی توقع کے عین مطابق لان میں گھوم رہیں تھیں۔

” تم ابھی تک سوئی نہیں ؟” پاس آتے ہی انہوں نے خاصی ناگواری سے پوچھا کیونکہ سجاول سائیں کو ان کا اب تک جاگنا خاصہ ناگوار گزرا تھا ۔

” جی سائیں ! بس آپ کا انتظار کر رہی تھی ۔ کہاں رہ گئے اور آپ ؟” سکینہ بیگم نے تابعداری سے کہا جس سس سجاول سائیں کے ماتھے ہر واضح بل پڑ گئے تھے جنہیں چھپانا انہوں نے قطعی ضروری نہیں سمجھا ۔

” تمہیں ہزار بار کہا ہے میرے کام میں ٹانگ مت اڑایا کرو۔ میری ماں بننے کی ضرورت نہیں ہے اپنی حد میں رہا کرو۔” سجاول سائیں ناجانے کیوں ہتھے سے ہی اکھڑ گئے تھے ۔

” سجاول صاحب ! دھیرے مجھ سے اونچی آواز میں بات کرنے کی غلطی بلکل بھی مت کیجیئے گا ورنہ آپ جانتے ہیں مجھے بلکل دیر نہیں لگے گی آپ کی اصلیت سب کے سامنے لانے میں ۔ ” سکینہ بیگم بھی ان کا غصہ دیکھتے ہوئے دھمکی دیتے ہوئے بولیں ۔

” تم اپنا منہ ہمیشہ بند رکھو گی سمجھی۔” وہ انگلی اٹھا کر انہیں تنبیہہ کرتے ہوئے بولے۔

” نہ ہمیشہ نہیں صرف تب تک جب تک آپ اپنی آواز میرے سامنے نیچی رکھیں گے ورنہ مجھے لمحہ لگے گا سب کو بتانے میں کہ آپ کے بھائی نے ایسی کوئی وصیت نہیں کی جیسا کہ آپ نے بی جان کو بتایا ہے اور ساتھ میں یہ بھی کہ بڑے بھائی صاحب کا ایکسیڈنٹ نہیں ہوا تھا بلکہ آپ نے ان کا قتل اس جائیداد کے لیے کیا تھا ۔” وہ ان کو وارن کرتے ہوئے واپس پلٹنے ہی لگیں تھی کہ اچانک کانچ کے ٹوٹنے کی آواز پر دونوں نے اس جانب گھبرا کر دیکھا جہاں سے آواز آئی تھی ۔ بی جان جو ان کی باتیں سن چکی تھیں آخری بات سن کر دنگ رہ گئیں انہوں نے اسے اپنا بیٹا سمجھا ہمیشہ جو ان کا حقیقی بیٹا بھی نہ تھا لیکن انہوں نے کبھی ان میں اور اپنے بیٹے میں کوئی فرق نہ سمجھا تھا ۔ آج ان کے اسی بیٹے نے ان کے حقیقی بیٹے کی جان لینے کا انکشاف کیا تھا ۔ کیسا عجیب انکشاف تھا کہ دل یقین نہیں کرنا چاہتا تھا اور کان جو سُن چکے تھے اسے جھٹلانے کو تیار نک تھے ۔ اچانک انہیں اپنے سینے میں درد اُٹھتا ہوا محسوس ہوا ۔ گلے میں کانٹے چبھنے لگے انہوں نے ہاتھ بڑھا کر پانی کا گلاس تھامنا چاہا لیکن دل میں اٹھتے درد نے زور پکڑنا شروع کر دیا اور ہاتھ لگنے سے گلاس نیچے فرش پر جا لگا اور کرچی کرچی ہو کر بکھر گیا بلکل ایسے ہی جیسے اس وقت ان کا دل کرچی کرچی ہو گیا تھا اور سانسیں بکھرنے لگی تھیں ۔ سجاول اور سکینہ نے اس جانب دیکھا جہاں سے کانچ کے ٹوٹنے کی آواز آئی تھی اور پھر ایک دوسرے کو دیکھ کر فوراً قدم اندر کی جانب بڑھا دیے۔

اندر کمرے میں پہنچ کر فوراً کمرہ لاک کیا اور قدم اس بے جان ہوتے وجود کی طرف بڑھا دیے۔ تھوڑا اور نزدیک جا کر سکینہ بیگم رُک گئیں اور سجاول اس بوڑھے وجود کے سامنے گھٹنوں کے بَل بیٹھ گیا۔ اور آہستہ سے ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گویا ہوا۔

” تو آپ نے سب کچھ سُن لیا! بہت بُرا ہوا آپ کے لیے ۔ آپ کو نہیں سننا چاہئے تھا ۔ ” وہ خباثت سے کہتا مسکرایا۔ بی جان مشکل سے سانس کے پا رہیں تھیں ۔ آگے ہو کر انہوں نے فون اٹھانا چاہا جب سجاول نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔

” مجھے معاف کر دیجئیے گا بی جان میں ادا سائیں کو مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن کیا کرتا آغا جی نے کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا تھا انہیں میرے بارے میں سب پتہ چل چکا تھا اور وہ ساری جائیداد اپنے بعد ادا سائیں کے نام کر گئے میں تو خالی ہاتھ رہ گیا تھا نا ۔ اس لیے مجھے یہ سب کرنا پڑا۔” وہ مصنوعی دکھ چہرے ہر سجاتا ہوا بولا۔بی جان لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ بولیں ۔

” مم میییں تہ تہم کک کبھی مم ما۔۔!” ان کا ہاتھ نیچے جا گرا لڑکھڑاتی زبان رک سی گئی ۔ آنکھوں سے ایک آخری آنسو نیچے بہہ گیا۔ چہرے پر کسی اپنے کو کھونے کی تکلیف کے آثار تھے ۔ ان کی روح پرواز کر چکی تھی ۔ سجاول نے ان کی آنکھیں بند کیں اور اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا سکینہ بیگم سے مخاطب ہوا۔

” ان کو سیدھا کر کے لیٹا دو۔ اور صبح تب تک یہاں مت آنا جب تک کوئی خود آ کر ان کے متعلق خبر نہ دے۔” سرد مہری سے کہتے ہوئے وہ باہر نکل گئے ان کا ارادہ اب ہانی کی طرف جا کر اسے وہاں سے ہٹانا تھا کیونکہ کل حویلی میں کہرام مچنے والا تھا اور اس وقت ہانی کو وہاں سے ہٹانا ضروری تھا تاکہ اسے کوئی دیکھ نہ لے۔

اس کا غصہ حد سے سوا ہو رہا تھا ۔ ضبط کی شدت سے آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں ۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ان لوگوں کو ڈھونڈ کر ختم کر دے لیکن وہ یہ ہی تو نہیں جانتا تھا کہ آخر وہ کون تھے ۔ وہ غصے میں ٹہل رہا تھا جب سمیرا نے اس سے بات کرنے کی ہمت کی۔

” مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے ۔” سمیرا نے اس کے غصے سے ڈرتے ہوۓ کہا۔ جس پر اس نے ابرو اُچکا کر دیکھا جیسے کہہ رہا ہو جلدی کرو۔

” مجھے پلیز میرے گھر چھوڑ دیں ۔ سب لوگ بہت پریشان ہوں گے میں کل سے گھر نہیں گئی۔” سمیرے نے اس کے اشرے کی اجازت پا کر فوراً سے کہا تھا ۔

” ٹھیک ہے میں بلز کلیئر کروا کر آتا ہوں پھر تمہیں تمہارے گھر چھوڑ آؤں گا ۔” اس نے فورا حامی بھری اپنی پریشانی میں وہ یہ بھول گیا تھا کہ سمیرا بھی کل سے گھر نہیں گئی۔ اس کے یاد دلانے پر اسے بھی خیال آیا تھا وہ اس کہتا باہر نکل گیا اور سمیرابند دروازہ دیکھ کر اس کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگی۔

زین نی اچانک گاڑی کو بریک لگائی تھی ۔ شجاع اس اچانک افتاد کے لیے تیار نہ تھا اس لیے اچھل کر سامنے ڈیش بورڈ پر اس کاسر لگا۔ تکلیف سے شجاع نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا جہاں اب ہلکی سی سرخی تھی ۔

” یار یہ کیا حرکت ہے اگر تو نےمرنا ہے تو اکیلے مر نا کم سے کم مجھے تو اتار دیتا۔” شجاع نے اپنے سر میں اٹھتے درد کی وجہ سے جنجھلا کر کہا۔

زین اس کی بات انسی کرتے ہوئے گاڑی موڑ چکا تھا۔ اور شجاع تو تلملا کر رہ گیا

” بندہ ایسا بھی کھڑوس نہ ہو کہ سامنے والا بات کرتا رہے اور وہ کوئی جواب ہی نہ دے۔” شجاع نے فوراً سے کہا

” اچھا اب بس کر یہ عورتوں کی طرح ایکٹنگ کرنا بلکل اچھا نہیں لگتا۔” زینن ے اسے چھیڑتے ہوئے کہا۔ شجاع نے نہ آو دیکھا نہ تاو ہاس پڑی پانی کی بوتل زین کے سر پر انڈیل دیا

” اب بتا کہ گاڑی کیوں روکی؟” شجاع نے خود کو عورت بولنے کا بدلہ لیتے ہوئے کہا۔ زین جو شاک کی تھا اس کی حرکت پر اس کی آواز سے ہوش میں آیا اور اس کی جانب خونخار نظروں سے دیکھتا ہوا بولا ۔

” موبائل حویلی میں رہ گیا ہے ۔ اس لیے واپس جا رہا ہوں۔” وہ اس کو جواب دیتا دل میں بدلہ لینے کا پختہ عزم کرتا ہوا بولا اور گاڑی واپس حویلی کے رستے پر ڈال دی.