229.6K
27

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Wo Humsafar Tha Episode 11

Wo Humsafar Tha by Aroob Akram

زین جیسے ہی اندر داخل ہوا سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے ہوش اُڑ گئے ۔ وہ تیزی سے سجاول سائیں کے پاس پہنچا اور ان کا سر اپنی گود میں رکھ کر چہرہ تھپتھپانے لگا۔

” چچا سائیں ! ہوش میں آئیں آنکھیں کھولیں ۔ کیا ہوا آپ کو ؟ چچا سائیں۔۔۔۔” زین تقریباً چلا رہا تھا ۔ اپنے چچا کی یہ حالت دیکھ کر اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں ۔ اسے ہانی پر شدید غصہ آ رہا تھا ۔ وہ تیزی سے باہر نکلا اور چوکیدار کو آواز دی۔ اس کی آواز سنتے ہی چوکیدار بھاگتے ہوئے وہاں آیا۔

” جی چھوٹے سائیں حکم۔” چوکیدار نے مودبانہ لہجے میں پوچھا ۔ زین نے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور خود واپس کوٹھری میں چلا گیا ۔ چوکیدار جیسے ہی اندر داخل ہوا سامنے سجاول کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا ۔

” سائیں ! بڑے سائیں کو کیا ہوا ؟” چوکیدار نے پریشانی سے پوچھا ۔

” اس سب کے بارے میں گھر میں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلنا چاہئے سمجھے !” وہ اسے تنبیہہ کرتے ہوئے بولا۔

” فکر نہ کریں سائیں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا ۔” چوکیدار نے اسے اعتماد دلاتے ہوئے کہا ۔

” ٹھیک ہے باہر گاڑی میں شجاع صاحب بیٹھے ہیں ۔ ان کو اندر بلاؤ اور چچا سائیں کو گاڑی تک لے جاؤ۔ میں تب تک اپنا موبائل اندر سے لے آؤں تو ان کو ہسپتال لے کر چلتا ہوں۔” زین کہتے ہوئے کوٹھری سے نکل کر اندر حویلی کی طرف چلا گیا ۔ اور چوکیدار سر ہلاتا باہر شجاع کو بلانے کے لیے تیزی سے نکل گیا۔ اس سب کے دوران کسی کا دھیان ہانی کی طرف نہ گیا ۔اور ہانی وہیں ایک کونے میں ڈری سہمی کھڑی رہی۔

شجاع چوکیدار کے کہنے پر جب اندر آیا تو حیران رہ گیا ۔

” یہ سب کیا ہے اور کیسے ہوا؟” شجاع نے چوکیدار سے پوچھا ۔

” پتہ نہیں صاحب میں جب اندر آیا تو انہیں اسی حالت میں دیکھا تھا ۔ چھوٹے سائیں نے کہا ہے کہ آپ کے ساتھ مل کر انہیں گاڑی تک پہنچاؤں۔ وہ انہیں ہسپتال لے کر جا رہے ہیں ۔” چوکیدار نے جلدی سے وضاحت کی۔

” ٹھیک ہے چلو ان کو اُٹھواؤ ۔” شجاع چوکیدار سے کہتے ہوئے جلدی سے نیچے جھکا اور چوکیدار کی مدد سے سجاول کو گاڑی تک لایا اور بیک سیٹ پر لٹا دیا۔ اس دوران زین بھی موبائل لیے باہر آگیا تھا ۔ جب گزرتے ہوئے اس کی نظر ہانی پر پڑی اور اسے یاد آیا کہ اسے وہاں چھوڑا نہیں جا سکتا اور ویسے بھی ہانی کو بھی کافی چوٹیں آئیں تھیں ۔ اس کو ٹریٹمنٹ کی ضرورت تھی ۔وہ تیزی سے اس کے پاس آیا۔ ہانی جو پہلے ہی دم سادھے کھڑی تھی زین کو اپنی جانب آتا دیکھ کر سختی سے آنکھیں بھینچ گئی تھی کہ وہ پتہ نہیں اب اس کا کیا حشر کرے گا۔ زین کو ہانی اس وقت بلکل کسی معصوم سے بچے کی طرح لگی لیکن وہ فوراً سنبھلا تھا کیونکہ یہ وقت ان سب باتوں کو سوچنے کا نہیں تھا ۔ اس نے جلدی سے ہانی کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنے ساتھ لے کر جانے لگا جب ہانی نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا۔

” میں نے آپ سے کہا نا کہ میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا ۔ پلیز مجھے پولیس کے حوالے نہ کریں ۔ مجھے میرے گھر جانے دیں۔” وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔

” افوہ! میں نے کب کہا کہ میں تمہیں پولیس کے پاس لے کر جا رہا ہوں ۔ میرے پاس ٹائم نہیں ہے ۔ جلدی کرو ۔ ہم ہاسپیٹل جا رہے ہیں تمہیں بھی ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے ۔” زین نے اس کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے کہا۔

” سچی! آپ مجھے گھر جانے دیں گے ؟” ہانی فوراً خوش ہوتے ہوئے بولی۔

” اب چلو بھی اگر ڈرامے ختم ہو گئے ہوں تو ۔” زین نے جھنجلاتے ہوۓ کہا اور تقریباً اسے ساتھ کھسیٹتے ہوۓ کہا۔جب کہ ہانی منہ بناتی رہ گئی کیونکہ اس کی گرفت کافی سخت تھی۔

” شجاع تم چچا سائیں کو لے کر ہاسپیٹل پہنچو میں اس مصیبت کو لے کر آتا ہوں ۔” باہر نکل کر زین نے شجاع سے اور آخری جملہ ہانی کو دیکھ کر کہا۔

” ٹھیک ہے جلدی آؤ. میں جا رہا ہوں ۔” یہ کہہ کر شجاع گاڑی بھگا لے گیا اور زین اندر کی جانب چل دیا۔ اندر سے دوسری گاڑی سٹادٹ کی اور ہانی کو بھی ساتھ لے کر وہ شچاع کے پیچھے نکل گیا۔ زین کو لگتا تھا کہ سب کچھ بہت خاموشی سے ہوا ہے اس لیے گھر والوں کی طرف سے وہ مطمئن تھا ۔ لیکن کوئی تھا جس نے یہ ساری کاروائی ہوتے ہوئے دیکھ لی تھی اور اب وہ آگے کا لائحہ عمل تیار کر رہا تھا ۔

شاہ نے جب کافی دیر حمنہ کو سامنے نہ دیکھا تھا تو اب اُٹھ کر اسے دیکھنے کے خیال سے روم کی جانب جانے لگا تھاجب ہادی کی آواز پر پلٹا ۔

” بابا آپ کہاں جا رہے ہیں ۔ ابھی تو میں نے پینتند ( پینٹنگ) بھی نہیں بنائی۔” ہادی نے اسے جاتے دیکھا تو منہ بنا کر بولا۔

” بابا کی جان ! آپ بناؤ بابا ابھی آ رہے ہیں ماما کو دیکھ کر ۔” شاہ نے اسے لاڈ سے گود میں اُٹھا کر کہا ۔

” کیوں بابا آپ نے ماما کو پہلے نہیں دیکھا ہوا؟” ہادی معصومیت سے بولا اور اس کی حاضر جوابی دیکھ کر شاہ حیران رہ گیا۔

” یار دیکھا تو ہے ۔ لیکن پھر بھی دل کر رہا ہے نا۔ پیار کرتا ہوں تمہاری ماما سے۔” شاہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

” ماما بھبھی آپ سے پیار کرتی ہیں؟” ایک اور سوال کیا گیا اور اس بار شاہ اپنا قہقہہ روک نہ پایا ۔ اس کی بات پر شاہ کو شرارت سوجھی۔

” میرا تو بہت کرتا ہوں ۔ پر آپ کی ماما کا پتہ نہیں ۔” شاہ نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔

” تو آپ ہوچھ لیں نا ان سے کہ وہ آپ سے پیار کرتی ہیں کہ نہیں۔” ہادی نے فوراً حل پیش کیا ۔ شاہ جانتا تھا کہ عہ یہی کہے گا اور اب اسے کیا کرنا تھا وہ یہ بھی سوچ چکا تھا ۔

” وہ مجھے نہیں بتائیں گی ۔” شاہ نے مصنوعی دکھ سے کہا۔

” کیوں نہیں کہیں دی؟ وہ تو مجھے بھی کہتی ہیں کہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں ۔” ہادی نے نے معصومیت سے پوچھا ۔

اچھا تو پھر تم ہی مجھے ان سے پوچھ دو نا۔” شاہ نے اس کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔

” پوچھ تو میں دوں دا(گا) ۔ لیکن مجھے کیا ملی دا(گا) ؟” ہادی پُر سوچ انداز میں بولا ۔ شاہ تو منہ کھولے بس اس چار سال کے بچے کو دیکھ رہا تھا کہ وہ کیسے اس سے اپنی بات منوانے کے لیے بلیک میل کر رہا تھا ۔ کچھ سوچ کر اس کے لب مسکرائے ۔ وہ ہوبہو اپنے باپ کی کاپی تھا ۔ شکل میں بھی اور عادتوں میں بھی ۔

” اچھا کیا چاہیے میرے شہزادے کو ۔” شاہ نے پیار سے اس کے گال چھوتے ہوئے پوچھا ۔ آخر کو اسے اپنی بات بھی تو منوانی تھی سو کیسے انکار کر سکتا تھا ۔

” سچ میں بابا آپ میری بات مانیں دے(گے)؟” ہادی فوراً خوش ہوتے ہوئے اس سے تصدیق کرنا چاہ رہا تھا ۔اس لمحے وہ اسے پھر ماضی کی یاد دلا گیا تھا ۔ جب اس سے بھی کسی نے بلکل اسی انداز میں تصدیق چاہی تھی ۔

” بابا بولیں نا!” ہادی نے اسے گم سم پایا تو جھنجلا کر بولا

” ہاں ہاں ! بولو کیا چاہیے ؟” شاہ واپس ماضی کی یادوں سے حال میں آتے ہوۓ بولا۔

” آئسکریم !” ہادی نے جھٹ سے اپنی خواہش بتائی تھی ۔ شاہ مسکرا دیا تھا ۔ کتنی معصوم خواہش تھی اس کی

” اوکے ڈن ہم کل آئسکریم کھانے چلیں گے ۔” وہ اسے ساتھ لگاۓ باہر کی جانب نکل گیا۔

اظہار صاحب رات سے بہت پریشان تھے ۔ ہانی کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا ۔ وہ کل شام سے اس کو اب تک کتنی ہی بار کال کر چکے تھے لیکن اس کا نمبر بند جا رہا تھا ۔ کل اس نے واپس گھر آنا تھا سب کتنے خوش تھے لیکن جب شام تک بھی وہ نہ پہنچی تو ان کو پریشانی نے آ گھیرا وہ پہلے کبھی اتنی لیٹ نہیں ہوئی تھی ۔ زینب بیگم کئی بار اظہار صاحب سے پوچھ چُکی تھیں لیکن ہر بار ان کی آس ناکام لوٹتی ۔ جب رات تک ہانی کا فون بند رہا تو اظہار صاحب نے اس کے ہوسٹل انچارج کو کال کی اور جب انہوں نے بتایا کہ وہ تو کل دن سے ہوسٹل سے جا چکی ہے ۔ اظہار صاحب کو تو زمین کھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ ہر جگہ جا کر اس کا پتہ کر چکے تھے اور اب تھکے ہارے گھر لوٹے تھے ۔

” کیا ہوا اظہار صاحب ! کچھ پتہ چلا میری بچی کا؟” وہ اندر آئے ہی تھے کہ زینب بیگم فوراً سے ان کے پاس آئی تھیں ۔

” نہیں زینب بیگم میں اپنی بچی کو اب تک نہیں ڈھونڈ پایا۔ میں نے ہر جگہ اسے ڈھونڈ ا وہ کہیں نہیں ملی۔ میں ہار گیا ۔ میں اسے نہیں لا سکا ۔ پتہ نہیں وہ کس حال میں ہو گی؟” اظہار صاحب ہارے ہوئے لہجے میں گویا ہوئے ۔وہ ٹوٹ چکے تھے ۔ انہیں اپنی بیٹی پر پورا بھروسا تھا ۔ لیکن وہ زمانے کا کیا کرتے ۔کیسے لوگوں کا منہ بند کرواتے ۔ وہ جانتے تھے کہ ہانی کی گمشدگی کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائے گی اور اس وقت سے وہ ڈر رہے تھے ۔

” اظہار صاحب آپ ذولقرنین کو کیوں نہیں بتاتے وہ ڈھونڈے گا نا اسے ۔” زینب بیگم کا حوصلہ جواب دے رہا تھا ۔ وہ زمین پہ ہی بیٹھتے ہوئے آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ بولیں ۔

” آپ کیا سمجھتی ہیں میں نے کوشش نہیں کی اسے بتانے کی اس کا بھی نمبر بند جا رہا ہے ۔” اظہار صاحب نے قرب سے آنکھیں بند کر لیں وہ آنے والے وقت کا سوچ کر ہول رہے تھے

وہ لوگ ہاسپیٹل پہنچے تو ابھی رات کے تین بج رہے تھے ۔ زین فوراً سجاول سائیں کو ایمرجنسی میں لے کر گیا ۔ڈاکٹرز نے کیس لینے سے منع کر دیا تھا ۔ کیونکہ یہ پولیس کیس تھا۔

” دیکھیں مسٹر زین! وی رئیلی سوری یہ پولیس کیس ہے ۔جب تک ایف آیی آر نہیں کٹتی یم کچھ نہیں کر سکتے۔” ڈاکٹر نے زین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

” ڈاکٹر پلیز یہ ایمرجنسی ہے ۔ ان کی حالت پہلے ہی کافی سیریس ہے ۔ ” زین نے ڈاکٹر سے التجاع کی ۔

” آئی ایم سوری مسٹر زین وی کانٹ ڈو اینی تھنگ( معاف کیجئے گا ہم کچھ نہیں کر سکتے۔” ڈاکٹر نے صاف جواب دیا ۔ زین شکستہ قدموں سے ایمرجنسی سے باہر آیا شجاع اس کا انتظار کر رہا تھا ۔ زین نے اسے ہانی کے ساتھ ہی رکنے کے لیے کہا تھا ۔ جب اسے باہرآتے دیکھ کر شجاع فوراً اس کی طرف لپکا۔عہ اس کے چہرے ہر مایوسیصاف دیکھ چکا ہے ۔

” کیا ہوا؟ کیا کہہ رہے ہیں ہیں ڈاکٹرز ؟” شجاع نے جلدی سے پوچھا ۔

” کہتے ہیں پولیس کیس ہے جب تک پولیس انولو نہیں ہو گی کید نہیں لیں گے۔” زین نے مایوسی سے ہانی کی طرف دیکھ کر کہا ۔ ہانی کا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا ۔

” تو کیا اسے اب پولیس لے جاۓ گی ۔ اب کیا ہو گا ۔” ہانی کا دماغ شل ہو گیا تھا وہ اس سے آگے کچھ سوچ ہی نہیں پا رہی تھی ۔

” یار میرے انکل اس ہاسپیٹل کے ڈونرز میں سے ہیں۔ میں ان سے بات کرتا ہوں ۔” شجاع نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا اور فون اٹھا کر باہر چلا گیا ۔

” اب کیا ہو گا؟” ہانی نے اسے اکیلے پا کر فوراً سوال کیا تھا وہ کب سے شجاع کیوجہ سے خاموش تھی ۔

” جو تم نے کیا ہے نا دعا کرو ڈاکٹرز کیس کے لیں اور چچا سائیں بچ جائیں ورنہ یہی ہو گا کہ تم جیل میں چکی پیسو گی۔” زیننےسخت لہجے میں کہا۔ ہانی اس کی بات اور لہجے سے ڈر گئی اور چیر ہر بیٹھ کر اب مزید سوال کرنے کی بجائے سجاول کی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھی ۔ کتنی عجیب بات ہے جس شخص کے مرنے کی دعائیں وہ کچھ گھنٹے پہلے مانگ رہی تھی اب اسی کی زندگی کی دعائیں مانگ رہی تھی ۔

” میری انکل سے بات ہو گئی ہے وہ کہہ رہے تھے کہ ابھی بات کریں گے ہاسپیٹل انچارج سے ۔ تم فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا ۔” شجاع نے اندر آتے ہی اس کے کندھے ہر ہاتھ رکھ کر تسلی دی تھی ۔ابھی تک زین نے ہانی سے اس حملے کی وجہ نہیں پوچھی تھی ۔

” ایکسکیوز می کیا آپ مسٹر زین ہیں ۔” ایک لڑکے نے زین کو مخاطب کر کے کہا۔

” جی میں ہی ہوں کہیے کیا بات ہے ؟” زین جلدی سے اس کے پاس آ کر بولا ۔

” سر کہہ رہے ہیں آپ آ کر فارم فِل کر دیں تکہ آپریشن سٹارٹ ہو سکے۔” اس لڑکے نے جواب دیتے ہوئے زین کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔