229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 23

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

اس دن کے بعد سے زین اور ہانی ایک دوسرے کے سامنے نہیں آئے تھے ۔۔۔

زین نے بھی دوبارہ ہانی سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔ ہانی تو بس کمرے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ۔۔

گھر میں شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں ۔ ہر طرف گہما گہمی تھی ۔ کیونکہ سکینہ بیگم کی اکلوتی بیٹی کی شادی تھی ۔۔۔

سکینہ بیگم شادی بیت دھوم دھام سے کرنا چاہتی تھیں لیکن زین نے صاف منع کر دیا تھا۔

وہ بس سادگی سے نکاح کرنا چاہتا تھا ۔ لیکن سکینہ بیگم نے ضد کی تھی کہ رخصتی بھی ساتھ ہی کی جائے گی اور چند ایک مہمانوں کو بھی بلایا جائے ۔۔۔

اس طرح سادگی سے نکاح کر ساتھ رخصتی طے پائی تھی ۔ لیکن سکینہ بیگم نے پوری حویلی میں ایک حلہ مچا رکھا تھا ۔ وہ اپنی ہر خواہش کو پورا کر رہیں تھیں ۔۔۔

ہانی ان سب چیزوں سے الگ تھلگ اپنے کمرے میں بیٹھی اپنی محبت کا ماتم منا رہی تھی ۔

وہ زین کو روکنا چاہتی تھی لیکن ہر بار انا آڑے آ جاتی اور وہ یونہی چپ کر کے بیٹھ جاتی۔۔۔۔

ہانی کھڑکی کے پاس کھڑی باہر ہو رہی تیاریوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

آج شام کو زین کا نکاح تھا ۔ پورا لان پھولوں اور رنگ برنگی قمقموں سے سجایا جا رہا تھا ۔۔۔

لان کے ایک سائیڈ پر سٹیج بنایا گیا تھا ۔ جبکہ مہمانوں کے بیٹھنے کے لیے پورے لان میں میزوں کے گرد کرسیاں لگائی گئیں تھیں ۔۔۔

حویلی کے پچھلے لان میں کھانے کا انتظام کیا جا رہا تھا ۔

سب دیکھتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ کتنی خاہش تھی اس کی بھی اپنی شادی پر ایسے ہی سجاوٹ کروانے کی۔۔۔۔ کتنے ارمان تھے اس کے بھی ۔۔۔۔۔

لیکن ضروری ہے نہیں کہ انسان کی ہر خواہش پوری ہو ۔۔۔اس نے دکھ سے آنکھیں بند کر کے کھڑکی کے ساتھ ہی سر ٹکا لیا۔۔۔۔

وہ ایسے ہی جانے کتنی دیر کھڑی رہی جب دروازے پر ہوتی دستک سے ہوش میں آئی۔۔۔

“آ جاؤ۔۔۔”

اس نے بنا پلٹے جواب دیا۔۔۔

“ارے آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں ۔”

حنین جو اس کی اجازت پا کر دروازہ کھول کر اندر آیا تھا ۔اسے یوں کھڑا دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔۔

وہ حنین کی آواز سن کر پلٹی تھی۔۔

” آپ یہاں خیریت تو ہے ؟”

ہانی کو بلکل توقع نہ تھی اس کے آنے کی اس لیے حیرت سے پوچھا ۔۔

” جی کیوں میں نہیں آ سکتا کیا ؟ آپ اب تک مجھ پر غصہ ہیں ۔”

ہانی کے یوں چونکنے پر اس نے سوال کیا۔

” نہیں ایسی بات نہیں ہے میں سمجھی کہ ہاجرہ بی بی آئیں ہیں ۔ اس لیے بس تھوڑا حیران ہوئی تھی ۔”

ہانی نے جلدی سے کہا تھا تاکہ حنین کو برا نہ لگے۔۔۔

” کوئی کام تھا کیا ؟”

کچھ دیر تک جب وہ یونہی کھڑا رہا تو ہانی نے پوچھا ۔۔

” جج جی! وہ اصل میں مجھے۔۔۔”

حنین تزبذب کا شکار ہوا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیسے بات کرے ۔۔۔۔لیکن جلد خود کو کمپوز کرتا دوبارہ بولا۔۔۔

” میں آپ کے لیے یہ کپڑے لایا تھا ۔۔”

ہاتھ میں پکڑے شاپنگ بیگ کو ہانی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔

” میرے لیے کیوں؟”

ہانی حیران ہوئے بنا نہ رہ سکی۔۔۔

” وہ ایکچوئلی آج بھائی کا نکاح ہے نا تو میں دیکھ رہا ہوں آپ نے ابھی تک کوئی تیاری نہیں کی ۔۔۔ میں اپنے لیے شاپنگ کرنے گیا تو سوچا آپ کے لیے بھی کچھ لے لوں ۔ اس لیے یہ ڈریس لے آیا۔ مجھے زیادہ اندازہ تو نہیں ہے لڑکیوں کی پسند کا۔۔۔لیکن آئی ہوپ آپ کو پسند آئے۔۔۔”

یہ کہتے ہی شاپنگ بیگ بیڈ پر رکھے وہ جلدی سے واپس چلا گیا کہ مبادہ کہیں ہانی لینے سے انکار نہ کر دے۔۔۔

اور وہ نس دیکھتی رہ گئی۔۔

پھر بیڈ سے ڈریس اٹھا کر الماری میں بنا دیکھے ہی رکھ دی۔۔۔۔۔

حمنہ روم میں آئی تو روم کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئی ۔۔۔

ہر طرف گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں ۔۔ جن کی خوشبو وہ محسوس کر سکتی تھی ۔ کئی جگہ کینڈلز کو جلا کر ڈیکوریٹ کیا گیا تھا ۔۔۔۔

وہ چلتی کسی خواب کی کیفیت میں گلاب کی پتیوں کو چھوتی دیکھ رہی تھی ۔ جب دروازہ کھلنے کی آواز ہر یکدم پلٹ کر دیکھا۔۔۔

سامنے کھڑے شاہ کو دیکھ کر اس کا کچھ دیر پلہے کا خوشگوار موڈ یکدم سے خراب ہوا تھا۔

وہ. جلدی سے باہر جانے ہی لگی تھی ۔جب شاہ نے اس کا ہاتھ فوراً اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا ۔۔

حمنہ کے باہر کو جاتے قدم اپنا ہاتھ شاہ کی گرفت میں ہونے سے رکے تھے ۔۔۔

” یہ سب میں نے تمہارے لیے سجایہ ہے۔”

وہ اسے کندھوں سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

جبکہ ہانی نے تنفر سے اس کے ہاتھ جھٹکے تھے۔۔۔

” میں نے نہیں کہا تھا آپ سے یہ سب کرنے کے لیے۔۔۔”

وہ غصے سے منہ پھیر گئی تھی ۔۔۔

” پلیز یار اب بس کر دو اور کتنی سزا دو گی۔ پانچ سال! پانچ سال کم نہیں ہوتے ۔ ان پانچ سالوں میں کیسے تمہاری دوری برداشت کی ۔ یہ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔۔۔”

شاہ پھر سے اس کے سامنے آتے ہوئے منت بھرے لہجے میں بولتا اسے یقین دلانا چاہ رہا تھا کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے ۔۔۔۔

” مسٹر شاہ ! میں یہاں آئی ہوں تو صرف اپنے بیٹے کی وجہ سے اس لیے بہتر ہے آپ کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں ۔۔”

حمنہ نے اسے انگلی کے اشارے سے تنبیہ کرتے ہوئے باور کروایا ۔۔۔

اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ کر شاہ تڑپ کے ہی رہ گیا تھا ۔۔۔

” پلیز ایک بار معاف کر دو مجھے ۔ میں اپنی ہر غلطی کا مداوا کروں گا۔”

وہ اس کے آگے گڑگڑانے کی حد تک بے بس ہوا تھا۔۔۔

” غلطی نہیں تھی وہ گناہ تھا۔”

حمنہ نے سرد لیجے میں کہا جو شاہ کو مزید تکلیف دے رہا تھا ۔۔۔

” بس کر دو خدا کے لیے ۔ تھک چکا ہوں اب میں خود سے ، حالات سے اپنی قسمت سے لڑتے لڑتے۔۔۔ اب اور ہمت نہیں مجھ میں تمہاری یہ بےرخی برداشت کرنے کی۔۔”

وہ گھٹنوں کے بل اس کے آگے دونوں ہاتھ جوڑ کے بیٹھ گیا تھا۔

اس کا لہجہ کسی ہارے ہوئے جواری جیسا تھا ۔ جو اپنا سب کچھ ہار گیا تھا ۔ اس کی حالت اس وقت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ۔۔

وہ طھ فٹ کا مرد اس وقت اس کے آگے ہاتھ جوڑے بیٹھا تھا ۔۔ حمنہ کا دل پگھلا تھا ۔ اسے اس حالت میں دیکھ کر ۔ آخر وہ کیسے اسے اس حالت میں دیکھ سکتی تھی ۔ محبت تھا وہ شخص اس کی۔۔۔۔

حمنہ نے آگے بڑھ کر اسے سمیٹنا چاہا لیکن اس کے رویے اور زیادتیاں ایک بار پھر سے یاد آ گئیں اور حمنہ کے بڑھتے قدم رکے تھے ۔۔۔

وہ بس مزید خود کو کمزور نہیں کر سکتی تھی ۔ اس لیے فوراً دروازہ کھول کر باہر نکل گئ جانتی تھی کہ اگر کچھ دیر اور رکی تو یقیناً خود کو روک نہ پائے گی۔۔۔

جبکہ اس کے یوں جامے کے بعد اب شاہ نیچے بیٹھتا چلا گیا ۔ اپنی قسمت کو کوستا روئے جا رہا تھا اور کر بھی کیا سکتا تھا وہ۔۔۔۔۔

شام کا وقت ہو چکا تھا ۔ مہمان آنا شروع ہو چکے تھے ۔۔۔۔

ہانی بس کھڑکی کے پاس کھڑی ایک امید اندر باندھ رہی تھی کہ شاید وہ یہ سب نہ کرے۔۔۔

نکاح شروع ہو چکا تھا لیکن ہانی کی امید باقی تھی ۔ اس نے شدت سے دعا کی تھی کہ وہ شخص کسی اور کا نہ ہو بس ہمیشہ اسی کا رہے۔۔۔۔

لیکن کبھی کبھی دعائیں فوراً قبول نہیں ہوتیں۔۔ ان کی قبولیت کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے جو ہم انسان سمجھ نہیں پاتے۔۔۔

باہر سے شور کی آوازیں آنے لگیں۔ گاؤں کے بچے پٹاخے بجانے لگے۔۔ مبارکباد کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔

یانی کا دل یکلخت ڈوبا تھا ۔۔۔ وہ شاک کی کیفیت میں خود کو یقین دلا رہی تھی کہ جس سچ سے وہ بھاگنا چاہ رہی ہے وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے ۔۔۔

ایک فیصلہ اس نے ابھی کیا تھا ۔۔۔

ہاں اگر وہ شخص اس کے بغیر خوش رہ سکتا ہے تو وہ بھی اب اسے خوش رہ کر دکھائے گی۔ وہ اسے بتائے گی کہ اس نے کیا کھویا ہے۔۔۔۔

وہ خاموشی سے چلتی الماری کے قریب گئی اور اس میں سے حنین کا دیا ہوا ڈریس نکال کر واش روم میں چینج کرنے چلی گئی ۔۔۔۔

بلیک کلر کا ٹخنوں تک آتا کھیرے دار فراک پہنے اب وہ شیشے کے سامنے کھڑی تیار ہونے لگی ۔۔۔

ہلکا سا میک اپ کر کے ڈیپ ریڈ لپسٹک لگائے بالوں کو کھلا چھوڑے۔ وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ اگر کوئی اسے ایک بار دیکھتا تو نظریں ہٹانا بھول جاتا ۔۔۔۔

خود کو ایک نظر شیشے میں دیکھ کے ایک دل جلا دینے والی مسکراہٹ چہرے پر سجائے بیڈ پر پڑے دوپٹے کو اچھی طرح کندھوں پر پھیلائے باہر لان میں آئی تھی ۔۔۔

زین جو کسی سے مبارکباد وصول کر رہا تھا سامنے سے آتی ہانی پر نظر پڑی تو پلک جھپکانا تک بھول گیا۔۔۔۔

وہ مسکراتی ہوئی اسی کی جانب بڑھ رہی تھی اور اس کی یہ پر سکون مسکراہٹ زین کا سکون برباد کر رہی تھی ۔۔۔

نرمین جو زین کو کسی بات کے لیے دو تین بار بلا چکی تھی لیکن اسے گم صم پا کر اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھنے لگی۔۔۔

لیکن جیسے ہے نظر سامنے سے آتی ہانی پر پڑی تو ایک جلن کے اور نفرت کے آثار اس کے چہرے پے ابھرے۔۔۔

جبکہ ہانی اب سٹیج پر پہنچ چکی تھی ۔۔۔

” شادی بہت بہت مبارک ہو زین شاہ !۔”

ایک طنزیہ مسکراہٹ اچھالتی وہ اس کے قریب صوفے کے پاس پاؤں کے بل بیٹھی تھی ۔۔۔

زین حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ یوں آ کر اسے مبارکباد دے گی۔۔۔

” کیا ہوا میرے ہاتھ سے مٹھائی بھی نہیں کھائیں گے۔”

ہانی نے ہاتھ میں پکڑی مٹھائی اس کے منہ کے مزید قریب کی ۔ جو ابھی تک شاک میں ہی تھا ۔۔۔